Al-Qamar 54:24

Al-Qamar · from ayah 24

54:24

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ ۙ— اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۟فَقَالُـوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِىۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And said, "Is it one human being among us that we should follow? Indeed, we would then be in error and madness.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:24

اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہنے لگے کیا ہمیں میں سے ایک شخص کی ہم فرمانبرداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقیناً غلطی اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ کہنے لگے کہ : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک تنہا آدمی کے پیچھے چل پڑیں ؟ ایسا کریں گے تو یقینا ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جاپڑیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ کہنے لگے: کیا ایک بشر جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں، تب تو ہم یقیناً گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں ؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک اکیلے آدمی کی پیروی کرنے لگیں ؟ تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا، کیا ہم اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کریں گے۔ ! اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں پڑے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک بشر کی پیروی کرنے لگ جائیں ؟ ایسی صورت میں تو ہم یقینا بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بولے کہ کیا ہم اپنے ہی ہم جنس ایک انسان کی پیروی کریں اور وہ بھی اکیلا پھر تو ہم نرے بیوقوف اور مجنون ٹھہرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟ پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

— محترمہ رفعت اعجاز

saying: “Are we to follow a single mortal, one from among ourselves? If we do that, we shall surely be in error and folly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So they said, :Shall we follow a single human being from among us? Then we will be in error and insanity.

— Muhammad Taqi Usmani

So they said, :Shall we follow a single human being from among us? Then we will be in error and insanity.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For they said; Is it a mortal man, alone among us, that we are to follow? Then indeed we should fall into error and madness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And said, "Is it one human being among us that we should follow? Indeed, we would then be in error and madness.

— Saheeh International

They said, "Should we follow only one person among us. We shall be clearly in error and in trouble (if we do so).

— Muhammad Sarwar

So they said: What! a single mortal from among us! Shall we follow him? Most surely we shall in that case be in sure error and distress:

— Muhammad Habib Shakir

And they said: a mere humanbeing from amongst us, and single! shall we follow him! verily then we should fall in error and madness.

— Abdul Majid Daryabadi

For they said: "What! a man! a Solitary one from among ourselves! shall we follow such a one? Truly should we then be straying in mind, and mad!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–32

فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَمَر 17 بالفاظ دیگر، حضرت صالح کی پیروی سے ان کا انکار تین وجوہ سے تھا۔ ایک یہ کہ وہ بشر ہیں، انسانیت سے بالاتر نہیں ہیں کہ ہم انکی بڑائی مان لیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں۔ ہم پر ان کی فضیلت کی کوئی وجہ نہیں۔ تیسرے یہ کہ اکیلے ہیں، ہمارے عام آدمیوں میں سے ایک آدمی ہیں، کوئی بڑے سردار نہیں ہیں جس کے ساتھ کوئی بڑا جتھا ہو، لاؤ لشکر ہو، خَدَم و حشم ہوں، اور اس بنا پر ہم ان کی بڑائی تسلیم کرلیں۔ وہ چاہتے تھے کہ نبی یا تو کوئی فوق البشر ہستی ہو، یا اگر وہ انسان ہی ہو تو ہمارے اپنے ملک اور قوم میں پیدا نہ ہوا ہو، بلکہ کہیں اوپر سے اتر کر آئے یا باہر سے بھیجا جائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

کذبت ثمود بالنذرہ فقا لو ابشر منا واحد نتبعہ انا اذالفی ضلل وسعر (23۔ 4 2) یعنی قوم ثمود نے بھی اسی طرح رسول کی تنبیہات کی تکذیب کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ہی اندر (واقعہ ثمرد) کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم گمراہی میں پڑے اور بھاڑ میں گئے عام طور پر مترجموں نے ’ سعر ‘ کا ترجمہ جنون کیا ہے لیکن یہاں یہ لفظ جس اسلوب سے استعمال ہوا ہے وہ اس معنی سے اباء کرتا ہے، میرے نزدیک یہ ’ سعیر ‘ کی جمع ہے اور آگ کے معنی میں آیا ہے۔ ، اسی سورة کی آیت 47 میں ہے۔ ان المجر میں فی ضل وسعر (بےشک مجرمین گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑنے والے ہیں) ظاہر ہے کہ یہ انذار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کوئی آسمان کا فرشتہ نہیں، بلکہ ہم ہی جیسا ایک آدمی اور وہ بھی اکیلا جس کے ساتھ کوئی قوت اور جتھا نہیں، چاہتا ہے کہ ہمیں دبا لے اور سب کو اپنا تابع بنالے۔ یہ کبھی نہ ہوگا۔ اگر ہم اس پھندے میں پھنس جائیں تو ہماری بڑی غلطی اور حماقت بلکہ جنون ہوگا۔ وہ تو ہم کو ڈراتا ہے کہ مجھے نہ مانو گے تو آگ میں گرو گے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم اس کے تابع ہوجائیں تو گویا خود اپنے کو آگ میں گرا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّــتَّبِعُہٗٓ لا } ”انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟“ { اِنَّــآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔“ اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْرکے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپ علیہ السلام کو جواب دے رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–24

19 قوم عاد اور اس کا انجام :۔ یہ عذاب انتہائی تیز رفتار آندھی کی شکل میں تھا اور یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی جو ان کے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ درختوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور قوم کے قدو قامت، ڈیل ڈول اور مضبوط اور طاقتور جسم والے لوگوں کو بھی پاؤں سے اکھاڑ کر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کھجوروں کے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

18۔ یعنی یہ کوئی دیوی دیوتا ہوتا، کوئی خدائی اوتار ہوتا، جب تو خیر ایک بات بھی تھی، لیکن جب یہ کچھ بھی نہیں، اپنے ہی ہم جنس، اپنے ہی جیسے ایک انسان کے پیچھے لگ جانا، اس کی راہ پر چل پڑنا، اور پھر وہ انسان بھی کیسا، نہ اس کے ساتھ کوئی کروفرنہ کوئی جاہ و شکوہ، یہ بھی بھلا عقل کی کوئی بات ہے ؟ ساری دنیا ہمیں کیسا الو بنائے گی ! (آیت) ” ابشرا منا “۔ پیغمبر کی یہ بشریت ہی سب سے بڑی رکاوٹ، مشرکوں اور شرک پیشہ لوگوں کے قبول حق کی راہ میں رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–24

ترجمہ : ثمود نے ڈرانے والی چیزوں (یعنی تنبیہات) کی تکذیب کی نذر، نذیر کی جمع ہے یعنی ان امور کی کہ جن کے ذریعہ ان کو ان کے نبی صالح نے ڈرایا، اگر وہ ان پر ایمان نہ لائے اور ان کی پیروی نہ کی تو انہوں نے کہا کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں جو ہم میں کا ایک فرد ہے بشراً ، ما اضمر کے قاعدہ سے منصوب ہے، منا اور واحدا دونوں بشر کی صفت ہیں اور نتبعہ، بشراً کے فعل ناصب کا مفسر ہے اور استفہام بمعنی نفی ہے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کی کیوں اتباع کریں ؟ اور ہم بڑی جماتع ہیں اور وہ ہم میں کا ایک ہے اور فرشتہ بھی نہیں ہے یعنی ہم اس کی اتباع نہیں کریں گے، اگر ہم نے اس کی اتابع کی تو ہم گمراہی میں یعنی راہ راست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقالوا بشرا منا واحد نتبعہ انا اذا لفی ضلال و سعر اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کرینگے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے فَقَالُوْآ بَشَرًا مِّنَّا : یعنی ہم اپنی ہی جنس کے ایک آدمی کا (جو فرشتہ نہیں ہے) یا اپنی جماعت ہی کے ایک معمولی آدمی کا جس کو نہ مال میں ہم پر برتری حاصل ہے ‘ نہ مرتبہ میں۔ نَتَّبِعُہٗ : ہم اتباع کریں۔ یہ استفہام انکاری ہے اور انکار اتباع سے نہیں ہے اگر کوئی فرشتہ یا بادشاہ متبوع ہوتا تو وہ اتباع کرلیتے۔ وَاحِدًا : یعنی اکیلا تنہا جس کا کوئی تابع نہیں یا ہم میں سے ایک معمولی فرد جس کا شمار سرداروں میں نہیں ہے۔ اِنَّآ اذًا : یعنی اگر ہم نے اس کا اتباع کیا تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–24

(22۔ 24) اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات کے لیے آسان کردیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم ہود کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے قوم ثمود نے بھی حضرت صالح اور دیگر پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کے دین اور اس کے حکم کی پیروی کریں گے جو ہمارے جیسا ہی آدمی ہو سو ایسی صورت میں تو ہم بڑی غلطی اور سختی و پریشانی میں پڑجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–26

۔ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْم بَیْنِنَا۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ص (8) کی تفسیر۔ 2۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ :”اشر“ اشر یاشر ”اشرا“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، متکبر، اکڑنے والا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–24

کذبت ثمود بالنذر۔ سے مراد حضرت صالح علیہ ال سلام کی قوم ہے جنہوں نے رسولوں اور اپنے نبی کو جھٹلایا یا آیات کو جھٹلایا جو نذر ہیں۔ فقالوآ بشرا منا واحد انتبعہ کیا ہم اپنے میں سے ایک فرد کی اتباع کریں اور جماعت کو ترک کریں۔ ابواشہب (رح) ، ابن سمقیع اور ابو سمال عدوی نے اسے ابشر رفع کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح واحد کو مبتدا ہونے کی حدیث سے مرفوع پڑھا ہے اس کی خبر نتبعہ ہے باقی نخ نصب دی ہے تقدیر کام یہ ہوگی انتبع بشرا منا واحد انتبہ ابو سمال نے ابشر منا واحداً پڑھا ہے بشر کو رفع فعل مضمر کی وجہ سے دیا ہے جس فعل پر القی دلالت کرتا ہے۔ گویا کہا : اینبتا بشر منا اور واحد میں یہ جائز ہے کہ یہ نتبعہ کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–30

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اَبَشَرًا [ کیا ایک ایسا بشر ] مِّنَّا [ ہم میں سے ] وَاحِدًا [ جو تنہا ہے ] نَّتَّبِعُهٗٓ ۙ [ ہم پیروی کریں گے اس کی ] اِنَّآ اِذًا [ بیشک تب تو ہم ] لَّفِيْ ضَلٰلٍ [یقینا گمراہی میں ] وَّسُعُرٍ [ اور دیوانگی میں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

12:۔ ” کذبت ثمود “۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ النذر نذیر کی جمع ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا چونکہ پیغام ایک ہی ہے اس لیے ایک پیغمبر کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے۔ فان تکذیب احدہم وھو صالح (علیہ السلام) ھنا تکذیب للکل لاتفاقہم علی اصول الشرائع (روح ج 27 ص 87) ۔ بشرا کا ناصب محذوف علی شریطۃ التفسیر ہے (مدارک، روح) سُعُر، جنون اور دیوانگی (قرطبی) ۔ قوم ثمود کے سرکش اور مغرور سرداروں نے کہا کیا ہم اپنی قوم کے ایک بشر کو پیغامبر مان لیں اور اس کے حکمبردار بن جائیں ؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا یہ فعل سراسر غلط ہوگا اور یہ کھلی دیوانگی ہوگی کہ ہم ایک بشر کے پیروکار اور فرمانبردار بن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗٓ۝ 0 ۙ اِنَّآ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۝ 24 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–30

ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔ تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاِحدًا نَّـتَّبِعُہٗٓ لا اِنَّـآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۔ (القمر : 23، 24) (ثمود نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ انھوں نے کہا ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اس کی پیروی کریں گے، اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں جا پڑیں گے۔ ) قومِ ثمود کی سرگزشت کا حوالہ قومِ ثمود نے بھی قوم عاد ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی۔ اور ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے تھے۔ اور تکذیب کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہا کہ ہم ایسی شخصیت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں جن میں تین باتیں ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–32

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔ قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔ قوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پیغمبر کی بات کو غلطی اور جنون کہا : آیت 24: فَقَالُوْا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا (کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں گے۔ جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے) بشرًا منصوب ہے اس فعل کی بنا پر نتبعہ جس کی تفسیر کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت ہے۔ أنتبع بشرًا منا واحدًا۔ اِنَّآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ اگر ہم نے ایسا کیا تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے۔ وہ کہا کرتے تھے۔ کہ اگر تم میری بات نہ مانو گے تو حق سے ہٹ جائو گے۔ اور آگ میں پڑو گے۔ سعر جمع سعیر : آگ۔ کفار نے اس بات کا الٹ کر کے کہا۔ اگر ہم تمہاری اتباع کرلیں گے تو ہم اس طرح ہوجائیں جیسا تو ہمیں کہتا ہے۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

(كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ) ثمود نے جھٹلایا۔ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالح نے انکو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا انہوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا (ابشرامنا واحدا نتبعہ) بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کرسکتے ہیں جو فرشتہ نہیں جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 28] منکرین کا بشریت پیغمبر کی بنا پر حق کا انکار، والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے منکرین کے بشریت پیغمبر پر استعجاب و اچنبھے اور اس بنا پر ان کے انکار حق کے جرم کا ذکر فرمایا گیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا کہ ہم اپنے ہی میں کے ایک بشر کی پیروی کرنے لگ جائیں ؟ ایسی صورت میں تو ہم یقینا بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہوں گے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔ کہ ہم اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کرنے لگیں، یہ ایک انہونی بات ہے کہ ہم ہی میں سے ایک پیغمبر بن جائے، اور ہم اس کی پیروی کرنے لگیں، بالفاظ دیگر ان کے نزدیک نبوت اور بشریت میں باہم منافات تھی، کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–24

ف 2 یعنی حضرت صالح کے بارے میں کہنے لگے کہ ایک تو یہ بشر ہیں فرشتہ یا کوئی دوسری فوق البشر ہستی نہیں ہیں اور دوسرے یہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں اور تیسرے وہ اکیلے ہیں۔ کوئی لائو لشکر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں اپنا سردار مان کر ان کی پیروی اختیار کریں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:24) فقالوا : پس انہوں نے کہا۔ ابشرا منا واحدا نتبعہ۔ ا استفہامیہ ہے۔ بشرا۔ بشر، انسان، آدمی منصوب بوجہ فعل مضمر۔ جو اس کی وضاحت کرتا ہے (ای نتبعہ) منا جار مجرور مل کر بشرا کی صفت ہے، واحدا اس کی صفت ثانی ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے : انتبع بشرا منا واحدا۔ نتبعہ۔ مضارع جمع متکلم اتباع (افتعال) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول ۔ ہم اس کی پیروی کریں ، ہم اس کا اتباع کریں ترجمہ یوں ہوگا :۔ کیا ایک ایسا انسان جو ہم میں سے ہے (اور) اکیلا ہے۔ ہم اس کی پیروی کریں۔ استفہام انکاری ہے وجوہ انکاریہ ہیں :۔ (1) بشر ہونا۔ یعنی انسان ہونا ان کے نزدیک اتباع کے مناسب نہ تھا۔ (بشرا کو نکرہ مزید تحقیر کے لئے لایا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–27

[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–30

قرآن آسان ہے 2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) سو کہنے لگے کہ کیا اپنی ہی جنس کے ایک ایسے آدمی کی پیروی کرنے لگیں جو اکیلا اور تن تنہا ہے اگر ایسا کریں گے تو اس وقت ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے۔ یعنی یہ بھی ہم میں سے اور ہم ہی جیسا بشر ہے پھر اکیلا ہے یعنی ظاہری دولت وامارت اور جاہ وحشم بھی نہیں نہ فرشتہ نہ ذی اثر بشر پھر اگر ایسے شخص کی ہم پیروی کرنے لگیں اور اس کا کہنا ماننے لگیں تو ہم بڑی گمراہی غلطی بلکہ دیوانگی اور جنون میں مبتلا ہوجائیں گے اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کو اپنے ہی جیسا انسان سمھج کر اس کی پیروی سے انکار کر دیا 24 ؎ ثمود قوم کا مذہب بت پرستی تھا یعنی وہ لوگ بھی اپنے بزرگوں کے مجسمے بنا کر ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے اپنے سامنے رکھا کرتے تھے اور انہی کی پرستش کرتے جیسا کہ ان کے آبائو اجداد کیا کرتے تھے حالانکہ یہ ان لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا تھا لیکن اس میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس قوم نے وہی کچھ کرنا شروع کردیا جو ہلاک شدگان کیا کرتے تھے اور یہ بات کوئی تعجب کی نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہمارے سامنے جتنی دعوتوں کا ذکر کیا ہے ان میں یہ بات سرفہرست آتی ہے اور آج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 In other words, there were three reasons for their refusal to obey and follow the Prophet Salih: (1) "He is a human being and not a super-human person so that we may regard him as superior to ourselves. " (2) "He is a member of our own nation: he is in no way superior to us." (3) `He is a single man, one from among ourselves. He is not a prominent chief with a large following, or an army of soldiers. Or a host of attendants so that we may acknowledge his superiority." They wanted that a Prophet should either be a superman, or if he be a common man, he should not have been born in their own…

Read the full tafseer →