كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۟كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ
ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thamud denied the warning
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۟كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ
ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thamud denied the warning
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qamar
ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا
ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا
قوم ﺛمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا
ثمود کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا۔
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا
(قومِ) ثمود نے بھی ڈرسنانے والے پیغمبروں کو جھٹلایا،
ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلادیا۔
قوم ثمود نے (بھی) ڈرانے والوں کو جھٹلایا تھا۔
ثمود نے بھی اتذار کی تکذیب کی۔
اور قوم ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو
ثمود نے بھی تنبیہ کرنے والوں کی تکذیب کی
قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو
ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا
Thamud gave the lie to the warnings,
(The people of) Thamud rejected the warners.
(The people of) Thamud rejected the warners.
Thamud denied the warnings.
(The tribe of) Thamud rejected warnings
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Thamud denied the warning
The people of Thamud rejected Our warnings.
Samood rejected the warning.
And the Thamud belied the warnings.
The Thamud (also) rejected (their) Warners.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 23–32
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
سورة الْقَمَر 16 یعنی ایک ایسے دن جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی۔ سورة حٰم لسجدہ، آیت 16 میں فِیْ اَیَّامٍ نَّحِسٰتٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور سورة الحاقہ آیت 7 میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے۔ بعض نہایت ضعیف احادیث بھی اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں جن سے اس دن کی نحوست کا عقیدہ عوام کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے۔ مثلاً اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر (مہینے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
کذبت ثمود بالنذرہ فقا لو ابشر منا واحد نتبعہ انا اذالفی ضلل وسعر (23۔ 4 2) یعنی قوم ثمود نے بھی اسی طرح رسول کی تنبیہات کی تکذیب کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ہی اندر (واقعہ ثمرد) کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم گمراہی میں پڑے اور بھاڑ میں گئے عام طور پر مترجموں نے ’ سعر ‘ کا ترجمہ جنون کیا ہے لیکن یہاں یہ لفظ جس اسلوب سے استعمال ہوا ہے وہ اس معنی سے اباء کرتا ہے، میرے نزدیک یہ ’ سعیر ‘ کی جمع ہے اور آگ کے معنی میں آیا ہے۔ ، اسی سورة کی آیت 47 میں ہے۔ ان المجر میں فی ضل وسعر (بےشک مجرمین گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑنے والے ہیں) ظاہر ہے کہ یہ انذار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
6: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65
Read the full tafseer →قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔ فقالوا ............ الاشر (45: 62) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
3 یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور ایک نبی کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ اصول دین میں سب ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
19 قوم عاد اور اس کا انجام :۔ یہ عذاب انتہائی تیز رفتار آندھی کی شکل میں تھا اور یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی جو ان کے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ درختوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور قوم کے قدو قامت، ڈیل ڈول اور مضبوط اور طاقتور جسم والے لوگوں کو بھی پاؤں سے اکھاڑ کر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کھجوروں کے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
18۔ یعنی یہ کوئی دیوی دیوتا ہوتا، کوئی خدائی اوتار ہوتا، جب تو خیر ایک بات بھی تھی، لیکن جب یہ کچھ بھی نہیں، اپنے ہی ہم جنس، اپنے ہی جیسے ایک انسان کے پیچھے لگ جانا، اس کی راہ پر چل پڑنا، اور پھر وہ انسان بھی کیسا، نہ اس کے ساتھ کوئی کروفرنہ کوئی جاہ و شکوہ، یہ بھی بھلا عقل کی کوئی بات ہے ؟ ساری دنیا ہمیں کیسا الو بنائے گی ! (آیت) ” ابشرا منا “۔ پیغمبر کی یہ بشریت ہی سب سے بڑی رکاوٹ، مشرکوں اور شرک پیشہ لوگوں کے قبول حق کی راہ میں رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ترجمہ : ثمود نے ڈرانے والی چیزوں (یعنی تنبیہات) کی تکذیب کی نذر، نذیر کی جمع ہے یعنی ان امور کی کہ جن کے ذریعہ ان کو ان کے نبی صالح نے ڈرایا، اگر وہ ان پر ایمان نہ لائے اور ان کی پیروی نہ کی تو انہوں نے کہا کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں جو ہم میں کا ایک فرد ہے بشراً ، ما اضمر کے قاعدہ سے منصوب ہے، منا اور واحدا دونوں بشر کی صفت ہیں اور نتبعہ، بشراً کے فعل ناصب کا مفسر ہے اور استفہام بمعنی نفی ہے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کی کیوں اتباع کریں ؟ اور ہم بڑی جماتع ہیں اور وہ ہم میں کا ایک ہے اور فرشتہ بھی نہیں ہے یعنی ہم اس کی اتباع نہیں کریں گے، اگر ہم نے اس کی اتابع کی تو ہم گمراہی میں یعنی راہ راست…
Read the full tafseer →کذبت ثمود بالنذر . ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ النّذر : بہت سے ڈراوے یا انبیاء جو عذاب سے ڈرانے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات کے لیے آسان کردیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم ہود کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے قوم ثمود نے بھی حضرت صالح اور دیگر پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کے دین اور اس کے حکم کی پیروی کریں گے جو ہمارے جیسا ہی آدمی ہو سو ایسی صورت میں تو ہم بڑی غلطی اور سختی و پریشانی میں پڑجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔۔۔: صاح ؑ کی قوم ثمود نے اپنے رسول کو نہ ماننے کی تین وجہیں بیان کیں ، ایک یہ کہ یہ بشر ہے (دیکھئے بنی اسرائیل : 94) دوسری یہ کہ بشر بھی ہم جیسا عام بشر ، کوئی سردار یا سرمایہ دار نہیں (دیکھئے ص 8) اور تیسری یہ ہے کہ یہ اکیلا آدمی ہے ، اس کے ساتھ کوئی جتھا یا پارٹی نہیں ہے۔ 2۔ انا اذا الفی ضلل و سحر : ”سعر“ جنون ، دیوانگی۔”ضلل“ اور ”سحر“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی گمراہی اور بڑی دیوانگی“ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
کذبت ثمود بالنذر۔ سے مراد حضرت صالح علیہ ال سلام کی قوم ہے جنہوں نے رسولوں اور اپنے نبی کو جھٹلایا یا آیات کو جھٹلایا جو نذر ہیں۔ فقالوآ بشرا منا واحد انتبعہ کیا ہم اپنے میں سے ایک فرد کی اتباع کریں اور جماعت کو ترک کریں۔ ابواشہب (رح) ، ابن سمقیع اور ابو سمال عدوی نے اسے ابشر رفع کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح واحد کو مبتدا ہونے کی حدیث سے مرفوع پڑھا ہے اس کی خبر نتبعہ ہے باقی نخ نصب دی ہے تقدیر کام یہ ہوگی انتبع بشرا منا واحد انتبہ ابو سمال نے ابشر منا واحداً پڑھا ہے بشر کو رفع فعل مضمر کی وجہ سے دیا ہے جس فعل پر القی دلالت کرتا ہے۔ گویا کہا : اینبتا بشر منا اور واحد میں یہ جائز ہے کہ یہ نتبعہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
1:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد اللہ بن احمد (رح) نے زوائد الزھد میں وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب ہوا چلی تو (قوم) عاد اس کی طرف کھڑی ہوئی اور ان کے بعض نے بعض کے ہاتھوں کو پکڑلیا اور اپنے قدموں کو زمین میں گاڑ لیا اور کہنے لگے کون ہمارے قدموں کو زمین سے ہٹائے گا اگر وہ سچ بولنے والا ہے (یعنی پیغمبر) اللہ تعالیٰ ان پر ہوا بھیج دی جو لوگوں کو اکھاڑ پھینک رہی تھی (اور وہ اس طرح ہوگئے) (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل منقعر '' (گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں ) 12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر قوم عاد میں سے کوئی…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ [ جھٹلایا ثمود نے ] بِالنُّذُرِ [خبردار کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
12:۔ ” کذبت ثمود “۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ النذر نذیر کی جمع ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا چونکہ پیغام ایک ہی ہے اس لیے ایک پیغمبر کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے۔ فان تکذیب احدہم وھو صالح (علیہ السلام) ھنا تکذیب للکل لاتفاقہم علی اصول الشرائع (روح ج 27 ص 87) ۔ بشرا کا ناصب محذوف علی شریطۃ التفسیر ہے (مدارک، روح) سُعُر، جنون اور دیوانگی (قرطبی) ۔ قوم ثمود کے سرکش اور مغرور سرداروں نے کہا کیا ہم اپنی قوم کے ایک بشر کو پیغامبر مان لیں اور اس کے حکمبردار بن جائیں ؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا یہ فعل سراسر غلط ہوگا اور یہ کھلی دیوانگی ہوگی کہ ہم ایک بشر کے پیروکار اور فرمانبردار بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ 23 كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔ تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاِحدًا نَّـتَّبِعُہٗٓ لا اِنَّـآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۔ (القمر : 23، 24) (ثمود نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ انھوں نے کہا ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اس کی پیروی کریں گے، اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں جا پڑیں گے۔ ) قومِ ثمود کی سرگزشت کا حوالہ قومِ ثمود نے بھی قوم عاد ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی۔ اور ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے تھے۔ اور تکذیب کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہا کہ ہم ایسی شخصیت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں جن میں تین باتیں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔ قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔ قوم…
Read the full tafseer →آیت 23: کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ (ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ )
Read the full tafseer →22 ۔” ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ) ثمود نے جھٹلایا۔ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالح نے انکو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا انہوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا (ابشرامنا واحدا نتبعہ) بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کرسکتے ہیں جو فرشتہ نہیں جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 27] قوم ثمود کے جرم تکذیب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قوم ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔ انہوں نے تکذیب تو اگرچہ صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تھی، جن کو ان کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا لیکن سب انبیاء کرام کی دعوت چونکہ ایک ہی ہوتی ہے، اور اصل دین میں ان سب حضرات کا اتحاد و اتفاق ہوتا ہے، اس لئے ایک کی تکذیب دراصل ان سب ہی کی تکذیب ہوتی ہے، اس لئے ایسے موقع پر عموماً جمع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، سو حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) اصول دین کے اعتبار سے آپس میں ایک ہوتے ہیں، جیسا کہ متفق علیہ حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ف 2 یعنی حضرت صالح کے بارے میں کہنے لگے کہ ایک تو یہ بشر ہیں فرشتہ یا کوئی دوسری فوق البشر ہستی نہیں ہیں اور دوسرے یہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں اور تیسرے وہ اکیلے ہیں۔ کوئی لائو لشکر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں اپنا سردار مان کر ان کی پیروی اختیار کریں۔
Read the full tafseer →(54:23) کذبت ثمود بالنذر۔ ثمود ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد چہارم۔ قوم ثمود نے بھی ڈرانے والوں (پیغمبران الٰہی) کو جھٹلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے 2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(23) قوم ثمود نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی اور ڈرانے والوں کو جھوٹا بتایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →قوم ثمود نے بھی اپنے رسول کو جھٹلایا 23 ؎ ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھ اور یہ وہی قوم تھی جو عاد کی ہلاکت کے وقت بچی تھی اور جہاں ہجرت کر کے یہ لوگ گئے تھے وہی آباد ہوگئے۔ ان کے درمیان کتنی نسلیں گزر چکی تھیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس کی وضاحت نہ تو قرآن کریم نے کی ہے اور نہ ہی کسی تاریخ میں اس کی حتمی وضاحت آئی ہے۔ اس کے لئے جو ذخیرہ ہے وہ تورات ہے اور تورات نے جو نام گنوائے ہیں لاریب وہ فرضی ہیں کیونکہ اس طرح گزشتہ قوموں کے درمیان کوئی زیادہ بعد ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ دو تین نسلیں تو ایک ہی صدی میں تقریباً گزر جاتی ہیں اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
16 That is, on a day the ill luck of which continued to rage for several days. In Surah Ha Mim As-Sajdah: 16, the words are: fi ayyam in nahisat: "in a few iII-omened days," and in Surah AI-Haqqah: 7, it has been said: "This wind storm continued to rage for seven nights and eight days. "It is said that the day on which the storm started was Wednesday. From this the idea spread that Wednesday was a day of iII-luck, and no work should be started on this day. Some very weak traditions also have been cited to support this view, which have further strengthened the idea that this day is iII-omened.…
Read the full tafseer →