Explained with ayahs 18–22
کفار کی بدترین روایات
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
سورة الْقَمَر 16
یعنی ایک ایسے دن جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی۔ سورة حٰم لسجدہ، آیت 16 میں فِیْ اَیَّامٍ نَّحِسٰتٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور سورة الحاقہ آیت 7 میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے۔ بعض نہایت ضعیف احادیث بھی اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں جن سے اس دن کی نحوست کا عقیدہ عوام کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے۔ مثلاً اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر (مہینے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فکیف کان عذابی ونذر۔ ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مد کر (22021) یہ آیتیں قوم نوح کی سرگزشت کے آخر میں اوپر گزر چکی ہیں اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
6: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فکیف کان عذابی ونذر (45: 12) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ صلائے عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
3 یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور ایک نبی کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ اصول دین میں سب ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
19 قوم عاد اور اس کا انجام :۔ یہ عذاب انتہائی تیز رفتار آندھی کی شکل میں تھا اور یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی جو ان کے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ درختوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور قوم کے قدو قامت، ڈیل ڈول اور مضبوط اور طاقتور جسم والے لوگوں کو بھی پاؤں سے اکھاڑ کر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کھجوروں کے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
17۔ بڑا ہی بدنصیب ہے وہ جو قرآن مجید کے پر عبرت وسبق آموز قصوں سے گزرے اور محض گزرتا چلا جائے، ان سے انجام بینی کے سبق نہ حاصل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
کانھم اعجاز نخل خاویۃ یہ درازی قد کے ساتھ انکے بےبسی اور لاچاری کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کرسکے درآنحالیکہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔
Read the full tafseer →” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے ‘ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات کے لیے آسان کردیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم ہود کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے قوم ثمود نے بھی حضرت صالح اور دیگر پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کے دین اور اس کے حکم کی پیروی کریں گے جو ہمارے جیسا ہی آدمی ہو سو ایسی صورت میں تو ہم بڑی غلطی اور سختی و پریشانی میں پڑجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔۔۔: صاح ؑ کی قوم ثمود نے اپنے رسول کو نہ ماننے کی تین وجہیں بیان کیں ، ایک یہ کہ یہ بشر ہے (دیکھئے بنی اسرائیل : 94) دوسری یہ کہ بشر بھی ہم جیسا عام بشر ، کوئی سردار یا سرمایہ دار نہیں (دیکھئے ص 8) اور تیسری یہ ہے کہ یہ اکیلا آدمی ہے ، اس کے ساتھ کوئی جتھا یا پارٹی نہیں ہے۔
2۔ انا اذا الفی ضلل و سحر : ”سعر“ جنون ، دیوانگی۔”ضلل“ اور ”سحر“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی گمراہی اور بڑی دیوانگی“ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
تنزع الناس یہ ریح کی صفت کے محل میں ہے یعنی وہ ہوا انہیں ان کی جگہوں سے اٹھا لیتی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ہوا نے انہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس طرح اٹھا لیا جس طرح کھجور کو اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ ہوا انہیں زمین سے اٹھاتی انہیں سر کے بل گراتی ان کے گردنیں پس جاتیں اور ان کے سر ان کے جسموں سے الگ ہوجاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ ہوا لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالتی۔ محمد بن کعب نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہوا نے لوگوں کو ان کی قبروں سے نکال لیا۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے گڑھے کھودے اور ان میں داخل ہوگئے ہوا انہیں وہاں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
1:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد اللہ بن احمد (رح) نے زوائد الزھد میں وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب ہوا چلی تو (قوم) عاد اس کی طرف کھڑی ہوئی اور ان کے بعض نے بعض کے ہاتھوں کو پکڑلیا اور اپنے قدموں کو زمین میں گاڑ لیا اور کہنے لگے کون ہمارے قدموں کو زمین سے ہٹائے گا اگر وہ سچ بولنے والا ہے (یعنی پیغمبر) اللہ تعالیٰ ان پر ہوا بھیج دی جو لوگوں کو اکھاڑ پھینک رہی تھی (اور وہ اس طرح ہوگئے) (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل منقعر '' (گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں )
12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر قوم عاد میں سے کوئی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاد دہانی حاصل کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
قوم عاد کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب
ان آیات میں قوم عاد کی تکذیب اور تعذیب کا ذکر ہے انکی طرف اللہ تعالیٰ شانہ، نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی توحید کی دعوت دی، یہ لوگ بری طرح پیش آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے خیال میں تو تم کم عقل ہو بیوقوف ہو ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ جو تم نے عذاب عذاب کی رٹ لگا رکھی ہے یہ دھمکی ہم پر کچھ اثر انداز نہیں ہوسکتی اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو چلو عذاب کو بلالو، بالآخر ان پر اللہ تعالیٰ شانہ، نے ہوا کا عذاب بھیج دیا بہت سخت تیز ہوا آئی جو ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی یہ دن ان کے لیے نامبارک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
11:۔ ” کذبت عاد “ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ قوم عاد کا انجام بھی نہایت ہی عبرتناک ہے۔ ہم نے کس طرح پیغمبر بھیج کر ان کو ڈرایا۔ اور تکذیب و انکار پر پھر کس قدر ہولناک عذاب سے ان کو ہلاک کیا۔ صرصر، نہایت تند و تیز طوفان باد، یوم نحسن مستمر وہ دن اس قوم کے لیے دائمی بدبختی کا دن تھا کیونکہ اس دن سے لے کر قیامت تک عالم برزخ کے عذاب میں رہیں گے اور اس کے بعد عذاب جہنم میں ہمشیہ کیلئے داخل ہوں گے۔ مستمر، یوم کی صفت ہے یا نحس کی۔ نخل اسم جنس ہے اس لیے مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے باعتبار لفظ مذکر ہے جیسا کہ یہاں ہے ” نخل منقعر “ اور باعتبار معنی مونث ہے جیسا کہ سورة الحاقہ میں ہے ” کانہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–22
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 22 ۧ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ترکیب : اِنَّااَرْسَلْنَا جملۃ مسانفہ مبینۃ لما اجملہ قبلہ فی یوم الظرف متعلق بارسلنا تَنْزِعُ النَّاس الجملۃ صفۃ لریح اوحال منہا۔ کَآنَّہُمْ حال من الناس النخل والنخیل یذکرویونث ولذایوصف بالمذکرکمافی قولہ تعالیٰ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ وبالمونث کمافی قولہ تعالیٰ اَعْجَازُ نَخْلٍ خاویہ وقیل التذکیر رعمایۃ والتانیث رعایۃ للمعنی وَنُذُرِ اصلہ نذری۔ حذف الیاء رعایۃ للفواصل وبقیت الکسرۃ عوضاً عنھا۔
تفسیر … قوم عاد کی بربادی : یہ دوسرا تذکرہ قوم عاد کا ہے کہ انہوں نے بھی پیغمبر کا انکار کیا۔ پھر دیکھا ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟ پھر اس کی مجملاً کیفیت بیان فرماتا ہے کہ اِنَّااَرْسَلْنَا ہم نے اس قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 21، 22)
( تو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ )
یہ دونوں آیتیں قوم نوح کی سرگزشت کے آخر میں گزر چکی ہیں اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ یہ ہر واقعہ کے آخر میں ٹیپ کے بند کے طور پر بار بار آرہی ہیں۔ قریش اور مخالفین کے مخالفانہ رویئے کے باعث انھیں بار بار توجہ دلائی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
فہم القرآن
ربط کلام : نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام ذکر کرنے کے بعد قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا کہ سوچو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ڈرانا کس طرح خوف ناک تھا جسے قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔
قوم عاد کی مختصر تاریخ جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت 41 تا 42 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں !
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے ہی آسان اور سادہ الفاظ میں لوگوں کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے تو قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی کتاب آسان اور پر تاثیر نہیں ہوسکتی۔ جو آدمی صراط مستقیم پر چلنا چاہے اسے اس کتاب کو سمجھنا…
Read the full tafseer →آیت 22: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنِ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کیلئے آسان کردیا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )
Read the full tafseer →21 ۔” فکیف کان عذابی ونذر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →) وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) اور یقینا ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انہیں اس امر کی طرف بلایا جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
[ 25] قوم عاد کیلئے دائمی نحوست کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پر سخت قسم کی آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن میں۔ سو وہ دن قوم عاد کے لیے بڑی ہی نحوست کا دن تھا۔ یعنی ایک ایسے دن میں جو کہ ان کے حق میں منحوس تھا، کہ اس دن ان بدبختوں پر ایسا ہولناک اور تباہ کن عذاب آیا اور اس دنیاوی عذاب کے ساتھ برزخی اور پھر اخروی عذاب مل گیا، اور اس طرح وہ لوگ ایک دائمی اور نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو اس طرح یہ دن ان لوگوں کیلئے دائمی نحوست کا دن بن گیا، ورنہ بزات خود کوئی دن نہ منحوس ہوتا ہے نہ سعید، بلکہ سب ہی ایام برابر ہیں کہ وہ مطلقاً ظرف ہیں، ان کی سعادت و نحوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ف 2 یعنی حضرت صالح کے بارے میں کہنے لگے کہ ایک تو یہ بشر ہیں فرشتہ یا کوئی دوسری فوق البشر ہستی نہیں ہیں اور دوسرے یہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں اور تیسرے وہ اکیلے ہیں۔ کوئی لائو لشکر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں اپنا سردار مان کر ان کی پیروی اختیار کریں۔
Read the full tafseer →(54:22) ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرہ الصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے
2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(22) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی غور کرنے والا اور نصیحت قبول کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →یقینا ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے پھر ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا
22 ؎ اس کی وضاحت آیت 17 کے تحت کردی گئی ہے اور یہ دونوں آیتیں اس سورت میں ہر دعوت کے بعد بار بار آرہی ہیں ‘ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ نصیحت کی بات بار بار کی جاتی ہے کہ شاید کوئی کان اگر ایک بار نہیں تو دوسری بار اور اگر دوسری بار نہیں تو تیسری بار ‘ علی ھذا القیاس کسی وقت ہی متوجہ ہو اور سمجھ جائے تاکہ اس کا فائدہ ہوجائے اور نصیحت کا یہ طریقہ محض اس لئے اپنایا جاتا ہے تاکہ سننے والے تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے ہی سمجھ جائیں اور گرنے سے بچ جائیں اگر وہ بچنے کی کوشش کریں لیکن نادانوں نے کبھی بھی اس نصیحت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
16 That is, on a day the ill luck of which continued to rage for several days. In Surah Ha Mim As-Sajdah: 16, the words are: fi ayyam in nahisat: "in a few iII-omened days," and in Surah AI-Haqqah: 7, it has been said: "This wind storm continued to rage for seven nights and eight days. "It is said that the day on which the storm started was Wednesday. From this the idea spread that Wednesday was a day of iII-luck, and no work should be started on this day. Some very weak traditions also have been cited to support this view, which have further strengthened the idea that this day is iII-omened.…
Read the full tafseer →