Al-Qamar 54:16

Al-Qamar · from ayah 16

54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۟فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how [severe] were My punishment and warning.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:16

دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی رہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا تھا اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھ لو کس طرح سچا ثابت ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو (دیکھ لو اے لوگو ! کہ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا

— مولانا اسحاق مدنی

سو (دیکھو) میرا عذاب اور میری تنبییں کیسی ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

So how awesome were My chastisement and My warnings!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then how was My torment and My warnings?

— Muhammad Taqi Usmani

Then how was My torment and My warnings?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then how (terrible) was My torment and My warnings

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then see how (dreadful) was My punishment after My warnings!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how [severe] were My punishment and warning.

— Saheeh International

How terrible was My torment and the result of (their disregard) of My warning.

— Muhammad Sarwar

How (great) was then My punishment and My warning!

— Muhammad Habib Shakir

So how dreadful have been My torment and My warning!

— Abdul Majid Daryabadi

But how (terrible) was My Penalty and My Warning?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الْقَمَر 14 یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنادیا گیا۔ ایک بلند وبالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا سینکڑوں ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا اور انہیں یاد دلاتا رہا کہ اس سر زمین پر خدا کی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی شامت آئی تھی اور ایمان لانے والوں کو کس طرح اس سے بچایا گیا تھا۔ امام بخاری، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتح عراق والجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر (اور ایک روایت کے مطابق باقردیٰ نامی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ، الواح لوح کی جمع ہے بمعنی تختی، اور دسر، دسار کی جمع ہے، جس کے معنی میخ اور مسمار کے بھی آتے ہیں اور اس ڈورے یا تار کو بھی کہا جاتا ہے جس سے کشتی کے تختے جوڑے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(فکیف کان عذا بی ونذ) (61) نذر اصل میں نذری ہے۔ ’ ی ‘ قافیہ کی رعایت سے گر گئی۔ کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا ہے۔ نذر یہاں انداز سے اسم ہے اور اس کے معنی ڈراوے، تنبیہ اور آگاہی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑتے والا دل ہو تو وہ اس سر گزشت میں دیکھ سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب کیسا بےپناہ ہوتا ہے اور اس کی دھمکی کس طرح پوری ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

15۔ 1 مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فکیف ............ ونذر (54:16) ” دیکھ لو کیا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ بہرحال ایسا ہی ہوا جس طرح قرآن نے تصویر کشی کی ہے۔ یہ ایک سخت تباہ کن عذاب تھا جس نے تمام مجرموں کو نیست ونابود کرکے رکھ دیا اور ڈرانے والے کا ڈراوا سچا ہوگیا یہ ہے قرآن کا انداز بیان نہایت سہل ، قابل فہم ، پڑھنے والے کے لئے خوب جازبیت کا حامل تاکہ ہر کوئی پڑھے اور تدبر کرے۔ سادہ سچائی کی جاذبیت کا حامل ، فطرت کے مطابق اور ہر طبیعت کے لئے پرجوش ، جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اسے بار بار پڑھئے ہر بار نیا نظر آئے گا۔ جب بھی کوئی اس پر تدبر کرے اسے ایک نیا مفہوم اور نیا نکتہ ملے گا۔ جس قدر اس کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

16 کشتی نوح نشانی کے طور پر :۔ یہ کشتی با لآخر جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ آسمان سے بارش بند ہوگئی۔ نیچے سے زمین نے پانی جذب کیا۔ کچھ ہواؤں اور سورج نے پانی خشک کیا۔ چناچہ چالیس دن بعد کشتی پر سوار لوگ اس قابل ہوگئے کہ کشتی سے اتر آئیں۔ مگر کشتی وہیں رہ گئی۔ اس سے جو کام لیا جانا منظور تھا وہ لیا جاچکا تھا۔ یہ مدت ہائے دراز تک وہیں پڑی رہی اور آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکیف کان عذابی و نذر . ” پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ استفہام ‘ عذاب کی عظمت اور ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ “ نُذُرْ : نذیر کی جمع ہے۔ فراء نے کہا : نذر اور انذار دونوں مصدر ہیں (اور ہم معنی ہیں) جیسے انفاقٌ اور نفقۃٌ اور یقین و ایقان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

(13۔ 16) اور ہم نے نوح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے۔ تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی سوار کیا اور ہم نے یہ سب نوح کا بدلہ لینے کے لیے کیا جن کی انہوں نے قدر نہ کی اور ہم نے نوح کے بعد ان کی کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے رہنے دیا کہ اس کشتی کے واقعہ سے نصیحت حاصل کریں سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے جو قوم نوح کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔ سو آپ غور تو فرمایے کہ میرا عذاب ان لوگوں پر اور میرا ان کو ڈرانا یعنی جبکہ نوح نے ان کو ڈرایا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے کیسا ہواْ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

۔ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ :”نذر“ فراء نے فرمایا :”انداز“ اور ”نذر“ مصدر ہیں۔ (فتح القدیر) یہاں ”نذر“ اصل میں ”نذری“ (میرا ڈرانا) تھا ، آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے ”یائ“ خذف ہوگئی ، اس کی دلیل کے طور پر ”رائ“ پر کسرہ باقی رہا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فکیف کان عذابی ونذر۔ یعنی میرا ڈرانا کیسا تھا۔ فراء نے کہا : انذار اور نذر دونوں مصدر ہیں (4) ایک قول یہ کیا گیا : نذر، نذیر کی جمع ہے اور نذیر، انذار کے معنی میں ہے جس طرح نکیرا، انکار کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–16

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عَذَابِيْ [ میرا عذاب ] وَنُذُرِ [ اور میرا خبردار کرنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ 0016﴾ (سو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا) مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کے واقعات محض حکایت کے لیے نہیں ہیں ان سے عبرت حاصل کرنا لازم ہے پرانی امتوں کی جو ہلاکت ہوئی وہ یوں ہی ذرا بہت تھوری سی تکلیف نہیں تھی وہ تو بہت بڑا عذاب تھا پڑھنے اور سننے والے سوچیں اور غور کریں اس بھیانک عذاب کی سختی اور ہولناکی کو ذہن میں لائیں اور ساتھ ہی یہ بھی غور کریں کہ اگر ہم برابر انکار کرتے رہیں اور اللہ کے رسول اور اس کتاب کے جھٹلانے پر کمر باندھے رہیں تو ہمارا بھی ایسا ہی انجام ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

10:۔ ولقد ترکناھا ہم نے اس قصے کو عبرت و نصیحت کی ایک دلیل اور نشانی بنادیا، کیا ہے کوئی اس سے عبرت حاصل کرنے والا ؟ ” نذر “ مصدر ہے بمعنی انذار اور استفہام تعظیم و تعجیب کیلئے یعنی میرا ڈر اور میرا عذاب کس قدر ہولناک اور عبرت آموز ہے۔ ” ولقد یسرنا القران۔ الایۃ “ چاروں قصوں کے بعد یہ مذکور ہے گویا ہر قصہ کے بعد ولقد جاءھم من الانباء۔ الایۃ “ کا مضمون یاد دلایا اور متنبہ فرمایا کہ ہر قصہ اپنی جگہ عبرت آموزی میں کافی اور مستقل ہے ہم نے قرآن کو ان کی زبان میں نازل کرکے، اس میں دلائل، اخبار امم ماضیہ اور وعدہ ووعید ذکر کر کے پندو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ۝ 16 كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ (القمر : 16) (دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ ) قومِ نوح پر عذاب آنے سے پہلے ایک طویل عرصے تک حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا دین پہنچایا اور ان کے انکار کی صورت میں بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انھیں ڈرایا۔ اور ہر موقع پر انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اختیار نہ کیا اور اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے لیے تیار نہ ہوئے تو پھر تم کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آسکتے ہو اور تمہاری بداعمالیاں کسی وقت بھی اس کے غضب کا باعث بن سکتی ہیں۔ لیکن اس قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 16: فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ (پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا) ۔ نذر جمع نذیر ہے اور وہ انذار مصدر کے معنی میں ہے۔ قراءت : و نذری ٗ یعقوب نے دونوں جگہ پڑھا۔ وصل میں سہل سے اس کے موافق اور دیگر قراء نے بغیریاء کے بڑھا اور آخر سورت تک قراء کا یہی اختلاف ملحوظ رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” ولقد ترکناھا “ یعنی جو ہم ن یان کے ساتھ کیا۔ ” آیۃ “ جس کے ذریعے عبرت حاصل کی جائے اور کہا گیا ہے کہ کشتی مراد ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو جزیرہ کی زمین باقر دی پر باقی رکھا ہے۔ عبرت اور نشانی بنا کر حتیٰ کہ اس کو اس امت کے ابتدائی لوگوں نے دیکھا ہے۔ ” فھل من مدکر “ یعنی نصیحت حاصل کرنے والا عبرت لینے والا ڈرانے والا ان کی سزا کی مثل سے۔ ابواسحاق (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو سنا کہ اس نے اسود سے اللہ تعالیٰ کے قول ” فھل من مدکر “ کے بارے میں پوچھا کہ مذکر ہے یا مدکر ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے نا کہ وہ اس کو ” فھل من مدکر “ پڑھتے تھے اور فرمایا میں نے رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) پس اے مخاطب تو نے اللہ تعالیٰ کے دردناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 23] غافل لوگوں کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا اور غافل لوگوں کے دل و دماغ پر ایک دستک کے طور پر اور ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا سو کیسا تھا میرا خبردار کرنا۔ استفہام ہیں تہویل و تخویف اور تنبیہ و تہدید کیلئے ہے کہ کیسا ہولناک اور عبرت انگیز انجام تھا ان لوگوں کا، جنہوں نے تکذیب کی حق کی، والعیاذ باللّٰہ العظیم نذر اصل میں نذر ہی ہے، ی کاف یے کی رعایت کی بناء پر کرگئی اور کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا، یہاں پر یہ لفظ انذار سے اہم ہے اور اس کے معنی تنبیہ، ڈراؤے اور آگہی کے ہیں، سو مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑنے والا دل ہو تو وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 10 قرآن کے آسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی سطحی کتاب ہے جسے سمجھنے کے لئے نہ کسی محنت کی ضرورت ہے اور نہ کسی علم کی حتی کہ جو شخص عربی زبان تک سے ناواقف ہو وہ جب چاہے اسے ہاتھ میں لے اور حدیث اور علوم حدیث و تفسیر سے بےنیاز ہو کر اس سے جو مسائل چاہے استنباط کرتا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا انداز بیان اللہ تعالیٰ نے ایسا صاف، سہل اور دل نشین بنایا ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرنا نہایت آسان ہے۔ یہی معنی اس کے کتاب مبین ہونے کے ہیں اور پھر اس کا آسان کرنا یہ بھی ہے کہ یہ سہولت سے حفظ ہوسکتا ہے۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں قرآن کے حجم کی کوئی ایسی کتاب نہیں پائی گئی جس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:16) نذر۔ اصل میں نذری تھا۔ نذر اور انذار دونوں مصدر ہیں اور ہم معنی ہیں۔ جیسے انفاق ونفقۃ اور یقین وایقان۔ نذری۔ میرا ڈرانا۔ استفہام عذاب کی عظمت اور اس کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–16

ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) پھر دیکھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ یعنی نافرمانوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

ف 3۔ مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، اور چونکہ رسول اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تلازم ہے اس میں فکر باللہ بھی آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟ 16 ؎ (نذر) جمع ہے نذیر کی اور (نذر) کی راء کے نیچے جو زیر ہے وہ (نذری) کی ہے اور ی قاعدہ کے مطابق اڑ گئی اور راء کو زیر دی گئی تاکہ اس کی یاد تازہ رہے پھر دیکھو کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟ یہ استفہام ہے تاکہ اس طرح کوئی بات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور عذاب کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو سمجھ جائے اور سبق حاصل کرنا چاہے تو کرلے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‌ (to board that [ ship ] which had planks and nails...54:13). The word alwah is the plural of lawh and it refers to a board or a plank. The word dusur is the plural of disar and it stands for nail. It also means a cord of fibres of the palm tree with which the planks of a ship are bound together.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

14 It may also mean: `We left this dreadful punishment as a sign of warning," but in our opinion the preferable meaning is that the Ark was left as a sign of warning. Its resting and existence on a high mountain continued to warn the later generations of the wrath of God for thousand of years and kept on reminding them how the people who had disobeyed God on this earth had met their down, and how the believers had been rescued from it. Imam Bukhari, Ibn Abi Hatim, 'Abdur Razzaq and Ibn Jarir have related traditions on the authority of Qatadah saying that at the time the Muslims conquered…

Read the full tafseer →