Al-Qamar 54:17

Al-Qamar · from ayah 17

54:17

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۟وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:17

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے نہایت موزوں بنایا ہے۔ تو ہے کوئی یاد دہانی حاصل کرنے والا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا اس قرآن کو نصیحت کے لئے تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

We have made this Qur'an easy as a reminder. Is there, then, any who will take heed?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there anyone who will remember

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in truth We have made the Qur'an easy to remember; but is there any that remembereth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

We have made the Quran easy to understand, but is there anyone who would pay attention?

— Muhammad Sarwar

And certainly We have made the Quran easy for remembrance, but is there anyone who will mind?

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have made the Qur'an easy for admonition; is there then any one who would be admonished?

— Abdul Majid Daryabadi

And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember: then is there any that will receive admonition?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْقَمَر 15 بعض لوگوں نے یَسَّرْنَا الْقُراٰنَ کے الفاظ سے یہ غلط مطلب نکال لیا ہے کہ قرآن ایک آسان کتاب ہے، اسے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں، حتیٰ کہ عربی زبان تک سے واقفیت کے بغیر جو شخص چاہے اس کی تفسیر کرسکتا ہے اور حدیث و فقہ سے بےنیاز ہو کر اس کی آیات سے جو احکام چاہے مستنبط کرسکتا ہے۔ حالانکہ جس سیاق وسباق میں یہ الفاظ آئے ہیں اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو ہیں وہ عبرتناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، للذکر، ذکر کے معنی یاد کرنے اور حفظ کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کلام سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے کے بھی، یہ دونوں معنی یہاں مراد ہو سکتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم کو حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا، یہ بات اس سے پہلے کسی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی کہ پوری کتاب تورات یا انجیل یا زبور لوگوں کو برزباں یاد ہو اور یہ حق تعالیٰ ہی کی تفسیر اور آسانی کا اثر ہے کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے پورے قرآن کو ایسا حفظ کرلیتے ہیں کہ ایک زیر زبر کا فرق نہیں آتا، چودہ سو برس سے ہر زمانہ ہر طبقے ہر خطے میں ہزاروں لاکھوں حافظوں کے سینوں میں یہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر) (17) یہ آیت ہر سر گزشت کے بعد، ٹیپ کے بند کے طور، بار بار آئے گی۔ اس کا مطلب اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے تاکہ ہر جگہ وضاحت کی ضرورت پیش نہ آئے۔ (تیسیر اور ذکر کا مفہوم)۔ اس آیت کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو حفظ کرنے یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان کتاب بنایا ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود صحیح ہے کہ قرآن حفظ کرنے کے لیے بھی آسان ہے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے بھی سہل ہے لیکن آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے۔ لفظ تیسیر عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے درست کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کردیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کرلی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کرلینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد ............ مد کر (45:17 ) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ یہ ہے وہ سبق جو ہر پیراگراف کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔ ہر مصور منظر کے بعد ، ہر منظر کے بعد قرآن انسان دل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اسے نصیحت قبول کرنے ، دانش حاصل کرنے ، تدبر کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہر تاریخی انجام بد کے بعد جس سے مکذبین دو چار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا بالکل آسان ہے کیونکہ جو مضامین ترغیب و ترہیب اور انداز وتبشیر سے متعلق ہیں وہ بالکل صاف، سہل اور موثر ہیں۔ پر کوئی سوچنے سمجھنے کا ارادہ کرے تو سمجھے۔ (تنبیہ) آیت کا یہ مطلب نہیں قرآن محض ایک سطحی کتاب ہے جس کے اندر کوئی دقائق و غوامض نہیں۔ اس علیم وخبیر کے کلام کی نسبت ایسا گمان کیونکر کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ فرض کرلیا جائے کہ جب اللہ بندوں سے کلام کرتا ہے تو معاذ اللہ اپنے غیر متناہی علوم سے کو را ہوجاتا ہے ؟ یقینا اس کے کلام میں وہ گہرے حقائق اور باریکیاں ہوں گی جن کا کسی دوسرے کلام میں تلاش کرنا بیکار ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے " لا تنقضی عَجَآئِبَہ،" (قرآن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یہ اس سورت کی ترجیعی بار بار دہرائی جانے والی آیت ہے اور اس میں ایک چیلنج کا سا انداز پایاجاتا ہے۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر پوری سورت میں اس آیت کو چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اعلان کو پڑھ لینے یا سن لینے کے بعد ایک بندے پر گویا اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے استطاعت بھر کوشش شروع کردے۔ خصوصی طور پر پڑھے لکھے خواتین و حضرات پر تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

17 قرآن کی خوبیاں اور آسان زبان :۔ یہ اللہ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنے کلام کو آسان اور سہل بنادیا ہے۔ اس میں دی گئی مثالیں تشبیہات مناظر قدرت، دلائل اور انداز بیان سادہ اور عام فہم ہیں اس لیے کہ اس کے اولین مخاطب امی لوگ تھے۔ لکھے پڑھے عالم فاضل لوگ نہیں تھے۔ یہ کسی فلسفے یا منطق کی کتاب بھی نہیں جس کی عبارت پیچیدہ اور مغلق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتادیا کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی پیچیدگی نہیں رکھی۔ (8: 11) نیز اس میں محض خیالی فلسفے نہیں بلکہ ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے انسان کی عملی زندگی کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے اور ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ (عبرت وموعظت کے ان کھلے ہوئے مضامین کو سن کر) (آیت) ” ولقد یسرنا القران للذکر۔ یسرنا “۔ سے اشارہ اس حقیقت کی جانب ہوگیا کہ یہ محض توفیق و احسان الہی ہے جس نے قرآن کو آسان کردیا ہے، ورنہ یہ چیز انسانی فہم و دماغ کے بس کی نہ تھی۔ (آیت) ” یسرنا القران للذکر۔ للذکر “۔ کی قید نے اسے صاف کردیا کہ قرآن مجید آسان تو بیشک ہے، لیکن صرف عبرت وتذکیر، ترغیب وترہیب کے اعتبار سے۔ استنباط مسائل بجائے خود ایک مستقل ودقیق فن ہے ؛ ملکہ خصوصی ومہارت تحقیقی کا محتاج۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر . ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے ‘ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “ ذکر : یعنی نصیحت پذیری کی غرض سے ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لیے مختصر اور شیریں بنایا ہے۔ اس میں طرح طرح سے سے نصیحتیں کی گئی ہیں۔ عبرت اندوزی کا سامان ہے ‘ عذاب کی دھمکیاں ہیں۔ امم سابقہ کے احوال کا اظہار ہے اور نافرمانوں کے انجام بد کا بیان ہے اور یہ سب کچھ عبرت اندوزی کے لیے کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات اور کتابت کے لیے یا یہ کہ قرات کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی علم قرآنی کا طالب ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے ، اس کے الفاظ آسان ہیں ، معنی بھی آسان ہے ، نہ پڑھنے میں دقت ہے نہ سمجھنے میں ، تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے اور نافرمانی سے باز آجائے ؟ اس میں قرآن مجید پڑھنے ، پڑھانے ، سمجھنے ، سمجھانے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے لوگ وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں ، یہ بڑے بڑے عالم و فاضل لوگوں کا کام ہے ، جو چودہ یا اکیس علوم پڑھے ہوئے ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر متعدد مشکل سے مشکل علوم و فنون پڑھتے رہتے ہیں ، مگر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولقد یسرنا القرآن للذکر یعنی ہم نے اسے سہل کردیا ہے اور جس نے بھی اس کے حفظ کا ارادہ کیا ہم نے اس کی مدد کی کیا کوئی اس کے حفظ کا خواہش مند ہے تو اس کی مدد کی جائے۔ یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو ہم نے اسے یاد کرنے کیلئے تیار کیا ہے۔ یہ ماخوذ ہے یسرنا قتہ للسفر جب وہ سفر کرے اور اپنا گھوڑا جنگ کے لئے تیار کرے جب وہ اس پر زین ڈالے اور اسے لگاپہنائے، کہا : قمت الیہ باللجام میسرا میں اس کی طرف لگام کے ساتھ اٹھا اس کو تیار کرتے ہوئے۔ سعید بن جبیر نے کہا، قرآن کے سو اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب نہیں جس کو مکمل پڑھا جاتا ہو (1) دوسرے علماء نے کہا، یہ بنی اسرائیل کے لئے نہیں وہ تورات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

قرآن کو لوگوں کی زبان پر آسان بنادیا : 19:۔ ابن ابی حاتم والبیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد یسرنا القران للذکر '' یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آدمیوں کی زبان پر آسان نہ بنایا ہوتا تو مخلوق میں سے کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کے کلام کے ساتھ بات کرسکے۔ 20:۔ دیلمی نے انس ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا ہے۔ 21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن سیریں (رح) سے روایت کیا کہ ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا اور وہ کہتا تھا کہ سورة خفیفہ (یعنی ہلکی سورت) تو آپ نے فرمایا سورة خفیفہ نہ کہو لیکن یہ کہو وہ سورت جس کو آسان بنادیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' ولقد یسرنا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 2: لفظ ذکر یہاں (آیت ۔ 17) وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ یعنی تعلیم ، تذکیر ، آگاہی ، تنبیہ ، نصیحت ، موعظت ، حصول عبرت اور اتمام حجت ، یہ سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں ، یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ قرآن مجید ہمارے اوپر کوئی چیز خارج سے نہیں لادتا بلکہ ہماری فطرت اور عقل میں اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کے جو خزانے ودیعت کیے ہیں اور جن سے ہم غافل ہیں انہی کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا ہے اور ان سے بہرہ مند ہونے کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کو آسان فرما دینا : ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0017﴾ یہ آیت کریمہ سورة القمر میں چار جگہ ہے پہلی بار حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد فرمائی ہے نیز قوم عاد اور قوم ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے ذکر کے بعد بھی مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی شخص نصیحت حاصل کرنے والا ہے، اس میں قرآن کریم کی تسہیل اور تیسیر کا بھی ذکر ہے اور دعوت فکر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سہل کردیا تو بندوں پر لازم ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کریں، ذکر و فکر کی دعوت دیتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

10:۔ ولقد ترکناھا ہم نے اس قصے کو عبرت و نصیحت کی ایک دلیل اور نشانی بنادیا، کیا ہے کوئی اس سے عبرت حاصل کرنے والا ؟ ” نذر “ مصدر ہے بمعنی انذار اور استفہام تعظیم و تعجیب کیلئے یعنی میرا ڈر اور میرا عذاب کس قدر ہولناک اور عبرت آموز ہے۔ ” ولقد یسرنا القران۔ الایۃ “ چاروں قصوں کے بعد یہ مذکور ہے گویا ہر قصہ کے بعد ولقد جاءھم من الانباء۔ الایۃ “ کا مضمون یاد دلایا اور متنبہ فرمایا کہ ہر قصہ اپنی جگہ عبرت آموزی میں کافی اور مستقل ہے ہم نے قرآن کو ان کی زبان میں نازل کرکے، اس میں دلائل، اخبار امم ماضیہ اور وعدہ ووعید ذکر کر کے پندو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝ 17 يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 17) (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ) قرآن کے آسان ہونے کا مفہوم اس آیت کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کریم ایک آسان کتاب ہے جس کے لیے کسی محنت اور جان ماری کی ضرورت نہیں، حتیٰ کہ عربی زبان جانے بغیر بھی اسے نہ صرف سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس کے عالم ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے نہ حدیث کی ضرورت ہے نہ علم تفسیر جاننے کی اور نہ اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کتاب سے احکام معلوم کرنے اور جزئیات کو استنباط کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ حالانکہ اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 17: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان کردیا ہے) ۔ نصیحت اور یاد کرنے کیلئے آسان کردیا۔ اس طرح کہ کافی شافی مواعظ اس میں رکھ دیئے اور وعدے اور وعیدیں بار بار بیان کردیں۔ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ مد کر بمعنی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ایک قول یہ ہے : حفظ کیلئے اس کو آسان کردیا۔ اور جو اس کو یاد کرنے کا ارادہ کرے اس کی مدد و اعانت کردی۔ کیا کوئی حفظ کا طالب ہے کہ اس کی اعانت کی جائے ؟ روایت میں ہے کہا اہل ادیان کی کتب یعنی تورات ٗ انجیل ٗ ان کو دیکھ کر ہی پڑھ سکتے تھے۔ ان کو حفظ نہ کرسکتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” فکیف کان عذابی ونذر “ یعنی ڈرانا۔ فراء فرماتے ہیں انذار اور نذر دونوں مصدر ہیں عرب کہتے ہیں اندرت انذار او نذرا۔ ان کے قول ” انفقت انفاقا ونفقۃ “ کی طرح اور ” ایقنت ایقانا ویقینا “ کی طرح ۔ اسم کو مصدر کے قائم مقام کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے اور اس کے معانی کو علم وفہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا معنی کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اللہ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کردیتا ہے۔ الذکر۔ حلال و حرام کے احکام، امر وانواہی، جزا اور سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعیہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے بنابریں قرآن کریم کا علم حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

[ 24] قرآن حکیم کی تیسیر برائے نصیحت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا قرآن کو نصیحت کیلئے "۔ نہ کہ اخذ واستنباط معانی و مسائل کیلئے۔ نیز ذکر کے معنی یاد کرنے کے بھی آتے ہیں تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اس قرآن کو یاد کرنے کیلئے آسان کردیا ہے، اور یہ تیسیر خداوندی ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کو ازبر حفظ کرلیتے ہیں، جب کہ دنیا کی کسی بھی دوسری آسمانی یا غیر آسمانی کتاب کی یہ شان نہیں کہ وہ اس طرح کسی کو مِنْ وعِنْ یاد ہوسکے، اور ضحاک حضرت ابن عباس ؓ ما سے روایت کرتے ہیں کہ اگر اللہ پاک اس کتاب حق کو لوگوں کی زبان پر آسان نہ فرما دیتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 10 قرآن کے آسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی سطحی کتاب ہے جسے سمجھنے کے لئے نہ کسی محنت کی ضرورت ہے اور نہ کسی علم کی حتی کہ جو شخص عربی زبان تک سے ناواقف ہو وہ جب چاہے اسے ہاتھ میں لے اور حدیث اور علوم حدیث و تفسیر سے بےنیاز ہو کر اس سے جو مسائل چاہے استنباط کرتا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا انداز بیان اللہ تعالیٰ نے ایسا صاف، سہل اور دل نشین بنایا ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرنا نہایت آسان ہے۔ یہی معنی اس کے کتاب مبین ہونے کے ہیں اور پھر اس کا آسان کرنا یہ بھی ہے کہ یہ سہولت سے حفظ ہوسکتا ہے۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں قرآن کے حجم کی کوئی ایسی کتاب نہیں پائی گئی جس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:17) یسرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تیسیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے آسان کردیا ۔ للذکر : جار ومجرور۔ پندو نصیحت کے لئے ذکر۔ ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 15 ۔ متذکرہ الصدر

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[6] نصیحت کا ایک ذریعہ تو وہ عبرتناک عذاب ہیں جو سرکش قوموں، عاد، ثمود، قوم لوط وغیرہ پر نازل ہوئے اور دوسرا یہ قرآن ہے جو دلائل، وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا ذریعہ بہت زیادہ آسان ہے پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–30

قرآن آسان ہے 2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی سوچنے والا اور غور کرنے والا ہے کہ وہ اس کے پندو و عظ سے فائدہ حاصل کرے۔ للذکر کی قید سے ان لوگوں کے خیالات کی نفی ہوگئی جو آج کل کے لوگ اجتہاد اور استنباط کے لئے قرآن کو آسان سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

ف 4۔ یعنی آسان کردیا سب کے لئے عموما بوجہ وضوح بیان کے اور عرب کے لئے حصہ تھا بوجہ عربیت لسان کے۔ (فائدہ) اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ترغیب و ترہیب کے متعلق قرآن میں جو مضامین ہیں وہ نہایت جلی ہیں۔ اور وجوہ استنباط کا دقیق ہونا تو خود ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے والوں کے لئے آسان کردیا ہے اگر کوئی سمجھنے والا ہو ؟ 17 ؎ (مدکر) اسم فاعل مذکر اداکار مصدر باب افتعال نصیحت کو یاد رکھنے والا۔ دل سے قبول کرنے والا۔ یہ لفظ اصل میں (مدتکر) ہے تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا۔ (محلی) کہا گیا ہے کہ قبائل ربیعہ ذکر کو دکر کہا کرتے تھے اور ان کا تلفظ اختیار کرتے ہوئے ذکر دکر دال کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ زبان سے تلفظ بدلتا رہتا ہے اور ہر زبان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ہماری زبان اردو میں اکثر راکو ” ڑ “ سے اور اسی طرح لام کو ” ڑ “ سے بدل دیا جاتا ہے۔ پالا کو پاڑا ‘ لاہور کو لاہوڑ اور ربر کو ربڑ کہہ دیا جاتا ہے اور بھی اس کی مثالیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ (And indeed We have made the Qur'an easy for seeking advice. So, is there one to seek advice?....54:17). The word dhikr in the prepositional phrase 'lidh-dhikr' has several shades of meaning: to remember or memorize or by-heart; and to take heed of admonition and warnings. Both these meanings are equally applicable here. Allah has made it easy to memorize the Holy Qur'an. The followers of the previous scriptures were not privileged to memorize their entire book, word by word - whether Torah, Injil or Zabur. It is one of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

15 .Some people have misconstrued the words Yassarnal-Qur an to mean that the Qur'an is an easy Book; no knowledge is required to understand it so much so that a person even without the knowledge of the Arabic language, can write a commentary on it, and can deduce any injunctions he likes from its verses independent of the Hadith and Islamic Law, whereas the context in which these words occur, indicates that they are meant to make the people realize this: "One means of the admonition are the dreadful torments that descended upon the rebellious nations, and the other means is this Qur'an,…

Read the full tafseer →