Al-Qamar 54:15

Al-Qamar · from ayah 15

54:15

وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۟وَلَقَدْ تَّرَكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We left it as a sign, so is there any who will remember?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:15

اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس کو (عبرت کی) ایک نشانی بنادیا۔ تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اس نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس سرگزشت کو ایک داستان عبرت بنا کر چھوڑا (عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے) تو ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے اس کو چھوڑ دیا ایک عظیم الشان نشانی کے طور پر تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس واقعہ کو نشان (عبرت) کے طور پر رہنے دیا سو ہے کوئی نصحیت حاصل کرنے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا، تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And We left the Ark as a Sign. Is there, then, any who will take heed?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We left it (the ship) as a sign. So, is there one to take lesson?

— Muhammad Taqi Usmani

And We left it (the ship) as a sign. So, is there one to take lesson?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We have left this as a sign. Then is there any that will remember

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We left it as a token; but is there any that remembereth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We left it as a sign, so is there any who will remember?

— Saheeh International

We made (the story of Noah) as evidence of the Truth. However, is there anyone who would take heed?

— Muhammad Sarwar

And certainly We left it as a sign, but is there anyone who

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We left it for a sign. Is there then anyone who would be admonished?

— Abdul Majid Daryabadi

And We have left this as a Sign (for all time): then is there any that will receive admonition?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الْقَمَر 14 یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنادیا گیا۔ ایک بلند وبالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا سینکڑوں ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا اور انہیں یاد دلاتا رہا کہ اس سر زمین پر خدا کی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی شامت آئی تھی اور ایمان لانے والوں کو کس طرح اس سے بچایا گیا تھا۔ امام بخاری، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتح عراق والجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر (اور ایک روایت کے مطابق باقردیٰ نامی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ، الواح لوح کی جمع ہے بمعنی تختی، اور دسر، دسار کی جمع ہے، جس کے معنی میخ اور مسمار کے بھی آتے ہیں اور اس ڈورے یا تار کو بھی کہا جاتا ہے جس سے کشتی کے تختے جوڑے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ولقد ترکنھا ایہ فھل من مد کر (15) (نشانیاں بہت ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں)۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہ سر زمین بھی ہو سکتی ہے جس کا ذکر اوپر (فجزنا الارض عیونا) (13) کے الفاظ سے ہوچکا ہے اور قوم نوح کی یہ سر گزشت بھی ہو سکتی ہے جس کی تفصیل تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ اور جس کو ہر دور میں تواتر عام کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے۔ عربی زبان میں ضمیروں کا اس طرح استعمال ایک معروف چیز ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں ہم پیش کرچکے ہیں اور آگے بھی آئیں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے کشتی نوح کے ڈھانچے کو مراد لیا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس امت کے بعض اگلوں نے کوہ جودی کے کسی حصہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

15۔ 1 مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد ترکنھا ............ مد کر (54:15) ” اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا “ یہ واقعہ اپنے تمام حالات کے ساتھ ہم نے تاریخ کے ریکارڈ پر باقی رکھا تاکہ آنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔ فھل من مد کر (54:15) ” پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا) جو نصیحت قبول کرے۔ دلوں کو جگانے کے لئے ایک سوال کہ کیا تھا عذاب اور کیا انجام ہوا ڈرائے جانے والوں کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی سوچنے والوں کے لیے اس واقعہ میں عبرت کی نشانیاں ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ آج کشتی کا وجود دنیا میں اس کشتی کے قصہ کو یاد دلانے والا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا نشان ہے۔ اور بعض نے کہا کہ بعینہ وہ ہی کشتی نوح کے بعد مدت تک رہی۔ " جودی " پہاڑ پر نظر آتی تھی۔ اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 { وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَـآ اٰیَۃً فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشیت الٰہی سے محفوظ کرلی گئی اور کسی وقت ایک بہت بڑی نشانی کے طور پر دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح زیر زمین دفن شدہ شداد ّکی جنت ارضی کے بارے میں اب دنیا جان چکی ہے یا بحیرئہ مردار کی تہہ میں قوم لوط علیہ السلام کے شہروں کے کھنڈرات دریافت کرلیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

16 کشتی نوح نشانی کے طور پر :۔ یہ کشتی با لآخر جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ آسمان سے بارش بند ہوگئی۔ نیچے سے زمین نے پانی جذب کیا۔ کچھ ہواؤں اور سورج نے پانی خشک کیا۔ چناچہ چالیس دن بعد کشتی پر سوار لوگ اس قابل ہوگئے کہ کشتی سے اتر آئیں۔ مگر کشتی وہیں رہ گئی۔ اس سے جو کام لیا جانا منظور تھا وہ لیا جاچکا تھا۔ یہ مدت ہائے دراز تک وہیں پڑی رہی اور آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (عبرت وموعظت کے ان کھلے ہوئے مضامین کو سن کر) (آیت) ” ولقد ترکنھا ایۃ “۔ یہ نشان عبرت محفوظ کردیا گیا لوگوں کے حافظہ میں، تاریخ کے اوراق میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ترکناھا ایۃ فھل من مد کر . ” اور ہم نے اس واقعہ کو عبرت کے لیے رہنے دیا۔ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “ تَرَکْنٰھَآ : یعنی اس واقعہ کو اپنی قدرت اور انبیاء کی صداقت کی نشانی بنا دیا کہ نصیحت حاصل کرنے والے اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : تَرَکْنٰہَآ کی ضمیر سفینہ کی طرف راجع ہے یعنی سفینہ کو ہم نے عبرت دلانے کے لیے باقی رکھا چناچہ جزیرہ میں یاجودی پر وہ کشتی مدت دراز تک موجود رہی ‘ یہاں تک کہ اس امت کے دور اوّل کے بعض لوگوں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ : مُدَّکر نصیحت حاصل کرنے والا ‘ سوال ترغیبی ہے۔ یعنی استفہام سے (طلب خیر مقصود نہیں ہے بلکہ) عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

(13۔ 16) اور ہم نے نوح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے۔ تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی سوار کیا اور ہم نے یہ سب نوح کا بدلہ لینے کے لیے کیا جن کی انہوں نے قدر نہ کی اور ہم نے نوح کے بعد ان کی کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے رہنے دیا کہ اس کشتی کے واقعہ سے نصیحت حاصل کریں سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے جو قوم نوح کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔ سو آپ غور تو فرمایے کہ میرا عذاب ان لوگوں پر اور میرا ان کو ڈرانا یعنی جبکہ نوح نے ان کو ڈرایا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے کیسا ہواْ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ تَّرَکْنٰـھَآ اٰیَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (44) اور سورة ٔ عنکبوت (15) کی تفسیر۔ 2۔ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ :”مذکر“ ”ذکر یذکر“ میں سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے ، جو اصل میں ”مذتکر“ ہے، تائے افتعال کو دال سے بدل دیا گیا ، اسی طرح ذال کو بھی دال سے بدل کر اس میں ادغام کردیا گیا ، جیسا کہ سورة ٔ یوسف میں گزار ہے (وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْہُمَا وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ) (یوسف : 45)”اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا ، اس نے کہا“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولقدثر کنھا ایۃ اس عمل سے عبرت دلانا مقصود تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کشتی کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد بطور نشانی چھوڑیں جس سے وہ عبرت حاصل کریں تو وہ رسولوں کو نہ جھٹلائیں۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جزیرہ کے علاقہ میں باقروی کے مقام پر عبرت اور نشانی کے طور پر چھوڑا یہاں تک کہ اس وقت کے اولین لوگوں نے اسے دیکھا (2) کتنی ہی کشتیاں اس کے بعد ہوئیں جو راکھ ہوگئیں (3) فھل من مد کر۔ ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے اولا اور ڈرنے والا۔ یہ اصل میں مذتکر تھا جو ذکر سے مفتعل کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ زبانوں پر ثقیل تھا اس کو تاء کو دال سے بدل دیا کیو کہ جہری میں یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–16

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ [ اور بیشک ہم نے چھوڑ دیا ہے اس کو ] اٰيَةً [ بطور ایک نشانی کے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاد دہانی حاصل کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت 15 ۔ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو (یعنی طوفان نوح کو ) ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا ۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنادیا گیا ۔ ایک بلند و بالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا، ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا ۔ مسلمانوں کی فتح عراق کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر موجود تھی اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اسے دیکھا تھا ۔ (تفہیم القرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کی غرقابی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0015﴾ (اور بلاشبہ ہم نے اس واقعہ کو عبرت بنا کر چھوڑ دیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

10:۔ ولقد ترکناھا ہم نے اس قصے کو عبرت و نصیحت کی ایک دلیل اور نشانی بنادیا، کیا ہے کوئی اس سے عبرت حاصل کرنے والا ؟ ” نذر “ مصدر ہے بمعنی انذار اور استفہام تعظیم و تعجیب کیلئے یعنی میرا ڈر اور میرا عذاب کس قدر ہولناک اور عبرت آموز ہے۔ ” ولقد یسرنا القران۔ الایۃ “ چاروں قصوں کے بعد یہ مذکور ہے گویا ہر قصہ کے بعد ولقد جاءھم من الانباء۔ الایۃ “ کا مضمون یاد دلایا اور متنبہ فرمایا کہ ہر قصہ اپنی جگہ عبرت آموزی میں کافی اور مستقل ہے ہم نے قرآن کو ان کی زبان میں نازل کرکے، اس میں دلائل، اخبار امم ماضیہ اور وعدہ ووعید ذکر کر کے پندو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ تَّرَكْنٰہَآ اٰيَۃً فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝ 15 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ تَّرَکْنٰـھَـآ اٰ یَۃً فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 15) (اور ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ ) ضمیر کے مرجع میں اختلاف اور عبرت آموزی کی ترغیب تَرَکْنٰـھَـآ کی ضمیر مفعول کا مرجع متعین کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس کا مرجع وہ سرگزشت ہے جس کا ذکر اس واقعہ میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اس کا ذکر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد تک محدود نہیں رکھا بلکہ بعد میں آنے والے آسمانی صحیفوں میں بھی مسلسل اس کا ذکر ہوتا رہا ہے تاکہ بعد کی آنے والی قومیں اس سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کشتی ٔ نوح جو دہ پر : آیت 15: وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَا (اور ہم نے اس واقعہ کو عبرت کیلئے رہنے دیا۔ ) ہا سے مراد کشتی یا ان کا وہ واقعہ جس کو نشانی بنادیا جس سے عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ قول قتادہ (رح) : اس کشتی کو ارض جزیرہ میں باقی رکھا۔ ایک قول : جودی پر باقی رکھا اور اس امت کے پہلے لوگوں نے وہ کشتی دیکھی۔ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ (کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ ) مد کر نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا۔ یہ اصل میں مذتکر ہے۔ تا کو دال سے بدل دیا اور دال۔ ذال کا ایک مقام ہے۔ ایک دوسرے میں ادغام کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” تجری باعیننا “ یعنی ہماری نگاہ میں۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں ہماری حفاظت میں اور اسی سے ان کا قول ہے الوداع کہنے والے کو ” عین اللہ علیک “ اللہ تیری حفاظت کریں اور سفیان (رح) فرماتے ہیں ہمارے حکم سے۔ ” جزآء لمن کان کفر “ یعنی ہم نے کشتی اور ان کے ساتھ جو کیا نوح (علیہ السلام) کو نجات دینے اور ان کی قوم کو غرق کرنے کے ساتھ یہ ثواب ہے اس کا جس کا کفر کیا گیا اور اس کے امر کا انکار کیا گیا اور وہ نوح (علیہ السلام) ہیں اور کہا گیا من ماء کے معنی میں ہے یعنی اس کی جزاء ہے جو اس نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا ان پر جن کو اس نے غرق کیا یا اسکی جزاء ہے جو انہوں نے نوع (علیہ السلام) اور ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح کے قصے کو ایک نشانی کے چھوڑا جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ (ترکنھا) کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت نوح کو دی تھی پھر اسی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں کو باقی رکھا تاکہ یہ اللہ کی اپنی مخلوقت پر رحمت اور عنایت اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ (فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 22] قصہء نوح کے نشان عبرت ہونے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا اور بلاشبہ ہم نے اس کو چھوڑ دیا ایک عظیم الشان نشانی کے طور پر۔ یعنی کشتی نوح (علیہ السلام) کو یا اس واقعہ کو ہم نے نشان عبرت بنادیا کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ بالآخر کس طرح تباہی کے گھاٹ پر اتر کر رہتے ہیں والعیاذ باللّٰہ العزیز اور قوم نوح (علیہ السلام) کی یہ سرگزشت تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے، اور ہر دور میں اس قصہ کو تو اتر عام کی حیثیت حاصل رہی ہے، سو اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، اور سب سے بڑا درس عبرت یہ ہے کہ کفر و انکار اور تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک تباہی ہے، اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یا ” اس کشتی کو ہم نے قدرت کی نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ “ ‘ کہتے ہیں کہ یہ کشتی جودی پہاڑ پر ایک مدت تک رہی اور اسے اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھا۔ آج بھی اس کے بعض تختوں کی تلاش جاری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:15) ولقد ترکناھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سفینہ ہے۔ یعنی اس سفینہ کو ہم نے عبرت دلانے کے لئے باقی رکھا۔ چناچہ جزیرہ میں یا جودی پر وہ کشتی مدت دراز تک موجود ہی رہی یہاں تک کہ اس وقت کے دور اول کے بعض لوگوں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔ (تفسیر مظہری) ۔ یا یہ جنس سفینہ کے لئے ہے۔ یا واقعہ کے لئے ہے یعنی قوم نوح کو بطور عبرت غرق کردینا اور نوح اور ان کے مومن ساتھیوں کو بچا لینے کا واقعہ۔ ایۃ۔ نشانی، حکم خداوندی، پیغام الٰہی۔ دلیل، معجزہ، آیت اصل معنی کے لحاظ سے ظاہری نشانی کو کہتے ہیں۔ اسی اعتبار سے قرآن مجید کی آیت کو آیت کہتے ہیں کہ وہ گویا کلام کے ختم ہوجانے کی نشانی ہے۔ علامت ہے بوجہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–16

ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اور ہم نے اس واقعہ کو ایک سبق آموز نشانی کے طور پر چھوڑ دیا سو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے یعنی جو اس عبرت انگیز واقعہ سے نصیحت پکڑے ہوسکتا ہے کہ ترکنھا سے مراد وہ کشتی ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی کو باقی رکھا تاکہ اس سے عبرت ہو۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نشانی کو یعنی دنیا میں تب سے کشب رہی یا وہ کشتی رہ گئی جودی پہاڑ پر نظر آئی قرنوں تک اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھی۔ خلاصہ : یہ کہ کشتی چلانے کا دستور باقی رہا شاید اس سے پہلے کشتی کا دستور نہ تھا یا یہ کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کی کشی کو محفوظ رکھا جیسا کہ آج کل بھی اخبارات میں اس کے تذکرے ہوتے رہتے ہیں اور شاید…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

ف 3۔ مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، اور چونکہ رسول اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تلازم ہے اس میں فکر باللہ بھی آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے اس کشتی کو ایک نشان بنا دیا اگر کوئی نصیحت ہاصل کرنے والا ہو ؟ 15 ؎ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کشتی کو ایک نشان بنا دیا کہ بعد میں آنے والے اگر عبرت حاصل کرنا چاہیں تو عبرت حاصل کریں۔ غور کرو کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک ہوئے لاکھوں سال گزر چکے لیکن آج تک ان کی اس داستان کو آنے والوں کے لئے تازہ رکھا گیا اور لوگ نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کو بتاتے آئے۔ ہم نے جتنی آسمان سے کتابیں نازل کیں ان میں اس کا تذکرہ کیا اگر آنے والے اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے کہ نافرمان قوموں کے ساتھ شروع سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا۔ لاریب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‌ (to board that [ ship ] which had planks and nails...54:13). The word alwah is the plural of lawh and it refers to a board or a plank. The word dusur is the plural of disar and it stands for nail. It also means a cord of fibres of the palm tree with which the planks of a ship are bound together.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

14 It may also mean: `We left this dreadful punishment as a sign of warning," but in our opinion the preferable meaning is that the Ark was left as a sign of warning. Its resting and existence on a high mountain continued to warn the later generations of the wrath of God for thousand of years and kept on reminding them how the people who had disobeyed God on this earth had met their down, and how the believers had been rescued from it. Imam Bukhari, Ibn Abi Hatim, 'Abdur Razzaq and Ibn Jarir have related traditions on the authority of Qatadah saying that at the time the Muslims conquered…

Read the full tafseer →