Al-Qamar 54:14

Al-Qamar · from ayah 14

54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا ۚ— جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ۟تَجۡرِىۡ بِاَعۡيُنِنَا‌ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Sailing under Our observation as reward for he who had been denied.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:14

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی نا قدری کی گئی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس (پیغمبر) کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہماری نگاہ کے روبرو بہتی اس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح علیہ السلام) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ یہ بدلہ اس شخص کی خاطر دیا گیا جس کا انکار کیا گیا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو چلتی رہی ہماری حفاظت میں۔ یہ ہم نے بدلہ لینے کے لیے کیا اس کا جس کی ناقدری کی گئی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو چل رہی تھی ہماری نگرانی میں اس شخص کے بدلے (اور اس کے انتقام) کے طور پر جس کی ناقدری کی گئی تھی

— مولانا اسحاق مدنی

جو ہماری نگرانی میں رواں تھی۔ (یہ سب) انتقام میں اس شخص کے تھا جس کا انکار کیا گیا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ یہ سب کچھ اس بندے کے انتقام کے لیے کیا گیا جس کو کافر مانتے نہ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

which sailed on under Our supervision: a reward for him who had been shown ingratitude.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

which sailed under Our Eyes, as a reward for the one who was rejected (by the infidels).

— Muhammad Taqi Usmani

which sailed under Our Eyes, as a reward for the one who was rejected (by the infidels).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Floating under Our Eyes, a reward for him who had been rejected!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That ran (upon the waters) in Our sight, as a reward for him who was rejected.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Sailing under Our observation as reward for he who had been denied.

— Saheeh International

which floated on the water before Our very eyes. The flood was a recompense for the deeds of the disbelievers.

— Muhammad Sarwar

Sailing, before Our eyes, a reward for him who was denied.

— Muhammad Habib Shakir

Moving forward under Our eyes: a requital for him who had been rejected.

— Abdul Majid Daryabadi

She floats under our eyes (and care): a recompense to one who had been rejected (with scorn)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَمَر 13 اصل الفاظ ہیں جَزَاءً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ، یعنی " یہ سب کچھ اس شخص کی خاطر بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کا کفر کیا گیا تھا۔ " کفر اگر انکار کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ " جس کی بات ماننے سے انکار کیا گیا تھا " اور اگر اسے کفران نعمت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ " جس کا وجود ایک نعمت تھا مگر اس کی ناقدری کی گئی تھی "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ، الواح لوح کی جمع ہے بمعنی تختی، اور دسر، دسار کی جمع ہے، جس کے معنی میخ اور مسمار کے بھی آتے ہیں اور اس ڈورے یا تار کو بھی کہا جاتا ہے جس سے کشتی کے تختے جوڑے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(تجری باعینتا جزاء لمن کان کفر (14) یعنی یہ کشتی چونکہ خاص ہماری حفاظت اور ہماری نگرانی میں تھی اس وجہ سے وہ بےخوف و خطر چلتی رہی، طوفان کے تھپیڑے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کشتی اکیلے حضرت نوح ؑ کے پاس ہی تو نہیں تھی۔ دوسروں کے پاس بھی کشیاں رہی ہوں گی۔ لیکن ان کی کشتیاں ان کے کچھ کام نہ آسکیں اس لئے کہ ان کو خدا کی حفاظت حاصل نہیں تھی۔ (جزاء لمن کان کفر) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ شان اپنی اس لیے دکھائی کہ اپنے اس بندے کی داد رسی فرمائے جس کی نا شکری اور ناقدری کی گئی، یہاں تک کہ اس کو مضطر ہو کہ (انی مغلوب فانتصر) (10) کی فریاد کرنی پڑی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–14

11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جزاء لمن کان کفر ” اس شخص کے بدلہ کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی “ اس کی دعوت کا انکار کیا گیا بلکہ الصا اس کو جھڑکیاں دی گئی۔ ان لوگوں نے نبی پر مظالم ڈھائے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ انہوں نے نبی کے ساتھ مذاق کیا۔ اللہ نے اسے یہ اعزاز دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جس شخص کو اللہ کی راہ میں بےبس کردیا جائے اس کی حمایت میں اللہ کی قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور جو شخص اپنا کام پورا کرکے اور اپنی پوری قوت لگا کر جب معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہے تو پھر اللہ کس طرح بدلہ لیتا ہے۔ اس کائنات کی پوری قوتیں اس کی نصرت میں اٹھ جاتی ہیں اور ان قوتوں کی پشت پر اللہ اپنی قدرت اور جبروت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس ہولناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

11 یعنی اس ہولناک طوفان کے وقت نوح کی کشتی ہماری حفاظت اور نگرانی میں نہایت امن چین سے چلی جا رہی تھی۔ 12 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےقدری کی اور اللہ کی باتوں کا انکار کیا، یہ اس کی سزا ملی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا } ”جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔“ وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔ { جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ۔ } ”یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔“ یوں ہم نے اپنے بندے نوح علیہ السلام کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 طوفان میں کشتی کا منظر :۔ جوں جوں پانی کی سطح بلند ہوتی جاتی تھی یہ کشتی خود بخود اوپر اٹھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ پہاڑ تک پانی میں غرق ہوگئے۔ اس وقت سیدنا نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے کس طرف کشتی کا رخ موڑنا ہے اور ہماری منزل کون سی ہے وہ بھی اللہ کے سہارے اس کشتی میں جانیں محفوظ کیے بیٹھے تھے اس کے علاوہ انہیں کچھ علم نہ تھا اور نیچے پانی کا سمندر بن گیا تھا۔ اللہ ہی اس کشتی کی حفاظت اور نگرانی فرما رہا تھا اور اس کے حکم سے یہ کشتی اپنا رخ بدلتی تھی۔ 15 اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

10۔ اور اس اس لئے ہر قسم کے گزندوآفت سے معجزانہ طور پر محفوظ تھی) (آیت) ” حملنہ “۔ کشتی میں حضرت نوح کے ساتھ ساتھ ان کے متبعین مومنین بھی سوار تھے۔ (آیت) ’ ذات الواح ودسر “۔ آہنی آلات سے چرے ہوئے چوبیں تختے اور لوہے کی بنی ہوئی ڈھلی ہوئی کیلیں اور باقاعدہ کشتی سازی یہ سب شہادتیں ہیں اس امر کی کہ قوم نوح ایک اچھی مہذب ومتمدن قوم تھی ، 11۔ (اور جس کے لائے ہوئے پیام کو جھٹلایا گیا تھا) اس پیام کا جزء اعظم توحید تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولین کی طرف سے بھی انتقام لے لیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تجری باعیننا جزاء لمن کان کفر . جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کی بےقدری کی گئی تھی۔ جَزَآءً : ہر نبی اپنی امت کے لیے اللہ کی رحمت اور نعمت ہوتا ہے۔ نوح بھی اپنی قوم کے لیے اللہ کی نعمت تھے لیکن اس نعمت کا قوم کی طرف سے کفران کیا گیا۔ پس اس نعمت کی (جو بصورت نوح اللہ نے عطا کی تھی) ناشکری کی وجہ سے اللہ نے قوم کو طوفان میں غرق کردیا اور نوح کو کشتی پر سوار کر کے بچا لیا۔ بعض اہل تفسیر نے مَنْ کو بمعنی مَا قرار ردیا ہے اور مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی پاداش میں قوم نوح کو ہم نے غرق کردیا یا یہ مطلب ہے کہ نوح اور ان کی امت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

(13۔ 16) اور ہم نے نوح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے۔ تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی سوار کیا اور ہم نے یہ سب نوح کا بدلہ لینے کے لیے کیا جن کی انہوں نے قدر نہ کی اور ہم نے نوح کے بعد ان کی کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے رہنے دیا کہ اس کشتی کے واقعہ سے نصیحت حاصل کریں سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے جو قوم نوح کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔ سو آپ غور تو فرمایے کہ میرا عذاب ان لوگوں پر اور میرا ان کو ڈرانا یعنی جبکہ نوح نے ان کو ڈرایا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے کیسا ہواْ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ تجری باعینا : جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہوگیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے ، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی ، اس کے نگران و محافظ ہم تھے ، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔ 2۔ جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ : اس کے دو مطلب ہیں ، ایک یہ کہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جزآء لمن کان کفر۔ یعنی ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے صبر کی جزا بنا دیا جو انہوں نے اپنی قوم کی اذدیتوں پر کیا تھا۔ لمن میں لام مفعول کا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : کفر کا معنی ہے انکار کیا گیا۔ من یہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کنایہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کنایہ ہے اور جزا عقاب کے معنی میں ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کا جو انکار کیا ہے اس کی جزا ہے۔ یزید بن رومان، قتادہ مجاہد اور حمید نے کہا : جزاء لمن کان کفر یعنی کاف اور فاء مفتوح ہیں معنی ہے غرق اللہ تعالیٰ کے انکار کی جزا اور عقاب تھی۔ عوج بن عنق کے علاوہ کوئی بھی غرق ہونے سے نجات پانے والا نہ ہوا۔ پانی اس کے نیفہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–16

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَجْرِيْ [ وہ چلتی تھی ] بِاَعْيُنِنَا ۚ [ ہماری آنکھوں کے سامنے ] جَزَاۗءً [ بدلہ ہوتے ہوئے ] لِّمَنْ [ اس کے لیے جس کا ] كَانَ كُفِرَ [ انکار کیا جاتا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–14

سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

9:۔ ” وحملناہ “ دسر، دسار کی جمع ہے یعنی میخیں، تختوں اور میخوں والی سے مراد کشتی ہے جو لکڑی کے تختوں کو میخوں سے باہر جوڑ کر تیار کی گئی تھی۔ باعیننا ہماری آنکھوں کے سامنے یعنی ہماری حفاظت اور نگرانی میں (بیضاوی، مدارک) ۔ نوح اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو ہم نے کشتی میں سوار کردیا جو ہماری حفاظت اور نگرانی میں چل رہی تھی، اس طرح ان کو طوفان سے محفوظ رکھا اور تمام مشرکین کو غرق کردیا یہ ہم نے ان سے اس شخص کا انتقام لیا جس کی انہوں نے ناشکری کی تھی۔ اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کے لیے اللہ کی نعمت ہوتا ہے جس کی قدر دانی یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور اسکی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا۝ 0 ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ۝ 14 جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ ۔ تَجْرِیْ بِاَعْیُـنِنَا ج جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ۔ (القمر : 13، 14) (اور ہم نے نوح کو ایک تختوں والی اور میخوں والی پر سوار کردیا۔ جو ہماری حفاظت میں چل رہی تھی، یہ ہم نے اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ ) ایسے طوفان کے سامنے کسی کے کھڑے ہونے یا بچنے کا کیا سوال تھا، انسان ہی نہیں ہر چیز غرقاب ہو کر رہ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ عذاب کی صورت میں پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا جاتا۔ چناچہ اسی کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس کشتی پر سوار ہونے کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 14: تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا (وہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ ) نمبر 1۔ ہماری نگرانی میں۔ نمبر 2۔ ہماری حفاظت میں۔ نحو : باعیننا یہ تجری کی ضمیر سے حال ہے۔ ای محفوظۃً بنا۔ اس حال میں کہ وہ ہماری حفاظت میں تھی۔ جَزَآئً (بدلہ لینے کیلئے۔ ) نحو : یہ ماقبل فتح ابواب السماء وغیرہ کیلئے مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ بدلہ لینے کیلئے کیا۔ لِمَنْ کَانَ کُفِرَ (جس کی ناقدری کی گئی تھی) ۔ من سے نوح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کو مکفور قرار دیا کیونکہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی نعمت و رحمت ہے۔ ارشاد فرمایا۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ] الانبیاء۔ 107[ پس نوح (علیہ السلام) وہ نعمت ہوئے جس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” وحملناہ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کو ” علی ذات الواح ودسر “ یعنی تختوں والی کشتی پر صفت کو ذکر کیا گیا ہے اور نام کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ الواح سے کشتی کے چوڑے پھٹے مراد ہیں۔ ” ودسر “ میخیں جن کے ذریعے تختے جوڑے جاتے ہیں۔ اس کا واحد دسار اور دسیر ہے۔ کہا جاتا ہے ” دسرت السفینۃ “ جب تو اس کو میخوں سے مضبوط جوڑ دے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” الدسر “ کشتی کا سینہ، اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے سینہ (اگلے حصہ) سے پانی کو ہٹاتی ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ کشتی کی چوڑائیاں ہیں اور کہا گیا ہے اس کی پسلیاں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں الواح اس کی دونوں جانب ہیں اور الدسر اس کی جڑ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ ) یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ پانی پر چل رہی تھی جن کو حضرت نوح نے اپنے ساتھ اس میں سوار کیا تھا یہ اللہ کی نگرای ڈوبنے سے اس کی حفاظت اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کارساز ہے۔ (جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ) یعنی ہم نے نوح کو غرق عام سے بچایا اس جزا کے طور پر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا دیا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا نہ آپ کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 21] اللہ کے بندوں کا انتقام خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے : سو قوم نوح کی غرقابی کے ان اسباب و ذرائع کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے اس بندے کی دادرسی کیلئے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دادرسی کیلئے جن کو اور ان کے پیغام کو جھٹلایا گیا تھا، اور ان کی ناشکری اور بےقدری کی گئی تھی، کہ پیغمبر کا وجود مینارہ رشدو ہدایت اور اللہ پاک کی ایک عظیم الشان نعمت اور باعث رحمت ہوتا ہے، اس صورت میں کفر کا لفظ یہاں پر کفران نعمت کے معنی میں ہوگا، [ روح، صفوۃ وغیرہ ] اور کفر بمعنی تکذیب و انکار بھی ہوسکتا ہے، کہ آنجناب کو ان کی قوم کی طرف سے جھٹلایا گیا تھا، اور ان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 8 یعنی جس کی رسالت ان کے لئے ایک نعمت تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی۔ مراد حضرت نوح ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:14) تجری : مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی تیز گزرنا۔ پانی کی طرح بہنا۔ اس کا فاعل کشتی ہے (ذات الواح) ۔ یعنی جو چلتی ہے۔ یہ بہتی ہے۔ جو جاری ہے۔ باعیننا : ای بحفظنا۔ ہماری نظروں کے سامنے، ہماری حفاظت میں ۔ ضمیر تجری سے حال ہے۔ جزاء لمن کان کفر : ای فعلنا ذلک جزاء لنوح لانہ نعمۃ کفروھا فان کل نبی نعمۃ من اللہ (بیضاوی) ہم نے یہ اس شخص کا بدلہ لینے کے لئے کیا جو ایک نعمت تھا جس نعمت کی بےقدری کی گئی ۔ کیونکہ ہر نبی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہوتا ہے۔ (حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کے لئے اللہ کی نعمت تھے لیکن اس نعمت کا قوم کی طرف سے کفران کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–16

ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) وہ کشتی ہماری حفاظت و نگرانی میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کے لئے کیا گیا جس کی بےقدری کی گئی تھی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ تجری باعیننا کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حفاظت میں جاری تھی گویا کشتی بنی بھی حضرت حق کی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا واصنح الفلک باعیننا اور چلتی بھی رہی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا تجری بایننا یہاں ایک اور بات کا بھی اظہار فرمایا جزآء ملن کان کفر یعنی یہ طوفان کا آنا نور قوم نوح (علیہ السلام) کا غرق کرنا یہ سب اس شخص کی ناقدری حق ناشناسی اور بےقدری کا بدلا تھا جس کی قدر نہ پہچانی اور اس کی بےقدری اور اس کا انکار کیا گیا۔ یعنی حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

ف 3۔ مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، اور چونکہ رسول اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تلازم ہے اس میں فکر باللہ بھی آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی جاتی تھی یعنی ہماری حفاظت میں تھی 14 ؎ کشتی ہماری آنکھوں سے چلتی تھی کا مطلب بالکل صاف ہے یعنی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی لیکن نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ سمجھا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے کشتی جونہی کسی پہاڑ سے ٹکرائے گی تو پاش پاش ہوجائے گی اس لئے قوم کے لوگوں میں سے کوئی شخص بھی کشتی کی طرف نہ بڑھا بلکہ نوح (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹے کو آواز دی تو آپ کا بیٹا بھی کشتی میں سوار ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس قدر بیوقوف اور جاہل تھے کہ جب پانی کا نام و نان بھی موجود نہین تھا تو نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‌ (to board that [ ship ] which had planks and nails...54:13). The word alwah is the plural of lawh and it refers to a board or a plank. The word dusur is the plural of disar and it stands for nail. It also means a cord of fibres of the palm tree with which the planks of a ship are bound together.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 Literally: "This was a vengeance for the sake of him whose kufr had been committed." If kufr be taken in the sense of denial, it would mean: "Whose message had been denied and rejected; " and if it is taken in the meaning of ingratitude for a blessing, it would mean: 'Who was indeed a blessing for the people, but had been ungratefully rejected.'

Read the full tafseer →