Al-Qamar 54:13

Al-Qamar · from ayah 13

54:13

وَحَمَلْنٰهُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ۟ۙوَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍۙ

اور ہم نے نوحؑ کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We carried him on a [construction of] planks and nails,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:13

اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے نوحؑ کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر کہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح علیہ السلام کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو ایک تختوں اور میخوں والی پر اٹھا لیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی (اس کشتی) پر

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے نوح ؑ کو سوار کردیا تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے سوار کردیا اس (کشتی) پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We bore Noah on the vessel built of planks and nails,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We caused him (NuH) to board that (ship) which had planks and nails,

— Muhammad Taqi Usmani

And We caused him (NuH) to board that (ship) which had planks and nails,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We carried him upon a thing of planks and nails,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We carried him on a [construction of] planks and nails,

— Saheeh International

We carried him, (Noah), on a vessel built with boards fixed together with nails,

— Muhammad Sarwar

And We bore him on that which was made of planks and nails

— Muhammad Habib Shakir

And We bare him on a thing of planks and nails.

— Abdul Majid Daryabadi

But We bore him on an (Ark) made of broad planks and caulked with palm-fibre:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَمَر 12 مراد ہے وہ کشتی جو طوفان کی آمد سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق حضرت نوح نے بنا لی تھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ، الواح لوح کی جمع ہے بمعنی تختی، اور دسر، دسار کی جمع ہے، جس کے معنی میخ اور مسمار کے بھی آتے ہیں اور اس ڈورے یا تار کو بھی کہا جاتا ہے جس سے کشتی کے تختے جوڑے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وحملنہ علی ذات الواح و رسر) (13) (اصل محافظ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے)۔ (ذات الواح ودسر) سے مراد ظاہر ہے کہ وہ کشتی ہے جو حضرت نوح ؑ نے، اللہ تعالیٰ کی خاص ہدایت کے تحت بنائی۔ اس کا ذکر اس کے اجزائے تعمیر کی تفصیل کے ساتھ یہاں، میرے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، عنایت، رحمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کی قوم کا بیڑا غرق کردیا۔ جس سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا چاہا ان کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بچا لیا۔ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے، وہ شامل حال ہو تو لکڑی کے چند تختے طوفان نوح سے بچا لیتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–14

11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وحملنہ ............ کفر ” اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کردیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی۔ “ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی کشتی تھی۔ یہ تختوں اور میخوں والی تھی۔ کشتی کی صفات بیان کی گئی ہیں اور موصوف کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے پھر یہ کہا گیا کہ یہ کشتی اللہ کی نگرانی میں چلتی ہے۔ اس پر اللہ کی نظر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

11 یعنی اس ہولناک طوفان کے وقت نوح کی کشتی ہماری حفاظت اور نگرانی میں نہایت امن چین سے چلی جا رہی تھی۔ 12 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےقدری کی اور اللہ کی باتوں کا انکار کیا، یہ اس کی سزا ملی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے سوار کردیا اس کشتی پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 کشتی نوح اور قوم کا تمسخر :۔ طوفان سے پیشتر نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق لکڑی کے تختوں اور لوہے کے کیلوں کی مدد سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی تھی جسے دیکھ کر آپ کی قوم یوں مذاق اڑاتی تھی کہ ہم تو پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں تم اس جہاز کو چلاؤ گے کہاں ؟ یہاں نہ تو نزدیک کوئی دریا ہے اور نہ سمندر ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

10۔ اور اس اس لئے ہر قسم کے گزندوآفت سے معجزانہ طور پر محفوظ تھی) (آیت) ” حملنہ “۔ کشتی میں حضرت نوح کے ساتھ ساتھ ان کے متبعین مومنین بھی سوار تھے۔ (آیت) ’ ذات الواح ودسر “۔ آہنی آلات سے چرے ہوئے چوبیں تختے اور لوہے کی بنی ہوئی ڈھلی ہوئی کیلیں اور باقاعدہ کشتی سازی یہ سب شہادتیں ہیں اس امر کی کہ قوم نوح ایک اچھی مہذب ومتمدن قوم تھی ، 11۔ (اور جس کے لائے ہوئے پیام کو جھٹلایا گیا تھا) اس پیام کا جزء اعظم توحید تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولین کی طرف سے بھی انتقام لے لیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحملنہ علی ذات الواح و دسر اور ہم نے نوح کو ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کر دیا وَحَمَلْنٰہُ عَلٰی ... یعنی نوح کو ہم نے ایک کشتی میں سوار کردیا جس میں تختے اور میخیں (کیلیں) ٹھوک دی گئی تھیں اور کشتی ہماری نگرانی یعنی حفاظت میں چلنے لگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

(13۔ 16) اور ہم نے نوح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے۔ تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی سوار کیا اور ہم نے یہ سب نوح کا بدلہ لینے کے لیے کیا جن کی انہوں نے قدر نہ کی اور ہم نے نوح کے بعد ان کی کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے رہنے دیا کہ اس کشتی کے واقعہ سے نصیحت حاصل کریں سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے جو قوم نوح کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔ سو آپ غور تو فرمایے کہ میرا عذاب ان لوگوں پر اور میرا ان کو ڈرانا یعنی جبکہ نوح نے ان کو ڈرایا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے کیسا ہواْ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَ حَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ :”الواح“ ”لوح“ کی جمع ہے ، لکڑ ی وغیرہ کے تختے۔ ’ دسر“ ”’ سار“ کی جمع ہے ، جیسے ”کتاب“ کی جمع ”کتب“ ہے۔ کیل یا میخیں خواہ لکڑی کی ہوں یا لوہے وغیرہ کی ، جن کے ساتھ تختے جوڑے جاتے ہیں۔ مراد کشتی ہے جو نوح ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طوفان آنے سے پہلے تیار کرلی تھی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (37 تا 41) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وحملنہ علی ذات الواح یعنی ایسی کشتی پر جو تختوں والی تھی۔ ودسر۔ قتادہ نے کہا : مراد ایسے کیل ہیں جن کے ساتھ کشتی کو باندھ گیا، یہ قول قرظی، ابن زید اور ابن جبیر نے کیا، والبی نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ حسن بصری، شہر بن حوشب اور عکرمہ نے کہا : یہ کشتی کا اگلا حصہ ہوتا ہے جس کے ساتھ موج ٹکراتی ہے۔ اسے دسر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ پانی کو دھکیلتی ہے۔ دسر کا معنی دھکیلنا ہے۔ عوفی نے اسے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے دسر سے مراد کشتی کا سینہ ہے۔ لیث نے کہا : دسار چھال کا ایسا رسا ہے جس کے ساتھ کشتی کے تختوں کو باندھا جاتا ہے۔ صحاح میں ہے : دساریہ دسر کا واحد ہے : اس سے مراد کیل ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–16

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَحَمَلْنٰهُ [ اور ہم نے سوار کیا ان کو ] عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ [ ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی ) پر ] د س ر : دسرا ۔ نیزہ مارنا ۔ زور سے گھسانا ۔ کیل ٹھونکنا ۔ دسار ۔ ج : دسر میخ ۔ کیل ۔ زیر مطالہ آیت نمبر ۔ 13 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–14

سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

9:۔ ” وحملناہ “ دسر، دسار کی جمع ہے یعنی میخیں، تختوں اور میخوں والی سے مراد کشتی ہے جو لکڑی کے تختوں کو میخوں سے باہر جوڑ کر تیار کی گئی تھی۔ باعیننا ہماری آنکھوں کے سامنے یعنی ہماری حفاظت اور نگرانی میں (بیضاوی، مدارک) ۔ نوح اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو ہم نے کشتی میں سوار کردیا جو ہماری حفاظت اور نگرانی میں چل رہی تھی، اس طرح ان کو طوفان سے محفوظ رکھا اور تمام مشرکین کو غرق کردیا یہ ہم نے ان سے اس شخص کا انتقام لیا جس کی انہوں نے ناشکری کی تھی۔ اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کے لیے اللہ کی نعمت ہوتا ہے جس کی قدر دانی یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور اسکی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحَمَلْنٰہُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ۝ 13 ۙ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ ۔ تَجْرِیْ بِاَعْیُـنِنَا ج جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ۔ (القمر : 13، 14) (اور ہم نے نوح کو ایک تختوں والی اور میخوں والی پر سوار کردیا۔ جو ہماری حفاظت میں چل رہی تھی، یہ ہم نے اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ ) ایسے طوفان کے سامنے کسی کے کھڑے ہونے یا بچنے کا کیا سوال تھا، انسان ہی نہیں ہر چیز غرقاب ہو کر رہ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ عذاب کی صورت میں پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا جاتا۔ چناچہ اسی کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس کشتی پر سوار ہونے کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 13: وَحَمَلْنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وُّدُسُرٍ (اور ہم نے لوح کو ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا۔ ) اس سے مراد کشتی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جو موصوف کے قائم مقام ہیں اور آسکتی ہیں۔ اور اس کا نائب بن سکتی ہیں کہ اس میں اور اس میں کوئی بھی فاصلہ نہیں جیسے شاعر کا قول ہے۔ ولکن قمیصی مسرودۃ من حدید۔ مراد شاعر کی یہ ہے لکن قمیصی درع۔ آیت میں غور کرو کہ اگر تم کشتی اور الواح وکیل جمع کرو تو یہ صحیح نہیں۔ (اصل و نائب جمع نہیں ہوتے) یہ فصیح وبدیع کلام ہے۔ الدسر جمع دسار کی ہے اور وہ کیل کو کہتے ہیں۔ مسمار بروزن فعال۔ یہ دسرہٗ سے لیا گیا جس کا معنی دھکیلنا ہے۔ کیونکہ کیل سے اس کے سوراخوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” وفجرنا الارض عیونا فالتقی المآئ “ یعنی آسمان اور زمین کا پانی اور ” التقی المائ “ کہا ہے اور ” التقائ “ ایک سے نہیں ہوتا دو یا زائد سے ہوتا ہے اس لئے کہ الماء جمع اور واحد ہوتا ہے اور عاصم الجحدری (رح) نے ” فالتقی الما آن “ پڑھا ہے۔ ” علی امر قد قدر “ یعنی ان پر فیصلہ کیا گیا ام الکتاب میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا کہ دونوں پانی برابر ہوجائیں تو وہ دونوں اس تقدیر پر ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ) یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر (اس طوفان سے) نجات دی جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 20] حضرت نوح (علیہ السلام) کیلئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نوح کو سوار کردیا کچھ تختوں اور میخوں کی اس کشتی پر جو چل رہی تھی ہماری حفاظت و نگرانی میں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنھا اٰیۃ للعلمین } [ العنکبوت : 15 پ 20] مگر یہاں اس کو سفینہ کے مختصر لفظ کی بجائے " ذات الواح ودسر " کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، جس میں یہ درس ہے کہ بچانے والی ذات دراصل اللہ پاک ہی کی ذات ہے، ورنہ وہ کشتی تو محض ایک مجموعہ تھا لکڑی کے کچھ بےجان پھٹوں اور لوہے کی کیلوں کا، البتہ اللہ پاک اس جہاں میں جو کچھ کرتا ہے وہ اسباب کے ذریعے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 8 یعنی جس کی رسالت ان کے لئے ایک نعمت تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی۔ مراد حضرت نوح ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:13) حملتہ : ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر کا مرجع حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ حمل (باب ضرب) مصدر۔ لادنا۔ چڑھانا۔ ہم نے اس کو چڑھا لیا۔ ہم نے اس کو سوار کرلیا۔ علی ذات الواح ودسر : الواح جمع لوح کی۔ بمعنی تختی۔ مضاف الیہ ، ذات مضاف۔ ذات الواح تختوں والی۔ تختوں سے بنائی ہوئی۔ دسر : دسار کی جمع، میخیں۔ اور میخوں سے بنی ہوئی ۔ یعنی ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک تختوں اور میخوں سے بنی ہوئی (کشتی) پر سوار کردیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–16

ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اور ہوم نے اس نوح (علیہ السلام) کو تختوں والی اور کیلوں والی ایک کشتی پر سوار کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

ف 2۔ مراد اس کام سے ہلاکت ہے کفار کی یعنی دونوں پانی مل کر طوفات بڑھا جس میں سب غرق ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی کشتی میں سوار کر دیا 13 ؎ نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر سوار ہونے کا حکم ملا تو آپ اپنے لوگوں کو لے کر کشتی میں سوار ہوگئے اور کشتی کے ذکر میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بہت لمبے لمبے لکری کے تختوں سے بنائی گئی تھی اور میخوں سے ان تختوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا تھا۔ جب پانی چڑھنا شروع ہوگیا تو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس وقت بھی نوح کی کشتی میں سوار ہونے کی کیوں کوشش نہ کی ؟ اس لئے کہ وہ آپ کی مکالفت میں اس طرح اندھے ہوچکے تھے کہ ہر وہ کام کرنے کو تیار نہ تھے جو نوح (علیہ السلام) ان کو کرنے کا حکم دیتے اور آج بھی مخالفت برائے مخالف کرنے والے یہی کچھ کرتے نظر آتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‌ (to board that [ ship ] which had planks and nails...54:13). The word alwah is the plural of lawh and it refers to a board or a plank. The word dusur is the plural of disar and it stands for nail. It also means a cord of fibres of the palm tree with which the planks of a ship are bound together.

Read the full tafseer →