Explained with ayahs 9–17
دیرینہ انداز کفر
یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…
Read the full tafseer →سورة الْقَمَر 11
یعنی اللہ کے حکم سے زمین اس طرح پھوٹ بہی کہ گویا وہ زمین نہ تھی بلکہ بس چشمے ہی چشمے تھے۔
Read the full tafseer →فَالْتَقَى الْمَاۗءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ، یعنی زمین سے ابلنے والا پانی اور آسمان سے برسنے والا پانی دونوں اس انداز پر مل گئے جس سے اللہ تعالیٰ کا مقدر کیا ہوا فیصلہ کہ پوری قوم غرق ہوجائے نافذ ہوگیا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں تک بھی کسی کو پناہ نہ ملی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
نفتحنا ابواب السماء بما منھمرہ و فجرنا الارض عیونا فالتقی مالماء علی امر قد قدرا (11۔ 12) (یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعا کے بعد انکی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورة ذرایا کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کردیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی ظوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریائوں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔ (فالتقی الماء علی امر قد قدر) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان پانی کے بلند ہونے کے لیے ٹھہرا لیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
5: یعنی ایک تو آسمان سے موسلا دھار پانی برسا، اور دوسرے زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا، دونوں طرح کے یہ پانی مل گئے اور ان سے وہ طوفان آگیا جس میں اس قوم کی تباہی مقدس تھی۔ اس کی پوری تفصیل سورة ہود : 40 اور سورة مومنین : 27 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →وفجرنا الارض عیونا (54:12) ” اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ “ زمین کو پھاڑنے اور چشموں کے پھوٹنے کا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گوہر جگہ سے فوارے چھوٹ گئے۔ ہر طرف چشمے ہی چشمے نظر آنے لگے۔
اب زور زور سے آسمانوں سے گرنے والا پانی ، اور زمین سے ابلنے والا پانی آپس میں مل گئے۔
فالتقی ............ قدقدر (54:12) ” اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا “ یعنی دونوں کا کام یہ تھا کہ طے شدہ کام کو پورا کرلیا جائے۔ دونوں پانی دست قدرت کے تحت کام کررہے تھے۔
اس پانی نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ زمین کو ڈھانپ لیا گیا اور زمین پر انسانوں کی شکل میں جو گندگی تھی اسے صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
10 یعنی پانی اس قدر ٹوٹ کر برسا، گویا آسمان کے دہانے کھل گئے اور نیچے سے زمین کے پردے پھٹ پڑے۔ اتنا پانی ابلا گویا ساری زمین چشموں کا مجموعہ بن کر رہ گئی۔ پھر اوپر اور نیچے کا یہ سب پانی مل کر اس کام کے لیے اکٹھا ہوگیا۔ جو پہلے سے اللہ کے ہاں ٹھہر چکا۔ یعنی قوم نوح کی ہلاکت اور غرقابی۔
Read the full tafseer →آیت 12 { وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا } ”اور ہم نے زمین کو پھاڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا“
اس وقت اس علاقے کی صورت حال یوں تھی کہ آسمان سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین سے جابجا چشمے اس طرح پھوٹ رہے تھے کہ زمین گویا چشموں میں تبدیل ہوگئی تھی۔
{ فَالْـتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔ } ”تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔“
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نافرمان قوم کو غرق کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق آسمان سے برسنے والے اور زمین سے پھوٹنے والے پانی نے مل کر ایک خوفناک سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔
Read the full tafseer →12 طوفان نوح کا منظر :۔ اوپر آسمان سے موسلا دھار، متواتر اور لگاتار بارش ہونے لگی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان نے اپنے دہانے کھول دیئے ہیں۔ نیچے زمین سے پہلے تنور سے پانی نکلنا شروع ہوا۔ پھر بیشمار چشمے پھوٹ پڑے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ساری زمین چشمے ہی چشمے بن گئی ہے۔ جدھر دیکھو پانی کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ یہ عمل متواتر چھ ماہ جاری رہا اور پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ چھوٹے موٹے پہاڑ تک پانی میں ڈوب گئے اور پانی اس سطح تک پہنچ گیا جتنا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9۔ اور وہ امر مقدر یا تجویز شدہ کیا تھا ؟ منکروں، سرکش منکروں کی غرقابی ، (آیت) ” ففتحنا ........ منھمر “۔ یعنی اوپر آسمان سے بھی بارش ہوئی۔ (آیت) ” وفجرنا الارض عیونا “۔ یعنی ادھر زمین کے بھی ہوتے ابل پڑے۔ (آیت) ” فالتقی ..... قدر “۔ غرض یہ کہ اوپر کے پانی اور نیچے کے پانی دونوں نے مل ملا کر خدائی منصوبہ کی تکمیل کردی۔ قصہ طوفان نوح پر مفصل حاشیے سورة ہود (پ 12) میں گزرچکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →وفجرنا الارض عیونا فالتقی الماء علی امر قد قدر .
اور زمین سے چشمے جاری کردیئے پھر (آسمان و زمین کا) پانی اس کام کے پورا ہونے کے لیے مل گیا جو (علم الٰہی میں) تجویز ہوچکا تھا۔ “
وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا : یعنی ہم نے زمین کو چشمے ہی چشمے بنا دیا (اتنے چشمے زمین سے برآمد کردیئے کہ پوری زمین چشمہ ہی ہوگئی) ۔
فَاَلْتَقَی الْمَآءَ : یعنی آسمان اور زمین کا پانی آپس میں مل گیا۔ الماء کا اطلاق ایک پانی پر بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ پر بھی۔ اس جگہ یہی مؤخر معنی مراد ہے۔
عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ : یعنی اس امر کے مطابق جو اللہ نے ازل میں مقدر کردیا تھا اور لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا یا قُدِرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) سو ہم نے آسمان سے زمین پر کثرت سے برسنے والے پانی کے چالیس روز تک آسمان کے دروازے کھول دیے اور چالیس روز تک زمین سے چشمے جاری کردیے، سو آسمان اور زمین کا پانی اس مقدار پر جو ہم نے آسمان اور زمین کے پانی کی متعین کی تھی مل گیا یا یہ کہ اس کام کے پورا ہونے کے لیے جو تجویز ہوچکا تھا یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے لیے مل گیا۔
Read the full tafseer →1۔ وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا : یعنی ہم نے زمین کو پانی کے ساتھ اس طرح پھاڑا کہ وہ ساری کی ساری چشمے بن گئی۔
2۔ فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ : یعنی زمین اور آسمان کا پانی مل کر ایک ہوگیا ، اس کام کے لیے جو طے کردیا گیا تھا۔ مراد قوم نوح کی ہلاکت ہے۔
Read the full tafseer →وفجرنا الارض عیوناً عبید بن عمیر نے کہا : اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی کی کہ وہ پانی نکالے تو وہ چشموں کے ساتھ کھل گئی ایک چشمہ نے تاخیر کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوا تو اس کا پانی قیامت تک شدید کڑوا بنا دیا گیا۔
فالتقی المآء یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی مل گئے۔ علی امر قد قدر۔ ایک مقدار پر ان میں سے ایک دوسرے پر زائد نہیں (3) ، اسے ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے یعنی آسمان و زمین کا پانی برابر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہغے : قدر کا معنی ہے ان پر فیصلہ کردیا گیا۔ قتادہ نے کہا، جب انہوں نے کفر کیا تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں غرق کردیا جائے۔ محمد بن کعب نے کہا روزی جسموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔
2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔
3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…
Read the full tafseer →وَّفَجَّــرْنَا [ اور ہم نے پھاڑ کر بہایا ] الْاَرْضَ [زمین کو ] عُيُوْنًا [ بطور چشموں کے ] فَالْتَقَى الْمَاۗءُ [ پھر مل گیا وہ پانی ] عَلٰٓي اَمْرٍ [ ایک ایسے معاملہ پر جو ] قَدْ قُدِرَ [ اندازہ (مقرر) کیا جاچکا تھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب
اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8:۔ ” فدعا ربہ “ جب نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے مایوس ہوگئے تو اللہ سے دعا کی کہ میں ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے مغلوب ہوچکا ہوں اور اب وہ ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے اب ان کو ہلاک کردے اور ان سے انتقام لے لے، کیونکہ میں تو ان سے انتقام نہیں لے سکتے۔ ففتحنا ابواب السماء الخ تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور پرنالوں کی طرح آسمان سے پانی بہنے لگا۔ آسمان کے دروازے کھولنا کثرت بارش سے کنایہ ہے۔ اور زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے۔ فالتقی الماء الخ۔ زمین و آسمان کا پانی مل کر اس اندازے کو پہنچ گیا جو اللہ نے مقرر فرمایا تھا یعنی پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی جتنی اللہ کو منظور تھ۔ یا علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–22
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…
Read the full tafseer →وَّفَجَّــرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا فَالْتَقَى الْمَاۗءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ 12 ۚ
فجر
الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً
[ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فَفَتَحْنَـآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ ۔ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَـآئُ عَلٰٓی اَمْرٍقَدْ قُدِرَ ۔ (القمر : 11، 12)
(پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلادھار بارش سے کھول دیئے ہیں۔ اور زمین کو چشموں کی صورت میں پھاڑ دیا، پس پانی جا ٹکا اس نشان پر جو ٹھہرا لیا گیا تھا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور پروردگار نے اس طرح ان کی قوم سے انتقام لیا کہ ایسی موسلادھار اور تیز بارش ہوئی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور زمین سے ہر طرف سے پانی ابلنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری زمین چشموں کی صورت اختیار کرگئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…
Read the full tafseer →آیت 12: وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا (اور زمین سے چشمے جاری کردیئے) ۔ ہم نے تمام زمین کو ایسا کردیا گویا اس سے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔
بلاغت : یہ جملہ اس سے زیادہ بلیغ ہے۔ و فجرنا عیون الارض۔ فَالْتَقَی الْمَآئُ (پھر پانی مل گیا۔ ) یعنی آسمان و زمین کا۔
قراءت : الماء ان بھی پڑھا گیا یعنی دو قسم کا پانی ارضی و سماوی۔
عَلٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ (اس کام کے پورا ہونے کے لئے جو تجویز ہوچکا تھا۔ ) تاکہ اسی حالت میں پورا ہو جس کے مطابق اس نے جیسا چاہاطے کیا۔ نمبر 2۔ اس کے مطابق جیسا لوح محفوظ میں مقدور ومندرج تھا کہ ایسا ہوگا۔ اور وہ قوم نوح کی طوفان سے ہلاکت مراد ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔” ففتحنا ابواب السماء بما منھمر “ تیزی سے بہایا جانے والا جو چالیس دن نہیں رکا اور ایمان (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان کو بند کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
تب اس موقع پر حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ) بیشک میں کمزور ہوں۔ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح کی قوم میں بہت تھوڑے سے اور چند لوگ ایمان لائے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ (فانتصر) اے اللہ میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت میں حضرت نوح نے دعامانگی (رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ نوح 26) ۔ اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمالی اور حضرت نوح کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا فرمایا (فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ 11ڮ) چناچہ ہم نے زور سے برسنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 19] حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء کی قبولیت اور قوم نوح کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کام ہم نے آسمان سے موسلا دھار بارش کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھوڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا۔ جس کے نتیجے میں پانی جاپہنچا۔ اس نشان پر جس کو اس مقصد کے لیے مقرر کرلیا گیا تھا یعنی ان بدبختوں کے آخری انجام اور ان کی ہلاکت و تباہی اور ان کی غرقابی کے لئے کہ ان کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی تھی، اور وہ اپنے کفر و انکار پر ایک ایسا ناسور بن چکے تھے جس کا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اب ضروری ہوگیا تھا والعیاذ باللّٰہ سو آسمان سے موسلا دھار بارش کے ساتھ اس کے تمام دروازے کھول دئیے گئے اور زمین کو پھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 6 یعنی انہیں ڈبونے اور ہلاک کرنے کے لئے
7 یعنی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا۔
Read the full tafseer →(54:12) وفجرنا الارض عیونا : واؤ عاطفہ فجرنا ماضی جمع متکلم۔ تفجیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی پھاڑنا۔ عیونا : تمیز۔ عیون عین کی جمع بمعنی چشمے۔ اور ہم نے زمین کو ازروئے چشموں کے جاری کردیا۔ یعنی ہم نے زمین کو چشمے ہی چشمے بنادیا۔
مطلب یہ کہ زمین سے اتنے چشمے پیدا کر دئیے کہ پوری زمین چشمہ ہوگئی۔
فالتقی المائ : التقی ماضی واحد مذکر غائب التقاء (افتعال) مصدر وہ مل گیا۔ وہ مقابل ہوا۔ اس کی مڈبھیڑ ہوئی۔
الماء سے مراد ماء السماء وماء الارض ہے آسمان کا پانی اور زمین کا پانی الماء کا اطلاق ایک پانی پر بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ پر بھی۔ یہاں دوسرا معنی معاد ہے۔ یعنی پھر دونوں پانی مل گئے۔
علی امر قد قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17
اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 17
اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[5] یعنی قوم نوح کی ہلاکت اور غرقابی کا کام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔
Read the full tafseer →(12) اور ہم نے زمین سے چشمے بہادیتے پھر دونوں جانب کا پانی مل کر اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ یعنی آسمان سے موسلادھار بارش ہوئی ادھر زمین سے چشمے ابلنے لگے اور زمین کو باعتبار چشموں کے پھاڑ دیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے پردے پھٹ گئے ہیں ادھر آسمان نہ رکتا تھا دونوں پانی مل کر اکٹھے ہوگئی اور جو کام علم الٰہی میں تجویز ہوچکا تھا وہ کام ہوگیا یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم ہلاک کردی گئی اور طوفان میں غرق ہوگئی مطلب یہ کہ پانی اس کام پر مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 2۔ مراد اس کام سے ہلاکت ہے کفار کی یعنی دونوں پانی مل کر طوفات بڑھا جس میں سب غرق ہوگئے۔
Read the full tafseer →زمین سے بھی چشمے ابلنے لگے اور جو کام مقرر ہوچکا تھا وہ معرض وجود میں آگیا
12 ؎ ادھر آسمان کو برسنے کا حکم ملا تو وہ مسلسل برس رہا تھا اور ادھر زمین کو حکم ملا کہ تو چشمے ابلنا سروع کر دے تو اس نے نیچے سے پانی اوپر کو نکالنا شروع کردیا اور نوح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے لوگ کشتی میں سوار ہوگئے اور اپنی ضرورت ہونے کے لئے پھر بھی تیار نہ کشتی میں رکھ لیں۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کے لئے پھر بھی تیار نہ ہوئے بلکہ مخالفت میں بڑھنے ہی چلے گئے تا آنکہ زمین سے ابلنے والا پانی اور آسمان سے برسنے والا پانی دونوں کو ملا کر رکھ…
Read the full tafseer →فالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ (so the water [ of both kinds ] met together for a destined event....54:12). In other words, the rain water pouring down from the skies in torrents and also bubbling water gushing forth from under the ground, caused the Deluge [ a huge flood ] which engulfed the entire land, and thus the Divine decree was fulfilled, destroying the people of Nuh (علیہ السلام) to the last man, and even the peaks of the mountains could not give them any shelter.
Read the full tafseer →11 That is, the earth so burst forth with springs at the Command of AIIah that it was no longer earth but presented a scene of the springs aII around.
Read the full tafseer →