Explained with ayahs 9–17
دیرینہ انداز کفر
یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
سورة الْقَمَر 9
یعنی اس خبر کو جھٹلا چکی ہے کہ آخرت برپا ہونی ہے جس میں انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس نبی کی نبوت کو جھٹلا چکی ہے جو اپنی قوم کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا، اور نبی کی اس تعلیم کو جھٹلا چکی ہے جو یہ بتاتی تھی کہ آخرت کی باز پرس میں کامیاب ہونے کے لیے لوگوں کو کیا عقیدہ اور کیا عمل اختیار کرنا چاہیے اور کس چیز سے بچنا چاہیے۔
سورة الْقَمَر 10
یعنی ان لوگوں نے محض نبی کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ الٹا اسے دیوانہ قرار دیا، اس کو دھمکیاں دیں، اس پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ کی، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر صداقت کی تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی، اور اس کا جینا دوبھر کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
خلاصہ تفسیر
ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ (خاص نوح ؑ کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ مجنون ہیں اور (محض اس قول بیہودہ ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان سے ایک بیہودہ فعل بھی سرزد ہوا یعنی) نوح ؑ کو (ان کی طرف سے) دھمکی (بھی) دی گئی (جس کا ذکر سورة شعراء میں ہے لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ) تو نوح ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (محض) درماندہ ہوں ، (ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا) سو آپ (ان سے) انتقام لے لیجئے (یعنی ان کو ہلاک کر دیجئے، کقولہ تعالیٰ (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) پس ہم نے کثرت سے برسنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
نفتحنا ابواب السماء بما منھمرہ و فجرنا الارض عیونا فالتقی مالماء علی امر قد قدرا (11۔ 12) (یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعا کے بعد انکی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورة ذرایا کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کردیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی ظوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریائوں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔ (فالتقی الماء علی امر قد قدر) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان پانی کے بلند ہونے کے لیے ٹھہرا لیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے
Read the full tafseer →ففتحنا ............ امر قدقدر (54:12) ” تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ “
یہ ایک عظیم کائناتی حرکت ہے جو بہت ہی بھرپور ہے لیکن اس عظیم کائناتی عمل اور حرکت کی تصویر چند الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ الفاظ بڑی خوبصورت سے چنے گئے ہیں اور اس پو رہے عمل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب عمل قدرت الٰہیہ کا ہے۔
ففتحنا ابواب السماء (54: 11) ” موسلادھار بارش سے “ یعنی ایسی بارش جس میں پانی بہت برس رہا ہو۔ اسی قوت اور اسی حرکت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
10 یعنی پانی اس قدر ٹوٹ کر برسا، گویا آسمان کے دہانے کھل گئے اور نیچے سے زمین کے پردے پھٹ پڑے۔ اتنا پانی ابلا گویا ساری زمین چشموں کا مجموعہ بن کر رہ گئی۔ پھر اوپر اور نیچے کا یہ سب پانی مل کر اس کام کے لیے اکٹھا ہوگیا۔ جو پہلے سے اللہ کے ہاں ٹھہر چکا۔ یعنی قوم نوح کی ہلاکت اور غرقابی۔
Read the full tafseer →آیت 1 1 { فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ۔ } ”تو ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے اس پانی کے ساتھ جو مسلسل چھاجوں برستا رہا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
11 سینکڑوں برس اپنی قوم پر مغز کھپانے اور ان کی طرف سے ایذائیں اور جھڑکیاں برداشت کرنے کے بعد آپ نے اس وقت دعا کی کہ جب کسی شخص کے مزید ایمان لانے سے آپ قطعاً مایوس ہوگئے تھے۔ اور دعا یہ کی تھی کہ ہم پر جو ظلم و ستم یہ لوگ ڈھا چکے ہیں ہماری مدد فرما کر ان سے بدلہ لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9۔ اور وہ امر مقدر یا تجویز شدہ کیا تھا ؟ منکروں، سرکش منکروں کی غرقابی ، (آیت) ” ففتحنا ........ منھمر “۔ یعنی اوپر آسمان سے بھی بارش ہوئی۔ (آیت) ” وفجرنا الارض عیونا “۔ یعنی ادھر زمین کے بھی ہوتے ابل پڑے۔ (آیت) ” فالتقی ..... قدر “۔ غرض یہ کہ اوپر کے پانی اور نیچے کے پانی دونوں نے مل ملا کر خدائی منصوبہ کی تکمیل کردی۔ قصہ طوفان نوح پر مفصل حاشیے سورة ہود (پ 12) میں گزرچکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →ففتحنا ابواب السمآء بما منھمر
” سو ہم نے کثرت سے برسنے والے پانی سے آسمان کے دریچے کھول دیئے
مُّنْھَمِرٍ : سخت برسنے والا۔ چالیس روز تک مسلسل بارش ہوتی رہی ‘ کسی وقت منقطع نہیں ہوئی۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان کا خلاء پانی سے بھر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) سو ہم نے آسمان سے زمین پر کثرت سے برسنے والے پانی کے چالیس روز تک آسمان کے دروازے کھول دیے اور چالیس روز تک زمین سے چشمے جاری کردیے، سو آسمان اور زمین کا پانی اس مقدار پر جو ہم نے آسمان اور زمین کے پانی کی متعین کی تھی مل گیا یا یہ کہ اس کام کے پورا ہونے کے لیے جو تجویز ہوچکا تھا یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے لیے مل گیا۔
Read the full tafseer →فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ :”منھمر“ ”انھمر ینھمر“ (انفعال) سے اسم فاعل ہے ، شدت اور کثرت کے ساتھ گرنے والا پانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فدعا ربۃ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے خلاف بد دعا کی اور عرض کی : ابی مغلوب وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ فانتصر۔ میری مدد فرما۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انبیاء اپنی قوموں کے خلاف ہلاکت کی بد دعا نہیں کیا کرتے تھے مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ انہیں اجازت دیتا۔ ففتحنا ابواب السمآء یعنی ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا، ہم نے کشتی بنانے کا حکم دیا اور آسمان کے دروازے کھول دیئے اور ماء منھمر سے مراد زیادہ پانی ہے۔ شاعر نے کہا :
اعینی جو دا بالذموع الھوامر علی خیر باد من معذ و حاضر (1)
اے میری دونوں آنکھو ! کثیر آنسو بہائو معد میں سے ہلاک ہونے والوں اور ان میں سے موجود افراد میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔
2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔
3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…
Read the full tafseer →فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ [ تو ہم نے کھولے آسمان کے دروازے ] بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ [برسنے والے پانی کے ساتھ ]
ھ م ر : (ن) ھمرا پانی گرانا ۔ (انفعال ) انھمارا پانی کا گرنا ۔ برسنا ۔ پانی کا بہنا ۔ (انفعال ) انھمارا ۔ پانی کا گرنا ۔ برسنا ۔ پانی کا بہنا ۔ منھمر اسم الفاعل ہے۔ برسنے والا ۔ بہنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 11 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب
اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8:۔ ” فدعا ربہ “ جب نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے مایوس ہوگئے تو اللہ سے دعا کی کہ میں ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے مغلوب ہوچکا ہوں اور اب وہ ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے اب ان کو ہلاک کردے اور ان سے انتقام لے لے، کیونکہ میں تو ان سے انتقام نہیں لے سکتے۔ ففتحنا ابواب السماء الخ تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور پرنالوں کی طرح آسمان سے پانی بہنے لگا۔ آسمان کے دروازے کھولنا کثرت بارش سے کنایہ ہے۔ اور زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے۔ فالتقی الماء الخ۔ زمین و آسمان کا پانی مل کر اس اندازے کو پہنچ گیا جو اللہ نے مقرر فرمایا تھا یعنی پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی جتنی اللہ کو منظور تھ۔ یا علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–22
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…
Read the full tafseer →فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْہَمِرٍ 11 ۖ
فتح
الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان :
أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] .
والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، أي : وسعنا، وقال : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فَفَتَحْنَـآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ ۔ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَـآئُ عَلٰٓی اَمْرٍقَدْ قُدِرَ ۔ (القمر : 11، 12)
(پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلادھار بارش سے کھول دیئے ہیں۔ اور زمین کو چشموں کی صورت میں پھاڑ دیا، پس پانی جا ٹکا اس نشان پر جو ٹھہرا لیا گیا تھا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور پروردگار نے اس طرح ان کی قوم سے انتقام لیا کہ ایسی موسلادھار اور تیز بارش ہوئی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور زمین سے ہر طرف سے پانی ابلنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری زمین چشموں کی صورت اختیار کرگئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…
Read the full tafseer →آیت 11: فَفَتَحْنَا اَبْوَابَ السَّمَآئِ (پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے) ۔
قراءت : شامی ٗ یزید ٗ سہل ٗ یعقوب نے ففتَّحْنَا پڑھا ہے۔
بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ (کثرت سے برسنے والے پانی سے) ۔ جو پے درپے اور کثرت سے بہنے والا ہو۔ وہ پانی چالیس دن تک منقطع نہ ہوا۔
Read the full tafseer →10 ۔” فدعا “ نوح (علیہ السلام) نے ” ربہ “ اور کہا ” انی مغلوب فانتصر “ تو میرے لئے ان سے انتقام لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
تب اس موقع پر حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ) بیشک میں کمزور ہوں۔ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح کی قوم میں بہت تھوڑے سے اور چند لوگ ایمان لائے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ (فانتصر) اے اللہ میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت میں حضرت نوح نے دعامانگی (رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ نوح 26) ۔ اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمالی اور حضرت نوح کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا فرمایا (فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ 11ڮ) چناچہ ہم نے زور سے برسنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[ 18] حضرت نوح کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی :
سو اس واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے تمام انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو مدد کیلئے پکارا اور اس کے حضور فریاد کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوں پس تو میری مدد فرما۔ سو جب اتنے اولوالعزم رسول اور جلیل القدر پیغمبر، اور ابو البشر ثانی بھی اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارتے ہیں اور اپنے قول وقرار سے اسی کو پکارنے کا درس دیتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے کو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 6 یعنی انہیں ڈبونے اور ہلاک کرنے کے لئے
7 یعنی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا۔
Read the full tafseer →(54:11) ففتحنا :عاطفہ سببیہ ہے۔ پس ہم نے کھول دئیے۔
بماء منھمر موصوف و صفت، منھمر اسم فاعل واحد مذکر۔ انھمار (انفعال) مصدر۔ خوب برسنے والا۔ موسلا دھار برسنے والا۔ پانی کے ریلے کی طرح برسنے والا۔ پھر ہم نے (ان پر) پانی کے ریلوں سے آسمان کے دروازے کھول دئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17
اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 17
اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[4] آیت نمبر 4 میں پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ کیا گیا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے اس بیان سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ تنہا تم ہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دوچار ہونا نہیں پڑا ہے، ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔
Read the full tafseer →(11) پھر ہم نے بکثرت برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے اور دہانے کھول دیئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔
Read the full tafseer →پھر ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیئے
11 ؎ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کیا اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو اس دنیا سے ختم کرنے کا پروگرام بنا لیا جس کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم دیا اور جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا کہ اے آسمان ! ان لوگوں پر موسلادھار بارش برسانا شروع کر دے اور اس طرح وہی بارش جس سے رزق میں فراوانی آتی ہے اس نے موسلادھار اس طرح برسنا شروع کردیا کہ اس علاقہ کو پانی پانی کردیا بلکہ زمین نے بھی پانی اگلنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوفان امڈ آیا اور پھر کیا ہوا ؟ وہی کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
The Story of the People of Nuh (علیہ السلام) and the Lesson Learnt from it
مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (and said, " (He is) a madman", and he was threatened...54:9). The word wazdujira literally denotes 'he was rebuked'. It refers to the attitude of the people of Nuh علیہ السلام who rebuked and threatened him to stop him from preaching. On another occasion in the Qur'an, we read that the people of Nuh (علیہ السلام) threatened and warned him that if he does not stop propagating his message, he would be stoned to death.
` Abd Ibn Humaid reports from Mujahid that when some of his people found him…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9 That is, `They denied that the Hereafter has to take place when man will have to render an account of his deeds; they denied the Prophethood of the Prophet who was making his people aware of this truth; and they denied the teaching of the Prophet, which taught them what to believe and what creed and conduct they should adopt in order to pass the reckoning of the Hereafter."
10 That is, "The people not only belied the Prophet but also branded him as a madman; they uttered threats against him, showered him with curses and abuses; and did whatever possibly they could to stop him from preaching…
Read the full tafseer →