Al-Qamar 54:10

Al-Qamar · from ayah 10

54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ۟فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانْـتَصِرۡ

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٓہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he invoked his Lord, "Indeed, I am overpowered, so help."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:10

آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٓہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : میں بےبس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک میں مغلوب ہوں، سو تو بدلہ لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ : میں مغلوب ہوچکا، اب تو ان سے بدلہ لے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوں، اب تو ان سے انتقام لے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار انہوں نے پکارا اپنے رب کو (اور عرض کیا) کہ میں بالکل بےبس ہوں پس تو ہی (اے میرے مالک ان سے) میرا بدلہ لے

— مولانا اسحاق مدنی

اس پر انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں سو تو بدلہ لے لے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ُ ان سے انتقام لے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یا اللہ میں ان سے کمزور ہوں تو ان سے بدلہ لے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he called upon His Lord: “Verily I am vanquished; so come You to my aid.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So he prayed to his Lord saying, :I am overpowered, so defend (me).

— Muhammad Taqi Usmani

So he prayed to his Lord saying, :I am overpowered, so defend (me).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So he cried unto his Lord, saying: I am vanquished, so give help.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So he invoked his Lord, "Indeed, I am overpowered, so help."

— Saheeh International

Noah prayed, "Lord, help me; I am defeated".

— Muhammad Sarwar

Therefore he called upon his Lord: I am overcome, come Thou then to help.

— Muhammad Habib Shakir

Thereupon he prayed Unto his Lord: verily am overcome, so vindicate me.

— Abdul Majid Daryabadi

Then he called on his Lord: "I am one overcome: do Thou then help (me)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–17

دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–11

سورة الْقَمَر 9 یعنی اس خبر کو جھٹلا چکی ہے کہ آخرت برپا ہونی ہے جس میں انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس نبی کی نبوت کو جھٹلا چکی ہے جو اپنی قوم کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا، اور نبی کی اس تعلیم کو جھٹلا چکی ہے جو یہ بتاتی تھی کہ آخرت کی باز پرس میں کامیاب ہونے کے لیے لوگوں کو کیا عقیدہ اور کیا عمل اختیار کرنا چاہیے اور کس چیز سے بچنا چاہیے۔ سورة الْقَمَر 10 یعنی ان لوگوں نے محض نبی کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ الٹا اسے دیوانہ قرار دیا، اس کو دھمکیاں دیں، اس پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ کی، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر صداقت کی تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی، اور اس کا جینا دوبھر کردیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–11

خلاصہ تفسیر ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ (خاص نوح ؑ کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ مجنون ہیں اور (محض اس قول بیہودہ ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان سے ایک بیہودہ فعل بھی سرزد ہوا یعنی) نوح ؑ کو (ان کی طرف سے) دھمکی (بھی) دی گئی (جس کا ذکر سورة شعراء میں ہے لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ) تو نوح ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (محض) درماندہ ہوں ، (ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا) سو آپ (ان سے) انتقام لے لیجئے (یعنی ان کو ہلاک کر دیجئے، کقولہ تعالیٰ (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) پس ہم نے کثرت سے برسنے والے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(فدعاربہ انی مغلوب فانتصر) (10) جب قوم کی عداوت اس حد کو پہنچ گئی کہ حضرت نوح ؑ کو سنگ سار کردینے کی دھمکی دی گئی تب انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی کہ اے رب ! میرے اندر جتنا زور تھا وہ میں نے ان کو رام کرنے پر صرف کردیا لیکن میں اپنی کوشش میں ناکام رہا۔ اب میری طاقت جو اب دے چکی ہے اس وجہ سے تجھ سے فریاد ہے کہ تو ان سرکشوں سے نمٹ ! (انتصار) کے معنی مدافعت کرنے اور انتقام لینے کے ہیں۔ یعنی میری طرف سے مدافعت کر اور ان کی سر کشی کا انتقام لے۔ حضرت نوح ؑ کی اس دعا کی پوری تفصیل آگے سورة نوح میں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

9۔ 1 یعنی قوم نوح نے نوح ؑ کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–11

4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فدعا ربہ انی ملغوب فانتصر (54:10) ” آخر کار اس نے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ان سے انتقام لے “ میری طاقت ختم ہوگئی۔ میں نے اپنی پوری جدوجہد کردی۔ قوتیں جواب دے گئیں اور یہ تیرا کام ہے اور انکار اور کفر مجھ پر غالب آگیا۔ لہٰذا تو ہی مدد کر۔ اے اللہ اب تو ہی ان سے انتقام لے۔ اپنی دعوت کا بدلہ لے۔ سچائی کا ساتھ دے۔ اپنے نظام کی مدد تو ہی کر حکم تیرا ہے جدوجہد تیرے لئے ہے میرا کردار اب ختم ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا تھا اور رسول خدا کی طرف سے معاملہ رب تعالیٰ کے سپرد کرنا تھا جو جبار وقہار ہے کہ دست قدرت نے اپنا کام شروع کردیا اور اس زمین کو ان سے صاف کردیا گیا۔ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی سینکڑوں برس سمجھانے پر بھی جب کوئی نہ پسیجا تو بددعا کی، اور کہا اے پروردگا ! میں ان سے عاجز آچکا ہوں۔ ہدایت و فہمائش کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ اب آپ اپنے دین اور پیغمبر کا بدلہ لیجیے اور زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔ } ”تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں ‘ اب تو ُ ان سے انتقام لے۔“ رسولوں علیہ السلام کی مدد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے قانون کا ذکر سورة الصّٰفٰت میں اس طرح آیا ہے : { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں ‘ کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔ اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

11 سینکڑوں برس اپنی قوم پر مغز کھپانے اور ان کی طرف سے ایذائیں اور جھڑکیاں برداشت کرنے کے بعد آپ نے اس وقت دعا کی کہ جب کسی شخص کے مزید ایمان لانے سے آپ قطعاً مایوس ہوگئے تھے۔ اور دعا یہ کی تھی کہ ہم پر جو ظلم و ستم یہ لوگ ڈھا چکے ہیں ہماری مدد فرما کر ان سے بدلہ لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ (کہ میں عاجز و ناتواں ان لوگوں سے مقابلہ نہیں کرسکتا) ، اللہ اللہ ! کیا شان بےنیازی ہے۔ پیمبر عین داعی حق بنا کر بھیجے جاتے ہیں اور جا کر باغیوں، منکروں کے ہاتھوں اتنی ایذائیں اٹھاتے ہیں کہ ہر طرح اپنی مغلوبیت اسور بےبسی محسوس کر کے آخر کار دعاء اور دعائے انتقام پر مجبور ہوجاتے ہیں ! سچ کہا ہے کسی عارف نے م ما پروریم دشمن ومامی کشیم دوست کس رارسد نہ چون وچرا درقضائے ما۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–18

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر . تو نوح نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں تو ان سے انتقام لے۔ فَدَعَارَبَّہٗ : یعنی جب اللہ کی طرف سے وحی آگئی کہ جو شخص ایمان لے آیا ‘ لے آیا آئندہ کوئی ایمان نہیں لائے گا تو تم ان لوگوں کی حرکتوں سے آزردہ نہ ہو تو اس وقت نوح نے (بددُعا کی اور) کہا : اے میرے ربّ ! یہ لوگ مجھ پر غالب آگئے ‘ میں مغلوب ہوگیا ‘ اب تو میرا انتقام لے اور ان پر عذاب نازل کر ‘ اس زمین پر کافروں کی کوئی بستی باقی نہ رکھ ‘ کوئی کافر اس زمین پر ساکن نہ رہے اگر تو نے ان کو باقی چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کے بچے بھی بدکار کافر پیدا ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو نوح نے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں آپ ان پر عذاب نازل کر کے ان سے انتقام لے لیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ : نوح ؑ نے یہ دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اطلاع دی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ نوح (26، 27) کی تفسیر۔”انتصر ینتصر“ انتام لینا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–11

فدعا ربۃ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے خلاف بد دعا کی اور عرض کی : ابی مغلوب وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ فانتصر۔ میری مدد فرما۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انبیاء اپنی قوموں کے خلاف ہلاکت کی بد دعا نہیں کیا کرتے تھے مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ انہیں اجازت دیتا۔ ففتحنا ابواب السمآء یعنی ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا، ہم نے کشتی بنانے کا حکم دیا اور آسمان کے دروازے کھول دیئے اور ماء منھمر سے مراد زیادہ پانی ہے۔ شاعر نے کہا : اعینی جو دا بالذموع الھوامر علی خیر باد من معذ و حاضر (1) اے میری دونوں آنکھو ! کثیر آنسو بہائو معد میں سے ہلاک ہونے والوں اور ان میں سے موجود افراد میں سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–16

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَدَعَا رَبَّهٗٓ [ تو انہوں نے پکارا اپنے رب کو ] اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ [ کہ میں مغلوب ہوں ] فَانْتَصِرْ [ پس تو بدلہ لے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–14

سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

8:۔ ” فدعا ربہ “ جب نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے مایوس ہوگئے تو اللہ سے دعا کی کہ میں ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے مغلوب ہوچکا ہوں اور اب وہ ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے اب ان کو ہلاک کردے اور ان سے انتقام لے لے، کیونکہ میں تو ان سے انتقام نہیں لے سکتے۔ ففتحنا ابواب السماء الخ تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور پرنالوں کی طرح آسمان سے پانی بہنے لگا۔ آسمان کے دروازے کھولنا کثرت بارش سے کنایہ ہے۔ اور زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے۔ فالتقی الماء الخ۔ زمین و آسمان کا پانی مل کر اس اندازے کو پہنچ گیا جو اللہ نے مقرر فرمایا تھا یعنی پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی جتنی اللہ کو منظور تھ۔ یا علی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–22

ربطہ آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۝ 10 دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–17

ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مُغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ۔ (القمر : 10) (تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا اب تو ان سے انتقام لے۔ ) قومِ نوح جب ان کی جان کے درپے ہوگئی تو تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے پروردگار ! قوم کو سمجھانے بجھانے کے سلسلے میں، میں اپنی کوشش و توانائی کا آخری قطرہ تک نچوڑ چکا ہوں، میں نے ان کی ہدایت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن اب یہ لوگ میرے ہی خون کے پیاسے ہورہے ہیں اور مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ میں ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں۔ اب تجھ ہی سے فریاد ہے کہ تو ان سرکشوں سے انتقام لے۔ انتصار کے معنی مدافعت کرنے کے بھی ہیں اور انتقام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–17

فہم القرآن ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10: فَدَعَا رَبَّہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ (تو نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں در ماندہ ہوں) ۔ تو ان سے انتقام لے۔ انی سے پہلے باء سببیہ محذوف ہے۔ اس لئے کہ میں مغلوب ہوں میری قوم نے مجھ پر غلبہ کیا اور میری بات نہ سنی اور ان کے جواب سے مایوسی پختہ ہوگئی۔ فَانْتَصِرْ (تو میرا ان سے انتقام لے) اس عذاب کے ذریعہ جو آپ ان پر بھیجیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” کذبت قبلھم “ یعنی اہل مکہ سے پہلے ” قوم نوح فکذبوا عبدنا “ نوح (علیہ السلام) ” وقالوا مجنون وازدجر “ یعنی انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دعوت اور گفتگو سے روکا گالم گلوچ اور وعید کے ذریعے اور انہوں نے کہا ” لئن لم تنتہ یا نوح لتکونن من المرجومین “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ازدجر “ کا معنی ان پر جنون کا بہتان لگایا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–12

تب اس موقع پر حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ) بیشک میں کمزور ہوں۔ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح کی قوم میں بہت تھوڑے سے اور چند لوگ ایمان لائے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ (فانتصر) اے اللہ میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت میں حضرت نوح نے دعامانگی (رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ نوح 26) ۔ اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمالی اور حضرت نوح کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا فرمایا (فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ 11۝ڮ) چناچہ ہم نے زور سے برسنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

[ 18] حضرت نوح کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی : سو اس واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے تمام انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو مدد کیلئے پکارا اور اس کے حضور فریاد کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوں پس تو میری مدد فرما۔ سو جب اتنے اولوالعزم رسول اور جلیل القدر پیغمبر، اور ابو البشر ثانی بھی اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارتے ہیں اور اپنے قول وقرار سے اسی کو پکارنے کا درس دیتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے کو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–12

ف 6 یعنی انہیں ڈبونے اور ہلاک کرنے کے لئے 7 یعنی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:10) فدعا ربہ : یعنی جب سینکڑوں برس سمجھانے پر کوئی بھی ایمان نہ لایا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آگئی کہ جس کے نصیب میں ایمان لانا تھا وہ لے آئے اب آئندہ کوئی بھی ایمان نہ لائے گا۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ میں ان کی حرکتوں سے آچکا ہوں اب تو ہی میری مدد کر۔ فانتصر :سببیہ ہے۔ پس اس لئے۔ انتصر امر واحد مذکر حاضر۔ انتصار (افتعال) مصدر سے ، تو مدد کر ، تو میری مدد کر۔ تو بدلہ لے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–17

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17 اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 17 اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[4] آیت نمبر 4 میں پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ کیا گیا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے اس بیان سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ تنہا تم ہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دوچار ہونا نہیں پڑا ہے، ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–10

حضرت نوح کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھا گیا ۔ انہوں نے جب اللہ کے پیغام کو قوم کے سامنے پیش کیا ۔ تو قوم نے کہا ۔ اور اللہ کے اس پاکباز بندے کے متعلق کس نوع کے خیالات کا اظہار کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) پھرنوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں اور دب گیا ہوں سو تو ان سے میرا بدلا لے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–11

ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوگیا تو میری مدد فرما 10 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ان کی حالت سنورنے کی بجائے مزید بگڑتی ہی چلی گئی اور وہ نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں مزید بڑھتے ہی چلے گئے اور آپ کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دیں یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! میں مغلوب ہوچکا۔ پس تو ان سے میرے جھٹلانے کا بدلہ لے ۔ (انتصر) انتصار سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو بدلہ لے ‘ تو انتقام لے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–11

The Story of the People of Nuh (علیہ السلام) and the Lesson Learnt from it مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ‌ (and said, " (He is) a madman", and he was threatened...54:9). The word wazdujira literally denotes 'he was rebuked'. It refers to the attitude of the people of Nuh علیہ السلام who rebuked and threatened him to stop him from preaching. On another occasion in the Qur'an, we read that the people of Nuh (علیہ السلام) threatened and warned him that if he does not stop propagating his message, he would be stoned to death. ` Abd Ibn Humaid reports from Mujahid that when some of his people found him…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–11

9 That is, `They denied that the Hereafter has to take place when man will have to render an account of his deeds; they denied the Prophethood of the Prophet who was making his people aware of this truth; and they denied the teaching of the Prophet, which taught them what to believe and what creed and conduct they should adopt in order to pass the reckoning of the Hereafter." 10 That is, "The people not only belied the Prophet but also branded him as a madman; they uttered threats against him, showered him with curses and abuses; and did whatever possibly they could to stop him from preaching…

Read the full tafseer →