Explained with ayahs 9–17
دیرینہ انداز کفر
یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
سورة الْقَمَر 9
یعنی اس خبر کو جھٹلا چکی ہے کہ آخرت برپا ہونی ہے جس میں انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس نبی کی نبوت کو جھٹلا چکی ہے جو اپنی قوم کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا، اور نبی کی اس تعلیم کو جھٹلا چکی ہے جو یہ بتاتی تھی کہ آخرت کی باز پرس میں کامیاب ہونے کے لیے لوگوں کو کیا عقیدہ اور کیا عمل اختیار کرنا چاہیے اور کس چیز سے بچنا چاہیے۔
سورة الْقَمَر 10
یعنی ان لوگوں نے محض نبی کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ الٹا اسے دیوانہ قرار دیا، اس کو دھمکیاں دیں، اس پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ کی، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر صداقت کی تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی، اور اس کا جینا دوبھر کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
خلاصہ تفسیر
ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ (خاص نوح ؑ کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ مجنون ہیں اور (محض اس قول بیہودہ ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان سے ایک بیہودہ فعل بھی سرزد ہوا یعنی) نوح ؑ کو (ان کی طرف سے) دھمکی (بھی) دی گئی (جس کا ذکر سورة شعراء میں ہے لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ) تو نوح ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (محض) درماندہ ہوں ، (ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا) سو آپ (ان سے) انتقام لے لیجئے (یعنی ان کو ہلاک کر دیجئے، کقولہ تعالیٰ (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) پس ہم نے کثرت سے برسنے والے…
Read the full tafseer →2۔ آگے آیات 9۔ 17 کا مضمون
اوپر آیت 4 (ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجو) میں قریش کو یہ تنبیہ جو فرمائی گئی ہے کہ آخر یہ لوگ عذاب دیکھنے ہی کے لیے کیوں مچلے ہوئے ہیں، ان کو پچھلی قوموں کی جو تاریخ سنائی گئی ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے ! ! اس کی وضاحت کے لیے آگے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سنائی جا رہی ہے کہ تمہاری ہی طرح ان قوموں نے بھی اپنے رسولوں کے انداز کا مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب کی گرفت میں آگئیں جس سے اللہ کے رسول نے ان کو ڈرایا تو بہتر ہے کہ ان قوموں کی تقلید کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ اللہ نے اپے فضل خاص سے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی قوم نوح نے نوح ؑ کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اسلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے
Read the full tafseer →کذبت ............ نوح (54: 9) ” ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا “ انہوں نے آیات الٰہی کو بھی جھٹلایا اور رسالت کو بھی۔
فکذبوا عبدنا (54: 9) ” انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا “ یعنی نوح کو۔
وقالو مجنون (54: 9) ” اور کہا یہ دیوانہ ہے “ جس طرح قریش نے نبی ﷺ کو کہا کہ مجنوں ہے اور انہوں نے حضرت نوح کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں رجم کردیں گے اور مزاح کرکے اذیت دی اور انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہم پر تنقید کرنے سے باز آجاؤ اور آپ کو سخت دھمکیاں اور جھڑکیاں دیں۔
وازدجر (54: 9) ” اور بری طرح جھڑکا گیا “ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ خود باز آتے اور ان کی اطاعت کرتے۔
اس نوبت تک پہنچ کر حضرت نوح رب…
Read the full tafseer →8 کہنے لگے اے نوح ! اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو تم کو سنگسار کردیا جائے گا۔ گویا دھمکیوں ہی میں اس کی بات رلادی۔ اور بعض نے " وازدجر " کے معنی یوں کیے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے آسیب زدہ۔ جن اس کی عقل لے اڑے ہیں۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →آیت 9 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے“
اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة النجم اور سورة القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورة النجم میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر کا انداز تھا ‘ جبکہ اس سورت میں ”تذکیر بایام اللہ“ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورة الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الاعراف…
Read the full tafseer →10 سیدنا نوح اور ان کی قوم کا ذکر :۔ وہ دیوانہ تو اس لیے کہتے تھے کہ آپ قوم کی اکثریت کے آبائی عقائد کے خلاف صرف تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ اٹھ بھی کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کا اور آپ کے چند ساتھیوں کا اس ساری قوم کے خلاف ہونا ہی ان کے نزدیک دیوانگی تھا۔ وہ لوگ کبھی آپ کو سنگسار کرنے کی دھمکی دیتے کبھی قتل کی اور کبھی صرف اس بات پر ڈانٹ پلا دیتے تھے کہ تم اس کام سے باز کیوں نہیں آتے ؟
Read the full tafseer →7۔ (سنگساری وغیرہ۔ آزار رسانی کی) سنگساری کی دھمکی کی تصریح تو سورة الشعراء میں آبھی چکی ہے۔ لئن لم تنتہ ینوح لتکونن من المرجومین۔ عبدنا سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ عبد کا لفظ جب اس کی اضافت حق تعالیٰ کی جانب ہو، قرب یا مرتبہ خصوصی کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اور عبدنا یا عبداللہ کا استعمال محاورہ قرآنی میں ہمیشہ لطف و رحمت ہی کے مخصوص موقعوں پر ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر…
Read the full tafseer →کذبت قبلھم قوم نوح فکذبوا عبدنا و قالوا مجنون وازدجر
ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے (نوح کو) جھوٹا قرار دیا اور ہمارے بندہ کی تکذیب کی اور کہا : یہ دیوانہ ہے اور
اس کو دھمکی دی گئی
قَبْلَھُمْ : یعنی آپ ﷺ کی امت سے پہلے۔
فَکَذَّبُوْا عَبْدَنَا : یعنی انہوں نے نوح کی متواتر تکذیب کی ‘ تکذیب کرنے والوں کی ایک نسل جب مرجاتی تھی تو آنے والی دوسری نسل تکذیب کرتی تھی اور دوسری کے بعد تیسری نسل مکذبین کی پیدا ہو کر حضرت نوح کو جھوٹا کہتی تھی اور یہ تکذیب کا سلسلہ نو سو پچاس برس جاری رہا۔
وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ : اور انہوں نے کہا : نوح (علیہ السلام) دیوانہ ہے۔
وَازْدُجِرَ : اس کا عطف مجنون پر ہے یعنی…
Read the full tafseer →محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ خاص نوح کو جھٹلایا اور ان کے بارے میں کہا یہ دیوانے ہیں اور ان کو دھمکی بھی دی اور ڈرایا بھی۔
Read the full tafseer →1۔ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ۔۔۔: اس سے پہلے جو فرمایا تھا (ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجر) تو یہاں سے ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ان واقعات میں جھٹلانے والوں کے لیے عبرتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر وہ تکذیب سے باز آسکتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور حوصلے کا سامان ہے۔ یعنی ان اہل مکہ سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔
2۔ وقالوا مجنون :”مجنون“ جسے جنون ہو ، پاگل ، دیوانہ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومنون (25) کی تفسیر۔
3۔ واذد جر : یہ ”زجر“ (جھڑکنا) سے باب افتعال کا ماضی مجہول ہے ، اصل میں ”ازتجر“ تھا ، جس میں تائے افتعال مبالغہ کے لیے ہے ، یعنی اسے…
Read the full tafseer →کذبت قبلھم قوم نوح سابقہ قوموں کے کچھ واقعات کا ذکر کیا مقصود نبی کریم ﷺ کو مانوس کرنا اور تسلی دینا تھا۔ قبلھم سے مراد آپ کی قوم سے پہلے۔
فکذبوا عبدنا عبد سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ زمحشری نے کہا، اگر تو سوال کرے کہ کذبت کے بعد کذبوا کا کیا معنی ہے تو میں اس کا جواب دوں گا : اس کا معنی ہے کذبوا فکذبوا عبدنا انہوں نے جھٹلانے کے بعد جھٹلایا۔ جب کبھی بھی جھٹلانے والی ایک قوم گزری اس کے بعد دوسری قوم آگئی یا معنی ہے قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہمارے بندے کو بھی جھٹلایا یعنی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ وہ سرے سے نبوت کا انکار کرتے تھے تو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔
2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔
3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا ان لوگوں سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] فَكَذَّبُوْا [ تو انہوں نے جھٹلایا ] عَبْدَنَا [ ہمارے بندے کو ] وَقَالُوْا [ اور کہا ] مَجْنُوْنٌ [ (یہ ) دیوانہ ہے ] وَّازْدُجِرَ [ اور جھڑکا گیا اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب
اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →7:۔ کذبت قبلہم۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ گذشتہ سرکش قوموں کا حال بیان کر کے معاندین قریش کو عبرت دلانا مقصود ہے۔ پہلی قوموں نے اپنے اپنے وقت کے پیغمبروں اور صحیفوں کو جھٹلایا آخر اسی جرم کی پاداش میں تباہ و برباد کردئیے گئے۔ مشرکین قریش کے پس اللہ کا آخری پیغمبر اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے جس کا سمجھنا، ہم نے ان کے لیے آسان کردیا ہے۔ اگر وہ اپنی موجودہ روش عناد پر قائم رہے تو ان کا حشر بھی اقوام سابقہ کا سا ہوگا۔ کفار قریش سے پہلے قوم نوح ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرچکی ہے اور صرف تکذیب ہی نہیں کی بلکہ ازاراہ عناد و سرکشی ان کو تحقیر و استہزاء کا نشانہ بھی بنایا اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–22
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ 9
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–17
ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر…
Read the full tafseer →کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ ۔ (القمر : 9)
(ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا، انھوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہا یہ تو دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا گیا۔ )
قومِ نوح کے انجام کی تفصیل
آیت چار میں معذب قوموں کی جس تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا یہ اسی کی کسی حد تک تفصیل ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا گیا۔ کیونکہ معلوم تاریخ میں وہ سب سے پہلی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ اور قریش بھی اس حد تک انھیں جانتے تھے کہ دجلہ اور فرات کے دو آ بے میں ایک قوم آباد تھی جس کی طرف حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر…
Read the full tafseer →تکذیب رسل کا مرض :
آیت 9: کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ (ان سے پہلے جھوٹا قرار دیا۔ ) اہل مکہ سے پہلے قَوْمْ نُوْحٍ فَکَذَّبُوْاعَبْدَنَا (قوم نوح نے اور ہمارے بندے کی تکذیب کی) ۔ عبدنا سے نوح (علیہ السلام) مراد ہیں۔
تکذیب کو دوبارہ لائے۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ انہوں نے تکذیب کے بعد تکذیب کی۔ جب ان میں سے ایک جھٹلانے والی قرن چلی گئی اس کے بعد ایک قرن اور تکذیب کرنے والی آگئی۔ نمبر 2۔ قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا پھر انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے جب وہ شدت سے رسولوں کے انکاری تھے اور سرے سے نبوت کے ہی قائل نہ تھے آخر میں نوح کو بھی جھٹلا دیا کیونکہ وہ بھی من جملہ رسولوں میں سے…
Read the full tafseer →8 ۔” مھطعین “ جلدی سے متوجہ ہوں گے۔ ” الی الداع “ اسرافیل کی آواز کی طرف ” یقول الکافرون ھذا یوم عسر “ سخت دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنہوں نے اس کے رسول کو جھٹلایا نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے اور نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انہیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤں سے ڈرایا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا کہ اللہ نے کیسے ان کو ہلاک کردیا اور ان پر عذاب نازل کیا چناچہ قوم نوح کا ذکر کیا حضرت نوح نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انہوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے (ولاتذرن ودا ولاسواعا۔۔۔۔ تا۔۔۔ ونسرا۔ نوح 23) ۔ تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو سوا کو اور نہ یغوث، یعوق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →[ 16] قوم نوح کا حوالہ و ذکر عبرت پزیری کیلئے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا، یعنی انہوں نے بھی جھٹلایا دعوت و ہدایت کو۔ پس نہ تو حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے، کہ ان سے پہلے بھی بہت سے حضرت انبیاء کرام ایسی ہی دعوت اور پیغام کے ساتھ تشریف لاچکے ہیں، اور نہ ہی ان کفار کی یہ تکذیب کوئی نئی چیز ہے، کہ اس سے پہلے کے کفار بھی حق کو جھٹلاتے چلے آئے ہیں، اور تکذیب حق کا جو خمیازہ ان کفار و منکرین کو بھگتنا پڑا، اس سے دور حاضر کے ان کفار و منکرین کو بھی سابقہ پیش آسکتا ہے، کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے، پس ان قصوں میں ایک طرف تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔
واقعہ شق القمر۔
روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 5 یعنی دھمکیاں دیں اور ہر طریقہ سے لعنت و ملامت کی کہ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے باز رہے۔
Read the full tafseer →(54:9) کذبت ماضی واحد مؤنث غائب۔ قبلہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اہل مکہ ہیں۔ جن کا اوپر ذکر معجزہ شق القمر دیکھ کر ایمان لانے سے انکار کرنے کے سلسلہ میں ہوا ہے۔
عبدنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔
وازدجر : واؤ عاطفہ، ازدجر ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ازدجار (افتعال) مصدر سے۔ جس کے معنی چھڑکنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کے ہیں۔ وہ جھڑ کا گیا۔ اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی گئی۔ بعض نے ازدجر کے معنی آسیب زدہ کے کئے ہیں۔
وازدجر کا عطف مجنون پر ہے یعنی کافروں نے یہ بھی کہا کہ نوح جنات کی جھپٹ میں آگیا ہے اور کسی جن نے مخبوط الحواس بنادیا ہے۔ یا اس کا عطف قالوا پر ہے یعنی نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 17
اذدجر جھڑک دیا گیا۔ مغلوب بےبس کردیا گیا۔ انتصر تو بدلہ لے۔ منھمر زور سے گرنے ولا۔ فجرنا ہم نے پھاڑ دیئے۔ ذات الواح تختوں والی۔ دسر (دسار) میخیں ، کیلیں۔ مدکر دھیان دینے والا۔ یسرنا ہم نے آسان کردیا۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 17
اللہ تعالیٰ ان بہت سے واقعات کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں جو عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے ایک ایک فرد کو سمجھایا اور تبلیغ دین کی جدوجہد فرمائی مگر ان کی قوم کے وہ عیش پسند کفار و مشرکین جو اپنی جھٹوی عظمتوں میں گم تھے انہوں نے ان کی عظمت کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[4] آیت نمبر 4 میں پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ کیا گیا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے اس بیان سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ تنہا تم ہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دوچار ہونا نہیں پڑا ہے، ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
حضرت نوح کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھا گیا ۔ انہوں نے جب اللہ کے پیغام کو قوم کے سامنے پیش کیا ۔ تو قوم نے کہا ۔ اور اللہ کے اس پاکباز بندے کے متعلق کس نوع کے خیالات کا اظہار کیا ۔
Read the full tafseer →(9) ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تکذیب کی اور نوح کی قوم بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کرچکی ہے چناچہ انہوں نے ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اس کی تکذیب کی اور اس کو جھوٹا بتایا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کو جھڑک دیا اور اس کو دھمکی دی گئی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور دیوانہ کہا اور جھڑکا اور دھمکایا جیسا کہ سورة شعراء میں گزرا ہے کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھ کو سنگسار کردیں گے جب نوح (علیہ السلام) کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو انہوں نے قوم کے حق میں یہ دعا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 1۔ یعنی ان کا اعراض بوجہ کسی دلیل صحیح سے تمسک کرنے کے نہیں ہے بلکہ عنادا تکذیب حق ہے۔
Read the full tafseer →ان سے قبل قوم نوح نے ہمارے بندے نوح کو بھی جھٹلایا تھا
9 ؎ یہ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی قوم جو آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ‘ ان لووں سے قبل بہت سی قومیں اپنے اپنے نبی و رسول کو جھٹلا چکی ہیں اور ان جھٹلانے والوں ہی میں نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جنہوں نے اپنے نبی و رسول نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا حالانکہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے ایک بندہ تھا لیکن قوم نے اس کو پاگل اور مجنون قرار دیا اور ڈانٹنے ڈپتنے میں بھی کوئی کسر اتھا نہ رکھی جس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی اور ” نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
The Story of the People of Nuh (علیہ السلام) and the Lesson Learnt from it
مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (and said, " (He is) a madman", and he was threatened...54:9). The word wazdujira literally denotes 'he was rebuked'. It refers to the attitude of the people of Nuh علیہ السلام who rebuked and threatened him to stop him from preaching. On another occasion in the Qur'an, we read that the people of Nuh (علیہ السلام) threatened and warned him that if he does not stop propagating his message, he would be stoned to death.
` Abd Ibn Humaid reports from Mujahid that when some of his people found him…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9 That is, `They denied that the Hereafter has to take place when man will have to render an account of his deeds; they denied the Prophethood of the Prophet who was making his people aware of this truth; and they denied the teaching of the Prophet, which taught them what to believe and what creed and conduct they should adopt in order to pass the reckoning of the Hereafter."
10 That is, "The people not only belied the Prophet but also branded him as a madman; they uttered threats against him, showered him with curses and abuses; and did whatever possibly they could to stop him from preaching…
Read the full tafseer →