Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 7
اصل الفاظ ہیں تَمُوْرُ السَّمَآءُ مُوْراً۔ مَور عربی زبان میں گھومنے، اَونٹنے، پھڑکنے، جھوم جھوم کر چلنے، چکر کھانے اور بار بار آگے پیچھے حرکت کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ قیامت کے دن آسمان کی جو حالت ہوگی اسے ان الفاظ میں بیان کر کے یہ تصور دلایا گیا ہے کہ اس روز عالم بالا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور دیکھنے والا جب آسمان کی طرف دیکھے گا تو اسے یوں محسوس ہوگا کہ وہ جما جمایا نقشہ جو ہمیشہ ایک ہی شان سے نظر آتا تھا، بگڑ چکا ہے اور ہر طرف ایک اضطراب برپا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(9۔ 12)۔۔ (یوم عذاب کی تصویر)۔۔ یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے۔ ڈانواں ڈول ہوجائے گا۔ مور کے معنی مضطرب اور متردو ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں، یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اس طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو انسانوں پر کیا گزرے گی ؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے یا کام آنے والے بن سکیں گے ! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 1 مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر :
یوم تمور السماہ مورا (25 : 9) وتسیر الجبال سیرا (25 : 01) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن…
Read the full tafseer →7 یعنی آسمان لرز کر اور کپکپا کر پھٹ پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 9{ یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآئُ مَوْرًا۔ } ”جس روز کہ آسمان بری طرح لرزے گا۔“
Read the full tafseer →7 مور کا لغوی مفہوم :۔ تمور۔ مار میں بنیادی تصور حرکت اور تیز رفتاری ہے النَّاقَۃ تَمُوْرُ فِی سَیْرِھَا بمعنی اونٹنی کا تیز رفتاری کی وجہ سے غبار اڑاتے چلے جانا (مفردات) اور مور بمعنی غبار بن کر ہوا میں اڑنا (فقہ اللغۃ) اور مارالشَّی بمعنی کسی چیز کا تیز رفتاری کی وجہ سے آگے پیچھے ہلنا، لرزنا اور توازن کھو دینا (منجد) گویا اس دن آسمان کے انجر پنجر ہل جائیں گے وہ کانپنے، لرزنے، ہچکولے کھانے، ڈگمگانے اور با لآخر ذرات کی شکل میں تبدیل ہو کر اڑنے لگے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
2۔ یعنی ایسی چیزیں جو وسعت، شان، صلابت وپائیداری میں آج اپنی نظیر آپ ہی سمجھی جاتی ہیں سب اپنے صفات وسعت وثبات وصلابت وغیرہ سے معری ہو کر سامنے آجائیں گی، (آیت) من دافع “۔ من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی چیز اسے ٹال نہیں سکتی۔ من مزیدۃ للتاکید (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔
Read the full tafseer →یوم تمور السمآ مورا
(یہ اس روز ہوگا) جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا
یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ : یعنی آسمان چکی کی طرح گھومے گا۔ قتادہ نے ترجمہ کیا جس روز آسمان حرکت کرے گا۔ عطاء خراسانی نے کہا : آسمان کے بعض اجزاء بعض میں درآمد برآمد کریں گے بعض اہل تفسیر نے ترجمہ کیا : آسمان تھرتھرائے گا۔ لغت میں مورٌ کے یہ سب معانی آئے ہیں : آنا ‘ جانا ‘ گھومنا ‘ لرزنا ‘ تھرتھرانا ‘۔ (کذا فی القاموس)
آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زمین اور پہاڑوں کی طرح آسمان ساکن ہے ‘ متحرک نہیں ہے ‘ فلاسفہ آسمان کو متحرک کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(7۔ 12) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔
سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(یوم تمور السمآء موراً :”مار یمور موراً“ (ن) کسی چیز کا تیزی سے حرکت کرنا اور آگے پیچھے اور دائیں بائیں زور سے ہلنا، الٹ پلٹ ہونا، چکر کھانا۔ ”موراً“ مصدر تاکید کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”سخت لرزنا“ کیا گیا ہے۔ ”یوم“ ”لواقع“ کا ظرف ہے، یعنی تیرے رب کا عذاب اس دن واقع ہونے والا ہے جب آسمان میں سخت لرزہ پیدا ہوگا اور وہ نہایت تیزی سے چکر کھائے گا اور آخر کار پھٹ جائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پر گزرنے والے احوال کے لئے دیکھیے سورة فرقان (25) ، رحمٰن (37) ، حاقہ (16) ، معارج (8) مزمل (18) ، مرسلات (9) ، نبا (19) ، تکویر (11) ، انفطار (1) ، انشقاق (1) ، ابراہیم (48) ، انبیاء (104) اور سورة زمر (67)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔
2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔
عذاب الہی کے تصور سے رونا :
3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…
Read the full tafseer →يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ [ جس دن لہریں لے گا آسمان ] مَوْرًا [ جیسے لہریں لیتے ہیں ]
م و ر : (ن) مورا کسی چیز کا تیزی سے ہلنا ۔ کپکپانا۔ ڈھاٹھیں مارنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 9 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اس کے بعد قیامت کے بعض احوال بیان فرمائے ﴿ يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ009﴾ (جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا) ﴿ وَّ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًاؕ0010﴾ (اور پہاڑ چل پڑیں گے) یعنی اپنی جگہ چھوڑ کر روانہ ہوجائیں گے اس کو سورة تکویر میں یوں فرمایا ﴿وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ اور سورة نمل میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾ (اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر خیال کر رہا ہے کہ وہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں اور حال یہ ہوگا کہ بادلوں کی طرح گزریں گے) ۔
اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004 وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔
(ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔
قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5:۔ ” یوم تمور “ یہ تخویف اخروی ہے۔ تمہور، تدور و تضطرب (ابن کثیر، روح) ۔ آسمان گھومے گا اور لڑ کھڑا اٹھے گا اور پھر یزہ ریزہ ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ ” یوم “ فویل مؤخر کیساتھ متعلق ہے۔ یعنی جب آسمان چکنا چور ہو کر گر پڑیں گے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل کر زمین کے ساتھ ہموار ہوجائیں گے، اس دن توحیدد، قیامت اور دیگر اعتقادیات کو جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت و تباہی ہوگی جنہوں نے اپنی زندگیاں بےہودگیاں اور خرافات میں گنوادیں اور ہمیشہ تائید باطل اور تکذیب حق میں مشغول و منہمک رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا 9 ۙ
مور
المَوْر : الجَرَيان السَّريع . يقال : مَارَ يَمُورُ مَوْراً. قال تعالی: يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً [ الطور/ 9] ومَارَ الدم علی وجهه، والمَوْرُ : التُّراب المتردِّد به الرّيح، وناقة تَمُورُ في سيرها، فهي مَوَّارَةٌ.
( م و ر ) المور ۔ کے معنی تیز رفتاری کے ہیں ۔ اور یہ مار یمور مورا سے ہے چناچہ قرآن میں ہے يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً [ الطور/ 9] جس دن آسمان لرز نے لگے کپکپاکر ۔ مار الرم علیٰ وجھہ کے معنی چہرہ پر تیزی سے خون جاری ہونے کے ہیں اور مور غبار کو بھی کہتے ہیں جو ہوا میں ادہر ادھر اڑتا ہے اور ناقۃ تمور فی میرھا کے معنی ہیں اونٹنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
یَّوْمَ تَمُوْرُالسَّمَـآئُ مَوْرًا۔ وَّتَسِیْرُالْجِبَالُ سَیْرًا۔ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ ۔ (الطور : 9 تا 12)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان بری طرح ڈگمگائے گا۔ اور پہاڑ چلنے لگیں گے۔ پس تباہی ہے اس روز ان جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو اپنی حجت بازیوں میں کھیل رہے ہیں۔ )
قیامت کی تصویر اور شبہات کا ازالہ
اہلِ عرب کی عادت یہ تھی کہ جب آنحضرت ﷺ ان کے سامنے قیامت برپا ہونے کا ذکر فرماتے جس میں پہلے مرحلے پر ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور دوسرے مرحلے پر ازسرنو زندگی برپا ہوگی تو وہ اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ یہ اتنا مستحکم بنا ہوا آسمان کیسے ٹوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو…
Read the full tafseer →منظر قیامت :
آیت 9 : یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآئُ مَوْرًا (جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا) چلنے والی چکی کی طرح گھومے گا۔
Read the full tafseer →8 ۔” مالہ من دافع “ روکنے والا۔ جبیر بن مطعم فرماتے ہیں میں دینہ آیا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں تو میں آپ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ (علیہ السلام) کی آواز مسجد سے باہر آرہی تھی تو میں نے سنا کہ وہ پڑھ رہے ہیں ” والطور “ سے ” ان عذاب ربک لواقع مالہ من دافع “ پس گویا کہ میرا دل پھٹ گیا جب میں نے اس کو سنا تو اور یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔ فرماتے ہیں پس میں عذاب کے اترنے کے خوف سے اسلام لے آیا اور مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوسکوں گا حتیٰ کہ مجھ پر عذاب واقع ہوجائے گا۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے اس دن کا وصف بیان فرمایا جس میں یہ عذاب واقع ہوگا چناچہ فرمایا (يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا) جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا یعنی گھومے گا اور مضطرب ہوگا۔ بےقراری اور عدم سکون کی وجہ سے دایمی طور پر متحرک رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[ 8] رب کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہوگا۔ اپنے اس وقت سے جو اس کے لئے تمہارے رب نے مقرر فرما رکھا ہے اور جس کا علم اسی وحدہٗ لاشریک کو ہے، یہاں کائِن [ ہونے والا ] نہیں بلکہ " واقعٌ " فرمایا گیا ہے جس کے معنی بلندی سے نیچے گرنے والی، اور زور سے لگنے والی چیز کے ہیں، سو وہ عذاب بڑا ہی ہولناک ہوگا، اور وہ بہرحال ہو کر رہنے والا ہے، یہ منکر لوگ نہ تو خود اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی ان کے مزموعہ شرکاء و شفعاء میں سے کسی کے اندر اس کا ٹالنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے
تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر)
اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 5 یعنی جنہیں فرشتے دھکیل کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(52:9) یوم تمور السمائمورا۔ یوم مفعول فیہ ہے تمور مضارع واحد مؤنث غائب : مور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھرنا۔ تیز چلنا، وہ تیز چلتی ہے یا چلے گی۔ وہ پھٹ جائے گی۔ وہ لرزے گی۔ مورا مفعول مطلق تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
اہل لغت کہتے ہیں کہ کبھی بڑھے کبھی پیچھے ہٹے۔ اور اس طرح جھولے جس طرح کہ تیز جھکڑ میں لمبی کھجوریں جھومتی ہیں ۔ تو اس حالت کو بیان کرنے کیلئے ماریمور کے لفظ استعمال کئے جاتے ہیں مقصدیہ بتانا ہے کہ وسیع عریض آسمان جس کو اپنے مقام سے بال برابر کبھی سرکتے نہیں دیکھا گیا کبھی اضطرابی حرکت اس میں رونما نہیں ہوئی وہ اس روز ایک معمولی اور ہلکی چیز کی مانند ڈول رہا ہوگا جھول رہا ہوگا
جس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16
مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔
(ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔
[7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔
(الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور
1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔
اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(9) جس دن آسمان بڑے زور سے تھرتھرانے اور لرزنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 5۔ مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →جس دن آسمان بری طرح لرزہ براندام ہوگا
9 ؎ (تمور) اور (مورا) کا ایک ہی مادہ ہے یعنی اور یہ دونوں لفظ اس مادہ کے فقط اس ایک ہی جگہ استعمال ہوئے ہیں (تمود) وہ پھٹتی ہے ‘ وہ پھٹ جائے گی ‘ وہ لرزتی ہے ‘ وہ لرزے گی ‘ وہ جنبش کرتی ہے ‘ وہ جنبش کرے گی ‘ وہ پھرتی ہے وہ پھرے گی۔ مور سے جس کے معنی پھرنے اور تیز چلنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب۔ مور کے معنی میں بھی بہت وسعت ہے اس لیے ترجمہ اور مفہوم میں بھی بہت وسعت رکھی گئی ہے جس روز آسمان حرکت کرے گا اور آسمان کے بعض اجزاء بعض میں درآمد برآمد ہوں گے ‘ آسمان تھرتھرانے لگا اور لغت میں یہ سب معنی موجود ہیں جیسے آنا ‘ جانا ‘ گھومنا ‘ پھرنا ‘ لرزنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →7 The word maut in the original is used for turning round, boiling, fluttering, rotating, swinging and moving forward and backward. The object of depicting the condition of the heavens on the Day of Resurrection in these words is to give the idea that the system of the heavens on that Day will be wholly upset, and when an observer will look up to the sky, he will feel that the constant pattern and order that it always used to present, has been broken and there is disorder, confusion and chaos on every side.
Read the full tafseer →