Ayah 52:1آیت 1{ وَالطُّوْرِ۔ } ”قسم ہے طور کی۔“
طور عام پہاڑ کو بھی کہا جاتا ہے ‘ لیکن ”الطُّور“ سے مراد وہ خاص پہاڑ طور ِسینین٭ ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔
Ayah 52:2آیت 2 { وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ۔ } ”اور اس کتاب کی قسم جو لکھی ہوئی ہے۔“
اس بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ اس سے مراد تورات ہے ‘ کیونکہ تورات پتھر کی تختیوں پر لکھی ہوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی ‘ جبکہ قرآن قلب ِمحمد ﷺ پر براہ راست نازل ہوا تھا۔
Ayah 52:3آیت 3{ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۔ } ”کشادہ ورق میں۔“
یعنی وہ تختیاں خوب کشادہ تھیں جن پر تورات کی عبارت تحریر تھی۔ گویا یہ تین قسمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات سے متعلق ہیں۔ کو ہِ طور پر آپ علیہ السلام کو مکالمہ الٰہی سے سرفراز فرمایا گیا اور آپ علیہ السلام کو ایک ایسی کتاب عطا کی گئی جو کشادہ تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔
Ayah 52:4آیت 4{ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ۔ } ”اور قسم ہے آباد گھر کی۔“
”البَیْتِ الْمَعْمُوْر“ سے بعض مفسرین بیت اللہ مراد لیتے ہیں کہ اس میں طواف اور عبادت کے لیے ہر وقت لوگ موجود رہتے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین کی رائے میں اس سے مراد خانہ کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے جو ہر وقت ”معمور“ رہتا ہے ‘ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین کی رائے میں اس سے دنیا مراد ہے جو طرح طرح کی مخلوق سے معمور ہے اور مجھے ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ بعد والی قسم اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے۔
Ayah 52:5آیت 5{ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ۔ } ”اور قسم ہے اونچی چھت کی۔“
اس سے آسمان مراد ہے۔ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ دنیا ایک گھر کی مانند ہے جس میں انسان آباد ہیں اور آسمان اس گھر کی چھت ہے۔
Ayah 52:6آیت 6{ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ۔ } ”اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔“
اس سے سمندر کی وہ کیفیت مراد ہے جسے ہم اپنی زبان میں ”موج زن سمندر“ یا ”ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر“ کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ سمندر کو دیکھنے سے واقعتا ایسے محسوس بھی ہوتا ہے جیسے یہ جوش سے ابل رہا ہے۔ بہرحال جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے ان قسموں کے معانی و مفاہیم کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ البتہ ان قسموں کا مقسم علیہ وہی ہے جو کہ سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ ہے۔
Ayah 52:7آیت 7{ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ } ”تیرے رب کا عذاب یقینا واقع ہو کر رہے گا۔“
اس سے قیامت کا سخت دن مراد ہے جس کے اٹل ہونے کی حقیقت کو سورة الشوریٰ کی آیت 47 میں { یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَـہٗ } ”وہ دن جسے لوٹایا نہ جاسکے گا“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 52:8آیت 8{ مَّا لَہٗ مِنْ دَافِعٍ۔ } ”اسے کوئی روکنے والا نہ ہوگا۔“
Ayah 52:9آیت 9{ یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآئُ مَوْرًا۔ } ”جس روز کہ آسمان بری طرح لرزے گا۔“
Ayah 52:10آیت 10{ وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا۔ } ”اور پہاڑ چل رہے ہوں گے جیسے چلا جاتا ہے۔“
پہاڑوں پر زمین کی گرفت برقرار نہیں رہے گی اور وہ ٹوٹ کر فضا میں بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Ayah 52:11آیت 1 1{ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”پس ہلاکت و بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“
Ayah 52:12آیت 12{ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ۔ } ”وہ لوگ جو خوش گپیوں میں مصروف کھیل رہے ہیں۔“
Ayah 52:13آیت 13{ یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا۔ } ”جس دن ان کو دھکے دے دے کر جہنم کی طرف دھکیلاجائے گا۔“
Ayah 52:14آیت 14{ ہٰذِہِ النَّارُ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”اور کہا جائے گا یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔“
Ayah 52:15آیت 15{ اَفَسِحْرٌ ہٰذَآ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ہو ؟“
اب بتائو ! کیا تم اپنے سامنے واقعی جہنم کو دیکھ رہے ہو یا اس کو بھی تم جادو کا کھیل ہی سمجھتے ہو ؟
Ayah 52:16آیت 16{ اِصْلَوْہَا فَاصْبِرُوْٓا اَوْلَا تَصْبِرُوْاج سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ ط } ”اب داخل ہو جائو اس میں ‘ تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ‘ اب تمہارے حق میں برابر ہے۔“
اب تمہارے جزع فزع کرنے اور چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔ تمہارے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس میں خاموشی سے داخل ہو جائو اور اس کی سختیوں کو صبر سے برداشت کرو۔
{ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”تمہیں بدلے میں وہی کچھ تو مل رہا ہے جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔“
Ayah 52:17آیت 17{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ۔ } ”یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔“
Ayah 52:18آیت 18{ فٰـکِہِیْنَ بِمَآ اٰتٰـہُمْ رَبُّہُمْ ج } ”وہ مزے کر رہے ہوں گے ان نعمتوں کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں عطا کی ہوں گی۔“
{ وَوَقٰـہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۔ } ”اور بچا لے گا انہیں ان کا ربّ جہنم کے عذاب سے۔“
Ayah 52:19آیت 19{ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِیْٓئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور کھائو پیو رچتا پچتا ‘ اُن اعمال کا صلہ جو تم کرتے رہے ہو۔“
قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کی قدر افزائی کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیا جائے گا ‘ جبکہ اہل جنت بار بار یہ اقرار کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ تیرا فضل ہے جو تو نے ہمیں بخش دیا اور جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ‘ ورنہ ہم اس قابل ہرگز نہ تھے۔
Ayah 52:20آیت 20{ مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍج } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ان تختوں پر جو برابر بچھے ہوں گے صف درصف۔“
{ وَزَوَّجْنٰـہُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ۔ } ”اورا نہیں ہم بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ۔“
Ayah 52:21آیت 21{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو“
قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورة المومن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آچکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مومنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : { رَبَّـنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اے ہمارے پروردگار ! انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے“۔ اب زیرمطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اس کریمانہ فیصلے کا خود اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم اہل جنت کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی نچلے درجے کی جنت کے مستحق افراد کو بھی ان کے والدین کے برابر لے آئیں گے جو اعلیٰ درجات کی جنتوں میں متمکن ہوں گے۔
{ وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط } ”اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔“
یعنی اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنت میں ہے اور اس کے اہل و عیال نسبتاً نچلے درجے میں ہیں تو یہ نہیں ہوگا کہ اس شخص کو اس کے اہل و عیال کے پاس نچلے درجے میں بھیج دیا جائے بلکہ اس کے اہل و عیال کے درجات بلند کر کے اس کے برابر کردیا جائے گا۔ گویا اہل جنت کے اکرام کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہوگا کہ ان کے رشتے داروں میں سے جو کوئی کم سے کم درجے کی جنت کا بھی مستحق ہوجائے گا اسے ترقی دے کر ان کے اعلیٰ جنتوں والے رشتے داروں سے ملا دیا جائے گا تاکہ انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔
{ کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ۔ } ”ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔“
Ayah 52:22آیت 22{ وَاَمْدَدْنٰـہُمْ بِفَاکِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ”اور ہم انہیں دیے چلے جائیں گے پھل اور گوشت جس سے وہ چاہیں گے۔“
Ayah 52:23آیت 23{ یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَاْثِیْمٌ۔ } ”اس میں وہ ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے وہ جام جن کے مشروب میں نہ تو کوئی بےہودگی ہوگی اور نہ ہی گناہ میں ڈالنے والی کوئی بات۔“
یہ اہل جنت کی دوستانہ محفلوں کی رونق اور چہل پہل کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ وہ خوش طبعی کے انداز میں ایک دوسرے سے جام چھین رہے ہوں گے۔ اہل جنت کو جو مشروب ملے گا اس میں کیف و سرور تو ہوگا لیکن دنیا کی شراب کی طرح بےہودگی کی کوئی کیفیت نہیں ہوگی۔
Ayah 52:24آیت 24{ وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ غِلْمَانٌ لَّہُمْ کَاَنَّـہُمْ لُـؤْلُــؤٌ مَّکْنُوْنٌ۔ } ”اور ان پر گردش میں رہیں گے نوجوان لڑکے ان کی خدمت کے لیے ‘ وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی ہوں غلافوں میں رکھے ہوئے۔“
Ayah 52:25آیت 25{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّـتَسَآئَ لُوْنَ۔ } ”اور وہ اہل جنت ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے باہم سوال کریں گے۔“
Ayah 52:26آیت 26{ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ۔ } ”وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے۔“
دنیا میں اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کے درمیان معمول کی زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ نہ معلوم نیک اعمال کی قبولیت کے لیے مطلوبہ معیار کا اخلاص ہمارے دلوں میں ہے بھی یا نہیں۔ کہیں ہم سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہوجائے جو ہماری ساری محنت کو بھی اکارت کر دے۔ ایسے اندیشے اور خدشے ہر لمحہ ہمیں دامن گیر رہتے تھے۔
Ayah 52:27آیت 27{ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقٰٹنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ۔ } ”تو اللہ نے بڑا احسان کیا ہم پر اور ہمیں بچالیا لو ُ کے عذاب سے۔“
Ayah 52:28آیت 28{ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْہُ ط } ”یقینا ہم پہلے سے اس کو پکارا کرتے تھے۔“
البتہ یہ ضرور تھا کہ اپنی دنیوی زندگی میں ہم اپنی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعائیں کرتے رہتے تھے۔
{ اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۔ } ”یقینا وہ بہت ہی اچھا سلوک کرنے والا ‘ بہت رحم فرمانے والا ہے۔“
Ayah 52:29آیت 29{ فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔“
یہ خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن اصل میں سنانا ان لوگوں کو مقصود ہے جو آپ ﷺ کے ایسے نام رکھتے تھے۔ ان لوگوں کو نظر انداز کر کے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کی فضول باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں اور لوگوں کو مسلسل تذکیر اور یاد دہانی کرتے رہیں۔ اس سے ملتا جلتا مضمون قبل ازیں گزشتہ سورت الذاریات میں بھی آچکا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا :
{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ - وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ }
”پس اے نبی ﷺ ! آپ ان سے رخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔“
آپ ﷺ تذکیر و تبلیغ کا عمل مسلسل جاری رکھیے۔ کیا خبر کسی دل میں ایمان کی کوئی کلی کھلنے والی ہو ‘ کیا خبر آپ ﷺ کے کسی دشمن کا دل بھی موم ہونے والا ہو۔ حضرت عمر فاروق رض کے ایمان لانے کا واقعہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ تذکیر آہستہ آہستہ دلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے اور پھر کسی وقت اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جب دل میں ایمان کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ حضرت عمر رض اگرچہ حضور ﷺ کی مخالفت میں ہر وقت پیش پیش رہتے تھے لیکن چونکہ سخن شناس تھے اس لیے کلام الٰہی سننے کے لیے متجسس ّبھی رہتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ رات کو صحن ِکعبہ میں قیام اللیل کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تو کبھی کبھی حضرت عمر رض چھپ کر حضور ﷺ کی زبان مبارک سے تلاوت سنتے اور کلام الٰہی کی تاثیر کو اپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتے تھے۔ گویا حضور ﷺ کی تذکیر اور قرآن کی تاثیر تدریجاً ان کے دل میں گھر کر رہی تھی۔ اسی تدریجی عمل کے باعث آپ رض کے خیالات و جذبات میں اندر ہی اندر ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد مشیت الٰہی سے وہ واقعہ رونما ہوا جس کے باعث اس خاموش تبدیلی کو اظہار کا موقع ملا اور آپ رض کو ایمان کی دولت نصیب ہوگئی۔ اس دن تو آپ رض گھر سے حضور ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تھے۔ راستے میں اپنی بہن فاطمہ رض بنت خطاب اور اپنے بہنوئی حضرت سعید رض بن زید سے الجھ پڑے۔ آپ رض کے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے بہن نے جب ڈٹ کر کہا کہ عمر تم جو چاہے کرلو ‘ اب ہم اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں ! تو آپ رض اپنی بہن کے اس غیر معمولی عزم اور حوصلے کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ پھر کیا تھا ‘ آپ رض کے دل کا ”بند“ یکدم کھل گیا اور آپ رض نے حق کو اعلانیہ قبول کرلیا۔
Ayah 52:30آیت 30{ اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ۔ } ”کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شاعر ہے ‘ جس کے لیے ہم منتظر ہیں گردش زمانہ کے ؟“
مشرکین مکہ آپس میں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ محمد ﷺ محض ایک شاعر ہیں۔ ان کے شاعرانہ کلام سے متاثر ہونے میں جلدی مت کرو ‘ کچھ دیر انتظار کرو گے wait and see ! ‘ تو ان کے دعو وں کی اصل حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آجائے گی۔ ہمیں قوی امید ہے کہ بہت جلد یہ خود ہی گردش زمانہ کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
Ayah 52:31آیت 31{ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ۔ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اچھا تم انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔“
Ayah 52:32آیت 32{ اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ بِہٰذَآ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھا رہی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟“
مشرکین کے ایمان نہ لانے کی یہ دو ہی ممکنہ وجوہات تھیں۔ یا تو واقعتا انہیں بات سمجھ نہیں آرہی تھی اور ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی تھیں کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ محض شاعری اور ان کا من گھڑت کلام ہے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ بات ان کی سمجھ میں بھی آتی تھی اور ان کے دل گواہی بھی دیتے تھے کہ یہ سب کچھ درست ہے مگر وہ اپنی سرکشی ‘ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار پر جمے رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں یہ ساری باتیں وہ عقل سے نہیں بلکہ سراسر ضد ‘ عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کر رہے تھے۔ دراصل نفس انسانی کی سرکشی بھی دریا کی طغیانی کی طرح ہے جس کے سامنے منطق ‘ تدبیر ‘ کوشش وغیرہ کسی کی نہیں چلتی۔ بقول الطاف حسین حالی : ؎
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے !
Ayah 52:33آیت 33{ اَمْ یَـقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَـہٗ ج } ”کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ اس محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟“
تَقَوَّلَ باب تفعل سے ہے اور اس کے معنی تکلف کر کے کچھ کہنے کے ہیں ‘ یعنی قرآن کے بارے میں مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد ﷺ محنت و ریاضت کے ذریعے یہ کلام خود ”موزوں“ کرتے ہیں۔
{ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَ۔ } ”بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ماننے والے نہیں ہیں۔“
Ayah 52:34آیت 34{ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِہٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ۔ } ”تو وہ لے آئیں اس جیسی کوئی ایک بات اگر وہ سچے ہیں۔“
یہ وہ چیلنج ہے جو قرآن نے بار بار انہیں دیا کہ اگر تم واقعتا یہ سمجھتے ہو کہ یہ کلام محمد ﷺ کا اپنا بنایا ہوا ہے تو ایسا ہی کلام تم بھی اس کے مقابلے میں بنا کرلے آئو۔ آخر تمہارے درمیان بڑے بڑے خطبائ ‘ ادباء اور شعراء موجود ہیں ‘ ان سب کو اکٹھا کرو اور کوشش کر کے دیکھ لو۔
Ayah 52:35آیت 35{ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ۔ } ”کیا یہ بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بن گئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟“
یہ فلسفے کا بہت گہرا مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے کوئی شے بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بخود تو بنتی نہیں ہے۔ چناچہ کسی بھی چیز کی تخلیق کے حوالے سے دو ہی صورتیں ممکن ہیں ‘ یعنی یا تو اس چیز کو کسی نے تخلیق کیا ہے یا اس چیز نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا ہے۔ چناچہ یہ منطقی سوال ان کے سامنے رکھا گیا کہ اگر تم اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ تم نے خود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا تو پھر خود بخود ثابت ہوجاتا ہے کہ کسی دوسری ہستی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ہستی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 52:36آیت 36{ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ۔ } ”کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے بنایا ہے ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔“
چلو اپنی تخلیق کی بحث کو چھوڑو ‘ تم ذرا یہ بتائو کہ زمین و آسمان تم نے بنائے ہیں ؟ اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ تم نے نہیں بنائے تو پھر مان کیوں نہیں لیتے کہ خود تمہارا خالق اور تمام مخلوق سمیت پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو دو اور دو چار کی طرح مسلم ہیں ‘ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ یقین سے محروم ہیں۔
Ayah 52:37آیت 37{ اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ۔ } ”کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟“
اس آیت کو پڑھتے ہوئے مشرکین مکہ کا وہ اعتراض بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس کا ذکر سورة الزخرف کی آیت 31 میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر وحی بھیجنا تھی اور اپنا کلام دنیا میں نازل کرنا ہی تھا تو اس کے لیے اس کی نظر بنوہاشم کے ایک یتیم شخص ہی پر کیوں پڑی ‘ جو نہ تو سرمایہ دار ہے اور نہ ہی مکہ کے قبائلی نظام کے اعلیٰ عہدوں hierarchy میں سے کوئی عہدہ اس کے پاس ہے ! عرب کے قبائلی معاشرے میں کسی شخصیت کے ”بڑے“ ہونے کا ایک معیار یہ بھی تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض اس زمانے میں مقدماتِ قتل کے فیصلے کرنے پر مامور تھے۔ یہ قبائلی نظام کا بہت بڑا اور انتہائی حساس نوعیت کا عہدہ تھا جس پر حضرت ابوبکر رض اس زمانے میں فائز تھے۔ اس کے علاوہ آپ رض بہت بڑے تاجر اور سرمایہ دار بھی تھے۔ اس زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رض کے سرمائے کی مالیت چالیس ہزار درہم کے لگ بھگ تھی۔ اس حوالے سے یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد آپ رض نے یہ سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیا اور جب آپ رض ہجرت کے لیے مدینہ روانہ ہوئے تو پیچھے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔
بہرحال مشرکین مکہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے ان دو بڑے شہروں مکہ اور طائف میں سے کسی بڑی شخصیت کو کیوں منتخب نہیں کیا : { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔ } الزخرف ”اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : { اَھُمْ یَـقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَط } الزخرف : 32 ”کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے ؟“ آیت زیر مطالعہ میں بھی حضور ﷺ کے خلاف اسی نوعیت کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خزانے کیا ان لوگوں کے قبضہ قدرت میں ہیں ؟ اور کیا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فیصلے کرنے میں ان لوگوں کی مرضی و منشا کا پابند ہے ؟
Ayah 52:38آیت 38{ اَمْ لَہُمْ سُلَّـمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ ج } ”کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعے سے یہ آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں ؟“
{ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُہُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”اگر ایسا ہے تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لائے۔“
Ayah 52:39آیت 39{ اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ۔ } ”کیا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟“
Ayah 52:40آیت 40{ اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔ } ”کیا آپ ان لوگوں سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں کہ یہ تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟“
یہاں پر پے در پے سوالات کا انداز خصوصی تاثیر کا حامل ہے۔ یہ مقام زور خطابت ‘ فصاحت ‘ بلاغت ‘ ادبیت اور عذوبت کے حوالے سے گویا قرآن کی معراج ہے۔ ظاہر بات ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔