Ayah 52:1والطور اس پہاڑ کا نام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے گفتگو کی اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم اٹھائی اس کی شرافت کو ظاہر کرنے کے لئے، اس کی کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس میں جو آیات ہیں انہیں یاد دلانے کے لئے۔ یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ اسماعیل بن اسحاق، اسماعیل بن ابی رویس سے وہ کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف سے وہ اپنے باپ سے وہ دادا سے رویت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہیں، چار دریا جنت کے دریائوں میں سے ہیں، چار میدان جنگ جنت کے میدانوں میں سے ہیں، (2) ۔ پوچھا گیا : پہاڑ کون سے ہیں ؟ فرمایا : جبل احد جو ہم سے محبت کرتا ہے، جو دی جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے ،۔ حدیث کا ذکر کیا ہے ہم نے اسے کتاب التذکرہ میں بیان کردیا ہے۔ مجاہد نے کہا : سریانی زبان میں طور سے مراد پہاڑ ہے اس سے مراد طور سینا ہے (3) ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ مقاتل بن حیان نے کہا : دو طور ہیں ان میں سے ایک کو طور سینا اور دوسرے کو طور زینا کہتے ہیں (4) ۔ کیونکہ یہ دونوں پہاڑ انجیر اور زیتون کو اگاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مدین میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام زبیر ہے۔ زنیر وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی۔
میں کہتا ہوں ؛ مدین ارض مقدسہ میں ہے یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا گائوں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : طور سے مراد ہر وہ پہاڑ ہے جو کسی چیز کا اگائے اور جو کسی چیز کو نہ اگائے طور نہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ سورة بقرہ میں بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Ayahs 52:2–3وکتب مسطور، مسطور کا معنی مکتوب ہے (1) یعنی قرآن جسے مومن مصاحف سے پڑھتے ہیں اور ملائکہ لوح محفوظ سے پڑھتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انہ لقران کریم، فی کتب مکنون، (الواقعہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام سمادی کتب ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں۔ ہر کتاب کاغذ میں لکھی ہوتی جسے پڑھنے کے لئے کتاب والے کھولتے۔ کلبی نے کہا : مراد تو رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اپنے دست قدرت سے لکھا جب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلم چلنے کی آواز سن رہے تھے (2) ۔ فراء نے کہا : مراد اعمال کے صحیفے ہیں کچھ اپنی کتاب دائیں ہاتھ میں پکڑیں گے اور کچھ اپنی کتاب بائیں ہاتھ میں پکڑیں گے (3) ؛ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ونخرج لہ یوم القیمٰۃ کتبا یلقۃ منسورا، (الاسرائ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : واذا الصحف نشرت، (التکویر) ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ اس سے مراد وہ کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لئے آسمان میں لکھا وہ اس پڑھتے ہیں جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے : مراد ہے اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں سے اولیاء کے دل میں جو کچھ لکھا اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے : اولئک کتب قلوبھم الانسان ( المجاولہ :22) میں کہتا ہوں ؛ اس قول میں حجازی قاعدہ جاری ہو رہا ہے کیونکہ قلوب کو رق سے تعبیر کیا۔ مبرد نے کہا : رق سے مراد وہ جلد ہے جسے باریک کیا جاتا ہے تاکہ اس پر لکھا جائے۔ منسور کا معنی ہے جس کو پھیلایا جائے۔ جوہری نے صحاح میں اسی طرح کہا ہے کہا : رق جب فتحہ کے ساتھ ہوا سے کہتے ہیں جس میں لکھا جائے یہ باریک چمڑا ہوتا ہے ؛ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو فراء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ہر صحیفہ رق ہوتا ہے کیونکہ اس کے حواشی رقیق ہوتے ہیں۔ اسی سے متلمس کا قول ہے : فکانما ھی من تقادم عھد ھا رقی اتیح کتابھا مسطور
جہاں تک رق کا تعلق ہے اس سے مراد ملک ہے کہا جاتا ہے : عبد مرقوق۔ ماوردی نے حضرت ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ رق فتحہ کے ساتھ ہو تو اس سے مشرق و مغرب کا درمیان ہے
Ayah 52:4(4) ۔ والبیت المعمور ،۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : یہ آسمان میں بیت اللہ شریف کے بالمقابل ایک گھر ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر اس سے نکلتے ہیں اور دوبارہ نہیں آتے (1) ۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ چھٹے آسمان میں گھر ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : یہ چوتھے آسمان میں ہے۔ حضرت انس مالک ؓ نے حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے چوتھے آسمان میں لایا گیا تو ہمارے لئے بیت معمور اٹھایا گیا یہ کعبہ شریف کے بالمقابل ہے اگر گرے تو کعبہ شریف پر گرے ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ جب اس سے نکلتے ہیں تو واپس نہیں آتے، (2) ۔ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ قشیری نے حضرت ابن عباس ؓ سے حکایت بیان کی ہے : یہ آسمان دنیا میں ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : ابن کو اء نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے پوچھا : بیت معمور کیا ہے ؟ فرمایا : سات آسمانوں کے اوپر اور عرش کے نیچے بیت ہے جسے ضراح کہتے ہیں : صحاح میں اسی طرح ہے۔ ضراح ضمہ کے ساتھ آسمان میں ایک کمرہ ہے جسے بیت معمور کہتے ہیں (3) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کے مکین فرشتے ہیں۔ مہدی نے ان سے روایت نقل کی ہے ؛ یہ عرش کے بالمقابل ہے۔ حدیث اسراء میں صیحح مسلم میں حضرت مالک بن صعصہ ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے رویت نقل کرتے ہیں : پھر مجھے بیت معمور کی طرف بلند کیا گیا۔ ، میں نے پوچھا : اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ بیت معمور ہے، ہر روز اس سے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب اس سے نکلتے ہیں تو آخر وقت تک اس کی طرف نہیں لوٹتے، ، (4) ۔ اور حدیث ذکر کی۔ حضرت ثابت کی حدیث جو حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سیرے پاس براق لایا گیا، ، اس میں ہے، ہمیں ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا حضرت جبریل امین نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو پوچھا گیا : کون ہے ؟ جواب دیا : جبریل۔ پوچھا گیا : تیرے ساتھ کون ہے ؟ جواب دیا : حضرت محمد ﷺ ۔ پوچھا گیا : ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ؟ جبریل (علیہ السلام) نے جواب دیا : ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس تھا وہ بیت معمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں وہ دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے، (5) ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مروی ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے پندرہ گھر ہیں سات آسمانوں میں اور سات زمینوں میں ہیں اور ایک کعبہ ہے جو سب گھر کعبہ کے بالمقابل ہیں۔
حضرت حب بصری نے کہا : بیت معمور سے مراد خانہ کعبہ ہی ہے بیت معمور وہی ہے جسے لوگ آباد کرتے ہیں ہر سال ساٹھ ہزار افراد اس کی زیارت کرتے ہیں اگر لوگ یہ تعداد پوری کرنے سے عاجز آجائیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ ان کی تعداد کو پورا کردیتا ہے۔ یہ پہلا گھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے زمین میں عبادت کے لئے معین فرمایا (1) ۔ ربیع بن انس نے کہا : بیت معمور حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں زمین میں کعبہ مشرفی کی جگہ تھا جب حضرت نوع (علیہ السلام) کا زمانہ آیا حضرت نوع (علیہ السلام) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بیت معمور کا حج کریں تو لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور آپ کی نافرمانی کی جب پانی سرکش ہوگیا تو بیت معمور کو اٹھالیا گیا تو اسے اسی کے بالمقابل آسمان دنیا میں رکھ دیا گیا ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کرتے ہیں پھر صور پھونکنے تک اس کی طرف نہیں لوٹتے۔ جہاں یہ بیت تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں ہی ٹھکانہ دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذ بوانا لا براھیم مکان البیت ان لا تشرک بی شیاو طھر بیتی للطا ئیمین والرکع السجود، (الحج)
Ayah 52:5والسقف المرفوع ،۔ آسمان کو سقف کا نام دیا کیونکہ یہ زمین کے لئے اسی طرح ہے جس طرح کمرہ کے لئے چھت ہوتی ہے (2) اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے : وجعلنا السماء سقفا محفوظا (الانبیائ :32) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد عرش ہے جو جنت کی چھت ہے۔
Ayah 52:6والبحر المسجود، مجاہد نے کہا : مراد روشن کیا گیا ہے (3) ۔ حدیث میں آیا، ، سمندر کو قیامت کے روز گرم کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ آگ ہوجائے گا، ، (4) ۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی بھرا ہوا ہے۔ نحویوں نے نمربن ثواب کا شعر پڑھا : اذا شاء طالع مسجود تری حولھا النبع والسا سما (5) جب وہ چاہتا ہے وہ بھرے ہوئے چشمے پر جاپہنچتا ہے تو اس چشمہ کے گرد نبع اور سماسم کے درخت اگے ہوئے دیکھے گا۔ شاعر پہاڑی بکرے کا ارادہ کرتا ہے جو ایسے چشمے پر وارد ہوتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ آگ سے بھرا ہوا ہو۔ تو یہ پہلے قول کی طرح ہوگا۔ ضحاک، ثمر بن عطیہ، محمد بن کعب اور اخفش نے اسی طرح کہا ہے وہ گرم چولہا ہوگا جس طرح روشن تنور ہوتا ہے اس معنی میں یہ قول کیا جاتا ہے کہ مسعر، مسجر ہے اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : واذا البحار سجرت، (التکویر) جب سمندروں کو روشن کیا جائے گا۔ یہ جملہ بولتے ہیں : سجرے النور اسجرہ سجرا میں نے تنور کو گرم کیا۔ سعید بن مسیب نے کہا : حضرت علی شیر خدا ؓ نے ایک یہودی سے فرمایا جہنم کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : سمندر میں (6) ۔ فرمایا : میں تجھے سچا خیال کرتا ہوں اور یہ آیت تلاوت کی والبحر المسجود، واذا لبحار سجرت ،۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سمندر سے وضو نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ جہنم کا ایک طبق ہے۔ کعب نے کہا : قیامت کے روزسمندر کو گرم کیا جائے گا تو جہنم کی آگ میں اضافہ ہوجائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مسجور اس سمندر کو کہتے ہیں جس کا پانی ختم ہوچکا ہو : یہ ابوالعالیہ کا قول ہے عطیہ اور ذورمہ شاعر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک لونڈی پانی لانے کے لئے نکلی اس نے کہا : ان الحوض مسجود حوض خالی ہے۔ ابن ابی دائود نے کہا : ذی رمہ کی کوئی رویت نہیں مگر یہی رویت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مسجود کا معنی ہے جس کو کھول دیا گیا ہو، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : واذا البحار فجرت، (الانفطار) زمین اس کا پانی چوس لے گی تو اس میں پانی نہیں رہے گا۔ ایک قول ہے جو حضرت علی شیر خدا اور عکرمہ سے مروی ہے ابو مکین نے کہا : میں نے عکرمہ سے بحر مسجود کے بارے میں پوچھا تو جواب دیا عرش کے نیچے سمندر ہے۔ حضرت علی شیر خدا نے کہا : یہ عرش کے نیچے ہے جس میں گاڑھا پانی ہے (1) ۔ اس کو بحر حیوان کہتے ہیں جس سے بندے نفحہ اولی کے بعد چالیس دن تک نیچے اترتے رہیں گے تو وہ اپنی قبروں میں جنم لیں گے۔ ربیع بن انس نے کہا : مسجور سے مراد ہے جس میں میٹھا نمک کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ میں کہتا ہوں : فجرت کا معنی تاویلوں میں سے ایک میں اس طرف لوٹتا ہے یعنی اس کا میٹھا اس کے نمکین میں ملایا جائے گا (2) ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ علی ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ مسجور کا معنی محبوس ہے۔
Ayahs 52:7–8ان عذاب ربک لواقع، ، یہ جواب قسم ہے یعنی عذاب مشرکوں میں واقع ہونے والا ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے کہا میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا تاکہ میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں تو میں نے آپ کو مغرب کی نماز میں سورة طور کی تلاوت کرتے ہوئے پایا یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت تلاوت کی ان عذاب ربک لواقع ،۔ مالہ من دافع گویا میرا دل پھٹ گیا تو عذاب کے نزول کے ڈر سے مسلمان ہوگیا مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ میں یہاں سے اٹھ سکوں گا یہاں تک کہ مجھ پر عذاب نازل ہوجائے گا (3) ۔ ہشام بن حسان نے کہا : میں اور مالک بن دینار، حضرت حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے پاس ایک آدمی سورة طور کی تلاوت کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ اس آیت تک پہنچا ان عذاب ربک لواقع ،۔ مالہ من دافع ،۔ تو حضرت حسن بصری رونے لگے اور آپ کے ساتھی بھی رونے لگے (4) ۔ مالک بن دینار بےچین ہوگئے یہاں کہ ان پر غشی طاری ہوگئی۔ جب بکار کو منصب قضا دیا گیا تو دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک پر قسم آتی تھی بکار دونوں میں صلح کی رغبت رکھتے تھے آپ اپنی جانب سے قسم کے بدلے اس کے خصم کو عوض دینا چاہتے تھے تو اس نے قسم کے سوا کسی چیز پر بھی انکار کردیا تو آپ نے سورة طور کی ابتدائی آیات کے ساتھ اس سے قسم اٹھوائی یہاں تک کہ اسے فرمایا ؛ کہہ اگر میں جھوٹا ہوں تو تیرے رب کا عذاب واقع ہو اس آدمی نے یہ کلمات کہے وہ باہر نکالا تو اسی لمحہ اس کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
Ayahs 52:9–16یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے ہیں ؛ اس معنی میں جریر کا قول ہے : وما زالت القتلی تمور دمائوھا بدجلۃ حتی ماء دجلۃ اشکل (4) مقتولوں کے خون دجلہ میں تیزی سے بہتے ہیں یہاں یوم تمور السماء مورا ،۔ یوم میں عامل، واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھرتھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مارالشی یمور مورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے۔ ضحاک نے کہا : ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہیں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعرذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابۃ لاریث ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوس کے گھر سے بادل کے جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست اور نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ تیزی سے چلتے
ہیں ؛ اس معنی میں جریر کا قول ہے ؛ وما زالت القتلی تمور دما ئو ھا بدجلۃ حتی ماء دجلۃ اشکل (4) مقتولوں کے خون دجلہ میں تیزی سے بہتے ہیں یہاں تک کہ دجلہ کا پانی رنگین ہوگیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس روز آسمان حرکت کریں گے اور مضطرب ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں اس کے اہل گردش کریں گے اور ایک دوسرے میں موجزن ہوں گے۔ مور کا معنی راستہ ہے اس معنی میں طرفہ کا قول ہے : ناقۃ موراۃ الید ایسی اونٹنی جو تیز رفتار ہو۔ البعیر یمور عضداہ ایسا اونٹ جس کے دونوں بازو مترودہوجائیں۔ عربوں کا قول ہے : لا ادری اغار ام مار میں نہیں جانتا کہ وہ گہرائی کی طرف گیا یا گھوم اور بلند جگہ کی طرف لوٹ گیا۔ مورجب میم کے ضمہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد ہوا کے ساتھ غبار ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد فلک ہے (5) اس کے مور سے مراد اس کے نظم کا مضطرب ہونا ہے اور خیال میں اختلاف واقع ہونا ہے یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ وتسیر الجبال سیرا۔ مقاتل نے کہا : وہ اپنی جگہوں سے چلتے ہیں یہاں تک کہ زمین کے ساتھ برابر ہوجاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آج اس طرح چلتے ہیں جس طرح بادل دنیا میں چلتے ہیں : اس کی وضاحت ہے وتری الجبال تحسبنا جامدۃ وھی تمرمرا السحاب (النمل :88) یہی سورة کہف گزر چکی ہے۔ فویل یومیذ للمکزبین ،۔ ویل ایسا کلمہ ہے جو ہلاک ہونے والے کے لئے کہا جاتا ہے جس پر فاء داخل ہوئی کیونکہ کلام میں مجازات کے معنی پائے جاتے ہیں۔ الذین ھم فی خوض یلعبون ،۔ وہ باطل میں گھوم پھر رہے ہیں وہ ان کا حضرت محمد مصطفیٰ علیۃ والثناء کی تکذیب میں ہی لگے رہنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسباب دنیا میں ہی لگے رہتے ہیں وہ حساب و جزا کا ذکر نہیں کرتے۔ سورة براءت میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ یوم یدعون سے بدل ہے ویدعون اس کا معنی ہے انہیں شدت اور سختی کے ساتھ جہنم کیطرف دھکیلا جاتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : دعتہ دعا میں نے اسے دھکیلا : اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قذلک الذی یدع الیتیم (الماعون) تفسیر میں جہنم کے داروغے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ جکڑ دیں گے ان کی پیشانیوں کو ان کے قدموں کیساتھ جمع کردیں گے، پھر انہیں منہ کے بل پھینک دیں گے یہاں تک کہ وہ آگ میں جا پہنچے گے۔ ابو رجا عطاردی اور ابن سمیقع نے اسے تخفیف کے ساتھ یوم یدعون الی نارجھنم دعا، پڑھا ہے یہ دعا سے مشتق ہے جب وہ آگ کے قریب ہوں گے تو داروغے انہیں یہ کہیں گے : ھذا النار التی کنتم بھاتکذبون، افسحر ھذا ہمزہ استفہامیہ ہے اس کا معنی تو بیخ و انکار ہے یعنی انہیں کہا جائے گا ؛ جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کیا یہ جادو ہے ؟ ام انتم لاتبصرون، ایک قول یہ کیا گیا ؛ ام، بل کے معنی میں ہے یعنی بلکہ تم دنیا میں نہیں دیکھتے تھے اور سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے۔ اصلوھا انہیں جہنم کے داروغے کہتے ہیں : اس میں داخل ہو کر اس کی گرمی کو چکھو۔ فاصبروا او لاتبصروا سواء علیکم شیء یعنی جزع اور صبر تمہارے لئے برابر ہے کوئی چیز تمہیں نفع نہ دے گی، جس طرح ان کے بارے میں یہ خبر دی کہ وہ کہیں گے : سواء ولینا اجزعنا ام صبرنا (ابراہیم :21) تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
Ayahs 52:17–20ان المتقین فی جنت و نعیم، جب کفار کا حال ذکر کیا تو مومنین کا حال بھی ذکر کیا۔ فکھین کثیر پھلوں والے۔ یہ کہا جاتا ہے : رجل فاکہ یعنی پھل والا جس طرح لابن اور تامر کہا جاتا ہے دودھ والا اور کھجور والا، یعنی یہ نسبت کا معنی دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : و غررتنی وزعمت انک لابن بالصیف و تامر (1) تو نے مجھے دھوکہ دیا اور تو نے گمان کیا کہ تو موسم گرما میں دودھ والا اور کھجور والا ہے۔ یہاں بھی لابن اور تامر، ذولبن اور ذوتمر کے معنی ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے قراء نے فکھین الف کے بغیر پڑھا ہے اس کا معنی ہے خوش وخرم (2) ۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے قول ہے : کہا جاتا ہے فکہ الرجل فھو فکہ جب اس کی طبیعت اچھی اور مزاح کی حامل ہو۔ فکہ کا معنی انتہائی حریص اور متکبر بھی ہے۔ سورة الدخان میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ بما انتھم تبھم ووقہم ربھم عذاب الجحیم ،۔ یعنی ان کے رب نے انہیں جو عطا کیا۔ کلو او اشر بوا انہیں یہ بات کہی جائے گی : کھائو پیو۔ ھئینا مبارک ہو جس میں محروی اور کدورت نہیں۔ زجاج نے کہا ؛ جس طرف تم جارہے ہو وہ تمہیں مبارک ہے۔ ھنیا کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے متعتم بنعیم الجنۃ امتاعا ھنیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ؛ کلو اواشربوا ھنئتم ھنیاء یہ مفعول مطلق ہے اور مصدر کی صفت بن رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھنیاء کا معنی حلال۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ اس میں کوئی اذیت اور سردرد نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مبارک ہو تم کو موت نہیں آئے گی کیونکہ وہ چیز جو باقی نہ رہے یا انسان جس کے ساتھ باقی نہ رہے وہ طبیعت کو منقبض کرنے والی اور غیر مبارک ہوتی ہے۔ متکین علی سرر، سریر کی جمع ہے کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے متئکین علی نمارق سرر، مصفوفتہ ابن اعرابی نے کہا : معنی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک صف بن گئے ہیں۔ احادیث میں آیا ہے، ، وہ آسمان میں اتنے اتنے طویل صف در صف ہیں جب بندہ ان پر بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نیچے ہوجاتے ہیں جب وہ اس پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنی حالت میں ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ سونے کے پلنگ ہیں جن پر زبر جد، موتیوں اور قوت کے تاج ہیں اور ایک پلنگ مکہ مکرمہ اور ایلہ کے درمیان مسافت کے برابر ہے۔ وزو جہنم بحور عین ،۔ یعنی ہم نے جنتیوں کو ان حوروں کا ساتھی بنا دیا ہے۔ یونس بن حبیب نے کہا ؛ عرب کہتے ہیں زوجت امراۃ وتزوجت امراۃ۔ کلام عرب میں یہ نہیں تزوجت بامرۃ۔ کہا : اللہ تعالیٰ کا جو یہ فرمان وزوجھنم بحور عین یعنی ہم نے انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے تعلق رکھتا ہے : احشر والذین ظلموا و ازواجہنم (الصافات :22) یہاں ازواج سے مراد ان کے ساتھی ہیں۔ فراء نے کہا : تزسجیت بامراۃ یہ ازدشنئوہ میں ایک لغت ہے۔ حورعین کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 52:21والذین امنو او اتبعتھم ذریتھم، عام قراءت واتبعتھم ہے ہمزہ وصلی، تاء مشد د، عین مفتوحہ اور تاء ساکن۔ ابو عمرو نے واتبعنا ھم پڑھا ہے ہمزہ قطعی تاء اور عین ساکن اور نون۔ وہ اسے الحقنا بھم پر قیاس کرتے ہیں تاکہ کلام ایک ہی طریقہ پر رہے۔ جہاں تک پہلے ذریتھم کا تعلق ہے تو ابن عامر، ابو عمرو اور یعقوب نے جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے نافع سے پڑھا ہے مگر ابو عمرو نے تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا کیونکہ مفعول ہے باقی نے اسے ضمہ دیا ہے باقی قراء اسے واحد کا صیغہ اور تاء کو ضمہ دیا ہے نافع سے بھی یہی مشہور ہے جہاں تک دوسرے لفظ ذریۃ کا تعلق ہے نافع، ابن عامر، ابو عمرو اور یعقوب نے تاء کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ جمع کا صیغہ ہے باقی نے اسے واحد کا صیغہ اور تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے چار روایات مروی ہیں ؛ (1) اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کو جنت میں اس کے درجہ میں بلند فرمائے گا اگرچہ اولاد درجہ میں اس سے کم ہوتا کہ ان کے ساتھ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور اس آیت کی تلاوت کی (1) ۔ نحاس نے ناسخ و منسوخ میں اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے رویت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کو جنت میں اس کے درجہ میں بلند فرمادے گا اگرچہ وہ اپنے عمل کے ساتھ اس درجہ تک نہیں پہنچیں گے تاکہ ان کے ساتھ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو، ، (2) ۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی والذین امنو واتبعتھم ذریتھم با یمان۔ ابو جعفر نے کہا : حدیث نبی کریم ﷺ سے مرفوع ہوگی اس طرح ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ خود اپنی جانب سے یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اس امر کی خبر دینا ہے جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہے۔ زمحشری نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے لئے مختلف قسم کے سرور جمع فرمادے گا ان کی ذاتوں میں سعادت رکھ دے گا، حورعین کے ساتھ ان کو جمع کرے گا، مومن بھائیوں کے ساتھ موانست پیدا کردے گا اور انکی اولاد ان کی نسل کو ان کے ساتھ جمع کردے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے ساتھ اس کی چھوٹی اولاد کو لاحق کردے گا جو ایمان لانے کی حد کو نہیں پہنچیں ہوگی (2) ؛ یہ مہدوی کا قول ہے۔ ذریۃ کا لفظ چھوٹوں اور بڑوں سب پر بولا جاتا ہے۔ اگر یہاں ذریۃ سے مراد چھوٹی اولاد لے تو بایمان کا قول دونوں مفعولوں سے حال ہوگا تو تقدیر کلام یہ ہوگی بایمان من الاباء اگر ذریتہ سے مراد بڑی اولاد لے تو بایمانکا لفظ دونوں فاعلوں سے حال ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک قول تیسرا قول بھی ہے کہ الذین امنوا سے مراد مہاجرین و انصار ہیں اور ذریۃ سے مراد تابعین ہیں۔ آپ سے ایک روایت یہ بھی ہے ؛ اگر آباء درجہ میں بلند ہوئے تو اللہ تعالیٰ بیٹوں کو بھی آباء تک بلند کردے گا، اگر بیٹے بلند درجہ کے حامل ہوئے تو اللہ تعالیٰ آباء کو بیٹوں کی طرف بلند فرمادے گا (3) ۔ آباء ذریۃ کے اسم میں داخل ہوں گے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وایتہ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون، (یسین) حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے : وہ اس رویت کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ، جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ان میں سے کوئی اپنے والدین، اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے بارے میں چوچھے گا تو انہیں کہا جائے گا : انہوں نے وہ رتبہ پایا جو تو نے رتبہ پایا ہے۔ تو عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں نے اپنے لئے اور ان کیلئے عمل کیا تو ان کے اسکے ساتھ لاحق کرنے کا حکم دیا جائے گا، ، (4) ۔ حضرت خدیجہ ؓ نے کہا : میں نبی کریم ﷺ سے اپنے والدین کے بارے میں پوچھا جو دور جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے تو آپ نے فرمایا ؛ ، ، وہ دونوں آگ میں ہیں ،۔ جب آپ نے میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے فرمایا ؛ اگر تو ان کے مکان کو دیکھے تو تو ان سے بغض رکھنے لگے ،۔ پوچھا ؛ یا رسول اللہ ! میرا وہ بچہ جو آپ سے ہوا ؟ فرمایا : وہ جنت میں ہے، پھر فرمایا :، ، مومون اور ان کی اولادیں جنت میں ہوں گی اور مشرک اور ان کی اولادیں آگ میں ہوں گی۔ پھر اس آیت والذین امنوا۔۔۔۔ کی تلاوت کی۔ وما التنھم من عملھم من شیء یعنی ہم نے بیٹوں کے اعمال کے ثواب میں ان کی عمروں کے کم ہونے کی وجہ سے کوئی کمی نہیں اور بیٹوں کو ان کے آباء کے ساتھ لاحق کرنے کی وجہ سے ان کے آباء کے اعمال کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس تاویل کی صورت میں ھم ضمیر ذریۃ کے لئے ہوگا۔ ابن کثیر نے اسے وما التنا ھم پڑھا ہے باقی قراء نے لام کو فتحہ دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے : التنا ھم لا کے ساتھ ہے۔ ابن اعرابی نے کہا : التہ، بالتہ التا التہ یولتہ ایلاتا، لا لہ یلیتہ لیتا سب کا معنی ہے جب اس میں کمی کرے۔ صحاح میں ہے : ولاہ عن وجھہ یلوتہ ولیتہ اس کو سامنے سے روک دیا اور اسے پھیر دیا اسی طرح الاہ عن وجھہ مجرد اور مزید دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ یہ سب بھی کہا جاتا ہے ؛ ما الاہ من عملہ شیئا میں نے اس کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہ کی۔ یہ بھی اللہ کی طرح ہے سورة حجرات میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ کل امری بما کسب رھین ،۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ جہنمیوں کی طرف لوٹے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جہنمی اپنے اعمال کے بدلے میں رکھ دئیے گئے ہیں اور جنتی اپنی جنت کی طرف لوٹ جائیں گے ؛ اسی وجہ سے فرمایا ؛ کل نفس بما کسبت رھینۃ، الا اصحب الیمین، (المدثر) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہر انسان کو عام ہے اسے اپنے عمل کے بدلے میں رہن تکھا گیا ہے کسی کے عمل کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی جہاں تک عمل پر زیادتی کا مسئلہ ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل و احسان ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ حکم اس ذریت کے بارے میں ہو جو ایمان نہ لائی ہو وہ اپنے مومن آباء کے ساتھ لاحق نہیں کیے جائیں گے نل کہ وہ اپنے کفر کے بدلے میں محبوس ہوں گے۔
Ayahs 52:22–23وامددنھم بفا کھۃ ولحم مما یشتھون ،۔ یعنی ہم ان کے اعمال سے بڑھ کر انہیں یہ کثیر چیزیں دیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زیادتی ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ انہیں وہ وہ چیزیں عطا فرمائے گا جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ یتنازعون فیھا کا سا وہ جام ایک دوسرے سے لیں گے وہ جنت میں مومن، اس کی بیویاں اور ان کے خادم ہوں گے۔ کاس شراب کا برتن جو شراب وغیرہ سے بھرا ہوا ہو، جب وہ خالی ہو تو اسے کاس نہیں کہتے۔ لغت میں تنازع اور کاس کی تائید اخطل کا شعر کرتا ہے : وشارب مریح بلک اس نادمنی لا بالحصور ولا فیھا بسوار (1) نازعتہ طیب الراح الشمول وقد صاح الدجاج وجانت وقعۃ الساری بھرے ہوئے جام پینے والا میرا ندیم ہے تنگ دل بخیل میرا ندیم نہیں اور شراب کو برتن میں چھوڑنے والا میں۔ نے عمدہ خوشبو والی شراب اس سے لی جب کہ مرغ اذان دے رہا تھا اور رات وقت چلنے والے کے گرنے کا وقت ہوچکا تھا۔ امراء القیس نے کہا۔ فکما تنازعنا الحدیث ،۔ جب ہم نے باہم گفتگو کی، ،۔ سورة صافات میں گزر چکی ہے۔ لا لغو فیھا، ھا ضمیر سے مراد کاس ہے یعنی ان میں کوئی لٖغوبات نہیں ہوگی۔ ولا تا ثیم، نہ اس میں کوئی گناہ ہوگا۔ تاثیم یہ اثم سے تفعیل کا وزن ہے یعنی وہ جام انہیں گناہ گار نہیں بنائے گا کیونکہ یہ ان کے لئے مباح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیھا میں ھا ضمیر جنت کے لئے ہے۔ ابن عطاء نے کہا : اس مجلس میں کوئی سی بات ہوسکتی ہے جس کا محل جنت عدن ہو (1) ، اس کے ساقی فرشتے ہوں، ان کا مشروب اللہ کے ذکر پر ہو، انکی خوشبو اور سلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو اور قوم اللہ تعالیٰ کی مہمان ہو۔ ولاتاثیم یعنی کوئی جھوٹ نہیں (2) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : وہ ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولیں گے۔ ابن کثیر، ابن محصین اور ابو عمر و نے کہا : لا لغو فیھا ولاتاثیم یعنی آخر کو فتحہ دیا ہے باقی قراء نے اسے مرفوع پڑھا ہے۔ یہ بحث سورة بقرہ آیت 254 میں ولا خلۃ ولا شفاعۃ میں گزر چکی ہے۔ الحمد للہ ،
Ayah 52:24۔ ویطوف علیھم غلمان لھم ان کے غلام پھلوں، تحفوں، کھانوں اور مشروبات کے ساتھ گردش کناں ہوں گے اس کی دلیل ہے یطاف علیھم بصحاف منذھب (الز خرف :71) یطاف علیھم بک اس من معین، (الصافات) کہا گیا : یہ غلمان ان کی وہ اولادیں ہوں گی جو ان سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ خادم ہیں جو دوسروں کیا ولادوں میں سے اللہ تعالیٰ نے ان کا خادم بنایا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ مراد وہ غلمان ہیں جو جنت میں پیدا کیے گئے۔ کلبی نے کہا : وہ کبھی کبھی بڑی عمر کے نہیں ہوں گے۔ کا نھم وہ حسن اور سفیدی میں۔ لولومکنون، صدف میں چھپے موتی ہیں۔ مکنون کا معنی محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یطوف علیھم ولدان مخلدون، (الواقعہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد مشرکوں کی اولاد ہے وہ جنتیوں کے خادم ہوں گے، جنت میں کوئی تھکاوٹ اور ان کو خدمت کی کوئی حاجت نہ ہوگی لیکن یہ خبردی کہ وہ حد درجہ کی نعمت میں ہوں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان ادنی اھل الجنتۃ منزلہ من ینادی الخادم من خدمہ فیجیبہ الف کلھم لبیک لبیک (3) جنتیوں میں کم درجہ کا جنتی جب اپنے خادموں میں سے کسی خادم کو بلائے گا تو ایک ہزار اس کو جواب دے گا سب کہیں گے : لبیک لبیک۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاـ: ما من احد من اھل الجنتہ الایسعی علیہ الف غلام کل علام علی عمل لیس علیہ صاحب (4) ہرجنتی کے ایک ہزار غلام بھاگ دوڑکر رہا ہوگا ہر غلام ایسے کام میں مصروف ہوگا جس میں دوسرا مصروف نہیں ہوگا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب خادم موتی کی طرح ہیں تو مخدوم کی حالت کیا ہوگی (1) ؟ فرمایا : ما بینھا کما بین القمر لیلۃ البدر وبین اصغر الکوا کب دونوں کے درمیان اتنا فرق ہوگا جتنا فرق چودہویں کے چاند اور سب سے چھوٹے ستارے کے درمیان ہوتا ہے۔ کسائی نے کہا : کننت الشیء کا معی ہے میں نے اس پردہ دالا اور سورج سے اسے محفوظ کردیا۔ اکننتہ فی نفسی میں نے اسے چھپا دیا۔ ابو زید نے کہا : کننتہ واکننتہ دونوں کا معنی ایک ہے خواہ کسی پردہ میں چھپائیں یا اپنی ذات میں چھپائیں، تو کہتا ہے : کننت العلم والننتہ ھو مکنون ومکن۔ کننت الجاریہ واکنن تھا فھی مکنو نۃ ومکنۃ۔
Ayahs 52:25–27واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جو دنیا میں انہیں لا حق ہوتی تھی اور خوف کے ختم ہونے پر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایک دوسرے کو کہیں گے تو اس بلند مقام پر کیسے پہنچا۔ قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین، ہر مسئول اپنے سائل سے یہی بات کرے گا یعنی ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا کرتے تھے۔ فمن اللہ علینا اللہ تعالیٰ نے جنت اور مغفرت عطا فرما کر ہم پر احسان کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : توفیق اور ہدایت دے کر ہم پر احسان کیا گیا۔ ووقنا عذاب السموم، حضرت حسن بصری نے کہا : سموم جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور جہنم کے طبقوں میں سے ایک طبقہ ہے (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد جہنم ہے جس طرح تو اسے جہنم کہتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے نا عذاب السموم، سموم سے مراد گرم ہوا ہے یہ لفظ مونث استعمال ہوتا ہے یہ جملہ ذکر کیا جاتا ہے سم یومنا فھو سموم اس کی جمع سمائم آتی ہے۔ ابوعبید نے کہا : سموم ہوا دن کے وقت ہوتی ہے اور کبھی رات کے وقت بھی ہوتی ہے۔ حرور ہوا رات کے وقت ہوتی ہے اور کبھی دن کے وقت ہوتی ہے سموم کا لفظ کبھی کبھی سردی کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ اصل میں یہ گرمی اور سورج کی لپک کے لئے اکثر بولا جاتا ہے۔ راجز نے کہا :
Ayah 52:28اناکنا من قبل ندعوہ ہم اس سے قبل دنیا میں اس سے دعا کیا کرتے تھے کہ وہ گناہوں کی بخشش فرما کر ہم پر احسان فرمائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ندعوہ کا معنی نعبفہ ہے انہ ھو البر الرحیم نافع اور کسائی نے اسے انہ پڑھا ہے اصل میں لانہ تھا۔ باقی قراء نے اسے انہ پڑھا ہے کیونکہ یہاں سے کلام شروع ہورہی ہے۔ البر کا معنی لطیف ہے (2) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس نے جو وعدہ کیا وہ اس میں سچا ہے (3) ؛ یہ ابن جریج کا قول ہے۔
Ayahs 52:29–31فذکر اے محمد ! ﷺ اپنی قوم کے ذریعے سمجھا تے رہیے۔ فما انت بنعمت ربک بکاھن یعنی اپنے رب کی رسالت کا فریضہ سر انجامدینے کی وجہ سے کاہن نہیں کہ آپ خود ہی اپنی طرف سے قول گھڑتے ہیں اور وحی کے بغیر اگلے روز خبر دے دیتے ہوں۔ ولا مجنون، اس میں ان کے قول کا رد کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا تھا : وہ مجنون ہیں۔ شیبہ بن ربیعہ نے کہا تھا : وہ جادوگر ہیں۔ دوسرے نے کہا تھا : کاہن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ان کا رد کیا، پھر یہ کہا گیا : فما انت بنعمت رب قسم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قسم آپ کاہن اور مجنون نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قسم نہیں یہ کلام اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : بحمدللہ آپ جاہل نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے تجھے اس امر سے بری کیا ہے۔ ام یقولون شاعر بلکہ وہ کہتے ہیں ؛ حضرت محمد ﷺ شاعر ہیں۔ سیبو یہ نے کہا : لوگوں سے اس کے ساتھ خطاب کیا گیا جو ان میں کلام جارہی رہتی تھی۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ اچھی کلام ہے مگر غیر واقع ہے۔ سیبویہ یہ ارادہ کرتے ہیں کہ کلام عرب میں ام کا کلمہ ایک بات سے دوسری بات کی طرف نکلنے کے لئے ہے، جس طرح کہا : اتھجر غانیۃ ام تلم یہاں کلام مکمل ہوگئی پھر ایک دوسری بات کی طرف نکل گیا تو کہا ام الجبل واہ بھا منجدم، کتاب اللہ میں جو اس طرح کی کلام ہوتی ہے اس سے مراد تقریر، توبیخ اور ایک بات سے دوسری بات کی طرف نکلنا مقصود ہوتا ہے۔ نحوی اس (ام) کو بل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں ،۔ نتربص بہ ریب المنون، قتادہ نے کہا : کفار میں سے ایک قوم نے کہا تم حضرت محمد ﷺ کی موت کا انتظار کرو وہ تمہاری جانب سے اسے کافی ہوجائے گی، جس طرح موت فلاں قوم کے شاعر کو کافی ہوگئی (1) ۔ ضحاک نے کہا : وہ بنو عبد الدار تھے انہوں نے آپ کی طرف اس امر کو منسوب کیا تھا آپ شاعر ہیں، یعنی قریب ہی ہلاک ہوجائیں گے جس طرح ان سے پہلے شعراء ہلاک ہوئے ان کے والد جوانی میں فوت ہوگئے جس طرح ان کے والد فوت ہوئے ممکن ہے یہ بھی فوت ہوجائیں۔ اخفش نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے نتربص بہ الی ریب المنون تو حرف جار کو حذف کردیا گیا ؛ جس طرح تو کہتا ہے ؛ قصدت زید اوقصدت الی زید۔ منون سے مراد حضرت ابن عباس کے قول میں موت ہے (2) ۔ ابو الغول طہوی نے کہا : ھم منعوا حمی الو قبی بضرب یولف بین اشتات المنون (3) منون سے مراد موتیں ہیں۔ شاعر کہتا ہے ؛ بیشک ضرب (جنگ) ایسی قوموں کو جمع کردیتی ہے جن کے علاقے الگ الگ ہوتے ہیں اگر ان کی موتیں ان کے اپنے اپنے علاقوں تو انہیں متفرق آتیں وہ ایک جگہ جمع ہوگئے تو موتیں انہیں اکٹھے آگئیں۔ سعدی نے ابو مالک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے رویت نقل کرتے ہیں : لفظ ریب قرآن حکیم میں جہاں کہیں ہے اس کا معنی شک ہے مگر سورة طور میں ایک جگہ شک کے معنی نہیں ہے : یعنی ریب المنون سے مراد حادثات زمانہ ہیں۔ شاعر نے کہا : تربض بھا ریب المنون لعلھا تطلق یوما او یموت حلیلھا (4) یہاں بھی ریت المنون سے مراد حادثات زمانہ ہیں۔ مجاہد نے کہا : ریب المنون سے مراد حادثات زمانہ ہیں (1) ، منون سے مراد زمانہ ہی ہے ؛ ابو ذوہیب نے کہا : امن المنون وریبہ تتوجع والدھر لیس بمعتب من یجزع (2) ۔ کیا تو حادثات زمانہ سے دکھی ہوتا ہے اور جو جزع فزع کرتا ہے زمانہ اس پر عتاب نہیں کرتا۔ اصمعی نے کہا : منون سے مراد رات اور دن ہے۔ ان دونوں کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں عمر کو کم کرتے ہیں اور اجل کو ختم کرتے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ دہر (زمانہ) کو منون کہتے ہیں ؛ کیونکہ زمانہ حیوان کی قوت کو ختم کردیتا ہے ؛ اسی طرح منیۃ ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : دھر کو منون کہتے ہیں کیونکہ یہ قوت کو کمزور کرنے والا ہے۔ عربوں کا قول ہے ؛ حبل منین کمزور غبار ہے۔ فراء نے کہا ؛ منون مونث ہے یہ واحد اور جمع ہے۔ اصمعی نے کہا ؛ منون واحد ہے اس کی جمع نہیں آتی۔ اخفش نے کہا : یہ جمع ہے اس کا واحد نہیں۔ منون مذکر اور موئنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ جس نے اسے مذکر قرار دیا ہے اس نے اس سے مراد دھر اور موت لی ہے جس نے اسے مئونث قراردیا ہے اس نے اسے معنی پر محمول کیا ہے گویا اس نے منیۃ مراد لی ہے۔ قل تربصوا اے محمد ! ﷺ انہیں کہو تم انتظار کرو فانی معکم من المتربصین، میں بھی تمہارے بارے میں عذاب کا انتظار کرنے والا ہوں۔ انہیں غزوہ بدر کے موقع پر تلوار سے عذاب دیا گیا۔
Ayahs 52:32–33ام تا مرھم احلا مھم بھذا، احلام سے مراد ان کے عقول ہیں۔ ھذا سے مراد آپ کی ذات پر جھوٹ بولنا ہے۔ ام ھم قوم طاغون ،۔ یا بغیر عقل کے وہ سر کشی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام بل کے معنی میں ہے۔ بلکہ انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے کفر کیا اگرچہ ان کے لئے حق ظاہر ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ سے کہا گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم ایمان نہیں لائی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت دانشمند ہونے سے بیان کی ہے ؟ فرمایا : وہ ایسی عقلیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق نصیب نہیں فرمائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ احلامھم سے مراد ان کے اذہان ہیں کیونکہ عقل کافر کو نہیں دی جاتی اگر اس کے پاس عقل ہوتی تو وہ ایمان لے آتا، کافر کو ذہن دیا جاتا ہے تو پس یہ ذہن اس پر حجت ہوتی ہے، ذہن عموما علم کو قبول کرتا ہے، عقل علم میں تمیز پیدا کرتا ہے اور امرو نہی کی حدود کی مقادیر کا اندازہ لگاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے ایک روایت مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں نصرانی کتنا دانشمند ہے ؟ فرمایا : ایسا کہنے سے رک جا کافر کے ہاں عقل نہیں ہوتی کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا وقالو الو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر، (الملک) حضرت ابن عمر ؓ کی مروی حدیث میں ہے، ، ایسا کہنے سے رک جا کیونکہ عقل مند وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرتا ہے، ، اسے ترمذی حکیم ابو عبد اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے۔ ام یقولون تقولہ وہ کہتے ہیں اس نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے مراد قرآن حکیم ہے تقول سے مراد ایسا قول ہے جسے میں تکلیف سے کام لیا گیا ہو۔ عموماً یہ لفظ جھوٹ میں استعمال کیا جاتا ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے ؛ ہے جس میں تکلف سے کام لیا یا ہو۔ عموماً یہ لفظ جھوٹ میں استعمال کیا جاتا ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے : قولتنی مالم اقل واقولتنی مالم اقل یعنی تو نے مجھ پر دعویٰ کیا۔ تقول علیہ یعنی اس پر جھوٹ بولا۔ اقتال علیہ اپنی مرضی سے تصرف نے کہا :
ومنزلۃ فی دار صدق و غبطۃ وما اقتال من حکم علی طبیب
صدق اور رشک کے گھر میں مقام پو مرتبہ ہے طبیب نے میرے بارے میں اپنی مضری سے حکم نہیں لگایا ۔
پہلا ام انکار کیلئے اور دوسرا ام ایجاب کے لئے ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ کہتے ہیں بل لا یومنون۔ بلکہ وہ انکار کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 52:34قلیاتوا بحدیث مثلہ انہیں چاہئے کہ اپنی جانب سے ایسا کلام لے آئیں جو قرآن کے مشابہ ہو۔
ان کانوا صدقین۔ اگر وہ اس بات میں سچے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے پانی طرف سے کوئی بات گھڑ کر پیش کی ہے۔ حدری نے اسے فلیاتوابحدیث مثلہ پڑھا ہے یعنی حدیث کا لفظ مضاف ہے مثلہ میں ضمیر نبی کریم ﷺ کے لئے ہے وہ حدیث جس سے مراد قرآن ہے اسے آپ ﷺ کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ اسی کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے۔ ایک جماعت کی قرأت کے مطابق ھاء قرآن کے لئے ہے۔
Ayahs 52:35–36ام خلقوا من غیر شی ام میں میم زائد ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اخلقوا من غیر شیء حضرت ابن عباس نے کہا، کیا ان کے رب کے علاوہ نے انہیں پیدا کیا اور انہیں مقدر کیا ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کیا ماں اور باپ کے علاوہ میں انہیں پیدا کیا گیا تو وہ جماد کی طرح ہیں جو عقل نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی ان کے خلاف کوئی دلیل قائم نہیں وہ ایسے نہیں کیا انہیں نطفہ، عقلہ اور مضغہ سے پیدا نہیں کیا گیا ہے اور انہیں بےمقصد چھوڑ دیا گیا ہے من غیر شیء کا معنی ہے کسی شے کے لئے بھی نہیں۔ یہاں من، لام کے معنی میں ہے۔
ام ھم الخلقون۔ یا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہیں مانیں گے جب کہ وہ یہ نہیں کہتے۔ جب وہ اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کا ان کے علاوہ کوئی خالق نہیں تو کون سی ایسی چیز ہے جو انہیں روکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار کریں اور بتوں کی عبادت کا اقرار کریں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا اقرار کریں تو ان کا اقرار یہ بھی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔
ام خلقوا السموت والارض معاملہ اس طرح نہیں کیونکہ انہوں نے کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کیا۔ بل لا یوقنون۔ بلکہ وہ حق کا یقین نہیں رکھتے۔
Ayahs 52:37–38ام عندھم خزآئن ربک یعنی ان کے پاس ان کے رب کے خزانے ہیں اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے مستغنی ہیں اور اس کے امر سے اعراض کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، خزائن سے مراد بارش اور رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رحمت کی چابیاں۔ عکرمہ نے کہا، مراد رسالت ہے جہاں وہ چاہتے ہیں اسے رکھتے ہیں (1) خزائن سے مثال بیان فرمائی ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جسے اس لئے تیار کیا جاتا ہے تاکہ مختلف قسم کے ذخائر کو جمع کیا جائے۔ سب کی مقدورات ان خزائن کی طرح ہیں جن میں ہرق سم کی جنسیں ہوتی ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔
ام ھم المصیطرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی تسلط جمانے اولے اور جبار ہیں (2) ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی باطل پرست ہیں : یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی قبضہ کرنے والے ہیں (3) عطا نے کہا : وہ غالب ہیں۔ عطا نے کہا، یہ جملہ کہا جاتا ہے تسیطرت علی یعنی تو نے مجھے اپنا خادم بنا لیا، یہ ابوعبیدہ کا قول ہے۔ صحاح میں ہے مسیطر اور مصیطر کا معنی ہے کسی شی پر تسلط جمانے والا تاکہ اس کی نگرانی کرے، اس کے احوال کو نگاہ میں رکھے اور اس کے معل کو لکھتا رہے۔ اس کی اصل سطر ہے کیونکہ کتاب کو سطروں میں لکھا جاتا ہے جو آدمی یہ کام کرتا ہے وہ مسطر اور مسیطر ہوتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے سیطرت علینا۔ ابن بحر نے کہا، ام ھم المسیطرون وہ نگہبان ہیں یہ تسیطر الکتاب سے ماخوذ ہے یعنی جو کچھ اس میں لکھا ہوا ہے اسے یاد رکھتا ہے تو یہاں ہے، سین یہ ابن محصین، حمید، مجاہد، قنبل، ہشام اور ابوحیوہ کی قرأت ہے، صاد کو زاء کا اشمام یہ حمزہ کی قرأت ہے جس طرح سورة فاتحہ میں الصراط میں یہ گزر چکا ہے۔
ام لھم سلم کیا وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کیا آسمان بلند ہونے کے لئے ان کے پاس کوئی سیڑھی یا رسی ہے۔ یستمعون فیہ جس پر چڑھ کر وہ خبروں کو سنتے ہیں اور اس کی مدد سے علم غیب تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جس طرح حضرت محمد ﷺ وحی کے ذریعہ وہاں تک جا پہنچتے ہیں۔
فلیات مستمعھم وبسلطن مبین۔ تو سننے والا واضح دلیل لے آئے کہ جس پر وہ ہیں وہ حق ہے سلم یہ سلالم کا واحد ہے جس پر چڑھا جاتا ہے بعض اوقات غرز کو بھی یہ نام دیا جاتا ہے، زبیر نے کہا :
ومن ھاب اسباب المنتیۃ یلقھا ولو رام اسباب السماء بسلم
جو آدمی موت کے اسباب سے ڈرتا ہے وہ انہیں مل ہی جاتا ہے اگرچہ وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان تک کا قصد کرے۔
ابن مقبل نے کہا :
لا تحرز المرء احجاء البلاد ولا یبنی لہ فی السموات السلالیم (1)
شہروں کے اطراف اس آدمی کی حفاظت نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے لئے آسمانوں میں سیڑھیاں بنائی جاتی ہیں۔
احجاء کا معنی اطراف ہے جس طرح ارجاء ہے ان دونوں کا واحد حجا اور رجا ہے۔ جو الف مقصورہ کے ساتھ ہے اس شعر کو اعناء البلاد کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے اعناء کا معنی بھی جو انب ہیں اس کا واحد عنو ہے۔ ابن الاعرابی نے کہا، اس کا واحد عنا ہے یہ بھی الف مقصورہ کے ساتھ ہے جاء نا اعناء من الناس ہمارے پاس لوگوں کی جماعتیں آئیں اس کا واحد عنو ہے۔
یسمعون فیہ اس میں فی، علی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فی جذوع النخل (طہ : 71) یہاں بھی فی علی کے معنی میں ہے، یہ اخفش کا قول ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا، یہاں فی باء کے معنی میں ہے۔ زجاج نے کہا، کیا ان کے لئے بھی حضرت جبرئیل کی طرح کوئی فرشتہ ہے جو حضرت جبرئیل نبی کریم ﷺ کے پاس وحی لاتے ہیں۔
Ayahs 52:39–40ام لہ البنت ولکم البنون۔ انہیں شرمندہ کرنے اور تنبیہ کرنے کے لئے ان کی عقلوں کو بیوقوف قرار دیا، یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہو جب کہ خود ان کے بارے میں غیرت کا مظاہرہ کرتے ہو جس کی دانش اس جیسی ہو تو اس کے بارے میں کوئی بعید نہیں کہ وہ بعث کا انکار کرے۔
ام تسلھم اجراً کیا آپ ان سے رسالت کی تبلیغ پر اجر طلب کرتے ہیں فھم من مغرم مثقلون۔ تو وہ چئی جس کا آپ ان سے مطالبہ کرتے ہیں اس کے باعث وہ مشقت میں مبتلا ہیں۔