53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 53:1–2

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

والنجم اذا ھویٰ ۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، والنجم اذا ھوی ٰ سے مراد ہے ثریا جب فجر کے ساتھ غروب ہوجائے۔ عرب ثریا کو نجم کہتے ہیں اگرچہ تعداد میں یہ نجوم ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سات ستارے ہیں ان میں سے چھ ظاہر ہیں اور ایک مخفی ہے جس کے ساتھ لوگ اپنی نظروں کا امتحان کرتے ہیں۔ قاضی عیاض کی ” الشفا “ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ثریا میں گیارہ ستارے دیکھا کرتے تھے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : معنی ہے قسم ہے قرآن کی جب وہ نازل ہو (1) کیونکہ وہ آیات درآیات نازل ہوتا تھا، یہ فراء کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : مراد تمام ستارے ہیں جب وہ غروب ہوں، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھائی جب وہ غائب ہوں۔ لفظ واحد کے ساتھ تعبیر کرنا ممتنع نہیں اس کا معنی جمع کا ہے۔ ایک چرواہے نے کہا : عمر بن ابی ربیعہ نے کہا : احسن النجم فی السماء الثریا والثریا فی الارض زین النسائ۔ آسمان میں سب سے خوبصورت ستارہ ثریا ہے، زمین میں ثریا، عورتوں کی زینت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : نجم سے مراد ستارے ہیں جب قیامت کے روز وہ گریں گے۔ (3) سدی نے کہا : یہاں نجم سے مراد زہرہ ہے کیونکہ عربوں میں سے کچھ لوگ اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کے ساتھ شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے اس کا سبب ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کی ولادت سے قبل ستارے ٹوٹ کر گرے اس وجہ سے بہت سے عرب ڈر گئے وہ اپنے کاہن کے پاس گئے جو نابینا تھے وہ انہیں حادثات کی خبر دیتا تھا لوگوں نے اس سے ستاروں کے ٹوٹنے کے بارے میں پوچھا : اس نے کہا، بارہ برجوں کی طرف دیکھو اگر ان میں سے کوئی ایک ٹوٹ گرے تو یہ دنیا کی تباہی کی علامت ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ٹوٹے تو دنیا میں کوئی عظیم حادثہ رونما ہوگا اس کا علم حاصل کرو۔ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی یہی وہ عظیم امر تھا جس کا انہیں احساس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے والنجم اذا ھوی کو نازل فرمایا وہ ستارہ جو گرا وہ اس نبوت کی وجہ سے تھا جو اس وقت رونما ہونے والی تھی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد اس سے ایسی نباتات ہے جس کا تنانہ ہو۔ ھویٰ یعنی وہ زمین پر گر گئی۔ جعفر بن محمد لعی بن حسین نے کہا : النجم سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ اذا ھوی جب معراج کی رات آپ آسمان سے اترے۔ حضرت عوہ بن زبیر سے مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب جس کے عقد میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹی تھی (1) اس نے شام کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا اس نے کہا، میں (حضرت) محمد ﷺ کے پاس جائوں گا اور ضرور انہیں اذیت دوں گا وہ آپ کے پاس آیا اور کہا، اے محمد چ وہ النجم اذا ھویٰ اور الذی دنافتدلی کا انکار کرنے والا ہے پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر لعاب پھینکا العیاذ باللہ۔ آپ ﷺ کی بیٹی آپ ﷺ کی طرف لوٹا دی اور اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی :” اے اللہ ! اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلط کر دے۔ “ ابوطالب موجود تھے غم کی زیادتی کی وجہ سے سرجھکا لیا اور کہا : اے بھتیجے ! اس دعوت نے تجھے کیا فائدہ دیا ؟ عتبہ اپنے باپ کے پاس آیا اور اسے سارا واقعہ بتایا پھر وہ قافلہ شام کی طرف چلا۔ انہوں نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ ایک راہب اپنے کلیسا سے ان پر جھانکا اس نے کہا، یہ علاقہ درندوں کا ہے۔ ابولہب نے اپنے ساتھیوں سے کہا : اے جماعت قریش ! اس رات ہماری مدد کرنا۔ میں (حضرت) محمد ﷺ کی داع کی وجہ سے اپنے بیٹے کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ انہوں نے انے اونٹوں کو جمع کیا اور اپنے گرد بٹھا لیا اور عتبہ کا محاصرہ کرلیا۔ شیران کے منہ سونگھتا ہوا آیا یہاں تک کہ عتبہ پروار کیا اور اسے قتل کردیا : حضرت حسان نے یہ شعر کیا : من یرجع العام الی اھلہ فما اکیل السبع بالراجع اس سال کون اپنے گھر کی طرف لوٹے گا، درندے کا کھایا ہوا واپس نہیں لوٹتا۔ نجم کا اصل معنی طلوع رنا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : نجم السن دانت نکل آیا۔ نجم فلان ببلاد کذا فلاں نے فلاں علاقہ میں بادشاہ کے خلاف بغاوت کی۔ الھوی کا معنی نازل ہونا اور گرنا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے : ھوی یھوی ھویا جس طرح مضی یمضی مضیا ہے : شاعر نے کہا : بینما نحن بالبلاکث فالقا سراعاً والعیس تھوی ھویا اسی اثناء میں کہ ہم بلاکث اورق اع میں تیزی سے گزر رہے تھے جب کہ عمدہ اونٹ اتر رہے تھے۔ اصمعی نے کہا، ہوی، یھوی ھویا جب بلندی سے پستی کی طرف گرے اسی طرح انھوی فی السیر ہے جب وہ گزر جائے۔ ھوی اور انھوی دو لغتیں ہیں جن کا معنی ایک ہے، شاعر نے دونوں کو اس شعر میں جمع کردیا ہے : وکم منزل لولای لمحت کما ھوی باجوامہ من قلۃ النیق منھوی کتنی ہی منزلیں ہیں اگر میں نہ ہوتا تو سرگرداں رہتا جس طرح ہپاڑ کی چوٹی سے گرنے والی چیز نہیں گرتی ہے۔ محبت میں کہا جاتا ہے، ھوی یھوی ھوی جب وہ محبت کرے۔ ماضل صاحبکم یہ جواب قسم ہے معنی ہے حضرت محمد ﷺ حق سے گمراہ نہ ہوئے اور نہ اس سے پھرے۔ وما غوی۔ غی اشد کی ضد ہے معنی ہے گمراہ نہ ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے باطل گفتگو نہ کی۔ ایکق ول یہ کیا گیا : جو طلب کیا اس میں خائب و خاسر مراد ہے۔ غنی کا معنی خسارہ ہے۔ شاعر نے کہا : فمن یلق خیراً یحمد الناس امرہ ومن یغو لایعدم علی الغی لائما (1) جو مال پاتا ہے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور جو خسارہ اٹھاتا تو وہ ملامت کرنے والے سے خالی نہیں ہوتا۔ مراد ہے جو اپنی طلب میں ناکام رہتا ہے لوگ اس کو ملامت کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی جائز ہے کہ آپ کو خبر دی جا رہی ہو جو وحی کے بعد ہونا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ عمومی طور پر آپ کے احوال کی خبر دی جا رہی ہو یعنی آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر کار بند رہے ہیں سورة شوریٰ آیت 52 میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ما کنت تدری ما الکتب ولا ایمان کے ضمن میں جو بیان کیا ہے اس اعتبار سے یہی صحیح ہے۔
Ayahs 53:3–4

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

وما ینطق عن الھوی۔ ان ھو الا وحی یوحی۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ وماینطق عن الھوی۔ قتادہ نے کہا، آپ قرآن اپنی خواہش سے بیان نہیں کرتے (2) ” یہ تو وحی ہے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ “ ایک قول یہ کیا یا : عن الھوی، بالھوی کے معنی میں ہے، یہ ابوعبیدہ نیق ول کیا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسئل بہ خبیراً ۔ (الفرقان) یہاں بھی بہ، عنہ کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا، قتادہ کا قول اولی ہے اور عن اپنے معنی میں ہے یعنی آپ کا نطق (بولنا) اپنی رائے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد ہے ان ھو الا وحی یوحی۔ مسئلہ نمبر 2۔ جو علماء امور میں رسول اللہ ﷺ سے اجتہاد کو جائز نہیں سمجھتے وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں اس آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ سنت عمل میں نازل شدہ وحی کی طرح ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں اس کے بارے میں حضرت مقدام بن معدیکرب کی حدیث گزر چکی ہے۔ الحمدللہ۔ سبحستانی نے کہا، اگر تو چاہے تو ان ھو الا وحی یوحی۔ کو ماضل صاحبکم سے بدل دو ۔ ابن انبارمی نے کہا، یہ غلط ہے کیونکہ ان خفیفہ ماکا بدل نہیں ہوتا اس پر دلیل یہ ہے کہ تو یہ نہیں کہتا : واللہ ماقمت ان انا لقاعد۔
Ayahs 53:5–6

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

علمہ شدید القوی۔ حضرت حسن بصری کے علاوہ تمام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ شدید القویٰ سے مراد حضرت جبریل امین ہیں (3) کیونکہ ان کی رائے ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے (4) ۔ حضرت حسن بصری کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فرمان ذومرۃ پر کلام کمل ہوجائے گی۔ اس کا معنی ہے قوت والا اور قوت اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اس کا اصل معنی اس کو مضبوطی سے بٹنا ہے گویا اسے لگاتار بٹا گیا یہاں تک کہ اس کا کھولنا مشکل ہوگیا۔ پھر فرمایا فاستوی اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی عرش پر متمکن ہوا، یہ معنی حضرت حسن بصری سے مروی ہے۔ ربیع بن انس اور فراء نے کہا ، فاستوی۔ وھو بالافق اعلیٰ ۔ یعنی حضرت جبریل اور حضرت محمد ﷺ متمکن ہوئے۔ یہ اس صورت کے بعد ہوگا جب ضمیر مرفوع پر ھو سے عطف کیا جائے اکثر عرب جب اس قسم کے عطف کا ارادہ کرتے ہیں تو معطوف علیہ کی ضمیر کو ظاہر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : استوی ھود فلان وہ بہت کم ہی یہ کہتے ہیں استوی وفلان : فراء نے یہ شعر پڑھا : الم تر ان النبع یصلب عودہ ولایستوی والخروع المتصفف (1) کیا تو نہیں دیکھتا کہ نبع کے درخت کی لکڑی سخت ہوتی ہے وہ ٹوٹی ہوئی خروع (جڑی بوٹی) برابر نہیں ہوتی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ء اذا کنا ترباً وابآء نا (النمل : 67) معنی ہے کیا اس وقت جب ہم اور ہمارے آباء مٹی ہوجائیں گے۔ آیت کا معنی ہے حضرت جبریل امین اور حضرت محمد ﷺ معراج کی رات افق اعلی میں متمکن ہوئے۔ اس نے ضمیر پر عطف کو جائز قرار دیا ہے تاکہ تکرار نہ ہو۔ زجاج نے اس کا انکار کیا ہے مگر ضرورت شعری میں جائز کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جبریل امین افق اعلیٰ پر متمکن ہوئے۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔ جب استواء کرنے والے حضرت جبریل امین ہیں تو ذومرۃ کا معنی ہوگا وہ اچھی گفتگو کرنے اولے ہیں (2) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اچھی طویل صورت والے ہیں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے صحیح جسم والے روز آفات سے محفوظ ہیں، اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ئفرمان ہے : لاتحل الصدقۃ لغنتی ولالذی مرۃ سوی۔ (4) غنی اور صحیح اعضاء والے قوی آدمی کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں۔ امراء القیس نے کہا : کنت فیھم ابداً ذاحیلۃ محکم المزۃ مامون العقد میں ان میں ہمیشہ تدبیر والا رہا ہوں مضبوط اعضاء والا اور محفوظ وعدون والا۔ یہ قول کیا گیا ہے : ذومرۃ قوت والا۔ کلبی نے کہا، حضرت جبریل امین کی قوت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے قول لوط کے شہر کو پست ترین زمین سے اکھیڑا اسے اپنے ایک پر، پر اٹھایا یہاں تک آٰسمان تک لے گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کی آواز اور مرغوں کی چیخ کو سنا پھر انہیں الٹا دیا، ان کی قوت کا مظہر یہ بھی ہے کہ انہوں نے ابلیس کو ارض مقدسہ کی ایک گھاٹی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا اپنے ایک پر سے اسے ہوا دی اور اسے ہند کے دور دراز پہاڑ میں پھینک دیا، ان کی قوت کا انداز یہ بھی ہے قوم ثمود میں چیخ ماری جن کی تعداد بہت زیادہ تھی تو صبح کے قوت وہ سب اوندے منہ گرے، مرے، پڑے تھے، ان کی قوت کا اظہار اس طرح بھی ہوا کہ وہ انبیاء پر آسمان سے اترتے پھر اس کی طرف چڑھتے اور پلک جھپکنے کی دیر نہ لگتی۔ قطرب نے کا کہا : عرب ہر ایسے شخص کے بارے میں ذومرۃ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو عظیم رائے اور اعلیٰ عقل رکھتا ہو۔ شاعر نے کہا : قد کنت قبل لقاکم ذامرۃ عندی لکل مغاصم میزانہ تمہاری ملاقات سے پہلے میں دانشمند تھا میرے پاس ہر جھگڑا کرنے والے کے لئے ترازو تھا۔ اس کی عظیم رائے اور اعلیٰ دانش سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کی طرف وحی پر انہیں امین بنایا۔ جوہری نے کہا : مرۃ چار طبائع میں سے ایک ہے۔ مرہ کا معنی قوت اور عقل کی پختگی ہے رجل مریر ایسا آدمی جو قوی ہو اور دانشمند ہو۔ شاعر نے کہا : تری الرجل النحیف فتزدریہ وحشو ثیابہ اسد مریر تو کمزور آدمی کو دیکھتا ہے تو تو اسے بےعزت کردیتا ہے جب کہ اس کے کپڑوں کے اندر قوی شیر ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : ذومرۃ کا معنی ہے قوت والا (1) ، اس معنی میں خفاف بن ندبہ کا قول ہے : انی امرو ذومرۃ فاستبقی (2) میں ایسا آدمی ہوں جو بڑا قوی ہے تو مجھے باقی رکھ۔ قوت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور مخلوق کی صفات میں سے بھی ہے۔ فاستوی اس کا فاعل حضتر جبریل امین ہیں جس طرح ہم نے بیان کیا ہے یعنی آسمان وہ مکان کی طرف بلند ہوئے بعد اس کے کہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کو علم پہنچایا، یہ سعید بن مسیب اور ابن جبیر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ اس صورت میں کھڑے ہوئے جس صورت پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا، کیونکہ وہ نبی کریم کے پاس انسانوں کی صورت میں آتے تھے جس طرح انبیاء کے پاس انسانی صورت میں آتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے سوال کیا کہ وہ اپنی وہ صورت دکھائیں جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے تو حضرت جبریل امین نے دو دفعہ آپ کو اپنی صورت دکھائی ایک دفعہ زمین میں اور ایک دفعہ آسمان میں۔ جاں تک زمین کا تعلق ہے وہ افق اعلیٰ میں صورت دکھائی۔ نبی کریم ﷺ غار حرا میں تھے جبرئیل امین نے مشرق سے طلوع کیا تو مغرب تک زمین کو بھر دیا۔ نبیک ریم ﷺ بےہوش ہو کر زمین پر آ رہے تو جبرئیل امین انسانوں کی صورت میں آپ کے پاس آئے انہیں سینہ سے لگایا اور آپ ﷺ کے چہرہ سے غبار صاف کرنے لگے۔ جب نبی کریم ﷺ کو افاقہ ہوا، فرمایا :” اے جبرئیل امین ! میں یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس صورت پر پیدا کیا ہے۔ “ (3) حضرت جبرئیل امین نے کہا، اے محمد ! ﷺ میں نے اپن پروں میں سے صرف دو پر پھیلائے ہیں میرے چھ سو پر ہیں ہر ایک پر کی وسعت مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ فرمایا :” یہ تو بہت بڑی چیز ہے۔ “ حضرت جرئیل امین نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا کی ہے میری حیثیت اس کے مقابلہ میں بڑی چھوٹی سی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرافیل کو پیدا فرمایا ہے اس کے چھ سو پر ہیں اس کا ہر ایک پر اتنا بڑا ہے جتنے بڑے میرے سب پر ہیں۔ بعض اوقات وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ وہ چھوٹی چڑیا کے برابر ہوجاتا ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ولقد راہ بالافق المبین۔ (الکتویر) جہاں تک آسمان میں دیکھنے کا تعلق ہے تو آپ نے سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا اس صورت پر حضرت محمد ﷺ کے علاوہ کسی نبی نے نہیں دیکھا۔ ایک تیسرا قول بھی ہے کہ قرآن آپ کے سینہ میں قرار پکڑ گیا۔ اس تعبیر کی دو صورتیں ہیں (1) حضرت جبرئیل امین کے سینہ میں وہ قرار پکڑ گیا جب وہ اسے لے کر اترے (2) حضرت محمد ﷺ کے سینہ میں ثبت ہوگیا جب یہ آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ ایک چوتھا قول بھی ہے : معنی ہے حضرت محمد ﷺ نے اعتدال کی راہ اپنائی۔ اس تعبیر کی دو صورتیں ہیں (1) اپنی قوت میں معتدل ہوئے (2) اپنی رسالت میں کامل ہوئے، ماوردی نے ان دونوں کا ذکر کیا ہے۔ (1) میں کہتا ہوں : پہلی صورت میں کلام کی تکمیل ذومرۃ پر ہوگی اور دوسری صورت میں شدیدا لقوی پر تکمیل ہوگی۔ ایک پانچواں قول بھی ہے : اس کا معنی ہے بلند ہونا۔ اس تعبیر کی صورت میں دو وجہیں ہیں۔ (1) جبرئیل امین اپنے مکان کی طرف بلند ہوئے جس طرح ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ (2) نبی کریم ﷺ معراج کے ساتھ بلند ہوئے۔ چھٹا قول ہے : اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہوا، یہ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق ہے۔ سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

وھو بالافق الاعلیٰ ۔ یہ جملہ حال ہے معنی ہے فاستوی عالیا یعنی حضرت جبرئیل امین اپنی صورت پر بلند ہوتے ہوئے کھڑے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اس سے قبل انہیں نہیں دیکھا تھا نبی کریم ﷺ نے اس کا مطالبہ کیا تھا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ افق سے مراد آسمان کی جانب ہے اس کی جمع آفا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے سورج آتا ہے (2) سفیان نے یہی کہا ہے۔ اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ ہا جاتا ہے افق وافق مثل عسہ و عسہ۔ حم سجدہ میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔رس افق عمدہ گھوڑا۔ مونث بھی اسی طرح ہے : شاعر نے کہا : ارجل لمتی و اجر ذیلی و تحمل شکتی افق کمیت میں اپنی مینڈھیوں میں کنگھی کرتا ہوں اور اپنے دامن کو گھسیٹتا ہوں اور میرے اسلحہ کو عمدہ بھورا گھوڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ھو ضمیر سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں یعنی لیلتہ المعراج کو آپ افق مبین پر تھے۔ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ یہ جملہ بولا جاتا ہے استوی ھو وفلان یہ نہیں کہا جاتا : استوی و فلان۔ مگر ضرورت شعری میں یہ کہا جاسکتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) بلند ہوئے اور جبرئیل امین اپنی اصل صورت میں افق اعلیٰ پر تھے کیونکہ جب وہ وحی لے کر اترتے تو نبی کریم ﷺ کے لئے انسانی صورت اختیار کرتے نبی کریم ﷺ نے یہ پسند کیا کہ اسے حقیقی صورت میں دیکھیں تو جبرئیل امین افق مشرق سے ظاہر ہوئے اور افق کو بھر دیا۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

ثم دنا فتدلی۔ یعنی افق علی میں ظاہر ہونے کے بعد حضرت جبرئیل امین زمین کے قریب ہوئے فتدلی یعنی وحی کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے مطلب یہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے اس کی عظمت کو دیکھا جو دیکھا اور اس وجہ سے آپ خوفزدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو آدمی کی صورت میں لوٹا دیا جب وہ وحی کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوئے یہی اللہ تعالیٰ کے فرمان فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ کا مقصود ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کی طرف وحی کی اور جبرئیل امین قاب قوسین او ادنیٰ ۔ کے مقام پر فائز تھے (1) یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، قتادہ اور بیع وغیرہ کا نقطہ نظر ہے۔ حرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ ثم دنا فتدلی۔ کا مفہوم یہ ہے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کے قریب ہوا۔ حضرت انس بن مالک نے نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت نقل کی ہے۔ معنی ہوگا اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا حکم قریب وہا۔ التدلی کا اصل معنی ہے کسی چیز کی طرف اترنا یہاں تک کہ اس کے قریب ہوجائے تو اسے قرب کی جگہ رکھا گیا ہے : لبید نے کہا فتدلیت علیہ قافلاً میں لوٹتے ہوئے اس پر اترا۔ فراء اس طرف گیا ہے کہ فتدلی میں فاء وائو کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہے پھر جبرئیل امین (علیہ السلام) نیچے اترے اور قریب ہوئے لیکن یہ جائز ہوتا ہے جب دو فعلوں کا معنی ایک ہو یا ایک کی طرح ہو تو جس کو چاہو اسے پہلے رکھ لو۔ تو کہہ سکتا ہے : فدنا فقرب اور قرب فدنا۔ شتمنی فاساء اور اساء فشتمی کیونکہ گالی دینا اور برا سلوک کرنا ایک ہی معنی میں ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ا قتربت الساعۃ وانشق القمر۔ (القمر) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے معنی ہے چاند پھٹ گیا اور قیامت قریب آگئی۔ جرجانی نے ہا : کلام میں تقدیر و تاخیر ہے یعنی تدلی فدنا کیونکہ نیچے اترنا قریب ہونے کا سبب ہے۔ ابن انباری نے کہا : یعنی پھر جبرئیل امین آسمان سے اترے اور حضرت محمد ﷺ کے قریب ہوئے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، معراج کی رات رفرف حضرت محمد ﷺ کی طرف اترا آپ اس پر بیٹھے پھر اسے بلند کیا گیا تو آپ اپنے رب کے قریب ہوگئے۔ اس کا ذکر ابھی آئے گا۔ جس نے یہ کہا معنی ہے جبرئیل امین بلند ہوئے جب کہ حضرت محمد ﷺ افق اعلی پر تھے وہ ضرور کہے گا پھر حضرت محمد ﷺ اپنے رب کے قریب ہوئے (2) یہ کرامت کا قرب ہے تو نبی کریم ﷺ سجدہ ریز ہوگئے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ قشیری نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے تدلی اصل میں تدلل تھا جس طرح تیرا یہ قول ہے تظنی اصل میں تظنن ہے یہ بعید ہے کیونکہ دلال عبودیت کی صفت میں پسندیدہ نہیں۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

فکان قاب قوسین او اولی۔ یعنی حضرت محمد ﷺ اپنے رب سے یا جبرئیل امین سے دو عربی کمانوں کے مقدار پر تھے، یہ حضرت ابن عباس، عطا اور فراء کا نقطہ نظر ہے۔ زمحشری نے کہا، اگر تو یہ سوال کرے فکان قاب قوسین کی تقدیر کیسے درست ہوگی (3) ؟ میں کہوں گا : اس کی تقدیر یہ ہوگی فکان مقدار مسافۃ قرب مثل قاب قوسین درمیان سے ان مضافوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ جس طرح ابواعلیٰ نے اپنے قول میں کہا : وقد جعلتنی من حذیمۃ اصبعا اس نے مجھے حذیمہ سے ایکا نگلی برابر مسافت پر کر چھوڑا۔ یہ بھی اصل میں ذامقدار مسافۃ اصبع تھا۔ اوادنی یعنی تمہارے اندازے کے مطابق، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اویزیدون صحاح میں ہے : تو کہتا ہے بینھما قاب قوسین، قیمب قوس، قادقوس، قید قوس یعنی کمان کے برابر زید بن علی نے اسے قاد پڑھا ہے اسے قید اور قدد بھی پڑھا گیا ہے، یہ زمخشری نے ذکر کیا ہے۔ قاب سے مراد کمان کے قبضہ سے اس کے سرے تک کا فاصلہ ہر قوس کے دوسرے ہوتے ہیں۔ بعض نے اللہ تعالیٰ کے فرمان قاب قوسین کے بارے میں فرمایا : اصل میں ارادہ کیا تھا قابی قوس تو اس میں قلب کا قاعدہ جاری کردیا۔ حدیث طیبہ میں ہے ولقاب قوس احدکم من الجنۃ و موضع قدہ خیر من الذنیا وما فیھا (1) تم میں سے کسی ایک کے لئے جنت میں سے قوس کے قبضہ سے کنارے تک کی جگہ اور چھڑی کے برابر کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ قد کا معنی سوط ہے۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’ جنت میں کمان کے قبضہ سے اس کے کنارے تک کی جگہ دنیا و فیہا سے بہتر ہے (2) “ یہاں کمان کے ساتھ اس تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ یہ مختلف نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ قاضی عیاض نے کہا : یہ بات ذہن نشین کرلو کہ نبی کریم ﷺ کا اپنے رب سے جو قرب ہے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی سے جو قرب ہے یہ کوئی مکان کا قرب اور مسافت کا قرب نہیں اس سے مقصود نبی کریم ﷺ کی عظمت، متربہ کی بلندی، انوار معرفت کے اشراق، اس کے عیب اور قدرت کے اسرار کا مشاہدہ کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی کریم کیق رب کا مطلب ہے احسان کرنا، انس عطا کرنا، معاملاتک و سویع کردینا اور عزتیں عطا کرنا۔ نبی کریم ﷺ کے ارشاد : ینزل ربنا الی سماء الدنیا (3) کی تاویل ایک صورت میں یہ ہوگی۔ وہ عرضداشت کو قبول فرماتا ہے اور احسان فرماتا ہے۔ قاضی عیاض نے کہا : فکان قاب قوسین او ادنی جس نے ضمیر کو اللہ تعالیٰ کی رف لوٹایا ہے حضرت جبرئیل امین کی طرف نہیں لوٹا یا تو یہ انتہائی قرب، لطف محل، ایضاح معرفت، حقیقت محمد یہ پر نگاہ رکھنا، سرور دو عالم ﷺ کی رغبت کو پورا کرنا، مقصد کو شرف قبولیت سے نوازنا، شفقت کا اظہار کرنا اور اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرنا ہے۔ اس بارے میں وہی تاویل کی جاسکتی ہے جو تاویل سرور دو عالم کے اس فرمان میں کی جاسکتی ہے : من تقرب منی شبرا تقربت منہ ذراعاو من اتانی یمشی اتیتہ مھرولۃ (4) احابت و قبول کا قرب ہے احسان اور آرزو کو جلدی پورا کرنا ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : پھر جبرئیل امین اپنے رب کے قریب ہوئے اور وہ قاب قوسین او ادنیٰ کے مقام پر تھے، یہ مجاہد کا قول ہے، اس پر ایک حدیث بھی دلالت کرتی ہے، ان اقرب الملائکۃ من اللہ جبریل (علیہ السلام) فرشتوں میں سے جبرئیل امین اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب رکھتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : او، وائو کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی قاب قوسین و ادنی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : او، بل کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی قاب قوسین بل ادنی۔ سعید بن مسیب نے کہا : قاب سے مراد عربی کمان کا سرا ہے جس پر دھاگا باندھا جاتا ہے اور کمان اٹھانے اولا جس کے ذریعے اپنے کندھے پر لٹکاتا ہے ہر قوس کا ایک قاب ہوتا ہے یہ خبر دی ہے کہ حضرت جبرئیل امین حضرت محمد سے اتنے قریب ہوئے جتنا قاب قوسین کا قرب ہوا کرتا ہے۔ سعید بن جبیر، عطا، ابو اسحاق، ابو وائل، شفیق بن سلمہ نے کہا، فکان قاب قوسین سے مراد ہے دو ہاتھ کا فاصلہ تھا (1) قوس سے مراد ہاتھ ہوا کرتا ہے جس کے ساتھ ہر شے کی پیمئاش کی جاتی ہے، یہ بعض حجازیوں کی لغت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ از دشنوءہ کی لغت ہے۔ کسائی نے کہا، فکان قاب قوسین او ادنیٰ کا معنی ہے ایک قوس جس طرح شاعر کیق ول میں تثنیہ واحد کے معنی میں ہے۔ ومھمھین قذفین مرتین قطعتہ بالسمت لا بالسمتین یہاں مھمھین سے مراد ایک مھمھا ہے۔ قوس کا لفظ مئونث و مذکر دونوں طرح اسعتمال کیا جاتا ہے جس نے اس کو مئونث قرار دیا ہے اس نے اس کی تصغیر قویسہ کہی ہے جس نے اسے مذکر قرار دیا ہے اس نے اس کی تصغیر قویس کہی ہے۔ مثال ای کی یہ ہے ھومن خیر قوس سھما اس کی جمع قسی، قسی، اقو اس، اور قیاس آتی ہے، ابوعبیدہ نے یہ شعر پڑھا : ووتر الاوس اور القیاسا ” محل استدلال القیاسا ہے “۔ قوس سے مراد برتن میں باقی ماندہ کھجوریں ہیں۔ قوس سے مراد آسمان کا برج بھی ہے۔ جہاں تک قوس کا تعلق ہے اس سے مراد راہب کی عبادت گاہ ہے : شاعر نے ایک عورت کا ذکر کیا : لاستفتنتنی وذا المسحین فی القوس محل استدلال القوس ہے۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ جو وحی بندے کی طرف کی گئی اس کی عظمت شان کا اظہار ہے۔ وحی کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اس سے مراد جلدی سے کوئی چیز پھینکنا اور عطا کرنا ہے، اسی سے الوحاء الوحاء ہے معین ہے جلدی کرو، جلدی کرو۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے حضرت محمد ﷺ کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے جبرئیل امین کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جبرئیل امین نے اللہ تعالیٰ کے بندے حضرت محمد ﷺ کی طرف وحی کی جو اس کے رب نے اس کی طرف وحی کی تھی (1) یہ قول ربیع حسن بصری، ابن زید اور قتادہ نے کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کی طرف وحی کی اور جبرئیل امین نے حضرت محمد ﷺ کی طرف وحی کی (2) پھر کہا گیا : یہ معنی کیا مبہم ہے ہم اس پر مطلع نہیں ہو سکتے اجملای طور پر اس پر ایمان لانے کے ہم پابند ہیں یہ معلوم اور مفسر ہے اس کے بارے میں دو قول ہیں۔ دوسرا قول سعید بن جبیر کا ہے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت حمد ﷺ کی طرف وحی کی ” کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا تو میں نے تجھے پناہ دی، کیا میں نے تجھے اپنی محبت میں وارفتہ نہیں پایا تو اپنے عرفان سے نوازا کیا۔ تجھے عیال دار نہیں پایا تو میں نے تجھے غنی کردیا۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی اے محمد چ جب تک تو جنت میں داخل نہ ہو جنت انبیاء پر حرام ہے اور جب تک تیری امت جنت میں داخل نہ ہو جنت امتوں پر حرام ہے۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

ماکذب القوادما رای۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے دل نے معراج کی رات نہیں جھٹلایا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بصر آپ کے دل میں رکھی (3) یہاں تک کہ آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے رئویت بنا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ آنکھ سے حقیقی رئویت تھی۔ پہلا قول حضر ابن عباس سے مروی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کا دیدار کیا (4) یہ حضتر ابو ذر اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے۔ دوسرا قول حضرت انس اور جماعت کا ہے۔ حضرت ابن عباس سے بھی یہ مروی ہے فرمایا : کیا تم تعجب کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خلت، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام اور حضرت محمد ﷺ کے لئے دیدار ہو۔ (5) حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے انہوں نے کہا، جاں تک ہم بنی ہاشم کا تعلق ہے تو ہم کہتے ہیں حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کا دیدار دو دفعہ کیا ہے۔ یہ گفتگو سورة انعام میں اللہ تعالیٰ کے فرمان لا تذر کہ الابصار وھویدرک الابصار (انعام : 103) کے معنی میں گزر چکی ہے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے کہ ہم نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ؟ فرمایا : میں نے اپنے دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر پڑھا ما کذب الفواد مارای۔ ایک تیسرا قول بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کو دیکھا ہے : یہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے۔ ابو العالیہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ سے یہ پوچھا گیا : کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ؟ فرمایا :” میں نے ایک دریا دیکھا اور دریا کے آگے ایک حجاب دیکھا اور حجاب کے پیچھے ایک نور دیکھا اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ “ (1) صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ؟ فرمایا :” وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا (2) “ معنی ہے نور مجھ پر غالب آگیا اور مجھ پر اس میں سے ایسی چیز غالب آگئی جس نے مجھے اس کے دیدار سے روک دیا۔ اس پر ایک روایت بھی دلالت کرتی ہے۔ رایت نورا (3) میں نے نور دیکھا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل امین کو ان کی صورت میں دو دفعہ دیکھا (4) ہشام نے ابن عامر سے اور اہل شام نے ماکذب تشدید کی صورت میں پڑھا ہے۔ معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے دل نے اس چیز کو نہ جھٹلایا جسے اس رات آپ نے اپنی آنکھوں سے دیھکا بلکہ اس کی تصدیق کی۔ ما اس کا مفعول ہے کوئی حرف مقدر نہیں کیونکہ جب یہ فعل مشدد ہو تو حرف کے بغیر متعدی وہتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ما، الذی کے معنی میں ہو ضمیر عائد محذوف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے ساتھ مل کر یہ معبود کے معنی میں ہو ضمیر عائد محذوف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے ساتھ مل کر یہ مصدر کے حکم میں ہو۔ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی ماکذب فواد محمد فیما رای تو حرف صفت کو گرا دیا۔ حضرت حسان نے کہا : لو کنت صادقۃ الذی حدثتنی لنجوت منجا الحارث بن ھشام اگر تو اس بات میں سچی ہوتی جو تو نے مجھ سے بات کی تو تو حارث بن ہشام کے نجات پانے کی طرح نجات پا جاتی۔ یہ اصل میں فی الذی حدثنی تھا۔ یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے ساتھ مل کر مصدر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، یعنی حضرت محمد ﷺ نے جو دیکھا آپ کے دل نے اس کو نہ جھٹلایا۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

افتمرونہ علی مایری۔ حمزہ اور کسائی نے افتمرونہ تاء کے فتحہ اور الف کے بغیر پڑھا ہے معنی ہے کیا تم انکار کرتے وہ۔ ابوعبید نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے، لم یم اورہ وانما حجدوہ یہ جملہ کہا جاتا ہے : مراہ حقہ یعنی اس کے حق کا انکار کردیا (5) مریتہ انا، شاعر نے کہا ، لئن ھجرت اخا صدق و مکرمۃ لقد مریت اخاما کان یمریکا تو نے سچے اور عزت والے شخص کو چھوڑ دیا ہے تو تو نے اس بھائی کا انکار کیا ہے جو تیرا انکار نہیں کرتا تھا۔ یعنی تو نے اس کا انکار کیا۔ مبرو نے کہا : مراہ عن حقہ و علی حقہ جب اس کا حق اس سے روک لے اور اس کو اس سے دور کر دے۔ علی، عن کے معنی میں ہے اس کی مثال بنی کعب بن ربیعہ کا قول ہے :۔ ؓ علیک یعنی رضی عنک اعرج اور مجاہد نے پڑھا افتمرونہ تاء مضموم ہے اور الف نہیں یہ امریت سے مشتق ہے یعنی تم شک کرتے ہو۔ باقی قراء نے افتم اور نہ پڑھا ہے یعنی کیا تم جھگڑا کرتے ہو کہ رسول اللہ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے۔ دونوں معنی ایک دوسرے میں داخل ہیں کیونکہ ان کا مجادلہ انکار کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جحود (انکار) تو ان کی جانب سے دائمی تھا یہ تازہ جھگڑا تھا۔ انہوں نے کہا، ہمارے لئے بیت المقدس کی کیفیت بیان کرو اور ہمارے اس قافلے کے بارے میں بتائو جو شام کے راستہ میں ہے۔ جس طرح پہلے بات گزری ہے۔
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

ولقد راہ نزلۃ اخری۔ نزلۃ یہ مصدر ہے حال کی جگہ واقع ہے گویا فرمایا : لقد راہ نازلا نزلۃ اخری حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت محمد ﷺ نے ایک دفعہ اپنے دل سے اپنے رب کو دیکھا۔ امام مسلم نے ابوالعالیہ سے روایت نقل کی ہے۔ فرمایا : ما کذب الفواد مارای۔ ولقد راہ نزلۃ اخری۔ فرمایا : اپنے دل سے دو دفعہ دیکھا (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان نزلۃ اخری حضرت محمد ﷺ کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ حضور ﷺ کا کئی دفعہ اوپر اور نیچے آنا ہوا جس طرح نمازیں فرض ہوئیں۔ ہر دفعہ کے عروج کے ساتھ نزول بھی ہوا۔ اس تعبیر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا فرمان عند سدرۃ المستھی۔ سے مراد ہے حضرت محمد ﷺ سدرۃ المنتہی اور ان میں سے بعض اترنے کی جگہوں میں تھے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلۃ اخری۔ سے مراد حضرت جبرئیل امین ہیں (2) یہ صحیح مسلم میں بھی ثابت ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے افق اعلی میں جبریل امین کو دیکھا جس کے سو پر تھے جس کے پروں سے موتی اور یاقوت گر رہغے تھے۔ “ اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 53:14–15

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

عند سدرۃ المنتھی۔ عندیہ راہ کا صلہ ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ سدرۃ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ ساتویں آسمان میں ہے۔ اس بارے میں حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ پہلی روایت وہ ہے جسے مرہ نے حضرت عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے جو چیز بلندی کی طرف جاتی ہے اس پر اس کی انتہاء ہوجاتی ہے تو اس سے قبض کرلیا جاتا ہے جو اوپر سے چیز نیچے آتی ہے اس کا اترنا یہاں تک ہوتا ہے پھر اسے قبض کرلیا جاتا ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

اذ یغشی السدرۃ مایغشی۔ کہا : یہ سونے کا ایک بستر ہے۔ کہا : رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں۔ پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات دی گئیں، حضور ﷺ کی امت میں سے جس نے شرک نہیں کیا اس کے گناہ بخش دیئے گئے۔ دوسری حدیث وہ ہے جسے قتادہ نے حضرت انس سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی تک مجھے بلند کیا گیا جس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح ہیں اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اس کی جڑ سے دو ظاہر دریا نکلتے ہیں اور دو مخفی دریا، میں نے پوچھا، اے جبرئیل ! یہ کیا ہے جواب دیا : جہاں تک پوشیدہ کا تعلق ہے وہ تو جنت میں ہوں گے جہاں تک ظاہر دریائوں کا تعلق ہے تو وہ نیل اور فرات ہیں (1) “ الفاظ دارق طنی کے ہیں۔ نبق باء کے کسرہ کے ساتھ ہے اس کا واحد نبقہ ہے۔ یہ کہا اجتا ہے نبق نون کے فتحہ اور باء کے سکون کے ساتھ ہے۔ یعقوب نے ” الاصلاح “ میں دونوں قول ذکر کئے۔ یہ مصریوں کی لغت ہے پہلی زیادہ فصیح ہے یہی وہ ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ امام ترمذی نے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ کے سامنے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا۔ (2) فرمایا :” ایک سوار اس کی ایک ٹہنی کے سائے میں سو سال تک چلتا ہے یا اس کے سائے سے سو سال سوار سایہ حاصل کرتے ہیں “ یحییٰ کو شک ہوا ہے۔ ” اس میں سونے کے پتنگ ہوں گے گویا اس کا پھل مٹکے ہیں۔ “ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ میں کہتا ہوں : اسی طرح مسلم کے الفاظ ہیں جو ثابت کی حدیث میں ہے جو حضرت انس سے مروی ہے ” پھر مجھے سدرۃ المنتہی کی طرف سے لجایا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے اوراق ہاتھی کے کانوں جیسے ہیں (3) اس کے پھل مٹکوں جیسے ہیں جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم اس پر غالب آجاتا ہے تو اس میں تغیر آجاتا ہے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی بھی چیز یہ طاقت نہیں رکھتی کہ اس کے حسن کی تعریف کرے۔ “ اس میں اختلاف کیا گیا ہے کہ اس کا نام سدرۃ المنتہی کیوں ہے ؟ (1) جس طرح پہلے گزرا ہے حضرت ابن مسعود سے روایت مروی ہے کہ اوپر سے جو چیز نیچے آتی ہے اور نیچے سے جو چیز اوپر جاتی ہے وہ یہاں آ کر رک جاتی ہے۔ (2) انبیاء کا علم یہاں آکر ختم ہوجاتا ہے اور ماوراء کا علم ان سے غائب ہوجاتا ہے، یہ حضر ابن عباس کا قول ہے۔ (3) اعمال یہاں تک پہنچتے ہیں اور انہیں لے لیا جاتا ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ (4) ملائکہ اور انبیاء یہاں پہنچتے ہیں اور اس کے پاس رک جاتے ہیں، یہ کعب کا قول ہے۔ (5) اسے سدرۃ المنتہی اس لئے کہتے ہیں کیونکہ مومنوں کی روحیں یہاں آ کر رک جاتی ہیں، یہ ربیع بن انس کا قول ہے۔ (6) یہاں مومنوں کی روحیں پہنچتی ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ (7) جو آدمی حضرت محمد ﷺ کی سنت اور منہاج پر ہوتا ہے وہ یہاں تک پہنچتا ہے، یہ حضرت علی شیر خدا اور ربیع بن انس کا بھی قول ہے۔ (8) یہ حاملین عرش کے سروں پر ایک درخت ہے یہاں تک مخلوقات کا علم پہنچتا ہے، یہ کعب کا قول ہے (1) میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یہ ارادہ کیا کہ اس کی بلندی اور شاخوں کی چوٹی عاملین عرش کے سروں سے بلند ہے اس کی دلیل پہلے گزر چکی ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخوں کی بلندی ساتویں آسمان میں ہے پھر وہ اس سے بلند ہوئیں تو وہ حاملین عرش کے سروں سے بڑھ گئیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ (9) اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ جسے اس کی طرف بلند کیا گیا تو وہ کرامت میں اپنی انتہا تک جا پہنچا۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے (2) جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کر ایء گی تو آپ سدرۃ المنتہی تک جا پہنچے تو آپ سے عرض کی گئی :” ہر کوئی یہاں آ کر رک جاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو آپ ﷺ کی امت میں سے آپ ﷺ کی سنت پر ہوں گے۔ یہ ایسا درخت ہے جس کی جڑ سے ایسے پانی کی نہریں نکلیں گی جو بدبو دار نہیں ہوگا، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جن کا ذائقہ نہیں بدلے گا، شراب کی ایسی نہریں جاری ہوں گی جو پینے والوں کے لئے لذت کا باعث ہوں گی اور مصفی شہید کی نہریں جاری ہوں گی۔ یہ ایسا درخت ہے کہ ایک تیز رفتار سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا اور اس کو طے نہ کرسکے گا اس کا ایک پتہ پوری امت کو سایہ دے گا۔ “ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ عندھا جنۃ الماوی۔ جنت ماوی کی جگہ کی تعریف ہے یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے حضرت علی شیر خدا، حضرت ابوہریرہ، حضرت انس، ابوسبرہ جہنی، حضرت عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مجاہد نے عندھا جنۃ الماوی پڑھا ہے مراد ہے جنۃ المبیت رات گزارنے کی جنت۔ مجاہد نے کہا : مراد لیا ہے اجنہ ھاء ضمیر نبی کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اخفش نے کہا : معنی ہے اس نے اسے پا لیا، جس طرح تو کہتا ہے جنہ اللیل اسے ڈھانپ لیا اور اسے پا لیا۔ عام قرأت جنۃ الماوی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ وہ جگہ ہے جہاں تک متقین پہنچتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جاں تک شہداء کی روحیں پہنچتی ہیں (3) ، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ یہ عرش کی دائیں جانب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وہ جنت ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) ٹھہرے تھے یہاں تک کہ آپ کو اسی سے نکالا گیا۔ یہ ساتویں آسمان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمام مومنوں کی روحیں جنۃ ماوی میں ہیں۔ اسے جنۃ ماوی اس لئے نام دیا گیا ہے کیونکہ مومنوں کی روحیں یہاں پناہ لیتی ہیں۔ یہ عرش کے نیچے ہے۔ اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور اس کی عمدہ خوشبو سے مشام جان کو معطر کرتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت جبرئیل امین اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) یہاں پناہ لیتے ہیں۔ اذیغشی السدرۃ مایغشی۔ حضرت ابن عباس، ضحاک، حضرت ابن مسعود اور ان کے اصحاب نے کہا : وہ سونے کے پلنگ ہوں گے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس نے نبی کریم ﷺ سے ایک روایت بھی نقل کی ہے صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود سے اس کا قول پہلے گزر چکا ہے (1) حضرت حسن بصری نے کہا، اسے رب العالمین نے ڈھانپ لیا تو وہ روشن ہوگیا۔ قشیری نے کہا، رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا اسے کس چیز نے ڈھانپ رکھا ہے ؟ فرمایا :” سونے کے پتنگوں نے۔ “ دوسری روایت میں ہے : اللہ تعالیٰ کے نور نے اسے ڈھانپ رکھا ہے یہاں تک کہ کوئی طاقتن ہیں رکھتا کہ وہ اسے دیکھے۔ “ ربیع بن انس نے کہا، اسے رب کے نور نے ڈھانپ رکھا ہے فرشتے اس پر اس طرح گرتے ہیں جس طرح کوے درخت پر گرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے ایک روایت مروی ہے ” میں نے سدرہ کو دیکھا جسے سونے کے پتنگوں ( تتلیاں وغیرہ) نے ڈھانپ رکھا ہے میں نے اس کے ہر پتے پر ایک فرشتے کو دیکھا جو کھڑے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہا تھا (2) اللہ تعالیٰ کے فرمان اذ یغشی السدرۃ مایغشی۔ کا یہی معنی و مفہمو ہے ‘ اسے مہدوی اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت انس بن مالک نے کہا : اذ یغشی السدرۃ مایغشی۔ کا معنی ہے سونے کی چڑیا۔ اسے مرفوع بھی روایت کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ سبز رفرف ہے نیب کریم ﷺ سے یہ مروی ہے ” اسے رفرف یعنی سبز پرندوں نے ڈھانپا ہوا ہے۔ “ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : اسے رب العزت نے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہاں رب العزت سے مراد اس کا حکم ہے جس طرح صحیح مسلم میں مرفوع روایت ہے :” جب اللہ تعالیٰ کے امرنے اسے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہاں رب العزت سے مراد اس کا حکم ہے جس طرح صحیح مسلم میں مرفوع روایت ہے :” جب اللہ تعالیٰ کے امر نے اسے ڈھانپ لیا جو ڈھانپ لیا۔ “ (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے گویا فرمایا : جب سدرہ کو ڈھانپ لیا ملکوت کے ان دلائل نے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ کیا : اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ والموتفکۃ اھوی۔ فغشھا ما غشی۔ اسی کی مثل الحآقۃ۔ ما الحآقۃ۔ (الحاقہ : 2-1) ہے ماوروی نے اپنی کتاب معانی القرآن میں کہا، اگر یہ سوال کیا جائے اس امر کے لئے سدرہ (بیری کے درخت) کو کیوں منتخب کیا گا ہے کسی اور درخت کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا ؟ اسے جواب دیا جائے گا : سدرۃ تین اوصاف کے ساتھ خاص ہے لمبا سایہ، عمدہ ذائقہ، اچھی خوشبو۔ یہ اس ایمان کے مشابہ ہے جو قول، عمل اور نیت کو جامع ہے۔ سدرہ کا سایہ ایمان کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو عمل کی ہوا کرتی ہے کیونکہ وہ ایمان پر زائد وہتا ہے، سدرہ کا ذائقہ نیت کے قائم مقام ہے کیونکہ وہ مخفی ہوتی ہے اور اس کی خوشبو قول کے قائم مقام ہے کیونکہ وہ ظارہ ہوتا ہے۔ ابو دائود نے اپنی سنن میں یہ روایت نقل کی ہے کہ نصر بن علی، ابو اسامہ سے وہ ابن جریج سے وہ عثمان بن ابی سلیمان سے وہ سعید بن محمد بن جبیر بن مطعم سے وہ عبدلالہ بن حبشی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من قطع سدرۃ صوب اللہ راسہ فی النار (4) ابو دائود سے اس حدیث کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث مختصر ہے اس سے مراد ہے جس نے جنگل سے بےمقصد اور ظلما ایسا درخت کاٹا مسافر اور چوپائے جس کا سایہ حاصل کرتے تھے اس کاٹنے والے کا اس درخت میں کوئی حق نہیں تھا اللہ تعالیٰ اس کا سر جہنم میں جھکائے گا۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

ما زاغ البصر وما طغی۔ حضرت ابن عباس نے کہا : آنکھ دائیں پھری نہ بائیں پھری اور نہ ہی اس حد سے تجاوز کیا جس حد کو اس نے دیکھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے جو حکم دیا گیا اس سے اس نے تجاوز نہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آنکھ نے جو آیات دیکھیں ان سے وہ غیر کی طرف نہ اٹھی۔ اس مقام پر جو نبی کریم ﷺ کا ادب ہے یہ اس کا بیان ہے کیونکہ وہ دائیں اور بائیں متوجہ نہ ہوئی۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

لقد رای من ایت ربہ الکبری۔ حضرت ابن عباس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے رفرف دیکھا جس نے افق کو بند کردیا تھا (2) بیہقی نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے حضرت عبداللہ نے کہا : آپ ﷺ نے سبز رفرف دیکھا جس نے آسمان کے افق کو بند کردیا تھا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل امین کو سبز رفرف کے حلہ میں دیھکا جنہوں نے آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیا تھا۔ بیہقی نے کہا، اس کا حدیث میں قول رای رفرفا اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جو رفرف میں اپنی صورت میں تھے۔ رفرف سے مراد قالین ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے، مراد ستر ہے۔ یہ بھی کہا اجتا ہے، بلکہ وہ ایک کپڑا تھا جو ان کا لباس تھا۔ یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل کو رفرف کے حلہ میں دیکھا تھا۔ میں کہتا ہوں : اسے ترمذی نے حضرت عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو رفرف کے حلہ میں دیکھا جس نے آسمان اور زمین کو بھر دیا تھا (3) کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس سے دنا فتدلی کے بارے میں یہ قول مروی ہے کہ اس میں قدیم و تاخیر ہے یعنی لیلتہ المعراج کو رفرف حضرت محمد ﷺ کے لئے نیچے آیا آپ ﷺ اس پر بیٹھے پھر اسے بلندی کی طرف لے جایا گیا تو آپ اپنے رب کے قریب ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جبرئیل امین مجھ سے الگ ہوگئے، آوازیں مجھ سے منقطع ہوگئیں اور میں نے اپنے رب کا کلام سنا۔ “ اس روایت کی وجہ سے رفرف وہ چیز ہوگی جس پر بیٹھا جاتا ہے جس طرح قالین وغیرہ۔ پہلے معنی کی صورت میں مراد حضرت جبریل امین ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید اور مقاتل بن حیان نے کہا : نبی کریم ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس صورت میں وہ آسمان میں ہوتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ سے روایت مروی ہے کہ لقد رای من ایت ربہ الکبری۔ سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبریل امین کو اس صورت میں دیکھا جس کے چھ سو پر ہوتے ہیں (4) اس تاویل کے باوجود یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ رفرف کے حلہ میں ہوں یا رفرف پر ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ضحاک نے کہا : سدرۃ المنتہی کو دیکھا۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے : سونے کے پتنگوں نے سدرہ کو جو ڈھانپ رکھا تھا اسے دیکھا، یہ ماوردی نے بیان کیا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معراج (سیڑھی) کو دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے جو اس سفر میں لوٹتے وقت اور شروع کرتے وقت دیکھا۔ یہ تعبیر بہت اچھی ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لنریہ من ایتنا (الاسرائ : 1) یہ جائز ہے کہ من بعضیہ ہو اور الکبری، رای کا مفعول ہو۔ اصل میں یہ آیات کی صفت ہے آیات کے سروں کی وجہ سے اسے واحد ذکر کیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ جماعت کی صفت، مئونث کی صفت کے ساتھ لگائی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولی فیھا مارب اخری۔ (طہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : الکبری یہ محذوف کی صفت ہے یعنی رای من آیات ربہ الکبری یہ بھی جائز ہے کہ من زائدہ ہو تقدیر کلام یہ ہوگی رای آیات ربہ الکبری۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر کلام یہ ہے رای الکبری من آیات ربہ۔
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

افرء یتم اللت والعزی۔ ومنوۃ الثالثہ الاخری۔ جب نبی کریم ﷺ کی طرف کی جانے الی وحی کا ذکر کیا اور اپنی قدرت کے آثار کا ذکر کیا تو مشرکین سے دلیل کے ساتھ گفتگو کی کیونکہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے تھے جو عقل نہیں رکھتی تھی فرمایا، بتائو تو سہی یہ بت جن کی تم عبادت کرتے ہو اس کے بارے میں تمہاری طرف کوئی وحی کی گئی ہے جس طرح حضرت حمد ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ لات بنوثقیف کا بت تھا، عزی قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا، منات بنو ہلال کا بت تھا، ہشام نے کہا : منات ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو بھیجا تو انہوں نے فتح مکہ کے سال اسے گرا دیا۔ پھر انہوں نے طائف میں لات کا بت بنا لیا یہ منات کی بنسبت قریب کے دور کا تھا، منات بنو ہلال کا بت تھا، ہشام نے کہا : منات ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو بھیجا تو انہوں نے فتح مکہ کے سال اسے گرا دیا۔ پھر انہوں نے طائف میں لات کا بت بنا لیا یہ منات کی بنسبت قریب کے دور کا تھا یہ ایک مربع چٹان تھی اس کے خدام میں بنوثقیف کے لوگ تھے۔ بنوثقیف نے اس پر ایک عمارت بنا دی قریش اور تمام عرب اس کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے عرب یہ نام رکھتے زید اللات اور تیم اللات۔ یہ بت اس جگہ تھا جہاں طائف کی مسجد کا بائیاں مینار ہے۔ وہ بت اسی طرح رہا یہاں تک کہ بنو ثقیف اسلام لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو بھیجا حضتر مغیرہ نے اسے گرا دیا اور آگ کے ساتھ جلا دیا۔ پھر عربوں نے عزی کو معبود بنا لیا یہ لات کی بنسبت قریب کے زمانہ کا تھا اسے ظالم بن اسعد نے معبود بنایا یہ ذات عرق کے اوپر نخلہ شامیہ کی وادی میں تھا لوگوں نے اس پر ایک کمرہ بنا دیا وہ اس سے آواز سنا کرتے تھے۔ ابن ہشام نے کہا : مجھے میرے باپ نے ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عزیٰ شیطانہ تھی وہ بطن نخلہ میں ببول کے تین درختوں کے پاس آیا کرتی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو حضرت خالد بن ولید کو بھیجا فرمایا :” نخلہ وادی کے بطن میں جائو وہاں تو تین ببول کے درخت پائے گا تو پہلے کو کاٹ دینا۔ ‘ حضرت خالد بن ولید وہاں گئے اور اس درخت کو کاٹ دیا جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کیا تو نے کوئی چیز دیکھی تھی ؟ عرض کی : نہیں۔ فرمایا : دوسرا درخت کاٹ دو ۔ “ حضرت خلاد آئے اور دوسرے درخت کو کاٹ دیا پھر حضرت خالد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پوچھا : کیا تو نے کوئی چیز دیکھی ہے ؟ عرض کی : نہیں۔ فرمایا ” تیسرے درخت کو کاٹ دو ۔ “ حضرت خالد آئے تو ایک حبشی عورت دیکھتے ہیں اس نے اپنے بال بکھیرے ہوئے ہیں اس نے اپنے ہاتھ اپنے کندھے پر رکھے ہوئے ہیں وہ اپنے دانت پیس رہی ہے اس کے پیچھے دبیہ سلمی ہے وہ اس کا خادم تھا۔ اور یہ شعر پڑھا : یا عز کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عز میں تیرا انکار کرتا ہوں تیری پاکی بیان نہیں کرتا میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اس نے تجھے ذلیل و رسوا کردیا ہے۔ پھر اس پر وار کیا اور اس کا سر ٹکڑے ٹکڑے کردیا تو وہ کوئلہ ہوگئی پھر آپ نے درخت کو کاٹ دیا اور دبیہ جو خادم تھا اس کو قتل کردیا۔ پھر حضرت خالد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب کچھ بتایا۔ فرمایا :” وہی عزیٰ تھی اب اس کی کبھی بھی عبادت نہ کی جائے گی۔ “ ابن جبیر نے کہا : عزیٰ سفید پتھر تھا لوگ اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ قتادہ نے کہا : وہ نخلہ ودی کے بطن میں ایک جڑی بوٹی (1) تھی۔ منات بنو خزاعہ کا بت تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بعض مفسرین نے کہا لات یہ مشرکوں نے لفظ اللہ سے اخذ کیا تھا عزیٰ لفظ عزیز سے لیا تھا منات یہ منی اللہ الشیء سے ماخوذ ہے یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب اللہ تعالیٰ اسے مقدر کرے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن زبیر، مجاہد، حمید اور ابو صالح نے اللات کو تاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا : ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستو کو گھی میں تلا کرتا تھا۔ امام بخاری نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے، جب وہ آدمی فوت ہوا تو لوگ اس کی قبر پر بیٹھے اور اس کی عبادت کی (2) حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ایک چٹان کے پاس ستو اور گھی بیچا کرتے تھا اور اس چٹان پر انڈیلا کرتا تھا۔ جب وہ آدمی فوت ہوگیا تو بنو ثقیف نے اس ستو والے کی تعظیم کے لئے اس چٹان کی عبادت کی۔ ابو صالحہ نے کہا : طائف میں ایک آدمی تھا وہ بتوں کی خدمت کرتا اور ان کے لئے ستو کو تلا کرتا جب وہ مرگیا تو لوگوں نے اس کی عبادت کی۔ مجاہد نے کہا، پہاڑ کی ایک چوٹی پر ایک آدمی رہتا جس کا ریوڑ تھا وہ ان کا گھی جمع کرتا، اس کے دودھ سے پنیر بناتا اور اس کا دودھ جمع کرتا پھر وہ حلوہ باتا اور حاجیوں کو کھلاتا وہ نخلہ وادی کے بطن میں رہتا جب وہ مرگیا تو لوگوں نے اس کی عبادت کی یہی لات بت تھا۔ کلبی نے کہا، بنو ثقیف کا ایک آدمی تھی جسے صرمہ بن غنم کہتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عامر بن ظرب عدوانی تھا۔ شاعر نے کہا : لا تنصروا اللات ان اللہ مھلکھا وکیف ینصرکم من لیس ینتصر (3) تم لات کی مدد نہ کرو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرنے والا ہے۔ صحیح قرأت اللات تخفیف کے ساتھ ہے یہ بات کا نام ہے اس پر وقف تاء کے ساتھ ہے، یہ فراء کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ فراء نے کہا، میں نے کسائی کو دیکھا اس نے ابو فقعس اسدی سے سوال کیا اس نے ذات کے لئے ذاہ اور لات کے لئے لاہ کہا اور افرئیتم الاہ پڑھا اسی طرح دوری نے کسائی سے اور بزی نے ابن کثیر سے اللاہ نقل کیا ہے یعنی ھاء پر وقف کیا ہے جس نے یہ کہا اللات یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے اس نے بھی ھاء پر وقف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا یا : یہ اصل میں لاھۃ تھا جس طرح شاھۃ تھا یہ لاھت سے مشتق ہے یعنی وہ چھپ گیا۔ شاعر نے کہا۔ لاھت فما عرفت یوما بخارجۃ یالیتھا خرجت حتی راینا ھا وہ چھپ گئی وہ کسی روز بھی باہر نکلنے والی کی حیثیت سے معروف نہ ہوئی ہائے کاش ! وہ باہرنکلتی تو ہم اسے دیکھ لیتے۔ صحاح میں ہے : لات ایک بت کا نام ہے جو بنو ثقیف کا تھا اور طائف کے مقام پر تھا۔ بعض عرب تاء پر وقف کرتے ہیں اور بعض ہاء پر وقف کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا، ہم نے بعض عربوں سے سنا جو لات و عزیٰ کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ھی اللات اسے وقف میں تاء بنا دیتا ہے ھی اللات یہ بات ذہن نشین کرلو کہ رفع کی جگہ اسے جر دی گئی ہے یہ اس کو مثل ہے جو ہر حال میں مکسور ہے۔ یہ بہت اچھی تعبیر ہے کیونکہ الف اور لام جو اللات میں ہیں ساقط نہیں ہوتے اگرچہ یہ دونوں زائد ہیں رہی وہ صورت جو ہم وقف کی صورت اللات کو اللاہ سنا ہے کیونکہ یہ ھاء ہے جو وصل میں تاء ہوگئی ہے یہ اس لغت میں کان من الامر لیت و کیت کی مثل ہے اسی طرح ھیھات ہے یہ اس کی لغت میں ہے جس نے اسے کسرہ دیا ہے مگر ھیھات میں یہ جائز ہے کہ وہ جمع ہو مگر اللات میں یہ جائز نہیں کیونکہ جمع میں تاء الف کے بغیر جائز نہیں ہوتی اگر اللات اور تاء دونوں کو زائد مان لیا جائے تو اسے صرف ایک جرفی رہ جائے گا۔