Ayahs 51:1–6والذریت ذروا، ابوبکر انباری نے کہا عبدا للہ بن ناجیہ، یعقوب بن ابراہیم سے وہ مکی بنی ابراہیم سے وہ جعید بن عبدالرحمن سے وہ یزدبن خصیفہ سے وہ سائب بن یزد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ سے عرض کی : میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ مشکل القرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس پر قدرت دے۔ ایک روز وہ آدمی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لباس اور عمامہ زیب تن کئے ہوئے تھا جب کہ حضرت عمر ؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جب آپ قرآن پڑھنے سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! والذریت ذروا کیا ہے ؟ حضرت عمر اٹھے اپنی آستینیں چڑھائیں اور اسے کوڑے مارنے لگے پھر فرمایا : اسے کپڑے پہنائو، اسے سواری پر سوار کر ائو اور اسے اس کے قبیلہ تک پہنچا دو پھر ایک خطیب کو چاہیے وہ اٹھے اور کہے کہ صبغ نے علم طلب کی اور علم اسے نصیب نہ ہوا یہ اپنی قوم میں سردار تھا تو وہ اپنی قوم میں ذلیل و رسوا ہوگیا۔
عامر بن واثلہ سے مروی ہے کہ ابن کو اء نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے پوچھا عرض کی : اے امیر المومنین ! ئو الذریت ذروا کیا چیز ہے ؟ فرمایا : تجھ پر افسوس سمجھنے کے لئے پوچھو سر کشی کے طور پر نہ پوچھو۔ والذریت ذروا سے مراد ہوائیں ہیں۔ فالحملت وقرا۔ ، سے مراد بادل ہیں۔ فالجریت یسرا، سے مراد کشتیاں ہیں۔ فالمقسمت امرا سے مراد فرشتے ہیں۔ حرث نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے : والذریت ذروا سے مراد ہوائیں ہیں (1) ۔ فالحملت وقرا، سے مراد بادل ہیں جو پانی اٹھاتے ہیں جس طرح چوپائے بوجھ اٹھاتے ہیں (2) ۔ فالجریت یسرا، سے مراد کشتیاں ہیں جو بوجھ اٹھاتی ہیں۔ فالمقسمت امرا سے مراد فرشتے ہیں جو مختلف امور بجالاتے ہیں۔ حضرت جبرئیل امین سختیاں لاتے ہیں، حضرت میکائل رحمت کے حامل ہیں اور ملک الموت موت لاتے ہیں۔ فراء نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مختلف امر لاتے ہیں اس سے مراد خوشحالی، خشک سالی، بارش، موت اور حوادثات ہیں۔ اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے ذرت الریح تذردہ واوتذریۃ ذریا۔
پھر یہ کہا گیا ہے : والذریت اور مابعد قسمیں ہیں اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم اٹھاتا ہے تو اس کے لئے شرف کو ثابت کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ذاریات کے رب کی قسم ! اس کا جواب انماتو عدون ہے یعنی جس خیر، شر، ثواب اور عقاب کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ لصادق، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ لصادق کا معنی صدق ہے اسم مصدر کی جگہ واقع ہے وان الذین لواقع، یعنی جزاتم پر واقع ہو رہی ہے۔ پھر دوسری قسم اٹھائی اور فرمایا : والسماء ذات الحبک، انکم لفی قول مختلف، ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذاریات سے مرادبچے جننے والی عورتیں ہیں (3) کیونکہ ان کے جننے سے ہی مخلوق پھیلتی ہیں (1) کیونکہ وہ اولاد کو بکھیرتی ہیں تو وہ ذاریات ہوگئیں ان کی قسم اٹھائی کیونکہ ان کے سینے کی ہڈیوں میں اس کے صالح بندوں میں سے بہترین لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے لئے عورتوں کو خاص کیا مردوں کا
ذکر نہیں کیا اگرچہ اولاد دونوں کی ہوتی ہے اس کی دو وجہیں ہیں (1) کیونکہ وہ ہی ان کی حفاظت کے برتن ہیں جب کہ مردوں کی یہ صورت نہیں کیونکہ دونوں کے نطفے ان عورتوں کے رحم میں جمع ہوتے ہیں اس لئے ان کا خصو صا ذکر کیا (2) ان میں نطفے طویل وقت تک رہا اور مباشرت میں ان کا زمانہ قریب ہے۔ فالحملت وقرا، اس مراد بادل ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حاملات سے مراد عورتیں ہیں جب وہ حاملہ ہوتی ہیں (4) ۔ وقرواو کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد کسی وزنی چیز کو پیٹھ یا پیٹ میں اٹھانا ہے جملہ بولا جاتا ہے : جاء یعمل وقرہ۔ وہ بوجھ اٹھائے ہوئے آیا۔ قد اوقربعیرہ اس نے اپنے اونٹ پر بوجھ لادا۔ وقر کا لفظ عموما خچر اور گدے کے سامان اور وسق کا لفظ اونٹ کے سامان کے لئے بولا جاتا ہے۔ ھذہ امرءۃ موقرۃ جب اس عورت نے بھاری بوجھ اٹھایا ہوا ہو۔
اوقرت النخلۃ یہ اس وقت بولتے ہیں جب اس کا پھل زیادہ ہو۔ یہ کہا جاتا ہے : نخلۃ موقرۃ و موقرۃ۔
موقر بھی ذکر کیا گیا ہے، خلاف قیاس ہے کیونکہ فعل نخلہ کے لئے ہے۔ اسے موقر کہا گیا ہے یہ قیاس کے مطابق ہے جس طرح تیرا قول امراۃ حامل ہے کیونکہ درخت کا پھل عورتوں کے حمل کے مشابہ ہے۔ جہاں تک موقر کا تعلق ہے یہ خلاف قیاس ہے۔ لبید کے قول میں یہی روایت کیا گیا ہے وہ کھجور کی تعریف کرتا ہے :
عصب کو ارع فی خلیج محلم حملت فمنھا موقر مکموم، ،
محل استدلال موقر ہے۔ اس کی جمع مواقر ہے۔ جہاں تک وقر کا تعلق ہے تو اس سے مراد کان کا بوجھ ہونا ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے قدوقرت اذنہ توقر و قرا، یعنی وہ بہرا ہوگیا۔ اس کے مصدر میں قیاس تو یہ ہے کہ قاف متحرک ہوتا مگر وہ سکون کے ساتھ آیا ہے اس کے بارے میں بحث سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
فالجریت یسرا، مراد کشتیاں ہیں جو ہوا کے ساتھ آسانی سے چلتی ہیں جہاں بھی انہیں چلایا جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بادل ہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر اس کے آسانی سے چلنے کی دو صورتیں ہیں (1) اللہ تعالیٰ انہیں جہاں بھی چلائے وہ شہر ہوں یا قطعہ زمین (2) ان کا آسانی سے چلنا عربوں کے ہاں یہی معروف ہے جس طرح اعشی نے کہا : کان مشی تھا من بیت جار تھا مشی السحابۃ لاریث ولا عجل (1) گویا اس کا اپنی پڑوسن کے گھر سے چلنا بادل کا چلنا
ہے نہ سست روی سے اور نہ تیزی سے۔
Ayahs 51:7–14والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو مضبوط بنائے اور اس کے عمل کو اچھا کرے تو اس کے لئے کہیں گے احتنکتہ۔ (4) خوبصورت ؛ یہ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبر کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری مروی ہے : مراد ستاروں والا (4) ۔ تیسرا قول ہے (4) ضحاک نے کہا : راستوں والا۔ پانی اور ریت پر جب ہوا چلے تو اس میں تو جو دیکھتا ہے اسے حبک کہتے ہیں۔ اس کی مثل فراء کا قول ہے، کہا : حبک ہر شے کی شکن کو کہتے ہیں جس طرح ریت پر پرسکون ہوا چلے، کھڑا پانی جس پر ہوا چلے، لوہے کی زرہ کی شکنوں کو حمک کہتے ہیں۔ دجال کے متعلق حدیث میں ہے ان شعرہ حمک اس کے بال کھنگھریالے ہیں۔ زہیر نے کہا :
مکل باصول النجم تنسجہ ریح خریق لغاحی مائہ حبک، لیکن وہ بندوں سے دور ہوتا ہے وہ اسے نہیں دیکھتے۔
(5) مضبوط : یہ ابن زید کا قول ہے اور اس آیت کو پڑھا وبینا فو قکم سبعا شدادا، (النبائ) محبوک سے مراد وہ چیز ہے جو مضبوط جسم والی ہو جس طرح گھوڑا وغیرہ امراء القیس نے کہا :
قد غدا یحمل فی انفہ لاحق الاطلین محبوک ممر، ایک اور شاعر نے کہا : مرج الدین فاعددت لہ مشرف الحارک محموک الکتد، دونوں شعروں میں محبوک کا لفظ مضبوط و محکم کے معنی میں ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے ان عائشہ ؓ کا نت تحتبک الدرع فی الصلاۃ۔ (1) یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نماز میں تہبند کو مضبوطی سے باندھا کرتی تھیں۔
(6) مضبوط بنائی والا : یہ خصیف کا قول ہے اس سے ثواب صفیق اور وجہ صفیق ہے۔
(7) طرق سے مراد آسمان میں کہکشاں ہے اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ گویا یہ کھیچنے کا نشان ہے۔ حبک، حباک کی جمع ہے۔ راجز نے کہا :
کانما جلھا الحواک طنفسۃ فی وشیھا حماک (2) ، حماک اور حبیکہ سے مرادریت وغیرہ ہے۔ حباک کی جمع حبک ہے اور حبیکہ کی جمع حبائک آتی ہے جب کہ یہ عم کہ کی طرح ہے یہ ستو کا دانا ہے ؛ یہ جوہری سے مراد ہے۔ حضرت حسن بصری ہے : ذات الحبک، المک الحمک، الحمک، الحمک اور انہوں نے اسے الحمک پڑھا ہے۔ عکرمہ اور ابو مجلز سے الحبک مروی ہے الحمک اس کا واحد حبیکہ ہے اور الحمک اسی سے مختلف ہے۔ الحمک اس کا واحد حب کہ ہے جس نے اسے الحبک پڑھا ہے اس کا واحد حب کہ ہے جس طرح برقہ کی جمع برق ہے یا یہ حم کہ کی جمع ہے جس طرح ظلمتہ کی جمع ظلم آتی ہے۔ جس نے اسے الحمک پڑھا ہے تو یہ اہل اور اطل کی طرح ہے الحمک یہ محفف ہے جس نے اسے الحمک پڑھا تو یہ شاذ ہے کیونکہ کلام عرب میں فعل کا وزن نہیں یہ داخل لغات پر محمول ہے گویا حاء کو کسرہ دیا گیا تاکہ باء کو کسرہ دیا جائے پھر الحبک کا تصور کیا تو باء کو ضمہ دیا ؛ یہ سب تعبیریں مہدوی نے ذکر کی ہیں۔ انکم لفی قول مختلف، یہ قسم کا جواب ہے جو والسماء ہے یعنی اے اہل مکہ ! تم حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے بارے میں مختلف رائے رکھنے والے ہو کچھ تصدیق کرنے والے اور کچھ تکذیب کرنے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ باہم مال تقسیم کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا : ان اختلاف یہ تھا کہ آپ جادوگر ہیں نہیں بلکہ شاطر ہیں نہیں بلکہ بہتان لگانے والے ہیں نہیں بلکہ مجنون ہیں نہیں بلکہ کاہن ہیں نہیں بلکہ پہلے لوگوں کے یہ قصے کہانیاں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ ان میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے حشر کی نفی کی، ان میں
سے کچھ نے شک کا اظہار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ مراد بتوں کے بچاری ہیں جو یہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کا خالق ہے جب کہ عبادت غیروں کی کرتے ہیں (1) ۔ یوفک عنہ من افک، یعنی حضرت محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان سے اسے پھیر دیا جاتا ہے جسے پھیر دیا جاتا ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ اس کا معنی ہے جس نے ان کے قول کا یہ ارادہ کیا کہ جادو ہے، کہانت ہے اور پہلے لوگوں قصے کہانیاں ہیں ان کو ایمان سے پھیر دیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے اللہ تعالیٰ نے جسے محفوظ رکھا اسے اختلاف سے پھیرلیا گیا۔ اف کہ، یا فکہ افکا ،۔ یعنی اسے کسی شے سے پھیر دینا۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اجتنا لتا فکنا (الاحقاف :22) مجاہد نے کہا : یوفک عنہ من افک، کا معنی ہے یوفن عنہ من افن، افن سے مراد عقل کا فاسد ہونا ہے یعنی جس کا عقل فاسد ہوجاتا ہے اسے اس سے پھرھ دیا جاتا ہے۔ زمشری نے کہا : اسے یوفن عنہ من افن پڑھا گیا یعنی اسے محروم رکھا جاتا ہے جسے محروم رکھا گیا۔ یہ افن الصرع سے مشتق ہے جس کا معنی ہے اس نے کھیری کا تمام دودھ دوہ لیا۔ قطرب نے کہا : معنی ہے اسے دھوکہ میں رکھا جاتا ہے جسے دھوکہ دیا گیا (2) ۔ یزیدی نے کہا : اس سے دور رکھا جاتا ہے جسے دور رکھا گیا۔ معنی ایک ہی ہے سب معافی پھیرنے کے معنی کی طرف لوٹتے ہیں۔ قتل الخرصون، تفسیر میں ہے کذابوں پر لعنت ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : شک کرنے والے قتل ہوں۔ مراد کاہن ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بصری نے کہا : مراد وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا (3) ۔ قتل
کا معنی ہے یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے کی بدعا کرنا واجب ہوچکی ہے۔ فراء نے کہا : قتل کا معنی ہے اس پر لعنت ہو کہا : الخرصون سے مراد جھوٹے ہیں جو اس چیز کے بارے میں گمان کرتے ہیں جس کو جانتے نہیں وہ کہتے ہیں ؛ حضرت محمد ﷺ مجنون، کذاب، جادو گر اور شاعر ہیں (نعوذ باللہ من ذالک) یہ ان کے بارے میں بدعا ہے کیونکہ جس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے وہ مقتول اور ہلاک ہونے والے کا معنی میں ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ہم نے ان کے لئے بدع کی تعلیم دی یعنی یہ کہو قتل الخرصون۔ یہ خارص کی جمع ہے خرص کا معنی جھوٹ ہے اور خراص سے مراد کذاب ہے اس کا باب یوں چلتا ہے خرص یخرص خرصا۔ یعنی اس نے جھوٹ
بولا۔ کہا جاتا ہے : خرص، اخترص، خلق، اختلق، بشک، ابتشک اور مان سب کا معنی جھوٹ بولنا ہے ؛ یہ نحاس نے بیان کیا ہے۔ خرص کا معنی یہ بھی ہے کہ کھجور کے درخت پر جو تر کھجوریں ہیں ان کو خشک کھجوروں کے ساتھ اندازہ سے بیچنا۔ اس کے لئے یہ جملہ بولتے ہیں ؛ وقد خرصت النخل اس کا اسم خرص کا اصل معنی قطع کرنا ہے جس کی وضاحت سورة الانعام میں گزر چکی ہے ؛ اسی سے ایک خریص ہے جو خلیج کے لئے بولا جاتا ہے کیونکہ اس کی طرف
پانی الگ ہوجاتا ہے۔ خرص اور خرص بال کے اندر دانہ کو کہتے ہیں جب وہ الگ ہو کیونکہ وہ دوسروں سے منقطع ہوتا ہے خرص کا معنی عود ہے کیونکہ وہ اپنی عمدہ خوشبو کی وجہ سے اپنی مثل سے ممتاز ہوتا ہے۔ خرص اسے بھی کہتے ہیں جسے بھوک اور سردی لگی ہو کیونکہ اس کے ساتھ وہ الگ تھلگ ہوجاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : خرص الرجل فھو خرص ؛ یعنی وہ بھوک اور ٹھنڈک کا شکار ہے بھوک ہو سردی ہو نہ ہو اسے خرص نہیں کہتے سردی ہو بھوک نہ ہو اسے خرص کہتے ہیں۔ خرص جب خاء کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ہو تو مراد سونے یا چاندی کا حلقہ ہے اس کی جمع خرصان ہے۔ خرص میں نجومیوں کا قول بھی داخل ہوتا ہے اور ہر اس آدی کا قول بھی داخل ہوتا ہے جو حدس اور تخمینہ کا دعوی کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکہ کی گھاٹیوں کو باہم تقسیم کیا تھا اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں مختلف باتیں کی تھیں مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو ایمان سے پھیر دیں۔ الذین ھم فی غمرۃ ساھون، غمرۃ اسے کہتے ہیں جو کسی چیز کو ڈھانپ دے اسی سے نھر غمر ہے یعنی جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے وہ نہر اسے ڈھانپ لیتی ہے : اسی سے موت کی سختیاں ہیں۔ ساھون وہ آخرت کے معاملہ میں لا پرواہی کرنے والے اور غافل ہیں۔ یسلون ایان یوم الدین، وہ سوال کرتے ہیں یوم حساب کب ہوگا ؟ وہ یہ بات استہزاء اور قیامت میں شک کے طور پر کرتے ہیں۔ یوم ھم علی النار یفتنون، لفظ یوم کو نصب الجزاء کے مقدر ہونے کے اعتبار سے ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ھذا الجزاء یوم ھم علی النار یفتنون، یعنی انہیں جلد بلایا جائے گا۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : فتنت الذھب میں سونے کو جلایا تاکہ تو اسے آزمائے۔ فتنہ کا اصل معنی اختیا رہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ مبنی ہے کیونکہ یہ مبنی کی طرف مضاف ہے اس پر نصب سابقہ تقدیر کی بنا پر ہے یا یہ یوم الدین سے بدل کے طور پر منصوب ہے۔ زجاج نے کہا ؛ وہ کہتا ہے یعجبنی یوم انت قائم و یوم انت تقوم۔ اگر تو چاہے تو تو یوم کو نصب بھی
دے سکتا ہے یہ محل رفع میں ہے یہ منصوب ہوگا اگرچہ معنی کے اعتبار سے مرفوع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یفتنون کا معنی ہے انہیں عذاب دیا جائے گا (1) ؛ اس معنی میں شاعر کا شعر ہے : کل امری من عباد اللہ مغطھد ببطن مکۃ مقھود و مفتون ،
مکہ کی وادی میں اللہ تعالیٰ کا ہر بندہ مظلوم، مغلوب اور عذاب دیا جا رہا ہے۔ ذو قوا فتنتکم انہیں کہا جائے گا : اپنا عذاب چکھو (2) ؛ یہ ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : اپنی آگ کا مزا چکھو۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یعنی تم جھٹلاتے رہے ہو اس کا مزہ چکھو۔ فراء نے کہا : اپنا عذاب چکھو۔
ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون، یعنی تم دنیا میں جس کی جلدی مچاتے رہے ہو۔ مذکر کی ضمیر ذکر کی مونث کی ضمیر ذکر نہیں کی۔ کیونکہ یہاں فتنہ عذاب کے معنی میں ہے۔
Ayahs 51:15–16ان المتقین فی جنت وعیون ،۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر کیا تو مومنوں کے انجام کا بھی ذکر کیا یعنی مومن ایسے باغوں میں ہوں گے جن میں چشمے ہوں گے یعنی انتہائی پاکیزہ ہوں گے۔ اخذین حال ہونے کی حثیت سے منصوب ہے۔
ماانتھم ربھم ان کے رب نے انہیں جو ثواب اور مختلف قسم کی عزتیں عطا فرمائیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جیر نے کہا : معنی ہے وہ فرائض پر عمل کرنے والے ہیں۔ انھم کانو اقبل ذلک محسنین۔ یعنی جنت میں داخل ہونے سے قبل دنیا میں وہ فرائض بجا لانے والے تھے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے فرائض کے لازم ہونے سے قبل وہ اپنے اعمال میں احسان کرنے والے تھے۔
Ayahs 51:17–19مسئلہ نمبر۔ کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون ،۔ یھجعون کا معنی ہے وہ سوتے ہیں۔ ھجوع کا معنی رات کو سونا ہے۔ تھجاع سے مراد ہلکی نیند ہے ؛ ابو قیس بن اسلت نے کہا ؛
قد حصت البیضۃ راسی فما اطعم نوما غیر تھجاع
خود نے میرے سر کے بال مونڈ دئیے ہیں۔ تھجاع ( ہلکی نیند) کے علاوہ کوئی نیند نہیں کرتا۔ عمر وبن معد یکرب اپنی بہن کے لئے شوق کا اظہار کرتا ہے جسے صمہ ابو دریدین بن صمہ نے گرفتار کرلیا تھا :
امن ریحانہۃ الداعی السمیع یورقنی واصیحابی ھجوع
کیا ریحانہ کی جانب سے سنانے والاداعی (شوق) مجھے بیدار رکھتا ہے اور میرے ساتھی سوئے ہوئے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : ھجع یھجع ھجوعا، ھبغ، یھبغ ھبوغا۔ جب وہ سوجائے ؛ یہ جو ہری نے کہا۔ ما کی تعبیر میں اختلاف کیا گیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ یہ زائد ہے ؛ یہ ابراہیم نخعی کا قول ہے تقدیر کلام یہ ہے کانو اقلیلا من اللیل یھجعون یعنی وہ رات کا تھوڑا حصہ سوتے ہیں اور اس کا اکثر حصہ نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ عطا نے کہا ؛ یہ اس وقت ہوا جب انہیں رات کے قیام کا حکم ہوا۔ حضرت ابو ذر ؓ کمر کس لیتے تھے، عصا پکڑ لیتے تھے اس پر سہارا لیتے یہاں تک کہ رخصت نازل ہوئی قم الیل الا قلیلا۔ ، (مزمل) ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ ما زائد نہیں بلکہ قیلا پر وقف ہے پھر من الیل مایھجعون سے کلام کا آغاز ہوگا۔ تو مانافیہ ہوگا ان سے نیند کی مطلقا نفی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : وہ رات کے وقت بہت ہی تھوڑا سو یا کرتے تھے بعض اوقات ان کی طبیعتوں میں نشاط ہوتی ہے تو وہ سحری تک ذاکر اذکار میں مشغول رہتے (1) ۔ یعقوب حضری سے مروی ہے انہوں نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں علماء کا ختلاف ہے۔ بعض نے کہا کانو اقلیلا اس کا معنی ہے ان کی تعداد تھوڑی تھی، پھر کلام کی ابتدا کی اور فرمایا : من الیل ما یھجعون یعنی وہ رات سے سوئے ہوئے ہیں۔ ابن الا نباری نے کہا ؛ یہ فاسد ہے کیونکہ آیت ان کی نیند کی کمی پر دلالت کرتی ہے ان کی تعداد کی کمی پر دلالت نہیں کرتی اس کے بعد اگر ہم من الیل مایھجعون سے آغاز کریں جس کا معنی ہے وہ رات سے بیدار رہتے ہیں اس میں ان کے لئے مدح نہیں کیونکہ تمام رات سوتے رہتے ہیں مگر اس صورت میں مانافتہ ہو۔ میں کہتا ہوں ؛ بعض لوگوں نے جو تاویل کی ہے یہ ضحاک کا قول ہے کہ ان کی تعداد تھوڑی تھی تو کلام ما قبل کے ساتھ متصل ہوگی
جو ما قبل کلام یہ ہے انھم کانو اقبل ذلک محسنین یعنی وہ تھوڑے تھے۔ پھر کلام کو شروع کیا فرمایا : من الیل ما یھجعون پر ہوگا۔ اور دوسری تاویل کی بنا پر کانو قلیلا من الیل نیا خطاب ہوگا۔ جب کہ پہلا خطاب مکمل ہوچکا تھا اور وقف مایھجعون پر ہوگا۔ اس طرح جب تو قلیلا کو کان کی خبر بنائے اور ماقلیل کی وجہ سے محل رفع میں ہو، گویا فرمایا : رات کے وقت ان کی نیند تھوڑی ہوتی ہے۔ ما کے بارے میں جائز ہے کہ وہ نافیہ ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے ساتھ مل کر مصدر کے حکیم میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کان کے اسم سے بدل ہونے کی بنا پر محل رفع میں ہو۔ تقدیر کلام یہ ہوگی کان ھجوعھم قلیلا اوھجو عا قلیلا یھجعون۔ اگر ما کو زائد نہ مانا جائے تو قلیلا کان کی خبر ہوگی اور اسے یھجعون کے ساتھ نصب دینا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ جب اس کی نصب یھجعون کے ساتھ ما کو مصدر یہ مقدر ماننے سے ہو تو صلہ موصول سے پہلے آتا ہے۔ حضرت انس ؓ اور قتادہنے آیت کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا : وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں۔ ابو العالیہ نے کہا : وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نہیں سوتے ؛ یہ ابن وہب کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں مسجد نبوی میں پڑھتے پھر وہ قباچلے جاتے۔ حضرت محمد بن علی بن حسین نے کہا : وہ عشاء کی نماز پڑھنے سے قبل نہیں سوتے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : گویا ان کی نیند کو نماز کے لئے ان کی بیداری کے مقابلہ میں قلیل شمار کیا۔ حضرت ابن عباس اور مطرف نے کہا : کوئی رات کم ہی ایسی ہوگی جوان پر آتی ہو جس میں وہ نماز نہ پڑھتے ہوں وہ اس کی ابتدائی حصہ میں نماز پڑھتے ہیں یا آخری حصہ میں نماز پڑھتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ رات کے وقت نماز پڑھنے والوں میں ایک سے یہ روایت مروی ہے کہ حالت نیند میں ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے شعر پڑھا :
وکیف تنام اللیل عین قریرۃ ولم تدر فی ای المجالس تنزل ،
مراد پانے کی خواہش رکھنے والی آنکھ کیسے رات کو سو سکتی ہے وہ جانتی کہ کون سی مجلس میں جا اترے گی۔ بنوازد کے بندے سے مروی ہے کہ اس نے کہا : میں رات کو نہیں سوتا تھا رات کے آخری پہر سو یا تو اچانک میں دونوجوانوں کے پاس تھا جو میں نے لوگ دیکھے تھے ان میں سے وہ حسین ترین تھے ان کے پاس حلے تھے وہ ہر نمازی کے پاس کھڑے ہوئے اور اسے ایک حلہ پہنایا پھر وہ سونے والوں کے پاس پہنچے اور انہیں حلہ نہ پہنایا۔ میں نے ان دونوں سے کہا : ان حلوں (کپڑوں کا جوڑا) میں سے ایک حلہ مجھے بھی پہنادو۔ انہوں نے مجھے کہا : یہ لباس کا حلہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حلہ ہے جوہر نمازی پر اترتا ہے۔ ابو خلاد سے مروی ہے اس نے کہا : میرے ایک ساتھی نے مجھے بتایا ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میرے لئے قیامت کا منظر پیش کیا گیا میں نے اپنے بھائیوں میں سے کچھ کو دیکھا ان کے چہرے روشن تھے، ان کے رنگ چمک رہے تھے اور ان پر حلے تھے جو عام مخلوق کے لباس نہیں تھے میں نے کہا : کیا وجہ ہے یہ لوگ لباس پہنے ہوئے ہیں جب کہ لوگ ننگے ہیں، ان کے چہرے روشن ہیں جب کہ لوگوں کے چہرے غبار آلود ہیں ؟ تو مجھے کسی کہنے والے نے کہا : جن کو تو نے لباس میں دیکھا ہے وہ اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھتے تھے، جب کے چہرے روشن ہیں وہ بیداری اختیار کرنے والے اور تہجد پڑھنے والے ہیں۔ میں نے کچھ لوگوں کو عمدہ سواریوں پر دیکھا میں نے پوچھا ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ سوار ہیں جب کہ لوگ پیدل اور ننگے پائوں ہیں ؟ تو ایک کہنے والے نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے اپنے قدموں پر کھڑے رہے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین بدلہ دیا تو میں نے نیند میں چیخ ماری۔ عبادت گزاروں کے لئے مبارک ہو ان کا مقام کتنا معزز ہے پھر میں نیند سے بیدار ہوا تو میں خوفزدہ تھا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ وبالا سحارھم یستغفرون، یہ دوسری مدح ہے وہ اپنے گناہوں کی استغفار کرتے ہیں ؛ یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (1) ۔ سحری کا وقت ایسا وقت ہے جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عمر اور مجاہد نے کہا : وہ سحری کے وقت نماز پڑھتے ہیں تو اس نماز کو استغفار کا نام دیا گیا (1) ۔ حضرت حسن بصری نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کانو اقلیلا من الیل مایھجعون، کے بارے میں کہا : انہوں نے رات کے پہلے پہر سے سحری تک نماز کو لمبا کیا پھر سحری کے وقت اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔ ابن وہب نے کہا : یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی وہ قبا سے آتے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھتے۔ ابن وہب نے کہا : یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی وہ قبا سے آتے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھتے۔ ابن وہب، ابن لہیعہ سے وہ یزید بن ابی حبیب سے روایت نقل کرتے ہیں : مراد وہ لوگ ہیں جو پھل کی شرط پو ڈولوں کی مدد سے کچھ انصاریوں کے باغوں کو پانی دیتے پھر تھوڑا سو جاتے اور رات کے آخری پہر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ضحاک نے کہا : مراد صبح کی نماز ہے۔ احنف بن قیس نے کہا : میں نے اپنے عمل کو جنتیوں کے اعمال پر پیش کیا تو وہ ایسی قوم تھے جو ہم سے بہت ہی دور تھے ہم ان کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ راتوں کو کم سوتے تھے۔ میں نے اپنے عمل کو جہنمیوں کے اعمال پر پیش کیا تو وہ ایسی قوم تھے جن میں کوئی بھی بھلائی نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے رسول اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو جھٹلاتے ہیں ہم نے اپنے میں سے بہترین افراد کو ایسی قوم پایا جنہوں نے اچھے اور برے عمل کو خلط ملط کردیا۔
مسئلہ نمبر 4.۔ و فی اموالھم حق للسا ئل والمحروم، یہ تیسری مدح ہے۔ محمد بن سیرین اور قتادہ نے کہا : حق سے مراد فرض زکوٰۃ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں حق سے مراد زکوٰۃ کے علاوہ ہے جس کے ساتھ وہ صلہ رحمی کرتا ہے، مہمان کی ضیافت کرتا ہے، بےکس کا بوجھ اٹھاتا ہے یا محروم کو غنی کرتا ہے (92، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کیونکہ سورت مکی ہے اور زکوٰۃ مدینہ طیبہ میں فرض ہوئی۔ ابن عربی کہا : اس آیت کے بارے میں قوی قول زکوٰۃ ہے کیونکہ سورة سال سائل میں ہے وفی امولھم حق للسا ئل والمحروم، حق معلوم سے مراد زکوٰۃ ہی ہے شرع نے جس مقدار، اس کی جنس اور اس کے وقت کو بیان کیا ہے۔ جہاں تک اس قول کا تعلق ہے جو اس کو کہتا ہے وہ معلوم نہیں کیونکہ اس کی مقدار اس کی جنس اور وقت معلوم نہیں۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ للسائل والمحروم، سائل اسے کہتے ہیں جو اپنے فاقہ کی وجہ سے لوگوں سے سوال کرتا ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس، سعید بن مسیب اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ محروم سے مراد وہ جسے مال سے محروم کردیا گیا ہو۔ اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس، سعید بن مسیب اور دوسرے علماء نے کہا : محروم سے مراد وہ مجبور آدمی ہے جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : محروم سے مراد وہ محنت مزدوری کرنے والا ہے جس کو اس کی کمائی کفایت نہ کرتی ہو یہ جملہ بولا جاتا ہے : رجل محرف محدود مسائل والا محروم، یہ تیرے اس قول کی ضد ہے ؛ مھارک یہ جملہ بولا جاتا ہے : وقد حورف کسب فلان۔ یہ اس وقت بولتے ہیں جب اس کی روزی میں سختی کردی گئی ہو، گویا اس کا رزق اس سے پھیر دیا گیا ہے۔ قتادہ اور زہری نے کہا : محروم سے مراد وہ ہے جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور اپنی حاجت سے آگاہ بھی نہیں کرتا۔ حضرت بصری اور محمد بن حنفیہ نے کہا : محروم وہ آدمی ہے جو غنیمت کے حاصل ہونے کے بعد کرتا ہے اور اس مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا (1) ۔
روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر چھوٹا لشکر بھیجا انہوں نے دشمن کو پالیا اور مال غنیمت حاصل کیا جب یہ مہم سے فارغ ہوگئے تو کچھ لوگ آئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ عکرمہ نے کہا : محروم اسے کہتے ہیں جس کے پاس مال باقی نہ ہو۔ زید بن اسلم نے کہا : محروم اسے کہتے ہیں جس کے پھل، کھیتی یا جانوروں کی نسل میں کوئی آفت واقع ہوگئی ہو۔ قرظی نے کہا محروم اسے کہتے ہیں جسے مصیبت پہنچی پھر اس نے یہ کلمات تلاوت کیے انا لمغرمون، بل نحن محرومون، (ابو اقعہ) اسی کی مثل اصحاب جنت کے قصہ میں ہے جب انہوں نے کہا تھا : بل نحن محرومون، (الواقعہ) ابو قلابہ نے کہا : اہل یمامہ کا ایک آدمی تھا جس کا مال تھا سیلاب آیا تو اس کا مال بر باد کردیا تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا : محروم ہے اس کے لئے حصہ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو دنیا طلب کرتا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتی ہے : حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے۔ عبد الرحمن بن حمید نے کہا : محروم سے مراد مملوک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کتا ہے ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز مکہ مکرمہ کے راستہ میں تھے ایک کتا آیا حضرت عمررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بکری کا ایک بازو نکالا اور اس کتے کی طرف پھینک دیا فرمایا : لوگ کہتے ہیں یہ محروم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : محروم وہ ہے جس کے فقر کی وجہ سے اس کا نفقہ اس کے رشتہ داروں پر لازم کردیا گیا ہو کیونکہ اس کو اس ذات کی کمائی سے محروم کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا نفقہ غیر کے مال میں لازم ہوجاتا ہے۔ ابن وہب نے امام مالک سے رویت نقل کی ہے : اس سے مراد وہ ہے جسے رزق سے محروم کردیا گیا ہو۔ یہ اچھا قول ہے کیونکہ یہ تمام اقوال کو جامع ہے۔
امام شعبی نے کہا : جب سے میں بالغ ہوا ہوں آج مجھے ستر سال ہوچکے ہیں میں محروم کے بارے میں سوال کرتا رہا ہوں آج میں اس دن سے زیادہ عالم نہیں ہوں۔ شعبہ نے عاصم احول سے وہ امام شعبی سے رویت نقل کرتے ہیں کہ لغت میں اس کا معنی ممنوع ہے جس کو روک دیا گیا ہو۔ یہ حرمان سے مشتق ہے جس کا معنی روکنا ہے۔ علقمہ نے کہا : ومطعم الغنم یوم الغنم مطعمہ انی توجہ والمحروم محروم۔
جس کو غنیمت کا مال کھلایا جاتا ہو غنیمت والے دن اسے غنیمت کا مال کھلایا جاتا ہے وہ جہاں بھی جائے جب کہ جسے روک دیا جائے وہ محروم ہے۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فقراء کی جانب سے اغنیاء کے لئے ہلاکت ہے فقراء کھڑے ہوں گے وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! انہوں نے ہمارے ان حقوق کو روک لیا جو تو نے ہمارے حق میں ان پر فرض کیے تھے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میری عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں قریب کروں گا اور انہیں دور کروں گا، (1) ۔ پھر رسول ﷺ نے اس آیت کو تلاوت :
وفی امو الھم حق للسا ئل والمحروم، اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 51:20–23۔ وفی الارض ایت للموقین، جب دونوں فر یقوں کے معاملہ کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان فرمایا کہ زمین میں ایسی علامات ہیں جو بعث اور نشور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ہر چیز ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو پھر وہاں نباتات اگ آتی ہے، ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں رزق کو مقدر کیا جو حیوانات کے لئے سہارا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے وہ مختلف علاقوں میں جاتے ہیں جن میں ہلاکت کے آثار کر دیکھتے ہیں جو جھٹلانے والی قوموں پر ہلاکت واقع ہوتی تھی۔ موقنین ہی حقیقت میں رب العالمین کی وحدانیت اور اپنے نبی کی نبوت کی صداقت کو پہچاننے والے اور ثابت کرنے والے ہیں ان کا خصو صاذکر کیا کیونکہ یہی ان آیات اور ان کے نتائج سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ وفی انفسکم، افلا تبصرون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے وفی الارض و فی انفسکم آیات للموقنین۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے جو آدمی زمین میں گھومتا پھرتا ہے وہ آیات اور عبرت کی چیزوں کو دیکھتا ہے اور جو اپنی ذات میں غوروفکر کرتا ہے تو اسے علم ہوجاتا ہے کہ اسے اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ابن زبیر اور مجاہد نے کہا : مراد بڑی چھوٹی حاجت کا راستہ ہے (2) ۔
سائب بن شریک نے کہا : انسان کھاتا پیتا ایک جگہ سے ہے اور یہ چیزیں دو جگہ سے نکلتی ہیں جو آدمی خالص دودھ پیتا ہے تو اسی سے پانی اور اسی سے براز نکلتا ہے۔ یہ نفس آیت ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہارے لئے کان آنکھیں اور دل بنادئیے ثم اذا انتم بشر تنتشرون، ، (الروم)
سدی نے کہا وفی انفسکم سے مراد ہے تمہارے زندگی اور تمہاری موت میں اور جو کچھ تم میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ تم سے نکلتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : شباب کے بعد بڑھاپے میں، قوت کے بعد ضعف میں، سیاہ بالوں کے سفید بالوں میں (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے تمہیں پیدا کرنے میں یعنی نطفہ، جما ہوا خون، گوشت کا لوتھڑا اور ہڈی یہاں تک کہ اس میں روح پھونکی، زبانیں، رنگ اور صورتیں مختلف بنائی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ظاہری اور باطنی نشانیاں ہیں تیرے لئے دل، ان میں جو عقول رکھ دئیے گئے ہیں، ان میں معافی اور فنون کی جو انواع خاص کردی گئی ہیں، زبانیں، قوت گویائی، حروف کے مخارج، آنکھیں اور باقی ماندہ تمام اعضاء ان امور کو بجا لانا جن کے لئے انہیں پیدا کیا گیا، جوڑوں سے اعضاء میں جو یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ایک طرف مڑ جاتے ہیں اور دوہرے ہوجاتے ہیں جب ان میں سامنے کوئی چیز خشک ہوجائے تو ان میں عجز واقع ہوجاتا ہے اور جب وہ ڈھیلے ہوجائیں تو بےبسی ڈیرا لگا لیتی ہے۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین، (المومنون)
افلا تبصرون، کیا تمہارے دلوں میں بصرت نہیں کہ تم اس کی کمال قدرت کو پہچان لو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے کیا تم عاجز کی کامیابی اور محتاط کی محرومی نہیں دیکھتے۔ میں کہتا ہوں ؛ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے یہ عبرت حاصل کرنے میں مراد ہے ہم نے سورة بقرہ کی آیت توحید میں یہ بحث ذکر کردی ہے کہ بدن انسانی جو عام عالم صغیر ہے اس میں جو کچھ ہے عالم کبیر میں اس کی مثال موجود ہے ہم نے وہاں قیام کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے حوالے سے جو ذکر کیا ہے وہ کافی ہے اور جو آدمی غورو فکر کرتا ہے وہ اسے دوسری بحث سے بےنیاز کردے گا۔ و فی السماء رزقکم وما تو عدون، ، سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : یہاں رزق سے مراد وہ چیز ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے جیسے بارش اور برف جس کے ذریعے کھیتی اگتی ہے اور مخلوق زندگی پاتی ہے (1) ۔ سعید بن جیر نے کہا : مراد ہر جاری چشمہ ہے کیونکہ یہ برف سے پیدا ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے جب آپ بادل دیکھتے تو اپنے ساتھیوں سے فرماتے : اللہ کی قسم ! اس میں تمہارے لئے رزق ہے مگر تم اپنی غلطیوں کی وجہ سے محروم کر دئیے جاتے ہو۔ علماء معافی نے کہا : وفی السماء رزقکم کا معنی ہے بارش میں تمہارے لئے رزق ہے۔ بارش کو سماع کا نام دیا کیونکہ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا : اذا سقط السماء بارض قوم رعیناہ وان کانوا غضابا
جب کسی قوم کی سر زمین میں بارش نازل ہوتی ہے تو ہم اس گھاس کو چرتے ہیں اگرچہ وہ لوگ بہت ہی غصیلے ہوں۔ ابن کسی ان نے کہا : معنی ہے آسمان کے ذمہ تمہارا رزق ہے اس کی مثل یہ ارشاد ہے وما من دا بہ فی الارض الا علی اللہ رزقھا (ہود :6) سفیان ثوری نے کہا : اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں آسمان میں تمہارا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے آسمان میں تمہارے رزق کی تقدیر ہے اور تمہارے لئے جو کچھ ہے وہ ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے۔ سفیان ثوری سے مروی ہے (2) کہ واصل احدب نے ان کلمات و فی السماء رزقکم کو پڑھا کہنے لگے : خبردار ! میں اپنے رزق کو آسمان میں پاتا ہوں اور اسے تلاش زمین میں کرتا ہوں۔ وہ ایک کھنڈر میں داخل ہوئے وہ تین دن تک وہاں رہے کسی چیز کو نہ پایا تیسرے دن انہوں نے تر کھجوروں کی ایک ٹوکری پائی اس کا ایک بھائی اچھی نیت والا تھا وہ اس کے ساتھ داخل ہوا تو وہ دو ٹوکریاں ہوگئیں ان کا یہی طریقہ رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موت کے ساتھ ان دونوں کے درمیان جدائی پیدا کی۔ ابن محصین اور مجاہد نے اسے پڑھائو فی السماء رزقکم اسی طرح اس کے آخر میں پڑھا ان اللہ ھو الرزاق۔ وما تو عدون مجاہد نے کہا : مراد خیر اور شر جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ دوسروں نے کہا : یہاں اس سے مراد صرف خیر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مرادصرف شر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد جنت ہے یہ سفیان بن عینیہ سے مروی ہے۔ ضحاک نے کہا : وماتو عدون سے مراد جنت اور دوزخ ہے (1) ۔ ابن سیریں نے کہا : وما توعدوں سے مرادقیامت ہے ؛ یہ ربیع کا قول ہے۔ فو رب السماء والارض انہ الحق، اللہ تعالیٰ نے انہیں بعث بعد الموت اور آسمان میں رزق کی تخلیق فرمائی ہے اس کی جو خبردی تھی اس کو موکد کیا پر یہ قسم اٹھائی کہ یہ حق ہے اور پھر اس فرمان مثل ما انکم تنطقون، کو موکد کیا اور حواس میں سے نطق کو خاص کیا کیونکہ اس کے علاوہ جو حواس ہیں ان میں مثل (شبہ) ہو سکتی ہے جس طرح آئینہ میں دیکھا جاسکتا ہے جب صفراء کا غلبہ ہو تو چکھنا محال ہوجاتا ہے، اسی طرح کانوں میں دوی اور طنین (بنھبناہٹ) واقع ہوسکتی ہے، قوت گویائی اس سے محفوظ ہوتی ہے۔ صدائے باز گزشت سے اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کا حصول اس وقت ہوتا ہے جب گفتگو کرنے والا کلام کرلے اس میں ایسی چیز کی آمیزش نہیں ہوتی جو اس پر معاملہ کو مثتبہ کردے۔ ایک حکیم نے کہا : جس طرح ہر انسان خود بات کرتا ہے اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ غیر کی زبان سے بات کرے اسی طرح ہر انسان اپنا رزق کھاتا ہے اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ غیرکا رزق کھائے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قاتل اللہ اقواما اقسم لھم ربھم بنفسہ ثم لم یصد قوہ، قال اللہ تعالیٰ فو رب السماء والارض انہ لحق (2) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی ذات کی قسم اٹھائی پھر بھی انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فو رب السماء والارض انہ لحق۔
اصمعی (3) نے کہا : ایک دفعہ میں بصرہ کی مسجد سے آیا کہ ایک بدو جو اکھڑمزاج، ترش، رو اپنی سواری پر موجود تھا اس نے تلوار گلے میں لٹکائی ہوئی تھی اس کے ہاتھ میں کمان تھی وہ قریب ہوا اور سلام کیا اس نے پوچھا : تو کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے ؟ میں نے کہا : میں بنی اصمعی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے پوچھا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : اس جگہ سے آیا ہوں جہاں رحمن کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اس نے کہا : رحمن کا کلام ہے جسے لوگ پڑھتے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : اس میں سے کچھ مجھ پر پڑھو تو میں نے اس پر اس سورت کو وفی السماء رزقکم تک پڑھا اس نے کہا : اے اصمعی ! کافی ہے۔ پھر اپنی اونٹنی کی طرف اٹھا اسے ذبح کیا اس کی جلد اتاری اور کہا : اس کے تقسیم کرنے میں میری مدد کرو۔ ہم نے اس کا گوشت آنے جانے والے پر تقسیم کرنے میں میری مدد کرو۔ ہم نے اس کا گوشت آنے جانے والے پر تقسیم کردیا پھر اس نے تلوار اور کمان کا قصد کیا ان دونوں کو توڑ دیا اور دونوں کو کجا وے کے نیچے رکھ دیا اور جنگل کی طرف چل دیا وہ کہہ رہا تھا : و فی السماء رزقکم وماتو عدون۔ میں نے اپنے آپ پر نارضگی کا اظہار کیا اور اپنے آپ کی ملامت کی۔ پھر میں نے ہارون الرشید کے ساتھ حج کیا اسی اثنا میں کہ میں طواف کر رہا تھا تو میں ایک کمزور سی آواز کے پاس تھا میں متوجہ ہوا تو میں اسی بدو کے پاس تھا وہ انتہائی کمزور اور زرد رنگ والا ہوچکا تھا۔ اس نے مجھے سلام کیا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا : مجھ پر رحمن کا کلام پڑھو اور مقام ابراہیم کے پاس مجھے بٹھا لیا، تو میں نے سورة الذاریات پڑھی یہاں تک کہ و فی السماء رزقکم وما توعدون، تک پہنچا اس بدو نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہم نے اسے حق پایا ہے۔ اس نے کہا : اس کے علاوہ بھی کلام ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : فورب السماء والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون ،۔ بدو نے چیخ ماری کہا : سبحان اللہ ! کس نے رب جلیل کو غضبناک کیا یہاں تک کہ اس نے قسم اٹھائی کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تصدیق نہ کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ اس نے یہ بات تین دفعہ کہی تو اس کی روح قفس عنصری پرواز کرگئی۔ یزید بن مرثد نے کہا : ایک آدمی کو ایسی جگہ بھوک لگ گئی جہاں کوئی چیز نہ تھی اس نے عرض کی : اے اللہ ! جس کا رزق تو نے وعدہ کیا ہے تو وہ مجھے عطا کر تو وہ اسی وقت سیر ہوگیا۔ کھانے اور پینے کے بغیر اس کا پیٹ بھر گیا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لو ان احد کم فر من رزقہ لتبعہ کمایتبعہ الموت اگر تم میں کوئی اپنے رزق سے بھاگتا ہے تو رزق اس کا پیچھا کرتا ہے جس طرح موت اس کا پیچھا کرتی ہے ؛ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں سے مروی ہیں سے مروی ہے، دونوں نے کہا : ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کوئی کام کر رہے تھے ہم نے اس کام میں آپ کی مدد کی آپ نے فرمایا : لاتیا سا من الرزق ماتھززت رئو و سکما فان الانسان تلدہ امہ احمر لیس علیہ قشر ثم یرزقہ اللہ (1) جب تک تمہارے سر حرکت کرتے ہیں (یعنی تم زندہ ہو) تم رزق سے مایوس نہ ہو کیونکہ انسان کو اس کی ماں گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں جنتی ہے اس پر لباس بھی نہیں ہوتا، پھر اللہ تعالیٰ اسے رزق باہم پہنچا تا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ بدو لوگوں میں سے ایک قوم نے کھیتی کاشت کی اسے ایک آفت نے آلیا وہ اس وجہ سے غمگین ہوئے ایک بدوی عورت ان کے پاس آئی اس نے کہا : کیا وجہ ہے تم نے اپنے سر جھکائے ہوئے ہیں، تمہارے سینے تنگ ہوچکے ہیں جب کہ وہ ہمارا رب ہے اور ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے، ہمارا رزق اس کے ذمہ ہے وہ ہمیں عطا فرماتا ہے جہاں سے چاہتا ہے پھر وہ یہ شعر پڑھنے لگی : میں کہتا ہوں : اس معنی میں اشعریوں کا قصہ بھی ہے جب انہوں نے اپنا قاصد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا اس نے اللہ تعالیٰ کا فرمان سنائو ما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا (ہود :6) وہ لوٹ آیا اور نبی کریم ﷺ سے گفتگو نہ کی اور کہا : اشعری اللہ تعالیٰ کے چو پائوں سے زیادہ ذلیل نہیں۔ ہم نے اس کا ذکر سورة ہود میں کیا ہے۔ لقمان نے کہا : یبنی انھا ان تک متقال حمۃ من خردل فتکن فی صخرۃ (لقمان :16) یہ بحث سورة لقمان میں گزر چکی ہے ہم نے یہ بحث کتاب قمع الحرص با لذھڈو القنا عۃ میں مفصل بیان کی ہے۔ الحمد اللہ۔
یہی وہ حقیقی تو کل ہے جس میں کسی چیز کی آمیزش نہیں۔ یہی رب العالمین کے ساتھ لو لگا کر غیر سے دل کو فارغ کرنا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق دے اور اپنے احسان اور کرم کے ساتھ اپنے سوا کسی اور کے حوالے نہ کرے۔ مثل ما انکم تنطقون، عام قرات مثل کے نصب کے ساتھ ہے یہ کاف حرف جار کے حذف کے ساتھ منصوب ہے یعنی کمثل نطقکم اس میں ما زائدہ ہے ؛ یہ بعض کو فیوں کا نقطہ نظر ہے۔ زجاج اور فراء نے کہا : یہ بھی جائز ہے تاکید کے طور پر منصوب ہو، تقدیر کلام یہ ہو لحق حقا مثل نطقک گویا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔
سیبو یہ کا قول ہے : یہ مبنی ہے کیونکہ یہ مبنی کی طرف مضاف ہے اور ما زائدہ ہے جو تاکید کے لئے ہے۔
مازنی نے کہا : مثل، مع کے ساتھ مل کر ایک شے کے حکم میں ہے، اسی وجہ سے یہ مبنی بر فتحہ ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے
اسے ہی پسند کیا ہے۔ کہا : کیونکہ عربوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو مثل کو ہمیشہ منصوب بناتے ہیں تو کہتا ہے : قال لی رجل مثلک، مررت برجل مثلک،۔
ابو بکر، حمزہ، کسائی اور اعمش نے مثل کو مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ حق کی صفت ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے اگرچہ معرفہ کی طرف مضاف ہے کیونکہ مثل کے لفظ اضافت کے باجود اختصاص پیدا نہیں ہوتا۔
مثل کا لفظ انکم کی طرف مضاف ہے اور ما زائدہ ہے اس کا ما بعد مصدر کے حکم میں نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ کوئی ایسا فعل نہیں جس کے ساتھ مل کر وہ مصدر ہوجائے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ لحق سے بدل ہو۔
Ayahs 51:24–28ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر کی وضاحت کرے کہ وہ آیات کو جھٹلانے والے کو ہلاک کردے گا جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ھل اتک یہ الم یا تک کے معنی میں ہے یعنی کیا تیرے پاس یہ خبر نہیں آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ھل۔ قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ ھل اتی علی الانسان حین من الذھر ( الانسان :1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں گفتگوسورئہ ہود اور سورة حجر میں گزر چکی ہے۔
المکر میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکر مون، (الانبیائ) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد حضرت جبرئیل امین، حضرت اسرفیل ہیں۔ عثمان بن حصین نے یہ زائد ذکر کیا ہے اور حضرت رفائیل علیہم السلام۔ محمد بن کعب نے کہا : حضرت جبریل امین اور ان کے نو ساتھی مراد ہیں۔ عطا اور ایک جماعت نے کہا : یہ تین فرشتے تھے حضرت جبرئیل، حضرت میکائل اور ان دونوں کے ساتھ ایک اور فرشتہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہیں مکر میں اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ خوف زدہ تھے۔ مجاہد نے کہا ؛ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکرمین اس لئے کہا کیونکہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے خود ان کی خدمت کی تھی۔ عبد الوہاب نے کہا : علی بن عیاض نے مجھے کہا ہاں ہریسہ (ایک کھانا جو گندم اور گوشت کو کوٹ کر بنایا جاتا ہے) ہے آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا : میری اس بارے میں بہت اچھی رائے ہے۔ کہا ؛ ہماریساتھ چلو، میں گھر میں داخل ہوا آپ نے غلام کو بلایا تو وہ غائب تھا مجھے کسی امر نے مضطرب نہ کیا مگر اس چیزنے کہ انہوں نے پانی والا برتن اور تھال اٹھایا ہوا تھا اور ان کے کندھے پر رومال تھا میں نے بےساختہ کہا : انا للہ وانا الیہ رجعون، کاش میں جانتا اے اباالحسن کہ معاملہ اس طرح ہے۔ فرمایا : اپنے اوپر آسانی لائو آپ ہمارے ہاں بڑے معزز ہیں۔ مکرم اسے کہتے ہیں جس کی ذاتی طور پر خدمت کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان کو دیکھے ؛ ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین۔ ادخلوا علیہ فقا لو اسلما سورة حجر میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ قال سلم یینے کہا : تم پر سلام ہو، یہ تقدیر بھی جائز ہے امری سلام یا ردی سلام۔ عاصم کے علاوہ کوفہ کے قراء نے اسے سلم پڑھا ہے یعنی سین مکسور ہے۔ قوم منکرون، تقدیرکلام یہ ہے انتم قوم منکرون یعنی تم اجنبی لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ آپ نے انہیں انسانی شکل میں نہیں دیکھا تھا اور یا انہیں ان فرشتوں کے علاوہ صورت میں دیکھا تھا جنہیں آپ پہچانتے تھے تو آپ نے اجنبی خیال کیا کہا : قوم منکرون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے انہیں اجنبی اس لئے خیال کیا کیونکہ وہ اجازت کے بغیر داخل ہوئے تھے۔ ابو العالیہ نے کہا : اس زمانہ اور اس علاقہ میں ان کے سلام کو عجیب خیال کیا تھا ایک قول یہ کیا جاتا ہے : آپ ان سے ڈر گئے۔ جملہ بولا جاتا ہے : انکرتہ۔ میں اس سے ڈر گیا۔ شاعر نے کہا : فانکرتنی وما کان الذی نکرت من الحوادث الا الشیب الصلعا (1)
اس نے مجھے ڈرا دیا جب کہ وہ بڑھاپے اور گنجے پن کے علاوہ کسی چیز سے ڈرنے والا نہیں تھا۔ فراغ انی اھلہ زجاج نے کہا : آپ اپنے اہل کی طرف گئے۔ سورة الصافات میں یہ بحث گزر چکی ہے یہ کہا جاتا ہے : اراغ اور ارتاع دونوں کا معنی طلب کرنا ہے۔ ماذاتریع تو کیا ارادہ کرتا ہے اور طلب کرتا ہے۔ اراغ الی کذا وہ راز داری سے اس کی طرف مائل ہوا اور راہ راست سے بھٹک گیا۔ اس تعبیر کی بنا پر راغ اور اراغ دو لغتیں ہیں جن کا معنی ایک ہے۔ فجاء بعجل سین، آپ مہمانوں کے پاس ایسا بچھڑا لائے جس کو ان کے لئے بھونا تھا جس طرح سورة ہود میں ہے۔ فما لمث ان جاء بعجل حنیذ ،۔ (ہود) یہ کہا جاتا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کی طرف گئے جس طرح مہمان سے چوری چھپے کام کرنا چاہ رہے ہوں تاکہ ان کے لئے جو کھانا بنانا چاہتے ہیں وہ ان پر ظاہر نہ ہو۔ فقر بہ الیھم بھونا ہوا بچھڑا انہیں پیش کیا۔ قال الا تاکلون، قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عمومی مال گائے کی نسل سے تھا آپ نے ان کی زیادہ تعظیم بجا لانے کے لئے ایک موٹا بچھڑا لیا (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : ایک لغت میں عجل کا معنی بکری ہے، قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ صحاح میں ہے ؛ عجل، گائے بچے کو کہتے ہیں عجول اسی کی مثل ہے جمع عجاجیل ہے، مونث عجلہ ہے۔ ابو جراح سے مروی ہے : بقرہ معجل یعنی بچھڑے والی گائے۔ عجل، ربیعہ کا ایک قبیلہ ہے۔ فاوجس منھم خیفۃ ان سے دل میں خوف محسوس کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب انہوں نے کھانا نہ کھایا تو دل میں خوف ہوا۔ لوگوں کا طریقہ یہ تھا جو انسان کسی کا کھانا کھا لیتا تو اس کی جانب سے امن خیال کیا جاتا۔ عمر و بن دینار نے کہا : فرشتوں نے کہا ہم قیمت دے کر ہی کھاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے کہا : کھانا کھائو اور اس کی قیمت ادا کردینا۔ انہوں نے پوچھا : اس کی کیا قیمت ہے ؟ فرمایا : جب تم اسے کھائو تو اللہ کا نام لو اور جب فارغ ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنا خلیل بنایا ہے۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ جب انہوں نے حضرت ابراہیم میں خوف کے آثار دیکھے تو کہا : لاتخف اور آپ کو بتا دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور قاصد ہیں۔ وبشر وہ بغلم علیم ،۔ آپ کو ایسے بچے کی بشارت دی جو آپ نے ان کی تصدیق نہ کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس بچھڑے کو زندہ کردیا جو آپ نے ان کے سامنے پیش کیا تھا۔ عون بن ابی شداد نے روایت کی ہے کہ حضرت جبریل امین نے بچھڑے کو اپنا پر مارا وہ چلنے لگا یہاں تک کہ اپنی ماں تک جا پہنچا اور بچھڑے کی ماں گھر میں گئی۔ علیم کا معنی ہے وہ بالغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا عالم ہوگا۔ جمہور علماء کی رائے ہے کہ جس بچے کی بشارت دی گئی وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت مجاہد نے کہا : وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ یہ قول کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا : فشر نھا یا سحٰق (سورئہ :71) یہ نص ہے۔
Ayahs 51:29–30فا قبلت امراتہ فی صرۃ۔ صرۃ کا معنی چیخ اور شور ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے اسی سے صریر الباب ہے، جس سے مراد دروازے کی آواز ہے عکرمہ۔ اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد اوہ کا کلمہ کہنا ہے۔ یہاں اقبال سے مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا نہیں۔ فراء نے کہا ؛ یہ تیرے اس کا قول کی طرح ہے اقبل یشتمنی وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عورتوں کی ایک جماعت میں آئیں تاکہ فرشتوں کی گفتگو سنیں۔ جوہری نے کہا : صرہ کا معنی شوروغل کرنا اور چیخنا ہے اور صرہ کا معنی جماعت اور صرہ کا معنی سخت مصیبت ہے۔ امراء القیس نے کہا : فالحقہ بالھادیات ودونہ جو احرھا فی صراۃ لم تذیل (1) یہ گھوڑاجب جنگلی گائیوں کے ابتدائی حصہ تک پہنچا اس کے پیچھے والی گائیاں جماعت میں تھی جو بکھری نہیں۔ یہ شعر تینوں مذکورہ وجوہ کا احتمال رکھتا ہے۔ صرۃ القیظ سے مراد اس کی گرمی کی شدت ہے۔ جب حضرت سارہ نے نشارت کو سنا تو اپنے چہرے پر ضرب لگائی یعنی جس طرح عورتوں کی عادت ہوتی ہے وہ تعجب کے وقت اپنے چہرے پر ہاتھ مارتی ہیں : یہ سفیان ثوری اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فصکت و جھھا اس نے اپنے منہ پر طمانچہ مارا۔ صک کا معنی مارنا ہے۔ ص کہ اس نے اسے مارا۔ راجز نے کہا : یا کرو نا صک فا کبانا ،
کرون بھورے رنگ کا پرندہ جو رات کو نہیں سوتا۔ اموی نے کہا : کبن الطبی یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب ہرن زمین سے چمٹ جائے۔ البان کا معنی یہی ہے۔ وقالت عجور عقیم ،۔ یعنی کیا بوڑھی بانجھ عورت بچہ جنے گی ؟ زجاج نے کہا : معنی ہے میں بوڑھی اور بانجھ ہوں میں کیسے بچہ جنوں گی ؟ جس طرح کہا : یویلتیء الدوانا عجوز (ہود :72) قالوا کذلک یعنی بات اسی طرح ہے جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے اور ہم نے تجھے خبر دی ہے۔ قال ربک تیرے رب کا فرمان ہے تو اس میں شک نہ کر۔ بشارت اور ولادت کے درمیان ایک سال کا طویل عرصہ تھا حضرت سارہ کی اس سے پہلے اولاد نہ ہوئی تھی۔ انہوں نے اس وقت بچا جنا جب ان کی عمر نواسی سال تھی جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر اس وقت سو سال تھی۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔