50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 50:1–5

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان ہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا انکے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہونگے ؟ ) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

انکے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب انکے پاس (دین) حق آپہنچا تو انہوں نے اسکو جھوٹ سمجھا تو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

1 ۔ 5:۔ ق والقران المجید۔ عام قراٗت قاف میں جزم کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور نصیر بن عاصمنے قاف پڑھا ہے کیونکہ کسرہ، جزم کا بھائی ہے جب اس کا آکر ساکن ہوا تو کسرہ کے ساتھ اسے حرکت دی۔ عیسیٰ ثقفی نے فاء کو فتحہ دیا ہے اسے خفیف ترین حرکت دی ہے۔ ہارون اور محمد بن سمیقع نے قاف ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ عموما یہ مبنی کی حرکت ہوتی ہے جس طرح منذ، قط، قبل اور بعد ہے۔ ق کے معنی میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے ؟ ابن زید، عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہ ایسا پہاڑ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے جو سبز زمرہ کا مرد ہے اس کی وجہ سے آسمان سبز ہے۔ آسمان کے دونوں کنارے اس پر ہیں۔ آسمان اس پر قبہ کی صورت میں ہے لوگوں کو جو زمرد ملتا ہے وہ اسہ پہاڑ سے گرا ہے۔ ابوجوزاء نے اسے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ فراء نے کہا : اس تعبیر کی صورت میں ق پر اعراب کو ظاہر کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اسم ہے حروف تہجی میں سے نہیں ہے شاید اس کے اسم میں سے صرف قاف کو ذکر کیا گیا ہے جس طرح شاعر کا قول ہے : قلت لھا قفی فقالت قاف۔ (1) میں نے اسے کہا : تو ٹھہر جا، تو اس نے کہا : قاف یعنی میں ٹھہر گئی۔ یہ اچھی تعبیر ہے اس کا ذکر سورة ٗ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ وہیب نے کہا : ذوالقرنین نے جبل قاف سے جھانکا اس نے اس کے نیچے چھوٹے پہاڑ دیکھے۔ ذوالقرنین نے کہا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں قاف ہوں۔ پوچھا یہ تیرے ارد گرد کون سے پہاڑ ہیں ؟ اس نے جواب دیا : یہ میری رگیں ہیں کوئی شہر نہیں مگر اس میں میری رگوں میں سے ایک رگ ہے جب اللہ تعالیٰ کسی شہر میں زلزلہ کا ارادہ کرتا تو وہ مجھے حکم دیتا ہے تو میں اس رگ کو حرکت دیتا ہوں تو اس علاقہ میں زلزلہ آجاتا ہے۔ ذوالقرنین نے کہا : اے قاف ! تو مجھے اللہ تعالیٰ کی عظمت کے بارے میں کچھ بتا۔ اس نے کہا : میرے رب کی شان عظیم ہے، میرے پیچھے زمین ہے، جس کی مسافت پانچ سو سال ضرب پانچ سو سال کی مسافت ہے، یہ پہاڑ برف کے ہیں وہ ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو جہنم کی آگ اس زمین کو جلاکر رکھ دیتی۔ یہ تعبیر اس امر پر دال ہے کہ جہنم روئے زمین پر ہے اس کی جگہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ زمین کے کس کونے میں ہے۔ ذوالقرنین نے کہا : میرے لئے اور کچھ بیان کرو۔ کہا : جبریل امین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہے وہ سخت گھبرایا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ہر دفعہ کی کپکی سے ایک لاکھ فرشتہ پیدا فرماتا ہے وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہیں اہنے سرجھکائے ہوئے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ انہیں کلام کا اذن دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں ؛ لا الہ الا اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یوم یقوم الروح والملکۃ صفا لایتکلون الامن اذن لہ الرحمن وقال صوابا۔ (النبائ) سے یہی مراد ہے یعنی وہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا ق کا معنی ہے فیصلہ ہوچکا جس طرح حم کا معنی ہے معاملہ گرم ہوچکا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ق اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے۔ ان سے یہ بھی منقول ہے : یہ قرآن کے ناموں میں سے نام ہے (2): یہ فتاوہ کا قول ہے۔ قرظی نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں قدیر، قاھر، قریب، قاضی اور قابض کا آغاز ہے (1) ۔ شعبی نے کہا : یہ سورت کا آغاز ہے۔ ابوبکروراق نے کہا : اس کا معنی ہے ہمارے امر اور ہماری نہی پر رک جا اور ان سے تجاوز نہ کر۔ محمد بن عاصم انطا کی نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے قرب ہے۔ اس کی وضاحت اس آیت میں بھی ہے ونحن اقب الیہ من حبل الورید۔ ابن عطا نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کے دل کی قسم اٹھائی ہے کیونکہ اس دل نے خطاب کا بوجھ اٹھایا یعنی حامل قرآن بنا۔ اور آپ کے دل کی حالت کی بلندی کی وجہ سے اس میں کسی گرافی کا اثر نہ چھوڑا۔ والقرآن المجید بلند شان والا۔ ایک قول یہ کیا ہے : المجید کا معنی الکریم ہے (2): یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی کثیر ہے، یہ قدرومنزلت کی کثرت سے ماخوذ ہے (3) ، یہ کثرت تعداد سے ماخوذ نہیں۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : کثیر فلان فی النفوس اس ضمن میں مشہور ضرب المثل ہے فی کل شجر نار واستمجد المرخ والعفار یعنی ہر درخت میں آگ ہے اور مرخ اور عفار تمام درختوں پر بڑھ گئیں : یہ ابن بحر کا قول ہے۔ اس کے جواب قسم کے بارے میں یہ قول کیا گیا ہے قد علمنا ماتنقض الارض منھم یعنی لام مقدر کا ارادہ کیا اصل کلام یوں تھی لقد علمنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب قسم ان فی ذلک لذکری ہے : یہ ترمذی محمد بن علی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کہا : ق ایسے اسم کے ساتھ قسم جو عظیم اسماء میں سے ہے جو بندوں کے لئے ظاہر ہوا یعنی آسمانوں، زمین، بندوں کے رزقوں، انسانوں کو پیدا کرنا، یوم قیامت کی صفت، جنت اور دوزخ سب قدرت کے کرشمہ ہیں۔ پھر فرمایا : ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب تو قسم اس کلمہ پر واقع ہوئی گو یا فرمایا : ق یعنی قدرت اور قرآن مجید کی میں نے قسم اٹھائی ہے کہ اس سورت میں جو میں نے بیان کیا ہے یہ نصیحت ہے اس کے لئے جس کا دل بیتا ہو یا وہ توجہ سے سنے اور حاضر دماغ بھی ہو۔ ابن کیسان نے کہا : اس کا جواب مایلفظ من قول ہے۔ اہل کوفہ نے کہا : اس کا جواب قسم بل عجوا ہے۔ اخفش نے کہا اس کا جواب محذوف ہے گویا فرمایا ق والقرآن المجید لتبعثن اس جواب پر قول دلالت کرتا ہے : ء اذا متنا وکناترابا۔ بل عجوا ان جاء ھم مننر منھم، ان محل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے لان جاء ھم منذر سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے ھم ضمیر کفار کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مومنین اور کفار سب کے لئے ہے۔ پھر اس ارشاد کے ساتھ انہیں الگ الگ کیا۔ فقال الکفرون، قالو انہیں فرمایا بلکہ ان کے حال، فعل کی قباحت کو بیان کیا اور کفر کے ساتھ ام کا وصف ذکر کیا جس طرح تو کہتا ہے : جاعن فلان فاسمعنی المکروہ وقال لی الفاسق انت کذاوکذا۔ میرے پاس فلاں آیا اس نے مجھے ناپسندیدہ باتیں سنائیں اور مجھے فاسق نے کہا : تو یسا، ایسا ہے۔ ھذا شیء عجیب۔ عجیب امر وہ ہوتا ہے جس سے تعجب کیا جائے اسی طرح عجاب ہے عجاب تشدید کے ساتھ اس سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح اعجوبہ ہے۔ قتاوہ نے کہا : ان کا تعجب اس بارے میں تھا کہ انہیں ایک معبود کی طرف دعوت دی گئی (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا کہا نہیں دوبارہ اٹھائے جانے کی جو خبر دی گئی اس پر انہوں نے عجب کا اظہار کیا۔ قرآن حکیم نے جس کی تصریح کی ہے وہ زیادہ بہتر ہے۔ ء اذا متنا وکنا ترابا یعنی ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا اس میں اضمار ہے ذلک رجع بعید، رجع کا معنی لوٹا نا ہے یعنی وہ لوٹانا محال ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : رجعتہ ارجعہ رجعا، رجع یرجع رجوعا۔ اس میں ایک اور اضمار ہے یعنی انہوں نے کہا : کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا جب مر جائیں گے بعث کا ذکر اگرچہ یہاں نہیں ہوا۔ اس کا ذکر کئی مواقع پر ہوچکا ہے قرآن ایک سورت کی طرح ہے نیز بعث کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فرمان : بل عجوا ان جاء ھم منذرمنھم کے تحت موجود ہے کیونکہ وہ آخرت میں عقاب اور حساب سے خبردار کرتا ہے۔ قد علمنا ما تنقض الا رض منھم یعنی زمین جو ان کے جسموں کو کھاتی ہے ہم سے کوئی چیز گم نہیں ہوتی یہاں تک کہ دوبارہ لوٹانا ہم پر مشکل ہو۔ قرآن حکیم میں ہے قال فما بال القرون الا ولیٰ ، قال علمھا عندر بی فی کتب لایضل ربی ولاینسی، (طہ) صیحح میں ہیـــ، ، انسان کے ہر حصہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر دم گزر اسی سے اس کی تخلیق ہوئی اور اس سے ترکیب دیا جائے گا، یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء اولیاء اور شہدا کے جسموں کو زمین نہیں کھاتی۔ اللہ تعالیٰ نے جسموں کے کھانے کو زمین پر حرام کردیا ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت کتاب التذ کرہ میں کردی ہے۔ اور اس کتاب میں بھی یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ سدی نے کہا : نقص سے یہاں مراد موت ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ان میں سے جو مریں گے اور جو باقی رہیں گے ان کو ہم نے جان لیا۔ کیونکہ جو مرتا ہے اسے دفن کیا جاتا ہے گویا زمین لوگوں کو کم کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : مرزد مشرکوں میں سے جو اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ وعند نا کتب حفیظ۔ وہ کتاب ان کی تعداد اور ناموں کو یاد کرنے والی ہے یہ فعیل بمعنی فاعل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے یعنی وہ شیاطین سے محفوظ ہے یا اس میں ہر شے محفوظ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کتاب کا معنی علم اور شمار کرنا ہے جس طرح تو کہتا ہے : کتبت علیک ھذا یعنی میں نے اسے محفوظ رکھا۔ یہ ضرورت کے بغیر ظاہر معنی کو ترک کرنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی ہماری پاس ایک کتاب جو انسانوں کے اعمال کی حفاظت کرتی ہے تاکہ ان اعمال پر ان کا محاسبہ کریں۔ بل کذبو ابالحق تمام کے قول میں حق سے مراد قرآن ہے ؛ ماوردی نے اسے بیان کیا ہے (2) ۔ ثعلبی نے کہا : حق سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضور ﷺ کی ذات ہے۔ فھم فی امر امریج، مریج کا معنی خلط ملط ہے (3) ۔ ایک دفعہ وہ کہتے ہیں : جادوگر ہے۔ کبھی کہتے ہیں : شاعر ہے۔ کبھی کہتے ہیں : کاہن ہے ؛ یہ ضحاک اور ابن زید کا نقطہ نظر ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی مختلف ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ملتبس ہے۔ سب معافی قریب قریب ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا اس کا معنی، فاسد ہے اسی معنی میں یہ جملہ ہے مرجت امانات الناس۔ لوگوں کی امانتیں فاسد ہوگئیں۔ مرج الدین والامر یعنی دین اور امر خلط ملط ہوگیا۔ ابو داود نے کہا : مرج الدین فاعددت لہ مشرف الحارث محبوک الکتد دین خلط ملط ہوگیا تو میں نے اس کے لئے مضبوط کندھوں اور اٹھی ہوئی پیٹھ والا تیار کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مریج سے مراد عجیب و غریب امر ہے۔ عمر ابن بن ابی عطاء نے اس سے یہ نقل کیا ہے : مریج کا معنی خلط ملط ہے اور یہ شعر پڑھا : فجالت فالتمست بہ حثاھا فخر کا نہ خوط مریج وہ گھومی میں نے اس کے پیٹ میں تیر تلاش کیا وہ گرا گویا خلط ملط ٹہنیاں ہیں۔ عوفی نے ان سے یہ نقل کیا ہے : گمراہی کے امر۔ وہ ان کا یہ قول تھا کہ وہ ساحر، شاعر، مجنون اور کاہن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ اس کا معنی متغیر ہے۔ مرج کا اصل معنی اضطراب اور قلق ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے ؛ مرج امر الناس، مرج امرالدین ومرج الخاتم فے اصبعی۔ جب کمزوری کی وجہ سے انگوٹھی مضطرب ہوئی۔ حدیث میں ہے ؛ اے عبدللہ ! تیرا کیا حال ہوگا جب تو اس قوم میں ہوگا جن کے وعدے اور امانتیں خلط ملط ہوگئیں وہ اختلاف کا شکار ہوگئے تو وہ اس طرح اس طرح تھے۔ اور اپنی انگلیوں کا جال بنایا ؛۔ اسے ابودائود نے نقل کیا ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے۔
Ayahs 50:6–11

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دئیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ و بستان اگائے اور کھیتی کا اناج

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گھابہ تہ بہ تہ ہوتا ہے

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے

6 ۔ 11:۔ افلم ینظروا الی السماء فوقھم عبرت اور تفکر کی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ ذات جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔ کیف بنینھا ہم نے انہیں بغیر ستونوں کے بلند کردیا ہے۔ وزینھا اور ہم نے انہیں ستاروں سے مزین کیا ہے۔ ومالھا من فروج، فروج، فرج کی جمع ہے جس کا معنی شق ہے۔ مرء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ سی معنی میں ہے : تسد بہ فر جھا من دبر کسائی نے کہا : اس میں کوئی تقدت، اختلاف اور پھٹن نہیں۔ والارض مددنھا وا لقینا فیھا رواسی۔ سورة رعد میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واثبتنا فیھا من کل زوج یعنی نباتات کی تمام انواع سے۔ بھیج، حسین جو دیکھنے والوں کو خوش کردے۔ سورة حج میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ تبصرۃ یعنی ہم نے اسے تبصرہ بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعے کمال قدرت پر دلالت کریں۔ و ذکری اس کا عطف تبصرہ پر ہے۔ لکل عمد منیب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کی قدرت میں غوررو فکر کرنے والا۔ ونزلنا من السماء السماء سے مراد بادل ہے۔ ماء مبر کا زیادہ برکت والا پانی۔ فائبتنابہ جنت و حب الحصید، تقدیر کلام یہ ہے وحب النبت الحصید مراد ہر چیز ہے جس کو کاٹا جاتا ہے ؛ یہ بصریوں کا قول ہے۔ کو فیوں نے کہا : یہ شی کو اپنی ہی ذات کی طرف منسوب کرنا ہے، جس طرح کہا جاتا ہے : مسجد الجامع، ربیع الاول، حق الیقین، حبل الورید وغیرہ ؛ یہ فراء کا قول ہے اصل میں الحب الحصید تھا الف، لام کو خذف کردیا گیا اور منعوت کو نعت کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ضحاک نے کہا : حب الحصید سے مراد گندم اور جو ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وہ دانہ جسے کاٹا جاتا ہے، ذخیرہ کیا جاتا ہے اور روزی بنایا جاتا ہے۔ والنخل بسقت یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یہ وحب الحصید کی طرف لوٹ رہا ہے۔ بسقت حال ہے۔ بسقت سے مراد طویل ہے ؛ یہ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے۔ قتادہ اور عبداللہ بن شداد نے کہا : ان کے بسوق سے مراد طوالت میں مستقیم ہونا ہے (1) ۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کا معنی مستویات ہے (2) ۔ حضرت حسن بصری، عکرمہ اور افراء نے کہا : معنی ہے بھاری، حاملہ بکری کو کہا جاتا ہے (3) بسقت جب وہ بچہ جن دے ؛ شاعر نے کہا : فلما ترکنا الدار ظلت منیفۃ بقران فیہ الباسقات المواقرم (4) جب ہم نے گھر کو چھوڑا تو وہ قران میں نمایاں ہوگیا اس میں لمبی پھل دار کھجوریں تھیں۔ پہلا معنی لغت میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور مشہور ہے یہ کہا جاتا ہے : بسق النخل جب وہ لمبی ہوجائے۔ شاعر نے کہا : لنا خمر ویست خمر کرم ولکن نتاج الباسقات۔ ہمارے پاس شراب ہے انگور کی نہیں یہ لمبی کھجوروں کے پھل سے بنائی گئی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بسق فلان علی اصحابہ فلاں اپنے ساتھیوں پر بلند ہوگیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ابسقت الناقۃ جب بچہ جننے سے پہلے اوٹنی کی کھیری میں دودھ آگیا۔ اس سے اسم فاعل مباسیق دودھ والی اونٹیناں۔ حضرت قطبہ بن مالک نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو باصفات صاد کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ؛ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں ؛ صیحح مسلم میں حضرت قطبہ بن مالک سے روایت مروی ہے کہ میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز ُ رھائی (1) اور یہ قراءت کی میں اسے دہرانے لگا میں نہیں جانتا جو اس نے قول کیا ہے گر قاف کی وجہ سے سین کو صاد سے بدلنا جائز نہیں۔ لھا طلع فضید، طلع اسے کہتے ہیں جو کھجور کا پہلا پھل نکلتا ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے طلع الطلع طلوعا واطلعت النخلۃ اس کے طلع سے مراد اس کا غلاف ہے جو ابھی پھٹا نہ ہو۔ نضید پھل جب تک غلاف میں ہوں۔ اس کا معنی ہے ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ جوڑدیا گیا ہے جب وہ اپنے غلاف سے نکل آئے تو وہ نضید نہیں کہلاتا۔ رزقا للعماد یعنی ہم نے بندوں کو رزق دیا۔ رزقا مفعول مطلق ہے یا اس کا معنی ہے انبتنا رزقا ہم نے اسے بطور رزق اگایا۔ کیونکہ انبات، رزق کے معنی میں ہے یا رزقا مفعول لہ ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی انبتنا مالرزقھم۔ رزق اسے کہتے ہیں جو انتقاع کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ اس بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا، کذلک الخروج، یعنی قبروں سے نکلنا ہوگا یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح تمہیں موت دینے کے بعد زندہ کرے گا۔ کذلک کاف محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ میتا فرمایا کیونکہ مقصود مکان ہے اور میتۃ ہوتا تو بھی جائز تھا۔ کذبت قبلھم قوم نوح واصحب الرس وثمود، وعادوفرعون و اخوان لوط۔ واصحب الایکۃ و قوم تبع کل کذب الرسول فحق وعید۔ افعیینا بالخلق الاول، بل ھم فی لبس من خلق جدید۔ (حق کو) جھٹلایا تھا ان ( اہل مکہ) سے پہلے قوم نوح، اہل فارس اور ثمود نے اور (جھٹلایا تھا) عاد، فرعون اور قوم لوط نے نیزای کہ کے باشندوں اور تبع کی قوم نے، ان سب نے جھٹلایا تھا رسولوں کو پس پورا ہوگیا ( ہمارا) عذاب کا وعدہ تو کیا ہم تھک گئے ہیں پہلی مرتبہ مخلوق کو پیدا کر کے، ( ایسا نہیں) بلکہ یہ ( کفار) ازسر نو پیدا ہونے کی بارے میں د شک میں ہیں۔
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید (عذاب) بھی پوری ہو کر رہی

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ از سر نو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں

12 ۔ 15:۔ کذبت قبلھم قوم نوح یعنی جس طرح انہوں نے جھٹلایا ہے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ ان کے سامنے ان جھٹلانے والوں کا ذکر کیا اور جس عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لیا تھا اس سے انہیں ڈرایا۔ ہم نے ان کے واقعات کئی مواقع پر ذکر کیے ہیں، جہاں بھی ان کا تذکرہ ہوا۔ کل کذب الرسل یعنی ان جھٹلانے والی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ فحق و عید تو ان پر میری وعید اور عقاب ثابت ہوگیا۔ افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے کہ ہم دوبارہ اٹھانے سے تھک جائیں گے۔ یہ بعث کے منکروں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کے قول ذلک رجع بعید کا جواب ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے عییت با لامر جب تو اس کی صیحح تو جیہہ نہ جانے۔ بل ھم فی لبس من خلق جدید۔ وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں حیرت میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے کچھ تصدیق کرنے والے اور کچھ تکذیب کرنے والے ہیں۔ یوں باب ذکر کیا جاتا ہے لبس علیہ الامر یلبسہ بسا۔
Ayahs 50:16–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انکو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

16 ۔ 19:۔ ولقد خلقنا الانسان، الانسان سے مراد لوگ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ونعلم ماتوسوس بہ لفسہ یعنی اس کے سر، اس کے دل اور ضمیر میں جو کھٹکتا ہے۔ اس میں ان نافرمانیوں پر جھڑ کا جا رہا ہے جن کو انسان چھپاتا ہے۔ جس نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے تو نفس نے جو وسوسہ ڈالا تھا وہ درخت سے کھانا تھا۔ پھر ان کی اولاد کے لئے عام ہے۔ وسوسہ سے مراد حدیث نفس ہے جو نفی کلام کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اعمش نے کہا : تسمع للحلی و سواسا اذا انصرفت جب وہ واپس جاتی ہے تو تو زیورات کی خفی آواز سنتا ہے۔ سورة الاعراف میں معنی گزر چکا ہے۔ ونحن اقرب الیہ منحبل الورید، یہ کندھے کی رگ ہے یہ اس کے حلق کے کنارے سے اس کے کندھے تک پھیلی ہوئی ہے وہ دائیں اور بائیں جانب سے دو رگیں ہیں۔ اس کا یہ معنی حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے اور یہی لغت میں معروف ہے۔ حبل سے مراد رید ہی ہے اسے اپنی ہی ذات کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ دونوں لفظ مختلف ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا ؛ ورید سے مراد دل کی رگ ہے یہ ایسی رگ ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے یہ قرب کی تمثیل ہے یعنی شہ رگ جتنی اس کے قریب ہے اور ہم اس کے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ یہ قرب مسافت کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی شہ رگ کو اس پر جو غلبہ ہوتا ہے ہم اس پر اس سے بھی زیادہ ملکیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایسی رگ ہے جو دل کے ساتھ ملی ہوتی ہے یہ قرب علم اور قدرت کا قرب ہے۔ انسان کے اجزاء ایک دوسرے سے چھپے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ اذیتلقی المتلقین وعن الشمال قعید، یعنی دونوں فرشتے اس کے عمل کو لیتے ہیں تو ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں وہ دو فرشتے ہیں جو اس پر مقرر ہیں یعنی ہم اس کے احوال سے آگاہ ہیں ہم کسی فرشتے کے محتاج نہیں جو اسے خبر کرے لیکن دونوں فرشتوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے مقصد دلیل قائم کرنا اور امر کو موکد کرنا ہے ؛ ؁ْحضرت حسن بصری، مجاہد اور قتادہ نے کہا ہے۔ المتلقین دو ایسے فرشتے جو تیرے عمل کو لیتے ہیں ان میں سے ایک تیری دائیں جانب ہے جو تیری نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا بائیں جانب ہے جو تیری برائیاں لکھتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا ؛ یہاں تک کہ جب تو مرے گا تو تیرا نامہ اعمال لپیٹ دیا جائے گا اور قیامت کے روز کہا جائے گا ؛ اقرا کتبک، کفی بنفسل الیوم علیک حسیبا۔ (اسرائ) اللہ کی قسم اس ذات نے تیرے ساتھ عدل کیا جس نے تیرا محاسب تیری ذات کو بنایا ہے۔ مجاہد نے کہا ؛ اللہ نے انسان کے احوال جاننے کے باوجود دو فرشتے رات کے لئے اور دو فرشتے دن کے لئے مقرر کیے جو اس کے اعمال یاد رکھتے ہیں اور اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں ؛ مقصد حجت قائم کرنا ہے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہے جو نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا بائیں جانب ہے جو برائیاں لکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان عن الیمین اعن الشمال قعید۔ سے یہی مراد ہے۔ سفیان نے کہا ؛ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نیکیاں لکھنے والا، برائیاں لکھنے والے پر امین ہے جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو وہ دوسرے کو کہتا ہے ؛ جلدی نہ کر ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے۔ حضرت ابو امامہ ؓ کی حدیث میں یہی معنی مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ نیکیاں لکھنے والا آدمی کی دائیں جانب اور برائیاں لکھنے والا اس کی بائیں جانب ہوتا ہے اور نیکیاں لکھنے والا بارئیاں لکھنے والے پر امین ہوتا ہے جب بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں سمت والا دس نیکیاں لکھتا ہے اور جب وہ برائی کرتا ہے تو دائیں سمت والا فرشتہ بائیں جانب والے فراشتے کو کہتا ہے ؛ سات ساعتوں تک نہ لکھو ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے یا استغفار کرلے (1) ۔ حضرت علی شیر خدا ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ تیرے دونوں فرشتوں کے بیٹھنے کی جگہ تیرے سامنے کے دانت ہیں تیری زبان ان کا قلم ہے، تیری تھوک ان کی روشنائی ہے جب کہ تو بےمقصد کاموں میں شروع رہتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں سے حیاء نہیں کرتا ؛ ضحاک نے کہا ؛ ان دونوں کے بیٹھنے کی جگہ سامنے کے دانتوں کے نیچے نچلے جبڑے پر ہے ؛ اسے عوف نے حضرت حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ حضرت حسن بصری کو یہ بات خوش کرتی تھی کہ اپنی داڑھی کو صاف کریں۔ یہاں آیت میں قعید فرمایا ہے قعید ان نہیں فرمایا جب کہ دانت دو ہیں کیونکہ یمین سے مراد ایک قعید اور شمال سے مراد بھی ایک قعید ہے پہلے کو حذف کردیا گیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کرتا ہے ؛ یہ سیبویہ کا قول ہے ؛ اس معنی میں شاعر کا قول ہے ؛ نحن بما عندنا وانت بما عندک راض والرای مختلف (2) ہم اس پر راضی ہیں جو ہمارے پاس ہے اور تم اس پر راضی ہو جو تمہارے پاس ہے جب کہ رائے مختلف ہے۔ محل استدلال راض ہے، یہاں راضیان نہیں فرمایا۔ اس طرح فرودق کے شعر میں غدورین کی جگہ غدور مذکور ہے۔ انی ضمنت لمن اتانی ماجنی وابی فکان وکنت غیر غدور مبرد کا مذہب ہے تلاوت میں پہلا ہے بطور مجاز اسے دوسرا بنا لیا گیا ہے دوسرے کو حذف کردیا گیا کیونکہ پہلا اس پر دلالت کرتا ہے۔ اخفش اور فراء کا مذہب ہے کہ تلاوت میں جو لفظ ہے یہ دو اور جمع کو ادا کرتا ہے کلام میں کوئی حذف نہیں۔ قعید، قاعد کے معنی میں ہے جس طرح سمیع، علیم، قدیر اور شہید۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ قعید، مقاعد کے معنی میں ہے جس طرح اکیل اور ندیم یہ مواکل اور منادم کے معنی میں ہے۔ جوہری نے کہا ؛ فعیل اور فعول میں واحد، تثنیہ اور جمع سب برابر ہیں ؛ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ انا رسول رب العلمین، (شعرائ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ والملکۃ بعد ذلک ظھیر۔ (تحریم) دونوں آیات میں محل استدلال رسول اور ظہیر ہے۔ شاعر جمع کے بارے میں کہا ثعلبی نے اسے پڑھا ہے : الکنی الیھا وخیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر مجھے اس کی طرف بھیج اور بہترین قاصد وہ ہوتا ہے جو ان میں سے خبر کی اطراف کو ہر اعتبار سے جانتا ہو۔ یہاں قعید سے مراد ملازم اور ثابت ہے یہ قائم کی ضد نہیں۔ مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید، وہ کوئی بات نہیں مگر اسے اس کے حق میں لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ لفظ الطعام سے ماخوذ ہے اس کا معنی منہ سے باہر نکلتا ہے۔ رقیب میں تین وجود ہیں (1) (1) امور کی نگہبانی کرنے والا (2) حفاظت کرنے والا، یہ سدی کا قول ہے (3) مراد شاہد ہے ؛ یہ ضحاک کا قول ہے عتید میں دو وجودہ ہیں۔ (1) ان دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حاضر ہو غائب نہ ہو (2) حفاظت کرنے الا جسے حفاظت کے لئے یا شہادت کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ جوہری نے کہا ؛ عتید سے مراد ایسی شے ہے جو حاضر ہو اور تیا کی گئی ہو۔ یوں کہا جاتا ہے ؛ عتدہ تعتید او اعتدہ اعتاد اسے دن کے لئے تیار کیا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ اوعتدت لھن متکا (یوسف :31) اسی طرح فرس عتد اور عتد ہے۔ یعنی تاء پر فتحہ اور کسرہ ہے۔ میں کہتا ہوں ؛ اس کا معنی حضور ہے ؛ اسی معنی میں شاعر کا شعر ہے لمن کنت میک فی العیان مغیبا فذکرک عندی فی الفواد عتید اگر تو طاہر میں مجھ سے غائب ہے، تیرا ذکر میرے دل میں موجود ہے۔ ابو جوزاء اور مجاہد نے کہا ؛ انسان پر ہر چیز لکھی جارہی ہے یہاں تک کہ اس کی مرضی میں اس سے جو آواز نکلتی ہے وہ بھی لکھی جاتی ہے۔ عکرمہ نے کہا ؛ صرف وہی چیز لکھی جاتی ہے جس پر اجردیا جاتا ہے یا جس پر گناہ ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ جو کچھ وہ کلام کرتا ہے وہ اس پر لکھا جاتا ہے جب دن کا آخری پہر ہوتا ہے تو مباح تھا وہ مٹا لیا جاتا ہے جس طرح یہ الفاظ ہیں انصلق، اقعد اور کل۔ جس کے ساتھ کوئی اجراء اور گناہ متعلق نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ دونوں محافظ فرشتے ان اعمال کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ صحیفہ کے آغاز میں نیکی اور ان کے آخر میں بھی نیکی پا تا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو فرماتا ہے ؛ گواہ رہو میں نے اپنے بندوں کو اس وجہ سے بخش دیا ہے جو صحیفہ کے دونوں طرفوں میں ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرشتے جن کے پاس سفید صحیفے ہیں ان فرشتوں نے ان کے آغاز اور آخر میں نیکی لکھی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان میں جو کچھ ہے وہ تمہارے لئے بخش دیتا ہے۔ ابو نعیم حافظ نے نقل کیا ہے کہ ابو طاہر محمد بن فضل بن محمد بن اسحاق بن خذیمہ، ابو نعیم حافظ سے وہ ابو طاہر محمد بن فضل بن محمد بن اسحاق بن خذیمہ سے وہ محمد بن اسحاق سے وہ محمد بن موسیٰ حرشی سے، وہ سہیل بن عبد اللہ سے وہ اعمش سے وہ زید بن وہب سے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ جب دونوں محافظ فرشتے بندے یا امت پر نازل ہوتے ہیں تو ان کے پاس مہر لگی کتاب ہوتی ہے بندہ یا امت جو منہ سے کلمہ نکالتی ہے وہ اسے لکھ لیتے ہیں جب وہ دونوں اٹھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہتا ہے : مہر لگی کتاب کو کھولو جو تیرے پاس ہے، تو اسے کھولتا ہے تو اس نے جو کچھ لکھا ہوتا ہے اس کتاب میں اس کے برابر ہوتا ہیـــ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید۔ یہ اعمش کی حدیث جو زید سے مروی ہے غریب ہے ان سے صرف سہیل نے روایت کی ہے حضرت انس ؓ سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے لئے دو فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو اس کا عمل لکھتے ہیں۔ جب وہ آدمی مرتا ہے دونوں کہتے ہیں ؛ اے ہمارے رب فلاں آدمی مرگیا ہمیں اجازت دے کہ ہم آسمان کی طرف چڑھ آئیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ؛ میرے آسمان میرے فرشتوں سے بھرے ہوئے ہیں جو میری تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ دونوں عرض کرتے ہیں ؛ اے ہمارے رب ! ہم زمین میں قیام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ؛ میری زمین میری مخلوق سے بھری ہوئی ہے وہ میری تسبیح کر رہی ہے۔ وہ دونوں عرض کرتے ہیں ؛ پھر ہم کہاں رہیں ؛ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ؛ تم دونوں میرے بندے کی قبر پر رہو دونوں تکبیر کہو، لا الہ الا اللہ پڑھو اور میری تسبیح بیان کرو اور یہ عمل میرے بندے کے لئے لکھتے رہو یہ سلسلہ قیامت تک جاری رکھو۔ وجاءت سکرۃ الموت بالحق، سکرۃ سے مراد سختی ہے انسان جب تک زندہ رہتا ہے تو اس کے اقوال اور افعال اس پر لکھے جاتے ہیں تاکہ ان اعمال پر اس کا محاسبہ کیا جائے پھر موت آجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے جو وعدہ اور وعید کیا ہوتا ہے وہ اسے سب کچھ عیاں دیکھتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ حق سے مراد موت ہے اسے حق کا نام دیا ہے کیونکہ وہ یقینی ہے یا وہ دار حق کی طرف منتقل کردیتی ہے (1) ۔ اس تعبیر کی بنا پر کلام میں تقدیر و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی وجاءت سکرۃ الحق بالموت ؛ یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ جس نے قرآن پر طعن کیا ہے اس نے گمان کیا اور کہا : میں مصحف کی اسی طرح مخالفت کرتا ہوں جس طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مخالفت کی اور پڑھا وجاءت سکرۃ الحق بالموت۔ اس کے خلاف یوں استدلال کیا جائے گا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بارے میں دورویات مروی ہیں ان میں سے ایک مصحف کے موافق ہے اسی پر عمل ہوگا اور دوسری ترک کردی گئی ہے وہ بھلا دئیے جانے کے قائم مقام ہے اگر آپ نے کہا بھی ہو یا یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جنہوں نے نقل کیا ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا اسماعیل بن اسحاق قاضی، علی بن عبد سے وہ جریر سے وہ منصور سے وہ ابو وائل سے مسروق سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف پیغام بھیجا جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ان کے پاس حاضر ہوئیں تو عرض کی یہ تو معاملہ اسی طرح ہے جس طرح شاعر نے کہا : اذا حشر جت یوما و ضاق بھا الصدر، (2) جب کسی روز گھنگھرو بولنے لگا اور سینہ تنگ ہوگیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : تو نے وہ کیوں نہیں کہا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وجاءت سکرۃ الموت بالحق، ذلک ماکنت منہ تحید۔ اور حدیث ذکر کی۔ سکرۃ یہ سکرات کی واحد ہے صیحح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے چھاگل یا کوئی چمڑے کا برتن تھا جس میں پانی تھا آپ اپنا ہاتھ پانی میں داخل کرتے اور اپنے چہرے پر پھیر تے اور یوں کہتے : لا الہ الا اللہ، ان للموت سکرات اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں ہے بیشک موت کی سختیاں ہیں۔ پھر آپ نے ہاتھ کھڑے کیے اور یوں کہنے لگے ؛ فی الرفیق الاعلی، ، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی اور آپ کا ہاتھ مڑ گیا ؛ اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ؛ نیک بندہ موت اور اس کی سختیوں کو برداشت کرتا ہے اور اس کے جوڑ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ؛ السلام علیک میں قیامت کے روز تک تجھے اور تو مجھے چھوڑ رہا ہے، (1) ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے کہا : اے حواریوں کی جماعت ! اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تم پر جنت کی سختی آسان کردے۔ رویت بیان کی گئی ہے موت تلوار کے وار، آری کے چیر نے اور قینچی کے ساتھ کاٹنے سے زیادہ سخت ہے۔ ذلک ما کنت منہ تحید۔ جس پر موت کی سختی طاری ہو اسے یہ کلمات کہنے جانے چاہئیں یعنی یہ وہ چیز ہے جس سے تو نہ بھاگ سکتا اور نہ تو ایک طرف ہو سکتا ہے۔ یوں اس کا باب چلایا جاتا ہے حادعن الشیء یحید حیودا وحیدۃ وحیدودۃ اس سے اعراض کیا اور اس سے مائل ہوا۔ اس کی اصل حیدودہ ہے یعنی یاء متحرک ہے اسے ساکن کردیا گیا کیونکہ صعفوق کے علاوہ کلام میں کوئی فعلول کا وزن نہیں۔ تو اپنے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہتا ہے : حدت عن الشیء واحید حیداومعیدا۔ جب تو اس سے اعراض کرے۔ طرفہ نے کہا : ابا منذر رمت الوفا ء فھبتہ وحدت کما جار البعیر عن الدحض اے ابومنذر ! تو نے وفا کا قصد کیا تو اس سے ڈر گیا اور تو نے اعراض کیا جس طرح اونٹ پھسلنے کی جگہ سے اعراض کرتا ہے۔
Ayahs 50:20–22

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اسکے عملوں کی) گواہی دینے والا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

20 ۔ 22:ـ'' اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا اور حاضر ہوگا ہر شخص اس طرح کہ اس کے ہمراہ ایک (اسے) ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ تو عمر بھرغافل رہا اس دن سے پس ہم نے اٹھا دیا ہے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ سو تیری بینائی بڑی تیز ہے۔ و نفخ فی الصور اس ففحہ سے مراد دوسرا نفحہ ہے جو دوبارہ اٹھانے کے لئے ہوگا۔ ذلک یوم الوعید۔ یعنی وہ دن جس کی اللہ تعالیٰ نے کفار کو دھمکی دی ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ صورپھونکنے کے بارے میں گفتگو پہلے مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ وجاءت کل نفس معھا ساء یق و شہید، ساء یق اور شہید میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سائق فرشتوں سے اور شہید ان کی ذاتوں میں سے ہاتھ اور پائوں ہیں (2) ؛ اسے عوفی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : سائق سے مراد فرشتہ اور شہدھ سے مراد عمل ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : سائق سے مراد جو اسے ہانک کرلے جائے گا اور شاہد اس سے مراد جو اس کے عمل کے بارے میں گواہی دے گا۔ ابن مسلم نے کہا ؛ سائق سے مراد شیاطین میں سے اس کا قرین ہے۔ اسے سائق اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ اس کے پیچھے رہتا ہے اگرچہ سے بر نگیختہ نہ کرے۔ مجاہد نے کہا : سائق اور شہید دو فرشتے ہیں حضرت عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے منبر پر بیٹھ کر یہ ارشاد فرمایا : سائق سے مراد فرشتہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف ہانک کرلے جاتا ہے اور شہید سے مراد وہ ہے جو اس کے عمل کے بارے میں اس پر گواہی دے گا میں کہتا ہوں یہ صحیح ترین ہے کیونکہ حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث میں ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے بندے کے حق میں جو کچھ پیدا کیا ہے انسان اس کے بارے میں غفلت میں ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جب اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتے سے فرماتا ہے اس کا رزق اس کا عمل موت وقت لکھو اور یہ بھی لکھ کہ وہ شقی ہے یا سعید ہے پھر وہ فرشتہ چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسرا فرشتہ بھیج دیتا ہے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ دو فرشتے بھیج دیتا ہے جو اس کی نیکیاں اور برائیاں لکھتے ہیں جب موت اس کے پاس آتی ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں پھر اس پر موت کا فرشتہ آتا ہے پھر اس کے پاس قبر والے دو فرشتے آتے ہیں وہ اس کا امتحان لیتے ہیں پھر وہ اوپر چلے جاتے ہیں جب قیامت برپا ہوتی ہے تو نیکیوں اور برائیوں والا فرشتہ اترتا ہے تو وہ کتاب جو اس کے گلے میں باندھی گئی ہوتی ہے اسے کھولتے ہیں پھر وہ دونوں اس کے ساتھ ھاضر ہوتے ہیں ان میں سے ایک ہانکنے والا اور دوسرا گواہ ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرمایا تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں ضرور چڑھ جائو گے یہاں طبق سے مراد رحال ہے پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے سامنے عظیم امر ہے اللہ تعالیٰ جو عظیم ہے اس سے مدد لو اسے ابو نعیم حافظ نے روایت کیا ہے یہ جعفر بن محمد علی کی حضرت جابر سے مروی حدیث ہے اس کے بارے میں فرمایا یہ جعفر کی حدیث غریب ہے اور حضرت کی حدیث کو جابر جعفی نے اس سے تنہا نقل کیا ہے آیت میں دو قول ہیں یہ کافر اور مسلمان کے بارے میں عام ہے یہ جمہور کا قول ہے یہ کافر کے بارے میں خاص ہے یہ ضحاک کا قول ہے ابن زید نے کہا اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ دور جاہلیت میں قریش میں رسالت کے بارے میں ناواقف تھے حضرت ابن عباس اور ضحاک نے کہا مراد مشرک ہیں وہ امور کے انجام کے بارے میں غفلت میں تھے اکثر مفسرین نے کہا مراد نیک اور فاجر ہے یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اے انسان تو اس بارے میں غفلت کا شکار تھا کہ ہر نفس کے ساتھ ایک سائق اور شہید ہے کیونکہ اس کا علم نصوص الٰہیہ سے ہی ہو سکتا ہے ہم تیرے اندھے پن کو ختم کردیا اس میں چاروجوہ ہیں وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو اس کی پیدائش ہوئی یہ سدی کا قول ہے جب وہ قبر میں تھا تو اسے اٹھایا گیا یہ حضرت ابن عباس کے قول کا معنی ہے قیامت میں پیشی کے وقت یہ مجاہد کا قول ہے یہ وحی کا نزول اور رسالت کی ذمہ داری اٹھانا ہے یہ ابن زید کے قول کا معنی ہے اس سے مراد دل کی نظر ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے وہ فقہ میں بصیرت رکھتا ہے دل کی آنکھ اور بصیرت سے مراد یہ ہے کہ اس کا افکار کے شواہد اور عبرت کے نتائج کا دیکھنا ہے جس طرح آنکھ اشخاص اور اجسام میں سے جو سامنے آتی ہے اس کو دیکھتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے یہ معنی ظاہر ہے یعنی آج تیری آنکھ کی نظر تیز ہے یعنی قوی ہے اور جو چیز تجھ سے حجاب میں تھی اس کو دیکھنے والی ہے مجاہد نے کہا اس سے مراد جب تیری برائیاں اور نیکیاں وزن کی جا رہی ہوں گی اس وقت تیری نظر ترازو کی طرف ہوگی یہ ضحاک کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ثواب و عقاب کو دیکھ رہا ہوگا یہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کافر اٹھایا جائے گا اس کی نظر تیز ہوگی وہ آنکھ نیلی ہوجائے گی اور اندھا ہوجائے گا اسے پڑھا گیا ہے خطاب نفس کو ہے
Ayahs 50:23–29

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ تو ایک کو تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ خطاب کرے تو کہے یہ سب واحد کے لیے ہیں فراء نے کہا تو ایک آدمی کو کہتا کے اس اسلوب کی اصل یہ ہے کہ انسان کے اعوان مددگار میں سے اس کے سفر میں اونٹوں بھیڑبکریوں اور ساتھیوں میں سے دو فرد ہوتے ہیں تو انسان کی کلام اس کے دو ساتھیوں کے متعلق ہوتی ہے اس معنی میں شعر میں ان میں ان کا قول ایک فرد کے لیے یوں ہوتا ہے اے میرے دو دوستو پھر وہ کہتا ہے اے میرے ساتھی امراء القیس نے کہا اے میرے دوستو مجھے ام جندب کے پاس سے گزارو اس میں محل استدلال ہے اس کا ایک شعر ہے تم دونوں ٹھہرو ہم حبیب اور اس کی رہائش جو خول اور حومل کے درمیان سقط اللوی میں ہے کو یاد کر کے رولیں محل استدلال قفا ہے ایک اور نے کہا اے ابن عفان اگر تم مجھے روکو گے تو میں رک جائوں گا یہاں بھی محل استدل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسی طرح آیا ہے کیونکہ قرین جماعت اور افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے مازنی نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان پر دلالت کرتا ہے مبرد نے کہا یہ تثنیہ کا صیغہ ہے جو تاکید کے لیے ہے معنی ہے تکرار کے قائم مقام ہے یہ بھی جائز ہے کہ کا صیغہ ہو اور حقیقی معنی پر ہو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں سے خطاب کر رہا ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سائق اور حافظ فرشتوں کو خطاب ہے ایک قول یہ کیا گیا اصل میں یہ تھا یہ تھا نون خفیفہ ہے وقف میں الف سے بدل دیا گیا وصل کو وقف پر محمول کیا گیا حضرت حسن بصری نے نون خفیفہ کے ساتھ پڑھا ہے جس طرح ہے یوسف اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے العلق کا معنی معاند ہے یہ اور عکرمہ کا قول ہے بعض نے کہا سے مراد حق سے اعراض کرنے والا ہے یوں کہا جاتا ہے یعنی حق کی مخالفت کی اور اس کو رد کیا جب کہ وہ حق جو پہچانتا ہے پس وہ ہے کی جمع ہے جس طرح کی جمع آتی ہے خیر سے مراد فرض زکوٰۃ اور ہر واجب حق ہے گفتگو سیرت اور اپنے معاملہ میں ظالم ہے توحید کے بارے میں شک کرنے والا ہے یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے جب وہ شک کرے وہ مشرک ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان دلالت کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی اور سے مراد ہے کہ اپنے بھتیجوں کو اسلام قبول کرنے سے روکتا تھا یہ پہلے امر کی تاکید ہے قرین سے مراد شیطان ہے جو اس سرکش کافر سے براءت کا اظہار کرے گا اور اس جھٹلائے گا وہ حق سے بہت دور تھا وہ اپنے اختیار کے ساتھ سرکشی کرنے والا تھا میں نے تو صرف اسے دعوت دی اس نے دعوت کو قبول کرلیا یہاں قرین سے مراد شیطان ہے اس کوئی اختلاف نہیں یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے تعلبی نے کہا حضرت ابن عباس اور مقاتل نے کہا قرین سے مراد فرشتہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اس فرشتے کے بارے میں کہے گا جو اس کی برائیاں لکھا کرتا تھا اے میرے رب اس نے جلدی کی ہے فرشتہ عرض کرے گا اے ہمارے رب میں نے اس کے بارے میں کوئی جلدی نہیں کی سعید بن جبیر نے کہاـ: کافر عرض کرے گا اے ہمارے رب ! اس نے میرے بارے میں زیادہ اعمال لکھے ہیں فرشتہ عرض کرے گا : اے ہمارے رب ! میں نے اس کا کوئی زائد عمل نہیں لکھا اس موقع پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : یعنی کفار اور شیاطین میں سے اس کے ساتھی میرے ہاں جھگڑانہ کرو قشیری نے کہا : یہ توجیہہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرین سے مراد شیطان ہے وقد قدمت الیکم بالوعید میں نے رسولوں کو بھیجا ایک قول یہ کیا گیا ہے : خطاب ہر جھگڑا کرنے والے کے لیے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : خطاب دو افراد کو ہے اور صیغہ جمع کا آیا ہے ما یبدل القول لدی ایک قول یہ کیا گیا ہے : قول سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ومن جاء بالسینھ فلایجری الا مثلھا الانعام ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد لا ملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین ہود معنی ہے فراء نے کہا ہے : مریے پاس جھوٹ نہیں بولا جاسکتا، یعنی قول میں اضافہ نہیں ہو سکتا اور غیب کا علم ہونے کی وجہ سے اس میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ وما انا بظلام للعبید یعنی جو جرم نہیں کرتا اس کو میں عذاب نہیں دیتا ؛ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے ۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة حج اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔