51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 51:31–37

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی

قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟ قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے کہ یہ عذاب کے پتھر ہیں۔ ایک قول کیا گیا ہے : ہر پتھر پر اس کا نام لکھا ہوا تھا جس نے اس کے ساتھ ہلاک ہونا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر مہریں سی لگی ہوئی تھیں۔ یہ سب بحث سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ پتھر ان کے مسافروں اور بکھرے ہوئے الگ تھلگ لوگوں کا پیچھا کرتے تو ان میں سے کوئی مخبر نہ بچا۔ عندربک یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے رحم کا فیصلہ کیا تھا اس کو رجم کرنے کے لئے انہیں تیار کیا۔ پھر کہا گیا : وہ اس طرح پکے ہوئے تھے جس طرح اینٹ پکائی جاتی ہے، یہ ابن زید کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانـ: حجارۃ من سجیل، (الحجر) کا یہی معنی ہے۔ جس کی وضاحت سورة ہود میں گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ پتھر ہے جسے ہم دیکھتے ہیں جس کی اصل مٹی ہوتی ہے۔ یہ پتھر اس طرح بنتا ہے کہ زمانہ کے گزر نے کے ساتھ سورج اسے جلا دیتا ہے۔ اسے طین کہا گیا تاکہ یہ علم ہو یہ پانی سے بنا ہوا پتھر نہیں جو اولہ ہوتا ہے ؛ قشیری نے یہ بیان کیا ہے۔ فاخر جنا من کان فیھا من المومنین ،۔ جب ہم نے قوم لوط کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ان میں سے جو مومن تھے ان کو نکال لیا تاکہ مومن ہلاک نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : فاسر باھلک (الحجر :65) سے یہی مراد ہے۔ فما وجد جدنا فیھا غیر بیت من المسلمین ،۔ المسلمین سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی بیٹیاں ہیں۔ اس میں اضمار ہے تقدیر کلام یہ ہے فما وجد نا فیھا غیر اھل بیت کبھی یہ کہا جاتا ہے بیت شریف اس سے مراد اہل ہوتا ہے۔ فیھا یہ قر یہ سے کفایہ ہے اس کا ذکر پہلے نہیں ہوا کیونکہ معنی ذہن میں موجود ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : انا ارسلنا الی قوم مجرمین ،۔ قریہ پر دال ہے، کیونکہ وہ قوم قریہ، میں ہی رہائش پذیر تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھاء کی ضمیر جماعت کے لئے ہے۔ مومنوں اور مسلمون یہاں برابر ہیں جنس کا ذکر کیا تاکہ تکرار کی ضرورت نہ پڑے، جس طرح فرمایا : انما اشکو ابتی و حز لی اللہ (یوسف :86) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایمان سے مراد تصدیق قلبی ہے اور اسلام سے مراد ظاہری اطاعت ہے۔ ہر مومن مسلمان ہے اور ہر مسلمان مومن نہیں۔ پہلے آیت میں مومنین کہا کیونکہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے اس مارے میں گفتگو سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قالت الا عراب امنا قل لم تو منوا (الحجرات :14 ) یہ ایمان اور اسلام میں فرق پر دلالت کرتا ہے۔ صیحح مسلم اور دوسری کتب میں مذکورہ حدیث جبریل کا مقتضا بھی یہی ہے ہم نے اس کی وضاحت کئی مقامات پر کی ہے۔ وترکنا فیھا ایتہ ہم نے اس زمانہ اور ان کے بعد کے زمانہ کے لئے عبرت اور علامت رکھ دی ہے۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون، (العنکبوت) ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیۃ متروکہ سے مراد برباد بستی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ڈھیر لگے پتھر جن کے ساتھ انہیں رجم کیا گیا وہی آیت ہے۔ للذین یخافون خوف کرنے والوں کو اس لئے خاص کیا کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 51:38–40

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب نے ہم اس کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے اپنی قوت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

و فی موسیٰ یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی نشانی چھوڑی ہے۔ فراء نے کہا اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ اذارسلنہ انی فرعون بسلطن مبین، سلطان مبین سے مراد واضح حجت وہ عصا کا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد معجزات ہیں جو عصا اور دوسرے معجزات ہیں۔ فتوتی بر کنہ ضمیر فاعل سے مراد فرعون ہے اس نے ایمان سے اعراض کیا۔ بر کنہ یعنی اپنی جمعیت اور لشکروں کے ساتھ، یہ ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد کے قول کا بھی معنی ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : او اوی الی رکن شدید، (ہود) یہاں رکن سے مراد قوت اور قبیلہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : اپنی قوت کے بل بوتے پر اس معی میں عنترہ کا قول ہے۔ فما اوھی مر اس الحرب رکنی، (1) جنگ کی شدت نے میری قوت کو کمزور نہیں کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : برکنہ سے مراد اس کی ذات ہے۔ اخنفش نے کہا : مراد اس کی جانب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اعرض ونا بجا نیہ (فصلت :51) یہ مورخ کا قول ہے : جوہری نے کہا : کسی شے کا رکن اس کی اقوی جانب ہوتی ہے۔ اواوی الی رکن شدید، (ہود) معنی وہ طاقت و سہارا کی پناہ لیتا ہے۔ قشیری نے کہا : رکن سے مراد بدن کی جانب ہے یہ کسی شے سے اعراض کرنے میں مبالغہ کے اظہار کے لئے ہوتا ہے۔ وقال سحر او مجنون، یہاں او، وائو کے معنی میں ہے کیونکہ انہوں نے یہ دونوں باتیں کیں ! یہ مورج اور فراء کا نقطہ نظر ہے اور جریر کا یہ شعر پڑھا : اثغلبہ الفوارس اور یا حا عدلت بھم طھیۃ والخشابا (2) اس شعر میں او، وائو کے معنی ہے۔ او کو وائو کے معنی میں رکھا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولاتطع منھم اثما او کفورا، (الانسان) اس میں او، وائو کے معنی میں ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی و ثلث وربع (النسائ :3) یہ سب گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ فاخذنہ و جنودہ ان کے کفر اور ایمان سے اعراض کے باعث ہم نے انہیں اور ان لشکروں کو پکڑ لیا۔ فنبذنھم یعنی ہم نے انہیں پھینک دیا۔ فی الیم وھو ملیم، یعنی فرعون ملامت کیا گیا کیونکہ اس نے وہ اعمال کیے جن ملامت کی جاتی ہے۔
Ayahs 51:41–42

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی

و فی عاد اذا ارسلنا علیھم الریح العقیم، ماتذر من شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالر میم ،۔ اور (قصہ) عاد میں نشان عبرت ہے جب ہم ان پر آندھی بھیجی جو خیرو برکت سے خالی تھی نہیں چھوڑتی تھی کسی چیز کو جس پر گزرتی مگر اس کو ریزہ ریزہ کردیتی۔ وفی عاد ہم نے عاد میں ان لوگوں کے لئے نشانی چھوڑی جو غور فکر کریں۔ اذارسلنا علیھم الریح العقیم، اریح العقیم سے مراد وہ ہوا ہے جو نہ بادلوں کے بننے کا باعث بنتی ہے نہ درختوں میں ملاقحہ کا عمل کرتی ہے نہ اس میں رحمت، برکت، اور منفعت ہوتی ہے اسی سے امراۃ عقیم ہے جو نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے۔ پھر یہ کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ ہوا ہے جسے جنوب کہتے ہیں۔ ابن ابی ذئب نے حرث بن عبدالرحمن سے وہ بنی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : ریح عقیم سے مراد جنوب (1) ہے (1) ۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد دبور ہے، جس طرح صیحح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، ، میری مدد صبا سے کی گئی اور قوم عاد ربور (2) سے ہلاک کی گئی۔ (2 ) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد نکباء (3) ہے، عبید بن عمیر نے کہا : اس ہوا کا مسکن چھوتی زمین ہے عاد پر صرف اس قدر اسی کو کھولا گیا جس طرح بیل کا نتھنا ہوا کرتا ہے۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول بھی نقل کیا ہے : اس سے مراد صبا ہے (3) ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ماتذرمن شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالر میم، یعنی ایسی چیز کی طرح جسے ریزہ ریزہ کردیا گیا ہو۔ جب نباتات خشک ہوجائے اور ریزہ ریزہ ہوجائے تو اسے کہتے ہیں : رمیم، مثیم۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ایسی چیز کی طرح جو ہلاک ہونے والی ہو اور بوسیدہ ہو ؛ یہ مجاہد کا قول ہے : اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : ترکتنی حین کف الدھر من بصری راذ بقیت کعظم الرمۃ المالی ،۔ تو نے مجھے چھوڑا جب زمانہ نے میری نظر روک لیا۔ اور جس میں بوسیدہ ہڈی کی طرح باقی تھا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد ہے جسے خشک نباتات سے ریزہ ریزہ کیا جائے۔ ابو العالیہ اور سدی نے کہا : باریک مٹی کی طرح۔ قطرب نے کہا : رمیم سے مراد راکھ ہے۔ یمان نے کہا : مراد ہے چوپائے جس گھاس کو پھینک دیتے ہیں۔ ہونٹ کو مرمۃ اور مقمہ کہتے ہیں۔ مرمہ بھی اس میں لغت ہے کلمہ کی اصل رم العظم ہے جب وہ بوسیدہ ہوجائے۔ تو اسی سے یہ باب ذکر کرتا ہے رم العظم یرم رمۃ فھو رمیم۔ شاعر نے کہا : ورای عواقب خلف ذاک مذمۃ تبقی علیہ والعظام رمیم، ، اس نے اس وعدہ کے توڑنے کے انجام میں مذمت دیکھی جو اس پر باقی رہنے والی تھی جب کہ ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں۔ رمۃ جب راء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد بوسیدہ ہڈیاں ہیں اس کی جمع رمم اور رمام ہے اس کی مثل یہ آیت ہے تدمر کل شیء (الاحقاف :25) جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 51:43–45

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور (قوم) ثمود (کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی سو ان کو کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر وہ تو نہ اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ کرسکتے تھے

وفی ثمود یعنی ثمود میں بھی عبرت اور نشانی ہے جب انہیں کہا گیا : تم دنیا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی گزارو۔ حتی حین ہلاکت کے وقت تک۔ یہ تین دن ہیں۔ جس طرح سورة ہود آیت میں ہے تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمثعوا کا معنی ہے اسلام لے آئو اور اپنی اجل کے پورا ہونے تک لطف اندوز ہو لو۔ فعتو اعن امر ربھم انہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ فاخذ تھم الصعقۃ صاعقہ سے مراد موت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہر قسم کا مہلک عذاب ہے۔ حسین بن واقد نے کہا : قرآن حکما میں جہاں بھی صاعقہ کا لفظ ہے اس مراد عذاب ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ حمید، ابن محصین، مجاہد اور کسائی نے الصعقہ پڑھا ہے جملہ بولا جاتا ہے : صعق صعقۃ و تصعا قا اس پر غشی چھا گئی۔ صعقتھم السماء جب آسمان ان پر عذاب نازل کرے۔ صاعقہ کا معنی عذاب کی چیخ ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ وھم ینظرون وہ دن کے وقت اسے دیکھ رہے تھے۔ فما استطاعوامن قیام ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیام کا معنی اٹھنا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اٹھا سکیں اور اس کے ساتھ اٹھ سکیں اور اپنی ذاتوں سے اسے دور کرسکیں۔ تو کہتا : لا اقوام لھذا الامر میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کے جسم ختم ہوجائیں گے اور ان کی روحیں عذاب میں باقی رہیں گی۔ وما کانو امنتصرین ،۔ جب انہیں ہلاک کیا جائے گا تو وہ عذاب سے محفوظ نہیں ہوں گے یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

وقوم نوح من قبل، انھم کانو اقوما فسقین ،۔ اور قوم نوح کا اس سے پہلے (یہی حشر ہوا) بیشک وہ لوگ بھی ( پرلے درجے کے) نافرمان تھے، ،۔ وقوم نوح من قبل حمزہ، کسائی اور ابو عمرو نے اسے وقوم نوح پڑھا یعنی قوم کے لفظ جو جردی ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں نشانی ہے۔ باقی قراء نے اس پر نصب پڑھی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی واھلکنا قوم نوح ما اس کا عطف اخذتھم کی ھم ضمیر پر ہے یا اخذناہ کی ضمیر پر ہے۔ معنی یہ بنے گا انہیں صاعقہ نے پکڑ لیا اور اس نے قوم نوح کو پکڑ لیا یا ہم نے انہیں سمندر میں پھینک دیا اور قوم نوح کو پھینک دیا یا یہ اذکر کے معنی میں ہے
Ayahs 51:47–49

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم سب کو مقدور ہے

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائی تاکہ تم نصیحت پکڑو

۔ والسماء بنینھابا ـــ” اور ہم نے آسمان کو (قدرت) ہاتھوں سے بنایا اور ہم نے ہی اس کو وسیع کردیا اور زمین کا ہم نے فرش بچھادیا پس ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بناے تاکہ تم غوروفکر کروــــو “۔ والسماء بینھا بایید جب ان آیات کو بیان کیا تو فرمایا : آسمان میں آیات اور عبرتیں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صانع کمال پر قادر ہے۔ سماء کے امر کو قوم نوح کے قصہ پر عطف کیا کیونکہ یہ دونوں آیات ہیں۔ بایید کا معنی ہے قوت اور قدرت کے ساتھ ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ وانالمومعون ،۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ہم قادر ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم وسعت والے ہیں انہیں اور غیر کو پیدا کرنا ہم پر کوئی مشکل نہیں ہوتا جس کو پیدا کرنے کا ہم ارادہ کرلیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہم اپنی مخلوق پر اپنا رزق وسیع کرنے والے ؛ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : ہم اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : ہم بارش کے ذریعے رزق کو وسیع کرنے والے ہیں (2) ۔ ضحاک نے کہا : ہم نے تمہیں غنی کردیا ہے : اس پر دلیل علی الموسع قدرہ (البقرہ :236) ہے۔ قتبی نے کہا : ہم اپنی مخلوق پر وسعت والے ہیں۔ معنی قریب قریب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان وسعت رکھ دی ہے۔ جوہری نے کہا : اوسع الرجل سے مراد ہے وہ وسعت اور غنا والا ہوگا : اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والسماء بنینھا با یید و انا لموسعون، (الذاریات) یعنی ہم غنی اور قادر ہیں ؛ تو یہ تمام اقوال کا شامل ہے۔ والارض فرشنھا یعنی ہم نے زمین کو پانی پر بچھا دیا جس طرح بستر بچھایا جاتا ہے اور ہم نے اسے پھیلا دیا۔ فنعم المھدون، یعنی ہم اس کو کتنا اچھا بچھا نے والے ہیں۔ سب میں تعظیم کا معنی پایا جاتا ہے۔ مھدت الفراش مھدا میں نے بستر کو بچھا دیا۔ تمہید الامور سے مراد ان کو درست کرنا ہے۔ ومن کل شیء خلقنا زوجین، یعنی دو مختلف صناعیں بنائیں۔ ابن زید نے کہا یعنی مذکر اور مونث، میٹھا اور کھٹا اور اسی کی مثل بنایا (1) ۔ مجاہد نے کہا : مذکر اور مونث، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن، نور اور ظلمت، میداب اور پہاڑ، جن اور انسان، خیر اور شر، صبح اور شام، اور ایسی اشیاء جو مختلف ہیں ذائقوں، خوشبوئوں اور رنگوں میں یعنی ہم نے اسے اسی طرح بنایا ہے یہ ہماری قدرت پر دال ہیں۔ جو اس پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ومن کل شیء خلقنا زوجین تاکہ تمہیں علم ہوجائے کہ جوڑوں کا خالق فرد ہے اس کی صفت میں حرکت و سکون، ضیاء وظلمت، قعود و قیام، ابتدا و انتہا کو مقدر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ لعلکم تذکرون ،۔ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
Ayahs 51:50–55

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو، میں اس کی طرف سے تم کو صریح راستہ بتانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ، میں اس کی طرف سے صریح راستہ بتانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو پیغمبر آتا وہ اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

تو ان سے اعراض کرو تم کو (ہماری طرف سے) ملامت نہ ہوگی

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے

ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے بچو جو اللہ کی ذات کے سوا کسی اور کی طرف بھاگا تو وہ اس سے بچ نہیں سکتا۔ ابوبکر وراق نے کہا : شیطان کی طاعت سے رحمن کی طاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت جنید بغدادی نے کہا : شیطان باطل کی طرف دعوت دیتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو وہ تمہیں شیطان سے بچا لے گا۔ ذوالنون مصری نے کہا : جہالت سے علم کی طرف، کفر سے شکر کی طرف بھاگو۔ عمرو بن عثمان نے کہا : اپنے نفوس سے اپنے رب کی طرف بھاگو۔ یہ بھی کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہارا حق میں جو فیصلہ ہوچکا ہے اس کی طرف بھاگو اپنی حرکتوں پر اعتماد نہ کرو۔ سہیل بن عبداللہ نے کہا : غیر اللہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو (1) ۔ انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ کفر اور معصیت پر میں تمہیں اس کے عقاب سے ڈراتا ہوں۔ ولا تجعلو امع اللہ الھا اخر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ یہ لوگوں سے کہیں جب کہ آپ نذیر ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کو خطاب ہے۔ انی لکم منہ یعنی میں (اللہ) تمہیں محمد ﷺ اور اس کی تلواروں سے نذیر یعنی میں تمہیں اس کی پکڑ اور تلوار سے خبر دار کرنے والا ہوں اگر تم میرے ساتھ شرک کو ؛ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے یعنی جس طرح تیری قوم نے جھٹلایا اور کہا : آپ ساحرو مجنون ہیں ان سے قبل لوگوں نے بھی جھٹلایا اور اسی کی مثل قول کیا۔ کذلک میں جو کاف ہے اس کو نصیب اس تقدیر کی بنا پر ہو انذرکم انذار کا نذار من تقدمنی من الرسل الذین انذرو اقوامھم یا یہ مرفوع ہو تقدیر کلام ہو الامر مرکزلک۔ پہلی صورت میں ان لوگوں کو ڈرانا ہے جنہوں نے موجد ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ دوسری صورت میں ملحدین میں سے جنہوں نے شرک کیا۔ کذلک کے بارے میں گفتگو یعقوب وغیرہ سے مروی ہے۔ اتواصوابہ یعنی پہلوں نے بعد والوں کو جھٹلانے کی وصیت کی (2) اور اس پر موافقت کی یہاں ہمزہ استفہام تو بیج اور تعجب کے اظہار کے لئے ہے۔ بل ھم قوم طاغون، یعنی ان میں سے بعض نے کہا بعض کو وصیت نہیں کی بلکہ طغیان نے سب کو جمع کردیا۔ یہ کفر میں حد تجاوز کرنا ہے۔ فتول عنھم ان سے اعراض کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے۔ فما انت بملوم ،۔ آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیے گئے نہیں کیونکہ رسالت کی تبلیغ کا جو فریضہ آپ لازم تھا اس کو آپ نے ادا کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ یہ منسوخ ہے و ذکر فان الذکرٰی تنفع المومنین، ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ پہلا قول ضحاک کا ہے کیونکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ نصیحت کرنے کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ مجاہد نے کہا : فتول عنھم ان سے درگزر کیجئے۔ فما انت بملوم آپ کا رب آپ پر کسی کوتاہی کی وجہ سے ملامت نہیں کرے گا جو آپ سے صادر ہوئی۔ وذکر نصیحت انہیں یاس دلائیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔ قتادہ نے کہا ؛ قرآن ان کے سامنے پڑھیے کیونکہ قرآن پڑھنا مومنوں کو نفع دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں عذاب اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ یاد دلائیے۔ یہاں مومنوں کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ مومن ہی اسی سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے طالب رزق نہیں، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے، جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہئے

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

جس دن ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے، اس دن ان کے لئے خرابی ہے

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے پید نہیں کئے گئے۔ پس مذکورہ آیت میں سے مومنین پر محمول ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس فرمان کی طرح ہے : قالت الا عراب امنا (الحجرات :14) یہ بات بدوئوں میں سے ایک جماعت نے کہی تھی : اس کا ذکر ضحاک، کلبی، فراء اور قتبی نے کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں وما خلقت الجن ولانس من المومنین الا لیعبدون ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : معنی ہے میں نے جن وانس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ میں انہیں عبادت کا حکم دوں (1) ؛ زجاج نے اس قول پر اعتماد کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے : وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا (توبہ :31) اگر یہ سوال کیا جائے۔ انہوں نے کفر کیسے کیا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی ربوبیت کا اقرار اور اس کے امر اور مشیت کے سامنے عاجزی کرنے کے لئے پیدا کیا ؟ اس کا جواب یہ دیا گیا : اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف جو قضا کا فیصلہ کیا اس کے سامنے عجز کا اظہار ہے اس کی جانب سے غیر ممتنع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الا لیعبدون کا معنی ہے مگر وہ میرے لئے خوشی سے یا مجبورا عبادت کا اقرار کریں (1) ؛ اسے علی ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ کرہ سے مراد ہے جو ان میں اس کی صنعت کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس لئے تاکہ وہ میری پہچان کریں (2) ۔ ثعلبی نے کہا : یہ اچھا قول ہے کیونکہ اگر وہ انہیں پیدا نہ کرتا تو اس کے وجود اور اس کی توحید کی پہچان نہ ہوتی۔ اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولن سالتھم من خلقھم لیقون اللہ (الزخرف :87) ولن سا لتھم من خلق السموات والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم (الزخرف) اور اسی طرح کی دوسری آیات ہیں۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : مگر اس لیے کہ میں انہیں حکم دوں اور انہیں نہی کروں۔ زید بن اسلم نے کہا : اس سے مراد ہے جس شقاوت اور سعادت پر انہیں پیدا کیا گیا جنوں اور انسانوں میں سے سعادت مند عبادت کے لیے پیدا کیے گئے اور ان میں سے بد بخت معصیت کے لیے پیدا کیے گئے (3) کلبی سے مروی ہے : معنی ہے مگر اس لیے کہ وہ میری وحدانیت کو بیان کریں۔ جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو وہ تنگ دستی اور خوشحالی میں اس کی توحید کا بیان کرتا ہے جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو وہ صرف سختی اور مصیبت میں اس کی توحید کا بیان کرتا ہے انعام اور خوشحالی کے زمانہ میں اس کی توحید بیان نہیں کرتا، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : واذا غشیھم موج کالطلل دعو اللہ مخلصین لہ الدین (لقمان :32) عکرمہ نے کہا : معنی ہے مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں اور اطاعت کریں پس میں عبادت گزارکو بدلہ دوں گا اور منکر کو عذاب دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے مگر اس لئے کہ میں انہیں اپنا بندہ بنالوں۔ معنی قریب قریب ہے۔ عبودیت کا اصل معنی عاجزی ہے اور تعبیر کا معنی کسی کو مطیع بنانا ہے یہ لفظ بولا جاتا ہے : طریق معبد وہ راستہ جس پر عام چلا جائے۔ شاعر نے کہا : وظیفا وظیفا فوق مور معبد اس نے ہموار راستہ پر قدم پر قدم رکھا۔ تعبد کا معنی استبعاد بھی ہے جن سے مراد اسے بندہ بنالینا ہے اسی طرح اعتباد ہے عبادت کا معنی طاعت ہے اور تعبد کا معنی عبادت کرنا ہے لیعبد ون کا معنی ہے کہ وہ عاجزی کریں اور عبادت کریں۔ ما ارید منھم من رزق، من زائدہ ہے میں ان سے رزق کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ میں رازق اور عطا کرنے والا ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو الجوزاء نے کہا : معنی ہے میں یہ ارادہ نہیں کرتا کہ وہ اپنے آپ کو رزق دیں اور نہ میں یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو کھائیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے میں یہ ارادہ نہیں کرتا کہ وہ میرے بندوں کو رزق دیں اور نہ میں یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ انہیں کھائیں۔ ان اللہ ھو الرزاق ابن محصین اور دوسرے قراء نے اسے الرزاق پڑھا ہے۔ ذوالقوۃ المتین ،۔ یعنی شدید اور قوی۔ اعمش، یحیٰی بن وثاب اور نخعی نے المتین کو مجرور پڑھا کیونکہ یہ قوت کی صفت ہے۔ باقی قراء نے اسے مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ رزاق یا ذو کی صفت ہے یا یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یا یہ ان کے اسم کی صفت ہے اس کے محل کے اعتبار سے یا یہ خبر ہے۔ فراء نے کہا : حق تو یہ تھا کہ لفظ المتینہ ہوتا اسے مذکر ذکر کیا کیونکہ یہ مضبوط و محکم شی کی طرف لے جاتا ہے یہ کہا جاتا ہے : حبل متین۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : لکل دھر قد لسبت اثوبا حتی اکتی الراس قناعا اشیبا ،۔ من ریطۃ و الیمنۃ المعصبا (2) ۔ یہاں المعصب کو مذکر ذکر کیا ہے کیونکہ یمنۃ کپڑے کی ایک قسم ہے اسی باب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فمن جاءہ موعظہ (بقرہ :275) موعظۃ سے مراد وعظ ہے واخذ الذین ظلموا الصیحۃ ( ہود :67) الصیحۃ سے مراد صیاح اور خوبصورت (آواز) ہے۔ فان للذین ظلموا اہل مکہ میں سے جنہوں نے کفر کیا۔ ذنوبا مثل ذنوب اصحبھم عذاب کا حصہ جس طرح سابقہ امتوں میں سے کفار کا حصہ ہوتا تھا۔ ابن اعرابی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے یوم ذنوب ایسا دن جس کا شر طویل ہو جو ختم نہ ہو۔ لغت میں ذنوب کا اصل معنی عظیم ڈول ہے۔ وہ پانی نکالتے اور اسے حصہ پر تقسیم کردیتے پس ذنوب سے مراد حصہ لیا گیا ؛ راجز نے کہا : لنا ذنوب ولکم ذنوب فان ابیتم فلنا القیب (3) ۔ ہمارے لئے حصہ اور تمہارے لئے حصہ اگر تم انکار کرو تو ہمارے لئے کنواں ہے۔ جوہری نے کہا : ذنوب سے مرادایساڈول ہے جو پانی سے پھرا ہوا۔ اب سکیت نے کہا : ایسا ڈول جس میں پانی ہو بھرنے کے قریب ہو۔ یہ مونث اور مذکر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے جب وہ پانی سے خالی ہو تو اسے ذنوب نہیں کہتے۔ اس کی جمع قلت اذنبہ اور جمع کثرت ذنائب آتی ہے جس طرح قلوص اور قلائص ہے۔ فلا یستعجلون ،۔ وہ اپنے اوپر عذاب کے نازل ہونے کی جلدی نہ کریں، کیونکہ انہوں نے کہا تھا : اے محمد ! فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین، (الاعراف) غزوہ بدر کے موقع پر ان پر وہ چیز نازل ہوئی جس نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور ان سے جلدی انتقام لے لیا۔ پھر ان کے لئے آخرت میں دائمی عذاب اور ہمیشہ رہنے والی رسوائی ہے جو ختم نہ ہوگی اور جس کی نہ کوئی انتہا ہے۔