52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 52:1–3

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور کتاب مسطور کی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کھلے ہوئے کاغذ میں لکھی ہوئی ہے

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سے مراد ہے ایک پہاڑ۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ 3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر نے ام سلمہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں (آیت ) '' و کتاب مسطور '' (اور اس کتاب کی قسم جو کھلے ہوئے کاغذ پر لکھی ہوئی ہے) یعنی آسمانی کتاب (آیت ) '' فی رق منشور '' (کھلے ہوئے کاغذ میں) یعنی صحیفہ۔ 5:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' و کتاب '' سے مراد ہے ذکر۔ (آیت ) '' مسطور '' سے مراد ہے لکھا ہوا۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) والبخاری فی خلق افعال العباد وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور البیہقی (رح) نے الاسماء و الصفات قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور (1) و کتاب مسطور (2) '' سے مراد ہے کتاب لکھی ہوئی۔ (آیت ) '' فی رق منشور '' یعنی وہ کتاب۔ 7:۔ آدم بن ابی ایاس والبخاری نے خلق افعال العباد میں اور ابن جریر والبیہقی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت ) '' وکتب مسطور '' سے مراد ہے آسمانی کتابیں لکھی ہوئی۔ (آیت ) '' فی رق منشور '' یعنی آسمانی کتابوں میں۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی رق منشور '' یعنی کتاب میں جو لکھی گئی ہے )
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور بیت معمور کی

9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ والحاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیت المعمور ساتویں آسمان میں ہر دن ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں پھر اس کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔ بیت المعمور میں فرشتوں کی عبادت : 10:۔ ابن المنذر (رح) والعقیلی وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ضعیف سن کے ساتھ ابو رہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آسمان میں گھر ہے جس کو معمور کہا جاتا ہے۔ جو بالکل کعبہ کی سیدھ میں ہے اور چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کو حیوان کہا جاتا ہے۔ اس میں جبرائیل (علیہ السلام) ہر دن داخل ہوتے ہیں، اس میں خوب غوطے لگتے ہیں پھر باہر نکل آتے ہیں اور اپنے پیروں کو جھاڑتے ہیں اس سے ستر ہزار قطرے گرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر قطرے سے ایک فرشتہ پیدا فرماتے ہیں اور وہ حکم دیئے جاتے ہیں کہ وہ بیت المعمور کے پاس آکر نماز پڑھیں تو وہ ایسا کرتے ہیں پھر وہ نکل جاتے ہیں پس وہ دوبارہ اس کی طرف کبھی نہ لوٹیں گے پھر ان میں سے ایک کو ان پر والی مقرر کردیا جاتا ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو آسمان میں ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہرائے اس میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہیں گے قیامت کے قائم ہونے تک۔ 11:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیت المعمور آسمان میں ہے جس کو ضراح کہا جاتا ہے وہ بیت الحرام کی طرح بالکل اس کی سیدھ میں ہے اگر وہ گرپڑے تو سیدھا بیت اللہ پر گرے گا۔ ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے اور اس کے لئے آسمان میں اتنی ہی حرمت ہے جتنی مکہ کی حرمت ہے۔ 12:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں کریب ابن عباس ؓ کے آزادکردہ غلام سے بھی اس طرح مرسلا روایت کیا ہے۔ 13:۔ اسحاق بن راھویہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں خالد بن عرعرہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے علی ؓ سے کہا بیت المعمور کیا ہے ؟ فرمایا آسمان میں ایک گھر ہے جس کو صراح کہا جاتا ہے۔ اور وہ مکہ کے اوپر بالکل اس کی سیدھ میں ہے۔ اس کی حرمت آسمان میں اس طرح ہے جیسے بیت اللہ کی حرمت زمین میں اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں پھر اس کی طرف کبھی اس کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ 14:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن الانباری نے المصاحف میں ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکوائی (رح) نے حضرت علی ؓ سے بیت المعمور کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ بیت صراح ہے ساتویں آسمان کے اوپر عرش کے نیچے اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ قیامت کے دن تک اس کی طرف دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' والبیت المعمور '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک گھر ہے عرش کی سیدھ میں فرشتے اس کو آباد کرتے ہیں ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے پڑھتے ہیں پھر وہ دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔ 16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' والبیت المعمور '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جنت سے نازل کیا گیا۔ اور یہ مکہ مکرمہ میں آباد ہے پھر جب سیلاب آیا تو انہوں نے اس کو اوپر اٹھالیا۔ اب وہ چھٹے آسمان میں ہے ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں کبھی کوئی ایک دن بھی اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئے گا۔ 17:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مرفوع حدیث روایت کیا کہ بیت المعمور کعبہ کے بالکل سیدھ میں ہے اگر کوئی چیز اس سے نیچے گرپڑے تو اس (بیت اللہ پر ہی گرے گی اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور اس کا حرم اس کے حرم کے بالمقابل ہے جو کہ عرش تک ہے اور آسمان میں قدم رکھنے کی جگہ بنی نہیں ہے مگر یہ کہ جس میں کوئی فرشتہ (اللہ کی عبادت میں) سجدہ کررہا ہے یا قیام کررہا ہے۔ 18:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آسمان میں ایک گھر ہے جس کو صراح کہا جاتا ہے اور وہ اوپر ہے بیت اللہ کی بالکل سیدھ میں اس کی حرمت آسمان میں ایسی ہے جیسے زمین میں بیت اللہ کی حرمت ہے ہر رات ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور پھر کبھی اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اس رات کے علاوہ۔ 19:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ تشریف لائے تو عائشہ ؓ نے بیت اللہ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو بنوشیبہ نے ان سے کہا کہ رات کے وقت اس میں کوئی داخل نہیں ہوسکتا لیکن دن کو ہم آپ کے لئے خالی کرادیں گے وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور ان کی شکایت کی کہ انہوں نے انکو بیت اللہ میں داخل ہونے سے منع کیا آپ نے فرمایا کس کے لئے اجازت نہیں کہ وہ رات میں بیت اللہ میں داخل ہو یہ کعبہ بیت معمور کے بالکل سیدھ میں ہے جو آسمان میں ہے۔ اس بیت المعمور میں (روزانہ) ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ اس کی طرف قیامت کے دن تک نہیں لوٹیں گے اگر کوئی پتھر اس میں سے نیچے گرجائے تو وہ کعبہ کی چھت پر گرے گا۔ 20:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ قتادہ ؓ سے (آیت ) '' والبیت المعمور '' کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم جانتے ہو بیت معمور کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ ایک مسجد ہے آسمان میں کعبہ کے بالکل سیدھ میں اگر وہ گرپڑے تو اس پر گرے۔ ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں جب اس سے نکل جاتے ہیں پھر دوسری مرتبہ (اس حال پر) نہیں لوٹتے جس پر وہ تھے۔ 21:۔ ابن جریر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے فرشتہ ساتویں آسمان کی طرف لے گیا تو میں ایک عمارت کی طرف پہنچا میں نے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ ایک عمارت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لئے بنایا ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اللہ کی تسبیح اور اس کی تقدیس بیان کرتے ہیں پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے ہیں۔
Ayahs 52:5–6

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور سقف مرفوع کی

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور بحرمسجور کی

22:۔ ابن راھویہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمہ میں والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' (اور بلند چھت) سے مراد وہ آسمان ہے۔ 23:۔ ابوشیخ نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد ہے عرش (آیت ) '' والبحر المسجور '' (اور سمندر کی قسم جو پانی پر ہے) یعنی وہ اوپر والا پانی جو عرش کے نیچے ہے۔ 24:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد آسمان۔ 25:۔ عبدالرزاق (رح) سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' سے وہ سمندر مراد ہے جو آسمان میں سے عرش کے نیچے۔ 26:۔ ابن جریر (رح) وابن عمر و ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 27:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' یعنی (ایسا سمندر) جو روکا ہوا ہے۔ سمندر جہنم کا حصہ بن جائیں گے : 28:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' سے مراد ہے مرسل یعنی چھوڑا ہوا سمندر۔ 29:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نے یہودیوں میں سے ایک آدمی سے پوچھا جہنم کہاں ہے ؟ اس نے کہا یہی سمندر ہے (یہ سن کر) علی ؓ نے فرمایا میں اس کو سچ خیال کرتا ہوں پھر یہ آیت پڑھیں (آیت ) '' والبحر المسجور '' (اور) (آیت ) '' واذا البحار سجرت '' (اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے ) ۔ 30:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں اور البیہقی (رح) نے البعث والنشور میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں دیکھا فلاں سے بڑھ کر کسی یہودی کو زیادہ سچ بولنے والا کیونکہ اس کا گمان ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی آگ میں یہی سمندر ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں سورج، چاند، اور ستاروں کو جمع کردیں گے پھر اس دبور (یعنی مغرب کی سمت سے آنے والی) ہوا کو بھیج دیں گے۔ جو اس کو بھڑکا دے گا۔ 31:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' سے مراد ہے بھڑکا ہوا سمندر۔ 32:۔ ابوالشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' سے مراد ہے کہ سمندر بھڑکایا جائے گا اور وہ جہنم بن جائے گا۔ 33:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحر المسجور '' سے مراد ہے (سمندر) بھرا ہوا۔ 34:۔ الشیرازی فی کتاب من طریق الاصمعی عن ابی عمرو بن العلاعن ذی الرمۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والبحرالمسجور '' سے مراد ہے خالی سمندر۔ ایک جماعت پانی پہنے کے لئے نکلی تو حوض کو خالی دیکھا تو کہنے لگی الحوض مسجور۔
Ayahs 52:7–18

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ چل پڑیں گے

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

سو اس دن بڑی خرابی جھٹلانے والوں کے لئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو بیہودگی میں لگے رہتے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن انہیں دوزخ کی آگ کی طرف دھکے دیئے جائیں گے

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہ دوزخ ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھتے

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ، صبر کرو یا نہ کرو برابر ہے تمہارے حق میں، تمہیں انہی اعمال کی جزادی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے رب نے انہیں دیا ہوگا، خوشی کے ساتھ اس میں مشغول ہوں گے اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) '' والطور (1) وکتب مسطور (2) فی رق منشور ' (3) '' پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی بات کی طرف قسم کھائی ہے کہ (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' (کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے) پس آپ رونے لگے پھر روئے یہاں تک کہ اپنے اس درد کی وجہ سے باربار روئے۔ 4:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) قتادہ ؓ سے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں قسم واقع ہوئی اور وہ قیامت کے دن۔ وقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یوم تمور السماء مورا '' 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یوم تمور السماء مورا '' (جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا) یعنی حرکت کرے گا اور (آیت ) '' یوم یدعون '' (جس دن وہ دھکے دیئے جائیں گے) یعنی اس دن ان کو دھکیلا جائے گا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یوم تمور السماء مورا '' یعنی جس دن آسمان سخت گھومے گا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' یوم یدعون الی النار جھنم '' (جس دن) وہ اپنی گردنوں کے بل دھکیلے جائیں گے یہاں تک کہ وہ آگ میں داخل ہوجائیں گے۔ 8:۔ سعید بن منصور (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' یوم یدعون الی النار جھنم '' (جس دن وہ جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے جائیں گے) یعنی جہنم کی آگ کی طرف ان کو دھکیلا جائے گا۔
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

کھاؤ اور پیومبارک طریقہ پر ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے جنت والوں کے بارے میں اس ارشاد (آیت ) '' کلوا وشربوا ھنیأا بماکنتم تعملون '' (خوب کھاؤ پیومزے ساتھ اپنے اعمال کے بدلے میں) کہ متعلق فرمایا کہ اس میں (آیت ) '' ھنیأا '' سے مراد ہے کہ اس میں نہیں مروگے پھر اس وقت اہل جنت کہیں گے (آیت) '' افمانحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن معذبین '' (پس کیا اب ہم مرنے والے نہیں مگر ہمارا پہلے بار کا مرنے اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

یہ لوگ ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر بچھے ہوئے ہوں گے اور ہم گورے رنگ والی بڑی آنکھوں والی عورتوں سے ان کا بیاہ کروادیں گے

جنتیوں کی آپس میں ملاقات : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ جنت والے (آپ میں) ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ وہ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایسی تیز چلنے والی اونٹنیوں پر کہ جس پر ریشم کے کپڑے ہوں گے اوپر والے نیچے والوں کی ملاقات کے لئے آئیں گے لیکن نیچے والے اوپر والوں کی ملاقات نہیں کرسکیں گے فرمایا یہ ان کے لئے مختلف درجات ہیں پھر فرمایا بیشک وہ لوگ اپنی کہنیاں تکیوں پر رکھے ٹیک لگا کر بیٹھیں گے اور کھائے پیئے گے اور خوش حال زندگی بسر کریں گے اور اس میں جام شراب ایک دوسرے کو دیتے جائیں گے جس میں یہ لغویات ہوگی نہ اس میں گناہ کا عمل ہوگا نہ اس سے ان کو سردرد ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا ستر سال کی مقدار تک وہ اس حال پر رہیں گے ان میں سے کوئی اپنی کہنی تکیے سے نہیں اٹھائے گا ابوامامہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ کیا وہ لوگ نکاح کریں گے ؟ فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا وہ لوگ خوب خوب نکاح کریں گے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا لیکن نہ مرد کی منی ہوگی نہ عورت کی اسی میں ناک صاف کریں گے اور نہ اس میں پاخانہ کریں گے ان کے بدن سے خارج ہونے والا پسینہ کستوری کے دانوں کی طرح ہوگا ان کی دھونیاں عود کی ہوں گی اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوگی، ان کے برتن سونے اور چاندی کے ہوں گے صبح اور شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے ان کے دل (باہم محبت اور پیار کی وجہ سے) ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے نہ ان میں سے کوئی کینہ ہوگا اور آپس میں بغض ہوگا اور وہ صبح شام تسبیح بیان کریں گے۔
Ayahs 52:21–22

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ساتھ ان کا اعتبار کیا تو ہم ان کی ذریت کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز بھی کم نہیں کرے گئے ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس ہوگا

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم ان کو میوے اور گوشت بڑھا کردیتے رہیں گے جس کی انہیں خواہش ہوگی

3:۔ الحاکم (وصححہ) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتہم '' (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو درجہ میں ان کے ساتھ کردے گے) 4:۔ سعید بن منصور (رح) وھناد ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم جو الحاکم والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی اولاد کو اس کے ساتھ جنت میں بلند درجہ پر فائز کردے گا اگرچہ وہ عمل میں کم ہوں گے تاکہ ان کے سبب مؤمن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پھر یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم '' پڑھی۔ 5:۔ البزار وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے مرفوع حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی اولاد کو اس کے درجے میں بلند کردے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہوگا تاکہ اس کی آنکھوں کو ان کے ساتھ ٹھنڈا کردے، پھر آپ نے یہ (آیت) پڑھی '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتہم وما التنھم من عملھم من شیئ '' ( اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے) پھر فرمایا جو بلند مراتب ہم اولاد کو عطا فرمائے وہ اس کے عوض والدین کے اعمال کی جزاء میں ذرا بھی کمی نہیں کریں گے۔ جنت میں اپنی اولاد کی فکر : 6:۔ الطبرنی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی جب جنت میں داخل ہوگا تو اپنے والدین، اپنی اولاد اور اپنے بیٹوں کے بارے میں پوچھے گا اس سے کہا جائے گا کہ وہ (سب) تیرے درجے اور تیرے عمل کو نہیں پہنچے تو وہ کہے گا اے میرے رب میں نے اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کئے تھے چناچہ انہیں ان کے ساتھ اسی درجہ میں ملانے کا حکم دے دیا جائے گا اور ابن عباس ؓ نے یہ (آیت) پڑھی '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم '' (الآیہ) 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد مؤمن کی اولاد ہے جو دین اسلام پر رہتے ہوئے فوت ہوئے اگرچہ ان کے آباؤ ادجداد کے درجات اونچے ہوں گے ان کے درجات سے پھر بھی ان کو ان کے آباؤ اجداد سے ملادیا جائے گا اور اس کے عوض جو اعمال ان کے آباؤ اجداد نے کئے تھے ان میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ 8:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمنین اور ان کی اولاد سب جنت میں ہوں گے اور اس کے برعکس مشرکین اور ان کی اولاد دوزخ میں ہوں گے پھر رسول اللہ ﷺ نے (آیت) پڑھی '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم (الآیہ) 9:۔ ھنادوابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آباؤ اجداد کو اس کی مثل دیا جائے گا جیسے بیٹوں کو دیا جائے گا اور بیٹوں کو اس کی مثل دیا جائے گا جو کچھ آباؤ ادجداد کو دیا جائے گا۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) نے ابومجلز (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن بندہ کے لئے اس کی اولاد کو اس طرح کردے گا (جنت میں) جیسے وہ اس بات کو پسند کرتا تھا کہ اس کے لئے دنیا میں اس کی اولاد (اس کے پاس) جمع رہے۔ 11:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما التنھم '' یعنی ہم ان کے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کریں گے۔ 12:۔ الفریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما التنھم '' یعنی ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھی بھی کم نہیں کیا۔ 13:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما التنھم '' سے مراد ہے کہ ہم ان پر ظلم نہیں کریں گے۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہ اس میں جام کی چھینا چھپٹی کریں گے نہ اس میں کوئی لغوبات ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات

1:۔ عبدالرزاق (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یتنازعون فیھا کا سا '' (اور وہ آپس میں خوش طبعی کے طور پر شراب بھرے پیالوں کو چھینا جھپٹی کریں گے یعنی وہ آدمی اور اس کی بیویاں اور اس کے خادم آپس میں چھینا جھپٹی کریں گے وہ آدمی جام شراب اپنے اور اپنی بیوی سے چھیننے کی کوشش کرے گا اور خدام وہی جام اس سے اور اس کی بیوی سے چھیننے کی کوشش کریں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لالغوفیھا '' نہ اس میں جھوٹ ہوگا (آیت ) '' ولا تاثیم '' اور نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔ 3:۔ ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لالغوفیھا '' یعنی اس میں گالی گلوچ نہیں کریں گے (آیت ) '' ولا تاثیم '' اور نہ اس میں کوئی بیہودہ بات کریں گے
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ایسے لڑکے ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے گویا کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہیں

4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانہم لؤلؤمکنون '' (گویا کہ وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں) یعنی ایسے موتی جن کو ابھی تک ہاتھوں نے مس نہ کیا ہو۔ 5:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' کانہم لؤلؤمکنون '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ جب یہ خدام موتیوں کی طرح ہیں تو مخدوم کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ مخدوم کو خادم پر ایسی فضیلت حاصل ہوگی جیسے چادھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر یہ ابن جریر کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایسی فضیلت ہے جیسے چودھویں رات کی چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ 6:۔ الترمذی وحسنہ وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ عزت والا ہوں اپنے رب کے نزدیک اور مجھے (اس بات پر) کوئی فخر نہیں اور مجھ پر ایک ہزار خادم چکر لگائیں گے (آیت ) '' کانہم لؤلؤمکنون '' (گویا کہ وہ موتی ہیں حفاظت سے رکھے ہوئے)
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون '' (الآیۃ) 7:۔ البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے تو وہ بھائیوں کی طرف (ملنے کا) شوق کریں گے تو اس (جنتی کے) پلنگ کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اس (جنتی) کے پلنگ کے سامنے آجائے گا۔ پھر وہ دونوں آپس میں باتیں کریں گے یہ بھی ٹیک لگائے گا اور وہ بھی ٹیک لگائے ہوئے ہوگا اور وہ آپ میں اس طرح باتیں کرنے لگیں گے جیسے وہ دنیا میں باتیں کرتے تھے ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا اے فلاں نے کیا تو جانتا ہے کس دن اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمائی (وہ کہے گا) جس دن ہم فلاں فلاں مقام پر تھے اور ہم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مغفرت فرما دی تھی۔
Ayahs 52:26–29

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ بیشک ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں رہتے ہوئے ڈرتے تھے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

سو اللہ نے ہم احسان فرمایا اور تمہیں دوزخ سے بچا لیا

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

بلاشبہ ہم پہلے اس سے دعا مانگا کرتے تھے بیشک وہ بڑا محسن ہے مہربان ہے

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

سو آپ سمجھاتے رہیں کہ کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں

8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) علی ہنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) یعنی دنیا میں۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) یعنی آگ کے بھڑکنے اور جلنے سے۔ عذاب '' سموم '' کی شدت : 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ عذاب سموم میں سے زمین والوں پر ایک پورے کے برابر کھول دیں تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب کو جلاکر راکھ کردے۔ 11:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت ) '' ووقنا عذاب السموم (27) انا کنا من قبل ندعوہ، انہ ھو البرالرحیم '' (سو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا ہم اس سے پہلے دنیا میں اس سے دعا مانگا کرتے تھے واقعی وہ بڑا محسن اور مہربان ہے) اور فرمایا اے اللہ ہم پر احسان فرما اور ہم کو گرم لو کے عذاب سے بچا لے بلاشبہ آپ بہت احسان کرنے والے اور ہمیشہ رحم کرنے والے ہیں اور یہ انہوں نے نماز میں کہا۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و عکرمہ ؓ فی الزھد اور ابن المنذر (رح) نے اسماء ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (پھر) اس پر وہ گرپڑیں اور پناہ طلب کرنے لگیں اور دعا کرنے لگیں۔ 13:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انہ ھو البر '' (بلاشبہ وہ بڑا محسن ہے) یعنی وہ بڑا مہربان ہے۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انہ ھو البر '' یعنی وہ بڑا سچ بولنے والا ہے۔
Ayahs 52:30–31

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس کی موت کے حادثہ کا انتظار کررہے ہیں

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے انتظار میں رہو سو بیشک میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں

1:۔ ابن اسحاق وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش دارالندوہ میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں جمع ہوئے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اس کو رسی میں باندھ دو پھر اس کی موت کا انتظار کرو یہاں تک کہ یہ مرجائے جیسے اس سے پہلے شعراء زھیر اور نابغہ وغیرہ مرگئے کیونکہ یہ بھی ان میں سے ایک ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کے بارے میں (یہ آیت ) '' ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون '' (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان پر حادثہ موت آنے کا انتظار کررہے ہیں) 2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ریب المنون '' سے مراد ہے موت۔ 3:۔ ابن الانباری نے الوقف ولابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ریب '' سے مراد ہے شک مگر اس جگہ سورة طور میں ہے (آیت ) '' ریب المنون '' اس کا معنی ہے حوادث الامور (یعنی حوادث زمانہ) شاعر نے کہا ہے۔ تربص بھا ریب المنون بعلھا تطلق یوما أوی موت حلیلھا '' ترجمہ : حوادث زمانہ نے اس کے لئے انتظار کیا کہ شاید اسے اسی طلاق ہوجائے یا پھر اس کا شوہر فوت ہوجائے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ریب المنون '' سے مراد ہے زمانے کے حادثات (آیت ) '' ام ھم قوم طاغون '' (یا یہ شریف لوگ ہیں) بلکہ یہ لوگ سرکش ہیں۔