Ayah 52:1(52:1) والطور۔ واؤ قسمیہ ہے الطور سے مراد طور سینا ہے جو مدین کا ایک پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا کلام سنا تھا۔ قسم ہے طور کی۔
Ayah 52:2(52:2) وکتب مسطور۔ واؤ عاطفہ ہے۔ کتب مسطور موصوف و صفت مل کر معطوف الطور کا۔ اور قسم ہے کتب کی جو لکھی ہوئی ہے۔ مسطور اسم مفعول واحد مذکر۔ لکھا ہوا۔ لکھی ہوئی۔ سطر قطار کو کہتے ہیں خواہ کسی کتاب کی ہو۔ کیونکہ حروف ایک دوسرے کے بعد ترتیب سے ایک قطار میں لکھے جاتے ہیں ۔ یا درختوں کی ہو یا آدمیوں کی۔ سطور فلان کذا کے معنی ہیں ایک ایک سطر کرکے لکھنا۔
Ayah 52:3(52:3) فی رق منشور متعلقہ مسطور ہے : رق ۔ الرقۃ۔ (باریکی) اور دقۃ کے معنی ایک ہی معنی ہیں ۔ لیکن رقۃ بلحاظ کناروں کی باریکی کے استعمال ہوتا ہے اور دقۃ بلحاظ عمق کے بولا جاتا ہے۔ پھر اگر رقت کا لفظ اجسام کے متعلق استعمال ہو تو اس کیضد صفاقت آتی ہے۔ جیسے ثوب رقیق (باریک کپڑا) اور ثوب صفیق (موٹا کپڑا) اور دل کے متعلق استعمال ہو تو اس کی ضد قسادت آتی ہے مثلاً نرم دل کے متعلق کہا جاتا ہے فلان رقیق القلب اور اس کے بالمقابل سخت دل کو قسی القلب کہیں گے۔
الرق کے اصل معنی کھال یا چمڑا کے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جب کہ کاغذسازی کی صنعت ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ حسب ضرورت پائدار کاغذ نایاب تھا۔ اس لئے دستور یہ تھا کہ کھال کو رگڑ رگڑ کر خوب باریک اور مصفی بنا لیا تھا ۔ اور اس میں چمک سی پیدا ہوجایا کرتی تھی۔ اور ایسی تیار شدہ کھال پر آسمانی صحائف، قیمتی دستاویزات اور شاہی فرمان لکھے جاتے تھے۔
منشور۔ اسم مفعول واحد مذکر نشو (باب ضرب، نصر، سمع) مصدر۔ منشور کھلا ہوا۔ کشادہ۔ پھیلا ہوا۔ یہاں کھلا ہوا سے مراد یہ ہے کہ سب کے لئے کھلا ہوا۔ جس کا جی چاہے پڑھے۔ فی رق منشور۔ کھلے اوراق میں لکھا ہوا۔
ترجمہ آیات 2:3: اور قسم ہے اس کتاب کی جو کھلے ورق پر لکھی ہوئی ہے۔ یہاں اس سے مراد قرآن مجید یا جملہ کتب آسمانی ہیں۔
Ayah 52:4(52:4) والبیت المعمور : واؤ عاطفہ ہے البیت المعمور موصوف وصفت، اس کا عطف والطور پر ہے اور قسم ہے بیت معمور کی۔ المعمور اسم مفعول واحد مذکر عمر و عمارۃ (باب نصر) مصدر۔ آباد کیا ہوا۔ البیت المعمور آباد گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد آسمانی کعبہ ہے جو معراج کی رات رسول اکرم ﷺ کو دکھایا گیا تھا اور جو ہمارے کعبہ کے عین مقابل جہت میں واقع ہے المعمور کی صفت دونوں گھروں پر صادق آئی ہے آسمانی کعبہ اگر فرشتوں اور ان کی عبادت سے آباد ہے اور پرنور ہے۔ تو بیت الحرام بھی طائفین اور راکعین و ساجدین سے مزین اور معمور ہے۔ اور قسم ہے بیت معمور کی۔
Ayah 52:5(52:5) والسقف المرفوع : اس کی بھی وہی ترکیب ہے جو البیت المعمور کی ہے اور قسم کے بلند چھت کی۔
Ayah 52:6(52:6) والبحر المسجور۔ اس کی ترکیب بھی ویسی ہی ہے جیسے آیت سابقہ کی۔ اور قسم ہے البحر المسجور کی۔ المسجور اسم مفعول واحد مذکر سجر (باب نصر) مصدر۔ (پانی کا دریا کو) بھرنا۔ البحر سے کونسا سمندر مراد ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد دنیوی سمندر ہی ہے جسے ہم دیکھتے اور جانتے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد وہ سمندر لیا ہے جو پر عرش عظیم ہے۔ ابو داؤد نے حضرت احنف بن قیس سے ایک طویل حدیث بیان کی ہے۔ اسی طرح المسجور سے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔
(1) مسجور۔ بمعنی مملو، پر، بھرا ہوا۔ جیسے کہتے ہیں سجرت الاناء بالماء میں نے برتن کو پانی سے بھر دیا ۔
(2) مسجور بمعنی موقد بھڑکا یا ہوا۔ چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ سمندر کو قیامت کے دن بھڑکا کر آتش دوزخ میں اضافہ کیا جائے گا۔ قرآن مجید میں ہے ثم فی النار یسجرون (40:72) پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔ اور جگہ فرمایا اذا البحار سجرت (81:6) اور جس وقت دریا آگ میں جائیں گے۔ خواجہ حسن بصری (رح) نے اس کے معنی یہ کئے ہیں :۔ جب دریا آگ سے بھڑکا دئیے جائیں گے ۔
(3) حضرت ابن عباس سے ایک روایت ہے کہ مسجور بمعنی محبوس ہے روکا ہوا۔ کہ سمندر کو قدرت خداوندی نے روک رکھا ہے کہ وہ تمام زمین پر نہیں بہتا ورنہ سب کو غرق کردیتا ۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے ما من یوم الا والبحر یستاذن ربہ ان یغرق بنی ادم : کوئی دن بھی ایسا نہیں آتا جب کہ سمندر اپنے رب سے بنی آدم کو غرق کردینے کی اجازت نہ چاپتا ہو۔
مذکورہ بالا اقوال سے قوی قول یہ ہے کہ المسجور بمعنی موقد (بھڑکا یا ہوا ) ہے۔
Ayah 52:7(52:7) ان عذاب ربک لواقع۔ یہ جملہ جواب قسم ہے ان حرف مشبہ بالفعل عذاب اسم ان عذاب مضاف۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عذاب کا ۔ لام تاکید کا واقع خبر۔
قسم ہے طور کی۔ قسم ہے کتاب مسطور کی۔ قسم ہے البیت المعمور کی، قسم ہے سقف مرفوع کی، قسم ہے البحر المسجور کی، کہ آپ کے رب کا عذاب یقینا آکر رہے گا۔
Ayah 52:8(52:8) مالہ من دافع۔ ما نافیہ، من زائدہ ہے تاکید کے لئے لایا گیا ہے دافع اسم فاعل واحد مذکر۔ دفع کرنے والا۔ ٹالنے والا۔ ہٹانے والا۔ اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ۔ یہ ان کی خبر ثانی ہے یا واقع کی صفت۔ یہ جملہ معترضہ بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 52:9(52:9) یوم تمور السمائمورا۔ یوم مفعول فیہ ہے تمور مضارع واحد مؤنث غائب : مور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھرنا۔ تیز چلنا، وہ تیز چلتی ہے یا چلے گی۔ وہ پھٹ جائے گی۔ وہ لرزے گی۔ مورا مفعول مطلق تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
اہل لغت کہتے ہیں کہ کبھی بڑھے کبھی پیچھے ہٹے۔ اور اس طرح جھولے جس طرح کہ تیز جھکڑ میں لمبی کھجوریں جھومتی ہیں ۔ تو اس حالت کو بیان کرنے کیلئے ماریمور کے لفظ استعمال کئے جاتے ہیں مقصدیہ بتانا ہے کہ وسیع عریض آسمان جس کو اپنے مقام سے بال برابر کبھی سرکتے نہیں دیکھا گیا کبھی اضطرابی حرکت اس میں رونما نہیں ہوئی وہ اس روز ایک معمولی اور ہلکی چیز کی مانند ڈول رہا ہوگا جھول رہا ہوگا
جس دن آسمان بڑی بری طرح تھرا تھرا رہا ہوگا۔
Ayah 52:10(52:9-10) وتسیر الجبال واؤ عاطفہ، تسیر مجارع واحد مؤنث غائب سیر (باب ضرب) مصدر۔ سیرا۔ مفعول مطلق تاکید کے لئے۔ اور پہاڑ بڑی بری طرح اڑتے پھریں گے۔
Ayah 52:11(52:11) فویلفصیحت کے لئے ہے ویل بربادی ، ہلاکت، (ملاحظہ ہو 51:6)
یومئذ اسم ظرف زمان، منصوب مضاف، اذ مضاف الیہ۔ اس روز ، اس دن ، ای اذا وقع ذلک جب یہ واقعات وقوع پذیر ہوں گے۔
مکذبین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر تکذیب (تفعیل) مصدر، جھٹلانے والے ، تکذیب کرنے والے۔
پس اس روز تکذیب کرنے والوں کے لئے بربادی ہوگی۔
Ayah 52:12(51:12) الذین ھم فی خوص یلعبون : الذین اسم موصول جمع مذکر۔ یلعبون صلہ فی خوص جار مجرور مل کر متعلق یلعبون ۔ جو تفریح طبع کے لئے فضول باتوں میں لگے رہتے ہیں ۔ خوض (باب نصر) اصل میں اترنے اور اس کے اندر چلے جانے کو کہتے ہیں۔ بطور استعارہ کسی کام میں مشغول رہنے پر بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال فضول کا موں میں لگے رہنے پر ہوا ہے : واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنہم (6:68) اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ۔
یلعبون مضارع جمع مذکر غائب لعب (باب سمع) مصدر۔ وہ کھیلتے ہیں ، استہزاء کرتے ہیں ۔
Ayah 52:13(52:13) یوم یدعون الی نار جھنم دعا : یوم مفعول فیہ۔ یدعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب : وہ دھکے مار کر ہنکائے جائیں گے۔ وہ نہایت سختی سے دھکیلے جائیں گے۔ دع (باب نصر) مصدر بمعنی سختی سے دھتکارنا۔ دعا مفعول مطلق، یوم یدعون بدل ہے یوم تمور سے ۔
Ayah 52:14(52:14) ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون۔ آیت سے قبل وقیل لہم عبارت مقدرہ ہے ان سے کہا جائے گا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 52:15(52:15) افسحر ھذا۔ ہمزہ استفہام انکاری تو بیخی ہےتعقیب کا ہے۔ یعنی دنیا میں تم وحی و معجزات کو سحر کہا کرتے تھے۔ اب حقیقت سامنے آگئی ہے تو تمہارے خیال میں کیا یہ بھی جادو ہے۔ ای یقال لہم ذلک : یعنی ان سے یہ کہا جائے گا ۔۔
ام۔ بمعنی یا۔ لاتبصرون مضارع منفی جمع مذرک حاضر ابصار (افعال) مصدر۔ تم نہیں دیکھتے ہو۔ یعنی یا کیا تم کو یہ آگ دکھانئی نہیں دیتی جس طرح دنیا میں تم کو معجزات دکھائی نہیں دیتے تھے۔
Ayah 52:16(52:16) اصلوھا : فعل امر، جمع مذکر حاضر صلی (باب سمع) مصدر۔ بمعنی آگ میں جلنا اور اس میں جا پڑنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار کے لئے ہے۔ تم اس میں جا پڑو۔ تم اس کے اندر چلے جاؤ۔
اصبروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر صبر (باب ضرب) مصدر۔ تم صبر کرو۔
اولا تصبروا۔ او حرف عطف ہے۔ اکثر نخییر کے معنی میں آتا ہے یعنی دو چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دینا (یا) ۔ لاتصبروا فعل نہی جمع مذکر حاضر، تم صبر نہ کرو، مطلب یہ کہ تم اب نار جہنم میں جلنے پر صبر سے کام لو یا بےصبری سے تمہارے لئے دونوں برابر ہیں۔ اب تو تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا ہو صورت میں بھگتنا ہوگی۔
سوائ : مصدر بمعنی اسم فاعل یعنی دونوں چیزیں تمہارے لئے برابر ہیں سواء خبر ہے مبتداء ۔ مخذوف کی ای صبرکم وتر کہ سوائ۔ تجذون : مضارع جمہول جمع مذکر حاضر جزاء (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی بدلہ دینا اور کافی ہونا۔ تم بدلہ دئیے جاؤ گے ، تم جزاء دئیے جاؤ گے۔
ما موصولہ۔ کنتم تعقلون اس کا صلہ۔ جو تم کیا کرتے تھے۔ انما تجزون ما کنتم تعملون۔ سواء کی تعلیل ہے۔
Ayah 52:17(52:17) فی جنت و نعیم ۔ دونوں میں تنوین تعظیم کے لئے ہے ای جنت عظیمۃ و نعیم عظیم یعنی عظیم الشان جنتیں اور عالی قدر راحتیں۔
Ayah 52:18(52:18) فکہین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ فکر واحد فکاہۃ اسم مصدر۔ مزہ اڑانے والے۔ فاکھۃ بمعنی اسم فاعل ہے بمعنی ظریف۔ ہنس ہنس کر باتیں کرنے والا۔ دوستوں سے ہنسی کرنے والا۔ اور خوب ٹھٹھے لگانے والا۔ بہت زیادہ ہنس مکھ۔ نصب بوجہ حال ہونے کے ہے۔
بما۔ ب سببیہ ما مصدریہ ای فکہین بایتاء ہم ربھم : اپنے رب کی عطا (دین) پر مزے اڑاتے ہوئے۔
اتہم : اتی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء ّافعال) مصدر۔ دینا۔ عطا کرنا۔ الشی کسی کو کوئی چیز دینا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ المتقین کے لئے ہے۔
ووقھم۔ واؤ عاطفہ، جمعلہ کا عطف اتھم پر ہے۔ وفی ماضٰ واحد مذکر غائب وقایۃ (باب ضرب) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو بچا لے گا۔ محفوظ رکھے گا۔ ہم کا مرجع المتقین ہے۔ وہ (ان کا رب) ان کو بچا لیگا۔
عذاب الجحیم : مضاف مضاف الیہ مل کر وقی کا مفعول ثانی۔ ما مصدریہ کی صورت میں (ووقایتہم عذاب الجحیم) ترجمہ ہوگا : اور اپنے رب کی طرف سے عذاب دوزخ سے بچاؤ پر مزے اڑاتے ہوئے۔
Ayah 52:19(52:19) کلوا واشربوا طعاما وشرابا ھنیئا تم خوش گوار کھانے کھاؤ اور خوش مزہ مشروب پئو۔ اس صورت میں یہ مفعول بہٖ کی صفت ہوگا۔ ہنیی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے کھانے پینے میں دشواری نہ ہو اور کھانے کے بعد معدے میں گرانی نہ ہو۔
بما کنتم تعلمون ۔ ب سببیہ ما موصولہ اور کنتم تعلمون۔ صلہ بسبب ان اعمال کے جو تم کرتے رہے تھے۔
Ayah 52:20(52:20) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر۔ منصوب بوجہ کلوا یا وقہم یا اتھم کی ضمیر جمع مذکر غائب سے حال ہونے کے متکئی واحد اتکاء (افتعال) مصدر، تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے سے گاؤ تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔
سرر۔ سریر کی جمع ہے۔ راغب لکھتے ہیں : سریر یعنی جس پر سرور سے بیٹھا جائے۔ کیونکہ یہ ارباب نعمت ہی کے پاس ہوتا ہے۔ اس کی جمع اسرۃ بھی آتی ہے یہ یہاں مصفوفۃ کا موصوف آیا ہے ۔
مصفوفۃ : سرر کی صفت ہے صفوں کی صورت میں رکھے ہوئے۔
زوجنھم : زوجنا ماضی جمع متکلم۔ تزویج (تفعیل) مصدر ہم نے ان کو بیاہ دیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کا مرجع المتقین ہے جن کا ذکر چلا آرہا ہے۔
حور۔ حوریں۔ حوراء کی جمع ہے۔ حورا نہایت ہی گوری عورت کو کہتے ہیں۔
عین بڑ ی بڑی خوبصورت آنکھوں والیاں۔ زنان فراخ چشم ۔ عیناء کی جمع ہے جس کے معنی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی کے ہیں۔ یہ مؤنث کے لئے مستعمل ہے۔ مذکر کے لئے اعین ہے جس کا مطلب ہے ایسا شخص جس کی آنکھیں بڑی بڑی اور سیاہ ہوں۔
Ayah 52:21(52:21) والذین امنوا۔ الموصول ، مبتدا۔ الحقنا بھم ذریتھم اس کی خبر۔ واتبعتھم ذریتھم جملہ معترضہ، الحقنابھم کی تعلیل کے لئے۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف الذین امنوا پر ہے۔
بایمان متعلق اتباع۔
ما التنھم۔ ماضی منفی جمع متکلم ۔ الہ۔ الت۔ ایلاۃ والاتۃ (باب ضرب) مصدر۔ حقہ حق کو کم کرکے دینا۔ ہم ان کا حق ان کو کم کرکے نہیں دیں گے۔ ہم ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ اگر ما موصولہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا : بیشک جو پرہیزگار ہیں باغوں میں چین کرتے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کو ان کے رب نے عطا کیں اور ان کا رب ان کو عذاب دوزخ سے بچادے گا۔ (آیات 1-18) تفسیر حقانی۔
فائدہ : اللہ تعالیٰ جنت میں بھی داخل فرمائے گا اور انہیں عذاب جہنم سے بچا لے گا۔ اس کا علیحدہ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عذاب درزخ سے بچنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر موقوف ہے ورنہ انسان کے اعمال تو اس قابل ہی نہیں کہ دوزخ سے بچنے کی ضمانت بن سکیں : ہم جو نیک اعمال کرتے ہیں ان میں بھی ایسی ایسی خامیاں اور کمزورہاں پائی جاتی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے قبول نہ فرمائے تو ان کی حیثیت ایک کھوٹے سکے سے زیادہ نہ ہوگی۔ یہ تو صرف اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہماری ناقص عبادتوں کو شرف قبولیت سے نواز دے اور ہمیں جہنم سے بچالے۔ (ضیاء القرآن)
کلوا واشربوا ھنیا۔ ای قیل لہم : کلوا واشربوا ۔۔ کلوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر اصل میں اء کلوا تھا ۔ تم کھاؤ۔ اکل کے حقیقی معنی کھانے کے ہیں ۔ مجازا مندرجہ ذیل معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
(1) آگ کا لکڑی کو بالکل جلا دینا۔ اکلت النار الحطب۔ آگ نے ایندھن کو کھالیا۔
(2) کسی کی غیبت کرنا۔ ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا (49:12) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھوئے۔ یعنی غیبت کرے۔
(3) ناجائز طور پر کسی کا مال لے لینا ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل (4:29) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر نہ لو
واشربوا۔ واؤ عاطفہ۔ اشربوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر شرب (باب سمع) مصدر تم پئو۔
ھنیئا۔ ھناء مصدر (باب فتح، نصر، ضرب) سے صفت مسبہ کا صیغہ ہے پاکیزہ، خوش مزہ۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
کلوا واشربوا اکلا شربا ھنیئا۔ تم مزے لے لے کر خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پئو۔ اس صور میں بطور مفعول مطلق ہوگا۔ کیونکہ مصدر کی صفت میں آیا ہے۔
ہم ضمیر جمع مذکر غائب آیت ہذا میں ہر جگہ الذین امنوا کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت ایمان میں ان کے پیرو ہوئی تو ان کے ساتھ ان کی ذریت کو بھی ہم ملا دیں گے۔
ذریعۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں مگر یہ عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے لیکن واحد جمع دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ذریعۃ بعضہا من بعض (3:34) ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے۔
اس کے اشتقاق کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ اور اس کی ہمزہ متروک ہوگئی ہے۔ جیسے رویۃ اور بریۃ میں۔ قرآن مجید میں ہے ولقد ذرانا لجہنم (7:179) اور ہم نے پیدا کئے جہنم کے لئے۔
(2) اس کی اصل ذرء یۃ بروزن فعلیۃ ہے۔
(3) یہ ذر سے مشتق ہے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ ذر (باب نصر) مصدر سے بمعنی (اللہ کا اپنے بندوں کو زمین میں) پھیلا دینا
ذریۃ کی جمع ذریت ہے قرآن مجید میں ہے ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین (26:74) اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی (راہ) ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے۔ اور ان کے (یعنی مؤمنین کے) اعمال میں سے کچھ (اجر) کم نہ کریں گے۔
کل امری بما کسب رھین : یہ جملہ ماقبل کی تعلیل ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں اسیر ہے۔ ای کل انسان مرھون ای محبوس اواسیر بکسبہ الباطل۔ ہر شخص اپنے اعمال باطل کے عوض مرہون ہے جب تک ان اعمال باطل سے ان کی سزا پاکر، یا اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات سے ان کی مغفرت پاکر اپنے آپ کو اس رہن سے فک نہیں کرا لیتے وہ اس میں محبوس رہے گا۔ (اور متذکرہ بالا) رعائیتی نعمت حاصل کرنے کا مستحق نہ ہوگا۔
بہرکیف اس میں ایمان کا ہونا شرط ہے : خداوند تعالیٰ کا اس اولاد کو اس رہن سے خلاص ہونے کے بعد رفعت درجات عطا کرکے ان کے آباء کے ساتھ ملا دینا محض اس کا تفضل ہے اور احسان ہے۔
بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کسب صلہ۔
رھین۔ گروی۔ گرفتار۔ رھن سے جس کے معنی گروی ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ۔ مرھون ہے۔
Ayah 52:22(52:22) وامددنھم۔ امددنا ماضی بمعنی مستقبل ۔ صیغہ نمع متکلم۔ امداد افعال مصدر۔ امدا کرنا۔ بوقت ضرورت یا حسب خواہش دینا۔ وقتاً فوقتاً دینا۔ امددنھم ای زونھم فی وقت بعد وقت (اللمدارک) ہم ای الاباء والابناء من سکان الجنۃ۔ یعنی جنت میں بسنے والے آباء و اجداد اور ان کی اولاد۔ (السیر التفاسیر) جن کو فضل الٰہی سے جنت میں باہم ملا دیا جائے گا۔
مما۔ مرکب ہے من حرف جار اور ما موصولہ ہے۔
یشتھون مضارع جمع مذکر غائب۔ اشتھاء (افتعال) مصدر (جس کی) وہ خواہش کریں گے۔ (جسے) وہ چاہیں گے۔
ترجمہ :۔ اور ہم وقتاً فوقتاً انہیں میوے اور گوشت جسے وہ پسند کریں گے با فراط دیتے رہیں گے ۔
Ayah 52:23(52:23) یتنازعون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ تنازع (تفاعل) مصدر ۔ باہم (بطور تفریح) چھین جھپٹ کریں گے۔ ایک لے گا دوسرا دے گا (لغات القرآن) ۔
یتنازعون فیہا کا سا : ای یتعاطون ویتناول بعضھم من بعض کا سا (اضواء البیان) تعالیٰ کوئی چیز کسی کو پکڑا نا۔ تناول۔ ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو لے لینا۔ (الفرائد الدریہ) باہم ملاطفت و محبت کے جذبہ سے سرشار کسی کو شراب کا پیالہ پکڑانا اور اسے لے لینے پر اصرار کرنا ۔ اور دوسری طرف سے ازراہ تلطف و تعطف قبول کرتے ہوئے لے لینا۔ اپنی کثرت میں یہ چھینا جھپٹی کا منظر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا یتنازعون کا استعمال لینے کی بناء پر بھی اور دینے کی بناء پر بھی ہوتا ہے۔
تنازع باہم نزاع کرنا جھگڑنا۔ ایک دوسرے سے جھیننا۔ اختلاف کرنا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے یتنازعون بینھم (18:21) اس وقت لوگ دن کے بارے میں باہم جھگڑنے لگیں گے ۔
کا سا منصوب بوجہ مفعول ہے۔ شراب سے بھرے ہوئے پیالے۔ برتن میں بھرے مشروب کو کاس کہا جاتا ہے اور برتن کو بھی۔ کاس مفرد، مؤنث سماعی ہے اس کی جمع کؤوس وکاسات ہے۔
فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنۃ ہے۔
لا لغو فیہا ولا تاثیم : لا نفی جنس کے لئے ہے قاعدہ ہے اگر لانفی جنس نکرہ مفرد دوسرے نکرہ کے ساتھ مکرر ہو تو پھر اختیار ہے کہ اسم کو خواہ نصب بلا تنوین دیں۔ جیسے فلا رفث ولا فسوق (2:197) حج کو دنوں میں نہ عورت سے رغبت کرے نہ گناہ۔ خواہ رفع تنوینی دیں۔ جیسے یوم لابیع فیہ ولاخلۃ (2:254) وہ دن جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ یاری۔ یہی دو سری صورت آیت زیر مطالعہ میں اختیار کی گئی ہے۔ معنی ہوں گے :۔ جس کے پینے سے نہ ہذیان رسائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات۔
لغو (باب نصر) سمع، فتح مصدر ہے لغو کے معنی بےمعنی بات کے ہیں جو کسی شمار میں نہ ہو۔ جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے، بک بک کرنا۔ بکواس کرنا۔ قرآن مجید میں ہے۔ لاتسمعوا لھذا القرآن والغوافیہ (41:26) اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو۔
فیہا : ای فی شربھا۔ اس کے پینے میں۔ یعنی شراب کے پینے میں۔
تاثیم (تفعیل) مصدر، گنہگاری۔ گناہ میں ڈالنا۔ گناہ کی باتیں۔ لالغو فیہا ولا تاثیم : ای لا یتکلمون فی اثناء الشرب بلغو الحدیث ولا یفعلون ما یؤثم بہ فاعلہ۔ اس کے پینے کے دوران نہ تو زیادہ گوئی کی نوبت آئے گی اور نہ وہ ایسے فعل کا ارتکاب کریں گے جس کے کرنے والے پر گناہ لازم آئے۔
Ayah 52:24(52) 24) یطوفون : مضارع جمع مذکر غائب طوف و طواف (باب نصر) چکر لگاتے رہیں گے : خدمت کے لئے تیار رہیں گے۔
غلمان۔ غلام کی جمع ہے۔ الغلام اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کی مسیں بھیگ چکی ہوں۔ لڑکا جو بھرپور جوانی میں ہو۔ قرآن مجید میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا ہے ھذا غلم یہ تو نہایت حسین لڑکا ہے۔
لہم میں لام تخصیص کا ہے یعنی جو ان کے ہی مملوک ہوں گے ۔ مشرک خادم نہیں ہوں گے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل بہشت کیلئے ہے۔ کانھم : کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب : کان کا اسم، گویا وہ سب۔ کان چار معانی کے لئے مستعمل ہے۔
(1) عموماً تشبیہ کے لئے بکثرت یہی استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی صرف اسی معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ کان تشبیہ کے لئے ہو تو خبر کا جامد ہونا ضروری ہے جیسے کانہ ھو (27:42) یہ تو گویا ہوبہو وہی ہے۔
(2) شک اور ظن کو ظاہر کرنے کے لئے ۔ یعنی متکلم اپنا گمان ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ جیسے کانک بالشتاء مقیل : میرا گمان ہے کہ تم جاڑا ساتھ لے کر آؤ گے : یعنی سردی سے زمانے میں واپس آؤ گے۔
(3) تحقیق کے لئے جیسے کان الارض لیس بھا ہشام : یعنی ان الارض لیس بھا ہشام۔
(4) تقریب کے لئے جیسے کانک بالدنیا لم تکن : عنقریب تم دنیا سے چلے جاؤ گے گویا تم دنیا میں موجود نہیں ہو۔
لؤلؤ مکنون۔ موصوف وصفت۔ لؤلؤ موتی اس کی جمع لالی ہے۔ مکنون اسم مفعول واحد مذکر۔ کن اور کنون (باب نصر) مصدر۔ چھایا ہوا۔ صاف، محفوظ۔
Ayah 52:25(52:25) اقبل : ماضی (بمعنی مستبقل) واحد مذکر غائباقبال (افعال) مصدر۔ وہ متوجہ ہوگا وہ رخ کرے گا۔
یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تساول (تفاعل) مصدر۔ باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ دنیا میں جو خوف اور دکھ تھا باہم اس کا تذکرہ کریں گے (ابن عباس)
Ayah 52:26(52:26) قالوا : ماضی بمعنی مستقل ، وہ کہیں گے۔ انا کنا قبل : اس سے پہلے دنیا میں ہم ۔
مشفقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ کنا کی خبر کے۔ ڈرنے والے۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد۔ باب افعال) شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط۔ اسی لئے جو محنت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔ باب افعال سے اشفاق کا معنی ہوگا۔ ایسی محبت کرنا جس میں خوف بھی لگا ہوا ہو۔ کیونکہ مشفق ہمیشہ مشفق علیہ کو محبوب سمجھتا ہے اور اسے تکلیف نہ پہنچنے سے ڈرتا ہے۔ ماں کا بچے کی بابت ڈرتے رہنا کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے۔ باب افعال سے اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) اگر من کے واسطہ سے متعدی ہو تو اس میں کوکا پہلو زیادہ ہوتا ہے جیسے وہم من خشیتہ مشفقون ۔ (21:49) اور وہ قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں ۔
(2) اگر اس کے بعد علی یافی مذکور ہو تو محبت کے معنی کا زیادہ ظہور ہوگا۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ کہیں گے ہم بھی اس سے پہلے (دنیا میں) اپنے اہل خانہ پر (اپنے انجام کے بارے میں) سہمے رہتے تھے۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 52:27(52:27) من اللہ : من ماضی واحد مذکر غائب من (باب نصر) مصدر۔ اس نے بڑا احسان کیا۔ یعنی ہم کو توفیق دی۔ ہماری مغفرت کردی، اور رحم فرمایا۔ ممنون احسان مند۔
وقنا۔ وقی ماضی واحد مذکر غائب۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ اس نے ہم کو بچا لیا۔
عذاب السموم مضاف مضاف الیہ مل کر وقی کا مفعول ثانی) ۔ السموم۔ لو۔ تیز بھاپ۔ وہ گرام ہوا جو زہر (سم) کا سا اثر کرے، سموم کہلاتی ہے۔ مؤنث ہے اس کی جمع سمائم ہے۔ باد سموم۔ وہ ہوا جو عرب کے صحراؤں میں چلتی ہے اور زہر کا اثر رکھتی ہے
ترجمہ : اور اس نے ہم کو گرم لو (زہر کی سی اثر والی لو) سے بچا لیا۔
Ayah 52:28(52:28) من قبل۔ ای من قبل ھذا : اس سے قبل۔
کنا ندعوۃ۔ ماضی استمراری جمع متکلم دعاء دعوۃ (باب نصر) ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم اس سے دعا کیا کرتے تھے۔ یعنی عذاب دوزخ سے بچنے کی دعا مانگا کرتے تھے یا اس کی ہی عبادت کیا کرتے تھے۔
البر : احسان کرنے والا۔ نیک سلوک کرنے والا۔ بر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بر (یعنی زمین اور خبگل) کے معنی میں چونکہ وسعت کا تصور موجود ہے اس لئے اس سے بر کا استقاق ہوا۔ جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں۔ چناچہ بر کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (آیت ہذا) بیشک وہی ہے بڑا احسان کرنے والا مہربان۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے وبرا بوالدیہ (19:14) (اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا) چناچہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے اس لفظ کا استعمال ہوگا تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوں گے اور جب بندہ کے لئے آئیگا تو اطاعت کرنے کے معنی ہوں گے۔ بر والدین سے مراد ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہے ۔ اسی کی خد ہے۔ بر نیکی۔ برو ابرار نیکوکار۔ اچھا سلوک کرنے والا۔ ھو بارد وبر بوالدیہ وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا ہے۔
الرحیم۔ رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے نہایت رحیم والا۔ بڑا مہربان ، اس کی جمع رحمآء ہے۔
Ayah 52:29(52:29) نذکر۔ اس میںسببیہ ہے پہلا کلام تذکیر کی علت ہے اللہ کی طرف سے وعدہ اور وعید کو پورا کرنا وعظ اور نصیحت کے حکم کا سبب ہے۔ ذکر امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر تفعیل مصدر۔ تو یاد دلا۔ تو سمجھا، تو نصیحت کر۔
فما انت ۔۔ الخ۔ اس میں فاء تعلیلیہ ہے یعنی آپ لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ آپ اللہ کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ ما نافیہ ہے۔
بنعمتۃ ربک۔ ب ملابست ۔ مصاحبت کے لئے ہے۔ (کے ساتھ) یا یہ قسم کے لئے ہے لیکن اقرب یہ ہے کہ ب سببیہ ہے (روح المعانی) ۔ نعمۃ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ نعمۃ مضاف کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور حرف جار ب کا۔ آپ کے رب کی نعمت کے سبب سے۔
بکاھن ولا مجنون۔ ب زائدہ ہے تاکید کے لئے ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل کے سبب سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون ہیں۔
کاہن اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہو۔ اور عراف اسے کہتے ہیں جو آئندہ کے متعلق خبر دیتا ہو۔ ان دونوں پیشوں کی بناء چونکہ ظن پر ہے جس میں صواب وخطاء کا احتمال پایا جاتا ہے اس لئے رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ۔ من اتی عرافا او کاھنا فصدقہ بما قال فقد کفربما انزل علی ابی القاسم ﷺ (حدیث شریف) جو شخص عراف یا کاہن کے پاس جاکر ان کے قول کی تصدیق کرے تو اس نے جو ابو القاسم (یعنی مجھ پر) اتار گیا اس کے ساتھ کفر کیا۔ مجنون : اسم مفعول واحد مذکر۔ جمع مجانین۔ دیوانہ۔
Ayah 52:30(52:30) ام یقولون شاعر : ام حرف اضراب بل کے معنی میں ہے یعنی وہ رسول کریم ﷺ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے ۔ جس کی نفی خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں کردی۔ فما انت بنعمۃ ربک بکاھن ولا مجنون۔ بلکہ وہ مزید برآں آپ کو شاعر بھی کہتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
مطلب یہ کہ آپ شاعر ہیں جس طرح اور شاعر زہیر، نابغہ وغیرہ مرگئے اور ان کے ساتھ ان کا کلام بھی مرگیا۔ اور ان کے بہی خواہ اور ثنا خوانان بھی ختم ہوگئے۔ یہ بھی مرجائیں گے اور ان کے ساتھ ان کا کلام اور ان کے ساتھ ختم ہوجائیں گے : ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔
نتربص۔ مضارع جمع متکلم تربص (تفعیل) مصدر بمعنی انتظار کرنا۔ ہم انتظار کرتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والمطلقت یتربصن (2:228) مطلقہ عورتوں کو چاہیے کہ انتظار کریں۔
ریب المنون : مضاف مضاف الیہ مل کر نتربص کا مفعول۔
ریب باب ضرب سے مصدر ہے۔ اس کے معنی شک اور گمان میں ڈالنے کے ہیں۔ ریب استعمال اس شک یا گمان کے متعلق ہوتا ہے جس کی حقیقت بعد میں اس کے برخلاف منکشف ہوجائے۔ اور چونکہ زمانہ کی گردشوں کی تعین اوقات میں بھی شک ہوتا ہے کہ خدا جانے کب گردش کا وقت آجائے۔ اس لئے جب زمانہ کے ساتھ ریب کا استعمال ہوگا تو گردش کے معنی ہوں گے۔
المنون : من یمن من ومنہ (باب نصر) سے ہے جس کے معنی رسی کاٹنا ہیں اسی کاٹنا کی نسبت سے موت کو بھی المنون کہتے ہیں کیونکہ یہ عمر کو قطع کرتی ہے۔ اسی لحاظ سے من بمعنی زمانہ بھی ہے کہ تعداد ایام کو کم اور زندگی کو قطع کرتا ہے۔
ریب کا استعمال جب زمانہ کے ساتھ ہوگا تو مراد گردش زمانہ یا حوادث زمانہ ہوں گے اور زندگی کا سب سے بڑا حادثہ یا گردش انسان کی موت ہے۔ حادثہ موت میں ریب یعنی شک سے مراد یہ نہیں کہ موت کے وقوع میں شک و شبہ ہے بلکہ اس لحاظ سے ریب کہا جاتا ہے کہ اس کے تعین اوقات میں انسان متردد رہتا ہے کہ خدا جانے کب اس کا وقت آجائے۔
لہٰذا ریب المنون کے معنی یہاں حادثہ موت کے ہیں۔ یعنی کافر کہتے ہیں کہ یہ (رسول کریم ﷺ ) ایک شاعر ہیں ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو دوسرے شعراء کا ہوتا ہے یعنی موت کے بعد لوگ ان کو اور ان کے کلام کو بھول جائیں گے۔
Ayah 52:31(52:31) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ ۔ ای محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے۔
تربصوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعیل) مصدر۔ تم انتظار کرو۔
المتربصین۔ ام فاعل جمع مذکر۔ بحالت جر۔ متربص واحد۔ انتظار کرنے والے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ اے میرے نبی ! ان بےسروپا امیدیں باندھنے والوں سے کہہ دو ، بڑی اچھی بات ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔ وقت خود ہی فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون گمراہ تھا ۔ کامیابیاں کس کے قدم جو متی ہیں۔ اور عذاب الٰہی کس پر نازل ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 52:32(52:32) ام تامرہم احلامہم بھذا : ام کیا تامرھم۔ تامر مضارع واحد مؤنث غائب۔ امر (باب نصر) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ احلامہم مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی عقلیں۔ احلام حلم کی جمع جس کے معنی بردباری کے ہوتے ہیں اور چونکہ بردباری عقل کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے حلم کے معنی عقل کے بھی لے لیتے ہیں گویا مسبب بول کر سبب مراد لیتے ہیں ۔ اور جگہ قرآن مجید میں احلام بمعنی خواب بھی آیا ہے مثلاً قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔
بھذا۔ میں اشارہ کفار مکہ کی مختلف و متضاد باتوں کی طرف ہے یعنی کبھی کہنا کہ کاہن ہے پھر کہنا کہ مجنون ہے اور کبھی کہنا کہ یہ شاعر ہے وغیرہ وغیرہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا ان کی عقلیں ان (متضاد اقوال) کا ان کو حکم دے رہی ہیں ؟
ام ہم قوم طاغون : یا یہ لوگ ہی شریر ہیں۔ یہاں ام بمعنی بل بطور حرف اضراب آیا ہے۔ یعنی یہ نہیں کہ یہ اقوال وہ کسی سمجھ یا عقل کی بناء پر کہہ رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہی طاغون ہیں۔ طاغون نافرمان ۔ سرکش ۔ شریر۔ معصیت میں حد سے بڑھ جانے والے۔ طغیان سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ طاغی کی جمع۔
Ayah 52:33(52:33) ام یقولون : میں ام استفہام انکاری کے لئے ہے۔
تقولہ۔ تقول ماضی واحد مذکر غائب ، تقول (تفعل) مصدر۔ تقول علیہ القول کسی کے خلاف جھوٹ گھڑنا۔ کسی پر جھوٹ تھوپنا۔ تقول اس نے جھوٹ گھڑ لیا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع قرآن ہے اس نے اس کو جھوٹ گھڑ لیا۔ اس نے اس کو (خود) بنالیا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے : ولو تقول علینا بعض الا تاویل (69:44) اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔
بل لا یؤمنون : ان کا یہ کہنا (تقولہ کہنا) صحیح نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ دشمنی اور فرط عناد کی وجہ سے یہ لوگ ایمان ہی نہیں لاتے ۔ اور اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔
Ayah 52:34(52:34) فلیاتوا بحدیث مثلہ جملہ جواب شرط ہے شرط سے قبل لایا گیا ہےجواب شرط کے لئے ہے۔ یاتوا مضارع جمع مذکر غائب اثیان (باب ضرب) مصدر۔ پس وہ لے آئیں۔ بحدیث مثلہ اس جیسا کلام ، ہ کا مرجع قرآن ہے۔
ان کانوا صدقین : صدقین ، صدق سے اسم فاعل جمع مذکر، بحالت نصب بوجہ خبر کان۔ سچے۔ سچ بولنے والے۔
Ayah 52:35(52:35) ام خلقوا من غیر شیئ۔ ام استفہام انکاری کے لئے آیا ہے ۔ خلقوا ماضٰ مجہول جمع ذکر غائب خلق (باب نصر) مصدر کیا وہ پیدا کئے گئے ۔ کیا وہ بنائے گئے۔
من غیر شیئ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) بغیر کسی خالق کے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ :۔ مراد اس سے یہ ہے کہ کیا بغیر رب خالق کے یہ پیدا ہوگئے۔ ایسا ناممکن ہے کیونکہ حادث جو پہلے معدوم تھا بغیر محدث (یعنی پیدا کرنے والے کے) پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔
(2) وہ بغیر کسی وجہ کے پیدا کئے گئے ہیں یعنی عبادت پر مامور کئے جانے کے بغیر اور بلا سزا و جزاء کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کیا گیا ہے۔ کہ ان پر احکام شرعی نافذ نہ ہوں نہ ان کو اعمال کا اچھا یا برا بدلہ حشر میں نہ دیا جائے گا۔
(3) اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ بغیر مادے کے پیدا ہوگئے ہیں حالانکہ اس کا ان کو اقرار تھا اور ہونا بھی چاہیے اور سب کو اقرار ہے کہ انسان منی کے قطرہ سے بنایا گیا ہے۔ پس جیسا وہ جانتے ہیں تو سمجھ لیں کہ ایک قطرہ میں سے بعض کو قلب اور بعض کو دماغ اور بعض کو جگر اور بعض کو ہڈی اور بعض کو پٹھا بنادیا۔ اور پھر کسی نے یہ کاریگری اس میں کی ہے اسی خدائے قادر مطلق نے کہ جس کا کوئی شریک و مددگار نہیں۔ پس وہ قادر مطلق باردگر بھی اس کو پیدا کرسکتا ہے۔ (تفسیر حقانی)
ام ہم الخالقون : یا وہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں۔ ام بطور استفہام انکاری ہے۔
Ayah 52:36(52:36) ام خلقوا السموت والارض۔ استفہام انکاری ہے کہ انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ؟ نہیں یہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ ولئن سئالتہم من خلقھم : لیقولن اللہ۔ (43:87) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو کہہ دیں گے خدا نے (39:38)
بل : اضراب کے لئے ہے یعنی ماقبل کے ابطال کے لئے اور مابعد کے اقرار کے لئے ۔ یعنی ان کا یہ کہنا باطل اور محض زبانی و کلامی ہے کہ ان کو اور آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا اس پر کوئی یقین ہی نہیں۔
لایوقنون ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ایقان (افعال) مصدر۔ وہ یقین نہیں کرتے ہیں۔
Ayah 52:37(52:37) دونوں جگہ امد استفہام انکاری ہے۔
عندھم : عند مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس، ان کے نزدیک ۔ جیسے واخراج اہلہ منہ اکبر عند اللہ (2:217) اور اہہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے ۔
المصیطرون : اسم فاعل جمع مذکر مصبطر واحد یہ لفظ اصل میں مسیطر تھا۔ س کو ص سے بدل دیا گیا ۔ جیسے سراط کو صراط کہا جاتا ہے سیطرۃ مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی کام پر مقرر ہونا۔ ذمہ دار ہونا۔ اس لئے مسیطر یا مصیطر کا ترجمہ ہوا۔ ذہ دار نگران، سطر مادہ۔
Ayah 52:38(52:38) ام استفہام انکاری ہے۔ سلم سیڑھی۔ زینہ۔ سیٹھی کے ذریعہ چونکہ آدمی سلامتی کے ساتھ اوپر پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے اس کام سلم ہوا۔ اس کی جمع سلالم اور سلالیم ہے۔
یستمعون : مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) مصدر ۔ سننا ۔ کان لگا کر سننا باب افتعال کے خواص میں سے تصرف کی خاصیت ہوتی ہے یعنی تحصیل ماخذ میں کوشش کرنا۔ سو یہاں اس کا مطلب ہوگا۔ وہ کان لگا کر یعنی کوشش کرکے سن آتے ہیں۔ (ملاء اعلیٰ کی باتیں۔ آسمان کی باتیں۔ کلام اللہ)
فیہ : ای صاعدین فیہ۔ اس سیڑھی پر چڑھ کر یا چڑھتے ہوئے یہ پھر (محذوف) فاعل یستمعون سے حال ہے یستمعون کا مفعول محذوف ہے۔ ای کلام الملئکۃ۔ روح البیان میں یستمعون فیہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :۔
فیہ متعلق محذوف ھو حال عن فاعل یستمعون۔ ای یستمعون صاعدین فی ذلک السلم ومفعول یستمعون محذوف ای الی کلام الملئکۃ فیہ۔ محذوف سے متعلق ہے جو یستمعون کے فاعل سے حال ہے یعنی اس سیڑھی پر چڑھتے ہوئے یا چڑھ کر کان لگا کر (چوری چھپے) سن لیتے ہیں۔ یستمعون کا مفعول محذوف ہے ای کلام الملئکۃ یعنی فرشتوں کا کلام۔ (یا آسمان کی باتیں یا اللہ کا کلام) ۔
ایسر التفاسیر میں ہے ام لہم سلم یستمعون فیہ ای الہم مرقی الی السماء یرقون فیہ فیسمعون کلام المئلکۃ فیأتون بہ ویعارضون الرسول فی کلامہ۔ کیا ان کے پاس آسمان پر جانے کی کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ فرشتوں کی باتیں سن لیتے ہیں۔ اور آکر رسول (مقبول ﷺ ) کی کلام کی مخالفت کرتے ہیں اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔
فلیات ۔۔ یہ جملہ جواب شرط ہے اس سے قبل جملہ شرطیہ محذوف ہے یعنی اگر ایسا ہے (کہ ان کے پاس آسمانوں پر چڑھنے کے لئے کوئی زینہ ہے جس کے ذریعہ یہ اوپر چڑھ کر وہاں جو قضا و قدر کے فیصلے ہوتے ہیں انہیں سن پاتے ہیں تو فلیات مستمعہم بسلطن مبین۔ تو ان میں سے ایسی باتیں سن پالینے والا اس پر روشن اور واضح دلیل پیش کرے۔جواب شرط کا ہے لیات ب امر کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ چاہیے کہ وہ لائے، اتیان (باب ضرب) مصدر۔
مستمعہم مضاف مضاف الیہ۔ مستمع اسم فاعل واحد مذکر استماع (افتعال) مصدر خوب سننے والا۔ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔
سلطن مبین : موصوف و صفت۔ سلطان برہان، دلیل۔ سند۔ قوت۔ زور یہاں مراد سند ہے۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر۔ ابانۃ (افعال) مصدر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر ۔ ظاہر کرنے والا۔
Ayah 52:39(52:39) ام لکم البنت ولکم البنون : ام منقطہ انکار اور زجروتوبیخ کے لئے آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بےعقلی اور حماقت بیان فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ عقل کے اندھوں نے کیا بودی اور بےڈھبی تقسیم کر رکھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کئے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں۔ حالانکہ اگر ان کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو شرم کے مارے منہ نہیں دکھاتے عجب ذہنیت ہے کہ جسے اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں وہ اللہ کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔
فائدہ : اوپر مشرکین کو صیغہ غائب سے خطاب کیا جارہا ہے اس آیت میں ام منقطعہ کے زجر و توبیخ کی شدت کے اظہار کے لئے صیغہ حاضر استعمال ہوا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کی حماقت اور سفیہ العقلی کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے سامنے لاکھڑا کرکے ان سے بلاواسطہ خطاب کیا کہ تم بڑے ہی بیوقوف ہو جو ایسی تقسیم کو اختیار کرتے ہو۔ اگلی ہی آیت میں پھر حاضر سے غیب کی طرف التفات مزید زجر و توبیخ میں۔ شدت پیدا کرنے کے لئے ہے کہ چلو ہٹو میری نظر سے دور ہوجاؤ۔ تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ بالمواجہ تم سے کلام کیا جائے۔
لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 52:40(52:40) ام تسئلہم اجرا۔ یہاں پھر رسول مقبول ﷺ سے خطاب کی طرف رجوع ہے (آیت نمبر 31 کے بعد) اور کفار سے نفرت کی بناء پر مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 52:39 متذکرہ بالا)
کیا تبلیغ کے سلسلہ میں آپ نے ان سے کسی اجر کا مطالبہ کیا ہے۔ ام یہاں بھء استفہامیہ انکار کے لئے ہے۔
فہم میںسببیہ ہے ای لاجل ذلک (اور) اس وجہ سے وہ ۔۔
مغرم۔ الغرم والغرامۃ سے مصدر میمی ہے۔ الغرم (مفت کا تاوان، جرمانہ) وہ مالی نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جنابت (جرم) کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ عزم کذا غرما ومغرما فلاں نے نقصان اٹھایا۔ اغرم فلان غرامۃ اس پر تاوان پڑگیا۔ قرآن مجید میں ہے ویتخذ ما ینفق مغرما (9:98) جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں۔
مثقلون۔ اسم مفعول جمع مذکر اثقال (افعال) مصدر۔ گراں بار۔ بوجھ سے دبے ہوئے۔ کہ وہ تاوان کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔