At-Tur 52:10

At-Tur · from ayah 10

52:10

وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا ۟ؕوَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا

اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the mountains will pass on, departing -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:10

اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پہاڑ ہولناک طریقے سے چل پڑیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور پہاڑ (اپنی جگہ چھوڑ کر بادلوں کی طرح) تیزی سے اڑنے اور (ذرّات کی طرح) بکھرنے لگیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پہاڑ تیزی سے اڑتے پھریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور پہاڑ چلنے لگ جائیں گے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چل پڑیں گے پہاڑ اپنی اپنی جگہوں کو چھوڑ کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور پہاڑ پھٹ پھٹ جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہاڑ چل رہے ہوں گے جیسے چلا جاتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and the mountains shall violently fly about.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the mountains will move about, a terrible movement.

— Muhammad Taqi Usmani

and the mountains will move about, a terrible movement.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Tasir the mountains Sayr.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the mountains move away with (awful) movement,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the mountains will pass on, departing -

— Saheeh International

and the mountains quickly move.

— Muhammad Sarwar

And the mountains shall pass away passing away (altogether).

— Muhammad Habib Shakir

And the mountains will move away with an awful movement.

— Abdul Majid Daryabadi

And the mountains will fly hither and thither.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–16

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الطُّوْر 8 دوسرے الفاظ میں زمین کی وہ گرفت جس نے پہاڑوں کو جما رکھا ہے، ڈھیلی پڑجائے گی اور وہ اپنی جڑوں سے اکھڑ کر فضا میں اس طرح اڑنے لگیں گے جیسے بادل اڑے پھرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–20

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–12

(9۔ 12)۔۔ (یوم عذاب کی تصویر)۔۔ یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے۔ ڈانواں ڈول ہوجائے گا۔ مور کے معنی مضطرب اور متردو ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں، یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اس طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو انسانوں پر کیا گزرے گی ؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے یا کام آنے والے بن سکیں گے ! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

9۔ 1 مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–18

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر : یوم تمور السماہ مورا (25 : 9) وتسیر الجبال سیرا (25 : 01) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا۔ } ”اور پہاڑ چل رہے ہوں گے جیسے چلا جاتا ہے۔“ پہاڑوں پر زمین کی گرفت برقرار نہیں رہے گی اور وہ ٹوٹ کر فضا میں بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی وہ پہاڑ جو زمین کی ڈگمگاہٹ اور ہچکولوں کو بند کرنے کے لیے زمین پر پھیلائے گئے تھے ان کی زمین میں اپنی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی اور وہ خود تیزی سے اڑتے پھریں گے اور ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ دھنکی ہوئی روئی کے گالے ہیں جو اڑ رہے ہیں۔ اس طرح زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–10

2۔ یعنی ایسی چیزیں جو وسعت، شان، صلابت وپائیداری میں آج اپنی نظیر آپ ہی سمجھی جاتی ہیں سب اپنے صفات وسعت وثبات وصلابت وغیرہ سے معری ہو کر سامنے آجائیں گی، (آیت) من دافع “۔ من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی چیز اسے ٹال نہیں سکتی۔ من مزیدۃ للتاکید (روح) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و تسیر الجبال سیرا اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹ جائیں گے تَسِیْرُ الْجِبَالُ : یعنی پہاڑ جل کر خاک کی طرح ہوا میں اڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–12

(7۔ 12) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔ سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وتسیر الجبال سیراً : قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کیلئے دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–16

یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–10

اس کے بعد قیامت کے بعض احوال بیان فرمائے ﴿ يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ009﴾ (جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا) ﴿ وَّ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًاؕ0010﴾ (اور پہاڑ چل پڑیں گے) یعنی اپنی جگہ چھوڑ کر روانہ ہوجائیں گے اس کو سورة تکویر میں یوں فرمایا ﴿وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ اور سورة نمل میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾ (اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر خیال کر رہا ہے کہ وہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں اور حال یہ ہوگا کہ بادلوں کی طرح گزریں گے) ۔ اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004 وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–12

5:۔ ” یوم تمور “ یہ تخویف اخروی ہے۔ تمہور، تدور و تضطرب (ابن کثیر، روح) ۔ آسمان گھومے گا اور لڑ کھڑا اٹھے گا اور پھر یزہ ریزہ ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ ” یوم “ فویل مؤخر کیساتھ متعلق ہے۔ یعنی جب آسمان چکنا چور ہو کر گر پڑیں گے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل کر زمین کے ساتھ ہموار ہوجائیں گے، اس دن توحیدد، قیامت اور دیگر اعتقادیات کو جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت و تباہی ہوگی جنہوں نے اپنی زندگیاں بےہودگیاں اور خرافات میں گنوادیں اور ہمیشہ تائید باطل اور تکذیب حق میں مشغول و منہمک رہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّتَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا۝ 10 ۭ سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ. والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] ، وأمّا قوله : سِيرُوا فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–12

یَّوْمَ تَمُوْرُالسَّمَـآئُ مَوْرًا۔ وَّتَسِیْرُالْجِبَالُ سَیْرًا۔ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ ۔ (الطور : 9 تا 12) (اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان بری طرح ڈگمگائے گا۔ اور پہاڑ چلنے لگیں گے۔ پس تباہی ہے اس روز ان جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو اپنی حجت بازیوں میں کھیل رہے ہیں۔ ) قیامت کی تصویر اور شبہات کا ازالہ اہلِ عرب کی عادت یہ تھی کہ جب آنحضرت ﷺ ان کے سامنے قیامت برپا ہونے کا ذکر فرماتے جس میں پہلے مرحلے پر ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور دوسرے مرحلے پر ازسرنو زندگی برپا ہوگی تو وہ اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ یہ اتنا مستحکم بنا ہوا آسمان کیسے ٹوٹ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10 : وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا (اور پہاڑ ہٹ جائیں گے) ہوا میں بادلوں کی طرح چلیں گے۔ کیونکہ وہ بکھرے ہوئے ریت کے ذرات بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” یوم تمورا السماء مورا “ یعنی گھومے گا چکی کے گھومنے کی طرح اور اپنے اہل کے ساتھ ایسے ہلے گا جیسے کشتی ہلتی ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں حرکت کرے گا۔ عطاء خراسانی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے اجزاء آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے کہ وہ مضطرب ہوجائے گا اور ” المور “ ان تمام معانی کو جامع ہے۔ پس وہ لغت میں جانا، آنا، چکر لگانا، آنا جانا اور اضطراب کے معنی رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

وَّتَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا) یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کے مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہوگا۔ تب بےچارے کمزور آدمی کا کیا حال ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 9] وقوع قیامت کے ہولناک حوادث کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز لرز اٹھے گا یہ آسمان تھرتھراکر، اور جب پہاڑ چل پڑیں گے اپنی جگہیں چھوڑ کر۔ اور اپنی اس معتاد و معروف چال کے خلاف، جو کہ وہ آج زمین کی حرکت کے تابع ہو کر چل رہے ہیں، کہ اس روز یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، کیونکہ اس روز ایک نئے جہاں نے نئے توامیس و قوانین کے مطابق وجود میں آنا ہے، سو اس روز اول تو یہ پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے اکھڑ کر بادلوں کی شکل میں ہوا میں اڑیں گے۔ { وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وہی تمر مر السحاب صنع اللّٰہ الذی اتقن کل شیء ط انہٗ خبیرٌ م بما تفعلون } [ النمل : 88 پ 20] پھر یہ روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:9-10) وتسیر الجبال واؤ عاطفہ، تسیر مجارع واحد مؤنث غائب سیر (باب ضرب) مصدر۔ سیرا۔ مفعول مطلق تاکید کے لئے۔ اور پہاڑ بڑی بری طرح اڑتے پھریں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس روز پہاڑ ادھر ادھر اڑنے لگیں گے 10 ؎ (تسیر) وہ چلتی ہے ‘ وہ چلے گی (سیر) سے جس کے معنی چلنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب (تسیر الجبال) پہاڑ اڑنے لگیں ۔ (تیسر) کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر یعنی جو چلنے والے کے امرو اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے (ھو الذی یسیر کم) وہی ہے جو تم کو چلاتا ہے اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر کے ہو جیسے کہ پہاڑوں کی تسخیر ہے یعنی پہاڑ چلائے جائیں گے یا روئی کے گالوں کی طرح اڑائے جائیں گے ‘ چلائے جائیں گے ‘ چلائے جانا اور اڑائے جائیں گے اڑائے جانا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–20

يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

8 In other words, the pull of the earth which is keeping the mountains in place, will become loose, they will be uprooted and start floating about in space like clouds.

Read the full tafseer →