Ayahs 52:1–4قیام کے دن منکرین کی بدحالی، انہیں دھکے دے کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کی بڑی اہمیت ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، قیامت کو جھٹلانے والے اس کے وقوع کے منکر ہیں، ان کے شک اور انکار کو رد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار قسمیں کھائی ہیں، سورة الذاریات کا افتتاح اور سورة النازعات کی ابتداء بھی اسطرح سے ہے، ان آیات میں اولاً طورپہاڑ کی قسم کھائی یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، اس کے بعد کتاب مسطور کی قسم کھائی مسطور بمعنی مکتوب ہے یعنی لکھی ہوئی کتاب، صاحب روح المعانی نے اس کی تفسیر میں چند اقوال نقل کیے ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے بندوں کے اعمال نامے مراد ہیں جو قیامت کے دن کسی کو داہنے ہاتھ میں اور کسی کو بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بعض حضرات نے اس سے قرآن کریم مراد لیا ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے لوح محفوظ مراد ہے، کتاب مسطور کی صفت بتاتے ہوئے ﴿فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ003﴾ فرمایا ” رق “ جلد رقیق یعنی پتلے چمڑے کو کہا جاتا ہے جب دنیا میں کاغذ نہیں تھے تو اس میں لکھا کرتے تھے اور منشور کا معنی ہے کھلی ہوئی چیز، جن حضرات نے كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍسے اعمال نامے مراد لیے ہیں ان کے قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ سورة الاسراء میں اعمال ناموں کے بارے میں ﴿ وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا 0013﴾ فرمایا ہے۔
اس کے بعد بیت معمور کی قسم کھائی شب معراج میں اسے رسول اللہ ﷺ نے عالم بالا میں دیکھا تھا آپ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا یہ بیت معمور ہے اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب اس سے نکل کر واپس جاتے ہیں تو ان کی باری دوبارہ کبھی نہیں آتی۔ (صحیح مسلم صفحہ 94 ج 1)
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آسمان میں بیت المعمور کی حرمت وہی ہے جو زمین میں کعبہ معظمہ کی حرمت ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، اس کا طواف کرتے ہیں اور اس میں نماز پڑھتے ہیں پھر کبھی ان کے دوبارہ داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی۔
Ayah 52:5اس کے بعد فرمایا وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ005 یعنی بلند چھت کی قسم ہے۔ روح المعانی میں حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس سے عرش الٰہی مراد ہے جو جنت کی چھت ہے۔
Ayah 52:6اس کے بعد ﴿وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ006﴾ کی قسم کھائی جس کا ترجمہ ہے ” وہ سمندر جو دہکایا گیا۔ “ یعنی خوب اچھی طرح تنور کی طرح جلایا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر منقول ہے سورة التکویر میں قیامت کے دن کے احوال میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ006﴾ جو فرمایا ہے اس کی تفسیر میں مفسرین نے سجرت یعنی اُقِّدَت لکھا ہے جب سمندروں کو جلایاجائے گا اور وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ کا یک ترجمہ البحر المملوء یعنی بھرا ہوا سمندر بھی کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سمندر کا سفر صرف وہ آدمی کرے جو حج یا عمرہ کے لیے یا جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روانہ ہو کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔
(رواہ ابوداؤد ص 327: ج 1)
صاحب روح العانی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے چند امور کی قسم کھائی ہے اول کوہ طور کی قسم کھائی جو وادیٔ مقدس ہے پھر کتاب مستور کی قسم کھائی جس میں بندوں کے اعمال درج ہیں اس کے بعد بیت المعمور کی قسم کھائی جو فرشتوں کے طواف کی جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس میں مشغول ہونے کا مقام ہے پھر وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ کی قسم کھائی جو فرشتوں کے رہنے کی جگہ ہے وہاں سے آیات نازل ہوتی ہیں اور جنت بھی وہیں ہے پھر وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ کی قسم کھائی جو آگ کی جگہ ہے۔
Ayahs 52:7–8ان قسموں کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ007﴾ (بےشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے) ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ008﴾ (اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے جو عظیم الشان ہیں اور کائنات میں بڑی چیزیں ہیں اس کی قدرت سے یہ باہر نہیں ہے کہ صالحین کو ثواب اور منکرین کو عذاب دینے کے لیے قیامت قائم کرے، جب قیامت قائم ہوگی تو اسے کوئی بھی دفع کرنے والا نہیں ہوگا۔ حضرت جبیربن معطم ؓ نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں ( اس وقت یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور مسجد کے باہر آپ کی آواز آرہی تھی میں نے وَ الطُّوْرِ سے لے کر ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ008﴾ تک آپ کی قرات سنی تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے میرا دل پھٹا جا رہا ہے، میں عذاب نازل ہونے کے ڈر سے مسلمان ہوگیا۔ ؛ میں ایسا خوفزدہ ہوا کہ یوں سمجھنے لگا کہ گویا یہاں سے اٹھنے سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ (معالم التنزیل 337 ج 4)
Ayahs 52:9–10اس کے بعد قیامت کے بعض احوال بیان فرمائے ﴿ يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ009﴾ (جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا) ﴿ وَّ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًاؕ0010﴾ (اور پہاڑ چل پڑیں گے) یعنی اپنی جگہ چھوڑ کر روانہ ہوجائیں گے اس کو سورة تکویر میں یوں فرمایا ﴿وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ اور سورة نمل میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾ (اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر خیال کر رہا ہے کہ وہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں اور حال یہ ہوگا کہ بادلوں کی طرح گزریں گے) ۔
اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ004 وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005 فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (اور جس دن زمین کو سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ سو وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔
Ayahs 52:11–15اس کے بعد جھٹلانے والوں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0011﴾ (سو اس دن بڑی خرابی ہے یعنی بربادی ہے اور عذاب میں گرفتاری ہے ان لوگو کے لیے جو حق کو جھٹلاتے ہیں) ﴿ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَۘ0012﴾ (جو بیہودہ باتوں میں گھسے ہوئے ہیں اور اس شغل کو انہوں نے کھیل کے طور پر اختیار کر رکھا ہے) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں۔ یخوضون فی الباطل یلعبون غافلین لاھین یعنی یہ لوگ باطل چیزوں میں گھستے ہیں حق کے خلاف بولتے ہیں اور مشورے کرتے ہیں، غافل ہیں اپنے شغل کو کھیل بنا رکھا ہے۔ ﴿يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ0013﴾ یہاں ان کا یہ حال ہے اور قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ جب دوزخ کے قریب لے جائے جائیں گے تو فرشتے انہیں دھکے دے دے کر اس میں داخل کردیں گے ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوئے ہوں گے اور موڑ توڑ کر سروں کو قدموں سے ملا دیا ہوگا۔
سورة الرحمٰن میں ہے ﴿هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ 0014﴾ (یہ وہ آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے رہے) جب تمہارے سامنے اللہ کے رسول ﷺ حق کی دعوت پیش کرتے تھے اور قیامت قائم ہونے کی خبر دیتے تھے اور معجزات پیش کرتے تو تم کہتے تھے کہ انہوں نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ ﴿ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ0015﴾ اب یہ دوزخ تمہارے سامنے ہے کیا یہ جادو ہے ؟ اب بھی دیکھ رہے ہو یا نہیں ؟
قال صاحب الروح ای ام انتم عمی عن المخبر بہ کما کنتم فی الدنیا عمیا عن الخبر
Ayah 52:16ان سے مزید کہا جائے گا ﴿ اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا 1ۚ ﴾ (تم اس دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر چاہے صبر کرو یا نہ کرو) ﴿ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ 1ؕ﴾ (تمہارے لیے دونوں چیزیں برابر ہیں) نہ صبر سے عذاب دفع ہوگا اور نہ بےصبری سے، دنیا میں جو مصیبت پر صبر کرنے سے کبھی کبھی تکلیف دور ہو کر آرام مل جاتا تھا یہاں وہ بات نہیں ہے۔
﴿اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0016﴾ (تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے کسی قسم کا کوئی ظلم نہ ہوگا) ۔
Ayahs 52:17–20متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب
تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے دنیا میں جو شکایتیں پیدا ہوجاتی تھیں ان میں سے کوئی بات بھی پیش نہیں لائے گی کھانا بھی مبارک، پینا بھی مبارک ہر طرح سے خیر ہی خیر ہوگی۔
متقی حضرات کی نعمتیں بتاتے ہوئے مزید فرمایا کہ یہ لوگ ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر قطار میں بچھے ہوئے ہوں گے، سورة الدخان میں اور سورة الواقعہ میں بھی فرمایا ہے، معلوم ہوا کہ یہ تخت قطار سے بھی لگے ہوئے ہوں گے اور آمنے سامنے بھی ہوں گے۔ اس کے بعد زوجیت کی نعمت کا تذکرہ فرمایا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر ان کے جوڑے کے لیے حضرت حواء کو پیدا فرمایا پھر ان دونوں سے نسل چلی اور دنیا میں زن و شوہر کا نظام چلتا رہا چونکہ فطری طور پر انسانوں میں اس بات کی اشتہاء رہتی ہے کہ انس و الفت کے لیے بیویاں بھی ساتھ ہوں اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہاں بھی اہل جنت کے جوڑے بنا دیئے جائیں گے دنیا والی عورتیں بھی ان کے پاس ہوں گی اور نئی مخلوق میں سے حورعین بھی ان کی زوجیت میں دیدی جائے گی، لفظ، حورحورا کی جمع ہے جس کا ترجمہ گورے رنگ والی عورت کیا گیا ہے اور عین عیناء کی جمع ہے جس کا معنیٰ ہے بڑی آنکھوں والی عورت۔
Ayah 52:21اہل ایمان کی ذریت
اس کے بعد ایک مزید انعام کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اہل ایمان جو جنت میں جائیں گے ان کی ایمان والی ذریت یعنی اہل و اولاد بھی جنت میں ان کے درجات میں پہنچا دی جائے گی اگرچہ وہ لوگ یعنی اہل واولاد اعمال کے اعتبار سے اپنے آباء سے کم ہوں، بڑوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے چھوٹوں کو بھی ان کا درجہ دے دیا جائے گا اور یہ جو کچھ دیا جائے گا محض انعام اور فضل ہوگا۔ بڑوں کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہ کی جائے گی، ان کا پورا پورا اجر اور انعام دیتے ہوئے ان کی ذریت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہوگی۔
روح المعانی میں بحوالہ مستدرک حاکم اور سنن بیہقی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ مومن بندوں کی ذریت کو اسی کے درجہ میں بلند فرما دے گا اگرچہ اس سے عمل میں کم ہوں تاکہ اہل ایمان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اس کے بعد آیت بالا تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد بحوالہ طبرانی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوجائے گا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی اور اولاد کے بارے میں سوال کرے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جواب میں کہا جائے گا کہ وہ عمل کے اعتبار سے تیرے درجہ کو نہیں پہنچے اس پر وہ دعا کرے گا تو اللہ پاک کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں بھی اسی کا درجہ دے دیا جاے۔
Ayah 52:22اس کے بعد اہل ایمان کے ایک اور انعام کا تذکرہ فرمایا، ارشاد ہے :
﴿وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ 0022﴾ (اور ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہوگا بڑھا کردیتے رہیں گے) اس میں اہل جنت کو فاکہۃ یعنی میوے پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے سورة الزخرف میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ 0073﴾ (تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں تم کھا رہے ہو) اور سورة مرسلات میں فرمایا ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّ عُيُوْنٍۙ0041 وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَؕ0042 ﴾ (پرہیز گار لوگ سایوں میں اور چشموں اور مرغوب میووں میں ہوں گے) اور سورة واقعہ میں فرمایا ﴿وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ0020 وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ0021﴾ (اور وہ میوے جن کو وہ پسند کریں گے اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا) سورة واقعہ میں فرمایا کہ ان کے لیے ایسے میوے ہوں گے جن کو وہ خود اپنے اختیار سے چن چن کر کھائیں گے اور سورة المرسلات میں ﴿ وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ ﴾ فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ جن میووں کی خواہش ہوگی ان میں سے کھائیں گے، سورة الطور میں ﴿ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ﴾ فرمایا جس میں مطلق لحم (گوشت) مذکورہ ہے اور سورة واقعہ میں ﴿ وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ0021﴾ فرمایا دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ پرندوں کے علاوہ بھی دوسری انواع کے گوشت بھی ہوں گے اور جو بھی نعمت وہاں پیش کی جائے گی مرضی کے مطابق پیش کی جائے گی دنیا میں بعض چیزیں خلاف طبیعت اور خواہش کے خلاف کسی مجبوری کی وجہ سے کھانی پڑتی ہیں وہاں ایسا نہ ہوگا۔
Ayahs 52:23–28جام کی چھینا جھپٹی :
اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔ اس شراب کو پینے کی وجہ سے نشہ نہیں آئے گا اسی کو ﴿لَّا لَغْوٌ فِيْهَا ﴾ میں بیان فرمایا۔ دنیا میں شراب پی کر نشہ آجاتا ہے اور اول فول بکتے ہیں اور بیہودہ باتیں کرتے ہیں وہاں کی شراب میں یہ بات نہ ہوگی۔ یہ شراب چونکہ بطور انعام ملے گی اور اس میں نشہ بھی نہ ہوگا (جو دنیا میں اس کے حرام ہونے کا سبب ہے) اس لیے اس کے پینے میں کوئی گناہ بھی نہ ہوگا جسے ﴿ وَ لَا تَاْثِيْمٌ ﴾ فرما کر بیان فرما دیا۔
مذکورہ بالا شراب کے لانے والے اور پیش کرنے والے نو عمر لڑکے ہوں گے۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ ﴾ (اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے) ۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ0024﴾ (جو خوبصورتی اور رنگت کی صفائی ستھرائی میں ایسے ہونگے جیسے محفوظ رکھا ہوا چھپا ہوا موتی ہو) سورة الدھر میں فرمایا ﴿ وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 1ۚ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 0019﴾ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اے مخاطب ! اگر تو ان کو دیکھے تو یوں سمجھے جیسے بکھرے ہوئے موتی ہوں) ﴿ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ 0025﴾ (اور اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کریں گے) (آپس میں یہ پوچھیں گے کہ کہو بھئی یہاں آنے کا کیا سبب بنا اور ہم لوگ یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وجہ تو سبھی کو معلوم ہوگی لیکن پرانی باتیں یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق اور انعام الٰہی یاد کرنے کی تجدید کے لیے سوال کریں گے اور جواب میں مشغول ہوں گے۔
جن سے سوال ہوگا ان کا جواب یوں نقل فرمایا ﴿ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ 0026﴾ وہ جواب دیں گے بیشک ہم اس سے پہلے جو اپنے گھر اور اہل و عیال میں رہتے تھے وہ ہمارا رہنا اور بسنا ڈرتے ڈرتے تھا۔ یعنی ہم ڈرتے رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہ ہوجائے جو اس کی ناراضگی کا سبب بنے آخرت کی پیشی اور محاسبہ و مواخذہ کی فکر تھی اس مضمون کو سورة الحآقہ میں یوں بیان فرمایا ﴿ اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ0020﴾ (مجھے یقین تھا کہ میرا حساب میرے سامنے آئے گا) آخرت کا یقین اور وہاں کے لیے فکر مند ہونا یہی مومن کی اصل پونجی ہے جسے یہ دولت مل گئی وہ وہاں پار ہوجائے گا۔
﴿فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ 0027﴾ (سو اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور دوزخ کے عذاب سے بچا لیا) مومن آدمی جتنا بھی عمل کرے اسے اپنے ہنر کا کمال نہیں سمجھتا ہے۔ دل کی گہرائی سے وہ یہی جانتا اور مانتا ہے کہ اعمال صالحہ ایمان اور تقویٰ پرہیزگاری اور آخرت کی فکر یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا انعام ہے اس نے جنت میں بھی داخل فرمایا اور دوزخ کے عذاب سے بھی بچایا۔
شكر خدا کن کہ موفق شدی بخیر
زفضل و انعامشن معطل نہ گزاشتت
﴿اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ 1ؕ﴾ (بےشک ہم دنیا میں اللہ کو پکارتے تھے اور اس سے دعائیں کیا کرتے تھے) اس لیے ہماری دعائیں قبول فرمائیں۔
﴿اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ (رح) 0028﴾ (واقعی وہ بڑا محسن مہربان ہے) اسی کے احسان اور اسی کی مہربانی کی وجہ سے ہم یہاں پہنچے ہیں۔ فللّٰہ المنة ومنہ النعمة۔
Ayahs 52:29–34منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید
ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں آئے شاعری کی اور دنیا سے گزر گئے ان کا بھی یہی حال بننے والا ہے نہ ان کا کوئی ماننے والا رہے نہ جاننے والا نہ ان کی راہ پر چلنے والا، ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَؕ0031﴾ (آپ فرما دیجئے کہ تم لوگ انتظار کرتے رہو میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں) دیکھو تمہارا کیا حال بنتا ہے اور حق قبول کرنے سے پہلوتہی کرنے پر کیسے عذاب میں مبتلا ہوتے ہو، میری محنتوں کا انجام فلاح اور کامیابی ہے اور تمہارا انجام ناکامی، بربادی اور ہلاکت ہے۔
صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اس سے مشرکین کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا مراد ہے۔
پھر فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجئے کیا ان کی عقلیں ان کو یہ بتارہی ہیں کہ شرک میں مبتلا رہیں جو باطل چیز ہے اور دعوت توحید کو قبول نہ کریں جو حق ہے، اپنی عقلوں کو بہت بڑی سمجھتے ہیں حالانکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ باطل کو ترک کریں اور حق کو قبول کریں اگر غور و فکر کرتے تو حق کو نہ ٹھکراتے، وہاں تو بس شر ہے اور شرارت ہے اسی کو اپنائے ہوئے ہیں۔
پھر فرمایا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے اور اپنی طرف سے بنا کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ان کا یہ قول شرارت پر مبنی ہے۔ ایمان نہیں لاتے ایسی باتیں کرکے دور ہوتے چلے جاتے ہیں یہ لوگ عربی جانتے ہیں فصیح وبلیغ ہونے کے دعویدار ہیں اگر اپنی بات میں سچے ہیں تو اس جیسا کلام بنا کرلے آئیں، ان کو چیلنج کیا جا چکا ہے کہ قرآن جیسی ایک سورت بنا کرلے آئیں لیکن نہیں لائے اور نہ لاسکیں گے ﴿لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا 0088﴾ منکرین قرآن پر یہ بہت بڑی مار ہے ڈیڑھ ہزار سال سے چیلنج ہے، کوئی بھی آج تک اس کے مقابلہ میں کچھ نہ کرکے لاسکا اور نہ لاسکے گا۔
Ayah 52:35پھر فرمایا ﴿ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ0035﴾ (کیا یہ لوگ یوں ہی بغیر خالق کے پیدا کردیئے گئے ہیں) ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے انہیں خود اقرار ہے کہ ہمارا خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں اگر یوں کہیں کہ ہمارا کوئی خالق نہیں تو پھر بتائیں یہ کیسے پیدا ہوئے کیا انہوں نے اپنی جانوں کو خود پیدا کرلیا، ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ جو شخص موجود نہ ہو نہ اپنی ذات کو پیدا کرسکتا ہے نہ اور کسی کو، جب مخلوق ہیں تو اپنے خالق پر ایمان بھی لائیں اس کی توحید کا بھی اقرار کریں اور اس پر ایمان بھی لائیں۔
Ayah 52:36﴿ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ 1ۚ﴾ (کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے) ۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی انہوں نے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا، ان چیزوں کو بھی اسی نے پیدا فرمایا جس نے ان لوگوں کو پیدا کیا، یہ سب باتیں ظاہر ہیں۔ ﴿ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَؕ0036﴾ (بلکہ ان باتوں کو جانتے اور مانتے ہوئے یقین نہیں کرتے) کفر اور شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
Ayah 52:37پھر فرمایا ﴿ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ ﴾ (کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں) اگر ان کے پاس رحمت الٰہیہ کے خزانے ہوتے تو جسے چاہتے نبوت دے دیتے۔
اس آیت میں مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اگر نبی اور رسول بنانا ہی تھا تو محمد بن عبداللہ کو کیوں بنایا مکہ معظمہ اور طائف میں بڑے بڑے مالدار اور سردار پڑے ہیں ان میں سے کسی کو نبوت ملنا چاہیے تھا بطور سوال ان کا جواب دے دیا (جواستفہام انکاری کے طور پر ہے) ۔
﴿اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَؕ0037﴾ کیا ان کے پاس حکومت اور طاقت اور ایسا غلبہ ہے کہ اپنے اختیار سے کسی کو نبوت دلا دیں جب یہ دونوں باتیں نہیں ہیں تو انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی رسالت پر اعتراض کریں اور اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو نبوت ملنے کے لیے پیش کریں۔
سورة الانعام میں فرمایا ﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ 1ؕ﴾ (اللہ خوب جانتا ہے جہاں چاہے کر دے اپنی رسالت کو) ۔
Ayah 52:38پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ﴾ (کیا ان کے پاس زینہ ہے جس میں وہ باتیں سنتے ہیں) ۔ ﴿ فَلْيَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍؕ0038﴾ (سو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لے کر آئے) علامہ قرطبی لکھتے ہیں : ای حجۃ بینۃ ان ھذا الذی ھم علیہ حق مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب پیش کرتے ہیں، اس کا کتاب اللہ ہونا تو اسی سے ثابت ہوگیا کہ تم اس جیسی کتاب بنا کر لانے سے عاجز ہو، اب تم اپنے دین کو حق ثابت کرو اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی لازمی ہے وہ کون سا زینہ ہے جس پر چڑھ کر تمہارا کوئی شخص اپنے دین کے حق ہونے کی حقانیت معلوم کرچکا ہے۔ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ بطریق وحی کلام حاصل کرتے ہیں پھر تمہیں سناتے ہیں اور حق کی تبلیغ کرتے ہیں اور دلائل پیش کرتے ہیں تم بھی دلیل پیش کرو۔
Ayah 52:39پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ0039﴾ (کیا س کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں) قریش مکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے اور جب ان کے سامنے ان کے اپنے ہاں بیٹیاں پیدا ہونے کی بات آتی تھی تو اس کو برا مانتے تھے، اس آیت میں ان کی بیوقوفی بتادی کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ کے لیے تجویز کرتے ہو، جن لوگوں کی سمجھ کا یہ حال ہے کیا انہیں یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کریں کہ ہماری سمجھ کے مطابق کسی کو نبی کیوں نہیں بنایا گیا، نیز یہ لوگ وقوع قیامت کا انکار کرتے ہیں یہ بھی ان کی بیوقوفی ہے۔ علامہ قرطبی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں : سفہ احلامھم توبیخالھم وتقریعا ای اتضیفون الی اللّٰہ البنات مع انفتکم منھن ومن کان عقلہ ھکذا خلا یستعدمنہ انکالی البعث۔
Ayah 52:40پھر فرمایا ﴿اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ0040﴾ (کیا آپ ان سے کسی معاوضہ کا سوال کرتے ہیں ان پر اس تاوان کی ادائیگی بھاری پڑ رہی ہے) اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لے آئے تو کیا کچھ دینا پڑے گا تو یہ ان کا غلط خیال ہے ان کو دنیا سے ذرا سا بھی سوال نہیں اور ان کے آخرت کے نفع کے لیے ان کو ایمان و اعمال صالحہ کی دعوت دی جا رہی ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایمان سے منہ موڑیں۔ قال فی معالم التنزیل اثقلھم ذلک المغرم الذی تسالھم فمنعھم ذلک عن الاسلام۔