Ayah 52:1اللہ تبارک وتعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا وسزا پر قسم کھاتا ہے پس اللہ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ نے حضرت موسیٰ بن عمران سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے۔ یہ حضرت موسیٰ اور آپ کی امت پر اللہ کا احسان ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں۔ بندے جن کو شمار کرسکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔
Ayah 52:2(وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ) اور ایک کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین وآخرین کی خبروں اور سابقین ولاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔
Ayah 52:3(فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ) یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
Ayah 52:4(وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ) ۔ اور بیت معمور کی (قسم) ۔ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ کے مکرم فرشتوں سے آباد رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی کہا جاتا ہے کہ بیت المعمور، سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج وعمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے جیسا کہ اللہ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے (وھذالبلدالامین۔ التین 3) ۔ اور اس امن والے شہر کی قسم۔ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کی ان عظیم بنیادوں میں سے ہے جن کے بغیر اسلام مکمل نہی ہوتا یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا جس کو اللہ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔
Ayah 52:5(وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ) اور اونچی چھت (کی قسم) ۔ یعنی آسمان کی جس کو اللہ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے اللہ آسمان سے بارش رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔
Ayah 52:6وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ) یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم۔ اللہ نے اسے پانی سے لبریز کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے مگر اللہ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر جانے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں یہ بھی کہا جاتا ہے (المسجور) سے مراد وہ سمندر ہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہوگا۔
Ayah 52:7یہ اشیا جن کی اللہ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں یہ اللہ کی نشانیاں اس کی توحید کے دلائل اور اس کی قدرت اور حیات بعدالموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا (اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ) یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے اللہ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
Ayah 52:8مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ ) اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ یعنی کوئی ایسی ہستی نہ ہوگی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہوگا جو اسے روک سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔
Ayah 52:9پھر اللہ تبارک وتعالی نے اس دن کا وصف بیان فرمایا جس میں یہ عذاب واقع ہوگا چناچہ فرمایا (يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا) جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا یعنی گھومے گا اور مضطرب ہوگا۔ بےقراری اور عدم سکون کی وجہ سے دایمی طور پر متحرک رہے گا۔
Ayah 52:10وَّتَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا) یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کے مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہوگا۔ تب بےچارے کمزور آدمی کا کیا حال ہوگا ؟
Ayahs 52:11–12فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) ۔ پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔ الویل ہر قسم کی عقوبت، حزن وغم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا (الذین ھم فی خوض یلعبون) ۔ جو اپنی بےہودہ گوئی میں اچھل کود کررہے ہیں یعنی وہ باطل میں گھس کو اس سے کھیل رہے ہیں پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرر رساں علمی تحقیقات تکذیب حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں ان کے تمام اعمال جہلا، سفہا اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں۔ بخلاف ان اعمال کے جن پر اہل تصدیق اور اہل ایمان کاربند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمال صالحہ۔
Ayahs 52:13–14يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا) ۔ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے جائیں گے اور نہایت درشتی سے انہیں ہانکا جائے گا انہیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر وتوبیخ اور ملامت کے طور پر انہیں کہا جائے گا۔ (ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون) یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے، آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہوسکتا ہے۔
Ayah 52:15اَفَسِحْرٌ ھٰذَآ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ ) ۔ کیا پھر یہ جادو ہے ؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ؟ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز دیکھ نہیں سکتے یعنی تمہارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیا ومرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل وبراہین قائم کیے جنہوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح، جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنادیا۔ یہ بھی احتمال ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (افسحر ھذا ام انتم لا تبصرون) ۔ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد ﷺ مبعوث ہوئے کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کرسکتا ہے یہ جادو ہے حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کررہے ہیں۔
Ayah 52:16اِصْلَوْهَا) یعنی اس آگ میں اس طرح داخل ہوجاؤ کہ یہ تمہیں گھیر لے تمہارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمہارے دلوں تک جا پہنچے (فَاصْبِرُوْٓا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا ۚ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ ۭ ) پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے یکساں ہے۔ یعنی جہنم کے اندر صبر تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمہارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہوجاتی ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوگا بنا بریں فرمایا اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) بیشک تمہیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔
Ayah 52:17اللہ تبارک وتعالی نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد اہل تقوی کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب ترہیب کو اکٹھا کردے اور دل خوف ورجا کے درمیان رہیں، چناچہ فرمایا (ان المتقین) جنہوں نے اپنے رب کے لیے تقوی کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کرکے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ (فی جنت) وہ باغات میں ہوں گے ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہوگا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے۔ (ونعیم) اور نعمتوں میں ہوں گے۔ یہ قلب کی نعمت اور روح وبدن کی نعمت کو شامل ہے۔
Ayah 52:18فٰكِهِيْنَ بِمَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ ) ۔ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گا اس سے خوش ہوتے ہوئے نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف واندوز ہوں گے ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپارکھی ہے پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انہوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
Ayah 52:19كُلُوْا وَاشْرَبُوْا) یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمہارا دل چاہتا کھاؤ پیو (ھنیئا (یعنی مزے سے بہت و سرور اور فرحت ومسرت کے ساتھ (بما کنتم تعلمون) یعنی تمہیں جو کچھ حاصل ہوا ہے تمہارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔
Ayah 52:20مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ ) ۔ وہ برابر بچھے ہوئے شاندار تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ السرر سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچہ جات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا کہ وہ صف درصف بچھائے گئے ہوں گے ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن وروح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہوجائیں گے، یعنی لذیذ ماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوگا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی۔ اس لیے فرمایا (وزوجنھم بحور عین) اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کردیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کرلیتی ہیں اور دل وصال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ العین سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
Ayah 52:21یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا جنہوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی، یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جاملیں گے جو ان کے آبا اجداد سے صادر ہو اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی، اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباؤ اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آبا کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولی ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آبا اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جاسکیں گے۔ یہ الحاق ان کے آبا اجداد کے لیے جز اور ان کے ثواب میں اضافے کے طور پر ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آبا اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔
Ayah 52:22(وَاَمْدَدْنٰهُمْ ) یعنی ہم اپنے بےپایاں فضل و کرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام سے بہر مند کریں گے۔ (بفاکھۃ) یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ پھلوں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے وہ عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے (ولحم مما یشتھون) اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کے دل چاہے گا۔
Ayah 52:23يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا) رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان خدمت کے لیے گھوم رہے ہوں گے۔ ( لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ) یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہوگی وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہوگی اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔ جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہوگئی تو اس تیسری چیز کا اثبات ہوگیا یعنی ان کا کلام لغور امور سے سلامت اور طیب و طاہر ہوگا جو نفوس کو مسرت اور دلون کو فرحت بخشے گا وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہوگی انہیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گے جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
Ayah 52:24(وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ ) یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ (كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ) اپنے حسن اور خوب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں وہ ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آجا رہے ہوں گے یہ چیز ان کے لیے بےپایاں نعمتوں اور کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔
Ayahs 52:25–27وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ) اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں (قالوا) یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انہیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے کہیں گے (انا کنا قبل) بلاشبہ اس سے پہلے ہم یعنی دنیا کے گھر میں (فی اھلنا مشفقین) اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کرلیا۔ (فمن اللہ علینا) تو اللہ نے ہدایت اور توفیق کے ساتھ ہم پر احسان فرمایا (ووقنا عذاب السموم) اور کرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سختی ہوگی ہمیں بچایا۔
Ayah 52:28اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ۭ ) بیشک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے۔ یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے تھے (اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ ) پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
Ayah 52:29اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں تاکہ ظالموں پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پالیں، نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروانہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کردی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے اس لیے فرمایا (فماانت بنعمت ربک) یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے (بکاھن) کاہن۔ جس کے پاس جنوں کے سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کردیتا ہے۔ (ولا مجنون) اور نہ آپ فاتر العقل ہیں بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔
Ayah 52:30اور کبھی کبھی (يَقُوْلُوْنَ ) وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ (شَاعِرٌ) ہے۔ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ یس 69) ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔ (نتربص بہ ریب المنون) یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کررہے ہیں پس اس کا معاملہ ختم ہوجائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کرکے راحت پالیں گے۔
Ayah 52:31قُلْ ) آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ ریجئے (تربصوا) یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو (فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ ) پس میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ ہم تمہارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں عذاب میں مبتلا کرے۔
Ayah 52:32(اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِھٰذَآ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ) کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں ؟ یعنی کیا ان کا آپ کا یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں ان کی عقل وخرد سے صادر ہوئی ہیں کتنی بری ہے ان کی عقل خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان کی عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو جھوٹ اور باطل قرار دیا، ایسی فاسد عقلوں سے تو مجاننین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے ؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں جہاں آکر وہ رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول وفعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔
Ayah 52:33(اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَهٗ ۚ ) کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد نے خود ہی یہ قرآن گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے (بل لایومنون) بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انہوں نے کہی ہیں۔
Ayah 52:34(فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ ) یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد نے تصنیف کیا ہے تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنالاؤ تاکہ تمہاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کرلو اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہوجاؤ گے تب بھی تم اس کا معارضہ کرسکے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لاسکتے ہو۔ تب اس وقت تمہارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔
Ayah 52:35اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ ) کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خوداپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں یا اس سے ان کا عقل ودین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہوجائے گا اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور نبی اء ورسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔
1۔ ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔
2۔ انہوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔
3۔ جب مذکورہ بالادونوں امور باطل ہوگئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہوگیا تو تیسری بات متعین ہوگئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہوگئ تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا کسی اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔
Ayah 52:36(اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ) یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے یعنی انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے (لایوقنون) یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں یعنی یہ جھٹلانے والے علم کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی وعقلی سے استفادے کا موجب ہوتا ہے۔
Ayah 52:37(اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ ) یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کردیں ؟ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ و اپنے بندے اور رسول محمد کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کردیے گئے ہیں حالانکہ وہ اس حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع ونقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ (اھم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا۔ الزخرف 32) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ دنیاوی زندگی میں ۃ م ہی نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے (ام ھم المصیطرون) کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں ؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔
Ayah 52:38اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں یعنی کیا انہیں غیب کا علم ہے اور وہ ملا اعلی کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنہیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا (فلیات مستمعھم) پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔ یعنی ملا اعلی کی باتیں سننے کا دعوے دار (بسلطن مبین) کوئی صریح دلیل۔ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آسکتی ہے اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے وہ کسی غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آغاہ کرتا ہے جبکہ حضرت محمد رسولوں میں سے سب سے افضل سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی، اور عناد میں مبتلا ہیں تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جب کہ رسول اللہ نے جن امور کی خبر دی ہے ان پر دلائل براہین قائم ہیں اور جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے ان کا اپنے دعوے (انبیا کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کرسکتے۔
Ayah 52:39(اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ ) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں ؟ جیسا کہ تم سمجھتے ہو (وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ ) اور تمہارے لیے بیٹے۔ پس تم قابل احتراز امور کو جمع کررہے ہو، یعنی تمہارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت وانتہا ہے۔
Ayah 52:40(اَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ ) اے رسول کیا آپ ان سے مانگتے ہیں (اجرا) تبلیغ رسالت پر اجر ( فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ) کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہورہے ہیں مگر معاملہ ایسا نہیں ہے آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں آپ زکوۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہوجائے۔