52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 52:1–16

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی لکھی گئی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کشادہ ورقوں میں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور قسم ہے آباد گھر کی

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور پرجوش دریا کی

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب (کفار پر) ہو کر رہے گا۔

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

جس کو کوئی بھی ٹالنے والا نہیں

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن کہ آسمان چکر کھائے

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑتے پھریں

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

پھر اس روز جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو نکتہ چینیوں میں کھیل رہے ہیں۔

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن کہ وہ آتش دوزخ کی طرف دھکے دے کر ہانکے جاویں گے (کہا جاوے گا)

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہ وہ آگ ہے کہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

پھر کیا وہ جادو ہے (نظربندی) یا تم دیکھتے نہیں ہو

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں گھسو صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ تم کو وہی بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس جگہ اور عنوان کے ساتھ ہے، اس لیے ان پانچ چیزوں کی قسم کھاکر فرماتا ہے۔ ان عذاب ربک کہ بیشک تیرے رب کا عذاب آنے والا ہے، جس کو کوئی بھی ٹال نہیں سکتا۔ اس میں صرف قیامت کے آنے کی ہی خبر نہیں بلکہ منکرین کو ایک یقینی آنے والے عذاب سے تہدید بھی ہے اور وہ پانچ چیزیں جن کی یہاں قسم کھائی، یہ ہیں۔ الطور 1 ؎ اس سے مراد کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ جس پہاڑ میں درخت ہوتے ہیں اس کو طور کہتے ہیں اور جس میں درخت نہ ہوں اس کو جبل کہتے ہیں، اس قول سے تعمیم پائی جاتی ہے۔ (2) کتاب مسطور بعض کہتے ہیں، اس سے مراد لوح محفوظ ہے مگر قوی تریہ ہے کہ اس سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو اوراق پر لکھی جاتی ہیں، جو کھلے ہوتے ہیں جن کو پڑھنے والا پڑھ سکتا ہے۔ البیت المعمور آباد گھر جس سے مراد خانہ کعبہ اور دیگر معابد ہیں جو عابدین سے آباد ہیں۔ دنیا کے ہوں یا سمٰوات پر ہوں۔ اس لیے احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ کعبہ کے محاذ میں ساتویں آسمان کے اوپر ملائکہ کا ایک عبادت خانہ ہے۔ جہاں ہزاروں ملائکہ طواف کرتے ہیں، اس کو بھی بیت المعمور کہتے ہیں۔ السقف المرفوع آسمان البحر المسحور دریائے شور مسجور کے معنی گرم کے ہیں۔ سمندر تموج کی وجہ سے گرم کہلاتا ہے، جب تموج ہوتا ہے کہتے ہیں ان دنوں دریا گرم ہے۔ ان پانچوں چیزوں کے ذکر سے اپنے عجائبات قدرت اور دینی اور دنیوی برکات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نے دنیا میں استواری کے لیے پہاڑ قائم کئے۔ کتابیں دستور العمل بنائیں، گھر آباد کئے، بلند مکان بنوائے۔ دریائے اشور بنایا جو سب کو محیط ہے اور یہ کہ کوہ طور پر موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا، پھر اس کو کتاب دی اور بندوں کے لیے خانہ کعبہ بنایا اور بیت المقدس قائم کیا جس کی چھتیں بلند تھیں اور پھر ان عبادتوں سے اور اس پہاڑ سے اور ان کتابوں سے علوم و معارف کے پرجوش دریا نکالے جنہوں نے عالم کو سیراب کیا، وہ سب قیامت کے قائل تھے، پھر ان جہلاء کے انکار سے کیا ہوتا ہے ؟ اس کے بعد قیامت کے واقعہ کو بیان کرتا ہے کہ اس روز آسمان لرزیں گے اور پہاڑ اڑیں گے، اس روز اس دن کے جھٹلا نے والوں کو بڑی خرابی ہوگی جو آج غفلت میں پڑے نکتہ چینیاں کرتے ہیں، وہ خرابی یہ ہوگی کہ وہ دوزخ کی طرف دھکے دے کر روانہ کئے جاویں گے اور جہنم دکھاکر کہا جاوے گا کہ یہ ہے وہ جس کا انکار تھا، اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم کو دکھائی نہیں دیتی، اب اس میں جلاکر و چیخو یا چلاؤ تمہارے اعمال کی سزا ہے۔ 1 ؎ اور ممکن ہے کہ طور سے اشارہ آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف ہو کہ وہ وقار کا پہاڑ اور عالم کی بجلی گاہ تھی اور کتاب مسطور حضرت کے علوم متعارف جو لوگوں کے اوراق دل پر لکھے گئے اور بیت معمور حضرت کا دل پاک اور وقف مرفوع آپ کی شان اور بھر مسجور آپ کے علوم کا دریاء مواج۔ 12 منہ
Ayahs 52:17–28

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک جو پرہیز گار ہیں باغوں اور نعمتوں میں چین کرتے ہوں گے۔

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

اُن چیزوں سے جو ان کو رب نے عطا کیں اور ان کا رب ان کو عذاب دوزخ سے بچاوے گا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

کھاؤ پیو مزے کرو اپنے عملوں کے سبب

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے قطار سے بچھے ہوئے تختوں پر اور ان کی شادی ہم حورعین سے کردیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور ان کی نسل ایمان میں ان کی پیرو ہوئی تو ان کے ساتھ ان کی نسل کو بھی ہم ملا دیں گے اور ان کے عملوں میں کچھ بھی کمی نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے کئے کا پابند ہے

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ان کو پے درپے ہم میوے اور گوشت دیں گے جس کا وہ چاہیں گے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں ان پیالوں کی چھینا جھپٹی کریں گے کہ نہ جن میں بکواس ہے اور نہ گناہ

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے پاس آئیں جائیں گے ایسے لڑکے کہ گویا وہ موتی ہیں غلاف کے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف بات کرنے کو متوجہ ہوگا۔

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھروں میں ڈرا کرتے تھے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پس ہم پر اللہ نے احسان کیا اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچالیا۔

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس کو پہلے سے پکارا کرتے تھے، وہ جو ہے تو بڑا احسان کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح سے آرام و عافیت سے رہیں گے اور جہنم کے عذاب سے خدا ان کو بچاوے گا۔ روحانی جنت کے سوا جسمانی نعمتیں بھی ان کو نصیب ہوں گی، جسمانی نعمتیں ہیں۔ اول عمدہ کھانا پینا اس کی نسبت حکم ہوگا، کلوا واشربوا ھنیئًا ہنیئی کے معنی ہیں بےمشقت و بےرنج و بےکھٹکے نہ مرض کا کھٹکا ‘ نہ پکانے اور کما کر لانے کا دغدغہ ‘ نہ کم ہوجانے کی فکر۔ دوم رہنے کی عمدہ جاسو اس کو ایک بار تو جنات و نعیم میں اجمالاً بیان کیا تھا، اب اس کی تشریح کرتا ہے کہ متکئین علی سرر مصفوفۃ بادشاہوں کی طرح تختوں پر صف بستہ تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، تیسری نعمت اس کے بعد حسین اور فرماں بردار اور نیک بیوی کا میسر آنا جس کی طرف انسان کو ماکل و مشارب کے بعد بالطبع رغبت ہے، سو اس کی نسبت فرماتا ہے وزوجناھم بحورعین کہ ہم ان کی شادی حورعین سے کردیں گے۔ (حورعین کے لفظ کی شرح اور جنت میں شادی ہونے کی بابت پادریوں کے اعتراض کا جواب ہم کئی بار ذکر کرچکے ہیں) ۔ ان سب نعمتوں کے بعد انسان کو اپنے احباب و اقارب کی جدائی کا رنج بھی خصوصاً عیش و آرام کے وقت دل میں کانٹا سا کھٹکا کرتا ہے جو سب باتوں کو تلخ کردیتا ہے، اس کانٹے کو نکالتا ہے۔ فقال والذین امنوا و اتبعتہم ذریتہم بایمان ذریۃ بضم فرزندان ذراری، ذریات جمع، (صراح) کہ ایمانداروں کی اولاد جو ایمان میں اپنے بزرگوں کے تابع ہوں گے، وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں ملادیے جاویں گے اور ان کے بزرگوں کے عمل میں سے اس وجہ سے کہ ان کی اولاد ان کے ساتھ ایمان لانے کے سبب ملائی گئی، کچھ کمی نہ کریں گے۔ طبرانی وابن مردویہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ مومن جنت میں جاکر اپنے ماں باپ اور بیوی اور اولاد کو دریافت کرے گا، اس کو کہا جاوے گا کہ وہ تیرے درجہ تک نہ پہنچے، وہ عرض کرے گا الٰہی میں نے اپنے لیے اور ان کے لیے عمل کیا تھا، تب حکم ہوگا کہ ان کو بھی ساتھ ملادو صالحین کی اولاد بلکہ دیگر اقارب بلکہ احباب و عقیدت مند بھی کہ جن کو عرفاً لفظ ذریت شامل ہے، ان کی بدولت بشرطیکہ خود بھی ایمان رکھتے ہوں گے، ان کے درجات میں جگہ پاویں گے، مگر ساتھ یہ بھی فرمادیا کل امریئٍ بما کسب رھین کہ ہر آدمی اپنے اعمال میں بند ہے تاکہ کوئی اپنے بزرگوں پر بھروسہ کرکے آپ ایمان و اعمال صالحہ کی کوشش سے آزاد نہ بن بیٹھیں۔ آگے پھر ان کے نعماء کا ذکر کرتا ہے کہ دل پسند پرندوں کا گوشت کھانے کو ملے گا، شراب طہور کا دور چلے گا۔ فرحت میں آکر ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کرے گا، جیسا کہ دنیا میں احباب کیا کرتے ہیں۔ پھر باہم ایک دوسرے سے پوچھے گا کہ تم نے دنیا میں کیا اعمال کئے تھے، جواب دیں گے کہ ہم خدا سے ڈرا کرتے تھے، اس نے ہم پر فضل کردیا۔ عذاب جہنم سے بچالیا، بس اس کی عنایت و مہربانی تھی۔
Ayahs 52:29–36

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

سو نصیحت کئے جا کیونکہ رب کی عنایت سے نہ آپ کاہن ہیں نہ دیوانہ

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا ان کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے کہ اس کے بارے میں ہم گردش زمانہ کے منتظر ہیں۔

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو (ہاں) انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی باتیں سکھاتی ہیں یا وہ ذاتی شریر قوم ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ قرآن ازخود بنالیا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کو یقین نہیں آتا

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اچھا اسی طرح کا کلام وہ بھی تو بنا لاویں، اگر وہ سچے ہیں۔

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ آپ ہی آپ بن گئے ‘ کیا وہ کسی کو پیدا کرنے والے ہیں۔

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ یقین بھی نہیں کرتے

ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔ تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت بیان فرماکر، پھر انہیں تینوں اصل الاصول مسائل کو مرکوز خاطر کرتا ہے اور کفار کے بدیہی البطلان خیالات کو جو ان اصول ثلاثہ کے برخلاف تھے۔ استفہام کے پیرایہ میں ذکر کرکے رد کرتا ہے۔ اول اصل مسئلہ نبوت خصوصاً نبوت محمد ﷺ ہے، جس کی بابت مخالفوں کو چند خیالات تھے۔ بعض آپ کو کاہن، بعض دیوانہ کہتے تھے۔ بعض شاعر کہتے تھے کہ جس طرح زہیر و نابغہ چند روز میں مرکھپ گئے، ذرا دیکھو یہ بھی اسی طرح مرمٹ جاوے گا، اس بات کو ان کانوا صادقین تک بیان کیا۔ پس فرماتا ہے۔ اے محمد ﷺ تو اس کی عنایت و کرم سے دیوانہ اور کاہن نہیں، اپنی نبوت و منصب نبوت کو پورا کیجئے، اس سے ایمانداروں کو نفع ہوتا ہے، ان سے کہہ دے تم انتظار کرو میں بھی کرتا ہوں، یہی میری صداقت کی دلیل ہے۔ اگر دین کی روز بروز ترقی و کامیابی ہوئی تو جانیو کہ نبی برحق ہے، چناچہ ایسا ہی ہوا اور دوسری بات یہ ہے کہ شاعری کا کسی پر خاتمہ نہیں، تم بھی تو انجام کلام پر قادر ہو۔ قرآن کی مثل بنا لائو، اگر سچے ہو بات یہ ہے کہ دل میں جانتے ہیں کہ نہ دیوانہ ہے نہ کاہن نہ شاعر بلکہ اپنی سرکشی سے ایمان نہیں لاتے۔ ام خلقوا من غیر شیء سے لے کر المصیطرون تک چار استفہاموں میں دوسرے اصل الاصول مسئلہ توحید کو ثابت کرتا ہے، مگر لطف یہ ہے کہ اسی کے ضمن میں تیسرے مسئلہ حشر کو اور پہلے مسئلہ نبوت کو بھی اس طرح سے ثابت کرتا ہے کہ گویا تینوں باہم مسلسل ہیں۔ پہلے استفہام میں فرماتا ہے کہ کیا وہ بغیر کسی کے پیدا ہوگئے ہیں ؟ یہ کلام بھی چند معانی کو شامل ہے کہ جو ان میں سے ایک ایک توحید یا حشر یا نبوت کو ثابت کررہی ہے۔ کیونکہ من غیر شیء کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ بغیر مادہ کے پیدا ہوگئے ہیں ؟ حالانکہ اس کا ان کو اقرار تھا اور ہونا بھی چاہیے اور سب کو اقرار ہے کہ انسان قطرئہ منی سے بنایا گیا ہے۔ منی ایک گندی چیز ہے جس کو ذکر کرتے بھی عقلا مجالس میں شرم کرتے ہیں، اس لیے اس کو شیء کے لفظ سے تعبیر کیا، پس جیسا وہ یہ جانتے ہیں تو سمجھ لیں کہ ایک قطرہ میں سے کس نے بعض کو قلب اور بعض کو دماغ اور بعض کو جگر اور بعض کو ہڈی اور بعض کو پٹھا بنادیا اور پھر کس نے اس میں یہ کاریگری کی ہے ؟ اسی خدائے قادر مطلق نے کہ جس کا کوئی بھی شریک و مددگار نہیں۔ بس وہ قادر باردگر بھی اس کو پیدا کرسکتا ہے اور اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ کیا وہ من غیرہ شیء ـ کسی کام کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں ؟ ہر عاقل انسان کی ترکیب میں غور کرکے کہہ سکتا ہے کہ ضرور یہ کسی کام کے لیے بنایا گیا ہے، یعنی اصلاح معاش و معاد کے لیے پھر جب یہ اس کے لیے بنایا گیا ہے اور معاد کے مسئلہ کی باریکیاں اور موت وحیات کے رموز بجز انبیاء کے حل نہیں ہوسکتے تو یہ بھی خیال کرلیں کہ ضرور اس خالق نے کوئی نبی عقدہ کشائی کے لیے بھیجا ہے اور بجز محمد ﷺ کے ان کی شان کا اس مشکل کشائی میں اور کون ہے ؟ اور اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ کیا وہ من غیر شیء بغیر کسی کے آپ ہی آپ بن گئے ہیں۔ جیسا کہ طبعین و دہریین کا خیال ہے۔ سو یہ بھی نہیں کس لیے کہ کوئی حادث بغیر محدث یعنی پیدا کرنے والے کے پیدا نہیں ہوسکتا۔ پس وہ محدث ایسا قادر و صانع خدا تعالیٰ کے سوا اور کون ہے ؟ دوسرے استفہام میں یہ بات بتاتا ہے کہ وہ بتائیں کوئی چیز اس عالم کی انہوں نے بھی پیدا کی ہے۔ ھم سے مراد تمام مخلوق بیشک خدا تعالیٰ کے سوا کسی نے کوئی چیز پیدا نہیں کی، ہاں پیدا کی ہوئی چیزوں میں ترکیب دے لیا کرتے ہیں۔ وہ بھی ہر جگہ نہیں۔ پس جب بجز اس کے کسی نے کوئی چیز نہیں بنائی تو کوئی اس کی خدائی میں بھی شریک نہیں، تیسرے استفہام میں اپنی ایک بڑی اور عجیب مخلوق پیدا کرنے کا حال پوچھتا ہے کہ اچھا بتاؤ آسمانوں یا کہو علویات سورج اور چاند اور ستارے اور زمین کو کس نے بنایا ؟ یہی کہیں گے کہ اسی نے۔ چوتھے استفہام میں اپنی قدرت کو بےانتہا خزانوں کا سوال کرتا ہے کہ وہ بتاؤ کس کے پاس ہیں ؟ اس میں مسئلہ نبوت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبوت بھی اسی کے خزانہ کا ایک بیش بہا جوہر ہے جس کو چاہے عطا کرے، تمہارا اس میں کیا اختیار ہے جو اس نے محمد ﷺ کو عطاء کردیا۔ اس کے بعد علم غیب کے وسائل بیان کرتا ہے کہ بتاؤ تم میں سے کسی کے پاس سیڑھی ہے جو اس پر سے چڑھ کر آسمانوں پر جاتا ہے اور وہاں سے غیب کی باتیں لاتا ہے ؟ البتہ محمد ﷺ کو خدا کی طرف سے الہام وحی 1 ؎ کے ذریعہ سے غیب کی باتیں اور معاد و معاش کے رموز بتائے جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ نبوت کے متعلق بات تھی، اس کے بعد اصول ثلٰثہ کے مخالف اعتقادات پر سرزنش کرتا ہے۔ توحید کے خلاف مشرکوں کا خیال تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، اس لیے ہم ان کو وسیلہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ فقال ام لہ البنات الخ کہ تم کو تو بیٹے دیے جو اعلیٰ چیز ہے اور اپنے لیے بیٹیاں بنادے یہ ہوسکتا ہے ؟ نبوت کے خلاف میں نبی ( علیہ السلام) پر بدگمانیاں تھیں، اس پر فرماتا ہے۔ ام تسئلھم اجر الخ کہ تو ان سے کچھ مانگتا ہے کہ جس کا بار ان پر پڑتا ہے ؟ حضرت ﷺ کو جو وہ جھوٹا کہتے تھے، اس کی نسبت فرماتا ہے۔ ام عندھم الغیب کیا ان کے پاس غیب 2 ؎ کا دفتر ہے ؟ پھر ان کو کیونکہ معلوم ہوگیا کہ وہ جھوٹا ہے ؟ کیا وہ نبی سے داؤ کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے اتہامات سے شان نبوت میں فرق ڈالیں، وہ اس بات میں خود ہی داؤ میں پھنسے ہوئے ہیں کہ اپنے لیے برائی پیدا کررہے ہیں، کیا کوئی اور معبود ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس کے بعد ان کی شکی طبیعت کا حال اور نڈر ہونا بیان کرتا ہے کہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر ٹوٹ کر آوے تو اس کو بادل کہیں گے، پھر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان کو چھوڑ یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو دیکھیں کہ جس میں ان کی ہلاکت ہے اور اے نبی تو صبر کر تو ہماری حمایت میں ہے اور اٹھتے بیٹھتے اور رات میں اور صبح میں تسبیح کیا کر۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ان کے رب کے خزانے ہیں، کیا وہ زبردست ہیں ؟

2 ؎ ہاں غیب کا دفتر ہوتا اور اس کے مطابق آپ کی باتیں نہ پاتے تو یقینا چھوٹا کہہ سکتے تھے۔ 12 منہ
Ayahs 52:38–39

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس سیڑھی ہے کہ جس پر چڑھ کر آسمانی باتیں سن آتے ہیں، پھر ان میں سے جو سننے والا ہو تو کوئی صاف سند پیش کرے

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس کے بیٹیاں اور تمہارے بیٹے ہیں

1 ؎ یہ ہے سموات کی سیڑھی جس پر چڑھ کر حضرات انبیاء انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والے علوم اوپر سے لاتے ہیں۔