52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ٭… اس سورة میں کوہ طور، کشادہ ورقوں میں لکھی گئی کتاب، بیت معمور، اونچی چھت (آسمان) اور موجیں مارتے سمندر کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پروردگار کا عذاب (ان کافروں پر ) واقع ہو کر رہے گا جسے کوئی ٹال نہ سکے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جب آسمان تھرتھرا جائے گا، پہاڑا اڑے پھریں گے۔ یہ دن اللہ کے دین کو جھٹلانے والوں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا جو اس سچے دین کو کھیل بنائے ہوئے ہیں۔ جب انہیں دھکے دے کر جہنم کی طرف لے جاتے ہوئے کہا جائے گا کہ یہی وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ جادو ہے ؟ یا تمہیں دیکھ کر بھی نظر نہیں آ رہا ؟ ان کو اسی جہنم میں داخل کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا اس جہنم میں تم چلا ئو یا صبر کرو دونوں برابر ہیں کیونکہ یہ تمہارے ان اعمال کے بدلے میں دی گئی ہے جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ کفار کی طرف سے اسی طرح مذاق اڑایا جاتا رہے گا لیکن آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ آپ براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہیں۔ آپ کا یہ سب مل کر بھی کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ آپ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لے کر اپنے مشن اور مقصد کو آگے بڑھاتے رہیے اور دلی سکون حاصل کرنے کے لئے صبح و شام اور رات کے آخری حصے میں اللہ کی حمد و ثنا کیجیے۔ ٭… اس ہولناک دن میں سب ایک ہی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ جن لوگوں نے دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور نیکی کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں وہ ان تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے جو ان کا رب انہیں عطا فرمائے گا اور ان کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ خوب کھائو اور پیو یہ تمہارے ان کاموں کا بدلہ ہے جو تم کرتے رہے تھے۔ وہ لوگ جنت میں بچھے ہوئے تخت اور مسہریوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ خوبصورت اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کے نکاح کردیئے جائیں گے اور ان کی وہ اولادیں اور گھرو الے جو صاحبان ایمان ہوں گے ان کو جنت کے نچلے طبقے سے اعلیٰ ترین جنتوں میں لا کر آپس میں ملا دیا جائیگا اور وہ ان کے ساتھ ہی رہیں گے۔ ان کو ہر طرح کے پھل اور پرندوں کا بہترین گوشت اور دوسری نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ وہ ایک دوسرے سے بےتکلفی کے انداز میں شراب کے جام پر چھینا جھپٹی کر رہے ہوں گے۔ وہاں وہ کسی قسم کے لغو اور فضول باتوں کو نہس نیں گے اور نہ کسی طرح کی بدکاریوں کو دیکھیں گے۔ ان کی خدمت کے لئے وہ لڑ کے بھاگ دوڑ کر رہے ہوں گے جو پوری جنت میں قیمتی موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے۔ یہ لوگ آپس میں ایک دور سے سے دنیا میں گزرے ہوئے حالات کو پوچھیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو اپنے گھروں میں ڈرتے ہوئے زندگی گزار رہے تھے لیکن یہ اللہ کا کتنا بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں خوف سے نجات عطا فرما کر ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرما دی ہیں اور ہمیں اس جہنم کی آگ سے بچا لیا جو جھلسا کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ سب کا سب اللہ کا فضل و احسان ہے۔ فرمایا کہ یہ کفار نہایت بےعقل اور ناسمجھ ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود سے گھڑ لیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے ساری دنیا کو اس بات کا چیلنج دیا ہے کہ اگر کسی کو قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے پر ذرا بھی شک و شبہ ہے تو وہ سب مل کر قرآن کریم کی ایک سورت ہی بنا کرلے آئیں۔ لیکن وہ ہزاروں مخالفتوں کے باوجود بھی قرآن کریم جیسا کلام بنا کر نہ لاسکے جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور یہ کوئی انسان کلام نہیں ہے۔ ٭… کفار قریش نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی کاہن ، کبھی شاعر اور کبھی مجنوں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے فضل و کرم سے نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاہن ہیں نہ مجنون اور نہ شاعر بلکہ یہ لوگ آپ کے لئے برے دنوں کے منتظر ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے انجام کا انتظار کر رہا ہوں۔ فرمایا کہ یہ کفار کس قدر بےعقل لوگ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی میں اس بات کو بھول گئے کہ قرآن کریم اللہ کا وہ کلام ہے جو ہر ایک کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر کسی کو ذرا بھی شک ہے کہ یہ لوگ کا کلام نہیں ہے تو وہ اس جیسا کلام لے کر آجائے مگر ان سچائیوں کو جانتے ہوئے بھی وہ کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ یہ درحقیقت ایمان لانے سے بھاگنے کے بہانے اور ان کی بےعقلی کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں سے آٹھ سوالات کئے ہیں۔ (١) کیا یہ لوگ خود اپنے خلاق ہیں یا اپنی مرضی سے پیدا کئے گئے ہیں اور خود ہی اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ (٢) کیا زمین و آسمان کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ (٣) کیا ان کے پاس خزانے ہیں جن پر ان کا حکم چلتا ہے ؟ (٤) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ غیب کی خبریں لے کر آتے ہیں ؟ کیا ان کیپ اس اس کی کوئی مضبوط دلیل ہے ؟ (٥) کیا یہ لوگ اللہ کے لئے تو (فرشتوں کو) بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور خود بیٹوں کو پسند کرتے ہیں ؟ (٦) اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ ان سے تبلیغ دین پر کوئی معاوضہ ، صہلہ یا بدلہ مانگ رہے ہیں کہ اس کے بوجھ تلے یہ لوگ دبے جا رہے ہیں ؟ (٧) کیا اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود ہے جس کی یہ عبادت و بندگی کرتے ہیں اور دوسروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں ؟ (٨) کیا ان کے پاس غیب سے لکھی لکھائی کوئی کتاب ہے جسے پڑھ کر یہ اس پر عمل کرتے ہیں ؟ یقینا نہ تو یہ خود اپنے خلاق ہیں نہ انہوں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا نہ ان کے پاس خزانے ہیں نہ وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ عالم بالا کی خبریں لاتے ہیں۔ نہ فرشتے اللہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ نہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود ہے۔ نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کسی صلے یا بدلے کی خواہش کرتے ہیں نہ ان کے پاس کوئی لکھی لکھائی کتاب ہے۔ یہ سب باتیں دراصل ایمان سے بھاگنے کی کوششیں ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتے دیکھیں تو یہی کہیں گے کہ شاید کوئی گہرا بادل امڈا چلا آ رہا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے یہاں تک کہ یہ اس دن میں پہنچ جائیں گے جہاں نہ کوئی ان کے کسی کام آسکے گا اور نہ کسی طرح سے ان کی مدد کی جائے گی اور عذاب الٰہی ان پر چھا جائے گا۔ یہ فیصلہ کا دن ہوگا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر و برداشت سے کام لیجیے اور اپنے مقصد کو جاری رکھیے۔ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر طرح کی دشمین کرسکتے ہیں مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ آپ براہ راست ہماری نگرانی میں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دلی سکون حاصل کرنے کے لئے صبح و شام اور رات کے آخری حصے میں اللہ کی حمد وثناء کیجیے اسی میں سکون قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے۔

Ayahs 52:1–16

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

طور (پہاڑ کی قسم)

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اس کتاب کی قسم جو لکھی ہوئی ہے۔

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کھلے کاغذ میں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر (بیت المعمور) کی قسم

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت (آسمان) کی قسم

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور جوش مارتے سمندر کی قسم،

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں ہے۔

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان زور زور سے لرزنے لگے گا

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

پھر اسی دن (قیامت کو) جھٹلانے والوں کے لئے بڑی بربادی ہے۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

وہ لوگ جو بےہودہ نکتہ چینیوں میں مشغول رہتے ہیں۔

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ جہنم کی آگ کی طرف دھکے دے کر لائے جائیں گے

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

(تو ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ جہنم سے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

(ذرا دیکھ کر بتائو ) کیا یہ کوئی جادو ہوے ؟ یا نہیں اب بھی نظر نہیں آتا۔

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

(فرمایا جائے گا کہ) ان کو اس جہنم میں جھونک دو ۔ تم بردشات کرو یا نہ کہ تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں۔ تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم اعمال کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی صورت میں اپنے انعامات کی بارش کریگا تو اس میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی نہ ہوگا۔ (1) طور (پہاڑ) مدین اور صحرائے سینا میں واقع مشہور پہاڑ طور ہے جس پر حضرت موسیٰ کو اللہ سے کلام کرنے اور توریت جیسی کتاب کے عطا کئے جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (2) کتاب مسطور (لکھی ہوئی کتاب) اس سے بظاہر تو ریت مراد ہے لیکن ہو سکتا ہے اس سے قرآن کریم اور جو صحیفے نازل ہوئے ہیں وہ مراد ہوں۔ (3) بیت المعمور (آباد گھر) اس سیب یت اللہ یا وہ گھر مراد ہے جو ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ یہ فرشتوں کا وہ کعبہ ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لئے آتے ہیں اور ایک دفعہ طواف کے بعد ان کو قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے آتے ہیں۔ یہی وہ بیت المعمور ہے کہ جب نبی کریم ﷺ معراج میں تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ بیت المعمور کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ (4) سقف مرفوع (اونچی چھت) آسمان جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر قائم ہے اس سے مراد عرش الٰہی ہے جس کا سایہ ہر چیز پر ہے۔ (5) البحر المسجور (جوش مارتا، ابلتا سمندر) احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سمندر بھی اگٓ بن جائے گا۔ ان آیات میں سب سے پہلے قیامت کے دن کفار و مشرکین پر عذاب اور کائنات میں جو بھونچال آئے گا اس کا ذکر کرتے ہوئے کوہ طور، توریت، بیت المعمور، بلند آسمان اور ابلتے جلتے سمندر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اس کائنات میں اصل طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے ۔ وہی سزا دیتا ہے اور وہی نیک اعمال پر بہترین جزا عطا فرماتا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کا دن منکرین و مشرکین پر اور جنت و جہنم کا مذاق اڑانے والوں کے لئے بڑا سخت اور ہیبت ناک دن ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی ٹال نہیں سکتی آسمان بھی تھرتھرا کانپنے لگے گا اور پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ پہاڑ جیسی عظیم مخلوق جو زمین کا تو ازنق ائم کئے ہوئے ہیں وہ اس قدر بےوزن ہوجائیں گے کہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور ساری کائنات کو الٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ میدان حشر قائم ہوگا۔ اہل جنت کو جنت کی ابدی راحتوں کی طرف عزت سے لے جایا جائے گا اور کفار و مشرکین کو دھکے دے دے کر جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ اللہ کی طرف سے اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا تم مذاق اڑاتے اور اس کا انکار کرتے ہوئے اس کو نظر بندی اور جادو کہا کرتے تھے ۔ فرمایا جائے گا کہ اب جہنم تمہارے سامنے ہے۔ اب تم اس کو دیکھو اور بھگتو۔ کیا اب بھی تم وہی کہوں گے جو دنیا میں کہا کرتے تھے اس کو جادو قرار دیتے اور اس کا انکار کرتے تھے۔ اب تمہارا رونا، چلانا، چیخنا تمہارے سکی کام نہ آسکے گا اب تمہیں وہی سب کچھ بدلے میں دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayahs 52:17–28

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک پرہیز گار جنتوں اور اس کی نعمتوں میں ہوں گے۔

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا ہوگا اس میں خوش ہوں گے۔ انہیں ان کا رب عذاب جہنم سے بچا لے گا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

( اور کہا جائے گا) جو کچھ تم (نیک عمل) کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں تم خوب مزے لے لے کر کھائو پیو۔

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

یہ لوگ برابر برابر بچھے ہوئے تخت (تختوں) پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ہوگی ہم ان کو ان کی اولاد سے ملا دیں گے اور ہم ان کے اعملا کا اجر کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے عمل کے سبب رہنے رکھا ہوا ہے۔

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

ہم (اہل جنت کو قسم قسم کے) میوے اور گوشت اور جو کچھ وہ چاہیں گے (سب کچھ دیں گے)

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہ جنت میں جام پر چھینا جھپٹی کریں گے نہ ان (جنتوں میں) فضول بکواس ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات ۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور غلمان (خادم لڑکے) اجو ان کی خدمت کے لئے ہوں گے ان کے چاروں طرف پھرتے ہوں گے جیسے محفوظ موتی

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور اہل جنت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں گفتگو کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر (دنیا میں) ڈرا کرتے تھے۔

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پھر ہم پر اللہ نے احسان کیا اور ہمیں عذاب جہنم سے بچا لیا۔

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے اس کو پکارا کرتے تھے۔ بیشک وہ بڑا ہی احسان کرنے اولا نہایت مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی جو ان کو کسی خاص مدت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ اور برابر ملتی رہیں گی جن سے اہل جنت ایک خاص خوشی اور مسرت محسوس کریں گے کیونکہ انہیں اس جہنم کا کوئی خوف نہ ہوگا جس سے ان کو بچا لیا گیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان حسن عمل کرنے والوں سے فرمائیں گے کہ دنیا میں تم نے جو کچھ کیا ہے یہ اس کا بدلہ ہے اب خوب مزے لے لے کر کھائو پیو کسی طرح کا غم اور فکر نہ کریں۔ حسین و جمیل بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیا جائے ایک لفظ یہ بھی ہوگا کہ اہل جنت کے دو گھر والے ، اولاد، اور رشتہ دار جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذاری ہوگی اور وہ اپنے معمولی عمل کے اعتبار سے اعلیٰ درجے کے مستحق نہ ہوں گے ان کو بھی اعلیٰ درجے کے والدین یا اعلیٰ درجہ کی اولاد کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے رسول اللہ ﷺ سے رویات کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح مومنین کی اولاد کو بھی ان کے بزرگ والدین کے درجہ میں پہنچا دیں گے۔ اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجے کے مستحق نہ ہوں گے تاکہ ان کے والدین اور بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ (بیہقی) اسی طرح حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض نیک بندوں کا درجہ جنت میں ان کے عمل کی مناسبت سے بہت اونچا فرما دیں گے اس پر یہ اللہ تعالیٰ سے پوچھیں گے کہ الٰہی ہمیں یہ درجہ اور مقام کہاں سے مل گیا (یعنی ہم تو اس درجے کے قابل نہ تھے) جواب دیا جائے گا کہ تمہاری اولاد نے تمہارے مغفرت کی دعائیں کی تھیں یہ اسی کا اثر ہے۔ (صحیح مسلم شریف) فرمایا کہ ہر انسان اپنے عمل میں محبوس ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ گناہ کوئی کرے اور اس کا الزام دوسرے پر ڈال دیا جائے گا بلکہ آدم جیسا عمل کرے گا اس کو اس سے بہتر بدلہ دیا جائے گا۔ البتہ اللہ کا یہ کرم ہے کہ اگر کوئی گناہ کرے گا تو اس کا بدلہ اس جیسا ہی دیا جائے گا جو اس نے کیا ہوگا۔ فرمایا کہ اہل جنت کو ہر وہ چیز دی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے جنت میں اہل جنت کو ایسی شراب عطا کی جائے گی جس میں نہ تو کوئی گناہ کی بات ہوگی نہ فضول بکواس ہوگی وہ بےتکلف شراب کے جام لنڈھائیں گیا ور ہنسی مذاق اور دل لگی کے لئے جام پر چھیناجھپٹی کر رہے ہوں گے۔ ان کے خدمت کے لئے غلمان (لڑکے) جو خوبصورت اور محفوظ موتیوں کی طرح ہوں گے ان کے چاروں طرف پھرتے ہوں گے۔ وہ اہل جنت ایک دوسرے سے خوب باتیں کریں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں اپنے انجام کے متعلق سوچ سوچ کر ڈرتے رہتے تھے لیکن اللہ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کی آگ سے بچا کر جنت کی ابدی راحتیں عطا فرما دی ہیں اور دنیا میں رہ کر جن چیزوں کی تمنا کرسکتے تھے وہ سب کچھ ہمیں عطا کردی گئی ہیں۔ واقعی اللہ اپنے بندوں پر احسان کرنے والا مہربان ہے۔