52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 52:1–7

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے پہاڑ کی ،

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے،

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کھلے کاغذ میں ،

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور بیت معمور کی ،

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی ،

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور پانی سے لبریز سمندر کی ،

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ بیشک آپ کے پروردگار کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا،1۔

1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ” وکتب مسطور “۔ یعنی نامہ اعمال کا وجود گواہ ہے جس میں سارے ہی اعمال محفوظ ومندرج رہتے ہیں۔ (آیت) ” والبیت المعمور “۔ فرشتوں کا عبادت خانہ ساتویں آسمان پر گواہ ہے جس کے عین محاذ میں زمین پر خانہ کعبہ واقع ہے۔ (آیت) ” والسقف المرفوع “۔ یعنی آسمان گواہ ہے۔ والطور سے لے کر والبحر تک وپانچ بار آیا ہے ان میں واو اول قسم کا ہے۔ اور باقی وعطف کے ہیں۔ الواوالاولی للقسم والبواقی للعطف (مدارک)
Ayahs 52:8–10

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کوئی بھی اسے ٹال نہیں سکتا ،

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

اور اس روز ہوگا) جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا ،

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ پھٹ پھٹ جائیں گے،2۔

2۔ یعنی ایسی چیزیں جو وسعت، شان، صلابت وپائیداری میں آج اپنی نظیر آپ ہی سمجھی جاتی ہیں سب اپنے صفات وسعت وثبات وصلابت وغیرہ سے معری ہو کر سامنے آجائیں گی، (آیت) من دافع “۔ من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی چیز اسے ٹال نہیں سکتی۔ من مزیدۃ للتاکید (روح) ۔
Ayahs 52:11–15

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

سو بڑی شامت اس جھٹلانے والوں کی ہے،

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو بیہودگی کے ساتھ مشغلہ (تکذیب) میں لگے ہوئے ہیں ،

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا جب انہیں ڈھکیل ڈھکیل کر آتش دوزخ کی طرف لائیں گے ،

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہ وہی دوزخ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ،

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ بھی سحر ہے یا تمہیں نظر نہیں آتا ؟ ،3۔

3۔ ملامت مزید کے طور پر اہل دوزخ کو قائل کیا جائے گا کہ دنیا میں تو دوزخ کے بیان کو خوب جھٹلاتے اور سحرپر محمول کرتے رہے۔ اب کہو، اب مشاہدہ کے بعد بھی اس کے سحر ہی ہونے کے قائل ہو یا یہ کہ دنیا کی طرح یہاں بھی، یہ تمہیں نظر نہیں آرہا ہے ؟ (آیت) ” فی خوض یلعبون “۔ اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی آگیا کہ یہ منکرین ومکذبین اب بھی ان حقائق ومسائل پر اس سنجیدگی سے غور وفکر نہیں کرتے جو ان حقائق کی اہمیت کی متقاضی ہے بلکہ بےفکری، بےغوری، بےخیالی کے ساتھ ان پر سے یوں ہی سرسری گزرتے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

(اب) اس میں داخل ہو، پھر خواہ اس پر صبر کرنا یا نہ کرنا تمہارے حق میں (سب) برابر ہے تم کو وہی بدلہ تو دیا جارہا ہے جیسا کہ تم کیا کرتے تھے،4۔

4۔ یعنی تمہارا جرم تو کفر ہے .... اللہ کے کمالات غیر متناہی کا کفران ..... سو تمہارے لئے سزا بھی دوزخ میں خلود کی ہے۔ (آیت) ” انما ..... تعملون “۔ انما کلمہ حصر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہیں بس اتنا ہی عذاب تو ہورہا ہے جس کے تم مستحق ہوگئے تھے۔ اس سے زائد سزا تو نہیں مل رہی ہے (آیت) ” فاصبروا ..... علیکم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے تمہیں نجات ہوجائے، اور نہ یہی ہوگا کہ تمہارے سکوت وانقیاد سے تم پر ترحم کیا جائے۔ (تھانوی (رح))
Ayahs 52:17–20

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ باغوں اور سامان عیش میں ہورہے ہوں گے ،

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

اس سے جو کچھ کہ ان کے پروردگار نے انہیں دیا ہوگا، اور ان کا پروردگار انہیں عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا ،

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

خوب (مزے سے) کھاؤ پیوان (نیکیوں) کے بدلہ میں جو تم کرتے رہے ہو،

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تکیہ لگائے ہوں گے برابر بچھے ہوئے تختوں پر، اور ہم ان کی تزویج کردیں گے گوری گوری بڑی بڑی آنکھ والیوں کے ساتھ،5۔

5۔ غرض یہ کہ وہ سارے مادی عیش اور لذائذ جو دنیا میں ممکن تھے سب جنت میں بھی انہیں نصیب ہوں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنت میں ان کا کوئی انعام کسی قسم کا کٹ بھی جائے۔ (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ ان تصریحات سے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ عمل تزویج میں کوئی امر شرمناک ہے، اور نہ گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں کے حسن کا ذکر اپنے جائز محل پر قابل ملامت ہے جیسا کہ بعض جدید فرقوں نے مسیحیت یا بدھ ازم کے اثر سے سمجھ لیا ہے۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی شامل کردیں گے اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہ ہونے دیں گے،6۔ ہر شخص اپنے اعمال میں محبوس رہے گا،7۔

6۔ یعنی اس کی صورت یہ نہ ہوگی کہ متقی اسلاف کے اعمال میں سے کچھ کم کرکے انہیں اور ان کی پست عمل اولاد کو ایک درجہ میں رکھ دیا جائے۔ (آیت) ” ذریتھم “۔ ذریت۔ کے لفظ میں گنجائش ہے۔ علاوہ سلبی اولاد کے دوسرے اعزہ و اقرباء احباب، ومسترشدین بھی مراد ہوسکتے ہیں، اور حدیث میں تو ذریت کا عطف ہی لفظ دلدپر ہے، جس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ ذریت سے یہاں مراد مطلق توابع ہیں۔ (آیت) ” واتبعتھم ذریتھم بایمان “۔ مراد ایسی ذریت ہے جو صاحب ایمان تو اپنے اسلاف ہی کی طرح ہو، البتہ اعمال میں اتباع شریعت میں ان سے بہت پیچھے ہو۔ (آیت) ” بایمان “۔ اس ایمان کی قید سے فقہاء مفسرین نے یہ نکالا ہے کہ یہاں ذکر بالغ اولاد کا ہے جو اپنے ارادہ سے ایمان لائے، اس لئے کہ بچے تو بہرحال اپنے والدین کے حکم میں رکھے ہی جائیں گے۔ یعنی اولادھم الصغار والکبار فالکبار بایمانھم انفسھم والصغار بایمان اباءھم فان الولد الصغیر یحکم باسلامہ تبعا لاحد لابوین (معالم) (آیت) ” بایمان “۔ صیغہ نکرہ تنوین کے ساتھ یا تو تکریم ایمان کے لیے ہے، اور یا اس اظہار کے لیے کہ درجہ آباء سے مقبولین تک پہنچا دینے کے لئے نفس ایمان میں اتباع کافی ہے۔ وتنکیرہ للتعظیم اوالاشعار بانہ یکفی للالحاق المتابعۃ فی اصل الایمان (بیضاوی) (آیت) ” الحقنابھم ذریتھم “۔ یہ ان اسلاف مقبولین کے اکرام اور ازدیاد لطف و سرور کے لیے ہوگا کہ ان کی ذریات کو بھی باوجود ان کے درجہ عمل کی پستی کے ان کے ساتھ ملحق اور ہم مرتبہ کردیا جائے گا۔ (آیت) ” من عملھم “۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت میں بجائے من اجرھم کے من عملھم کے لانے میں نکتہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا عمل تو جوں کا توں رہے گا اور اس پر بہت زیادہ اجر ملتا رہے گا۔ من اجرھم کے لانے سے یہ زیادتی اجر والی بات نہ پیدا ہوتی۔ دلیل علی بقاء عملھم کما کان والاجر علی العمل مع الزیادۃ فیکون فیہ الاشارۃ الی بقاء العمل الذی لہ الاجر الکبیر الزائد یمکنہ العظیم العائد الیہ (کبیر) بعض فقہاء نے آیت سے نکالا ہے کہ نو مسلم سے وہ مسلمان افضل ہے جس کے باب دادا بھی مومن ہوں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے شرافت نسب کا آخرت میں مفید ہونا نکلتا ہے۔ لیکن شرافت دینی کا، نہ کہ عرفی دنیوی شرافت کا۔ آیت میں بہت بڑی بشارت اہل ایمان کے لیے ہے۔ اپنا ایمان اگر صحیح و سلامت ہے تو انشاء اللہ رحمت الہی ہر کلمہ گو کے مدارج بلند کرکے اسے اس کے بلند پایہ اسلاف مقبولین کے درجہ تک پہنچا ہی دے گی۔ 7۔ یہاں مراد کافر شخص ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اجر وثواب میں تو فضل خداوندی کسی کو اس کے عزیزوں اور بزرگوں کی ہم سطح کردے گا۔ لیکن عذاب و گرفت میں یہ ہرگز نہ ہوگا۔ قال مقاتل کل امری کافر بما عمل من الشرک مرتھن فی النار (معالم) لما اخبر من مقام الفضل وھو رفع الدرجۃ الذریۃ الی منزلۃ الاباء من غیر عمل یقتضی ذلک اخبر عن مقام العدل وھو انہ لایؤاخذ احد بذنب احد (ابن کثیر) قال الواحدی ھذا عود الی ذکر اھل النار فانھم مرتھنون فی النار اما ال مومن فلایکون مرتھنا قال تعالیٰ کل نفس بما کسبت رھینءۃ الااصحاب الیمین وھو قول مجاھد (کبیر) کفر کے ساتھ نجات ہی کی کوئی صورت نہیں۔ چہ جائیکہ درجات کی بلندی۔ اوپر کی بشارت جو کچھ بھی ہے صاحب ایمان ذریت کے لیے ہے نہ کہ کافر اولاد کے لیے۔
Ayahs 52:22–23

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم انہیں میوے اور گوشت جیسے بھی مرغوب ہوں گے روز افزوں دیتے رہیں گے ،

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

ہاں آپس میں جام (شراب) پر چھینا جھپٹی بھی کریں گے کہ اس (شراب) میں نہ بک بک لگے گی اور نہ اور کوئی بیہودہ بات،8۔

8۔ مسلمان کی جنت ہر بیہودگی، ہرگندگی سے تو یقیناً خالی ہوگی۔ لیکن اس کے سوا باقی ہر طرح کی تفریح، زندہ دلی، ہنسی مزاج کا وہ ایک مستقل گھر ہوگی، زاہد ان خشک کے مزاج ومسلک سے الگ اور بہت الک۔ (آیت) ” یتنازعون فیھا کا سا “۔ یعنی دنیا میں جیسے بےتکلف دوستوں کے درمیان ہنسی کھیل میں چھین، جھپٹ ہوتی رہتی ہے ویسے ہی لفط وخوش طبعی کے ساتھ وہاں بھی رہے گی ، (آیت) ” لالغوفیھا “۔ لغو کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب سکر پیدا کرنے والی نہ ہوگی۔ (آیت) ” ولا تاثیم “۔ تاثیم کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب عقل ومتانت کو زائل کرنے والی نہ ہوگی۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے پاس لڑکے آئیں جائیں گے جو ان کے لئے ہیں، گویا وہ محفوظ موتی ہیں،9۔

9۔ (کہ ان پر ذرا گردوغبار نہیں، اور ان کی آب وتاب اعلی درجہ کی ہے) عربی محاورہ میں یہ کنایہ غایت حسن و جمال سے ہوتا ہے۔ اور جب خادموں کا یہ حال ہوگا تو مخدوموں کے حسن و جمال کا کیا ٹھکانہ !
Ayahs 52:25–26

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے ،

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے،10۔

10۔ (اپنے انجام کار سے) (آیت) ” قبل فی اھلنا “۔ یعنی جب دنیا میں اپنے گھرو الوں کے ساتھ رہتے سہتے تھے۔
Ayahs 52:27–28

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

سو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیا ،

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے واقعی وہ بڑا محسن ہے، مہربان ہے،11۔

11۔ (تو ہماری دعائیں کیوں نہ قبول کرلیتا) آیت سے معلوم ہوا کہ آخرت کو بکثرت یاد کرتے رہنا، اپنے انجام سے ڈرتے رہنا۔ اپنے انجام بخیر کی دعائیں کرتے رہنا مقبولین ومتقین کی علامتوں میں ہیں۔ (آیت) ” انا ..... ندعوہ “۔ یعنی ہم دنیا میں برابر یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ پروردگار ! ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت میں داخل کرنا، سو ہماری دعا سن لی گئی۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو آپ سمجھاتے رہئے کیونکہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں،12۔

12۔ (جیسا کہ بعض بدنصیب یہود ومشرکین کا خیال) عرب جاہلیت میں شاعروں کا بڑا زور اور اثر تھا، جیسا کہ یونان اور روما میں خطیبوں کا زور رہ چکا تھا یا آج فرنگی قوموں میں اخبار نوسیوں اور ایڈیٹروں اور مشہور افسانہ نگاروں اور ڈراما نگاروں کا ہے۔ مشرکوں کے ایک روشن خیال گروہ نے یہ رائے قائم کی کہ (نعوذ باللہ) یہ مدعی نبوت شاعر ہیں اور جس طرح اور شاعر مر مرا گئے ایک روز یہ بھی ختم ہوجائیں گے اور ان کا چلایا ہوا کلام اور مذہب بھی نسیامنسیا ہوجائے گا کسی بڑے شاعر کے منہ آتے ہوئے اہل عرب خود ڈرتے اور ہچکچاتے تھے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک روز جمع ہو کر باہم مشورہ ہوا اور آخرت یہ قرار پایا کہ ان نئے شاعر صاحب سے زیادہ مقابلہ ومزاحمت کی ضرورت کیا ہے۔ آخرجس طرح زہیر، اعشی، نابغہ بڑے بڑے شعراء نامدار و قادر فناء ہوچکے ہیں یہ بھی ایک دن مع اپنے اس کلام کے ختم ہوجائیں گے اور ان کا نقش خود بخو دلوں سے مٹ جائے گا۔ (آیت) ” ریب “۔ کے معنی حادثہ وگردش کے ہیں جو جس وقت بھی پیش آجائے فالا نسان ابدا فی ریب المنون من جھۃ وقتہ لامن جھۃ کونہ (راغب) مایقلق بہ النفوس ویشخص بھا من حوادث الدھر (کشاف) منون کے معنی ہیں موت یا دہر وزمانہ۔ قیل ھو اسم للموت (کبیر) وقیل المنون الدھر وریبہ حوادثہ (کبیر) و تفسیر المنون بالدھر مروی عن مجاھد وعلیہ قول الشاعر (روح)
Ayahs 52:30–31

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

ہاں کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم تو ان کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کررہے ہیں ؟

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (بہتر ہے) انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں،13۔

13۔ یعنی اچھی بات ہے۔ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ ” اس میں اشارۃ پیش گوئی ہے کہ میرا انجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام فساد وناکامی ہے “۔ (تھانوی (رح))
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں انہیں باتوں کی تعلیم کرتی ہیں یا یہ ہے کہ یہ ہیں ہی شریر لوگ ؟ ،14۔

14۔ (جو محض شرارت، ضد وخباثت سے ایسے نتائج پر مصر ہیں۔ ) (آیت) ” ام ..... بھذا سرداران قریش اپنی عقل وتدبیر ودور اندیشی کے لحاظ سے دور دور مشہور تھے۔ قرآن مجید کی تعریض ہے کہ کیا یہی ان کی عقلیں ہیں ؟ جو عقل انہیں ان نتائج پر لارہی ہے، اسی عقل پر انہیں ناز ہے ؟
Ayahs 52:33–34

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

ہاں یہ کہتے ہیں انہوں نے (قرآن) کو گڑھ لیا ہے ؟ اصل یہ ہے کہ ان میں ایمان ہی نہیں،

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اچھا تو یہ لوگ اسی طرح کا کوئی کلام لے آئیں، اگر یہ (اپنے دعوے میں) سچے ہیں،15۔

15۔ یعنی اگر واقعی یہ منکرین یہی سمجھتے ہیں کہ قرآن ایک انسانی گڑھت ہے تو یہ بھی تو آخر انسان ہیں اور بڑے ” روشن خیال “۔ عالی دماغ “۔ صاحب زبان قسم کے انسان “۔ یہ خود مل کر کیوں نہیں کوئی ایسی ہی کتاب تیار کردیتے ہیں جو مغز ومعنویت یا زبان وانشاء کسی حیثیت سے بھی اس کی ہم سطح ہو ؟ (آیت) ” بل لایؤمنون “۔ یعنی ان کی یہ تکذیب قرآن وتکذیب رسول کسی عقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ تمامتر ان کی قوت یقین و ایمان کی کمی کا ثمرہ ہے۔
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بغیر کسی کے (پیدا کئے) پیدا ہوگئے یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟ ،16۔

16۔ یعنی کیا یہ اس کے قائل ہیں کہ یہ محتاج تو کسی خالق کے ہیں لیکن وہ خالق خود آپ ہی ہیں۔ مشرک فلاسفہ کا ایک مذہب یہ بھی ہوا ہے کہ عالم محتاج تو ایک خالق کا ہے لیکن وہ خالق کوئی غیر نہیں بلکہ نفس عالم ہی ہے، اس مذہب الحاد کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ علت ومعلول ایک ہی جہت سے ایک ذات میں جمع ہو نہیں سکتے۔ (آیت) ” ام خلقوا من غیر شیء “۔ یعنی کیا یہ اس کے قائل ہیں کہ عالم اپنے وجود میں کسی کی تخلیق کا محتاج نہیں بلکہ خود بخود قائم ہے ؟ یہ مذہب خالص اور غالی اہل دہریت کا ہوا ہے اور اس کے جواب میں اسی قدر کافی ہے کہ ممکنات کے پہلوئے وجود کو ترجیح ہو نہیں سکتی جب تک کوئی مرجح نہ موجود ہو اور وہی علت مرجح خالق کائنات ہے۔
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرلیا ہے ؟ اصل یہ ہے، ان میں یقین ہی نہیں،17۔

17۔ اصل یہ ہے کہ ان تینوں شقوں میں سے یہ کسی بھی قائل ومعتقد نہیں لیکن محض جہل اور بےغوری سے توحید کا انکار کئے چلے جاتے ہیں۔ (آیت) ” ام ..... الارض “۔ یعنی کیا یہ کہ خدا کی صفت خالقیت میں خود اپنے کو شریک سمجھتے ہیں۔ اور تعدد صانع عالم کے قائل ہیں ؟
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں، یا یہ لوگ حاکم (مجاز) ہیں ؟ ،18۔

18۔ (اور یہ جسے چاہیں نبوت دلوادیں) اب تک ذکر منکرین توحید کا تھا۔ اب ذکر منکرین رسالت کا شروع ہوتا ہے۔ (آیت) ” خزآئن ربک “۔ خزائن پروردگار سے مراد اس کی نعمتوں اور رحمتوں کے خزانے ہیں۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے باتیں سن لیا کرتے ہیں ؟ تو ان میں سے جو سن آتا ہو وہ لائے (اپنے دعوی پر) کوئی کھلی دلیل،19۔

19۔ یعنی کیا یہ لوگ اس کے مدعی ہیں کہ ” ہمارے پاس ایک سیڑھی ہے۔ اس پر چڑھ کر ہم آسمان کی باتیں سن آیا کرتے ہیں “۔ اگر یہ ان کا دعوی ہے تو چاہیے کہ اپنے دعوے کو ثابت کریں، مطلب یہ ہے کہ یہ جو قطعی وآسمانی علم کے مدعی ہیں تو ان کے پاس اپنے خرافاتی دعو وں پر کوئی وزنی دلیل بھی ہے ؟
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور تمہارے لئے بیٹے ؟ ،20۔

20۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیزیں پسند کرتے ہوج نہیں اپنے نزدیک اعلی درجہ کی سمجھتے ہو اور اللہ کے لیے وہ چیزیں جو تمہارے معیار سے ادنی درجہ کی ہیں۔ آیت میں اشارہ اس گروہ مشرکیہ کی طرف ہے جو دیویوں کی خدا کی بیٹیاں قراردیتا تھا۔ مشرکین عرب کے ہاں بیٹی کے ناپسندیہ ومکروہ ہونے پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔