52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

(کوہ) طور کی قسم

قسم ہے کوہ طور کی سریانی اور قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا اس مقام پر وہ پہاڑ مقصود ہے جس پر موسیٰ سے کلام فرمایا اور وہ مدین میں ہے اور اس کو زبیر بھی کہتے ہیں۔
Ayahs 52:2–3

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ اوراق میں

(2۔ 3) اور قسم ہے اس کتاب یعنی لوح محفوظ کی جس میں انسانوں کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور قسم ہے لکھے ہوئے نامہ اعمال کی جس کو ہر ایک انسان قیامت کے دن پڑھے گا اور وہ اس کے سامنے کھلا ہوا ہوگا۔
Ayahs 52:4–5

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

(4۔ 5) اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے محاذ میں فرشتوں کی عبادت گاہ اور ان کا حرم ہے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسا کہ ساتویں زمین کی تہہ تک اور اس میں ستر ہزار فرشتے یومیہ داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار داخل ہوچکے ان کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی اور یہ وہ گھر ہے جس کی حضرت آدم نے تعمیر فرمائی تھی اور پھر طوفان کے ذریعے ساتویں آسمان کی طرف اسے اٹھالیا گیا تھا اور اسے صراح بھی کہتے ہیں اور قسم ہے آسمان کی جو کہ ہر چیز سے بلند ہے۔
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی

اور قسم ہے بھرے ہوئے دریا کی اور یہ دریا ساتویں آسمان پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا اور اس کو حیوان بھی کہتے ہیں یا یہ کہ یہ گرم دریا ہے جو آگ ہوجائے گا اور قیامت کے دن دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
Ayahs 52:7–12

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

(اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑنے لگیں اون ہو کر

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو خوض (باطل) میں پڑے کھیل رہے ہیں

(7۔ 12) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔ سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔
Ayahs 52:13–16

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کرلے جائیں گے

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ اور صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے یکساں ہے، جو کام تم کیا کرتے تھے (یہ) انہی کا تم کو بدلا مل رہا ہے

جس روز کہ ان کو جہنم کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے فرشتے ان کو دھکے دیں گے اور ان کے منہ کے بل ان کو دوزخ کی طرف گھسیٹیں گے اور ان سے زبانیہ فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے تو کیا یہ دن اور یہ عذاب بھی سحر کیونکہ تم دنیا میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ساحر کہتے تھے یا تم اب بھی نہیں سمجھ رہے۔ پھر ارشاد خداوندی ہوگا اچھا تو اب دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر خواہ اس عذاب کو سہو یا نہ سہو کیونکہ خاموشی سے سہنا اور شور مچانا دونوں تمہارے حق میں برابر ہیں اور تم دنیا میں جیسا کرتے اور کہتے تھے ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

اب مومنین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانے کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرماتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے۔
Ayahs 52:18–21

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال، اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ہم ان کا رفیق بنادیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہِ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے

(18۔ 21) اور ان کو عیش و آرام کی جو چیزیں جنت میں ان کے پروردگار نے دی ہوں گی ان سے خوش ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور ان سے فرمائے گا جنت کے پھلوں کو خوب کھاؤ اور اس کی نہروں سے خوب پیو کسی قسم کی کوئی تکلیف و گرانی نہ ہوگی اور نہ موت آئے گی۔ اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کیا کرتے تھے ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر ترتیب وار بچھائے ہوئے ہیں۔ اور جنت میں ہم ان کی گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوروں سے شادی کریں گے۔ اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کامل اور سچے رہے اور ان کی اولاد نے بھی دنیا میں ایمان میں ان کا ساتھ دیا تو ہم آخرت میں ان کی اولاد کو بھی ان کے آباء کے درجہ میں شامل کردیں گے۔ یا یہ کہ جو لوگ ایمان لائے ہم ان کو جنت میں داخل کریں گے اور ان کی کمسن نابالغ اولاد کو بھی ایمان کی وجہ سے ان ہی کے درجہ میں داخل کردیں گے یعنی اس ایمان کی وجہ سے جو یوم المیثاق میں لیا تھا یا یہ کہ جبکہ آباء کا درجہ جنت میں بلند ہوگا اور اولاد کا کم تو ہم ان کی مومن اولاد کو ان کے آباء ہی کے درجہ میں داخل کردیں گے اور ہم اس داخل کرنے میں ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے یعنی یہ نہیں کریں گے کہ آباء کے درجہ اور ان کے ثواب میں سے کچھ کمی کر کے اور ان کی اولاد کو دے کر دونوں کو برابر کردیں ہر ایک اپنے گناہوں میں محبوس رہے گا اللہ تعالیٰ جو چاہے گا ان کے ساتھ معاملہ فرمائے گا۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے

اور ہم اہل جنت کو جنت میں مختلف اقسام کے میوے اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کو پسند ہوگا دیتے رہیں گے اور وہ جنت میں جام شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے اور اس کے پینے سے نہ پیٹ پر کوئی بوجھ ہوگا اور نہ اس پر کوئی گناہ ہوگا۔
Ayahs 52:23–25

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے، جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ گناہ کی بات

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور نوجوان خدمتگار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں گفتگو کریں گے

(23۔ 25) یا یہ کہ جنت میں اس کے پینے سے نہ بک بک ہوگی اور نہ کوئی بےہودہ بات اور نہ جھوٹی قسمیں اور نہ آپس میں گالی گلوچ ہوگی اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے آئیں گے جو صفائی اور خوبصورتی میں حفاظت کے ساتھ رکھے ہوئے موتیوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ موتی کو گرمی سردی اور گرد و غبار سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے تھے

اور جنتی آپس میں ملاقات کے وقت دنیا کا بھی تذکرہ کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو جنت میں داخل ہونے سے پہلے دنیا میں اپنے گھر والوں کے ساتھ عذاب خداوندی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا

اللہ تعالیٰ نے مغفرت و رحمت اور جنت میں داخل فرما کر ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لیا اور ہم اس مغفرت سے پہلے اسی کی عبادت کیا کرتے تھے اور اسی کی توحید کے قائل تھے۔
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے

واقعتا اس نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا اس کو اس نے پورا فرمایا اور وہ اپنے مومن بندوں پر بڑا مہربان ہے کہ ہم پر بھی احسان فرمایا۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر !) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

(29۔ 30) تو آپ لوگوں کو سمجھاتے رہیے کیوں کہ آپ نبوت اور اسلام کی دولت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے نہ تو کاہن ہیں کہ کل کی خبریں دیں اور نہ مجنوں ہیں۔ بلکہ کفار مکہ یعنی ابو جہل، ولید بن مغیرہ وغیرہ آپ کے بارے میں یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں

شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ (الخ) ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش جب رسول اکرم کی ذات اقدس کے بارے میں دار الندوہ میں مشورہ کے لیے جمع ہوئے تو ان میں سے کسی نے کہا کہ ان کو نعوذب اللہ مضبوط زنجیروں میں باندھ دو پھر ان کی موت کا انتظار کرو تاکہ یہ بھی اسی طرح ہلاک ہوجائیں جیسا کہ پہلے شعراء میں سے زہیر اور نابغہ ہلاک ہوگئے کیونکہ یہ بھی ان ہی کی طرح ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 52:31–32

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

(31۔ 32) آپ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ تم میری موت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے عذاب کا منتظر ہوں، چناچہ بدر کے دن یہ سب مارے گئے کیا ان کی عقلیں ان کو اس تکذیب اور سب و شتم اور نبی اکرم کو تکلیف پہنچانے کی تعلیم کرتی ہیں کیونکہ یہ تو اپنی عقل مندی کے بڑے مدعی ہیں یا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں بڑے ماہر لوگ ہیں۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن کو از خود بنالیا ہے، بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے

ہاں کیا کفار مکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ رسول اکرم نے اس قرآن کریم کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے بلکہ یہ لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں

تو یہ لوگ بھی رسول اکرم پر جو قرآن کریم نازل ہوا ہے اسی طرح کا قرآن بنا لائیں اگر یہ اپنے اس دعوے اور قول میں سچے ہیں۔
Ayahs 52:35–36

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (نہیں) بلکہ یہ یقین نہیں رکھتے

(35۔ 36) کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق یا باپ کے خود بخود پیدا ہوگئے یا یہ خود ہی اپنے خالق ہیں یا یہ کہ انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ایسا بھی نہیں بلکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے مگر یہ لوگ پھر بھی رسول اکرم اور قرآن حکیم کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayahs 52:37–38

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے، جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں ؟ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے

(37۔ 38) کیا ان کے پاس تمہارے رب کی نعمتوں اور رحمتوں یعنی بارش رزق نبوت کے خزانوں کی کنجیاں ہیں یا یہ لوگ اس محکمہ نبوت کے حاکم ہیں کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن لیا کرتے ہیں۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے ؟

لہذا یہ اپنے دعوے پر کوئی صاف دلیل پیش کریں کیا اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کی جائیں جبکہ خود اپنے لیے ان کا ہونا پسند نہیں کرتے ہو اور تمہارے لیے بیٹے تجویز ہوں۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ !) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ؟

اے محمد کیا آپ ان سے اس دعوت ایمانی پر کچھ معاوضہ مانگتے ہیں کہ اس تاوان کا ادا کرنا ان کو گراں معلوم ہوتا ہے۔