52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsسراج البیان

Ayahs 52:1–16

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم کوہ طور کی

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور لکھی ہوئی کتاب کی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ ورق ہیں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے دریا کی

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ بیشک تیرے رب کا عذاب آنے والا ہے

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اس کا ہٹانے والا کوئی نہیں

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان کپکپا کر لرزے گا

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ چلتے پھریں گے

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

سو اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو باتیں بناتے ہوئے کھیلتے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن دوزخ کی آگ کی طرف دھکے دے کر دھکیلے جائینگے

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی وہ آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں گھسو ۔ صبر کرو یا نہ صبر کرو ۔ تم کو برابر ہے ، تمہیں وہی بدلہ ملے گا ۔ جو تم (ف 1) کرتے تھے

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس عذاب پر گواہ نہیں ۔ کیا قرآن میں اس کی تصریح نہیں ہے کیا ابرہہ کو ہلاک نہیں کیا گیا ۔ جس نے بیت اللہ کے انہدام کا اقدام کیا تھا اور کیا متلاطم سمندر اور فلک ہزار شیوہ قوم نوح کی طرح ہلاکت وفنا کے لئے کافی نہیں ہے ؟ فرمایا جس دن یہ عذاب آئیگا ۔ اس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا ۔ اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائینگے ۔ اس دن ان لوگوں کے لئے بڑی تکلیف کا سامنا ہوگا جو منکر ہیں ۔ حل لغات :۔ رق ۔ پوست آہو ۔ روشن ۔ منشور ۔ کھلی ہو ۔ وضوع واعلان کی طرف اشارہ ہے ۔
Ayahs 52:17–22

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ (ف 1) باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

میوے کھانے والے جو انہیں ان کے رب نے دیئے اور ان کے رب نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچایا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

جو عمل تم کرتے تھے اس کے صلہ میں خوشگوار کھاؤ پیو

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تختوں پر جو برابر بچھے ہونگے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم نے گورے گورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ان سے بیاہ دینگے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد ایمان میں ان کے پیچھے چلی ان کی اولاد کو ہم ان سے ملادینگے ۔ اور ان کے عمل میں ہم انہیں کوئی شئے کم نہیں دیں گے ۔ ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہوا ہے

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس قسم کا میوہ اور گوشت وہ چاہیں گے ۔ ہم ان کے لئے ریل پیل لگادیں گے

بہشت والے 1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس کو بھی ان کے پاس بھیج دیا جائے گا ۔ اور خودان کے اعمال میں سے کوئی چیز کم نہ ہوگی ۔ ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے آسائیش یا عذاب حاصل کرے گا ۔ ان پاکباز نقوس کو عمدہ عمدہ میوے کھانے کے لئے ملیں گے ۔ گوشت ان کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور شراب کے قدموں پر چھینا جھپٹی کرینگے ۔ مگر بےہودگی کے ساتھ نہیں ۔ نہ گناہوں میں شغف کی وجہ سے بلکہ ظاہر تشکر واشغان کے لئے چھوٹے چھوٹے بچے جو پاکیزگی اور خوبصورتی میں موتیوں کی طرح ہونگے ان کے کام کاج کے لئے مقرر ہونگے ۔ جن کی خدمات سے انکا دل مشرور ہوگا ۔ گویا وہ ہر چیز ان کو مہیا ہوگی ۔ جس کی نفس انسانی آرزو کرسکتا ہے ۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ شرط اطاعت سے اور اللہ کی فرمانبرداری ۔ حل لغات :۔ ھنیا ۔ خوشگواری کے ساتھ ما القینا عم ۔ کم نہیں کریں گے
Ayahs 52:23–26

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے (ف 1) سے پیالے جھپٹ لیتے ہیں نہ اس (کے سرور) میں بےیہودہ گونی ہے اور نہ گناہ

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے آس پاس ان کے جوان لڑکے پھرتے ہیں گویا وہ خلاف میں دھرے ہوئے موتی ہیں

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور بعض بعض کی طرف متوجہ ہوکر پوچھیں گے

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ ہم اپنے گھر میں ڈرتے ڈرتے رہتے تھے

اہل دوزخ 1: غرض کہ لفظ قرآن حکیم میں عموماً برے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مقصود وکفر والحاد میں شغف اور انہماک ہے ۔ برائی اور معصیت سے لگاؤ ہے ۔ اور فسق وفجور سے محبت ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت برے عذاب میں گرفتار ہوں گے ۔ دنیا میں تو غفلت کے پردے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے ۔ اور یہ لوگ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے اور سوچتے بھی تھے تو یہ کہ کس طرح اس آفتاب نبوت کی روشنی سے لوگوں کو محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اب دونوں آنکھیں کھلیں گی ۔ بصیرت کی بھی اور بصارت کی بھی ۔ یہاں یہ دیکھیں گے کہ فرشتے پکڑ پکڑ کر ان کو دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اور کہہ رہے ہیں ۔ دیکھ لیجئے یہی وہ دوزخ ہے ۔ جس کی تم تکذیب کرتے تھے ۔ اور جس کے متعلق تمہارا یہ خیال تھا ۔ کہ یہ محض ڈھکو سلا ہے ۔ کہاں کی آگ اور کہاں کا عذاب خوب اچھی طرح دیکھ لو ۔ کہیں جادو کی کرشمہ سازی تو نہیں ۔ کوئی شعبدہ بازی تو انہیں ہے ۔ اگر یہ واقعہ ہے کہ خلاف توقع تمہیں جہنم میں پھینک دیا گیا ہے ۔ تو پھر اب اس کو برداشت کرو ۔ یا نہ کرو ۔ چارو لاچار رہنا پڑیگا ۔ کیونکہ تمہارے اعمال اسی جگہ کے مقتضی ہیں ۔ یہ اللہ کا مقام غضب سے یہاں وہ لوگ رہتے ہیں جنہوں نے دنیا میں اس کے احکام سے لاپروائی کی ہے ۔ اور ادنی ترین آسائیشوں کی خاطر ہمیشہ کے عیش اور رحیم وروح کی بالیدگی کو چھوڑ کر ترک کیا ہے ۔ جنہوں نے وہاں کبروغرور کا مظاہر کیا ہے ۔ اور صداقت کو محض اس لئے تسلیم نہیں کیا کہ اس کو پیش کرنے والا ایک انہیں میں کانسان ہے ۔ محض اس لئے ایمان کی دولت سے محروم رہے ۔ کہ اس کو لٹانے والا دنیوی اعزازات کا حامل نہیں ہے اور اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے دوسرے آستانوں پر اپنے سر کو جھکایا ہے ۔ خود اپنی توہین کے مرتکب ہوئے اور باری تعالیٰ کی جناب میں بھی گستاخی کا اظہار کیا ہے ۔ حل لغات :۔ یدعون ۔ کشاں کشاں لائے جائیں گے ۔
Ayahs 52:27–33

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

سو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں گرم (ف 1) ہوا کے عذاب سے بچایا

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم تو پہلے ہی اسے پکارتے تھے ۔ بیشک وہی احسان کرنے والا مہربان ہے

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

سو اب تو نصیحت کر کہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ تو جنون سے خبر لینے والا ہے اور نہ دیوانہ

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ شاعر ہے ہم اس کی نسبت گردش زمانہ کے منتظر ہیں

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

تو کہہ منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں انہیں ایسا حکم دیتی ہیں یا وہ لوگ سرکش ہیں ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن بنا لیا ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے

اعمال کی اصلی حیثیت 1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام واکرام کے مستحق ہوتے ۔ ہم اللہ کو دنیا میں مخاطب تو کرتے تھے ۔ دعاؤں میں پکارتے بھی ضرور تھے ۔ مگر یہ محض اس کی شفقت اور رحمت ہے ۔ کہ اس نے ہم گنہگاروں کو جنت کی نعمتوں سے نوازا اور ہماری سن لی ۔ اصل بات یہ ہے ۔ کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اعمال انسان کو اس قابل بنادیتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اعمال براہ راست نجات کا استحقاق نہیں پیدا کرتے ۔ کیونکہ قدرت کی طرف سے انسان پر احسانات کا بار اتنا بڑا ہے ۔ کہ اگر مہر من مو سے وہ حساس وشکر کے دریا بہادے ۔ جب بھی عمدہ برآء نہیں ہوسکتا ۔ چہ جائے کہ اس کے اعمال عنداللہ محصوب ہوں ۔ کیونکہ بڑے سے بڑا عمل بھی اس کے نزدیک حقیر ہے ۔ اور کوئی وقعت نہیں رکھتا ۔ ؎ ازدست وزبانے کو برآئند کز عہدہ شکرش بدرآید حل لغات :۔ لا لغو فیھا ولا تاثیم ۔ غرض یہ ہے کہ اہل بہشت کا مذاق ووجدان اس درجہ وہاں اصلاح پذیر ہوجائے گا ۔ کہ یہ چیزیں قطعاً ان میں نہ ہوں گی
Ayahs 52:34–35

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

سو اگر وہ سچے ہیں (ف 1) تو اسی طرح کی کوئی بات بھی وہ لے آئیں

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ بغیر کسی بنانے والے کے بن گئے ہیں یا وہ خود ہی بنانے والے ہیں ؟

ف 1: فرمایا : کہ آپ ان لوگوں کے الزامات کی پرواہ نہ کیجئے ۔ اور برابر ان کو اللہ کا پیغام سناتے رہیے ۔ نہ آپ کاہن ہیں ۔ نہ مجنون ۔ آپ کی دماغی قابلیتوں کا اندازہ یہ لوگ نہیں کرسکتے ۔ نہ یہ کہ آپ شاعر ہیں ۔ اگر یہ لوگ زمانہ کے حوادث کے منتظر ہیں ۔ تو بات درست ہے ۔ ان سے کہیے ۔ کہ میں بھی منتظر ہوں ۔ اور ان سے پوچھئے ۔ کہ یہ متضاد باتیں آپ کی طرف کیوں منسوب کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ کہانت جانتا ہے ۔ جس کے لئے ذہانت کی ضرورت ہے ۔ اور کبھی خلل دماغ کا طعنہ دیتے ہیں ۔ اور یہ دونوں باتیں متناقص ہیں ۔ کیا ان کی عقلوں کا یہ فتویٰ ہے ۔ یا محض شرارت ان لوگوں سے کہیئے کہ اگر ان کو قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں شبہ ہے ۔ تو ایسا کلام بنا کر پیش کریں ۔ اور عملاً ثابت کریں ۔ کہ انسان ایسے بلند پایہ پیغام کو وضع کرسکتا ہے ۔ مگر یہ تاریخ اسلام کی حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ کہ گو قرآن نے بار بار ان کی ادبی غیرت اور حمیت کو ابھارا اور کہا ۔ کہ وہ آئیں اور قرآن کا مقابلہ کریں ۔ لیکن ان کو قطعاً اس کی جرات نہیں ہوسکی ۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں ۔ کہ باوجود فصاحت وبلاغت کے چرچوں کے ان لوگوں نے ایک دفعہ کوئی چیز لکھیں ۔ کیونکہ یہ لوگ جانتے تھے ۔ کہ اس کا انداز بیان بالکل نادر ہے ۔ اور انسان طاقت اور وسعت سے اس کا جواب ناممکن ہے
Ayahs 52:36–38

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ یقین (ف 2) نہیں کرتے

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ ہیں

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ سن آتے ہیں پس ان کے سننے والا کوئی صریح دلیل لائے

ف 2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اپنے مرتبہ ومقام کو پہچانیں ۔ اور اللہ کے سامنے جھکیں ۔ کیونکہ یہ خودبخود موجود نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلعت وجود بخشا ہے ۔ حل لغات :۔ اخلامھم ۔ حلم کی جمع ہے ۔ بمعنے عقل تقولد ۔ تقویل کے معنے وضع کرنے کے ہیں لسم ۔ سیڑھی ۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا خدا کے لئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے (ف 1)

کیا خدا کے اولاد ہے ؟ 1: مکہ والوں کے اس عقیدہ کی تردید ہے ۔ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں فرمایا ۔ اس حقیقت پر غور تو کرو ۔ کہ اس کی ذات والا صفحات لوالد وتناسل سے بالکل مبرا ہے ۔ پھر اگر اس کے اولاد فرض بھی کرلی جائے اور اس کفر کو تھوڑی دیر کے لئے مان بھی لیا جائے ۔ تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تم اپنے لئے تو اولاد ذکورا پسند کرو ۔ اور اللہ کے لئے اولاد اناث ؟ اگر تمہارے لئے یہ بات لائق فخر نہیں ۔ کہ تم بیٹی کے باپ کہلاؤ۔ تو بموجب تمہارے عقیدہ کے اس پروردگار کے لئے کیوں کر باعث عزت اور وقار ہوسکتا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تمہارے اس عقیدہ میں اور دوسرے مزعومات میں صراحتاً تناقص ہے ۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تو ان سے کچھ مزدوری مانگتا ہے کہ ان پر چٹی کا بوجھ (ف 2) ہے

پیغمبر تنخواہ دار نہیں ہوتا 2: جب یہ بدلختان ازل رشدوہدایت کے فیوض سے محروم رہتے ۔ تو حضور کو بتقاضائے شفقت پیغمبرانہ بڑا دکھ ہوتا ۔ اور آپ کے قلب پاک پر یہ انکار وتمرد بہت گراں ہوتا ۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ آپ کا کام محض میرے پیغام کو ان تک پہنچا دینا ہے ۔ اگر یہ نہیں تسلیم کرتے تو نہ کریں ۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تو وصول کرتے ہی نہیں ۔ جو ناکامی پر خواہ مخواہ ملال ہو ۔ مان جائیں ۔ تو اس میں ان کا اپنا بھلا ہے نہیں مانتے ہیں تو اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں ۔ آپ بالکل پرواہ نہ کریں ۔ اور شمانیت قلب کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتے رہیں ۔