Ayahs 52:1–21 کوہ طور کے مختلف نام اور محل وقوع :۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے۔ سیناء اور سینین دونوں ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں۔ جس کی سطح سمندر سے بلندی 7260 فٹ ہے اور مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے (شام کے ملک میں) راستے میں پڑتا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دو دفعہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے اور اسی پہاڑ کے دامن میں واقع وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور بقعۃ المبارکۃ بھی کہا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اسی راستے سے گزرے تھے۔ کوہ طور کو اسی نسبت سے طور سینین کہا جاتا ہے۔
Ayah 52:32 رق کا لغوی مفہوم :۔ رَقِّ بمعنی پتلا اور نرم ہونا اور رق ہر وہ چیز ہے جو پتلی اور نرم ہو۔ مثلاً درختوں کے پتے جھلی، پتلا چمڑہ اور کاغذ وغیرہ (مفردات) اور کتب سماویہ عموماً جھلی اور پتلے چمڑے پر لکھے جاتی تھیں۔ تاکہ امتداد زمانہ کا ساتھ دے سکیں اور خراب نہ ہوں۔ اور نشر کے معنی کھولنا بھی ہے اور پھیلانا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب ہوگا وہ کتاب جس کے صفحات کھلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں نَشَرْتُ الْکِتَابَ ثُمَّ طَوَیْتُہ، میں نے کتاب کھولی پھر بند کردی اور اس سے مراد کوئی بھی آسمانی کتاب ہوسکتی ہے بلکہ لوح محفوظ بھی اور ربط مضمون یا طور کے ذکر کے لحاظ سے تورات کی تختیاں بھی۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس سے مراد اہل کتاب کی کتابوں کا وہ مجموعہ ہے جو دور نبوی میں بھی دستیاب تھا، نایاب نہیں تھا اور لوگوں میں معروف و مشہور تھا۔
Ayah 52:43 بیت المعمور کونسا گھر ہے ؟ یعنی ہر وقت آباد رہنے والا گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ جو ہر وقت حج وعمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔ نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔ رسول اللہ کو شب معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھا تھا۔
Ayah 52:54 اس سے مراد وہ نیلگوں آسمان ہے جو ہمیں اپنے سروں پر قبہ کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے نیز اس سے پورے کا پورا عالم بالا بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 52:65 مسجور۔ سجر میں کسی چیز کے بھرے ہوئے ہونے اور اس میں مخالطت یا تلاطم کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس سمندر کی قسم جو لبالب بھرا ہوا بھی ہے اور اس کے تلاطم میں اتنا جوش ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ابل رہا ہو۔
Ayahs 52:7–86 پانچ قسموں کی تفصیل :۔ مذکورہ بالا پانچ چیزوں کی قسم کھاتے ہوئے یا انہیں بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اور اس کا عذاب واقع ہو کے رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچوں چیزیں کسی اہم مفید اور قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اسی قدرت کاملہ سے انسان کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقع قیامت بپا کرنے پر قادر ہے۔ (1) طور وہ مقام ہے جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اسی رات اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ صادر کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا جائے گا۔ چناچہ یہ آزادی انہیں نصیب ہوئی اور ان کا دشمن غرق ہوا۔ (2) تمام کتب سماویہ جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھیں سب میں صراحت کے ساتھ آخرت کے یقینی ہونے کا ذکر موجود تھا (3) کعبہ کی رونق اور آبادی، کعبہ کی ابرہہ یا اصحاب الفیل سے حفاظت، کعبہ کی تولیت کی بنا پر قریش مکہ کا عرب بھر میں عزت و احترام اور سیاسی برتری سب چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کی پشت پر کوئی زبردست قوت موجود ہے (4) اسی اونچی چھت کو دوسرے مقام پر محفوظ چھت بھی کہا گیا ہے یعنی فضائے بسیط میں لاتعداد شہاب ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ایسا انتظام کردیا ہے کہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور انسان ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں، (5) اس بھرے ہوئے سمندر کو اللہ نے کس طرح روک اور باندھ رکھا ہے۔ یہ ممکن تھا کہ سمندر کا سارا پانی زمین میں جذب ہوجاتا پھر نہ بخارات بنتے نہ بارش ہوتی اور نہ پیداوار۔ اس طرح تمام جاندار مخلوق کو کھانا تو درکنار پانی بھی پینے کو نہ ملتا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اس بات سے بھی روک رکھا ہے کہ وہ جوش میں آکر روئے زمین پر پھیل جائے اور سطح زمین کو غرقاب کردے۔ ان سب چیزوں کو شہادت کے طور پر پیش کرکے فرمایا کہ وہ عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
Ayah 52:97 مور کا لغوی مفہوم :۔ تمور۔ مار میں بنیادی تصور حرکت اور تیز رفتاری ہے النَّاقَۃ تَمُوْرُ فِی سَیْرِھَا بمعنی اونٹنی کا تیز رفتاری کی وجہ سے غبار اڑاتے چلے جانا (مفردات) اور مور بمعنی غبار بن کر ہوا میں اڑنا (فقہ اللغۃ) اور مارالشَّی بمعنی کسی چیز کا تیز رفتاری کی وجہ سے آگے پیچھے ہلنا، لرزنا اور توازن کھو دینا (منجد) گویا اس دن آسمان کے انجر پنجر ہل جائیں گے وہ کانپنے، لرزنے، ہچکولے کھانے، ڈگمگانے اور با لآخر ذرات کی شکل میں تبدیل ہو کر اڑنے لگے گا۔
Ayah 52:108 یعنی وہ پہاڑ جو زمین کی ڈگمگاہٹ اور ہچکولوں کو بند کرنے کے لیے زمین پر پھیلائے گئے تھے ان کی زمین میں اپنی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی اور وہ خود تیزی سے اڑتے پھریں گے اور ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ دھنکی ہوئی روئی کے گالے ہیں جو اڑ رہے ہیں۔ اس طرح زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔
Ayahs 52:11–129 ایسا ہوگا وہ دن جس کے لیے کفار جلدی مچا رہے ہیں جو آتے ہی کافروں کی تباہی لائے گا، ان کافروں کی جو آج دنیا کی دلفریبیوں میں مست ہو کر اس دن کا مذاق اڑاتے اور مذاق اڑا کر خوش ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس دن سے پہلے ایمانداروں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ اور یہ دن صرف کافروں پر ہی واقع ہوگا جیسا کہ صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ لَا تَقُوْمَ السَّاعَۃُ اِلَّا عَلٰی شَرَار النَّاسِ یعنی قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
Ayahs 52:13–1410 دعَّ بمعنی دھکے مار کر نکال دینا۔ سختی سے رفع کرنا (فقہ اللغۃ) یعنی کافر جہنم کی طرف جانے کو تیار نہ ہوں گے تو انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
Ayah 52:1511 یعنی دنیا میں جب تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ تم مر کر زندہ کیے جاؤ گے پھر تمہاری باز پرس اور محاسبہ ہوگا پھر تمہیں تمہارے برے اعمال کی سزا ملے گی تو تم کہہ دیتے تھے کہ یہ تو بس جادوگری ہے۔ اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے یا حقیقت ؟ یا جیسے تمہیں دنیا میں کوئی حقیقت نظر نہ آتی تھی آج بھی یہ بات نظر نہیں آرہی کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔
Ayah 52:1612 تم نے دنیا میں یہ طے کرلیا تھا کہ جو کچھ بھی ہو ہم کبھی اس دعوت حق کو قبول نہیں کریں گے اور پھر اپنی اس ہٹ دھرمی پر ڈٹ گئے تھے۔ اسی طرح تمہارے عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی تم چیخو چلاؤ یا صبر کرکے عذاب برداشت کرتے جاؤ۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
Ayah 52:1713 یعنی جو لوگ اللہ کے فرمانبردار بن کے رہے تاکہ اس کے عذاب سے بچ جائیں۔ ان کو صرف عذاب سے بچایا ہی نہیں جائے گا بلکہ پربہار باغات میں داخل کیا جائے گا۔
Ayahs 52:18–2014 جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا :۔ جنت میں پرہیزگاروں کے داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، کہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کی الگ نعمت ہے۔ اور دوزخ کے عذاب سے بچا لینا الگ نعمت ہے۔ اور بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ گویا کامیابی کا اصل معیار دوزخ کے عذاب سے بچنا ہے۔ رہا جنت میں داخلہ تو یہ محض اللہ کے فضل اور مہربانی سے ہوگا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا آپ کے اعمال بھی ؟ آپ نے فرمایا : میرے اعمال بھی مجھ کو جنت میں نہیں لے جائیں گے الا یہ کہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی مجھے ڈھانپ لے (بخاری، کتاب المرضیٰ ۔ باب تمنی المریض الموت)
Ayah 52:2115 کم درجہ والی اولاد کو والدین سے ملادینا :۔ یعنی والدین نیک اور پرہیزگار تھے۔ اولاد نے اپنے والدین کی پیروی کی کوشش تو کی مگر نیکی اور پرہیزگاری میں اس درجہ تک نہ پہنچے جو والدین کا درجہ تھا تو اللہ تعالیٰ اولاد پر یہ مہربانی فرمائیں گے کہ ان کو بھی ان کے والدین کے درجہ تک پہنچا کر جنت میں ان کے والدین کے ساتھ ملا دیں گے تاکہ والدین اور اولاد جیسے دنیا میں اکٹھے رہے تھے جنت میں بھی اکٹھے رہ سکیں اور والدین اور اولاد دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اس سلسلہ میں یہ نہ ہوگا کہ کچھ والدین کا کچھ درجہ کم کردیا اور کچھ اولاد کا کچھ بڑھا دیا اور دونوں کو ایک درمیانی درجہ کے مقام میں جنت میں ملا دیا بلکہ اولاد کا درجہ ہی بڑھایا جائے گا والدین کا کم نہیں کیا جائے گا۔
16 ہر شخص کے اللہ کے ہاں گروی ہونے کا مفہوم :۔ یعنی ہر شخص پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتیں قرض ہیں اور اس کے بدلے انسان کا نفس اللہ تعالیٰ کے پاس بطور رہن یا مرہونہ چیز ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ اس کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرے۔ جس شخص نے یہ قرض ادا کردیا اس کا نفس عذاب جہنم سے آزاد ہوگیا۔ وہ کامیاب ہوگیا اور بچ نکلا اور جس نے یہ قرض ادا نہ کیا اس کا نفس پہلے ہی اللہ کے پاس رہن رکھا ہوا ہے۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک کہ جنت محض اللہ کے فضل سے ملے گی۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کی نیکی دوسرے کے نفس کو نہ رہا کرا سکے گی اور نہ عذاب جہنم سے بچا سکے گی۔
Ayah 52:2217 صرف پھل اور گوشت ہی نہیں بلکہ جنت کی تمام نعمتیں ختم نہ ہونے والی اور لازوال ہوں گی۔
Ayah 52:2318 اہل جنت جام شراب کے لیے ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی اس لیے نہیں کریں گے کہ انہیں شراب کے ذخیرہ میں کمی واقع ہوجانے کا خطرہ ہوگا بلکہ محض خوش طبعی کے طور پر وہ یہ شغل لگائیں گے۔
19 جنت میں شراب کے دور :۔ دنیا کی شراب میں کئی قباحتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً اس کا مزہ تلخ ہوتا ہے اور بو ناخوشگوار، اس کا نشہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ درد بھی کرنے لگتا ہے۔ اس کا نشہ عقل پر چھا کر اس میں فتور پیدا کردیتا ہے۔ پھر اسی نشہ کی حالت میں انسان بعض دفعہ بکواس بکنے لگتا ہے بعض دفعہ کسی کی بےعزتی کر بیٹھتا ہے یا کوئی اور گناہ کا کام کر بیٹھتا ہے اور اس کا فائدہ صرف یہ ہوتا ہے کہ عارضی طور پر کچھ سرور حاصل ہوتا ہے اور دوران اس کے غم غلط ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ بھی دراصل فتور عقل کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جنت کی شراب میں اس کا فائدہ یعنی لذت وسرور تو ضرور حاصل ہوگا مگر وہ ہر طرح کے نقصانات سے پاک ہوگی۔
Ayahs 52:24–2520 نوخیز لڑکے :۔ یہ نوخیز لڑکے بےریش ہوں گے اور ہمیشہ نوخیز ہی رہیں گے۔ ان کی خوبصورتی، صفائی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوگا جیسے موتی ابھی اپنی صدف میں ہی محفوظ ہوں یا کسی جواہرات والی ڈبیہ میں چھپا دیئے گئے ہوں تاکہ ان پر گردوغبار کا کوئی ذرہ نہ پڑجائے۔ بالفاظ دیگر وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ ہاتھ لگنے سے بھی میلے معلوم ہوں گے۔
Ayahs 52:26–2721 یعنی دنیا میں بیتے ہوئے ایام کی یاد تازہ کرنا چاہیں گے اور کہیں گے ہمیں تو ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ہم سے کوئی ایسا فعل سرنہ زد ہوجائے جس کی پاداش میں اللہ کے حضور ہماری جواب طلبی اور گرفت ہوجائے۔ اور گھر والوں کا ذکر اس لیے کریں گے کہ انسان دنیا میں بہت سے گناہ کے کام محض اہل و عیال کی خاطر کرتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس کی وجہ سے اسے مال کمانے میں حرام و حلال کی تمیز نہیں رہتی۔
Ayah 52:2822 یعنی ہم دنیا میں اللہ سے ڈرتے بھی رہتے تھے اور ساتھ ہی اللہ سے دعائیں بھی مانگا کرتے تھے کہ اے پروردگار ! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا۔ سو اللہ نے ہماری دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ہمیں اس عذاب سے بچا لیا اور یہ جنت اور اس کی نعمتیں جو عطا فرمائی ہیں تو یہ اس کا خاص احسان اور اس کی مہربانی ہے کہ ہمیں ہمارے اعمال اور دعاؤں سے بڑھ کر ثواب عطا کیا۔
Ayahs 52:29–3023 کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔ یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ کے یہ دشمن بغض وعناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔
Ayah 52:3124 وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح شاعر لوگ وقتی طور پر اپنے سامعین کو متاثر کرلیتے ہیں لیکن ان کا کوئی قابل ذکر کارنامہ باقی نہیں رہتا۔ ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کی شخصیت بھی دنیا سے ختم ہوجاتی ہے۔ اسی صورت حال کی توقع وہ آپ سے بھی رکھتے ہیں اور آپ کی موت کے منتظر بیٹھے ہیں کہ کب آپ کو موت آلیتی ہے اور ان کی اس مصیبت سے جان چھوٹتی ہے۔ آپ ان سے کہیے کہ تم میرے متعلق گردش ایام کا انتظار کرو اور میں اس انتظار میں ہوں کہ تمہیں تمہاری ان کرتوتوں کی سزا کب اور کس طرح ملتی ہے ؟
Ayah 52:3225 قریش مکہ کا حقیقت حال سے پوری طرح واقف ہونا :۔ آپ کی زندگی بھر کی پاکیزہ سیرت اور کردار ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لہذا وہ جو کچھ الزامات آپ پر لگا رہے ہیں خود ان کی عقلیں ان چیزوں کو تسلیم کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ چناچہ سرداران قریش اپنی نجی محفلوں میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کرچکے تھے کہ آپ نہ شاعر ہیں نہ کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں اور نہ دیوانہ ہیں۔ وہ دل سے یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول اور قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے لیکن اگر وہ اس بات کا اعتراف کرلیتے تو خود مرتے تھے۔ ان کی سرداریاں ختم ہوتی تھیں اور انہیں رسول کا تابع فرمان بن کر رہنا پڑتا تھا اور یہ باتیں انہیں کسی قیمت پر گوارا نہ تھیں۔ لہذا خوئے بدرا بہانہ بسیار، کے مصداق آپ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے اور ایسے غیر معقول القابات سے پکارتے تھے۔ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ انہوں نے کبھی کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا کسی مجنوں کی اس طرح مخالفت نہیں کی۔ جس طرح آپ کی کر رہے ہیں ؟ نہ کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا مجنوں کا کلام سننے پر ایسی پابندی لگائی ہے جس طرح کی پابندی یہ قرآن سنانے، سننے اور بلند آواز سے پڑھنے پر لگا رہے ہیں ؟ انہیں کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا کسی مجنوں سے ایسا خطرہ کیوں لاحق نہیں ہوتا جیسا آپ سے انہیں لاحق ہے ؟ یہ سب باتیں اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ وہ دل سے یہ جان چکے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ ان کی عقلیں صحیح حکم لگاتی ہیں لیکن ان کی سرکش طبیعتیں انہیں راہ حق کی طرف آنے میں مزاحم ہورہی ہیں۔
Ayah 52:3326 قرآن سے متعلق قریش کے آپ پر الزامات :۔ ان کے منجملہ الزامات سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن اس نے خود تصنیف کر ڈالا ہے اور پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ اور کبھی یہ کہہ دیتے کہ قرآن کسی عجمی عالم سے سیکھ کر ہمیں سنا دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ انہیں یہ الزام لگاتے وقت اتنی بھی شرم نہ آئی کہ جس شخص نے زندگی بھر کسی سے جھوٹ نہ بولا ہو۔ کسی پر الزام نہ لگایا ہو، کسی سے فریب نہ کیا ہو، کیا وہ اللہ پر ایسا الزام لگا سکتا ہے ؟ پھر انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کا کلام تو ہم نبوت سے پہلے بھی سنتے رہے ہیں اور نبوت کے بعد وہ صرف اللہ کا کلام ہی نہیں سناتا اور بھی بہت سی باتیں کرتا ہے۔ تو کیا اس کے کلام میں اور اللہ کے کلام میں انہیں کچھ بھی فرق محسوس نہیں ہوتا، اصل معاملہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں تو ٹھیک کام کرتی ہیں مگر ان کی نیتوں میں فتور ہے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ کسی قیمت پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 52:3427 اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة ئبقرہ کی آیت نمبر 29 کا حاشیہ
Ayah 52:3528 دہریت ونیچریت کا رد : یعنی اتفاقات کے نتیجہ میں پیدا ہوگئے ہیں جیسا کہ دہری اور نیچری حضرات کا خیال ہے اور ان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ؟ یہ خیال اس لیے باطل ہے کہ یہ ایک ایسے بدیہی امر کے خلاف ہے جس کی دلیل یا ثبوت کی ضرورت کوئی بھی نہیں سمجھتا اور وہ بدیہی امر یہ ہے کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے از خود نہیں بن جاتی۔
29 یعنی وہ خود ہی اپنے خالق ہیں۔ سابقہ آیت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ان کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں تھا۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اپنے ہی عمل دخل اور ارادہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور یہ خیال بھی ایک بدیہی امر کے خلاف ہے جو یہ ہے کہ کوئی چیز بیک وقت خالق اور مخلوق نہیں ہوسکتی یعنی خود ہی بننے والی ہوا اور خود ہی بنانے والی ہو، پھر جب یہ دونوں باتیں نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کو بنانے والا یا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ اور بنانے والے کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ جیسے وہ چاہے بنائے اور جس مقصد کے لیے چاہے بنائے۔ بنی ہوئی چیز اپنے بنانے والے کے ہاتھوں بےبس ہوتی ہے وہ اس کے سامنے اکڑ نہیں سکتی، پھر لوگ کیسے اپنے خالق کے حکم سے سرتابی کے مجاز ہوگئے ؟
Ayah 52:3630 یعنی اگر اس کائنات کے خالق یہ ہیں تو پھر اس میں ان کا تصرف بھی چلنا چاہئے۔ اور آزادانہ زندگی بسر کرنے کے بھی مجاز ہوسکتے تھے۔ لیکن جب خود انہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات کا خالق اللہ ہے تو پھر یہ اس کے آگے کیوں اکڑنے لگے ہیں ؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ زبانی تو اعتراف کرلیتے ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے۔ لیکن اس اعتراف کے تقاضوں کو اس لیے پورا نہیں کرتے کہ اپنے اس اعتراف پر خود بھی پورا یقین نہیں رکھتے۔
Ayah 52:3731 یہ کافروں کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی بشر کو رسول بنانا تھا تو کیا اسے یہی شخص اس کام کے لیے پسند آیا تھا۔ مکہ اور طائف کے سردار مرگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک یہ ہیں ؟ یا اللہ نے اپنے خزانوں کی تقسیم کا اختیار ان کو دے رکھا ہے کہ جونسی نعمت جسے چاہیں دے دیں ؟
Ayah 52:3832 یعنی عالم بالا سے کوئی ایسی بات سن آئے ہیں کہ مکہ میں جو نبی پیدا ہوا ہے اسے ہم نے تو نہیں بھیجا تھا۔ اس نے از خود ہی کچھ کلام تالیف کرکے لوگوں سے کہہ رکھا ہے کہ یہ کلام مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے ؟ اگر کوئی ایسی بات ہے تو اس کا ثبوت پیش کریں۔ پھر جب رسالت کی تردید کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو وہ اس قدر ہٹ دھرمی اور سختی سے اس کا انکار کیسے کر رہے ہیں ؟
Ayah 52:3933 پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی بھی حاصل نہیں تو پھر انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ کو نظام کائنات چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے ؟ پھر ان بدبختوں نے اللہ کے لیے اولاد بنا ڈالی اور وہ بھی بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں جنہیں یہ خود سخت ناپسند کرتے ہیں۔
Ayah 52:4034 آپ کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے معاوضہ اور نذریں نیازیں طلب کرتے۔ جیسے عموماً مذہب کے ٹھیکیدار حضرات اپنے معتقدین اور مریدوں سے وصول کرتے اور اپنی دکانیں خوب چمکا لیتے ہیں۔ یہاں یہ معاملہ بھی نہیں کہ آپ ان سے نذرانے طلب کریں اور وہ اسے بوجھ سمجھ کر آپ سے پرے ہٹ جائیں۔ حالانکہ آپ کا معاملہ مذہبی ٹھیکیداروں کے بالکل برعکس تھا۔ آپ نے اپنا ذاتی سرمایا دین کے کاموں میں صرف کر ڈالا تھا۔ دین کی تبلیغ کی وجہ سے آپ کا کاروبار ٹھپ ہوچکا تھا۔ پھر آپ اس تبلیغ کے کام کا کسی صورت میں معاوضہ بھی نہیں لیتے تھے۔ بلکہ بالکل بےلوث اور بےغرض ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔