52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کا علم 35 ہے جسے وہ لکھتے جاتے ہیں ؟

35 جس کی بنا پر انہیں یقین ہوچکا ہے کہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔
Ayahs 52:42–43

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

یا یہ کوئی چال چلنا 36 چاہتے ہیں ؟ حالانکہ یہ کافر خود ہی اس چال میں پھنسنے والے ہیں

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور الٰہ ہے ؟ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے جن میں یہ اس کا شریک بناتے ہیں

36 اگر یہ سب باتیں نہیں تو لامحالہ یہ ان کی فریب کا رانہ چالیں ہیں کہ آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر لوگوں کو آپ سے بدظن کردیں اور آپ کی ہمت توڑ دیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عنقریب یہ اپنی چالبازیوں، شاطرانہ چالوں اور سازشوں کے جال میں خود پھنس جائیں گے۔ واضح رہے کہ کافروں کے حق میں یہ پیشین گوئی مکی زندگی کے اس دور میں کی گئی جب بیچارے مسلمان کافروں کے ظلم و جور کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے اور کسی کو یہ خیال تک بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ سارا معاملہ الٹ بھی سکتا ہے۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اگر یہ لوگ آسمان سے سے کوئی گرتا ہوا ٹکڑا بھی دیکھ لیں تو کہہ دیں گے کہ یہ تہ بہ تہ بادل 37 ہے۔

37 کافروں کی ہٹ دھرمی کی انتہا :۔ بعض دفعہ مسلمانوں کو حتیٰ کہ خود رسول اللہ کو بھی یہ خیال آجاتا تھا کہ کافر جس حسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھا دے تو ممکن ہے یہ لوگ ایمان لے آئیں جس سے اسلام کی قوت میں اضافہ ہوجائے اور مسلمانوں پر مصائب کم ہوجائیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ کبھی ایمان نہ لائیں گے کیونکہ یہ اس قدر ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ اگر ان کے مطالبہ کے مطابق آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا بھی دیا جائے تو پھر بھی یہ اس کی طبعی توجیہیں تلاش کرنے لگیں گے اور کہہ دیں گے کہ آسمان کا ٹکڑا کب ہے ؟ یہ تو بادل کا ٹکڑا ہے جو تہہ بہ تہہ ہو کر موٹا غلیظ اور بوجھل ہونے کی وجہ سے زمین پر گرپڑا ہے۔
Ayahs 52:45–46

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

لہٰذا انہیں (ان کے حال پر) چھوڑیئے تاآنکہ اپنے اس دن کو جاملیں جس میں یہ بےہوش ہو کر گرپڑیں 38 گے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن ان کی کوئی چال ان کے کسی کام نہ آئے گی نہ ہی انہیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔

38 اس سے مراد نفخہ صور اول ہے۔ یعنی ان لوگوں یا ان جیسے ہٹ دھرم لوگوں کی بدبختی کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں قیامت تک زندگی مل جائے تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں ان باتوں کا یقین تب ہی آئے گا جب عذاب خود ان پر واقع ہوجائے گا۔ لہذا آپ ایسے لوگوں کے پیچھے نہ پڑیں۔ بس اپنا کام کرتے جائیے۔
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

بلاشبہ ظالموں کے لئے اس اخروی عذاب 39 کے علاوہ (دنیا میں بھی) عذاب ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

39 دنیا میں جو جو چھوٹے موٹے عذاب آتے ہیں وہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے آتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی بالا تر ہستی موجود ہے۔ لہذا وہ سنبھل جائیں۔ مگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسے عذاب کو نہ عذاب سمجھتی ہے نہ تنبیہ بلکہ وہ اس عذاب کا کوئی طبعی سبب اور اپنے کفر پر جمے رہنے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
Ayah 52:48

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اپنے پروردگار کا حکم آنے 40 تک صبر کیجئے۔ بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں 41 کے سامنے ہیں اور جب آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ 42 اس کی تسبیح کیجئے۔

40 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے کہ ان نامساعد حالات سے نجات کے لیے جب تک اللہ کا حکم آ نہیں جاتا۔ آپ صبر کیجئے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پروردگار کے جو احکام اب تک آپ کو مل چکے ہیں ان کی تعمیل اور بجاآوری میں صبر و استقامت سے ڈٹے رہیے۔ 41 ہم آپ کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑیں گے اور جب ہماری حکمت کا تقاضا ہوا آپ کو نجات کی راہ بتادیں گے اور ان کافروں کی تمام سازشوں اور تدبیروں کو ناکام بنادیں گے۔ 42 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جب آپ نیند سے بیدار ہوں تو اللہ کی حمد و تسبیح بیان کی جائے۔ دوسرا یہ کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو حمد و تسبیح بیان کیجئے۔ تیسرا یہ کہ جب آپ تبلیغ اور خطاب کے لیے کھڑے ہوں تو اس کا افتتاح حمد و تسبیح سے کیا کیجئے اور چوتھا یہ کہ جب آپ کسی مجلس سے اٹھنے لگیں تو اس وقت اللہ کی حمد و تسبیح بیان کیجئے اور ایسے تمام مواقع پر رسول اللہ حمد و تسبیح بیان فرمایا کرتے تھے۔
Ayah 52:49

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات کو بھی اس کی تسبیح کیجئے اور ستاروں کے غروب 43 ہونے کے بعد بھی۔

43 رات سے مراد مغرب، عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہوسکتی ہیں اور ان کے علاوہ ذکر الٰہی بھی۔ اور ستاروں کے غروب ہونے سے سپیدہ صبح کے ظہور کا وقت ہے۔ جب سب ستاروں کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے پھر غائب ہوجاتے ہیں اور اس سے مراد نماز فجر ہے۔