Ayahs 51:1–21 بارش سے تعلق رکھنے والی ہوائیں اور ان کی قسم :۔ ان ابتدائی چار آیات میں مختلف قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو بارش کے نظام پر دلالت کرتی ہیں۔ پہلے کچھ گردو غبار اڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر آسمان کے کسی کونے سے لاکھوں اور کروڑوں ٹن پانی کا بوجھ اٹھانے والی گھٹائیں نمودار ہوجاتی ہیں۔ پھر ٹھنڈی اور نرم ہوائیں چلتی ہیں جو بارش کی خوشخبری لاتی اور دلوں کو راحت و سرور بخشتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں بادلوں کو ان علاقوں کی طرف لے جاتی ہیں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتا ہے اور جس قدر بارش برسانا منظور ہوتا ہے بعض مفسرین نے (فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا ۙ ) 51 ۔ الذاریات :3) سے مراد کشتیاں لی ہیں جو دھیرے دھیرے چلتی ہیں اور بعض نے سیارے جو سبک رفتاری سے محو گردش رہتے ہیں۔ اسی طرح ( فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۙ ) 51 ۔ الذاریات :4) سے بعض مفسرین نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو رزق کی تقسیم پر مامور ہیں۔ ان کے نزدیک جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ان کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہے۔ یعنی گردوغبار اڑانے والی ہوائیں تو سطح زمین پر چلتی ہیں۔ بادل اٹھانے والی ہوائیں سطح زمین سے کافی بلندی پر ہوتی ہیں۔ ستارے زمین سے بہت دور اور بلندی پر ہیں۔ اور فرشتے ان سے بھی زیادہ بلندی پر ہیں۔ ان دونوں تفسیروں میں اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو ہی ترجیح دی ہے۔
Ayahs 51:3–62 آخرت دراصل انسان کے امتحان کے نتیجہ کا دن ہے جس پر جزا و سزا مرتب ہوگی :۔ زمین پر بارش کے نظام پر ہی زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے رزق اور زندگی کا انحصار ہے اسی وجہ سے اس پورے نظام کو بطور شہادت پیش کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جو تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ وعدہ سے مراد آخرت کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ جنت کا بھی، دوزخ کا بھی اور عذاب کا وعدہ بھی خواہ یہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا، اور بارش کا یہ نظام آخرت کے وعدہ پر دلیل اس لحاظ سے ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور بالخصوص یہ بارش کا نظام چل رہا ہے ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو عبث ہو اور کوئی مفید نتیجہ پیدا نہ کرتی ہو۔ پھر اللہ نے انسان کو جو عقل اور تمیز دی ہے اور اسے کائنات کی بیشمار چیزوں پر تصرف بخشا ہے۔ اگر اس نے دنیا میں فائدہ اٹھا کر اور بعد میں مر کر مٹی میں ہی مل جانا ہے تو اس کی پیدائش اور اس کو اتنے انعامات عطا کرنے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ پھر جب کائنات کی کوئی بھی چیز بےکار پیدا نہیں کی گئی تو کیا انسان کو ہی بےکار پیدا کیا گیا ہے جو اشرف المخلوقات ہے ؟ انسان کی پیدائش کا مفید نتیجہ جو اللہ کی مشیئت میں ہے اسی کا نام آخرت ہے اور یہ نتیجہ لازماً نکل کے رہے گا۔ لوگوں سے ان کے اعمال کی باز پرس ضرور ہوگی اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کے رہے گا۔
Ayahs 51:7–83 حَبَکَ کا لغوی معنی :۔ حبک (الثوب) بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہا اور حبک حابک الثوب بمعنی جولا ہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے (المنجد) اور کپڑا بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عرض کی طرف۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔ (مفردات القرآن۔ منجد) اور اس کی جمع حُبُک ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بیشمار راہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کر اس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔ یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لا تعداد گزر گاہوں اور راستوں کی وجہ سے جالی دار بن گیا ہے۔
Ayah 51:94 آسمان کے نظم ونسق سے معاد پر دلیل :۔ یعنی ایسے جال دار راستوں والے آسمان کی قسم کہ تم لوگ جو قیامت اور آخرت کے بارے میں بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو تو بہت سے لوگ اس قیامت اور آخرت پر ایمان لے آئیں گے اور اس عقیدہ سے انکار صرف وہی شخص کرے گا جس نے خیر وسعادت کی تمام راہیں اپنے آپ پر بند کردی ہوں۔ ایسا ہی شخص ان باتوں کو تسلیم کرنے سے باز رہ سکتا ہے۔ ورنہ اگر وہ آسمان کے نظم و نسق میں ہی غور کرے تو اسے یقین ہوجائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔
Ayahs 51:10–115 آخرت سے انکار بلادلیل ہے اور محض وہم و قیاس ہے :۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت کے منکر ہیں ان کے پاس کوئی علمی بنیاد نہیں۔ آخرت کا علم نہ انسان کو مشاہدہ سے حاصل ہوسکتا ہے اور نہ محسوسات اور ادراکات سے۔ اس کے متعلق علمی بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ اس کے ہونے اور نہ ہونے کے یعنی دونوں طرح کے امکانات موجود ہیں۔ آخرت کے قائم ہونے کے متعلق تو بہت سے دلائل بھی موجود ہیں۔ سب پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی یہی تعلیم رہی ہے پھر کائنات کا نظام بھی اس پر قوی دلیل ہے تو کیوں نہ اس احتمال کو تسلیم کیا جائے جس کی تائید میں بیشمار دلائل مل جاتے ہیں۔ اور اس کے نہ ہونے کے لیے اگر کوئی دلیل موجود نہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ محض ان کا وہم و گمان ہے۔
Ayahs 51:12–136 یعنی دنیا کی دلچسپیوں اور اس کے دھندوں میں مست اور سرشار ہیں اور آخرت سے بالکل بےفکر اور بےنیاز بنے ہوئے ہیں اور از راہ تمسخر یہ سوال کرتے ہیں کہ اجی حضرت جس قیامت سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آرہی ہے ؟
Ayahs 51:14–157 فتنہ کا لغوی مفہوم :۔ فَتَنَ کے لغوی معنی سونا یا چاندی کو کٹھالی میں ڈال کر تپانا، گلانا اور کھوٹ معلوم کرنا ہے۔ سابقہ آیت میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور فتنۃ کا لفظ دراصل آزمائش کے معنی میں آتا ہے جس میں سختی بھی پائی جائے اور اکثر برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی آزمائش، دکھ، رنج، رسوائی، شرارت، عبرت، عذاب، مرض ہے اور فتّان بمعنی شر انگیز انسان اور شیطان ہے (منجد) اس لحاظ سے اس لفظ کا ایک وہی مطلب ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور دوسرا معنی عذاب لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنی شرارتوں کا بدلہ یا عذاب چکھو۔
8 عذاب کے لئے جلدی مچانا اپنے آپ سے دشمنی ہے :۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بتانے سے انسان کو پوری سمجھ آہی نہیں سکتی۔ مثلاً جس شخص نے آم نہ کھایا ہو اسے اس کا مزہ پوری طرح ذہن نشین نہیں کرایا جاسکتا۔ ہاں اسے آم کھلا کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ ہے آم اور یہ ہے اس کا مزا۔ ان کافروں پر کوئی اللہ کا عذاب نہیں آیا تھا اور اگر آبھی جاتا تو ہلاک ہونے والوں کو بعد میں کیا بتایا جاسکتا ہے۔ آخرت میں چونکہ موت نہیں ہوگی۔ لہذا اس دن ان کو عذاب دے کر بتایا جائے گا کہ یہ ہے اللہ کا عذاب۔ اب اس کا مزا چکھ لو۔ یہی وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچاتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے اسی وقت تمہیں یہ مزا نہ چکھا دیا اور مہلت دیتا رہا مگر تم تو خود اپنے دشمن تھے جو جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔
Ayah 51:169 یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی نعمتیں عطا فرمائے گا بخوشی انہیں قبول کرتے جائیں گے اور یہ ان کے ان نیک اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ دنیا میں بجا لاتے رہے۔ ان اعمال کا ذکر آئندہ آیات میں آرہا ہے۔
Ayah 51:1710 محسنین کی صفات :۔ رات کو جاگنا یعنی وہ رات کا اکثر حصہ جاگ کر اللہ کی عبادت اور ذکر کیا کرتے تھے۔ اور سورة مزمل میں اس کی تشریح یوں ہے کہ اگر راتیں اور دن برابر ہوں تو رات کا آدھا حصہ۔ راتیں چھوٹی ہوں تو آدھی رات سے کچھ زیادہ اور لمبی ہوں تو آدھی رات سے کچھ کم۔ اور بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ رات کے پہلے حصہ میں یا درمیانی حصہ میں یا آخری حصہ میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ اور مکی دور میں یہی صورت ہوتی تھی۔ بعد میں سورة بنی اسرائیل میں تہجد کی تعیین ہوگئی۔
خ ھجع کے لغوی معنی ہے :۔ ھجع کے معنی دراصل غفلت کی نیند سونا یا گھوڑے بیچ کر سونا یا دنیا ومافیہا سے بیخبر ہو کر سونا۔ اور تہجد (ھجود) کے معنی رات کو سونا بھی اور جاگنا بھی۔ کبھی سونا کبھی جاگنا۔ (لغت اضداد) اور بظاہر اس آیت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رات کا تھوڑا ہی حصہ سوتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے غافل اور گھوڑے بیچ کر نہیں سوتے۔ بلکہ سوتے جاگتے انہیں اللہ کی یاد رہتی ہے۔
Ayah 51:1811 استغفار کرنا : اس آیت میں وقت کی بھی تعیین ہوگئی۔ یعنی وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہ کر اپنے اس نیک کام پر پھول نہیں جاتے۔ بلکہ پھر بھی اللہ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ کیونکہ انسان فطری طور پر خطا کار ہے۔ اس سے نادانستہ بھی کئی غلطیاں ہوجاتی ہیں اور اللہ غفور رحیم ہے اور اس سے ہر حال میں بخشش طلب کرتے رہنا چاہئے۔
Ayah 51:1912 مال میں سائل اور محروم کا حق :۔ اس سے مراد محض اموال زکوٰۃ نہیں، کیونکہ زکوٰۃ تو اس وقت فرض بھی نہ ہوئی تھی۔ نیز ترمذی میں واضح طور پر یہ صراحت موجود ہے۔ کہ ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے اور اس حق میں مانگنے والے بھی شامل ہیں اور نہ مانگنے والے بھی۔ یعنی نیک لوگ خود ان لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو محتاج ہوں۔ بیوہ عورتیں ہوں، مریض یا معذور ہوں اور کما نہ سکتے ہوں یا عیالدار ہوں مگر مانگنے سے ہچکچاتے ہوں۔ اور ان کو جو کچھ دیتے ہیں وہ ان کا حق سمجھ کر انہیں ادا کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کے طور پر نہیں دیتے کہ ان سے کسی شکریہ یا بدلہ کے طالب ہوں یا بعد میں انہیں احسان جتلاتے پھریں۔ یعنی جس طرح قرض ادا کرنا ایک حق اور ضروری امر ہے۔ اور قرضہ ادا کرکے کوئی احسان نہیں جتلاتا کہ میں نے تمہارا قرضہ ادا کردیا۔ اسی طرح مالدار لوگوں کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا ہے۔ اگر وہ ادا نہ کرے گا تو اس کے اپنے سر پر بوجھ رہے گا۔
Ayah 51:2013 زمین میں مختلف قسم کی قدرت کی نشانیاں :۔ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور قرآن میں بار بار ان میں غور و فکر کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ گردش لیل و نہار، یہ موسموں کی تبدیلی اور ان میں تدریج کا دستور، یہ بارش کا پورا نظام۔ اس سے مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ مختلف قسم کی نباتات، غلے اور پھل اگانا اور اسی پیداوار سے ساری مخلوق کے رزق کی فراہمی، زمین کے اندر مدفون خزانے، سمندروں اور پہاڑوں بلکہ کائنات کی اکثر چیزوں اور چوپایوں پر انسان بےبنیان کا تصرف اور حکمرانی۔ غرض ایسی نشانیاں ان گنت اور لاتعداد ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک کے طور پر جو چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اور ان سب میں ایک ایسا نظم و نسق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ انسان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ان میں ایسا مربوط نظم و نسق نہ پایا جاتا تو ایک ایک چیز انسان کو فنا کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہی بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ ان سب کا خالق صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے اور دوسرے اس بات پر کہ کائنات کے اس مربوط نظم و نسق کا کوئی مفید نتیجہ بھی برآمد ہونا چاہئے اور وہ نتیجہ آخرت ہے۔
Ayah 51:2114 انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے سے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر بھی مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتا۔ انہیں کے ذریعے انسان کے جسم کے حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا بھی فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ انسان کا جسم ابتدا سے ہی حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز میں ہی ہیں۔ ان جسم کی نشانیوں میں بھی غور کرنے سے وہی دو نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کائنات کے نظام میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا سابقہ حاشیہ میں ذکر کردیا گیا ہے۔
Ayah 51:2215 انسان بلکہ سب جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ بارش ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ آسمان سے مراد بادل بھی ہوسکتا ہے اور نفس آسمان بھی۔ کیونکہ ہر علاقے میں جتنی بارش ہونا مقدر ہو اس کا حکم آسمان سے نازل ہوتا ہے اور ہر ایک کو اس کے مقدر کی روزی مل کے رہتی ہے کسی کے روکنے سے رک نہیں سکتی اور اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں ہے اس سے زیادہ نہیں مل سکتی۔
16 رزق انسان کو زندہ رہنے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے لیکن وہ دنیا میں کتنا عرصہ کام کرے گا اور کب اور کہاں مرے گا۔ یہ فیصلہ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ نیز یہاں وعدہ سے مراد وعدہ قیامت، حشر و نشر، محاسبہ وباز پرس، جزا و سزا اور جنت و دوزخ بھی ہے۔ جن کے رونما ہونے کا وعدہ تمام آسمانی کتابوں میں دیا گیا ہے۔ قیامت اور اس سے متعلقہ امور کے سب فیصلے عالم بالا ہی میں ہوتے ہیں۔
Ayah 51:2317 یعنی جس طرح تمہیں اپنے بولنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا ویسے ہی اس کلام میں بھی کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ آخرت آکے رہے گی۔ تمہارے اعمال کا ضرور محاسبہ کیا جائے گا۔ پھر تمہیں قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی۔
Ayah 51:2418 سیدنا ابراہیم کے ہاں فرشتوں کا سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دینے کا ذکر پہلے سورة ہود کی آیت 69 تا 76، سورة حجر آیت 51 تا 60 اور سورة عنکبوت کی آیت نمبر 31، 32 میں گزر چکا ہے وہ حواشی بھی دیکھ لیے جائیں۔
19 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی آمد :۔ یہ معزز مہمان فرشتے تھے اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین فرشتے تھے۔ سیدنا جبرائیل، سیدنا میکائیل اور سیدنا اسرافیل جو انسانی شکلوں میں آئے تھے۔
Ayah 51:2520 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے فرشتوں سے کہا ہو کہ آپ غالباً اس علاقہ میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔ پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی اور دوسرا یہ کہ آپ نے اپنے دل میں ایسا کہا ہو یا ضیافت کے وقت اندر جاتے ہوئے گھر والوں سے کہا ہو۔
Ayahs 51:26–2721 یعنی فرشتوں سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کھانا کھائیں گے ؟ کیونکہ مہمان عموماً اس کے جواب میں یہی کہہ دیتے ہیں کہ تکلیف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چپکے سے اندر آگئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے اسے گھی میں تل کر یا بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے۔
Ayah 51:2822 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے خوف کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں قبائلی دستور یہ تھا کہ اگر مہمان کھانا نہ کھائے تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی بری نیت سے آیا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا ہو کہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ اس صورت سے ڈرنے کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے غیر معمولی حالات کے سوا انسانی شکل میں نہیں آیا کرتے لہذا آپ کو خوف لاحق ہوا کہ غالباً کوئی خوفناک معاملہ در پیش ہے۔
Ayah 51:2923 سیدنا ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری :۔ جب فرشتوں نے سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دی تو ان کا خوف جاتا رہا۔ البتہ ان کی بیوی آگے بڑھی اور تعجب سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے کہا یہ کیسے ہوگا ؟ میں تو بانجھ ہوں، جوانی میں بھی اولاد نہ ہوئی اور اب تو بوڑھی بھی ہوچکی ہوں۔ اب یہ کیسے ہوگی ؟
Ayah 51:3024 فرشتوں نے کہا ہم یہ نہیں جانتے کہ کیسے ہوگا ؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چونکہ تیرے پروردگار نے ایسا کہا ہے لہذا ایسا ضرور ہوگا اور وہ اپنے کام کی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم پر کیسی کیسی نوازشات کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 51:3125 خَطْب کا لغوی مفہوم :۔ خَطْب بمعنی حال، معاملہ، مقصد خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور یہ لفظ عام طور پر کسی ناپسندیدہ معاملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوچکا تھا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے انسانی شکل میں غیر معمولی حالات میں ہی آیا کرتے ہیں۔ بیٹے کی بشارت سے ان کا اپنا ڈر تو دور ہوگیا تاہم ابھی اصل حیرت کا معاملہ باقی تھا۔ لہذا آپ نے فرشتوں سے پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں اور کیا مقصد ہے ؟
Ayah 51:3226 ذکر قوم لوط :۔ یہ مجرم قوم، قوم لوط تھی جس کے تعارف کے لیے مجرم قوم ہی کہہ دینا کافی ہے۔ کیونکہ وہ مجسم مجرم تھی۔ اللہ کے ساتھ شرک کرتی تھی۔ لواطت کی بانی اور موجد تھی۔ مسافروں سے لواطت کرکے ان کا مال اسباب چھین کر اپنی بستی سے چلتا کردیتی تھی۔ آخرت کی اور رسولوں کی منکر تھی اور اپنے نبی کو اپنی بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتی تھی۔ غرضیکہ وہ ہر طرح کے کفر و شرک اور فسق و فجور میں مبتلا قوم تھی۔
Ayah 51:3327 یعنی ایسے نوکیلے اور چبھ جانے والے کنکر جو ابھی پوری طرح پتھر نہ بنے ہوں اور ان کا کچھ حصہ مٹی سے پتھر بن رہا ہو۔
Ayahs 51:34–3528 یہ لوگ طبعی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورت کو پیدا کیا تھا۔ مگر انہوں نے عورت کو چھوڑ کر مردوں سے ہی یہ خواہش پوری کرنا شروع کردی تھی۔ علاوہ ازیں سب اخلاقی اور قانونی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کا مجرم قوم کے طور پر تعارف کرایا گیا۔
29 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پتھر صرف مجرم قوم کے افراد ہی کو ہلاک کریں گے۔ اگر کسی دوسرے کو لگ بھی جائیں تو اسے ہلاک نہیں کریں گے۔ اور دوسرے یہ کہ ہر پتھر پر نشان کردیا گیا تھا کہ وہ فلاں شخص کو ہلاک کرے گا۔
Ayah 51:3630 قوم لوط میں مسلمانوں کا صرف ایک گھرانہ تھا :۔ یہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کا گھرانہ تھا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ افراد تھے جو اس تباہ کن عذاب سے بچے تھے۔ ان کی بیوی بھی تباہ ہوجانے والوں میں شامل تھی۔ ممکن ہے آپ پر ایمان لانے والوں نے بھی آپ کے ہی گھر میں پناہ لے رکھی ہو۔ واضح رہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمان ہی کے لقب سے نوازا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک دین حق صرف اسلام ہی ہے اور سب نبیوں پر ایمان لانے والے مسلمان ہی ہوتے تھے۔ اور ابتداء مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ بعد میں ہر نبی کی امت نے اپنے لیے علیحدہ علیحدہ نام رکھ لیے تھے۔ پھر وہ انہیں ناموں سے متعارف ہونے لگے۔
Ayah 51:3731 لوگوں کے لئے نشانی بحیرہ مردار :۔ وہ نشانی یہ تھی کہ جب فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اٹھا کر اور بلندی پر لے جاکر پھر اس کو الٹا کر زمین پردے مارا تو یہ پورا خطہ زمین کے اندر دھنس گیا اور سطح سمندر سے چار سو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اس کے اوپر کالا پانی چڑھ آیا۔ جو ایک سمندر کی شکل اختیار کرگیا۔ پانی کے اس ذخیرہ کو بحر میت یا بحیرہ مردار یا غرقاب لوطی کہا جاتا ہے۔ اس بحیرہ مردار (Dead Sea) کا جنوبی علاقہ آج بھی عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔
Ayah 51:3832 یعنی ایسے معجزات جن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ اور یہ معجزے عصائے موسیٰ اور یدبیضا تھے۔
Ayah 51:3933 فرعون سیدنا موسیٰ کو جادوگر یا دیوانہ کیوں کہتا تھا ؟ یعنی اپنی حکومت سے تعلق رکھنے والے تمام افراد اور ملازموں کو ساتھ ملا کر مشترکہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی مخالفت اور اللہ کے حکم سے سرتابی کی پھر اپنے تمام ذرائع ابلاغ کو کام میں لاکر ملک بھر میں مشہور کردیا کہ موسیٰ یا تو جادو گر ہے یادیوانہ ہے۔ وہ جادوگر اس لیے کہتا تھا کہ اپنی قوم کو وہ یقین دلانا چاہتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے بس جادو کے کرشمے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں اور دیوانہ اس لیے کہتا تھا کہ آپ نے فرعون جیسے جابر اور قاہر فرمانروا سے کھلے الفاظ میں یہ مطالبہ کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ وہ کبر و نخوت کا پتلا یہ سمجھتا تھا کہ اگر موسیٰ جیسا کمتر آدمی جو ہمارا قتل کا مفرور مجرم بھی ہے، مجھ سے ایسا مطالبہ کرے تو یہ اس کی دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 51:4034 یعنی جب یہ ظالم و جابر حکمران اپنے لشکروں سمیت غرق ہوگیا تو کسی نے ان کی تباہی پر آنسو نہ بہائے۔ ہر کوئی انہیں ملامت کرتا اور برے لفظوں سے یاد کرتا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس ملعون سے جان چھوٹی۔