Ayah 51:4135 قوم عاد پر تباہ کُن ہوا :۔ (رِیْحَ الْعَقِیْمِ ) لفظی معنی بانجھ ہوا۔ یعنی ایسی ہوا جو ہر طرح کی خیرو برکت سے خالی ہو۔ اور اس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہو۔ بعض ہوائیں راحت پہنچانے والی، بعض خوشبو سے دماغ کو معطر کردینے والی، بعض بارش کی خوشخبری لانے والی، بعض بادل اٹھانے والی اور بعض نر درختوں کا تخم اٹھانے والی ہوتی ہیں۔ ان سب میں کوئی نہ کوئی خیر و برکت کا پہلو ہوتا ہے مگر جو ہوا قوم عام پر چھوڑی گئی وہ ہر طرح کی خیر وبرکت سے خالی اور بانجھ تھی۔
Ayah 51:4236 یہ بانجھ ہوا باد صرصر تھی اولوں کی طرح ٹھنڈی یخ اور آندھی سے بھی زیادہ تیز۔ جو بےقابو ہوئی جارہی تھی۔ یہ طوفانی ہوا ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلی۔ ان کے مکانوں کے اندر داخل ہو کر ہر چیز کو فنا کر رہی تھی۔ اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر پہلے بھی گزر چکا ہے اور بعد میں بھی آئے گا۔
Ayah 51:4337 ذکر قوم ثمود :۔ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن وہ مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ اس وقت صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم اس دعوت کو قبول نہ کرو گے تو تم پر عذاب الٰہی آکے رہے گا۔ اس عذاب سے پیشتر ہی تم دنیا کے مال و متاع سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یا ممکن ہے یہاں حین سے مراد عذاب کے وقت کے بجائے ان کی موت کا وقت ہو۔
Ayah 51:4438 گرنے والی بجلی کا عذاب :۔ صاعقۃ آسمان سے گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں اور وہ جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر خاکستر بنا دیتی ہے۔ قوم ثمود کا قصہ بھی پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کے لیے کہیں صیحہ (زبردست چیخ، کڑک، دھماکہ) کا لفظ آیا ہے اور کہیں رجفۃ (زلزلہ) کا۔ گویا ان پر زمین سے عذاب آیا تھا اور آسمان سے بھی اور ہر مقام پر کسی ایک پہلو کا ذکر کردیا گیا ہے۔
Ayah 51:4539 انتصر کے دو مفہوم :۔ یعنی عذاب سے دہشت کا یہ عالم تھا کہ جو بیٹھا تھا اس کو اٹھ کر کھڑا ہونے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ کہیں جاکر عذاب سے پناہ لینا تو دور کی بات ہے۔ انتصار کا لفظ دو معنوں میں آتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر کوئی حملہ کرے تو اس سے اپنا بچاؤ کرنا اور دوسرا یہ کہ جو حملہ کرے اس سے بدلہ لے لینا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ یہ قوم بڑے مضبوط جسم والی بڑے ڈیل ڈول والی، اپنی طاقت اور قوت پر فخر و ناز کرنے والی تھی اور ڈھینگیں مارنے والی تھی۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا تو یہ بدلہ تو نہ لے سکی۔
Ayah 51:4640 ذکر قوم نوح :۔ سیدنا نوح اور ان کی قوم کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ صرف ایک آیت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس میں اس قوم کے جرم اور اس کی سزا دونوں کا ذکر آیا ہے۔ سابقہ آیات میں چند تاریخی شواہد پیش کرکے یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ مکافات عمل کا قانون اس کائنات میں جاری وساری ہے۔
خ سب قوموں کے ایک جیسے جرم اور انجام سے سبق :۔ جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کی اور اکڑ دکھائی اس کا انجام یہی ہوا کہ وہ تباہ و برباد ہو کے رہی۔ اور یہ عذاب محض ان کی گرفتاری کے حکم کا درجہ رکھتا تھا تاکہ وہ مزید جرائم نہ کرسکیں اور دوسرے لوگ ان کے مظالم سے بچ جائیں۔ رہی ان کے جرائم کی اصل سزا تو وہ قیامت کے دن مقدمہ، شہادتوں اور ثبوت جرم کے بعد دی جائے گی۔ اور یہ تاریخی واقعات، ان کا سبب اور ان کا نتیجہ سب کچھ کفار کو سنائے جارہے ہیں تاکہ وہ خود ہی سمجھ جائیں کہ اگر وہ لوگ بھی حق کی مخالفت سے باز نہ آئے تو ان کا بھی ایسا ہی انجام ہوسکتا ہے۔
Ayah 51:4741 کائنات کی وسعت :۔ کائنات میں بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن میں آج تک تخلیق اور توسیع کا عمل جاری ہے۔ اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ سب سے پہلے انسان ہی کو لیجئے۔ اس کی نسل بڑھ رہی ہے۔ تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی کائنات کا شاہکار ہے۔ پھر زمین کی پیداوار بھی اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ اس آیت میں بالخصوص آسمان کا ذکر ہے۔ آسمان کی پیدائش کا بھی یہی حال ہے یہاں آسمان سے مراد پہلا آسمان یا کوئی خاص آسمان نہیں بلکہ یہاں سماء سے مراد فضائے بسیط ہے جب کہ اس آیت (ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ 29 ) 2 ۔ البقرة :29) میں بھی سماء سے مراد فضائے بسیط ہے۔ جس میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیئت دان جوں جوں پہلے سے زیادہ طاقتور اور جدید قسم کی دوربینیں ایجاد کر رہے ہیں توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں ہر آن مزید وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آرہے ہیں۔
Ayah 51:4842 زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ یعنی سطح زمین کو ہموار بنادیا تاکہ لوگ اور دوسرے جانور آسانی سے اس پر چل پھر سکیں۔ پھر سطح زمین پر ایک زرخیز چھلکا چڑھا دیا جس میں روئیدگی کی قوت رکھ دی تاکہ زمین پر رہنے والوں کو غذا مہیا ہوسکے۔ زمین کو سورج سے اتنی دور رکھا کہ زمین پر بسنے والے جاندار اس کی گرمی سے جل کر تباہ نہ ہوجائیں۔ اور نہ ہی اتنا زیادہ دور کردیا کہ وہ سردی سے ٹھٹھر کر مرجائیں۔ نیز انسان کی جملہ ضروریات خوردونوش، لباس، مسکن اور مدفن سب چیزوں کو زمین سے وابستہ کردیا۔ اس طرح انسان اس قابل ہوگیا کہ کائنات کی اکثر چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی منزلیں طے کرسکے اور قیامت تک اس زمین پر آباد رہ سکے۔
Ayahs 51:49–5043 ہر چیز کے جوڑے اور زوج کے مختلف مفہوم :۔ زوج کا لفظ عربی میں تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) متضاد اشیاء جیسے دن اور رات، دھوپ اور سایہ، روشنی اور تاریکی، سیاہی اور سفیدی، خوشی اور رنج، خوشحالی اور تنگدستی وغیرہ۔ (2) ہم مثل اشیاء کے لیے جیسے پاؤں کے دونوں جوتے ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے مجرم ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ (3) نر و مادہ کے لیے مثلاً خاوند بیوی کا زوج ہے، بیوی خاوند کی زوج ہے۔ ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے۔ اور اس آیت میں غالباً اسی قسم کے زوج مراد ہیں۔ جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ نباتات میں بھی یہ سلسلہ قائم ہے۔ باربردار ہوائیں نر درختوں کا تخم مادہ درختوں پر ڈال دیتی ہیں تو تب ہی ان میں پھل لگتا اور پکتا ہے اور جدید تحقیق کے مطابق یہ سلسلہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔ بجلی کا مثبت اور منفی ہونا یا ایک حقیر سے ذرہ میں الیکٹرون اور پروٹون کا مثبت اور منفی ہونا انسان کے علم میں آچکا ہے۔ مقناطیس میں بھی مثبت اور منفی سرے ہوتے ہیں۔ اور جمادات تو کیا ہر چیز ذرات ہی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس نرو مادہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ چلایا کہ ان دونوں کے ملاپ سے ایک تیسری چیز وجود میں آتی ہے جس میں بعض دفعہ تو اصل نر اور مادہ کے کچھ کچھ خواص موجود ہوتے ہیں اور بعض دفعہ یہ تیسری چیز ایسی چیز پیدا ہوتی ہے جس کے خواص پہلی دونوں چیزوں سے بالکل جداگانہ ہوتے ہیں اور اسی چیز کا نام کیمیا یا کیمسٹری ہے۔ انسان کا علم جس حد تک پہنچ چکا ہے وہ بہرحال محدود ہے۔ جبکہ وحی الٰہی پورا علم ہے جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور ان میں غور کرنے سے انسان کو اللہ کی قدرت کاملہ سے متعلق بہت سبق ملتے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 51:5144 انہی مذکورہ اشیاء کا ذکر کرکے انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ یہ سب کچھ معلوم کرلینے کے بعد تمہیں چاہیے کہ فوراً ان اشیاء کے خالق کی طرف رجوع کرو۔ اور صرف اسی کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ تخلیق، ملکیت اور تصرف سب کچھ اسی کا ہے۔ دوسرا کوئی اس میں حصہ دار نہیں۔
Ayah 51:5245 ہر نبی کو ساحر اور دیوانہ کہا جاتا رہا ہے :۔ یعنی یہ ساحر اور دیوانہ کا جو لقب کفار مکہ کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے۔ تو آپ اس لقب میں منفرد نہیں بلکہ پہلی قوموں نے اپنے اپنے رسولوں کو انہی القاب سے نوازا تھا۔ کفار رسولوں کو ساحر تو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ بعض کفار کے مطالبہ پر اور بعض دفعہ مطالبہ کے بغیر ان پیغمبروں سے ایسے واقعات کا ظہور یا صدور ہوتا تھا جو خرق عادت ہوتے تھے۔ جنہیں معجزات بھی کہا جاتا ہے اور مجنوں اس لحاظ سے کہتے تھے کہ پیغمبر جو دعوت پیش کرتا ہے وہ ساری قوم کے مزاج اور اعتقاد کے خلاف ہوتی تھی اور رسول یہ دعوت پیش کرکے ساری قوم کی مخالفت مول لے لیتا تھا۔ اور یہی بات ان لوگوں کی نگاہ میں دیوانگی تھی۔
Ayahs 51:53–5446 سب کافروں میں قدر مشترک :۔ ان کے اس کردار کے تسلسل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم اپنے بعد میں آنے والی قوم کو یہ وصیت کرکے مرتی رہی کہ اگر تمہارے پاس کوئی رسول آئے تو تم بھی اسے ساحر اور مجنون ہی کہنا۔ بات یوں نہیں کہ ان قوموں کے درمیان کافی بعد زمانی یا مکانی پایا جاتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسے سب کافروں میں چند باتیں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں آبائی دین سے محبت عصبیت ہٹ دھرمی، اکڑ اور شریعت کی پابندیوں سے آزادی کی خواہش۔ جو انہیں اس بات پر مجبور کردیتی ہیں کہ پیغمبروں کو ان القاب یا ان جیسے ملتے جلتے القابات سے پکار کر ان کا مذاق اڑائیں۔ اس سے ایک اور اہم بات کا پتہ چلتا ہے کہ نیکی اور بدی، عدل اور ظلم سے متعلق جو محرکات نفس انسان میں بالطبع پائے جاتے ہیں وہ ہر دور میں ایک جیسے رہے ہیں، تبدیلی صرف واقعات میں ہوئی ہے۔ مثلاً جو رقابت سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو سیدنا یوسف سے تھی وہ آج بھی بھائیوں میں ویسے ہی پائی جاتی ہے اگرچہ حالات اور واقعات مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے کافروں کا اپنے انبیاء سے مذاق و تمسخر اور القابات ایک ہی جیسے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے حالات و واقعات مختلف قسم کے تھے۔
Ayah 51:5547 سعید روحوں کا نصیحت کی انتظار :۔ یعنی پیغمبر یا داعی حق کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اللہ کا پیغام مسلسل پہنچاتے رہیں۔ خواہ ان کے سامنے مخالف یا ناقدر شناس ہی بیٹھے ہوں۔ اس لیے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسانی معاشرے کے لاکھوں کروڑوں افراد میں وہ سعید روحیں کہاں ہیں جو اس دعوت کو ماننے کے لئے تیار بیٹھی ہیں اور فقط دعوت کے پہنچنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہی لوگ اس کی اصل دولت اور سرمایہ ہیں۔ انہی کی تلاش اس کا اصل کام ہے۔ ایسے ہی لوگ اس کا دست راست بننے اور اس کے ساتھ مصائب جھیلنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
Ayah 51:5648 عبادت کا وسیع مفہوم :۔ ساری کائنات میں جن اور انسان ہی تکالیف شرعیہ کی مکلف مخلوق ہے۔ ان کو میں نے دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے کہ میں ہی ان کا خالق ہوں۔ اب اگر یہ مجھے اپنا خالق تسلیم کرنے کے باوجود بندگی دوسروں کی کرنے لگیں تو ان کی حماقت کی کوئی حد ہے ؟ اور دوسرے جب وہ خالق ہی نہیں تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ بندگی کے مستحق یا معبود بن بیٹھیں۔ واضح رہے کہ عبادت کا مفہوم محض ارکان اسلام کی بجا آوری نہیں ہے جیسا کہ عوام میں مشہور ہوچکا ہے۔ بلکہ غلام ہر وقت اپنے مالک کا غلام ہے۔ اگر مالک نے کچھ کاموں پر اس کی ڈیوٹی لگا دی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالک اسے کوئی دوسرا کام کرنے کو کہہ نہیں سکتا۔ یا ملازم ڈیوٹی کے طے شدہ کام کے علاوہ دوسرے کام سے انکار کا حق رکھتا ہے۔ لہذا بندہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا بندہ ہے اور اسے ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف رہنا چاہئے۔
Ayah 51:5749 اہل عرب غلاموں کی کمائی کھاتے تھے اور اللہ اپنے بندوں کو کھلاتا ہے :۔ دور نبوی کے عرب معاشرہ میں غلام رکھنے کا رواج تھا اور مالک ان سے اپنی خدمت ہی نہیں لیتے تھے بلکہ انہیں کمائی کے لیے بھیجتے اور ان کی کمائی کھاتے تھے۔ گویا غلام ہی ان کا سرمایہ تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے اتنا ہی وہ زیادہ مالدار سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں اس کی مثال فیکٹری سے دی جاسکتی ہے۔ ایک فیکٹری میں اگر دس ملازم ہیں اور دوسری میں سو ہیں تو سو ملازموں کی فیکٹری کا مالک یقیناً زیادہ سرمایہ دار اور مالدار سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمام انسان اور جن میرے بندے اور غلام ہیں۔ لیکن میں ان کی کمائی نہیں کھاتا نہ ہی مجھے اس کی حاجت ہے، بلکہ رزق تو میں خود سب کو دے رہا ہوں میں لے کیسے سکتا ہوں ؟ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ایک اہم نکتہ معلوم ہوتا ہے جو یہ ہے کہ معبود حقیقی کی شان یہ ہے کہ وہ رزق دیتا ہے لیتا نہیں۔ جبکہ دوسرے معبود اپنے عبادت گزاروں سے رزق اور پیسے لیتے ہیں۔ اگر عبادت گزار اور مرید حضرات اپنے نذرانے اور نیازیں دینا بند کردیں تو ان کی خدائی ایک دن بھی نہ چل سکے۔ یہی دلیل ان کے باطل ہونے کے لیے کافی ہے۔
رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اگر دوسروں کو عبادت سے منع کیا ہے تو اپنی عبادت کا کیوں حکم دیا ہے ؟ کیا اسے اس کی احتیاج ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے کوئی احتیاج نہیں کیونکہ وہ بےنیاز ہے۔ کسی کے عبادت کرنے یا نہ کرنے سے نہ اس کا کچھ بگڑتا ہے اور نہ سنورتا ہے۔ بلکہ اللہ کی عبادت کرنے اور خالق ومالک کا حق پہچاننے میں ان کا اپنا ہی بھلا ہے جیسا کہ بیشمار آیات و احادیث سے واضح ہے۔
Ayah 51:5850 متین کا لغوی مفہوم :۔ متین : متن کے معنی کسی چیز کا اپنی ذات میں مضبوط ہونا اور اس میں صلابت کا پھیل جانا اور حبل متین بمعنی مضبوط رسی، اور اللہ تعالیٰ کے متین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ مضبوط اور غیر متزلزل ہے جسے کوئی ہستی یا کوئی قوت اس کے مقام یا اس کے ارادہ سے ہلا نہیں سکتی۔
Ayah 51:5951 کنوئیں وغیرہ سے پانی نکالنے والا ڈول یا بالٹی اگر خالی ہو تو اسے دلو کہتے ہیں اور اگر بھرا ہوا ہو تو اسے ذنوب کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دعوت حق کی مخالفت کے لحاظ سے یہ مکہ کے ظالم لوگ بھی اسی پستی تک پہنچ چکے ہیں۔ اور ان کی بقا کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے جیسے ان جیسے اور ان سے پہلے کے ظالموں کا ہوا تھا۔ اور اب ان پر اللہ کا عذاب آنے والا ہے (اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی) لہذا انہیں جلدی مچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب ان کے گناہوں سے بھرا ہوا ڈول ڈوب کے ہی رہے گا۔
Ayah 51:6052 یہ وعدہ کا دن قیامت کا دن بھی ہوسکتا ہے، ان کی موت کا بھی اور بدر کا دن بھی، جو دن بھی ہو ان کی تباہی بہرحال یقینی ہے۔ پھر معلوم نہیں یہ کس خوشی میں جلدی مچا رہے ہیں ؟