50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق۔ قسم ہے اس قرآن کی جو بڑی شان 1 والا ہے۔

1 قرآن کی شان :۔ شان والا اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں کوئی کتاب اس کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی، نہ مضامین کے لحاظ سے، نہ اسرار و رموز کے لحاظ سے اور نہ کثیر الاشاعت ہونے کے لحاظ سے۔ پھر اس کی شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جتنا بھی غور کیا جائے، نئے سے نئے اسرار کھلتے جاتے ہیں اور ہر انسان خواہ وہ علمی لحاظ سے کس درجہ کا آدمی ہو اس سے ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ نہ اس سے مبتدی بےنیاز ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی علامہ دہر۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ 2 یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے 3 والا ان کے پاس آیا ہے۔ چناچہ کافروں نے کہا کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

2 ایسے شان والے قرآن کی جس بات یا جن باتوں پر قسم کھائی جارہی ہے وہ عبارت یہاں محذوف ہے۔ اور اسے مخاطبین یعنی کفار مکہ کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ کا سارا جھگڑا دو باتوں پر تھا۔ ایک وہ آپ کی رسالت کے منکر تھے۔ دوسرے آخرت کے منکر تھے۔ اور قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قرآن کے دلائل اور اس کی داخلی شہادتیں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں باتیں درست ہیں۔ 3 کفار کا پہلا اعتراض رسول انہیں میں سے کیوں ہے ؟ دور نبوی سے پہلے صرف عرب ہی نہیں ساری دنیا میں فتنہ و فساد پھیلا ہوا تھا۔ اب تعجب کی بات تو یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان حالات میں انسانوں کی ہدایت کے لئے کوئی نبی یا ڈرانے والا نہ بھیجتا۔ جبکہ یہ لوگ اس بات پر متعجب ہیں کہ اللہ نے ڈرانے والا کیوں بھیج دیا ؟ دوسرا تعجب انہیں اس بات پر ہے کہ ڈرانے والا اگر آیا ہے تو کوئی غیر انسان یا فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟۔ اور تیسرا تعجب انہیں اس بات پر تھا کہ اگر ڈرانے والا انسان ہی آنا تھا تو انہی کے قبیلہ اور قوم میں سے اور عربی زبان جاننے والا کیوں آیا ہے کوئی چینی یا جاپانی یا انگریز کیوں نہیں آیا ؟ حالانکہ تعجب تو ایسی غیر معقول باتوں پر آنا چاہئے۔ جو کفار مکہ کر رہے ہیں۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی بن جائیں گے (تو پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ ) یہ واپسی 4 تو (عقل سے) بعید ہے۔

4 بعث بعد الموت :۔ یہ کفار مکہ کا دوسرا اعتراض یا انکار ہے جو بعث بعد الموت سے تعلق رکھتا ہے کہ جب انسان مر کر مٹی میں مل جائے گا اور مٹی ہی بن جائے گا تو اس کے دوبارہ جی اٹھنے کا معاملہ عقل سے بھی بعید ہے، قیاس کے بھی اور عادت کے بھی خلاف ہے۔ لہذا ہم اسے تسلیم نہیں کرسکتے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں کہ زمین ان (کے مردہ اجسام) میں سے کیا کچھ کم کرتی 5 ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

5 دوسرے اعتراض کا جواب :۔ حالانکہ ان کا یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور عدم معرفت الٰہی کی بنا پر ہے۔ وہ اللہ کے علم اور اس کی قدرت کی وسعت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ ان کی ہر چیز مٹی میں نہیں چلی جاتی بلکہ ان کی روح اللہ کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ان کے جسم کے ذرات اگر مٹی میں مل بھی جائیں تو بھی وہ سب ذرات اللہ کے علم میں ہوتے ہیں۔ اور وہ جب چاہے ان ذرات کو اکٹھا کرکے پھر سے انسان کی شکل دے کر اور اس میں اس کی روح ڈال کر پھر سے زندہ کرسکتا ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ ان کے ذرات کا اللہ کو علم ہی نہیں بلکہ اس کے پاس ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی بھی موجود اور محفوظ ہے۔ پھر جو چیز علم میں بھی ہو اور ضبط تحریر میں بھی آچکی ہو، اس کے یقینی ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے ؟
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ چناچہ یہ لوگ ایک الجھی ہوئی بات 6 میں پڑگئے

6 پہلے اعتراض کے متعلق کفار کی بدحواسی :۔ آپ کی رسالت سے انکار اور قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کی حد تک تو سب کفار مکہ متفق تھے۔ مگر اب انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام اور قرآن کو کہیں تو کیا کہیں ؟ کیونکہ نہ پیغمبر اسلام کوئی عام آدمی تھے اور نہ قرآن کوئی معمولی اور عام کتاب تھی اور یہ باتیں سب کفار کو نظر آرہی تھیں۔ کبھی تو وہ کہتے کہ یہ نبی شاعر ہے اور یہ کتاب شاعری ہے، کبھی کہتے یہ نبی کاہن ہے اور یہ کتاب کہانت ہے، کبھی کہتے یہ نبی جادوگر ہے اور یہ کتاب جادو ہے، کبھی یہ کہتے کہ یہ قرآن تو پرانی کہانیاں ہی ہیں جنہیں یہ نبی خود ہی تالیف کرکے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہ متضاد اور مختلف باتیں خود اس کا ثبوت ہیں کہ یہ لوگ اپنے موقف میں بالکل الجھ کر رہ گئے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اسے بنایا 7 اور آراستہ کیا اور اس میں کوئی شگاف (بھی) نہیں

7 اثبات توحید اور بعث بعد الموت کے دلائل :۔ اس آیت سے توحید کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ آسمان سے مراد وہ نیلگوں چھت ہے جوہر انسان کو برہنہ آنکھ سے دیکھنے پر کروی شکل میں اپنے سر پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے اور سورج، چاند اور خوبصورت اور ننھے منے تارے اسی میں چمکتے دمکتے اور نگینوں کی طرح سجائے ہوئے نظر آتے ہیں اور کسی طاقتور دوربین کی مدد سے اوپر آسمان کی طرف نظر ڈالی جائے تو انسان حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتا ہے۔ اسے یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ اس کائنات کا آغاز کہاں سے ہو رہا ہے اور اس کی انتہا کہاں تک ہے اور جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز پورے نظم و ضبط کے ساتھ اپنی مقررہ منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ جس میں کہیں کوئی وقفہ، کوئی خلا، کوئی شگاف وغیرہ نظر نہیں آتا اور اس سے دلیل اس بات پر لائی گئی ہے کہ جو ذات اتنے بڑے عظیم الجثہ کروں کو اور اس پوری کائنات کو اتنے نظم و ضبط کے ساتھ چلا رہی ہے وہ بھلا اس بات پر بھی قادر نہیں کہ وہ تمہارے زمین میں ملے ہوئے جسم کے ذرات کو اکٹھا کرکے تمہارا جسم بنا دے۔ پھر اس میں تمہاری روح ڈال کر تمہیں دوبارہ زندہ کھڑا کر دے ؟
Ayahs 50:7–8

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا 8 اور اس میں مضبوط پہاڑ 9 رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی پربہار 10 چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

(ان چیزوں میں) ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بصیرت اور سبق (حاصل کرنے کا سامان) ہے

8 زمین کی تخلیق اور فوائد :۔ یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنادیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تاقیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔ 9 پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔ اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ زمین جب پیدا کی گئی تو اپنی تیز رفتار کی وجہ سے ہلتی، ہچکولے کھاتی اور ڈولتی تھی۔ اور یہ اس قابل نہ تھی کہ اس پر انسان یا جانور زندہ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ایسے ایسے مقامات پر پہاڑوں کا سلسلہ بنایا اور اس توازن و تناسب کے ساتھ بنایا جس سے زمین کا ادھر ادھر جھکنا اور ہچکولے کھانا موقوف ہوگیا اور وہ جانداروں کی رہائش اور مستقر کے قابل بن گئی۔ یہ تو پہاڑوں کا بنیادی فائدہ ہے اس کے علاوہ پہاڑوں کے ضمنی فائدے بھی قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ یہ بات بھی اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت تو کافر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس قدرت سے انکار کرتے ہیں کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ فیا للعجب ! 10 آب وہوا ایک جیسی نباتات مختلف :۔ یعنی قطعہ زمین ایک ہی ہوتا ہے۔ پانی بھی ایک جیسا، آب و ہوا اور موسم بھی ایک ہی لیکن کہیں پودے اگ رہے ہیں جن میں سے کسی کا پھل میٹھا، کسی کا کڑوا اور کسی کا کسیلا ہوتا ہے۔ کہیں غلے اور فصلیں اگ رہی ہیں۔ کہیں درخت اگ رہے ہیں۔ جن میں بعض پھل دار ہیں اور بعض خار دار۔ اور کہیں رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول اگ رہے ہیں۔ جب یہ چیزیں اپنے جوبن پر آتی ہیں تو عجب منظر اور عجب بہار پیش کرتی ہیں۔ کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا ثبوت پیش نہیں کرتیں ؟ تو پھر کیا اللہ تعالیٰ میں اتنی قدرت بھی تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ زمین سے تمہارے بکھرے ہوئے ذرات کو اکٹھا کرکے تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔
Ayahs 50:9–10

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت والا 11 پانی نازل کیا جس سے ہم نے باغ اگائے اور اناج بھی جو کاٹا جاتا ہے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی جن پر تہ بہ تہ خوشے لگتے ہیں۔

11 بارش سے نباتات کی روئیدگی اور بعث بعد الموت :۔ جس زمین پر بارش ہوئی وہ بذات خود مٹی اور مردہ ہے اور جو پانی برسا وہ بھی بےجان تھا۔ تاہم برکت والا اس لحاظ سے تھا کہ اس نے زمین میں مل کر زمین کو مردہ سے زندہ بنادیا اور وہ اس قابل ہوگئی کہ وہ زندہ چیزیں اگائے۔ اس میں جو فصلیں اور غلے پیدا ہوئے وہ بھی زندہ تھے کیونکہ وہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے تھے اور یہی زندگی کی علامت ہے۔ پھر کئی طرح کے درخت اور باغات اور بالخصوص کھجوروں کے اونچے اونچے بلند وبالا درخت پیدا کئے ان میں زندگی موجود تھی۔ پھر اس فصل اور ان باغات سے غلے اور میوے اور پھل حاصل ہوئے۔ اور یہ چیزیں بےجان تھیں۔ گویا اللہ نے مردہ چیز سے زندہ چیز کو اور زندہ چیز سے مردہ کو پھر پیدا کر دکھایا اور یہ عمل ہر وقت اور ہر آن جاری رہتا ہے۔
Ayahs 50:11–13

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ بندوں 12 کے لئے رزق ہے اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین زندہ کردیتے ہیں (تمہارا زمین سے دوبارہ) نکلنا بھی اسی طرح 13 ہوگا۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان لوگوں سے پہلے قوم نوح، کنوئیں والے اور ثمود نے جھٹلایا

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور قوم لوط نے بھی

12 قدرت کاملہ کے اس مظاہرہ سے ایک تو مرنے کے بعد کی زندگی کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے ان فصلوں کے غلہ اور ان درختوں کے پھلوں سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ تمام انسانوں اور جانداروں کی زندگی کی بقا کا سبب بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ کس طرح وہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے فراہمی رزق کا انتظام فرما رہا ہے۔ 13 نباتات کی روئیدگی سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ عرب کے اور بالخصوص مکہ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ سخت خشک قسم کے پہاڑ ہیں جہاں کوئی ہریاول نظر نہیں آتی۔ شدید گرمی پڑتی ہے اور وہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ سبزہ اگ آتا ہے۔ گھاس اگ آتی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں تو یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ شاید وہاں پچھلے سال کی گھاس کی جڑیں کچھ نہ کچھ باقی رہ گئی ہوں گی یا کوئی نہ کوئی زمینی کیڑا ہی کسی پناہ گاہ میں پناہ لے کر بچ گیا ہوگا اور بارش میں اس کی نسل پھلنے پھولنے لگی ہوگی یا کسی درخت کا بیج ہی زمین میں پڑا ہوگا اور اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی ہوگی اور بارش ہونے پر وہ اگ آیا ہوگا۔ لیکن ایسے علاقے جو سخت گرم اور پتھریلے ہیں۔ وہاں تو کسی بیج یا زمینی کیڑے کے اگلی بارش کے موسم تک زندہ رہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر ایسے علاقوں میں حشرات الارض یا نباتات کہاں سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ نباتات اور حشرات الارض کے بیج کے بغیر بھی یہ چیزیں زمین سے برآمد کرسکتا ہے۔ تو یقیناً ہزارہا برس کے مرے ہوئے اور زمین میں ملے ہوئے انسانوں کو بھی زندہ کرکے زمین سے نکال سکتا ہے۔
Ayah 50:14

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں اور تبع 14 کی قوم نے بھی۔ ہر ایک نے رسولوں 15 کو جھٹلایا تو ان پر میرا وعدہ عذاب 16 پورا ہو کر رہا

14 ان سب اقوام کے قصے پہلے سورة اعراف، یونس، ہود، حجر، فرقان اور دخان میں گزر چکے ہیں اور حواشی میں تفصیلات آچکی ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لئے جائیں۔ 15 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان اقوام میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر قوم نے سارے رسولو کو جھٹلایا اس لئے کہ وہ نفس رسالت کے ہی منکر تھے۔ یعنی ان کے خیال کے مطابق کوئی انسان رسول بن کر آ ہی نہیں سکتا تھا۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے کو تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف قرار دیا گیا ہو۔ کیونکہ سب رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک جیسی ہے۔ اور رسولوں کو جھٹلانے سے مراد رسول کی تعلیم کو جھٹلانا ہے۔ 16 آخرت کی منکر اقوام کا انجام :۔ تمام رسولوں کی بنیادی تعلیم کا ایک اہم جز عقیدہ آخرت پر ایمان رہا ہے۔ اور جن اقوام کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ یہ سب عقیدہ آخرت یا مر کر دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے جواب ہی کے عقیدہ کی منکر تھیں۔ عقیدہ آخرت سے انکار کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ افراد اوراقوام دونوں کی زندگی کو فتنہ و فساد کی راہوں پر ڈال دیتا ہے۔ اس لئے کہ ایسے انسانوں کو اپنے محاسبہ کا کچھ خوف نہیں رہتا۔ پھر رسول آکر انہیں ان کے برے انجام سے متنبہ کرتے ہیں تو وہ اس قدر سرکش اور گناہوں پر دلیر ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہاں سے راہ راست پر واپس آنا کسی صورت گوارا نہیں کرتے۔ الٹا رسولوں کی تکذیب اور انہیں دکھ دینا شروع کردیتے ہیں اور سرکشی اور معصیت میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ انہیں ان کے کرتوتوں کی پاداش میں دھر لیا جاتا ہے اور صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک ختم کردیا جاتا ہے۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ہیں ؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ از سر نو پیدائش کے متعلق شک 17 میں پڑے ہوئے ہیں

17 اللہ تعالیٰ کو کسی انسان یا کسی جاندار مخلوق کی مثل قرار دینا ہی بنیادی غلطی ہے جس سے کئی طرح کی گمراہیوں کی راہیں کھلتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اتنی بڑی کائنات پیدا کرنے کے بعد تھک چکا ہے۔ لہذا وہ آئندہ دوسری بار کیسے اس کائنات کو پیدا کرے گا۔ اس کا ایک جواب تو قرآن میں مختلف مقامات پر یہ دیا گیا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی ایک چیز کو دوسری بار بنانا پہلی بار سے آسان تر ہوتا ہے تو پھر اللہ کے لئے دوسری بار پیدا کرنا کیسے مشکل ہوگا ؟ اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اصل بات یہ نہیں۔ وہ ہمیں تھکا ماندہ اور عاجز نہیں سمجھتے بلکہ ان کی عقل یہ بات قبول نہیں کرتی کہ انہیں دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں مشکوک ہی رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دونوں احتمال موجود رہتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی نفسانی خواہش یہی تقاضا کرتی ہے کہ محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہذا وہ اس پر جم جاتے ہیں۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو کچھ اس کے دل میں وسوسہ گزرتا 18 ہے، ہم تو اسے بھی جانتے ہیں اور اس کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اسکے قریب 19 ہیں۔

18 شیطان کا انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنا :۔ چونکہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اس لئے اس کی فطرت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہمارے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے ہم تو اس کے دل کے خیال اور اس میں پیدا ہونے والے برے خیالوں یا وساوس تک کو بھی جانتے ہیں۔ ویسے یہ وساوس کیونکر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : ام المومنین سیدہ صفیہ ؓ فرماتی ہیں کہ وہ مسجد نبوی میں آپ سے ملنے آئی جبکہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے جب میں واپس آنے لگی تو آپ میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ (تاکہ مجھے گھر تک پہنچا آئیں) جب ہم ام سلمہ ؓ کے دروازہ کے قریب پہنچے تو دو انصاری مرد (اسید بن حضیر اور عمار بن بشر ؓ ملے۔ انہوں نے آپ کو سلام کیا اور آگے نکل گئے۔ آپ نے انہیں فرمایا : ذرا ٹھہر جاؤ، (یہ عورت میری بیوی ہے ) انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! یا رسول اللہ اور آپ کا یہ وضاحت فرمانا ان پر شاق گزرا۔ آپ نے فرمایا : شیطان خون کی طرح آدمی کے بدن کی ہر رگ میں پہنچتا ہے۔ میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب بیوت ازواج النبی ) 19 اللہ کا رگ جان سے زیادہ نزدیک ہونا :۔ اللہ تعالیٰ کی یہ قربت اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اس کی ذات کے لحاظ سے کیونکہ اس کی ذات تو ساری کائنات سے اوپر عرش پر ہے اور انسان کی جان یا نفس یا روح کا مسکن انسان کا دل ہے۔ تو جب اللہ اپنے علم کے لحاظ سے انسان کے دل اور اس میں پیدا ہونے والے خیالات تک کو جانتا ہے تو رگ جان یا رگ گردن، جو گلے کے سامنے کی طرف ہوتی ہے وہ تو دل سے کافی دور ہے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوا۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جبکہ دو (فرشتے) ضبط تحریر میں لانے والے اسکے دائیں اور بائیں بیٹھے سب کچھ ریکارڈ 20 کرتے جاتے ہیں

20 کراماً کاتبین کا ریکارڈ رکھنا :۔ ان میں سے ایک نیکی اور بھلائی کے اقوال و افعال ریکارڈ کر رہا ہے اور دوسرا جو بائیں طرف ہے وہ بدی کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ فرشتے قلم اور دوات لے کر ہر بات کو قلمبند کر رہے ہوں۔ بلکہ اس کے اور بھی کئی طریقے ممکن ہیں۔ آج کا انسان ویڈیو کیسٹ تیار کرچکا ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کے اقوال و افعال حرکات و سکنات، تصویر، لب و لہجہ غرض ہر چیز ایسی ریکارڈ ہوتی ہے کہ اصل اور نقل میں ذرہ بھر فرق نہیں رہتا اور اللہ کے فرشتوں کے وسائل تو انسان کے وسائل سے بہت زیادہ ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انسان کے اپنے بدن پر، اس کے اعضاء پر، قرب و جوار کے مقامات پر اور فضا کے ذرات پر انسان کا ریکارڈ ضبط ہو رہا ہو۔ جسے ویڈیو کیسٹ کی طرح کسی بھی وقت پیش کیا جاسکتا اور متعلقہ انسان کو دکھایا جاسکتا ہو۔ پہلی آیت میں یہ مذکور تھا کہ تمہاری تمام حرکات و سکنات حتیٰ کہ تمہارے دلوں کے راز تک اللہ جانتا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں شہادت کے لئے ریکارڈ کی جارہی ہیں۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران 21 موجود ہوتا ہے۔

21 یعنی انسان کا کوئی قول، کوئی فعل، کوئی حرکت، کوئی اشارہ ایسا نہیں ہوتا جسے ریکارڈ میں لانے والا فرشتہ ہر وقت اس کے پاس موجود نہ رہتا ہو۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور یہ حقیقت کھولنے کے لئے موت کی بےہوشی 22 آپہنچی، یہی وہ بات ہے جس سے تو (اے انسان 23) گریز کرتا رہا

22 موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔ اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بےہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام (علیہم السلام) اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ 23 حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال موجود تھے۔ لیکن تیرا نفس یہی چاہتا تھا کہ تیرا محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہذا تو طرح طرح کے اعتراض کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتا تھا اور سیدھے راستہ سے بہرحال بچنا چاہتا تھا۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور (پھر جب) صور پھونکا 24 جائے گا (تو اس سے کہا جائے گا) یہی وعدہ عذاب کا دن ہے۔

24 نفخہ صور ثانی :۔ اس سے مراد وہ نفخہ صور ہے۔ جب سب مردہ انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے یعنی قیامت کے دن جب سب انسانوں کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی اور فیصلہ کے دن مجرموں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا 25 اور ایک گواہی دینے والا (فرشتہ) ہوگا

25 اس سے مراد غالباً وہی دو فرشتے ہیں جو اس کا ریکارڈ ثبت کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک تو اسے پیچھے سے ہانک کر اللہ کے سامنے پیش کردے گا اور کہے گا کہ مجرم حاضر ہے۔ دوسرا اس کا پوری زندگی کا ریکارڈ سامنے لاحاضر کرے گا۔ یعنی مجرم بھی حاضر اور گواہی بھی حاضر۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

بلاشبہ تو اس دن سے غافل رہا سو آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ 26 اٹھا دیا ہے اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے

26 یعنی دنیا کی دلفریبیوں میں مست اور مگن رہا۔ محاسبہ کے دن کا تیرے سامنے ذکر ہوتا تو فوراً اس کا انکار کردیتا اور اس پر غور کرنا تو درکنار ایسی بات سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ آج ہم نے تیری آنکھوں کے سامنے سے غیب کے پردے اٹھا دیئے ہیں۔ اور آج تمہیں وہ سب باتیں ٹھیک نظر آرہی ہیں جن سے تو جان بوجھ کر غافل بنا رہا۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا۔ یہ ( اس کا اعمال نامہ) میرے پاس تیار موجود 27 ہے۔

27 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ گواہ فرشتہ مجرم کو پیش کرکے کہے گا کہ مجرم بھی حاضر ہے اور گواہی بھی حاضر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر کہے گا کہ جو مجرم میری سپردگی میں تھا۔ پیشی کے لئے حاضر ہے۔
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(سائق اور شہید دونوں فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) ہر سرکش 28 کافر کو جہنم میں پھینک دو

28 یعنی وہ خود ہی کفر کے جرم کا مرتکب نہ تھا۔ بلکہ رسولوں کی تعلیم سے عناد بھی رکھتا تھا۔ اور اسلام کی راہ روکنے کے لئے معاندانہ سرگرمیوں میں بھی مصروف رہتا تھا۔
Ayah 50:25

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا 29 ، حد سے بڑھنے والا 30 اور شک میں پڑا ہوا تھا 31

29 یر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور بھلائی بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا تھا نہ اللہ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ بس ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے میں ہی مصروف رہتا تھا۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف خود ہی بھلائی کے کاموں سے رکا رہتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی روکتا رہتا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ دنیا میں بھلائی کہیں پھیلنے نہ پائے۔ 30 یعنی اپنی ذاتی اغراض اور خواہشات کی خاطر تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو توڑنے والا تھا۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا، جائز و ناجائز طریقوں سے مال سمیٹتا اور اچھے کام کرنے والوں کو ستاتا تھا۔ 31 شک کا لفظ یقین اور ایمان کے مقابلہ میں آیا ہے۔ یعنی جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان سب باتوں میں شک میں پڑا ہوا تھا۔ پھر اس شک کے جراثیم دوسروں میں بھی پھیلا رہا تھا۔ جس شخص سے اسے سابقہ پڑتا اس کے دل میں کوئی نہ کوئی شک اور وسوسہ ڈال دیتا تھا۔
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ 32 بھی بنا رکھا تھا۔ لہذا اسے سخت عذاب میں پھینک دو ۔

32 یہ الٰہ انسان کا اپنا نفس اور خواہشات نفس بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جن برائیوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان میں اکثر ایسی ہیں جو خواہش نفس کے پیچھے لگنے والوں میں پائی جاتی ہیں۔ اور ان میں سے ہر برائی ایسی ہے جو انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے۔ بالخصوص یہ آخری برائی تو ایسی ہے جس کے متعلق صراحت سے مذکور ہے کہ اللہ دوسرے گناہ تو جسے چاہے بخش دے گا مگر مشرک کے لئے کبھی مغفرت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اسے جہنم سے کبھی نجات حاصل ہوگی۔
Ayahs 50:27–28

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی 33 عرض کرے گا ہمارے پروردگار ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا بلکہ یہ خود دور تک گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میرے ہاں جھگڑا مت کرو۔ میں تمہیں پہلے ہی اس وعید کی خبر دے چکا تھا۔

33 اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کردیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بناسکتا۔ ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔ اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ لہذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات بدلی نہیں جاسکتی 34 اور میں اپنے بندوں کے لئے ظالم بھی نہیں۔

34 قیامت کے دن مطیع اور مطاع کا جھگڑا :۔ یعنی مجرم اور اس کا شیطان ساتھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اپنے جرم کو کم سے کم ثابت کرنے کے لئے جھگڑا کریں گے۔ مجرم یہ کہے گا کہ میری گمراہی کا اصل باعث تو یہ میرا شیطان ساتھی تھا۔ اور شیطان کہے گا کہ میرا اس پر بھلا کون سا زور چلتا تھا۔ یہ خود سیدھی راہ سے متنفر اور مجرم ضمیر تھا۔ میں نے تو فقط اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا جسے ماننے کے لئے یہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب میرے یہاں جھگڑے اور تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ میں اپنا فیصلہ تمہیں سنا چکا ہوں کہ جیسے بہکنے والا مجرم اور جہنمی ہے ویسے ہی بہکانے والا بھی مجرم اور جہنمی ہے۔ اور یہ میرا ایسا فیصلہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور چونکہ میں اپنے اس فیصلہ سے تمہیں پہلے ہی متنبہ کرچکا ہوں۔ لہذا میری بات نہ مان کر تم نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے : کیا 35 تو بھر گئی ؟ تو وہ کہے گی : کیا کچھ اور بھی ہے ؟

35 قیامت کو جہنم کا کلام کرنا :۔ جہنم اگر زبان حال کی بجائے زبان قال سے بھی اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطا کرسکتا ہے۔ جہنم کے اس جواب سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم اس قدر بڑی اور وسیع ہوگی کہ تمام مستحقین جہنم کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ رہے گی خواہ یہ دوزخی انسانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوں اور شیطانوں سے۔ اور یہی بات درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے : سیدنا انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی، بس بس (میں بھر گئی ) (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور دوسرے یہ کہ جہنم اس دن اس قدر غیظ و غضب میں بھڑک رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر وہ جواب دے گی کہ جتنے مجھ میں داخل ہونے کے مستحق ہیں سب کو لے آؤ میں آج کسی کو چھوڑوں گی نہیں
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت کو پرہیزگاروں کے قریب کردیا 36 جائے گا وہ کچھ دور نہ ہوگی

36 جنت اور دوزخ کا باہمی مکالمہ :۔ جن پرہیزگاروں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہوجائے گا وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کو زینت اور گونا گوں نعمتوں سے آراستہ و پیراستہ دیکھ لیں گے اور اس کی خوشگوار خوشبوئیں محسوس کرنے لگیں گے اگر فاصلہ زیادہ بھی ہوگا تو اسے سمٹا کر جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا۔ جنت میں کیسے لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ میں کیسے ؟ یہ مندرجہ ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جنت اور دوزخ آپس میں تکرار کرنے لگیں۔ دوزخ نے کہا کہ مجھ میں وہ لوگ آئیں گے جو متکبر اور جابر ہیں اور جنت کہے گی کہ مجھ میں تو کمزور اور ناتواں قسم کے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں پر چاہوں گا رحمت کروں گا اور دوزخ سے فرمایا : تو میرا عذاب ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور ان میں سے ہر ایک کو بھر دیا جائے گا۔ دوزخ تو کسی طرح نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس پر رکھ دے گا۔ تب وہ کہے گی کہ بس بس، اور بھر کر سمٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا۔ رہی جنت تو اسے پر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور خلقت پیدا کر دے گا (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ ہر رجوع 37 کرنے والے اور نگہداشت 38 کرنے والے کے لئے ہے۔

37 یعنی ایسا شخص جس کا معمول ہی یہ بن گیا ہو کہ اپنے ہر قسم کے حالات میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے اور اللہ کی رضا کے مطابق ہی عمل کرے۔ 38 اس میں ہر قسم کی حفاظت اور محافظت شامل ہے۔ یعنی اپنے عہد و پیمان کی محافظت کرنے والا خواہ یہ عہد اللہ سے ہو یا لوگوں سے۔ نیز اپنی نمازوں کی نگہداشت کرنے والا ہو۔ حدود اللہ کا دھیان رکھنے والا ہو۔
Ayahs 50:33–34

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو رحمن سے بن دیکھے 39 ڈرتا رہا اور رجوع کرنے والا دل 40 لے کر حاضر ہوا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ دن حیات ابدی کا دن ہے

39 اگرچہ اس کی صفت رحمن ہے پھر بھی اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے وہ اس سے ڈرتا رہا۔ اس خیال سے کہ شاید اس کا عمل اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتا ہے یا نہیں۔ 40 منیب۔ اناب کے معنی گناہ کے کاموں سے لوٹنا یا باز آنا۔ گناہ کا اعتراف اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔ یعنی اس کا دل ہی ایسا تھا جسے گناہ کے کاموں سے نفرت تھی اور اگر اتفاق سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا تھا۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے انہیں ملے گا اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی (ان کے لئے) موجود 41 ہے۔

41 جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی :۔ یعنی وہ کچھ تو ملے گا ہی جس کی وہ خواہش کریں گے علاوہ ازیں کچھ ایسی نعمتیں بھی انہیں ملیں گی جو ان کے تصور میں بھی نہ ہوں گی۔ چناچہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا اے اہل جنت ! وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہم حاضر اور تیری خدمت کے لئے مستعد ہیں۔ بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اب تم خوش ہو ؟ وہ جواب دیں گے : پروردگار ! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے۔ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے اور کسی کو عطا نہیں فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں تمہیں ایسی نعمت عطا نہ کروں جو ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے ؟ جنتی پوچھیں گے : پروردگار ! ان نعمتوں سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا مندی اتارتا ہوں۔ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب کلام الرب مع اہل الجنۃ)
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ طاقتور تھیں۔ (جب عذاب آیا تو) انہوں نے ملک کا کونا کونا 42 چھان مارا کہ انہیں کہیں پناہ کی جگہ مل سکے۔

42 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ قومیں اتنی طاقتور اور جنگجو تھیں کہ انہوں نے اپنے ملک پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا۔ بلکہ اردگرد کے بھی کئی ملکوں کو تاخت و تاراج کیا تھا۔ پھر جب ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں بھی پناہ کی جگہ نہ مل سکی۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس (تاریخ) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو دل رکھتا ہو یا حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہو کر بات 43 سنے

43 یعنی ہدایت اور نصیحت کے حصول کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے یا تو وہ خود اتنی عقل اور سمجھ رکھتا ہو کہ اقوام سابقہ کے حالات سن کر ان سے کوئی صحیح نتیجہ اخذ کرسکے یا اگر کوئی دوسرا اسے سمجھائے تو پوری توجہ سے سننے کے لئے تیار ہو۔ اور جس شخص میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں اس کا کسی واقعہ سے سبق حاصل کرنا محال ہے۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تھکاوٹ 44 محسوس تک نہ ہوئی

44 یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر الزام ساتویں دن آرام کیا :۔ یہ یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر من گھڑت الزام ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اور بائیبل میں اب بھی کتاب پیدائش (2: 2) میں ایسی عبارت موجود ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے ہی جیسا سمجھ لیا کہ جیسے ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی تھک گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی یا کسی اور چیز کی مثل قرار دینا ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس آیت میں ان کے اسی الزام کی تردید کی گئی ہے۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پس (اے نبی ! ) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر 45 کیجیے اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب سے پہلے تسبیح کیجئے۔

45 جب کوئی مسلمان اپنے اعداء کی شماتت، تمسخر، تضحیک، ایذا رسانیوں سے تنگ آجائے یا کسی اور وجہ سے مشکلات میں گھر جائے تو اسے صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اپنے پروردگار سے لو لگانا چاہئے اسی کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔ اسی کی تسبیح و تہلیل اور یاد میں مشغول رہنا چاہئے اس سے اس کی ذہنی کوفت بہت حد تک دور اور ہلکی ہوجائے گی یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی نبی اکرم کو تلقین کی جارہی ہے اور سب مسلمانوں کو بھی متعدد مقامات پر ایسی ہی تلقین کی گئی ہے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات 46 کو اور سجدے کے بعد بھی اس کی تسبیح 47 کیجیے۔

46 پانچ نمازوں کے اوقات :۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پروردگار کی حمد سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : خ جنت میں دیدار الہٰی :۔ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ ایک رات ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چاند کو دیکھا جو چودھویں رات کا تھا۔ عنقریب تم (جنت میں) اپنے پروردگار کو یوں بےتکلف دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ پھر اگر تم ایسا کرسکو کہ تم سے طلوع آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر) قضانہ ہونے پائے تو ایسا ضرور کرو۔ اس کے بعد آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ 98؀ۙ ) 15 ۔ الحجر :98) (بخاری۔ کتاب التفسیر) اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تین ہی نمازیں تھیں۔ فجر کی نماز، عصر کی نماز اور تہجد کی نماز اور بعض علماء اس آیت سے پانچوں نمازیں ثابت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں اور رات کی نمازوں سے مراد مغرب اور عشا کی نمازیں ہیں ۔ 47 نمازوں کے بعد نوافل اور ذکر واذکار :۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہر نماز کے بعد کچھ سنت اور نوافل ادا کئے جائیں۔ واضح رہے کہ رسول اللہ نے جو نماز بطور نفل ادا کی وہی ہمارے لئے سنت ہے اور ہمارے ہاں جو رکعات بطور نوافل ادا کی جاتی ہیں وہ ان نوافل سے زائد ہیں جو آپ نے ادا کئے اور جسے ہم سنت نماز کہتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد کچھ ذکر اذکار اور تسبیح و تہلیل بھی کیا کیجئے۔ جیسا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے مجھے حکم دیا کہ ہر (فرض) نماز کے بعد تسبیح پڑھا کروں۔ آپ نے کہا (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50 ۔ ق :40) کا یہی مطلب ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ایسے بہت سے اذکار صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف ایک اہم ذکر درج کیا جاتا ہے جس کی بہت فضیلت آئی ہے : سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے : مالدار لوگ بلند درجات لے گئے اور ہمارا چین لوٹ لیا۔ ہماری طرح وہ بھی نمازیں ادا کرتے اور روزے رکھ لیتے ہیں۔ پھر ان کے پاس پیسہ ہم سے زائد چیز ہے جس سے وہ حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کرلیتے ہیں جو ہم محتاج ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتے آپ نے فرمایا : میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو اور تم کو کوئی نہ پاسکے جو تمہارے پیچھے ہے اور تم اپنے زمانہ والوں میں سے سب اچھے بن جاؤ الا یہ کہ وہ بھی یہ کام کرنے لگیں۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو اور بعض روایات کے مطابق سبحان اللہ 33 بار، الحمدللہ 33 بار اور اللہ اکبر 34 بار کہنا چاہئے (تاکہ سو (100) پورا ہوجائے ) (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الذکر بعد الصلٰوۃ) اور بعض روایات میں ہے کہ جب مالدار لوگ بھی یہ ذکر پڑھنے لگے تو محتاج لوگ پھر آپ کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ ذکر تو مالدار لوگ بھی کرنے لگے، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کا فضل ہے، جتنا جسے چاہے دے دے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ایسے ذکر کا کچھ فائدہ نہ ہوگا کہ زبان تو چل رہی ہو اور دل اور باتوں میں مشغول ہو۔