Ayah 49:11 آپ کا ادب و احترام :۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ اگر ابھی تک اللہ اور اس کے رسول نے کسی امر کا فیصلہ نہیں کیا تو اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کرو۔ اور اگر فیصلہ کردیا ہے تو اسی کی اطاعت کرو۔ اس کے علاوہ دوسری راہیں نہ سوچو۔
خ اجتہاد صرف اس وقت جائز ہے جب نص نہ ہو :۔ اس آیت سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جب کسی بات کے متعلق کتاب و سنت میں کوئی حکم مل جائے تو اس کے بعد اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اجتہاد صرف انہی امور میں ہوسکتا ہے کہ جب کتاب و سنت میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہو۔
Ayah 49:22 یعنی جب تم نبی کی مجلس میں بیٹھے ہو تو ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے :
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے سامنے آوازیں بلند کرنے کی بنا پر دو نیک ترین آدمی تباہ ہونے کو تھے یعنی سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر جبکہ بنی تمیم کا ایک وفد (9 ھ) میں آپ کے پاس آیا (اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کا کوئی سردار مقرر فرما دیں) ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی (سرداری) کا مشورہ دیا جو بنی مجاشع (بنو تمیم کی ایک شاخ) میں سے تھا اور دوسرے نے کسی دوسرے (قعقاع بن معبد) کے متعلق مشورہ دیا۔ نافع بن عمر کہتے ہیں کہ مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ سیدنا عمر سے کہنے لگے کہ : آپ تو مجھ سے اختلاف ہی کرنا چاہتے ہیں سیدنا عمر نے کہا : میں آپ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا (بلکہ یہ مصلحت کا تقاضا ہے) اس معاملہ میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر اتنی آہستہ بات کرتے کہ آپ کو ان سے پوچھنے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن انہوں نے یہ بات اپنے نانا (سیدنا ابوبکر ؓ کے متعلق نقل نہیں کی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
یہ ادب اگرچہ نبی کی مجلس کے لئے سکھلایا گیا اور اس کے مخاطب صحابہ کرام یا وہ لوگ تھے جو آپ کے زمانہ میں موجود تھے اور یہ ادب اس لئے سکھایا گیا تھا کہ لوگ آپ کو ایک عام اور معمولی آدمی نہ سمجھیں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ وہ اللہ کے رسول کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ تاہم اس حکم کا اطلاق ایسے مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ جہاں آپ کا ذکر ہو رہا ہو، یا آپ کا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ کی احادیث بیان کی جائیں۔
3 آواز مقابلتاً پست ہونی چاہئے :۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر نبی سے بات کرنا ہو تو بھی نبی کی آواز سے تمہاری آواز بلند نہ ہونا چاہئے۔ نیز مسجد نبوی میں کوئی بات عام آواز سے زیادہ اونچی آواز سے نہ کی جائے۔ اس بےادبی کی تمہیں یہ سزا مل سکتی ہے کہ تمہارے نیک اعمال برباد کردیئے جائیں۔ اس آیت کا جو اثر صحابہ کرام پر ہوا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :
سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ثابت بن قیس (بن شماس) کو (کئی روز تک اپنی صحبت میں) نہ دیکھا۔ ایک شخص (سعدبن معاذ) کہنے لگے : یا رسول اللہ ! میں اس کا حال معلوم کرکے آپ کو بتاؤں گا چناچہ وہ گئے تو ثابت کو اپنے گھر سر جھکائے دیکھا اور پوچھا : کیا صورت حال ہے ؟ ثابت ؓ کہنے لگے : برا حال ہے میری تو آواز ہی نبی سے بلند ہوتی تھی میرے تو اعمال اکارت گئے اور اہل دوزخ سے ہوا سعد نبی اکرم کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ تو یہ کچھ بتاتا ہے موسیٰ بن انس کہتے ہیں۔ پھر ایسا ہوا کہ سعد بن معاذ ایک بڑی بشارت لے کر دوسری بار ثابت بن قیس کے ہاں گئے۔ آپ نے خود سعد کو ثابت کے ہاں بھیجا اور کہا کہ اسے کہہ دو کہ : تم اہل دوزخ سے نہیں بلکہ اہل جنت سے ہو (بخاری۔ کتاب التفسیر)
یہ ثابت بن قیس خطیب انصار تھے۔ جب مسیلمہ کذاب مدینہ میں آپ سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت سمجھوتہ کرنے کی غرض سے آیا تھا تو رسول اللہ نے انہی ثابت بن قیس کو اس سے گفتگو کے لئے مامور فرمایا تھا۔ ان کی آواز قدرتی طور پر بھاری اور بلند تھی۔ اس لئے آپ اس حکم سے ڈر گئے۔ آپ نے انہیں اس لئے اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا کہ وہ بےادبی یا عدم احترام کی وجہ سے آواز بلند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ قدرتی طور پر ہی ان کی آواز بلند تھی۔
Ayahs 49:3–44 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ نبی کا ادب و احترام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پہلے تقویٰ کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا امتحان دے چکے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی کا ادب و احترام کرنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور ان کے اس عمل سے اللہ ان کے تقویٰ کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔ اس آیت اور مذکور بالا حدیث سے صحابہ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Ayah 49:55 گھر سے بلانے میں ادب کے تقاضے نبی سے انداز گفتگو شائستہ ہونا چاہئے :۔ بنو تمیم کے کچھ لوگ عین دوپہر کے وقت آپ کے ہاں آئے جب آپ آرام فرما رہے تھے۔ اور زور سے چلانے لگے : یامحمد ﷺ ! ) باہر ہمارے پاس آئیے۔ ہماری بڑی اچھی شہرت ہے اور ہماری بڑائی بڑی ہے ۔ ان کے پکارنے کے انداز سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بدو غیر مہذب اور اجڈ قسم کے جنگلی لوگ تھے۔ جنہیں نہ گھر سے بلانے کا سیلقہ آتا تھا اور نہ گفتگو کرنے کا وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہی بہت کچھ سمجھتے تھے۔ غالباً یہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور اپنے قبیلے کے لئے ایک سردار کی تقرری کی درخواست لے کر آئے تھے۔ جیسا کہ اسی سورة کے حاشیہ نمبر 2 میں درج شدہ حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ پھر یہ بات صرف انہی لوگوں پر ہی موقوف نہ تھی۔ اکثر بدو لوگ اسی بھونڈے انداز میں آپ کو گھر سے بلاتے اور گفتگو کرتے تھے اور آپ اپنی طبعی شرم و حیا کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔ ایسے ناشائستہ، ان گھڑ اور بیوقوف قسم کے انسانوں کو اس آیت کے ذریعہ تنبیہ کی گئی ہے کہ جب وہ رسول سے مخاطب ہوں تو اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ جس سے وہ بات کرنا چاہتے ہیں وہ ایک عام آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا نمائندہ ہے۔ جس کی شان دنیا کے افسروں اور بادشاہوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ اگر تم اس کی شان میں بےادبی یا گستاخی کرو تو تمہیں اپنے ایمان ہی کی خیر منانی پڑے۔ لہذا تم لوگوں کے لئے رسول کو گھر سے بلانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حجرہ کے باہر کھڑے ہو کر اندر اطلاع بھجواؤ یا مہذب طریقے سے آواز دو ۔ پھر کچھ انتظار کرو۔ ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں۔ پھر جب وہ باہر آئیں تو جو کہنا ہو مہذب طریقہ سے بات کرو۔
6 یعنی اگر تم آئندہ ان آداب کو ملحوظ رکھو گے تو اللہ تمہاری سابقہ خطائیں معاف فرما دے گا۔
Ayah 49:67 خبر کی تحقیق کی ضرورت اس صورت میں ہے جب خبردینے والے کا کردار پوری طرح معلوم نہ ہو :۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قبیلہ بنی مصطلق جب مسلمان ہوا تو رسول اللہ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا۔ ولید بن عقبہ کے قبیلہ اور بنی مصطلق میں پہلے سے دشمنی چلی آرہی تھی۔ جب ولید بن عقبہ ان کے ہاں گئے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور واپس آکر آپ سے کہہ دیا کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ بلکہ وہ تو مجھے بھی قتل کردینا چاہتے تھے۔ بعض لوگوں نے یہ رائے دی کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے ان پر چڑھائی کرنا چاہئے مگر آپ اس معاملہ میں متأمل تھے۔ اسی دوران بنی مصطلق کا سردار حارث بن ضرار (ام المومنین سیدنا جویریہ کا والد) اتفاق سے آپ کے ہاں آئے۔ تو انہوں نے بتایا کہ ولید بن عقبہ تو ہمارے ہاں گئے ہی نہیں تو ان کے قتل کا سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ ہم مسلمان ہیں اور زکوٰۃ دینے کو تیار ہیں۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔
ہمیں یہ روایت درست تسلیم کرنے میں تأمل ہے۔ کیونکہ آیت میں فاسق کا لفظ آیا ہے تو کیا ولید بن عقبہ فاسق (جس کا اگر نرم سے نرم زبان میں بھی ترجمہ کیا جائے تو ناقابل اعتماد آدمی ہی ہوسکتا ہے) تھے ؟ اور اگر ایسی ہی بات تھی تو آپ انہیں زکوٰۃ کا محصل بنا کر کیسے بھیج سکتے تھے ؟ لہذا اگر اس آیت اور اس واقعہ میں نسبت قائم نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ نیز اس واقعہ کے بغیر بھی اس آیت کا مفہوم صاف سمجھ میں آرہا ہے۔ کیونکہ اکثر تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کی ابتدا جھوٹی خبروں اور بےبنیاد افواہوں سے ہوتی ہے۔ اور جو لوگ جھوٹی خبر دیں، یا ان کی بلا تحقیق تشہیر کریں وہ فاسق ہیں۔ سچے مومن ایسے کام نہیں کرسکتے۔ لہذا جس شخص کی ذات پر اس کے سچا اور راست باز ہونے کا پورا اعتماد ہو اس کی خبر کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جو لوگ ناواقف ہوں اور ان پر اعتماد کرنے کے ذرائع موجود نہ ہوں۔ ان کی خبر کو تحقیق کے بغیر تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بعض دفعہ انسان ایسے فتنوں میں پڑجاتا ہے۔ جن پر بعد میں پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ اور نقصان بھی بہت ہوجاتا ہے اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔
Ayahs 49:7–88 اپنی خواہش کو حق کے پیچھے چلانے کی ادا سیکھو :۔ یعنی تم لوگوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ ایسی خبریں تم ان تک پہنچا دو اور خود رائے زنی نہ کرنے لگ جاؤ۔ بلکہ ان کے پیچھے پیچھے چلو جو وہ کہیں اسے تسلیم کرو۔ اگر وہ تمہارا مشورہ قبول نہیں کرتے تو اس کا برا نہ مانو۔ اگر وہ تم سب کے مشورے اور آراء قبول کرنے لگیں تو تمہاری بھی آراء آپس میں مختلف اور متضاد ہوتی ہیں۔ اس صورت میں تو تم پر اور کئی مصیبتیں پڑجائیں گی۔ لہذا حق کو اپنی خواہشات کے پیچھے نہ چلاؤ۔ بلکہ اپنی خواہشات اور آراء کو حق کے تابع کردینے کی ادا سیکھو۔
9 تم پر یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ تمہیں کفر اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے کاموں سے نفرت ہوچکی ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور رسول کی اطاعت میں تم راحت اور خوشی محسوس کرتے ہو۔ لہذا معاشرتی آداب کے سلسلہ میں ان ہدایات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا کرو جو تمہیں اب دی جارہی ہیں۔ اسی صورت میں تم ہدایت یافتہ ہوسکتے ہو۔
Ayah 49:910 آپس میں لڑائی کرنا مومنوں کا کام نہیں :۔ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑنا مومنوں کا کام نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے۔
(1) سیدنا ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ فرماتے تھے : جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں میں نے پوچھا : یہ تو رہا قاتل مگر مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب وان طائفتان۔۔ مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفہما)
(2) احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں اس شخص کی مدد کرنے چلا۔ (راستہ میں) مجھے ابو بکرہ ملے اور پوچھا : کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا : اس شخص کی مدد کرنے ابو بکرہ کہنے لگے : واپس چلے جاؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں میں نے پوچھا : یارسول اللہ یہ تو ہوا قاتل مگر مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب المعاصی من امرالجاہلیۃ) (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفہما)
11 طائفہ کا لغوی مفہوم :۔ یعنی ان پیش بندیوں کے باوجود اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں تو پوری کوشش کرو کہ ان کا اختلاف رفع ہوجائے اور ان میں صلح ہوجائے۔ واضح رہے کہ یہاں طائفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور طائفہ عموماً چھوٹی جماعت کو کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مفسرین کے خیال کے مطابق اس لفظ کا اطلاق ایک فرد پر بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی اگر دو مسلمانوں میں لڑائی ہو۔ تب بھی یہی حکم ہے اور یہ تو واضح ہے کہ صلح کرنے والا کوئی غیر جانبدار ہی ہوسکتا ہے۔ خواہ یہ ایک آدمی ہو یا کوئی جماعت ہو۔ پھر صلح کرانے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فریقین پر اثر انداز ہوسکتا ہو۔
12 مسلمانوں میں صلح کرنا اور عدل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے :۔ یعنی اگر کوئی شخص اکیلا فریقین پر اثر انداز ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ تو باہم ملکر بھی تمہیں یہ کام کرنا چاہئے بیٹھ نہ رہنا چاہئے سب سے پہلے حالات اور اختلاف کا جائزہ لو اور دیکھو کہ کونسا فریق حق پر ہے اور کونسا زیادتی کر رہا ہے۔ اب یہ تو واضح ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے کبھی نہیں بجتی۔ زیادتی کرنے والے کے پاس بھی کچھ تھوڑا بہت حق موجود ہوتا ہے اور جو حق پر ہے اس سے بھی کوئی نہ کوئی غلطی ضرور ہوئی ہے۔ لہذا پہلے یہ تشخیص کرنا ہوگی کہ زیادہ حق کس طرف ہے اور زیادتی کا مرتکب کون ہے ؟ پھر صلح کرانے والی جماعت کو زیادہ حق والے کا ساتھ دینا ہوگا اور اس طرح فریقین پر صلح کے لئے دباؤ ڈالنا ہوگا۔ اور زیادتی کرنے والے پر اتنا دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی زیادتی کا اعتراف کرے اور اس سے رجوع کرکے حق بات تسلیم کرے۔ جب یہ مرحلہ طے ہوجائے تو پھر یہ نہ کرنا چاہئے کہ حق والے فریق میں یک طرفہ فیصلہ دے کر زیادتی کرنے والے فریق کو پوری طرح دبانے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے اور زیادتی کرنے والے کے پاس بھی کچھ تھوڑا بہت حق تھا تو فیصلہ کے وقت ان باتوں کو ملحوظ رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ کیونکہ یہی بات اقرب الی الحق اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
خ شماس بن قیس یہودی کا اوس وخزرج کو لڑانا :۔ واضح رہے کہ بسا اوقات دونوں ہی فریق حق پر ہوتے ہیں اور ان کی لڑائی کا سبب کوئی بیرونی دشمن یا بیرونی مداخلت ہوتی ہے۔ عہد نبوی میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں مسلمانوں کو شاندار فتح نصیب ہوئی تو یہود مدینہ کو اس بات سے سخت صدمہ پہنچا۔ ایک بڈھے یہودی شماس بن قیس نے اس مصیبت کا یہ حل سوچا کہ اوس و خزرج میں از سر نو جنگ بپا کردی جائے۔ اس مقصد کے لئے اس نے ایک نوجوان یہودی کو تیار کیا کہ انصار کی مجالس میں جاکر جنگ بعاث کا ذکر چھیڑ دے اور اس سلسلہ میں اوس و خزرج کی طرف سے جو اشعار کہے گئے تھے انہیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور جاہلی عصبیت کو ہوا دے۔ جب اس یہودی نے یہ اشعار پڑھے تو فوراً اوس اور خزرج کے جاہلی دور کے معاندانہ جذبات بھڑک اٹھے تو تو، میں میں شروع ہوگئی اور نوبت بایں جا رسید کہ ایک فریق دوسرے سے کہنے لگا : اگر تم چاہو تو ہم پھر اس جنگ کو جوان کرکے نمٹادیں۔ پھر ہتھیار کی آوازیں آنے لگیں اور قریب تھا کہ ایک خوفناک جنگ چھڑ جاتی۔
خ آپ کا ان میں صلح کرانا :۔ رسول اللہ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ چند مہاجرین کو ساتھ لے کر فوراً موقعہ پر پہنچ گئے اور فرمایا : مسلمانو ! میری موجودگی میں جاہلیت کی یہ پکار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی طرف ہدایت دی اور تمہارے دلوں کو جوڑ دیا۔ پھر اب یہ کیا ماجرا ہے ؟ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ کس طرح شیطانی جال میں پھنس چکے تھے۔ ان کی آنکھیں کھل گئیں پھر اوس و خزرج کے لوگ آپس میں گلے ملنے اور رونے لگے۔
خ غزوہ بنی مصطلق میں عبداللہ بن ابی کا انصار و مہاجرین کو لڑانا :۔ اس کی دوسری مثال وہ فتنہ ہے جو غزوہ بنی مصطلق سے واپسی سفر کے درمیان عبداللہ بن ابی منافق نے مہاجرین اور انصار کے درمیان کھڑا کرکے ان کو باہم لڑ مرنے پر آمادہ کردیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة منافقون میں آئے گی۔ اس موقعہ پر بھی رسول اللہ نے فوراً موقع پر پہنچ کر معاملہ رفع دفع کرا کر صلح کرا دی تھی۔
خ اگر صلح نہ کر اسکے تو غیر جانبدار رہے :۔ اور اس آیت کا سب سے بڑا مصداق سیدنا علی ؓ اور سیدنا امیرمعاویہ کے درمیان جنگیں تھیں۔ اور ان جنگوں کا باعث ایک باغی فرقہ تھا۔ چونکہ یہ دونوں فریق سیاسی لحاظ سے بڑے طاقتور تھے۔ لہذا کوئی ایسی جماعت پیدا نہ ہوسکی جو ان میں صلح کرا سکتی۔ اس لئے بہت سے صحابہ کرام ایسے بھی تھے جو ان جنگوں میں غیر جانبدار رہنا ہی غنیمت سمجھتے تھے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا دوسری حدیث سے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا اشارہ انہی جنگوں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ اور ان جنگوں میں بہت سے صحابہ غیر جانبدار رہے اور لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔
Ayah 49:1013 لڑائی کی روک تھام :۔ یعنی جب تم صلح کرانے لگو تو اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا رہے ہو۔ لہذا پورے عدل و انصاف کو ملحوظ رکھ کر اور اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ کام اس طرح سرانجام دو کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ ہی کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم ان کے درمیان عدل و انصاف سے صلح کرا دو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے گا۔ اور یہ مہربانی انفرادی طور پر صلح کرانے والی جماعت پر بھی ہوسکتی ہے۔ اور اجتماعی طور پر بھی یعنی اللہ تمہاری جماعت کو اس کا شیرازہ بکھرنے سے بچالے گا اس کی ساکھ بحال اور قوت برقرار رہے گی۔
یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک عالمگیر برادری میں منسلک کردیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو دوسرے سب مسلمان اسے اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے علاوہ ایسا رشتہ اخوت اور کسی دین یا مذہب میں نہیں پایا جاتا۔
Ayah 49:1114 مذاق اڑانے سے پرہیز :۔ اس آیت میں ایسے معاشرتی آداب سکھائے جارہے ہیں ہیں جو عموماً لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں۔ مذاق اڑانے کی دو ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک مذہبی یا نظریاتی اختلاف کا ہونا دوسرے مخاطب کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھنا۔ خواہ کوئی بھی صورت ہو مذاق اڑانے سے چونکہ لڑائی جھگڑے کا امکان ہے۔ لہذا لڑائی جھگڑے کے ان ابتدائی لوازمات سے بھی روک دیا گیا۔
15 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد، مردوں کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ عورتیں عورتوں کا، یہ نہیں فرمایا مرد عورت کا مذاق نہ اڑائے یا عورت کسی مرد کا مذاق نہ اڑائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مخلوط سوسائٹی یا آزادانہ اختلاط مرد و زن کا تصور ہی مفقود ہے۔
16 طنز اور طعنہ سے اجتناب :۔ لَمَزَ بمعنی کسی شخص کے کسی فعل یا حرکت میں عیب جوئی کرنا۔ جیسے پھبتیاں کسنا، کسی کی نقلیں اتارنا، اشارے کرنا، یا زیر لب کسی کو نشانہ ملامت بنانا یا طنزیہ بات اور چوٹیں کرنا سب کچھ اس لفظ کے معنی میں داخل ہے۔ اس قسم کی حرکتیں چونکہ معاشرتی تعلقات کو بگاڑ دیتی ہیں۔ لہذا ان کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
17 لقب کا مفہوم اور قسمیں :۔ لقب دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو پسند ہوتے ہیں اور ان کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خود اپنے لئے کوئی پسندیدہ سا لقب اختیار کرلیتا ہے اور دوسری صورت یہ کہ کوئی دوسرا ایسا لقب رکھ دیتا ہے۔ جیسے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا لقب صدیق یا سیدنا عمر کا لقب فاروق تھا۔ دوسرے وہ جو مذموم ہوتے ہیں اور ایسے لقب عموماً حریف یا فریق مخالف یا دشمن رکھ دیتے ہیں اور یہ صرف اس کی تحقیر یا اس کو چڑانے کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے القاب سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بطور گالی یا تمسخر کسی کو فاسق یا یہودی کہا جائے یا اس کے ایسے جرم سے منسوب کیا جائے جسے وہ چھوڑ چکا ہو جیسے کسی کو ایمان لانے اور توبہ کرلینے کے بعد زانی، چور یا ڈاکو وغیرہ کہا جائے۔ ایسی سب باتیں فتنہ فساد اور لڑائی کا موجب بن جاتی ہیں۔ اسی لئے ان سے منع کردیا گیا ہے اور ایسے کام کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ چناچہ سیدنا ابوذر غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جو شخص کسی مسلمان کو فاسق یا کافر کہے اور درحقیقت وہ کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا شخص فاسق یا کافر ہوجائے گا (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب ما ینہی من السباب واللعن)
خ برے نام رکھنے یا بلانے کی ممانعت :۔ اور بعض دفعہ کسی شخص کا ایسا لقب رکھ دیا جاتا ہے جس میں نہ اس کی تحقیر ہوتی ہے اور نہ وہ خود اسے برا سمجھتا ہے بلکہ وہ محض تعارف کے طور پر ہوتا ہے۔ جیسے دور نبوی میں ایک صحابی کا اس کے لمبے ہاتھوں کے وجہ سے نام ہی ذوالیدین پڑگیا تھا۔ ایسے ہی عبداللہ طویل یا نابینا حکیم وغیرہ کہنے میں کچھ حرج نہیں۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب مایجوز من ذکر الناس۔۔ )
18 یعنی مندرجہ بالا سب کام فسق کے کام ہیں۔ کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ ایمان لانے کے بعد بھی ایسے کام کرتا رہے۔ اور اگر کوئی ایسی باتوں میں نامور اور مشہور بھی ہوجائے تو یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔
Ayah 49:1219 سوئے ظن سے پرہیز :۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ گمان کرنے سے بچو بلکہ یوں فرمایا کہ زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ کیونکہ گمان تو ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت کرنا ہی پڑتا ہے۔ اور اگر ظن و گمان کو عادت بنا لیا جائے تو یہ بہت بری بات ہے کیونکہ اکثر ظن بدظنی پر مشتمل ہوتے ہیں اور کسی سے سوئے ظن رکھنا بذات خود گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظنی رکھی جائے تاآنکہ اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجائے جو حسن ظن کو بدظنی میں تبدیل کر دے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کوئی برا خیال پیدا ہوجائے تو جب تک زبان سے اس کا اظہار نہ کرے وہ قابل مواخذہ نہیں ہے۔ اس آیت میں دراصل اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جس شخص سے ان کا کوئی اختلاف یا جھگڑا ہو اس کی اچھی باتوں میں سے بھی کوئی برا پہلو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی معاملہ میں چار پہلو حسن ظنی کے ہوں اور ایک پہلو بدظنی پر محمول کیا جاسکتا ہو تو ان کی نظر ہمیشہ بدظنی کے پہلو کی طرف اٹھے گی۔ ایسے لوگ عموماً عام لوگوں کے متعلق حسن ظن کے بجائے کوئی بری بات ہی سوچنے کے عادی ہوتے ہیں۔
20 کسی کی ٹوہ لگانے سے پرہیز :۔ تجسس کا تعلق عموماً ایسے افعال سے ہوتا ہے جو یا تو کبھی سرزد ہی نہ ہوئے ہوں اور یا ظاہر نہ ہوئے ہوں۔ مثلاً کسی کی ٹوہ لگائے رکھنا یا کسی کے گھر میں جھانکنا، چوری چھپے کسی کی باتیں سننا، کسی کے خطوط دیکھنا یا درمیان میں ٹیلی فون کی گفتگو سننا وغیرہ۔ سب اسی ذیل میں آتے ہیں۔ جبکہ ایسے کاموں کا مقصد کوئی ایسی بات معلوم کرنا ہو جس سے اسے بدنام اور بےعزت کیا جاسکے۔ ایسی جاسوسی سے ممانعت کا حکم صرف اشخاص کے لئے ہی نہیں اسلامی حکومت کے لئے بھی ہے۔ اسلامی حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر منظر عام پر لائے اور پھر انہیں سزا دے۔ بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جو برائیاں ظاہر ہوجائیں، طاقت کے ذریعہ ان کا استیصال کرے۔ البتہ وہ کسی مجرم کی تحقیق کے سلسلہ میں ایسے کام کرسکتی ہے۔ اور جو برائیاں ظاہر نہ ہوں بلکہ مخفی یا گھروں کے اندر ہوں تو ان کا علاج جاسوسی نہیں بلکہ ان کی اصلاح تعلیم، وعظ و تلقین، عوام کی اجتماعی تربیت اور ایک پاکیزہ معاشرتی ماحول پیدا کرنے سے کی جائے گی۔
21 غیبت سے اجتناب :۔ غیبت کی تعریف جو رسول اللہ نے خود بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جو اسے ناگوار ہو صحابہ نے عرض کیا کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو پھر ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس میں وہ بات پائی جائے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات موجود نہ ہو تو تو نے اس پر بہتان لگایا (مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الغیبۃ) اور یہ تو واضح بات ہے کہ بہتان غیبت سے بھی بڑا جرم ہے اور غیبت خواہ کسی زندہ انسان کی، اس کی پیٹھ پیچھے کی جائے یا کسی فوت شدہ انسان کی، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اس میں کوئی فرق نہیں۔
غیبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا۔ کیونکہ غیبت کرنے والا اس کی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جیسے اسے کاٹ کاٹ کر کھا رہا ہو اور مردہ اس لئے فرمایا کہ جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہیں ہوتا۔
غیبت کی حرمت سے استثناء کی صورتیں :۔ البتہ بعض اہم ضرورتوں کے پیش نظر شریعت نے چند صورتوں کو اس حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ مثلاً :۔
1۔ مظلوم حاکم کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کرکے ظلم کی فریاد کرسکتا ہے۔ اور اس کی بنیاد سورة النساء کی آیت نمبر 148 ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر عدالت کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ مظلوم کو عام لوگوں کے سامنے بلاضرورت اور تحقیر کی خاطر بھی ظالم کی غیبت کرنا یا اپنے ظلم کی داستان بیان کرنا جائز نہیں۔ پھر جس طرح ایک مظلوم عدالت کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کرسکتا ہے۔ اسی طرح استفتاء کی صورت میں مفتی کے سامنے بھی بیان کرسکتا ہے۔
2۔ کسی شخص کے شر سے بچنے کے لئے اپنے مومن بھائی کو اس کے عیب وثواب سے مطلع کردینا تاکہ وہ اس کے شر یا اپنے نقصان سے بچ سکے۔ مثلاً کوئی شخص رشتہ کرنا چاہتا ہو، یا کسی سے کاروباری اشتراک کرنا چاہتا ہو یا کسی کے ہمسایہ میں مکان خریدنا چاہتا ہو یا اسے قرضہ دینا یا امانت سونپنا چاہتا ہو اور وہ اپنے کسی دوسرے بھائی سے مشورہ لے۔ تو مشورہ دینے والے کو نہایت دیانتداری سے متعلقہ شخص کے عیب وثواب بیان کردینے چاہئیں تاکہ وہ کسی دھوکہ میں نہ رہے اور اس کی بنیاد یہ حدیث ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میں نے انصار کی ایک عورت سے عقد کیا ہے۔ آپ نے پوچھا : تم نے اس کو دیکھا بھی ہے ؟ اس نے کہا، نہیں۔ آپ نے فرمایا : جا اور اسے دیکھ لے اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (عیب) ہوتا ہے (مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب ندب من اراد نکاح امراۃً )
3۔ محدثین کا قانون جرح و تعدیل۔ جس پر تمام ذخیرہ حدیث کی جانچ پرکھ کا انحصار ہے اور جس کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو عام گمراہی سے بچانا مقصود ہے۔ اس صورت میں راویوں کے عیب وثواب بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ بالاتفاق واجب ہے۔ اور اس کی بنیاد بھی وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہوئی نیز اس سورة کی آیت نمبر 6 بھی۔ یعنی فاسق کی خبر کی تحقیق ضروری ہے۔
4۔ ایسے لوگوں کے خلاف علی الاعلان آواز بلند کرنا اور ان کی برائیوں پر تنقید کرنا جو فسق و فجور پھیلا رہے ہیں یا بدعات اور گمراہیوں کی اشاعت کر رہے ہوں۔ یا خلق خدا کو بےدینی اور ظلم و جور کے فتنوں میں مبتلا کر رہے ہوں۔
Ayah 49:1322 اقوام کی لڑائی جھگڑوں کی بنیاد اور ان کا سد باب :۔ موجودہ دور میں قوم، وطن، نسل، رنگ اور زبان یہ پانچ خدا یا معبود بنا لئے گئے ہیں۔ انہی میں سے کسی کو بنیاد قرار دے کر پوری انسانیت کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جو آپس میں ہر وقت متحارب اور ایک دوسرے سے لڑتے مرتے رہتے ہیں۔ کسی کو قومیت پر ناز ہے کہ وہ مثلاً جرمن یا انگریز قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی سفید رنگ کی نسل ہونے پر فخر کرتا ہے۔ کوئی سید اور فاروقی یا صدیقی ہونے پر ناز کرتا ہے۔ گویا ان چیزوں کو تفاخر و تنافر کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ حالانکہ سب انسان ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ یہ آیت ایسے معبودوں یا بالفاظ دیگر فتنہ و فساد اور لامتناہی جنگوں کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔
خ برتری کی بنیاد صرف تقویٰ ہے :۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو تمہارے قبیلے اور قومیں اس لئے بنائے تھے کہ تم ایک دوسرے سے الگ الگ پہنچانے جاسکو، مثلاً دو شخصوں کا نام زید ہے اور دونوں کے باپ کا نام بکر ہے۔ تو الگ الگ قبیلہ یا برادری سے متعلق ہونے کی وجہ سے ان میں امتیاز ہوجائے، لیکن تم نے یہ کیا ظلم ڈھایا کہ ان چیزوں کو تفاخر و تنافر کا ذریعہ بنالیا۔ کوئی نسل کی بنیاد پر شریف اور اعلیٰ درجہ کا انسان بن بیٹھا اور دوسروں کو حقیر، کمینہ اور ذلیل سمجھنے لگا تو کوئی قوم اور وطن یا رنگ اور زبان کی بنیاد پر بڑا بن بیٹھا ہے۔ ان سب چیزوں کے بجائے اللہ تعالیٰ نے عزوشرف کا معیار تقویٰ قرار دیا۔ یعنی جتنا کوئی شخص گناہوں سے بچنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوگا۔ اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک معزز و محترم ہوگا۔ اسی مضمون کو رسول اللہ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں، جو نہایت اہم دستوری دفعات پر مشتمل تھا، یوں بیان فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔ کیونکہ تم سبھی آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔
Ayah 49:1423 بدوی منافق قبائل کا اسلام کیسا تھا ؟ یہ بدوی وہی لوگ تھے جو قبیلہ غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے۔ تھے اور جب آپ اس غزوہ سے واپس آئے تو حیلے بہانے تراش کر اپنے لئے استغفار کی التجا کر رہے تھے۔ ان کا ذکر سورة احزاب کی آیت نمبر 11 تا 16 میں گزر چکا ہے۔ یہ لوگ کلمہ شہادتین پڑھ کر مسلمان تو ہوگئے تھے اور ارکان اسلام بھی بجا لاتے تھے۔ مگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا۔ انہیں آسان اور میٹھا میٹھا اسلام تو گوارا تھا لیکن وہ اس کے لئے کوئی مالی یا جانی قربانی پیش کرنے یا مشکلات برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔
خ اسلام اور ایمان میں فرق :۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور اسلام اور چیز ہے۔ حدیث جبریل سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ جب جبریل نے آپ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں اور رسولوں کا یقین رکھے اور اس بات کا بھی کہ مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے اور جب جبریل نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ : تو صرف اللہ کی عبادت کرے اور اس کا شریک نہ بنائے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب سؤال جبریل النبی۔۔ )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تعلق دل کے افعال سے ہے اور اسلام کا ظاہری اعمال سے۔ یہ ان میں فرق کا پہلو ہے اور مماثلت کا پہلو یہ ہے کہ اگر ارکان اسلام کو باقاعدہ اور خلوص نیت سے ادا کیا جائے تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایمان میں اضافہ سے ظاہری اعمال میں حسن پیدا ہوتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک دوسرے کے مؤید اور لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔ منافقوں میں کمی یہ ہوتی ہے کہ ان کے اعمال میں نہ خلوص ہوتا ہے اور نہ حسن عمل لہذا ان کا ایمان شہادتین کے اقرار سے آگے بڑھتا ہی نہیں یعنی ایمان یا یقین ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوتا۔ اسی بات کو اللہ نے ایمان نہ لانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
24 یعنی اب بھی اگر تم اپنا رویہ درست کرلو اور دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے لگو تو اللہ تمہارے سابقہ اعمال کا اجر تمہیں دے دے گا۔ اس میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اور تمہاری سابقہ خطائیں بھی معاف فرما دے گا۔
Ayah 49:1525 اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کا تقابل پیش کرکے بتایا گیا ہے کہ حقیقی مومن اللہ، اس کے وعدوں اور اس کے رسول پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں۔ وہ مفاد پرست نہیں ہوتے لہذا جو کچھ اللہ اور اس کا رسول کہے فوراً اس کی اطاعت کرتے اور بوقت ضرورت جان و مال کی قربانیاں بھی پیش کردیتے ہیں۔ اور منافقوں کی طرح حیلوں بہانوں سے فرار کی راہ اختیار نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگ راستباز ہوتے ہیں۔
Ayah 49:1626 ان لوگوں نے رسول اللہ کے پاس آکر کہا یہ تھا کہ ہم اسلام لے آئے اور ان کا یہ اسلام لانا چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے مترادف تھا۔ وہ اسلام لاکر اپنے جان و مال کی حفاظت اور اموال غنائم سے اپنا حصہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جیسا تم اسلام لا رہے ہو۔ اللہ کو اس کا ٹھیک پتا ہے اور جن اغراض کے تحت لا رہے ہو وہ بھی معلوم ہے۔
Ayahs 49:17–1827 بدوی قبائل کن اغراض کے تحت اسلام لائے تھے ؟ ایسے بدو دراصل صل اسلام لا کر احسان یہ جتلاتے تھے کہ ہم از خود ہی مطیع بن کر اور اسلام لاکر آپ کے پاس حاضر ہوگئے ہیں اور آپ کو ہمارے خلاف لشکر کشی نہیں کرنا پڑی۔ اور اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اب ہماری طرف توجہ فرمائیے اور اموال غنائم میں سے ہمیں بھی کچھ مال دیجئے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ انہیں کہہ دیجئے۔ کہ اگر اسلام لائے ہو تو اپنی ہی ذاتی اغراض کے لئے لائے ہو، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوتا جو دوسرے کافروں کا ہو رہا ہے۔ اس اسلام لانے کا مجھ پر کیا احسان دھرتے ہو ؟ بلکہ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے تمہارے جان و مال محفوظ ہوگئے اور پٹائی نہیں ہوئی۔ یہ تم کیا الٹی گنگا بہا رہے ہو ؟ اور دیکھو اگر تم فی الواقع سچے ایماندار ہوتے تو تمہیں یہ بات کہتے بھی شرم آنی چاہئے تھی۔ جیسے ایک بادشاہ اگر کسی کو ملازم رکھ لے تو یہ بادشاہ کا ملازم پر احسان تو ضرور ہوتا ہے مگر ملازم اسے کسی صورت یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہاری خدمت کرکے تم پر احسان کر رہا ہوں۔