48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم نے آپ کو واضح فتح 1 عطا کردی۔

1 آپ کو بیت اللہ کے طواف کا خوب میں آنا :۔ جنگ احزاب کے بعد قریش کی مسلمانوں پر بالا دستی کا تصور ختم ہوچکا تھا تاہم ابھی تک بیت اللہ پر قریش کا ہی قبضہ تھا۔ مسلمان جب سے ہجرت کرکے مدینہ گئے تھے ان میں سے کسی نے حج، عمرہ یا طواف کعبہ نہیں کیا تھا جس کے لئے ان کے دل ترستے رہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ کو خواب آیا کہ آپ بہت سے مسلمانوں کی معیت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے۔ 1400 صحابہ کے ساتھ مکہ کو روانگی :۔ لہذا آپ نے عمرہ کا اعلان فرما دیا۔ چونکہ اس سفر سے جنگی مقاصد یا غنائم کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لہذا آپ کی معیت صرف ان صحابہ کرام ؓ نے ہی اختیار کی جو محض رضائے الٰہی کے لئے عمرہ کی نیت رکھتے تھے۔ جو صحابہ آپ کے ساتھ جانے پر تیار ہوئے ان کی تعداد چودہ سو کے لگ بھگ تھی۔ خ کافروں کا روکنا اور آمادہ جنگ ہونا : اہل مکہ کو پہلے ہی آپ کی آمد کی اطلاع ہوچکی تھی اور ان کی یہ انتہائی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس میں وہ اپنی توہین سمجھتے تھے۔ دستور کے مطابق اہل مکہ کسی بھی طواف اور عمرہ کرنے والے کو نہیں روک سکتے تھے۔ پھر یہ مہینہ بھی ذیقعد کا تھا جن میں اہل عرب کے دستور کے مطابق لڑائی منع تھی۔ ان دونوں باتوں کے باوجود قریش مکہ مسلمانوں کا مکہ میں داخلہ روکنے کے لئے لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔ چناچہ خالد بن ولید ایک فوجی دستہ لے کر مقابلہ کے لئے نکل آئے۔ خ حدیبیہ کے مقام پر فروکشی :۔ آپ کو جب یہ صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سیدھی راہ میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے مکہ کے زیریں علاقہ حدیبیہ میں فروکش ہوگئے۔ آپ نے اہل مکہ کو بہتیرا سمجھایا کہ ہم لڑنے کی غرض سے نہیں آئے فقط عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور قربانی کے جانور بھی دکھائے لیکن انہیں مسلمانوں کا مکہ میں داخل ہونا بھی گوارا نہ تھا۔ لہذا انہوں نے مسلمانوں کو واپس چلے جانے پر ہی اصرار کیا۔ سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان :۔ اسی دوران فریقین کی طرف سے کئی سفارتیں بھی آئیں اور گئیں۔ مسلمانوں کی طرف سے سیدنا عثمان ؓ کو سفیر بنا کر بھیجا گیا تو انہیں وہیں روک لیا گیا۔ اور افواہ یہ مشہور ہوگئی کہ سیدنا عثمان ؓ شہید کردیئے گئے۔ چناچہ قصاص عثمان کے سلسلہ میں آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے سب صحابہ کرام سے خون پر بیعت لی۔ جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ سیدنا عثمان ؓ کی بیعت :۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ کے نزدیک اہل مکہ کے لئے سیدنا عثمان ؓ سے کوئی زیادہ کوئی قابل احترام ہوتا تو آپ سفارت کے لئے اسے بھیجتے یہ بیعت سیدنا عثمان ؓ کی غیر موجودگی میں ہوئی۔ لہذا اپ نے یوں کیا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا یہ عثمان ؓ کا ہاتھ ہے اور اس کو بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ عثمان ؓ کی بیعت ہے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب عثمان بن عفان۔۔ ) بعد میں معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔ خ سفارتوں کے تبادلے اور صلح حدیبیہ :۔ دو تین دفعہ سفارتوں کے تبادلہ کے بعد با لآخر صلح کی شرائط پر سمجھوتہ ہوگیا۔ یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں اور بیعت رضوان کے بعد بالخصوص ایسی شرائط پر رضا مند بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے باوجود رسول اللہ نے ان شرائط کو منظور فرما لیا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا۔ صلح کی شرائط یہ تھیں۔ 1۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔ 2۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔ 3۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کردیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔ 4۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں۔ تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کردیا جائے گا اور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ خ شرائط قبول کرنے کی وجوہ :۔ مسلمانوں کو جب یہ سورة سنائی گئی تو وہ خود حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ ایسی توہین آمیز صلح فتح مبین کیسے ہوسکتی ہے ؟ یہ بحث بڑی تفصیل طلب ہے جس کا یہاں موقع نہیں۔ ہم یہاں ایسی وجوہ بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کی بنا پر آپ نے ایسی شرائط کو مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بلکہ ان کی مرضی کے علی الرغم منظور فرما لیا تھا۔ البتہ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ یہ سب وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق ہوا تھا۔ وہ وجوہ یہ ہیں : 1۔ جب سے آپ مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہو تاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق احسن نمٹا جاسکے۔ چناچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنونضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔ 2۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپ کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جارہے تھے۔ چناچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔ 3۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کردی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہے اور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار از خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمرو بن عاص فاتح مصر وغیرہم۔ 4۔ جنگ کی صورت میں مکہ میں موجود مسلمانوں کی تباہی یقینی تھی۔ قرآن کریم نے یہ ایک ایسی وجہ بیان فرمائی جس کا مسلمانوں کو خیال تک نہ آیا تھا۔ خ جانوروں کی قربانی :۔ اس معاہدہ صلح کی تحریر کے بعد آپ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی اپنی قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا۔ لیکن صحابہ کرام کو اس توہین آمیز صلح کا کچھ ایسا غم لاحق ہوگیا تھا کہ آپ کے اس حکم پر کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ (شاید وہ اسی انتظار میں ہوں کہ ابھی اللہ کی طرف سے کوئی اور حکم آجائے گا) اس سفر میں سیدہ ام سلمہ ؓ آپ کے ہمراہ تھیں۔ آپ نے ان سے جب یہ صورت حال بیان کی تو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ اپنی قربانی ذبح کردیں پھر صحابہ اپنی قربانیاں خود بخود ذبح کردیں گے۔ چناچہ آپ نے اپنی قربانی ذبح کی۔ بال منڈائے تو صحابہ کرام نے آپ کی اتباع میں قربانیاں کیں۔ بال منڈائے اور احرام کھول کر واپس مدینہ آگئے۔ (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ) خ عمرہ قضا :۔ پھر اگلے سال انہیں مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضائ) اب ہم یہاں چند احادیث درج کرتے ہیں جن سے اس سورة کا شان نزول اور صحابہ کرام بالخصوص سیدنا عمر کے اضطراب کا منظر سامنے آتا ہے : 1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ( اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ۝ ۙ ) 48 ۔ الفتح :1) سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) 2۔ شراط صلح پر سیدنا عمر ؓ کی بےقراری :۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ایک سفر (حدیبیہ) میں تھے اور سیدنا عمر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سیدنا عمر نے آپ سے کچھ پوچھا تو آپ نے جواب نہ دیا۔ سیدنا عمر نے پھر پوچھا تو بھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر (تیسری بار) پوچھا تب بھی آپ نے جواب نہ دیا۔ آخر سیدنا عمر اپنے تئیں کہنے لگے : تیری ماں تجھ پر روئے تو نے تین بار عاجزی کے ساتھ رسول اللہ سے پوچھا لیکن آپ نے ایک بار بھی جواب نہ دیا سیدنا عمر کہتے ہیں۔ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ اب میرے بارے میں قرآن نازل ہوگا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے ہی بلا رہا تھا۔ میں ڈر گیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن اترا ہے۔ پھر میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا : آج رات مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن تک سورج کی روشنی پہنچتی ہے پھر آپ نے یہ سورت پڑھی۔ (حوالہ ایضاً ) 3۔ سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ کے ساتھ موجود تھے۔ جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو لڑ سکتے تھے۔ سیدنا عمر آئے اور آپ سے کہا : کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک) باطل پر نہیں ؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں سیدنا عمر کہنے لگے : تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں ؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کردے ؟ آپ نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! رسول میں ہوں (تم نہیں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا چناچہ سیدنا عمر غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر قرار نہ آیا تو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آکر کہنے لگے۔ کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں ؟ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! اللہ کے رسول وہ ہیں (تم نہیں) اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا اس وقت سورة فتح نازل ہوئی۔ (حوالہ ایضاً ) 4۔ سیدنا عبداللہ بن مغفلص کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپ یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ (حوالہ ایضاً ) خ صلح حدیبیہ کی توہین آمیز شرائط سے خیر کے پہلو کیسے پیدا ہوئے اور ابو جندل کی حالت زار اور فریاد :۔ صلح حدیبیہ کی انہی توہین آمیز شرائط سے اللہ تعالیٰ نے خیر کے بہت سے پہلو پیدا کردیئے۔ مکہ میں رکھے جانے والے مسلمانوں نے جب مکہ میں تبلیغ شروع کردی اور بعض لوگ اسلام بھی لے آئے تو یہی بات قریش مکہ کے لئے سوہان روح بن گئی، اور مسلمانوں کے ہاں مدینہ سے واپس کئے جانے والے مسلمانوں نے تجارتی شاہراہ پر اپنی الگ بستی بسا کر قریش کے تحارتی قافلوں کا ناک میں دم کردیا۔ ان میں ایک ابو جندل تھے۔ قریش مکہ کے تیسرے اور آخری سفیر سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے اور مسلمان ہوچکے تھے جب شرائط صلح طے پارہی تھیں لیکن تاہنوز ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں اس وقت یہ اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر حدیبیہ میں مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے اور انہیں اپنے زخم دکھا دکھا کر التجا کی کہ اب انہیں کفار کے حوالہ نہ کیا جائے۔ مسلمان ابو جندل کو پناہ دینے کے حق میں تھے کیونکہ شرائط تاحال ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں مگر ابو جندل کا باپ سہیل اس بات پر اڑ گیا کہ اگر ابو جندل کو واپس نہ کیا گیا تو صلح نہیں ہوسکتی آخر رسول اللہ نے ابو جندل کو صبر کی تلقین فرمائی اور اسے واپس کردیا۔ اسی طرح سیدنا ابو بصیر اسلام لاکر مدینہ پہنچے تو کفار نے دو آدمی مدینہ بھیج دیئے کہ وہ انہیں واپس مکہ لائیں۔ آپ نے ابو بصیر کو ان کے ہمراہ کردیا۔ ابو بصیر نے راہ میں موقع پر ایک کو قتل کردیا اور دوسرا فرار ہو کر مدینہ آگیا اور رسول اللہ کو یہ ماجرا سنایا اتنے میں پیچھے پیچھے ابو بصیر بھی مدینہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور عرض کیا یارسول اللہ آپ نے مجھے ان کے ہمراہ بھیج کر اپنا ذمہ پورا کردیا۔ اب تو اللہ نے مجھے ان سے نجات دی رسول اللہ نے فرمایا : جنگ کی آگ نہ بھڑکاؤ سیدنا ابو بصیر کو جب معلوم ہوا کہ آپ انہیں مدینہ نہیں رہنے دیں گے تو وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے پر آکر مقیم ہوگئے۔ بعد ازاں ابو جندل بھی یہاں پہنچ گئے اور دوسرے نومسلم بھی مدینہ کے بجائے ادھر کا رخ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے قریش کو اس قدر تنگ کیا کہ انہوں نے مجبور ہو کر اس شرط کو کالعدم کردیا اور اجازت دے دی کہ جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ کفار نے رسول اللہ سے درخواست کی کہ ابو بصیر کو ان کاموں سے منع کریں اور جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ چناچہ آپ نے ابو بصیر کو لوٹ مار کرنے سے منع فرما دیا۔ (کتاب الشروط نیز کتاب المغازی وغیرہ)
Ayah 48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف کردے 2 اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے

2 ذَنْبٌ ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کا انجام برا ہو (مفردات القرآن) اور بمعنی ہر وہ کام جس کے نتیجہ میں مذمت ہو (فقہ اللغۃ اور اس لفظ کا اطلاق اس قدر عام ہے کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے لے کر بڑے بڑے گناہوں پر بھی ہوسکتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ قتل ناحق ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔ سیدنا موسیٰ اللہ تعالیٰ سے فرماتے ہیں : ( وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ 14۝ۚ ) 26 ۔ الشعراء :14) اور میرے اوپر ان کا ایک گناہ (خون ناحق) ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ ڈالیں۔ اور رسول اللہ نے فرمایا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ 43؀) 9 ۔ التوبہ :43) اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ان منافقوں کو کیوں (جہاد سے رخصت کی) اجازت دی ؟۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ معافی کسی گناہ یا غلطی کے کام پر ہی ہوتی ہے۔ اور اس آیت میں ذنب سے مراد تدبیری امور میں بعض اجتہادی غلطیاں ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں۔ اور اگلے پچھلے گناہ معاف کردینے کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ آپ دیدہ دانستہ کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتے۔ اس آیت کی آپ کو جو خوشی ہوئی اور اس کا آپ نے جو تاثر قبول کیا وہ مندرجہ ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینہ جارہے تھے۔ آپ نے فرمایا : مجھ پر ایک آیت (لِیَغْفِرَلَکَ ) ایسی اتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے پیاری ہے۔ صحابہ کہنے لگے : یارسول اللہ مبارک ہو، مبارک ہو ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے تو وضاحت فرمادی مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ( لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا ۝ ۙ ) 48 ۔ الفتح :5) (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) 2۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپ کی عبادت میں اضافہ :۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب صحابہ کو کوئی حکم دیتے تو ایسے کاموں کا دیتے جنہیں وہ (بآسانی) کرسکتے۔ صحابہ عرض کرتے، ہم آپ جیسے نہیں۔ آپ کے تو اللہ نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں۔ اس بات پر آپ غصہ میں آجاتے اور غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر نمودار ہوجاتے اور فرماتے : (سن لو) تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہوں (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب قول النبی انا اعلمکم باللّٰہ) 3۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : آپ رات کو (تہجد کی نماز میں) اتنا زیادہ قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں تڑخ جاتے (اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے) سیدہ عائشہ ؓ نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں ؟ آپ کے تو اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ پھر جب آپ کا جسم (آخر عمر میں) فربہ ہوگیا تو آپ یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قرأت فرماتے۔ پھر رکوع کرتے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 48:3

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور آپ کو زبردست 3 نصرت عطا کرے

3 صلح حدیبیہ میں اللہ کے چار احسانات :۔ اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار چیزیں عطا فرمائیں۔ (1) سابقہ اور آئندہ لغزشوں کی معافی، (2) اتمام نعمت، اتمام نعمت سے مراد یہ ہے کہ آئندہ اب مسلمانوں پر ہنگامی فضا مسلط نہ رہ سکے گی اور وہ اپنی جگہ ہر طرح کے خوف اور بیرونی مداخلت سے محفوظ و مامون رہ کر پوری طرح اسلامی تہذیب وتمدن اور اسلامی قوانین و احکام کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرسکیں گے اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ بجا لاسکیں گے، (3) اس مقام پر آپ کو سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب آپ کو فتح و کامرانی کی راہ دکھانا ہے۔ یعنی اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ نے آپ کے لئے وہ راہ ہموار کردی جس سے تمام اسلام دشمن طاقتیں مغلوب ہوتی جائیں اور (4) (نَصْرًا عَزِیْزًا) سے مراد ایسی مدد ہے جو بظاہر دشمن کو اپنی فتح نظر آرہی ہے مگر حقیقت میں وہی اس کی جڑ کاٹ دینے والی اور مغلوب کرنے والی ہے۔ خ حدیبیہ میں پانی کی قلت اور آپ کے معجزات :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ اور بھی احسان فرمائے۔ اسلامی لشکر یہاں بیس دن سے بھی زیادہ قیام پذیر رہا۔ اس دوران پانی کی شدید قلت واقع ہوگئی۔ چناچہ سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ سخت پیاسے ہوگئے۔ رسول اللہ کے پاس ایک چھاگل تھی۔ آپ نے اس میں سے وضو کیا۔ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں پوچھا : کیا ماجرا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ہمارے پاس نہ وضو کے لئے پانی ہے اور نہ پینے کے لئے۔ بس یہی پانی ہے جو آپ کی چھاگل میں ہے۔ یہ سن کر آپ نے اپنا ہاتھ اس چھاگل میں رکھ دیا۔ آپ کی انگلیوں سے پانی چشموں کی طرح بہنے لگا۔ چناچہ ہم سب لوگوں نے پانی پیا اور وضو بھی کیا سالم (راوی) نے جابر ؓ سے پوچھا : اس دن تم کتنے آدمی تھے ؟ جابر ؓ نے کہا کہ اگر لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی ہمیں کفایت کرجاتا ہم تو صرف پندرہ سو آدمی تھے۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ) دوسرا واقعہ سیدنا براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ میں رسول اللہ کے ہمراہ چودہ سو یا زیادہ آدمی تھے۔ ایک کنوئیں پر اترے اور اس کا سارا پانی کھینچ ڈالا۔ پھر آپ کے پاس آکر عرض کیا کہ پانی نہیں رہا۔ اب کیا کریں۔ آپ کنوئیں پر تشریف لا کر اس کی منڈیر پر بیٹھے اور فرمایا اس کے پانی کا ایک ڈول لاؤ۔ آپ نے اپنا لب اس میں ڈال دیا اور اللہ سے دعا کی۔ پھر فرمایا : ساعت بھر اس سے پانی نہ نکالنا۔ اس کے بعد اس کنوئیں کے پانی سے آدمیوں نے اپنے آپ کو اور سب جانوروں کو سیراب کرلیا۔ پھر وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ) خبارش کو سیاروں سے منسوب کرنے والا کافر ہے :۔ اس کے بعد اللہ کی رحمت سے بارش ہوگئی اور مسلمانوں نے پانی ذخیرہ بھی کرلیا۔ چناچہ زید بن خالد جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہوچکی تھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار اللہ عزوجل کیا فرماتا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج صبح میرے کچھ بندے مومن ہوئے اور کچھ کافر۔ جس نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی۔ وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ یہ بارش فلاں ستارے کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے سے ہوئی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں کا مومن ہے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب یستقبل الامام الناس اذاسلم)
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں اطمینان ڈال 4 دیا تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ مزید اطمینان کا اضافہ کرلیں اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

4 صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے جذبات کی دو انتہائیں :۔ حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہوئیں اور دونوں ہی اپنی انتہا کو پہنچیں اور دونوں ہی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا نتیجہ تھیں۔ پہلے خون پر بیعت لی گئی جس سے مسلمانوں میں جنگ کے لئے اس قدر اشتعال پیدا ہوگیا کہ وہ کافروں کے مقابلہ میں سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس کے بعد مسلمان دراصل صلح کے حق میں ہی نہ تھے چہ جائیکہ نہایت توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے آمادہ ہوں۔ ان باتوں پر سیدنا ابو جندل کا واقعہ مزید اشتعال دلانے والا تھا جس سے سب مسلمانوں کے دل بھر آئے تھے اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ تو یہ چاہتے تھے کہ اسی وقت کافروں کی تکا بوٹی کردیں۔ اور اس وقت انہیں یہ قدرت بھی حاصل تھی۔ مگر جب انہیں اللہ اور اس کے رسول نے ٹھنڈا کیا۔ تو یکدم ان کے جذبات ٹھنڈے ہوگئے۔ ہر مسلمان جب دوسرے سے یہ پوچھتا کہ آج ایسی توہین آمیز شرائط پر صلح کیوں کی جارہی ہے تو ہر ایک یہی جواب دے دیتا اللہ و رسولہ اعلم سیدنا عمر کی طبیعت کفار کے حق میں سب سے زیادہ جوشیلی تھی۔ انہوں نے کچھ اضطراب کا مظاہرہ ضرور کیا جیسا کہ مذکور دو احادیث سے واضح ہے۔ مگر وہ بھی نافرمانی کی حد کو نہ پہنچا اور سیدنا عمر کو اس بات کا عمر بھر افسوس بھی رہا۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سکون نازل کیا گیا وہ اللہ کی طرف سے تھا۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ حالات کچھ اور رخ اختیار کر جاتے۔ اگر کافروں کو کچلنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے پاس مدد کے اور بھی کئی طریقے اور اسباب موجود تھے۔ البتہ ان دونوں انتہاؤں میں مسلمانوں کی آزمائش ہوگئی کہ وہ کس حد تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع رہتے ہیں۔ پھر جب وہ اس آزمائش میں پورے اترے تو یہی بات ان کے ایمان میں مزید اضافہ کا سبب بن گئی اور اللہ نے اپنے رسول پر بھی احسان فرمایا اور مسلمانوں پر بھی۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ مومن مردوں 5 اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کی برائیاں دور کردے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔

5 جذبات میں سکون اللہ کی طرف سے :۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں آیت نمبر 2 کے تحت درج شدہ حدیث ملاحظہ فرما لیجئے۔ یعنی حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں نے جو کمال صبر اور اللہ اور اس کے رسول کی بےچون و چرا اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مسلمانوں کو بھی بہت اجر ملے گا اور ان مسلمان عورتوں کو بھی جنہوں نے کسی نہ کسی صورت میں اس غزوہ میں حصہ لیا تھا۔ کیونکہ مجاہدین کو بہ طیب خاطر روانہ کرنے، بعد میں گھر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری میں عورتوں کا جتنا حصہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ بالخصوص ان حالات میں کہ رسول اللہ صحابہ کی ایک کثیر تعداد کو ساتھ لے جارہے ہوں اور مدینہ کے ارد گرد دشمن ہی دشمن موجود ہوں۔
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں 6 کو عذاب دے جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں۔ بری گردش انہی پر پڑگئی اور ان پر اللہ کا غضب ہوا، اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم تیار کی۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔

6 منافقوں کا گمان کہ اب مسلمان کبھی واپس نہ آسکیں گے :۔ غزوہ حدیبیہ میں کوئی منافق شریک نہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ اس غزوہ میں اموال غنیمت کا کوئی قصہ ہی نہ تھا۔ اور مسلمان محض رضائے الٰہی کے لئے عمرہ کرنے جارہے تھے تو کافروں نے مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور حالات کشیدہ ہوتے گئے تو یہ خبریں مدینہ میں پہنچ رہی تھیں۔ چناچہ منافقوں نے خوب بغلیں بجانا شروع کردیں کہ پہلے تو قریش مکہ یہاں اپنے وطن سے بہت دور آکر لڑائی کرتے تھے لیکن اب مسلمان خود ان کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ اب یہ وہاں سے بچ کر کبھی نہ آسکیں گے۔ اس صلح سے اور مسلمانوں کے بخیر و عافیت واپس مدینہ پہنچ جانے سے منافقوں کی دل کی جلن میں مزید اضافہ ہوگیا اور ان کے درپردہ کئی منصوبوں پر پانی پھر گیا یہی ان کے لئے کافی سزا تھی۔ دوسری طرف مشرکین مکہ اس بات پر بغلیں بجا رہے تھے کہ وہ مسلمانوں سے اپنی من مانی شرائط ان تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ حالانکہ بعد میں یہی شرائط ان کی جڑ کاٹ دینے والی ثابت ہوئیں۔ سب سے توہین آمیز شرط یہ تھی کہ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو مسلمان اسے واپس کردیں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو قریش مکہ اسے مسلمانوں کو واپس نہیں کریں گے۔ اس شرط کا جو نتیجہ نکلا اس کا حال ہم ابتدا میں لکھ چکے ہیں۔ دوسری شرط یہ تھی کہ قبائل عرب میں سے جو کوئی فریقین میں سے کسی کا حلیف بننا چاہے بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف بن گئے اور بنو بکر قریش مکہ کے۔ بنو خزاعہ اور بنوبکر میں جھگڑا ہوگیا تو قریش مکہ نے صلح نامہ حدیبیہ کے علی الرغم بدعہدی کرکے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی اور بنو خزاغہ پر زیادتی کی۔ چناچہ مشرکین مکہ کی یہی بدعہدی فتح مکہ، ان پر وبال اور ان کے زوال کا سبب بن گئی۔ تیسری شرط یہ تھی کہ فریقین دس سال تک جنگ نہیں کریں گے۔ اس شرط کا حشر یہ ہوا کہ جب بنو خزاعہ نے جا کر مدینہ میں آپ سے فریاد کی اور قریش مکہ کی زیادتی اور بدعہدی کا ذکر کیا تو اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کے لئے خود ابو سفیان کو مدینہ جاکر منتیں کرنا پڑیں۔ پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔ اور چوتھی شرط یہ تھی کہ مسلمان اگلے سال آکر عمرہ کریں گے اور تین دن کے لئے مشرکین مکہ اس شہر کو خالی کردیں گے۔ اس شرط پر ٹھیک طور پر عمل درآمد ہوا۔ اور یہ مسلمانوں کی انتہائی دیانتداری اور شرافت تھی کہ وہ اپنے عہد کو ملحوظ رکھتے ہوئے عمرہ کرکے تین دن کے بعد واپس چلے گئے۔ مسلمانوں کے بجائے کوئی اور ہوتا تو جس طرح شہر خالی پڑا تھا فوراً اس پر قبضہ کرلیتا۔ اور یہ خطرہ مشرکین مکہ کو بھی محسوس ہونے لگا تھا۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور مشرکوں کی آرزوؤں اور تدبیروں کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ان کی تدبیریں انہی پر الٹ پڑیں۔ بعد میں انہیں جو عذاب دنیا میں دیکھنے پڑے یا آخرت میں ان سے دو چار ہونا پڑے گا۔ وہ مستزاد ہیں۔
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر 7 اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔

7 یہ لشکر فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں غرضیکہ جتنے بھی باطنی اسباب ہیں۔ سب اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ ان سے یہ کام بھی لے سکتا ہے کہ میدان جنگ میں ان سے مسلمانوں کی مدد کرے اور کافروں کو پٹوا دے اور یہ کام بھی لے سکتا ہے کہ بدکردار لوگوں کے مکر و فریب کی چالوں کو انہی پر الٹ دے اور حالات ہی ایسے پیدا کردے کہ وہ خود ہی اپنے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جائیں۔ اور یہ سب کچھ اس کی اپنی حکمت اور صوابدید پر منحصر ہے۔
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، بشارت 8 دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

8 اس آیت کی تشریح کے لئے سورة احزاب کی آیت نمبر 45 کے حواشی ملاحظہ فرما لیجئے۔
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو 9 اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔

9 اس آیت میں (تُسَبِّحُوْہُ ) میں ہ کی ضمیر کا مرجع تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔ رہیں (تُعَزِّرُوْہُ ) اور ( َتُوَقِّرُوْہُ ) میں ہ کی ضمیریں تو ان کا مرجع بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہونا چاہئے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بالکل ساتھ ساتھ ہیں اور پہلی دو ضمیروں کا مرجع رسول اللہ کی طرف ہونے کے لئے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر بنا کر اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے دین کی بھرپور مدد کرو۔ اور اللہ کے احکام اور اس کی حرمت والی چیزوں کا پورا ادب اور تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح وتحمید بیان کرو۔ تاہم بعض علماء نے (تُعَزِّرُوْہ) اور ( وَتُؤَقِّرُوْہ) میں ضمائر کا مرجع رسول اللہ کی ذات کو قرار دیا ہے اس صورت میں بھی کوئی اشکال نہیں کیونکہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں آپ کی غیر مشروط اطاعت ہر حال میں مدد اور آپ کا ادب و احترام کا حکم صراحت سے مذکور ہے۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں 10 پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اب جو شخص اس عہد کو توڑے تو اسے توڑنے کا وبال اسی پر ہوگا اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو عنقریب اللہ اسے بڑا اجر عطا کرے گا۔

10 بیعت رضوان خون پر بیعت تھی :۔ یہ بیعت اس شرط پر لی جارہی تھی کہ اگر شہادت عثمان ؓ کی خبر درست ہو تو مسلمان ان کا قصاص لینے کے لئے جانیں لڑا دیں گے اور جب تک یہ مقصد پورا نہ ہوجائے ان میں کوئی زندہ واپس نہ جائے گا۔ اس کی بیعت کی صورت یہ تھی کہ بیعت کرنے والا نیچے ہاتھ رکھتا تھا۔ اور رسول اللہ اس کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھ کر عہد لیتے تھے۔ سیدنا عثمان ؓ کی بیعت کی صورت :۔ سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خبر چونکہ یقینی نہ تھی بس افواہ ہی تھی اور ان کے زندہ سلامت ہونے کا امکان موجود تھا۔ لہذا آپ نے سیدنا عثمان ؓ کی طرف سے بھی خود ہی بیعت کی۔ اپنا ہی ایک ہاتھ نیچے رکھا اور دوسرا اوپر رکھ کر بیعت مکمل کی۔ گویا آپ کو سیدنا عثمان ؓ پر اتنا اعتماد تھا کہ اگر وہ زندہ ہیں تو یقیناً ایسی بیعت سے کبھی پیچھے نہیں رہ سکتے۔ خ یہ بیعت دراصل اللہ ہی سے عہد تھا :۔ نیز اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے والوں سے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تمہارے ہاتھ کے اوپر دوسرا رسول کی شخصیت کا ہاتھ ہے جس سے تم عہد کر رہے ہو۔ بلکہ یہ اللہ کے نائب رسول کا ہاتھ ہے۔ جو اس وقت اپنی ذات کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کے نائب ہونے کی حیثیت سے تم سے بیعت لے رہا ہے۔ خ بیعت کی مختلف صورتیں :۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں کئی بار بیعت لی ہے۔ سب سے پہلی بیعت بیعت عقبہ تھی جس میں اہل مدینہ نے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر رسول اللہ ان کے ہاں تشریف لائیں تو وہ ہر تنگی ترشی میں ان کی مدد کرینگے اور ان کی جان کی حفاظت کریں گے۔ یہاں جہاد یا خون پر بیعت کا ذکر ہے اور بعض مقامات پر بھلائی کے کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے اجتناب کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے اور ایسی بیعت آپ مردوں سے بھی لیتے تھے اور عورتوں سے بھی۔ خ امیر کی سمع واطاعت کی بیعت لازم ہے خواہ یہ بالواسطہ ہو :۔ یہاں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیعت ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ضروری صرف وہ بیعت ہے جو امیرالمومنین سے سمع وطاعت کے اصول پر کی جاتی ہے اور یہ بالواسطہ بھی ہوسکتی ہے۔ اور اس سے مقصود صرف مسلمانوں کی جمعیت اور سیاسی قوت کو مضبوط بنانا اور مشترکہ طور پر اللہ کے دین کو سر بلند کرنا اور رکھنا ہوتا ہے۔ خ پیروں فقیروں کی بیعت ؟:۔ رہی وہ بیعت جو پیرو مشائخ نے لازمی بنا رکھی ہے۔ تو یہ ہرگز واجب نہیں البتہ مشروع ضرور ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ پیر یا شیخ خود پوری طرح شریعت کا پابند ہو۔ اور اگر پیر صاحب خود ہی شریعت کے پابند نہ ہوں تو ان کی بیعت جائز نہ ہوگی بلکہ عذاب کا باعث بن جائے گی۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

دیہاتیوں میں سے 11 جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ اب آکر آپ سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے اموال اور گھر والوں کی فکر نے مشغول رکھا تھا : لہذا ہمارے لئے 12 بخشش کی دعا فرمائیے۔ وہ اپنی زبانوں سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔ آپ ان سے کہئے : کون ہے جو تمہارے حق میں اللہ کے سامنے کچھ بھی اختیار رکھتا ہو اگر وہ نقصان پہنچانا 13 چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ بلکہ جو تم (کہہ اور) کر رہے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

11 منافق کن وجو کی بناء پر صلح حدیبیہ کے سفر میں ساتھ نہیں گئے تھے :۔ جب آپ نے عمرہ کا ارادہ کیا تو مدینہ اور آس پاس کی بستیوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کرایا گیا تھا کہ جو شخص عمرہ کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ جانا چاہتا ہو وہ مدینہ پہنچ جائے۔ مگر آس پاس کی بستیوں کے کچھ قبائل مثلاً غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع کے لوگوں نے آپ کے ہمراہ جانے سے گریز کیا یہ لوگ دراصل منافق تھے اور اپنے خیال میں کسی بھلے وقت کے منتظر رہنے والوں میں سے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش مکہ تو مکہ سے یہاں آکر مسلمانوں کے بہت سے افراد کو میدان احد میں قتل کر گئے تھے اب یہ مختصر سی جمعیت جو خود اپنے جانی دشمنوں کے گھر پہنچ رہی ہے وہ لوگ بھلا انہیں زندہ واپس آنے دیں گے۔ اسی خیال سے انہوں نے اس غزوہ سے عدم شمولیت میں ہی اپنی عافیت سمجھی تھی۔ 12 جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت یہ سورة نازل ہوئی اور اللہ نے آپ کو منافقوں کے خبث باطن اور آئندہ کردار سے بھی مطلع کردیا کہ یہ لوگ طرح طرح کے بہانے اور عذر پیش کریں گے کہ ہم فلاں مجبوری کی وجہ سے آپ کے ساتھ نہ جاسکے۔ لہذا آپ اللہ سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارا یہ قصور معاف فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا آپ کو استغفار کے لئے کہنا بھی ایک فریب ہے اور وہ آپ کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہیں آپ کے ساتھ نہ جانے کا واقعی بہت افسوس ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اپنی اس حرکت کو اپنا قصور سمجھتے ہیں، نہ انہیں کچھ افسوس ہے اور نہ ہی وہ اپنے لئے دعائے استغفار کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کا زبانی جمع خرچ ہے جس سے وہ آپ کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔ 13 یعنی اے منافقو ! تم نے اس غزوہ سے عدم شمولیت میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گھروں میں موت سے دو چار کر دے یا اور کوئی مصیبت تم پر ڈال دے تو اس سے تمہیں کوئی بچا سکتا ہے یا تم خود اسے روک سکتے تھے ؟ یا مثلاً تم اس سفر پر رسول کے ساتھ چلے جاتے اور اللہ تمہارے اہل و عیال کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے یا اس سفر میں بھی فائدہ پہنچا دے تو کیا اسے کوئی روک سکتا ہے ؟
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسول اور مومن کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں 14 کو بہت اچھا لگا اور تم بہت برا گمان سوچ رہے تھے۔ اور تم ہو ہی ہلاک ہوجانے والے لوگ

14 منافقوں کا گمان کہ مسلمان بچ کر نہ لوٹ سکیں گے :۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نہ تمہارا اللہ پر اعتماد ہے اور نہ اس کے وعدوں پر۔ تمہارا بس یہ گمان تھا کہ یہ مٹھی بھر لوگ بچ کر واپس نہ آسکیں گے۔ اور تمہارا یہ گمان ہی نہ تھا تمہاری آرزو بھی یہی تھی۔ تمہیں اس بات پر مطلق شرم نہ آئی کہ تم اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے معاملہ میں کس قدر بدباطنی سے ایسی سوچ سوچ رہے تھے۔ پھر دوسرا جرم یہ کر رہے ہو کہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے بنا کر اور اللہ کے رسول سے استغفار کی التجا کرکے اپنی بدباطنی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہو۔ تمہارا یہ خبث باطن اور جھوٹ آخر تمہیں تباہ کرکے رہے گا۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ایسے کافروں کے لئے 15 ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

15 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے بدظنی رکھے یا مسلمان ہونے کے باوجود اس کی ہمدردیاں اسلام دشمن گروہ کے ساتھ ہوں وہ ایماندار نہیں رہتا بلکہ غیر مومن ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اسی آیت کا اگلا حصہ یہ وضاحت کر رہا ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے اور اسے آخرت میں کافروں جیسا ہی عذاب ہوگا۔ اگرچہ اس دنیا میں ایمانداروں میں ہی ملا جلا رہے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے جسے چاہے معاف کردے اور جسے چاہے سزا دے اور وہ 16 معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

16 یعنی وہ جسے چاہے فائدہ پہنچا سکتا ہے خواہ حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوں۔ اسی طرح وہ جسے چاہے ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اس لئے یہ کائنات ساری کی ساری اس کی مملوک ہے اور ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت ہیں۔ جن میں وہ ہر طرح سے تصرف کرسکتا ہے۔ ہاں اگر تم اپنی کرتوتوں اور بدباطنی سے باز آجاؤ تو وہ تمہیں معاف بھی کردے گا۔ کیونکہ حقیقتاً وہ اپنے بندوں پر مہربانی کا سلوک کرنے سے ہی خوش ہوتا ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے فوراً کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ 17 چلنے دو ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل 18 دیں۔ آپ ان سے کہئے : تم ہرگز ہمارے ساتھ 19 نہ جاؤ گے (کیونکہ) اللہ پہلے ہی ایسی بات فرما چکا ہے۔ پھر وہ کہیں گے (یہ بات نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو ( یہ بات بھی نہیں) مگر یہ لوگ 20 حقیقت کو کم ہی سمجھتے ہیں

17 منافقوں کی غزوہ خیبر میں شمولیت کی خواہش کیوں تھی ؟ فتح خیبر کا واقعہ غزوہ حدیبیہ کے تین ماہ بعد محرم 7 ھ بعد میں پیش آیا۔ جلاوطن شدہ یہود یہیں اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ بنونضیر بھی مدینہ سے جلاوطن ہو کر یہیں مقیم ہوگئے تھے۔ انہی کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو ورغلا کر جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عہد شکنی پر مجبور کردیا تھا۔ اور وہ اتحادی کافروں سے مل گئے تھے۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد ان لوگوں کی سرکوبی ضروری تھی۔ یہ سفر نسبتاً آسان بھی تھا اور یہاں سے اموال غنیمت کی بھی بہت توقع تھی۔ غزوہ حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والے منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین ماہ پہلے ہی بتادیا کہ جب تم اس سفر پر جانے لگو گے تو پھر یہ لوگ تمہارے ساتھ جانے کے لئے فوراً تیار ہوجائیں گے کیونکہ وہاں جان و مال کے ضیاع کا خطرہ کم اور بہت زیادہ اموال غنیمت مل جانے کی توقع ہوگی۔ 18 اللہ کا حکم یا فیصلہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے بارے میں مخلص ہیں۔ اللہ انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرے اور مالی فائدے بھی پہنچائے۔ مگر یہ منافق یہ چاہتے ہیں کہ جان و مال کے ضیاع کا خطرہ ہو تو یہ بہانے بنا کر اپنی جانیں اور مال بچا لیں اور مخلص مسلمان ہی ایسے مشکل اوقات میں آگے بڑھیں اور جب جان و مال کا کوئی خوف نہ ہو اور مال ملنے کی امید ہو تو یہ بھی ان میں شامل ہوجائیں۔ ان کی اس آرزو سے اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ 19 غزوہ خیبر میں صرف ان مسلمانوں کو ساتھ لیا گیا جو بیعت رضوان میں شامل تھے :۔ لہذا جب خیبر پر چڑھائی کا وقت آئے اور یہ مسلمانوں کے ہمراہ جانے کی آرزو کریں تو آپ انہیں دو ٹوک لفظوں میں بتا دیجئے کہ ہم تمہیں اپنے ہمراہ نہیں لے جاسکتے۔ کیونکہ اللہ ہمیں اس بات سے منع کرچکا ہے۔ چناچہ عملاً یہی کچھ ہوا آپ صرف انہی صحابہ کرام ؓ کو غزوہ خیبر میں اپنے ساتھ لے گئے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کے ہاتھ پر خون پر بیعت کی تھی۔ 20 منافقوں کا جواب بھی ناانصافی پر مبنی ہے : یعنی جب تم بہانہ ساز منافقوں سے یہ کہو گے کہ تم غزوہ خیبر کے مجاہدین میں شامل نہیں ہوسکتے تو وہ فوراً تم لوگوں پر مزید یہ الزام لگا دیں گے۔ تم یہ چاہتے ہی نہیں کہ ہمیں بھی اموال غنیمت سے کچھ حصہ مل جائے اور تم ہمارا حسد کرتے ہو کہ کہیں ہم لوگ بھی آسودہ حال نہ بن جائیں۔ یعنی اس وقت تک بھی ان کا خیال اپنے قصور کی طرف نہیں جائے گا کہ جب ہم کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تو ہمیں آسانی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں کیسے حصہ دار بنایا جاسکتا ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرائینگے۔ یہ ان کے خبث باطن کی ایک اور دلیل ہے۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

آپ پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہئے کہ : عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے (مقابلہ کے لئے) بلایا جائے گا۔ تمہیں ان سے لڑنا ہوگا 21 یا وہ مطیع ہوجائیں گے۔ اس وقت اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر عطا کرے گا اور اگر تم نے منہ پھیرلیا جیسے پہلے پھیرلیا تھا تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا

21 جنگجو قوم کونسی تھی ؟ ثقیف ہوازن اور بنو حنیفہ :۔ (یُسْلِمُوْنَ ) کے دو مطلب ہیں ایک وہ جو ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بغیر ہی آپ کی اطاعت قبول کرلیں گے اور جزیہ ادا کریں گے نیز اسلام کی راہ میں مزاحمت کرنا چھوڑ دیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ گویا حسد کا طعنہ دینے والے منافقوں کو سمجھایا یہ جارہا ہے کہ جب تک تم اپنے اموال اور اپنی جانوں کی قربانی سے یہ ثابت نہ کردو کہ تم اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مخلص ہو تو اموال غنیمت میں حصہ دار کیسے بن سکتے ہو ؟ اب اس کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ آئندہ بھی کئی مواقع پر جنگجو قوموں سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت تمہیں جہاد میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دی جائے گی اور تمہارے ایمان کی آزمائش کی جائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سے جنگ کرنا پڑتی ہے یا وہ لڑے بھڑے بغیر ہی مطیع فرمان بن جاتے ہیں۔ بہرحال تمہارے روانہ ہونے سے ہی تمہارا امتحان ہوجائے گا۔ پھر اگر تو تم اپنے دعوے میں سچے اور اپنے ایمان میں مخلص ہوئے تو تم ایسی جنگجو قوم سے لڑنے اور سردھڑ کی بازی لگانے پر تیار ہوجاؤ گے تو تمہیں اموال غنیمت میں سے بھی حصہ ملے گا اور اللہ سے بھی بڑا اچھا بدلہ ملے گا۔ لیکن اگر تم نے پھر وہی کام کیا جو غزوہ حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا اور حیلے بہانے تراشنے لگے تو پھر تمہاری اور بھی زیادہ ذلت اور رسوائی ہوگی اور آخرت میں بھی دردناک سزا ملے گی۔ واضح رہے کہ اس آیت میں جنگجو قوم سے مراد جنگ حنین میں حصہ لینے والے قبیلے ثقیف اور ہوازن بھی ہوسکتے ہیں اور مسیلمہ کذاب کی جنگ یمامہ میں حصہ لینے والے بنو حنیفہ بھی۔ علاوہ ازیں خلافت ابوبکر صدیق ؓ و عمر کے دور میں بھی کئی معرکے پیش آتے رہے۔ صلح حدییبہ میں مسلمانوں کی مرضی کے علی الرغم رسول اللہ نے بظاہر توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے اصرار فرمایا تھا تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تھے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ جنگ کا خطرہ سر پر سوار نہ ہو اور جب بھی جنگ کا موقعہ آتا تو قریش، یہود، منافقین اور مشرک قبائل سب مسلمانوں کے خلاف اتحاد قائم کرلیتے تھے۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ کم از کم قریش مکہ سے صلح کرکے دوسرے دشمنوں کی سرکوبی کی جائے۔ جنگ احزاب میں بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب بھی قتل کردیا گیا۔ جو خیبر کے یہود کا سردار تھا تو یہودی اور بھی سیخ پا ہوگئے تھے اور مدینہ پر پرزور حملہ کرکے ان کا استیصال کرنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے۔ اور یہ خبریں دم بدم مدینہ بھی پہنچ رہی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے خود ان پر لشکر کشی کا ارادہ کرلیا۔ اس لشکر کا بیشتر حصہ وہی مسلمان تھے جنہوں نے صلح حدیبیہ یا بیعت رضوان میں حصہ لیا تھا۔ خ خیبر پر حملہ کا آغاز :۔ خیبر میں یہودیوں کے جو مشہور قلعے تھے جن میں بیس ہزار آزمودہ کار سپاہی موجود تھے۔ اسلامی لشکر رات کے وقت خیبر کے پہلے قلعہ ناعم پر پہنچ گیا۔ اس وقت قلعہ والے اسلامی لشکر کی یورش سے بالکل بیخبر محو خواب تھے۔ شب خون مار کر قلعہ کو فتح کرنے کا یہ بہترین موقعہ تھا۔ لیکن آپ شب خون مارنے کے خلاف تھے۔ اور مسلمانوں کو بھی شب خون مارنے کی ممانعت کردی تھی۔ لہذا آپ نے لشکر کو صبح ہونے تک توقف کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ آپ جب کسی قوم پر جہاد کرتے تو ان پر صبح تک حملہ نہ کرتے، صبح اگر ان لوگوں میں اذان کی آواز سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر آذان کی آواز نہ آتی تب حملہ کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی پھاوڑے ٹوکریاں لے کر نکلے۔ کیونکہ وہ زراعت پیشہ تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ اٹھے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! یہ تو محمد ہیں جو لشکر سمیت آن پہنچے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر نعرہ لگایا۔ اللہ اکبر خربت خیبر (اللہ اکبر ! خیبر کی شامت آگئی) پھر فرمایا : ہم جب بھی کسی قوم کے آنگن میں اترے تو جن لوگوں کو ڈرایا گیا ان کی صبح منحوس ہی ہوتی ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب دعاء النبی الی الاسلام والنبوۃ۔۔ ) چناچہ یہ یہودی خوف زدہ ہو کر شہر کی طرف بھاگے اور قلعہ ناعم میں جا پناہ لی۔ ناعم میں یہود کا صرف سامان رسد وغیرہ تھا کوئی بڑی فوجی قوت نہ تھی۔ لہذا مسلمانوں نے اسے آسانی سے فتح کرلیا۔ اس کے بعد دوسرے چھوٹے قلعے بھی آسانی کے ساتھ تسخیر ہوگئے۔ لیکن سب سے مضبوط اور سب سے اہم سلام بن ابی الحقیق کا قلعہ قموص تھا جس میں یہود کا سردار اور مشہور جری پہلوان مرحب بھی موجود تھا۔ قموص پر ہر روز حملے ہوتے رہے لیکن یہ سر ہونے میں نہ آتا تھا۔ اسی طرح بیس دن گزر گئے تو رسول اللہ نے فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر فتح کرا دے گا۔ اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ خ آپ کا سیدناعلی کو جھنڈا عطا کرنا :۔ لوگ رات بھر اسی سوچ میں رہے کہ دیکھئے کل کس کو جھنڈا ملتا ہے۔ صبح سب لوگ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا علی ؓ ابن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ان کی تو آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا : کسی کو اسے بلانے کے لئے بھیج دو ۔ جب سیدنا علی ؓ آئے تو آپ نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں پر لگایا اور دعا فرمائی۔ وہ ایسے اچھے ہوگئے جیسے انہیں کچھ تکلیف ہی نہ تھی۔ آپ نے جھنڈا ان کے حوالے کیا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ کیا میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح (مسلمان) نہ ہوجائیں ؟ آپ نے فرمایا : کہ آرام سے جاؤ جب ان کے مقام پر پہنچ جاؤ تو انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان پر اللہ کا جو فرض ہے وہ انہیں بتاؤ۔ اللہ کی قسم اگر تیرے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تیرے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب علی ابن ابی طالب) اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فرمایا کرتے تھے کہ مجھے کبھی کسی منصب یا عہدے کی آرزو پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اس رات میرے دل میں بھی یہ خواہش مچل رہی تھی کہ کاش صبح میرا نام پکارا جائے۔ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل علی ابن ابی طالب) خ سیدنا علی اور مرحب کا مقابلہ :۔ چناچہ سیدنا علی ؓ فوج لے کر قلعہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے مقابلہ کے لئے یہودی سالار مرحب مقابلہ کو نکلا اور میدان میں اتر کر تین مصرعوں کا شعر پڑھا : قد علمتْ خیبر انی مرحَب۔۔ شَاک السَّلاحِ بَطَلٌ مجرَّبٌ۔۔ اِذَا الحُروبُ اَقْبَلَتْ تَلَھَّبُ سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بند ہوں اور اس وقت آزمودہ کار پہلوان ثابت ہوتا ہوں۔ جب لڑائیاں شعلے اڑانے لگتی ہیں اس کے جواب میں سیدنا علی ؓ نے بھی تین مصرعے کا شعر پڑھا : انا الذی سمَّتُنِی اُمّی حیدرَہ،۔۔ کَلَیْثِ غاباتٍ کر یہ المَنْظَرَہ۔۔ اُو فیھِم بالصَّاع کیل السُّنْدَرَہ، میں وہ ہوں جس کا میری ماں نے شیر نام رکھا تھا۔ میں جنگلوں کے شیر کی طرح جس کو دیکھوں سب ڈر جاتے ہیں۔ اور میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا کرتا ہوں پھر سیدنا علی نے مرحب کے سر پر ایک ایسی کاری ضرب لگائی جس سے اس کا کام تمام ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی ؓ کے ہاتھ پر فتح دی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب غزوۃ ذی قرد وخیبر) مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر میدان میں اترا تو سیدنا زبیر نے اسے ڈھیر کردیا۔ اس پر یہودیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور قلعہ فتح ہوگیا۔ اس معرکہ خیبر میں ترانوے یہودی کام آئے اور بیس مجاہدین شہید ہوئے۔ خ یہودیوں کی جان بخشی کی شرائط :۔ اس شکست فاش کے بعد یہودیوں نے آپ سے جان بخشی کی درخواست کی جسے آپ نے اس شرط پر منظور کیا کہ یہود اپنی تمام جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ یعنی ہتھیار، نقدی اور مویشی نیز زمین اور باغات وغیرہ سب کچھ مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے اور اگر انہوں نے جائداد کا اتا پتا بتانے میں پس و پیش کیا تو یہ معاہدہ ختم اور مسلمانوں کو انہیں قتل کردینے یا جلا وطن کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس معاہدہ کی رو سے آپ نے یہود بنونضیر سے اس کے مال و دولت کی بابت دریافت فرمایا۔ جو وہ مدینہ سے لے کر نکلے تھے تو حیی بن اخطب کے داماد کنانہ بن ربیع نے اس کے بتانے میں پس و پیش کیا۔ لیکن ایک دوسرے یہودی کی نشاندہی پر مطلوبہ مال جنگل میں مدفون مل گیا۔ اس عہد شکنی کی بنا پر کنانہ بن ربیع کو تہ تیغ کردیا گیا اور اس کے خاندان کی عورتیں اور بچے غلام بنا لئے گئے۔ حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ اسیر ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئی تو آپ نے اس کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر نیز دشمنوں پر اپنے اخلاق کا اثر ڈالنے کے لئے اسے آزاد کردیا اور دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ اسے اپنے عقد میں لے لیا۔ چناچہ یہود پر اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔ خ نصف پیداوار کی شرط پر یہود سے مصالحت :۔ اب یہود نے دوسری درخواست یہ کی کہ ان کی زمینیں اور باغات انہیں کے پاس رہنے دیئے جائیں اس شرط پر کہ وہ ساری پیداوار کا نصف مسلمانوں کو ادا کردیا کریں گے۔ آپ نے کمال مہربانی سے ان کی یہ درخواست بھی منظور فرمالی۔ اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر وہ مسلمانوں سے بد عہدی یا کوئی اور شرارت کریں گے تو یہ معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔ چناچہ جب فصل تیار ہوچکتی تو آپ عبداللہ بن رواحہ کو بھیجتے جو پیداوار کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے پھر یہود کو اختیار دے دیتے کہ جونسا حصہ تم چاہو لے لو۔ یہودیوں پر اس فیاضانہ عدل کا یہ اثر ہوا کہ وہ کہتے تھے کہ زمین و آسمان ایسے ہی عدل پر قائم ہیں۔ خ زہریلی بکری سے آپ کو ختم کرنے کی سازش :۔ آپ کے اس فیاضانہ سلوک کے باوجود یہود کا خبث باطن ختم نہ ہوا۔ خیبر میں قیام کے دوران سلام بن مشکم یہودی کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ ﷺ کو دعوت کی درخواست کی جسے آپ نے قبول فرما لیا۔ یہ دراصل سب یہود کی ملی بھگت سے ایک سازش تیار کی گئی تھی کہ آپ کو کھانے میں زہر ملا کر ہلاک کردیا جائے۔ چناچہ زینب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کونسا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : دستی کا۔ آپ چند صحابہ کے ساتھ دعوت پر آئے۔ لیکن پہلا لقمہ ابھی حلق سے اترا ہی تھا کہ آپ کو معلوم ہوگیا کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ آپ کھانے سے رک گئے لیکن ایک صحابی بشیر بن براء دو چار لقمے کھاچکے تھے وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اس موقعہ پر اگر کوئی اور فاتح ہوتا تو سب یہودیوں کو تہ تیغ کرا دیتا۔ آپ نے زینب سے پوچھا تو اس نے اعتراف جرم کرلیا اور بتایا کہ اس سازش میں سب یہود ملوث ہیں۔ آپ نے یہود کو بلاکر پوچھا تو انہوں نے بھی اعتراف کرلیا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو کہنے لگے کہ اس لئے کیا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر نہیں کرے گا اور جھوٹے ہیں تو آپ سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ مجسمہ رحمت تھے۔ لہذا آپ نے ان سب کا یہ قصور بھی معاف کردیا۔ فقط بشیر بن براء کے قصاص میں زینب بنت حارث کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب اذا غدر المشرکون بالمسلمین) خ فتح خیبر کے اثرات :۔ خیبر کے معاملات سے فارغ ہو کر صفر 7 ھ آپ نے فدک کی طرف توجہ فرمائی۔ کیونکہ یہ لوگ بھی جنگ پر تلے بیٹھے تھے۔ یہاں صرف ایک دن جنگ ہوئی دوسرے دن صبح ہی مجاہدین اسلام نے ان پر فتح پالی اور ان سے اہل خیبر کی شرائط پر مصالحت کرلی۔ تیماء کے یہود کو ان فتوحات کی خبر ملی تو انہوں نے خود ہی جزیہ کی شرط پر صلح کرلی۔ خیبر وغیرہ کی فتح سے یہود کا دم خم بالکل ختم ہوگیا۔ جب قریش مکہ کو یہ خبر ملی تو انہیں سخت صدمہ ہوا کیونکہ ان کا ایک مضبوط بازو کٹ گیا اور اب وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تنہا رہ گئے۔ خ خیبر کے اموال غنائم اور اموال فئے : غزؤہ خیبر میں کچھ لڑائی کے ذریعہ اموال غنیمت حاصل ہوئے اور کچھ بےلڑے بھڑے بھی حاصل ہوگئے اور مال کثیر اور باغات مسلمانوں کے ہاتھ لگے حتیٰ کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بہت بہتر ہوگئی اور مہاجرین نے انصار کو وہ باغات وغیرہ واپس کردیئے جو سلسلہ مواخات کے نتیجہ میں مہاجرین نے بطور شراکت انصار سے لے رکھے تھے اس غزوہ خیبر میں انہیں مجاہدین کو شریک کیا گیا جو غزوہ حدیبیہ میں آپ کے ہمراہ تھے اور خون پر بیعت کی تھی۔ انہیں میں یہ اموال غنیمت تقسیم کئے گئے۔ خ ان اموال میں حبشہ کے مہاجرین کا حصہ : البتہ ان اموال میں حبشہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے والے مہاجرین کو شریک کرلیا گیا تھا جو عین اموال غنیمت کی تقسیم کے موقعہ پر پہنچے تھے۔ بعض علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ آپ نے مہاجرین حبشہ کو جو مال دیا تھا وہ مجاہدین کے حصہ سے نہیں بلکہ اپنے حصہ خمس سے دیا تھا۔ جس کی تقسیم کلیتاً آپ کی صوابدید پر منحصر تھی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے یمن میں سنا کہ رسول اللہ مکہ سے ہجرت کرکے چلے گئے۔ تو میں اور میرے دو چھوٹے بھائی ابو بردہ اور ابو رہم بھی مدینہ کو ہجرت کی غرض سے نکلے۔ ہماری قوم کے کل باون یا ترپن آدمی تھے جو کشتی پر سوار ہوئے۔ وہ کشتی حبش کی طرف چلی گئی جہاں کا بادشاہ نجاشی تھا۔ وہاں ہم کو جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی ملے۔ جعفر نے کہا کہ رسول اللہ نے ہم کو یہاں بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ یہیں ٹھہرو۔ تو تم بھی ہمارے ساتھ ٹھہرو۔ ہم کچھ عرصہ وہاں رہے۔ پھر سب لوگ مل کر مدینہ آئے۔ اس وقت رسول اللہ نے خیبر فتح کیا تھا۔ آپ نے اموال غنائم میں سے ہمارا حصہ لگایا یا کہا کہ اس سے ہمیں عطا کیا۔ لیکن ہمارے سوا صرف اسے ہی آپ نے دیا جو فتح خیبر میں حاضر تھا، کسی غیر حاضر کو کچھ نہیں دیا۔ سو ہم کشتی والوں کے جو جعفر اور ان کے اصحاب کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان کا حصہ لگایا۔ بعض لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم سے پہلے ہجرت کرچکے تھے۔ چناچہ اس سلسلہ میں سیدنا عمر اور سیدہ اسماء بنت عمیس میں تکرار بھی ہوئی۔ سیدنا عمر کہتے تھے کہ ہم تم سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے ہیں لہذا ہم رسول اللہ کی طرف زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اسماء بنت عمیس کو اس بات پر غصہ آگیا کہ تم تو رسول اللہ کے ساتھ رہے وہ تمہارا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے اور ہم دیار غیر میں تھے اور ہجرت بھی دو دفعہ کی ہے اور کہنے لگیں میں ضرور یہ بات رسول اللہ سے پوچھوں گی۔ چناچہ اسماء نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : وہ تم سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان کی ایک ہجرت ہے اور تمہاری دو بار ہجرت ہے۔ اسماء کہتی ہیں کہ رسول اللہ کی اس بات سے کشتی والوں کو انتہائی خوشی ہوئی۔ اور وہ مجھے باربار اس حدیث کو دہرانے کو کہتے تھے۔ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل جعفر و اسماء بنت عمیس و اھل سفینتھم۔۔ ملخصاً ) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حبشہ سے آنے والے مہاجرین کو یہ حصہ دو ہجرتوں کی وجہ سے ملا تھا۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

کوئی اندھا یا لنگڑا یا بیمار 22 اگر جہاد میں شامل نہ ہو تو اس پر کوئی تنگی نہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لے، اللہ اسے ایسے باغوں 23 میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گے اور جو سرتابی کرے اللہ اسے دردناک عذاب دے گا۔

22 جہاد فرض عین نہیں :۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق تو محض حیلے بہانے کرتے ہیں۔ اصل معذور لوگ جنہیں جہاد سے رخصت ہے وہ ہیں جو جسمانی طور پر تندرست نہ ہوں۔ مثلاً اندھے، لنگڑے، اپاہج، بیمار، نابالغ، بچے اور ضعیف و ناتواں بوڑھے بزرگ مجنون اور فاتر العقل قسم کے لوگ۔ علاوہ ازیں کچھ اور عذر بھی شریعت کی نگاہ میں مقبول ہیں۔ مثلاً غلام یا ایسا تندرست جو تنگدستی کی وجہ سے سامان جنگ بھی مہیا نہ کرسکتا ہو۔ یا مثلاً ایسا شخص جس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اپنے بیٹے کی خدمت کا محتاج ہو۔ واضح رہے کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر جہاد میں شامل نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر والدین کافر ہوں تو پھر ان سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ 23 اگرچہ یہ آیت اور اس کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے سب فرمانبرداروں کو شامل ہے۔ تاہم ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ معذور لوگ بھی اگر ہمت کرکے کسی طرح جہاد میں شرکت کرسکیں تو ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ اور جو شخص امام وقت کے اعلان شمولیت اور کسی شرعی عذر کے نہ ہونے کے باوجود جہاد میں حصہ نہیں لیتا اسے اللہ تعالیٰ سخت سزا دے گا۔