Ayah 47:12 صدّ کا لغوی مفہوم :۔ صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی اعراض کرنا اور خودرک جانا بھی ہے۔ اور دوسروں کو روکنا بھی۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا۔ پھر کفر کی حمایت میں دوسروں کو اسلام لانے سے روکتے رہے۔ مسلمانوں کو ایذائیں اور دکھ پہنچانے اور اسلام کی اشاعت کو روکنے کے لیے خفیہ تدبیریں اور سازشیں تیار کرتے رہے اور معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ ان کی یہ سرگرمیاں یہاں بےنتیجہ اور بےاثر ثابت ہوں گی۔ اور وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہیں گے۔ اللہ ان کی کوششوں کو برباد کر دے گا اور کبھی بار آور نہ ہونے دے گا۔
Ayah 47:22۔ الف آپ کی بعثت کے بعد سب کو آپ کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانے کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ مدینہ میں کچھ ایسے یہود موجود تھے جو ایمان بالغیب کی جملہ جزئیات پر ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجا لاتے تھے۔ انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ اب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات پر ایمان لانا سود مند نہ ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ سابقہ تمام انبیاء کی شریعت علاقائی یا قومی بھی تھی اور عارضی بھی۔ جبکہ رسول اللہ سارے جہاں کے لیے اور تاقیام قیامت رسول ہیں۔ اسی طرح قرآن بھی جملہ اہل عالم کے لیے ایک تاقیام قیامت ہدایت کا ذریعہ ہے۔ لہذا اب ایسے یہود کو بھی سیدنا محمد قرآن پر ایمان لانا ہوگا۔
خ سیدنا عمر کا تورات کے اوراق پڑھنا :۔ اس مفہوم کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمر تورات کے چند اوراق لائے اور رسول اللہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھنے لگے جوں جوں سیدنا عمر پڑھتے جاتے آپ کا چہرہ متغیر ہوتا جاتا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے سیدنا عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : تمہیں گم کرنے والیاں گم پائیں کیا تم رسول اللہ کے چہرہ کو نہیں دیکھتے ؟ سیدناعمر نے جب آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے کہ میں اللہ سے اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ پکڑتا ہوں۔ ہم اللہ کے پروردگار ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں اس پر رسول اللہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اگر آج خود موسیٰ ظاہر ہوجائیں اور تم مجھ کو چھوڑ کر اس کی پیروی کرو تو سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاؤ گے اور اگر سیدنا موسیٰ آج زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو انہیں میری اتباع کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوتا (دارمی بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنتہ۔ فصل ثالث)
3 یعنی کافروں اور ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے مقابلہ میں اللہ پر، سیدنا محمد پر اور قرآن پر ایمان لائے۔ اور نیک اعمال بجا لاتے رہے۔ کافروں کا ظلم و ستم سہتے رہے، صبر اور برداشت سے کام لیتے رہے۔ اللہ ان کی سابقہ کو تاہیاں اور قصور معاف فرمادے گا اور جن مشکلات سے اس وہ وقت دوچار ہیں ان سے انہیں نکال کر ان کے حالات کو بہتر بنا دے گا اور ان کی کوششیں بار آور ثابت ہوں گی۔
Ayah 47:34 کفار کی نیکیاں برباد گناہ لازم جبکہ مومنوں کی حالت ان کے بالکل برعکس ہے :۔ اللہ تعالیٰ حق کی پیروی کرنے والوں اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی ٹھیک ٹھاک مثالیں بیان کرتا ہے۔ حق کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہوگی کہ ان کی نیکیاں برقرار رہیں گی اور گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہوگی کہ ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم و برقرار رہیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوتا۔
Ayahs 47:4–55 دو سابقہ تمہیدی آیات کے بعد اب مسلمانوں کو جنگ سے متعلق ہدایات دی جارہی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے نزول سے بیشتر مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت تو مل چکی تھی مگر تاحال کوئی معرکہ پیش نہیں آیا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کے سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی وہ سورة الحج کی آیت نمبر 39 ہے پھر اس سلسلہ میں سورة البقرۃ کی آیات نمبر 190 تا 193 ہیں۔ اور یہ ہدایات حسب ذیل ہیں۔
1۔ جب معرکہ کارزار پیش آئے تو پورے جوش و خروش اور جرأت ایمانی سے ڈٹ کر کافروں کا مقابلہ کرو اور رسول اللہ نے فرمایا : لوگو ! دشمن سے بھڑنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو لیکن اگر بھڑ جاؤ تو پھر ثابت قدم رہو اور جان لو کہ بہشت تلواروں کے سائے تلے ہے (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب لاتتمنّوا لقاء العدو)
2۔ جنگ کے متعلق عام ہدایات :۔ تمہارا اصل ہدف یہ ہونا چاہئے کہ دشمن کی جنگی طاقت اور کفر کی کمر توڑ دی جائے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ توجہ کافروں کے قتل کی طرف رکھو۔ ہاں جب لڑائی کا زور ٹوٹ جائے اور دشمن ہتھیار رکھ دے تو اس وقت ان کے بچے کھچے آدمیوں کو قید کرو۔ اس سے پہلے قید نہ کرنے لگ جاؤ۔
3۔ جنگی قیدیوں کے متعلق ہدایات :۔ جو قیدی تمہارے ہاتھ لگ جائیں ان سے متعلق دو صورتوں میں سے کوئی ایک صوت اختیار کی جائے یا تو انہیں احسان رکھ کر چھوڑ دیا جائے یا ان کا فدیہ لے لیا جائے اس سے معلوم ہوا کہ قیدیوں کو قتل کرنا عام قاعدہ نہیں۔ تاہم قتل کی ممانعت بھی نہیں کی گئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ کفر کے قیدیوں کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔ جن کا جرم صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ بلکہ ان کے اور بھی کئی سخت قسم کے جرائم ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ قتل کے مستحق ہوتے ہیں۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد قیدیوں کے عفو عام کے باوجود چار شخصوں کے متعلق رسول اللہ نے حکم دیا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ جنگ بنو قریظہ کے بعد محصور یہود نے سیدنا سعد بن معاذ کو ثالث تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈالے۔ تو سیدنا سعد نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ ان کے نوجوانوں کو قتل کردیا جائے۔ بچوں اور عورتوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے۔ اور ان کے اموال کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے تو رسول اللہ نے سیدنا سعد کے اس فیصلہ کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کا یہ فیصلہ آسمانوں والے پروردگار کے فیصلہ کے مطابق ہے چناچہ انہیں قتل کردیا گیا ان کا جرم صرف یہ نہ تھا کہ وہ جنگی قیدی تھے بلکہ اصل جرائم یہ تھے وہ کئی بار سمجھوتہ کے معاہدہ کی عہد شکنی کرچکے تھے اور جنگ احزاب میں عین جنگ کے درمیان دشمن کی اتحادی فوجوں سے مل کر مسلمانوں کو سخت مشکل حالات سے دوچار کردیا تھا۔
اسارٰی بدر کے متعلق مشورہ اور فدیہ :۔ اسارٰی بدر کے متعلق آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سیدنا عمر نے یہ مشورہ دیا کہ یہ قیدی چونکہ صنادید کفر ہیں۔ لہذا انہیں قتل کردینا ضروری ہے۔ مگر آپ نے اس آیت کے عام قاعدہ اور سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اس پر مسلمانوں پر عتاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی منشا سیدنا عمر کے فیصلہ کے مطابق تھی۔ اس لیے کہ بدر کے قیدی محض جنگی قیدی نہ تھے۔ بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن اور مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے خلاف بہت سی معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ امام وقت کو اس عام قاعدہ کے استثناء کا اس وقت حق حاصل ہوتا ہے جبکہ جنگی قیدی اور بھی کئی جرائم میں ملوث ہوں اور امام وقت کو انہیں نہ احسان رکھ کر چھوڑنا چاہئے نہ فدیہ لے کر بلکہ انہیں قتل کردینا چاہئے کیونکہ قتال فی سبیل اللہ کا سب سے اہم مقصد کفر کی کمر توڑنا ہے۔
خ قیدیوں پر احسان کی مختلف صورتیں :۔ پھر احسان رکھ کر چھوڑنے کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ ان سے کسی طرح کی کوئی خدمت نہ لی جائے اور اگر حالات اجازت دیں تو محض اللہ کی رضا اور اسلام کی اخلاقی برتری قائم کرنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ فتح مکہ کے دن آپ نے عفو عام کا اعلان کردیا تھا۔ یا جنگ حنین کے بعد جنگی قیدیوں کی تقسیم کے بعد آپ نے اہل ہوازن کی ایما پر انہیں آزاد کردیا تھا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان کی جان بخشی اس صورت میں کی جائے کہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے اور مسلمانوں کو تلقین کی جائے کہ ان سے بہتر سے بہتر سلوک کیا جائے۔ جیسا کہ جنگ حنین کے بعد پہلے آپ نے ایسے قیدیوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا تھا۔ علاوہ ازیں اور بھی کئی مواقع پر آپ نے جنگی قیدیوں کو مجاہدین میں تقسیم فرمایا تھا۔ تیسری یہ کہ اگر انہیں قید کرنا ہی پڑے تو ان سے بہتر سلوک کیا جائے اور یہ قید دائمی اور مستقل نہ ہونی چاہئے۔ اور چوتھی یہ کہ ان سے جزیہ لے کر ذمی بنا لیا جائے اور انہیں اسلامی مملکت میں آزادانہ رہنے کا حق دیا جائے۔ جیسا کہ اہل نجران سے معاملہ کیا گیا تھا۔
خ فدیہ کی مختلف صورتیں :۔ اور فدیہ کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان سے زر فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ اساری بدر سے لیا گیا تھا اور یہ زر فدیہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق لیا جائے گا۔ دوسری یہ کہ ان قیدیوں سے پیسہ کی بجائے کوئی اور خدمت لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ اسی اساری بدر کے موقعہ پر جن لوگوں کے پاس زر فدیہ کی رقم نہیں تھی۔ ان سے یہ خدمت لی گئی کہ ایسا ہر قیدی مسلمانوں کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اور تیسری یہ کہ جنگی قیدیوں کا آپس میں تبادلہ کرلیا۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں ایک مسلمان کے بدلے ایک کافر چھوڑا جائے بلکہ ایک دفعہ آپ نے دو مسلمانوں کے بدلہ میں ایک کافر چھوڑا تھا۔ یہ ہیں وہ مختلف صورتیں جو اس آیت کے اس مختصر سے جملہ میں داخل ہیں۔ ان تمام صورتوں میں سے جو صورت بھی حالات کے مطابق اور مسلمانوں اور اسلام کے حق میں بہتر ہو، امام وقت وہی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ یہ کرسکتا تھا کہ باطل پرستوں اور اسلام دشمنوں پر بجلی کی کڑک یا زلزلہ بھیج کر یا سیلاب کا پانی چھوڑ کر انہیں تباہ و برباد کر دے۔ جیسا کہ وہ پہلی سرکش اقوام پر ایسے عذاب بھیج چکا ہے اور اس طرح وہ ان سے تمہارا بدلہ لے لے۔ لیکن جب تک معرکہ حق و باطل قائم نہ ہو اور میدان کارزار گرم نہ ہو تب تک بندوں کا امتحان نہیں ہوسکتا کہ کون کس درجہ میں اسلام سے مخلص اور جرأت ایمانی رکھتا ہے۔ نیز کافروں میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی کاروائیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔
Ayah 47:67 یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوجاتے ہیں اس کا صرف یہی فائدہ نہیں کہ وہ قومی زندگی کا سبب بنتے ہیں۔ بلکہ خود ان کی ذات کو بھی کئی فائدے پہنچتے ہیں۔ خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بظاہر کامیاب نظر نہ آتے ہوں۔ مثلاً یہ کہ اللہ ان کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ دوسرے یہ کہ ان کے دلوں سے ہر قسم کی کدورت دور کرکے اور ان کی حالت کو درست کر دے گا۔ پھر انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
8 عرف کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کا انہیں کتاب و سنت کے ذریعہ تعارف کرایا جاچکا ہے اور اس کی صفات کو سب جنت میں داخل ہونے والے جانتے ہوں گے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر جنتی جنت میں اپنے مکان اور مسکن کو پہچانتا ہوگا۔ چناچہ صحیح بخاری کتاب بدأ الخلق میں مذکور ہے کہ جنتی اپنے مکانوں اور رہائش گاہوں کو اس سے زیادہ پہنچانتے ہونگے جتنا وہ دنیا میں اپنے گھروں کو پہچانتے ہیں۔ یعنی انہیں اپنی رہائش گاہ پہچاننے میں نہ کوئی الجھن پیش آئے گی اور نہ راستہ بھولیں گے اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عَرَفَکے معنی پہچاننا اور عَرَّفَ کے معنی پہچان کرانا ہے اسی طرح عَرَفَ کے معنی خوشبو لگانا اور عَرَّفَ کے معنی معطر کرنا اور خوشبو چھوڑ دینا بھی ہے۔ (مفردات القرآن) اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے جنت کو خوشبو سے بسا دیا ہے۔
Ayah 47:79 اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً جہاد میں ان کی مدد فرمائے گا اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آنے دے گا۔ بندہ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اقامت دین کے لیے کمر بستہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔
Ayahs 47:8–910 تعسا کا لغوی مفہوم :۔ تعسًا کے معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہوجانا ہے (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کردیا جاتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جبکہ کافروں کے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔
Ayah 47:1011 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ پہلی قوموں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انہیں تباہ و برباد کردیا تھا۔ اسی طرح کے عذاب بھیج کر ان موجودہ کافروں کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح کافروں کو دنیا میں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ اسی طرح کئی طرح کی سزائیں آخرت میں بھی دے گا۔
Ayah 47:1112 غزوہ احد کے اختتام پر ابو سفیان کی نعرہ بازی اور اس کا جواب :۔ یعنی کافر یہ سمجھتے ضرور ہیں کہ ان کی دیویاں اور دیوتا ان کی مدد کو پہنچتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کا وہم ہوتا ہے۔ دور نبوی کے حق و باطل کے معرکوں میں صرف غزوہ احد ہی وہ جنگ ہے جس میں ابتدائ ً مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی غلطی سے عارضی طور پر شکست سے دو چار ہونا پڑا اور آخر میں میدان برابر رہا۔ ابو سفیان نے اپنی اتنی سی کامیابی کو بھی غنیمت سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دیوتا اور بت ہبل کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ اَعْلَی الھُبَل (ہبل سربلند ہوا) تو رسول اللہ نے مسلمانوں سے کہا اسے یہ جواب دو ! اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ (سر بلند تو صرف اللہ ہے اور وہی بزرگ و برتر ہے) پھر ابو سفیان نے کہا : لنا عُزّٰی ولا عُزّٰی لکم (ہمارے لیے تو عزت دینے والی دیوی عزیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں) آپ نے مسلمانوں سے فرمایا : ( اَللُّہُ مولٰنَا وَلَا مَولٰی لَکُم) (ہمارا تو اللہ حامی و ناصر ہے لیکن تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں) آپ کا جواب اسی آیت کی تفسیر تھا۔ چناچہ ہوا بھی ایسا ہی۔ ابو سفیان جب احد کے میدان کو چھوڑ کر کئی میل مکہ کی طرف جاچکا تو اسے خیال آیا کہ اس جنگ کا فیصلہ تو کچھ بھی نہ ہوا لہذا واپس جاکر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرکے اسے نتیجہ خیز بنانا چاہئے۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کی نصرت کا یہ سبب پیدا کردیا کہ مسلمان خود اس سے پہلے ہی ابو سفیان کے لشکر کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جب ابو سفیان کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو اللہ نے کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور انہوں نے مکہ کی راہ لی۔
Ayah 47:1213 کافروں کا کھانا پینا حیوانوں کی طرح ہے :۔ اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح چوپایوں کو یہ تمیز نہیں کہ ان کا کھانا حلال ذرائع سے آیا ہے یا حرام ذرائع سے اسی طرح کافروں کو بھی یہ تمیز گوارا نہیں ہوتی۔ چوپائے جہاں سے بھی ملے کھالیتے ہیں انہیں اپنے بیگانے کی تمیز نہیں نیز کمزور جانور کو مار دھاڑ کر طاقتور جانور کمزوروں کا کھانا بھی خود کھا جاتے ہیں۔ یہی حال کافروں کا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جانوروں یا چوپایوں کا کھانا کھانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بھوک دور کریں اور اپنی زندگی کو باقی رکھیں۔ کافروں کا بھی کھانے سے اتنا ہی مقصد ہوتا ہے۔ اس سے آگے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے ہمیں جو عقل اور تمیز چوپایوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ دی ہے آخر یہ کیوں دی گئی ہے ؟
Ayah 47:1314 ہجرت کے وقت آپ کے الوداعی کلمات :۔ بظاہر کافروں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو سو اونٹ انعام بھی مقرر کیا تھا کہ جو شخص محمد کو پکڑ کرلے آئے اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ لیکن چونکہ ان کافروں نے آپ کو ایذائیں اور دکھ پہنچا پہنچا کر وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نکالنے کے اصل سبب کی طرف نسبت فرمائی۔ جیسا کہ خود بھی رسول اللہ جب مکہ سے نکلنے لگے تو نہایت حسرت سے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے : مکہ تو اللہ کے نزدیک بڑی عزت والا اور محبوب ہے اور مجھے بھی بہت محبوب ہے اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نکل جانے پر مجبور نہ کردیتے تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا (ترمذی۔ ابو اب المناقب۔ باب فی فضل مکۃ)
Ayah 47:1415 واضح دلیل سے مراد وہ صاف ستھرا راستہ ہے جو وحی الٰہی کی روشنی میں پوری طرح نظر آرہا ہو۔ یعنی ایک شخص تو پورے علم اور یقین کے ساتھ روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کررہا ہے۔ دوسرے کے پاس وہم و گمان کی تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں۔ وہ اپنے نفس کی خواہش کا پیروکار ہوتا ہے۔ اور دنیا کا زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے جو بھی وہ جائز اور ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے سب اسے اچھے ہی نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں آدمیوں کا طرز زندگی ایک جیسا ہوسکتا ہے ؟ یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے ؟
Ayah 47:1516 جنت کے چار مشروبات کی صفات :۔ اس آیت میں جنت کے حالات بیان کرتے ہوئے پہلے چار مشروبات اور ان کی صفات کا ذکر فرمایا۔ پہلے نمبر پر پانی کی صفت یہ بیان فرمائی کہ غَیْرَ آسِنْ ہوگا۔ یعنی نہ وہ متعفن ہوگا نہ اس کا رنگ بدلا ہوگا اور نہ ذائقہ۔ دنیا میں پانی کے کھڑے ذخیروں کا عموماً رنگ ذائقہ اور بو تینوں چیزیں بدل جاتی ہیں اور بارش کے پانی میں گردوغبار مل جاتا ہے۔ اور دریاؤں کا پانی مٹی کی آمیزش سے گدلا ہوجاتا ہے۔ جنت میں پانی کے چشموں سے جو پانی جاری ہوگا وہ نہایت صاف ستھرا، نتھرا ہوا، بےرنگ، بےبو ہوگا۔ اس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوگا بدلا ہوا نہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر دودھ کا ذکر فرمایا۔ دنیا میں جو دودھ جانوروں کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہوجاتی ہے پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے۔ اور اس کا ذائقہ ترش اور بدمزہ ہوجاتا ہے۔ جنت میں دودھ بھی پانی کی طرح چشموں سے رواں ہوگا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا۔ اس کے ذائقہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تیسرے نمبر پر شراب کا ذکر فرمایا۔ دنیا کی شراب کا ذائقہ تلخ، بوناگوار ہوتی ہے۔ حواس کو مختل کردیتی ہے اور بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے۔ جنت میں شراب بھی چشموں کی صورت میں رواں ہوگی۔ وہ مذکورہ تمام عیوب سے پاک اور مزیدار ہوگی۔ چوتھے نمبر پر شہد کا ذکر فرمایا۔ جو شہد کی مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے۔ شہد کے چھتے میں موم اور س تھے کی آمیزش ہوتی ہے اور اوپر جھاگ ہوتا ہے۔ جنت میں شہد بھی چشموں سے نکل کر رواں ہوگا۔ نہایت صاف ستھرا اور ایسے عیوب سے پاک ہوگا۔
17 مشروبات کے بعد پھر مختصراً ماکولات کا ذکر فرمایا کہ کھانے کے لیے انہیں ہر طرح کے بہترین اور مزیدار پھل مہیا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ ان کی دنیا کی زندگی کی تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔ جو کسی کے ذہن میں نہ آسکیں گی۔ اور ایسی کوتاہیوں کو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
18 یعنی ایک طرف تو وہ شخص ہے جو جنت کی متذکرہ بالا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف ایسا شخص ہے جو ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔ کھانے کو اسے خاردار اور زہریلا تھوہر کا درخت ملے گا اور پینے کو سخت گرم کھولتا ہوا پانی۔ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہے۔ ؟
Ayah 47:1619 یعنی منافقین آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی باتوں کو اس لیے کان لگا کر سنتے تھے کہ کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے جس سے نبی کی اس تعلیم کو مشکوک بنایا جاسکے۔ پھر وہ یہی باتیں جاکر بعض علمائے یہود یا بعض مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی اس نبی نے کیا بات کہی تھی اور اس سے ان کا مقصد یہ ہرگز نہ ہوتا تھا کہ وہ اس سے ہدایت حاصل کریں بلکہ یہ کہ دوسروں کو بھی شک و شبہ میں ڈال دیں۔ یا خود آپ کے ارشادات کا وہ مفہوم لیتے تھے جو آپ کا مقصود نہیں ہوتا تھا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے کاموں پر کسی طرح کی پابندی قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ جب کسی کی یہ حالت ہوجائے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جبکہ اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور کوئی بھی ہدایت کی بات اس کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوتی۔
Ayah 47:1720 یعنی وہی باتیں اور ارشادات نبوی جو ان منافقوں کے لیے ایک معمہ بن جاتے تھے وہی اہل ایمان کے لیے ہدایت میں اضافہ کا ذریعہ ہوتے تھے۔ اور ان میں مزید تقویٰ پیدا ہوجاتا تھا۔
Ayah 47:1821 علامات قیامت :۔ قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو آپ کی بعثت ہے کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا یہ ارشاد بھی قیامت کی نزدیکی پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھا تین (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ عنوان باب) اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان تیسری کوئی انگلی یا کوئی چیز نہیں اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور اس مطلب کی طرف لفظ بعثت سے واضح اشارہ ملتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وسطی انگلی جتنی شہادت کی انگلی سے آگے نکل ہوئی ہے۔ اتنی ہی دنیا کی عمر باقی رہ گئی ہے۔ پھر قیامت آجائے گی۔ علاوہ ازیں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی چاند کا پھٹنا بھی تھا جو دور نبوی میں واقع ہوچکا۔ نیز آپ نے اپنے بہت سے ارشادات میں قیامت کی نشانیاں بیان فرمائیں جن میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں :
سیدنا حذیفہ بن اسید کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ آپ نے ہماری طرف جھانکا اور پوچھا : کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ہم نے کہا : قیامت کا آپ نے فرمایا : وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ اس سے پہلے تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ دخان، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج اور تین (جگہ) زمین کا دھنس جانا۔ مشرق میں، مغرب میں اور جزیرۃ العرب اور آخری نشانی آگ ہے جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہنکا کر ان کے جمع ہونے کی جگہ پر لے جائے گی (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب فی الآیات تکون قبل الساعۃ)
سیدنا انس فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کی کچھ نشانیاں یہ ہیں۔ علم گھٹ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب کثرت سے پی جائے گی، زنا عام ہوگا عورتیں زیادہ ہوں گی اور مرد کم حتی کہ پچاس عورتوں کا کفیل ایک مرد ہوگا (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب رفع العلم وظھور الجھل)
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : دین کا علم اٹھ جائے گا۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور حرج بکثرت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ حرج کیا ہے ؟ آپ نے ہاتھ کو ترچھا ہلا کر بتایا جس سے آپ نے قتل مراد لیا۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب الفتیا باشارۃ الید والراس)
اور یہ بھی قرآنی تصریحات سے ثابت ہے کہ جب موت کا وقت آجائے یا ایسی واضح علامت جو قیامت کا پیش خیمہ ہوں جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا قیامت کے آنے پر کسی شخص کا ایمان لانا اسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔
Ayah 47:1922 کوئی مومن جس درجے کا بھی وہ مومن ہو اسے اللہ کے حضور اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرتے رہنا چاہئے۔ قصور کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جس قدر عبادت اور اطاعت کا ہم پر حق تھا وہ ہم پوری طرح نبھا نہیں سکے۔ اور ایسا اعتراف تمام انبیاء بھی کرتے آئے ہیں۔ حالانکہ انبیاء سے گناہ کا اور بالخصوص دیدہ دانستہ گناہ کا سرزد ہونا محالات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد کے مطابق آپ ایک دن میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار فرمایا کرتے تھے۔ اور تمام مسلمان بھی اپنی نمازوں کے دوران اور نمازوں کے بعد بہ تکرار استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اس آیت میں رسول اللہ کو اپنے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ آپ کی دعا اللہ کی بارگاہ میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ مستجاب ہے۔
23 یعنی اللہ تعالیٰ تم سے ہر ایک شخص کی، خواہ وہ مومن ہے یا کافر، نقل و حرکت کو اور اس کی سرگرمیوں کو خوب جانتا ہے کہ وہ کس راہ میں صرف ہو رہی ہیں۔ پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مر کر دفن ہوگا اور مَثْوٰکُمْ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو مرنے کے بعد جنت یا دوزخ میں جو ٹھکانا ملے گا۔ اللہ اسے بھی خوب جانتا ہے۔
Ayah 47:2024 جہاد کے حکم پر منافقوں کی حا لت زار :۔ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے جاؤ۔ اور اپنی تمام تر توجہ نمازوں کے قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے ذکر کی طرف مبذول کئے رہو۔ اس وقت کئی جرأت مند مسلمان یہ آرزو کیا کرتے تھے کہ کاش انہیں کافروں سے لڑنے کی اجازت مل جائے۔ اور ہم بھی ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لے سکیں۔ مدینہ میں پہنچنے کے ایک سال بعد مسلمانوں کو جنگ کی اجازت تو مل گئی۔ لیکن ابھی کوئی صریح حکم نازل نہیں ہوا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جہاد کے متعلق صریح احکام و ہدایات نازل ہوں پھر جب ایسی ہدایات بھی نازل ہوگئیں تو اس وقت بہت سے منافق بھی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوچکے تھے علاوہ ازیں کچھ ضعیف الاعتقاد اور کمزور مسلمان بھی تھے۔ جب جہاد کے احکام نازل ہوئے تو یک لخت ان پر موت کا خوف طاری ہوگیا۔ اور رسول اللہ کی طرف یوں دیکھنے لگے جیسے موت انہیں سامنے کھڑی نظر آرہی ہے۔ منافقوں کو تو بس ٹھنڈا ٹھنڈا اسلام قبول تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھ لیتے تھے اور روزے بھی رکھ لیتے تھے مگر جب جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو فوراً ہمت ہار بیٹھے۔ اور ہر شخص کو یہ معلوم ہوگیا کہ کون شخص ایمان کے حق میں کس قدر مخلص ہے ؟
Ayah 47:2125 حالانکہ انہیں چاہئے یہ تھا کہ جب اسلام کا اقرار کرکے مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے تو اجتماعی کاموں میں دل و جان سے ان کا ساتھ دیتے۔ اور اللہ اور اس کے رسول سے اطاعت کا جو انہوں نے پختہ عہد کیا تھا۔ اسے سچ کردکھاتے، اور اسی میں ان کی بہتری تھی تاکہ وہ دنیا میں بھی مسلمانوں کی نظروں میں ذلیل و رسوا نہ ہوتے اور اخروی عذاب سے بھی بچ جاتے۔
Ayah 47:2226 منافقوں سے کسی بھلائی کی توقع محال ہے :۔ منافقوں کو جہاد صرف اس لیے ناگوار تھا کہ وہ اسلام اور اس کے مفادات کے مقابلہ میں اپنی جان اور مال کو عزیز تر سمجھتے تھے۔ یعنی ان کا اولین مقصد مال کا حصول اور اپنی جان کو بچانا تھا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں حکومت مل بھی جائے تو ان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں جاسکتی یہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک میں فتنہ و فساد ہی برپا کریں گے۔ اور اس سلسلہ میں اپنے رشتہ داروں کے گلوں پر چھری پھیرنے سے باز نہیں آئیں گے۔
اور اگر تَوَلَیْتُمْ کا معنی پھرجانا اور اعراض کرنا لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم جہاد سے بدک کر اسلام سے پھر جاؤ تو تمہارے متعلق یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ تم پر پھر اسلام سے ماقبل کی حالت عود کر آئے۔ انہی پہلی سی قبائلی جنگوں میں تم پڑجاؤ جن سے نکلنے کی تمہیں کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی تم وہی پہلی سی لوٹ مار، قتل و غارت اور فتنہ و فساد کرنے لگو گے۔
خ قطع رحمی ام ولد کی خریدو فروخت کی ممانعت :۔ اس آیت نیز قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قطع رحمی بہت بڑا گناہ کبیرہ ہے۔ اسی آیت کے حکم کو مدنظر رکھ کر سیدنا عمر نے اپنی مجلس شوریٰ کے مشورہ سے ام الولد کی خریدو فروخت کو حرام قرار دیا تھا۔ چناچہ سیدنا بریدہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دن سیدنا عمر کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ محلہ میں یکایک ایک شور مچ گیا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک لونڈی فروخت کی جارہی ہے جبکہ اس لونڈی کی لڑکی کھڑی رو رہی ہے۔ سیدنا عمر نے اسی وقت یہ مسئلہ اپنی شوریٰ میں پیش کردیا تاکہ دیکھیں پوری شریعت میں ایسی قطع رحمی کا کوئی جواز نظر آتا ہے ؟ سب نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے بڑی قطع رحمی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ ایک ماں کو اس کی بیٹی سے جدا کردیا جائے ؟ اس وقت آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے آپ جو مناسب سمجھیں اختیار فرمائیں۔ چناچہ آپ نے سارے بلاد اسلامیہ میں یہ فرمان جاری کردیا کہ جس لونڈی سے مالک کی اولاد پیدا ہوجائے وہ اسے فروخت نہیں کرسکتا۔
اس روایت کو اگرچہ بعض مفسرین نے درج کیا ہے مگر اس کا حوالہ مذکور نہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایت ویسے بھی درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ ام الولد کی فروخت کی تحریم سنت نبوی سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔
1۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی لونڈی سے مباشرت کی۔ پھر اس سے اس کا بچہ پیدا ہوگیا تو وہ لونڈی اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوگی (احمد۔ ابن ماجہ۔ بحوالہ نیل الاوطار ج 6 ص 231)
2۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے پاس ام ابراہیم (ماریہ قبطیہ) کا ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا : اس کا بچہ اس کی آزادی کا سبب بن گیا (ابن ماجہ، دارقطنی بحوالہ ایضاً )
3۔ سیدنا ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی نے اولاد والی لونڈیوں کو بیچنے سے منع فرمایا اور کہا کہ وہ نہ بیچی جاسکتی ہیں نہ ہبہ کی جاسکتی ہیں اور نہ ترکہ میں شمار ہوسکتی ہیں۔ جب تک ایسی لونڈی کا مالک زندہ ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جب وہ مرجائے تو وہ لونڈی آزاد ہے (موطا امام مالک، دارقطنی بحوالہ ایضاً )
ان احادیث میں موطا امام مالک اول درجہ کی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ابن ماجہ درجہ دوم اور دارقطنی درجہ سوم میں۔ تاہم یہ سب احادیث ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہیں اور مرفوع ہیں۔ اور اس مسئلہ کے جملہ پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہیں یعنی ایسی لونڈی کا مالک خود بھی اپنی زندگی میں اسے نہ فروخت کرسکتا ہے اور نہ ہبہ کرسکتا ہے۔
Ayah 47:2327 جہاد کی برکات :۔ یعنی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ جہاد بھی ان کے لیے سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب تک جہادنہ کیا جائے گا۔ کبھی کفر اسلام کو جینے اور پھلنے پھولنے نہیں دے گا بلکہ اس کی تو یہ کوشش ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینک دیا جائے۔ جہاد سے ہی مسلمانوں کی پریشانیوں اور مصائب کا دور ختم ہوگا۔ فتنہ و فساد کا قلع قمع ہوگا۔ اللہ کا دین سربلند ہوگا۔ توحید پھیلے گی، شرک کا خاتمہ ہوگا اور یہ ملک امن و چین کا گہوارہ بن جائے گا۔
Ayah 47:2428 یعنی قرآن کے احکام اور ان احکام کی مصلحتوں میں غور کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے یا اگر غور کریں بھی تو ایسے بدھو اور عقل کے کورے واقع ہوئے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ جہاد کا حکم انہیں کن کن مصلحتوں کے تحت دیا جارہا ہے۔
Ayah 47:2529 یعنی شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی ہے کہ اگر تم نے جہاد میں شمولیت کی تو یہ اپنی موت کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں مال کا بھی نقصان ہوگا۔ پھر اگر مسلمانوں کو فتح ہو بھی جائے تو موت کی صورت میں انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ لہذا مالی نقصان سے بچنے، اپنی جان سلامت رکھنے اور تادیر زندہ رہنے کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ جہاد سے گریز کی راہ اختیار کی جائے۔
Ayah 47:2630 منافقین کا یہود سے درپردہ معاہدہ :۔ شیطان کی انہیں ایسی پٹی پڑھانے کی ایک وجہ یہ بھی بن گئی کہ ان بدبخت منافقوں نے اندر ہی اندر یہود سے ساز باز کر رکھی تھی اور ان منافقوں نے یہود سے ان کے مطالبہ پر کچھ ایسے دعوے بھی کر رکھے تھے کہ وہ انہیں مسلمانوں کی نقل و حرکت اور ان کی جنگی سرگرمیوں سے مطلع کرتے رہیں گے۔ اور اگر جنگ ہوئی تو ہم تم سے لڑیں گے نہیں بلکہ مسلمانوں کو چکمہ ہی دیتے رہیں گے۔ اور جنگ کے دوران منافقوں نے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا اور اس کے عوض یہود نے بھی ان سے کچھ وعدے کر رکھے تھے۔ گویا منافق یہودیوں کے لیے تو گھر کا بھیدی اور مسلمانوں کے حق میں مار آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر اللہ تو ہر شخص کے دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو ان منافقوں کی کرتوتوں سے وقتاً فوقتاً مطلع کردیتا تھا تو یہ ذلیل اور ننگے ہوجاتے تھے۔
Ayah 47:2731 موت سے فرار ناممکن ہے اور عذاب قبر کا ثبوت :۔ یعنی آج تو جہاد سے گریز کی راہ اختیار کرکے اپنی جانوں کو بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں مگر اس دن اپنے آپ کو کیسے بچا سکیں گے جب فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور لوہے کے گرزوں سے انہیں خوب مار رہے ہوں گے۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہیں جن سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ثابت ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب قیامت کے دن کے عذاب سے پہلے ہوگا۔ قیامت کے عذاب کی نسبت سے ہلکا ہوگا اور مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا۔
Ayah 47:2832 حق وباطل کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں کافروں سے ہوں وہ مسلمان نہیں رہتا :۔ اللہ کی رضا یہ تھی کہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے، یہودیوں کا نہ دیتے۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا کے بجائے نفاق کی راہ اختیار کی اور یہودیوں کی رضا کو پسند کیا۔ لہذا جو نیک اعمال انہوں نے زبانی طور پر اسلام لانے کے بعد کئے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کی ہیں، روزے رکھے ہیں یا اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ہے۔ اللہ ان کے ایسے سب اعمال ضائع کر دے گا اس سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوئی ہے جو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں اور کافروں کی جنگ میں کسی مسلمان کی ہمدردیاں کافروں کے ساتھ ہوں تو وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کے نیک اعمال اگر کچھ ہوں تو وہ بھی اکارت جاتے ہیں۔
Ayah 47:2933 یعنی جو کچھ بھی وہ اندر ہی اندر کافروں سے گٹھ جوڑ کر رہے ہیں اور انہیں اپنی ہمدردیاں جتا رہے ہیں اور اسلام کے خلاف اپنی وفاداریاں انہیں پیش کر رہے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کینہ وہ رکھتے اور زہر اگلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ایسی سب باتوں سے مسلمانوں کو خبردار کر دے گا۔
Ayah 47:3034 منافقوں کو برسرعام ننگا کرنا اللہ کی حکمت کے خلاف ہے :۔ یعنی ایسے منافقوں کو برسرعام ننگا کردینا بھی اللہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ ورنہ ہم آپ کو سب کچھ بتا دیتے۔ جس سے دوسرے مسلمانوں کو بھی ٹھیک ٹھیک پتا چل جاتا کہ ہم میں فلاں فلاں منافق گھسا ہوا ہے۔
خ نور فراست سے منافق پہچانے جاسکتے ہیں :۔ تاہم آپ کو ہم نے اتنا نور فراست ضرور دے دیا ہے کہ آپ ان کے لب و لہجہ اور انداز گفتگو سے ہی یہ معلوم کرسکیں گے کہ فلاں شخص منافق ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک سیدھے سادے اور صاف دل پکے مومن کی گفتگو میں ایسی پختگی اور سنجیدگی پائی جاتی ہے جو دل میں کھوٹ رکھنے والے شخص کے انداز گفتگو میں پائی ہی نہیں جاسکتی۔ چناچہ آپ اسی نور فراست سے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں تمام منافقوں کو نام بہ نام جانتے تھے۔
خ سیدنا حذیفہ بن یمان رازدان رسول :۔ جب غزوہ تبوک سے واپسی پر منافقوں نے آپ کو ایک گھاٹی کی راہ پر ڈال کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی تو اس وقت سیدنا حذیفہ بن یمان رسول اللہ کے ساتھ تھے۔ اور آپ کے کہنے پر ان منافقوں کی سواریوں کے چہروں پر اپنی ڈھال سے پے در پے وار کر رہے تھے۔ بعد میں یہی منافق اہل عقبہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ رسول اللہ نے ان چودہ یا پندرہ منافقوں کے نام اور ان کے باپوں تک کے نام بھی بتا دیئے تھے۔ تاہم آپ نے سیدنا حذیفہ کو یہ تاکید بھی کردی تھی کہ ان ناموں کو دوسروں پر ہرگز ظاہر نہ کرنا۔ اسی لیے سیدنا حذیفہ بن یمان کو راز دان رسول بھی کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ کا مجملاً ذکر مسلم۔ کتاب صفات المنافقین میں موجود ہے۔
Ayah 47:3135 بدا یعنی اللہ کے حدوث علم کا گمراہ کا کن عقیدہ :۔ لِنَعْلَمَ کے لفظ سے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا شبہ ظاہر کیا۔ یعنی اللہ کو بھی کوئی واقعہ ہوچکنے کے بعد علم ہوتا ہے پہلے نہیں ہوتا۔ حالانکہ بیشمار آیات اللہ تعالیٰ کے ازلی اور کلی علم کی صراحت پیش کرتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے الفاظ صرف اس وقت استعمال فرماتے ہیں کہ جبکہ اس علم کا تعلق اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے دیکھنے سے ہو۔ یعنی جہاد کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کفر کا سر توڑ کر مسلمانوں کی مدد کرسکتا تھا۔ لیکن اس طرح کسی کے صبر و استقلال اور ایمان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی۔ اور نہ ہی مختلف لوگوں کی مختلف طرح کی سرگرمیوں کا پتا لگ سکتا تھا۔
Ayah 47:3236 یعنی مسلمانوں سے غداری کرکے نہ وہ اللہ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا۔ بلکہ وہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ اللہ ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیتا ہے علاوہ ازیں ان کے کچھ اچھے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں۔
Ayah 47:3337 اعمال کو برباد کرنے والے کام :۔ یعنی تم جو کام بھی کرو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے جذبہ سے اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہونے چاہئے۔ مثلاً جہاد سے اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کے کلمہ کی سربلندی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی اور جذبہ کے تحت مثلاً شہرت اور ناموری کی غرض سے یا قبائلی عصبیت کی وجہ سے یا مال غنیمت کے حصول کی بنا پر جہاد کرے گا تو اس کا ایسا نیک عمل بھی مقبول نہ ہوگا۔ پھر اسے یہ بھی چاہئے کہ اپنے نیک عمل کی حفاظت کرے اور کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھے جس سے اس کے عمل کے برباد ہونے کا خطرہ ہو۔ مثلاً ارتداد، شرک، اپنے کئے ہوئے کام پر فخر کرنا یا صدقہ کی صورت میں احسان جتلانا ایسے کام ہیں جو نیک اعمال کو برباد کردیتے ہیں۔
Ayah 47:3438 یعنی ان کا جرم صرف یہی نہیں کہ انہوں نے خود اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بلکہ ان کے اصل جرائم تو ان کے وہ اعمال ہیں جو وہ اسلام کی راہ روکنے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچانے کے لیے سرانجام دیتے رہے۔ کفر و شرک جس پر وہ تادم مرگ اڑے رہے بذات خود ایسا جرم ہے جس کی معافی نہیں ہوسکتی۔ اور ان کے جرائم کی فہرست تو بڑی طویل ہے پھر ان کی معافی کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ بعض علماء کی رائے کے مطابق اس سے مراد وہ کافر ہیں جو بدر کے میدان میں قتل ہوئے اور بدر کے کنوئیں میں پھینکے گئے۔ تاہم اس آیت کے عموم کو صرف انہیں کافروں سے مختص نہیں کیا جاسکتا۔ ہر دور میں ایسی صفات رکھنے والے کافر موجود رہے ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔ وہ سب اس عموم میں داخل ہیں۔
Ayah 47:3539 دشمن سے صلح یا سمجھوتہ کی درخواست نہ کی جائے :۔ یعنی جب تم دشمن سے بھڑ جاؤ تو پھر سستی کا ہرگز مظاہرہ نہ کرو بلکہ سر دھڑ کی بازی لگادو۔ اور نہ ہی کافروں سے صلح اور سمجھوتہ کی درخواست کرو جس سے تمہاری کمزوری ان پر عیاں ہوجائے اور وہ تو تمہیں مزید دباتے چلے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب مدینہ کی ریاست نئی نئی وجود میں آئی تھی۔ ایک سو کے لگ بھگ مہاجر اور کچھ انصار تھے اور ان کے جنگی جوانوں کی تعداد ایک ہزار تک بھی بمشکل پہنچی تھی۔ سامان جنگ کی فراوانی تو درکنار ان کی معاشی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ دوسری طرف صرف قریش مکہ ہی نہیں سارا عرب ہی مسلمانوں کی مخالفت پر اتر آیا تھا اور اس ریاست کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردینا چاہتا تھا۔ ان حالات میں یہ ہدایت دی گئی کہ میدان جنگ میں نہ اپنی کمزوری دکھاؤ اور نہ ہی اپنے آپ کو کمزور سمجھتے ہوئے دشمن سے صلح کی درخواست کرو۔ ہاں اگر دشمن سے اپنی طاقت کا لوہا منوا لو تو وہ خود مسلمانوں سے صلح کی درخواست کریں تو اس صورت میں آپ ان کی صلح کی درخواست کو قبول فرما لیجئے۔ جیسا کہ سورة انفال کی آیت نمبر 61 میں اس کی صراحت موجود ہے۔
40 غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ ہی نہیں بلکہ دلیل وحجت کا غلبہ بھی ہے :۔ اگر تم سستی نہ دکھاؤ گے اور پامردی اور استقلال سے جہاد کرو گے تو یقیناً تم ہی غالب رہو گے کیونکہ اس صورت میں اللہ تمہاری مدد پر موجود ہے۔ تم نے جہاد کے سلسلہ میں جو خرچ کیا ہوگا یا جو محنت و مشقت اٹھائی ہوگی اللہ اس کا تمہیں پورا پورا اجر عطا کر دے گا۔ اور یہ جو فرمایا کہ تم ہی غالب رہو گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر جنگ میں اور ہر حال میں غالب ہی رہو گے۔ جیسا کہ مسلمانوں کو جنگ احد میں اور جنگ حنین میں ان کی اپنی ہی غلطی کی وجہ سے عارضی طور پر شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالآخر تم ہی غالب رہو گے۔ چناچہ اللہ نے مسلمانوں سے اپنا یہ وعدہ پورا کردیا اور آپ کی زندگی میں ہی سارے عرب میں کفر و شرک کا زور ختم ہوگیا اور مسلمان اور اسلام ہی غالب آئے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ غلبہ سے مراد ضروری نہیں کہ سیاسی غلبہ ہی لیا جائے۔ علمی غلبہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ یعنی دلیل و حجت کے لحاظ سے کفر کے تمام مذاہب پر غالب رہو گے اور مسلمان اللہ کے فضل سے آج تک دلیل و حجت کے میدان میں کسی دوسرے مذہب والے سے مغلوب نہیں ہوئے۔ تاہم پہلا مطلب ہی ربط مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayah 47:3641 دنیا دار کے لئے دنیوی زندگی کھیل تماشا ہے :۔ یعنی یہ دنیا بس دلفریبیوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انسان زیادہ سے زیادہ مال و دولت اکٹھی کرنے کی ہوس رکھتا ہے اور مرتے دم ہی سب کچھ یہیں چھوڑ جاتا ہے۔ لہذا تمہیں آخرت کی کمائی کی فکر کرنی چاہئے جو دائمی اور پائیدار ہے۔ اور اس کے مقصد کے حصول کے لئے وہ تم سے تمہارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ تو خود غنی ہے اور ساری مخلوق پر خرچ کرتا ہے اسے تمہارے اموال کی کیا پروا یا ضرورت ہے۔ اگر کچھ تھوڑا سا مال تمہیں جہاد کی خاطر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ چناچہ مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن اپنی گرہ سے پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی ملک فتح کرادیئے۔ اور جتنا مسلمانوں نے خرچ کیا تھا اس سے سو سو گناہ زیادہ اموال غنیمت کی صورت میں ہاتھ لگ گیا۔ اموال غنیمت نے مسلمانوں کی معاشی تنگدستی کو آسودگی میں تبدیل کردیا۔ چناچہ فتح خیبر کے بعد مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کردیئے جو انہوں نے مدینہ آنے پر شراکت کے طور پر انصار سے لئے تھے۔ پھر اس کے بعد مسلمانوں کی معاشی آسودگی بڑھتی ہی گئی۔
Ayah 47:3742 یَحْفِکُمْ : حفا کا لغوی معنی کسی چیز کی طلب میں مبالغہ اور اصرار ہے پھر اسی مبالغہ اور اصرار سے بعض دفعہ تنگ کرنے کے معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تم سے سارے ہی مال کا مطالبہ کرلیتا کیونکہ یہ مال اسی کا دیا ہوا تھا تو کتنے لوگ ایسے ہوسکتے ہیں جو فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر ایسے ہی لوگ ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے اور مال خرچ کرتے وقت ان کے دل کی کبیدگی اور گھٹن از خود ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 47:3843 دوسروں سے مراد اہل فارس ہیں :۔ اللہ اگر تمہیں جہاد میں یا دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی وہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں تو ایک ایک کا ہزار ہزار ملے گا اور اگر تم بخل کرو گے اور جہاد کی ضرورتوں پر خرچ نہ کرو گے تو اس کا سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ اور کافروں کے سامنے تمہیں ذلیل و رسوا ہونا پڑے گا۔ اللہ کے نافرمان الگ بنو گے۔ اللہ کو اپنے لئے تمہارے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بےنیاز ہے اور محتاج تم ہی ہو۔ اور اگر تم جان و مال کے خرچ کرنے میں بخل کرنے سے کام لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئے گا جو جان اور مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں بخیل نہ ہوں گے۔ اللہ کو تو بہرحال اپنے دین کو سربلند کرنا ہے وہ اگر تمہارے ہاتھوں ہوجائے تو اسے اپنے لئے غنیمت سمجھو۔ اور دوسرے لوگوں سے مراد اہل فارس ہیں چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا پر ہوتا تب بھی ان لوگوں میں سے کئی وہاں تک پہنچ جاتے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة جمعہ)
خ اہل فارس کی شاندار دینی خدمات :۔ الحمدللہ صحابہ کرام نے جہاد کے سلسلہ میں ایسی بےنظیر قربانیاں پیش کیں کہ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم اہل فارس نے اسلام میں داخل ہو کر علم و ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی لاجواب دینی خدمات سرانجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ کی پیشین گوئی کے عین مطابق یہی لوگ تھے۔ جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پُر کرسکتے تھے۔ نامور محدثین اور ائمہ فقہا کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔