Ayahs 46:1–21 تمہیدی کلمات ہیں جن میں قرآن کا تعارف کرایا گیا ہے کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ اور اس آیت کی تفسیر پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة الزمر۔ المومن وحم السجدۃ۔ حاشیہ نمبر 1
Ayah 46:32 اللہ کی حکمت سے معاد پر دلیل :۔ اس کارخانہ کائنات کے نتیجہ کے طور پر قیامت کے قائم ہونے پر عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اور اس کی تفسیر بھی پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔
3 اللہ کی صفت عدل سے معاد پر دلیل :۔ قیامت کے قیام پر دوسری عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ یعنی انسان کو اس دنیا میں ایسے نہیں پیدا کیا گیا کہ جو کچھ وہ چاہے کرتا رہے اور اس سے کچھ بھی محاسبہ نہ ہو۔ اور جب انہیں یہ بات سمجھائی جاتی ہے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور منہ موڑ کر چل دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض ان کا تکبر ہے۔ وہ اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیاں گوارا نہیں کرتے اور اس بات کو اپنی شان سے فروتر سمجھتے ہیں۔
Ayah 46:44 مشرکین سے شرک پر عقلی دلیل کا مطالبہ : سابقہ آیات میں مشرکین مکہ کے انکار آخرت کا رد پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت اور اس سے مابعد کی آیات میں ان کے شرک پر تنقید کی جارہی ہے۔ ان سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی کوئی وجہ تو بتاؤ۔ عبادت کے لائق تو وہی ہستی ہوسکتی ہے جس کا کائنات کی پیدائش میں کچھ عمل دخل ہو۔ بتاؤ اس کائنات کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے۔ یا زمین یا آسمانوں کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا تھا ؟ اور اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو پھر وہ اس کی ملکیت کیسے بن گئی جس میں تصرف کے اختیارات انہیں حاصل ہوں۔
5 کتاب اللہ یا آثار سے نقلی دلیل کا مطالبہ :۔ ایک طرف تو تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کی تخلیق میں تمہارے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں، کوئی شراکت نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی رٹ لگائے جاتے ہو کہ ان کو کائنات میں تصرف کے اختیار حاصل ہیں۔ یہ ہماری بگڑی بنا بھی سکتے ہیں اور اگر ان کی گستاخی کی جائے تو یہ انتقام بھی لے سکتے ہیں۔ تو یہ بات عقلی لحاظ سے غلط ہے۔ پھر اگر عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو کوئی نقلی دلیل ہی پیش کردو۔ کہیں بھی اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات لکھی ہوئی دکھا دو کہ اللہ کے سوا کائنات میں دوسروں کو بھی کچھ اختیارات حاصل ہیں۔ یا اللہ کے فلاں قسم کے اختیارات مثلاً رزق دینے کے فلاں بت یا دیوتا یا بزرگ کو تفویض کر رکھے ہیں اور فلاں قسم کے مثلاً زندگی بخشنے کے اختیارات فلاں کو سپرد کردیئے ہیں اور اگر کتاب الٰہی میں ایسی تحریر موجود نہ ہو تو کسی علمی اثر میں ہی دکھادو۔
خ آثار سے کیا مراد ہے ؟ علمی اثر سے مراد کتاب اللہ کی وہ تفاسیر و شروح ہیں جو مستند ہوں۔ (جیسے ہمارے پاس کتاب اللہ تو قرآن کریم ہے اور عملی اثر احادیث ہیں۔ جن میں سلسلہ اسناد بھی درج ہوتا ہے جس سے یہ تحقیق کی جاسکتی ہے کہ فلاں حدیث کس درجہ کی ہے اور آیا وہ مقبول ہے یا مردود) اور اگر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہو اور نہ نقلی تو پھر سمجھ لو کہ تمہارے عقائد محض ظن اور اوہام پر مبنی ہیں۔
Ayah 46:56 استجاب کے دو معنی اور مشرکوں کا رد :۔ یہاں استجاب کا لفظ دو قسم کے معنی دے رہا ہے اور دونوں ہی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جو سن ہی نہیں سکتا وہ جواب کیا دے گا ؟ جیسے کسی پتھر یا درخت سے یہ پوچھا جائے کہ مثلاً لاہور کس طرف ہے ؟ تو جب وہ سنتا ہی نہیں تو جواب کیا دے سکتا ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی کسی کی دعا یا پکار کو سن کر اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثلاً میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس بیماری سے شفا دے اور اللہ تعالیٰ واقعی میری پکار کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور میری بیماری دور کردیتا ہے تو میں کہوں گا میری دعا مستجاب ہوگئی۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ یہاں معبودوں سے مراد بےجان قسم کے معبود بھی ہیں۔ جو سن ہی نہیں سکتے اور جاندار بھی مثلاً فرشتے، جن اور زندہ بزرگ وغیرہ جو سن تو سکتے ہیں مگر اس دعا یا درخواست پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور مشرکوں کی گمراہی اور انتہائی گمراہی یہ ہے کہ وہ اپنی درخواست اس چیز یا ہستی کے سامنے پیش کرتے ہیں جن پر عملدرآمد اس کے دائرہ اختیار میں ہے ہی نہیں۔ اس کی معمولی سی مثال یہ سمجھئے کہ ایک شخص اپنے گھر میں ٹیلیفون لگوانا چاہتا ہے لیکن وہ اپنی درخواست محکمہ پولیس کو بھیج دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس بیوقوف کی درخواست پر کبھی عملدرآمد نہ ہوسکے گا۔ بالکل یہ مثال ان مشرکوں کی ہے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں۔
Ayah 46:67 من دون اللہ سے مراد یہاں بت نہیں بلکہ فوت شدہ بزرگ ہیں :۔ آیت نمبر 5 اور 6 سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بےجان قسم کے معبود مراد نہیں ہیں۔ کیونکہ بےجان معبود ہی ایسے ہوسکتے ہیں جن کا دشمنی اور دوستی سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی وہ عبادت سے انکار کرسکتے ہیں۔ لامحالہ یہاں جاندار معبود ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ پھر جانداروں میں سے بھی فرشتے خارج از بحث ہیں۔ کیونکہ ان کا حشر نہیں ہوگا۔ باقی صرف جن، نبی، پیر، اولیاء وغیرہ ہی رہ جاتے ہیں۔ جن پر حسد، دشمنی اور عبادت سے انکار سب باتیں چسپاں ہوسکتی ہیں۔ پھر ایسے معبودوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک پیغمبر اور صحیح العقیدہ اولیاء کرام یہ اپنے عابدوں سے کہیں گے کہ کم بختو ! ہم تو ساری زندگی خود بھی اللہ سے ہی دعا کرتے رہے اور تمہیں بھی یہی تلقین کرتے رہے۔ پھر تم نے کیا الٹی گنگا بہادی کہ ہم کو ہی پکارنا شروع کردیا۔ ان لوگوں کا اپنے عابدوں کا دشمن ہونا صاف واضح ہے۔ دوسرے ایسے معبود ہیں جو خود بھی یہی چاہتے تھے کہ لوگ ان میں خدائی اختیارات تسلیم کریں اور انہیں پکارا کریں۔ ایسے لوگ جب قیامت کے ہولناک مناظر اور شرک کا انجام دیکھیں گے تو صاف مکر جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کب کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرنا۔ اور یہ بات عابدوں کو سخت ناگوار گزرے گی۔ لہذا وہ بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔
خ سماع موتی کی حقیقت :۔ یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا فوت شدہ حضرات دنیا والوں کی پکار سنتے ہیں یا نہیں ؟ جسے عرف عام سماع موتی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ سو اس آیت میں اس بات کی مکمل نفی ہے۔ کہ وہ قیامت تک بھی دنیاوالوں کی پکار نہیں سن سکتے۔ تاہم بعض آیات سے اتنا اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہے سنا سکتا ہے۔ نیز صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ کو امت کا سلام فرشتوں کے ذریعہ پہنچایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی قرآن میں صراحت سے مذکور ہے۔ کہ مرنے کے بعد نیک لوگوں کی ارواح علیین میں اور بدکاروں کی ارواح سجین میں ہوتی ہیں۔ اور وہاں وہ دنیا والوں کی کوئی آواز براہ راست اور بلاواسطہ سن نہیں سکتے کیونکہ وہ عالم بھی دوسرا ہے۔
خ اللہ کا فوت شدہ لوگوں کو سنانے کا ضابطہ :۔ اب سنانے کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کا ضابطہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کو صرف وہی خبر پہنچائی جاتی ہے جس سے ان کی راحت میں اضافہ ہو۔ جیسے رسول اللہ کو امت کا سلام پہنچایا جاتا ہے۔ یا نیک اولاد کی دعائیں ان کے والدین کو پہنچا دیں جاتی ہیں۔ انہیں کوئی ایسی خبر نہیں پہنچائی جاتی جو ان کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔ اور بدکاروں کو کوئی راحت انگیز خبر نہیں سنائی جاتی۔ انہیں صرف ایسی خبریں سنائی جاتی ہیں جو ان کے لیے مزید سوہان روح بن جاتی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ نے بدر کے کنوئیں میں پھینکے ہوئے مقتول کافروں سے ان کی سرزنش اور زجر و توبیخ کے طور پر خطاب کیا تھا اور اللہ نے وہ بات ان تک پہنچا دی تھی۔ اور صحابہ کے استفسار پر رسول اللہ نے انہیں یہ جواب دیا تھا کہ وہ تم سے کچھ کم نہیں سن رہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف روح، عذاب قبر اور سماع موتی )
Ayah 46:78 کافر قرآن کو جادو کیوں کہتے تھے ؟:۔ کفار مکہ کے قرآن کو صریح جادو کہنے کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ اس کلام میں بلا کی تاثیر تھی جو بھی یہ کلام سنتا اس کے دل میں اتر جاتا تھا۔ کافر خود بھی قرآن کی اس تاثیر کے معترف اور اس سے متاثر ہوجاتے تھے۔ مگر چونکہ وہ خود اس کو نہ ماننے کا تہیہ کرچکے تھے اس لیے قرآن کی اس خوبی کو بھی برے انداز میں پیش کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ صریح جادو یا جادو کا کرشمہ یا جادو کا سا اثر رکھتا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جادوگروں کا عموماً یہ کام ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان پھوٹ ڈال دیں یا رشتہ داروں کو آپس میں لڑا دیں۔ ادھر صورت حال یہ تھی کہ جو شخص اسلام لے آتا تھا۔ وہ اس کے مقابلہ میں اپنے کسی رشتہ دار کی پروا نہیں کرتا تھا۔ اس لحاط سے بھی کافر قرآن کو جادو اور آپ کو جادو گر کہہ دیتے تھے۔
Ayah 46:89 خود ساختہ کلام یا جادو ؟ یعنی اپنے سابقہ بیان کی خود ہی تردید کردیتے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ اگر یہ قرآن جادو ہے تو آپ کا کلام نہیں اور آپ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے تو پھر وہ جادو نہیں ہوسکتا۔
10 یعنی اگر میں نے خود ہی کلام تالیف کرکے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ تو یقیناً اللہ مجھے اس افتراء کی سزا دے گا۔ تم مجھے اس سے چھڑا تو نہیں لو گے۔ نہ ہی تم میں یہ قدرت ہے۔ البتہ جن کاموں میں تم لگے ہوئے ہو وہ ضرور اس قابل ہیں کہ اللہ تمہیں ان کاموں کی سزا دے اور وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ بھی رہا ہے۔ لہذا تم اپنے کاموں اور ان کے انجام کی فکر کرو۔
11 یہاں اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ہم سب کے اعمال دیکھ رہا ہے لیکن سزا نہیں دیتا، ورنہ اگر وہ بےرحم بادشاہوں کی طرح ہوتا تو کب سے لوگوں کا قصہ پاک ہوچکا ہوتا۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ ایسی سب باتوں کو برداشت کرکے درگزر کئے جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اب بھی تم اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
Ayah 46:912 یعنی رسالت کا سلسلہ کچھ مجھ سے ہی شروع نہیں ہوا مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر اور سینکڑوں رسول گزر چکے ہیں۔ سب کی تعلیم یہی تھی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ میں کوئی نئی اور نرالی بات تم سے نہیں کہتا۔ جسے تم صریح جادو یا بناوٹی باتیں کہہ رہے ہو۔
13 کسی کے انجام کی یقینی خبرصرف اللہ کو ہے :۔ اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اور تمہارے خیال کے مطابق اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا نتیجہ میرے حق میں کیا نکلنے والا ہے اور تمہارے حق میں کیا ہوسکتا ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم نہ ہی کوئی بات میرے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں تو صرف یہ بات ہے کہ جو کچھ میری طرف وحی کی جارہی ہے اس کی پیروی کرتا جاؤں اور جو پیغام مجھے اللہ کی طرف سے ملا ہے وہ تمہیں پہنچا دوں اور تمہیں تمہارے انجام سے مطلع کر دوں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے یا تم سے کیا سلوک ہونے والا ہے۔ یہ میں نہیں جانتا میں صرف تمہیں یہ بتائے دیتا ہوں کہ برے اعمال کا انجام اچھا نہ ہوگا۔ اور اس پہلو کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔
خارجہ بن زید انصاری کہتے ہیں ام علاء انصار کی ایک عورت تھی جس نے رسول اللہ سے بیعت کی تھی اس نے کہا کہ جب انصار نے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعون ؓ کا قرعہ ہمارے نام نکلا۔ وہ ہمارے پاس رہنے لگے۔ وہ بیمار ہوگئے ہم نے ان کی تیمار داری کی۔ آخر ان کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے انہیں کفن پہنایا تو رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اس وقت میں نے کہا : ابوالسائب ! یہ عثمان بن مظعون ؓ کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے۔ میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہیں عزت دی رسول اللہ نے مجھ سے پوچھا : تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت دی ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے معلوم نہیں تب آپ نے فرمایا۔ عثمان بن مظعون ؓ کی موت واقع ہوگئی اور مجھے اس کی بھلائی کی امید ہے۔ (لیکن یقین کے ساتھ میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا) اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ اس سے کیا سلوک کیا جانے والا ہے ام علاء کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں نے کبھی کسی کی ایسی تعریف نہیں کی۔ (بخاری۔ کتاب الشہادات۔ باب القرعۃ فی المشکلات)
Ayahs 46:10–1115 یہود کی اپنے متعلق غلط فہمی :۔ بایں ہمہ وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کسی چیز کے حق ہونے کا معیار ہماری ذات والا صفات ہے۔ حق وہی ہوسکتا ہے جسے ہم حق قرار دے دیں۔ پھر جب ہم ہی اسے حق نہیں سمجھتے تو چند کمزور درجہ کے لوگوں کے اس کو حق سمجھنے سے وہ چیز حق کیسے بن سکتی ہے۔ اگر یہ دین کوئی اچھی چیز ہوتی تو ہم جیسے عقلمند اور معزز لوگ ان لونڈی غلاموں سے پیچھے کیسے رہ جاتے ؟
16 جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخرالزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا جھوٹ کہہ ہی نہیں سکتے تھے اور نہ انہیں یہ کہنا گوارا تھا کہ یہ پرانا سچ ہے۔ کیونکہ ابتدا سے انبیائے کرام یہی سچی تعلیم دیتے رہے ہیں۔
Ayah 46:1217 نبی آخرالزمان کی بعثت سے ہزاروں برس پہلے تورات نے جو اصولی تعلیم دی تھی۔ انبیاء و اولیاء کی ایک کثیر تعداد اسی تعلیم سے رہنمائی حاصل کرتی رہی۔ اس کتاب نے بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے راستی اور ہدایت کی راہ ڈال دی اور یہ لوگوں پر اللہ کی بہت بڑی رحمت تھی۔ اور یہ موجودہ کتاب قرآن بھی تورات کو سچا ثابت کرتا ہے۔ گویا یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اور ان دونوں کتابوں میں مجرموں کے لیے وعید اور نیک لوگوں کے لیے جنت کی بشارت موجود ہے۔
Ayah 46:1318 اس آیت کی تفسیر کے لیے سورة حٰم السجدۃ کی آیت نمبر 30 کے حواشی ملاحظہ فرمایئے۔
Ayahs 46:14–1519 والدین سے بہتر سلوک کے سلسلہ میں سورة ئبنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
20 والدہ حسن سلوک کی والد سے زیادہ حقدار ہے :۔ اس آیت میں پہلے ایک دفعہ ماں اور باپ دونوں سے بہتر سلوک کا حکم دیا۔ پھر تین بار صرف ماں کی خصوصی خدمات کا ذکر فرمایا۔ اور اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے پوچھا : میرے بہتر سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے۔ آپ نے فرمایا : تیری ماں، اس نے دوبارہ پوچھا، پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : تیری ماں تیسری بار آپ نے یہی جواب دیا۔ پھر چوتھی بار آپ نے جواب دیا تیرا باپ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب من احق الناس بحسن الصحبۃ)
21 رضاعت کی مدت شمار اور اس کے نتائج :۔ سورة بقرہ کی آیت نمبر 233 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رضاعت کی پوری مدت دو سال ہے۔ البتہ اگر والدین کسی ضرورت کے تحت اس مدت میں کمی کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح سورة لقمان کی آیت نمبر 13 میں فرمایا کہ ماں کو دودھ چھڑانے میں دو سال لگ گئے۔ اور اس مقام پر فرمایا کہ حمل اور رضاعت کی مدت تیس ماہ ہے۔ ان سب آیات کو سامنے رکھنے سے درج ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے۔
(1) رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس میں کمی ہوسکتی ہے۔ زیادتی نہیں۔ لہذا اگر کسی نے دو سال سے زیادہ عمر میں کسی عورت کا دودھ پی لیا ہو تو اس پر احکام رضاعت کا اطلاق نہ ہوگا یعنی وہ احکام جن کا نکاح سے تعلق ہے۔
(2) حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہوجائے تو وہ موجودہ خاوند کا نہیں بلکہ کسی اور مرد کا بچہ ہوگا۔ زیادہ واضح الفاظ میں وہ لڑکا ولدالزنا ہوگا۔ اور اس کا وراثت سے بھی کچھ تعلق نہ ہوگا اور بچے کی ماں کو زنا کی حد پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ طبی تحقیقات کے مطابق حمل کی کم از کم مدت 28 ہفتے قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ تحقیق صحیح ہو تو بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے اس مسئلہ کے ہر دو پہلوؤں سے نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر اس مدت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے چھ ماہ کی مدت قرار دی ہے۔ چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو تو والد یا عورت کا خاوند اس کے نسب سے انکار کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔
(3) رضاعت کی مدت کی بہتر صورت یہ ہے کہ اگر بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو تو رضاعت کی مدت پورے دو سال یا چوبیس ماہ قرار دی جائے۔ اگر سات ماہ بعد پیدا ہو تو 23 ماہ، آٹھ ماہ بعد بعد پیدا ہو تو 22 ماہ اور نو ماہ بعد پیدا ہو تو 21 ماہ قرار دی جائے۔
(4) مدت کا شمار قمری مہینوں کے حساب سے ہوگا شمسی مہینوں سے نہیں۔
22 پختگی کی عمر کتنی ہے ؟:۔ اگرچہ انسان کی جسمانی قوت اور طاقت چالیس سال سے پہلے ہی اپنے نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ تاہم اس میں عقل کی پختگی چالیس سال تک ہی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو نبوت چالیس سال کی عمر میں یا اس کے بعد عطا کی جاتی رہی۔ البتہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ جیسے آپ کی اور بھی کئی باتیں اعجازی حیثیت رکھتی ہیں۔ ویسے ہی نبوت بھی آپ کو تیس سال کی عمر میں عطا ہوئی اور 33 سال کی عمر میں آپ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔
23 یہ انسان کی عقل کی پختگی کی دلیل ہے کہ اسے اپنے پروردگار کے اور اپنے والدین کے احسانات کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور شکر کے لیے اللہ سے توفیق بھی طلب کرتا ہے۔ اور عملی طور پر اللہ کا شکر یوں ادا کرتا ہے اور اس کی توفیق چاہتا ہے جو اللہ کو پسند ہو۔ واضح رہے اللہ تعالیٰ کو وہی اعمال پسند ہیں جو خالصتاً اس کی رضا مندی کے لیے کئے جائیں۔ شریعت کی پابندیوں یعنی اسوہ رسول کے مطابق ہوں۔ ان میں ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ اور بعد میں کوئی ایسا فعل نہ کیا جائے جو اس عمل کو برباد کرنے کا سبب بن جائے۔
24 سیدنا ابوبکر صدیق ؓ پر خصوصی احسان :۔ صحابہ کرام ؓ میں صرف سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ہی ایسے خوش قسمت تھے جو خود بھی مسلمان، ان کے والدین بھی مسلمان اور اولاد بھی مسلمان تھی اور ان سب کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ صحابہ میں یہ خصوصیت اور کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
Ayah 46:1625 یعنی ان کے اچھے اعمال میں سے جو بہترین ہوں گے، ان کی مناسبت سے ہی ہم ان کے سارے اچھے اعمال کا بدلہ دے دیں گے۔ اگرچہ وہ بہترین اعمال کے پایہ کے نہ ہوں گے۔ اور ان کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو بالکل ہی نظر انداز کردیں گے۔
Ayah 46:1726 یہ کوئی مخصوص کردار نہیں ہے۔ بلکہ مکہ میں ایسی مثالیں بھی موجود تھیں۔ بعض لوگ خود مشرک تھے اور ان کی اولاد مسلمان ہوگئی تھی اور بعض بڑے بوڑھے خود مسلمان تھے مگر ان کی نوجوان اور متکبر اولاد مشرک اور عقیدہ آخرت سے منکر تھی۔ اس آیت میں گفتہ آید در حدیث دیگراں کے مصداق ایسے ہی ایک گھرانے کا مکالمہ پیش کیا جارہا ہے۔ مشرک بیٹے کی وہی پرانی اور گھسی پٹی دلیل ہے جو کہ آخرت کے منکر عموماً جواب میں کہا کرتے ہیں کہ ہزارسال سے لوگ مرتے رہے ہیں کوئی زندہ ہو کر واپس تو آیا نہیں۔ پھر تم مجھے یہ کیسی دھمکی دیتے ہو۔ اس سوال کا جواب یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اکثر مقامات پر قرآن میں اس کا جواب دیا جاچکا ہے۔
27 اگر عقیدہ آخرت پرانا ہے تو اس کا جواب بھی تو اتنا ہی پرانا افسانہ ہے :۔ پہلے لوگ بھی کچھ ایسی باتیں کرتے رہے ہیں مگر آج تک چونکہ کوئی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا تو پھر ہم ان کی یہ بات کیسے درست تسلیم کرلیں۔ یہ تو محض پرانے افسانے ہی ہیں۔ مگر اسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ اگر یہ پرانے افسانے ہیں تو اس کا جواب بھی تو ویسا ہی پرانا افسانہ ہے جو آخرت کے منکر دیتے رہے ہیں۔
Ayah 46:1828 یعنی ایسے ضدی لوگ جو نہ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ عقلی دلائل کو تسلیم کرتے ہیں ان پر اللہ کا یہ قول فٹ آتا ہے کہ میں جنوں اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد سے جہنم کو بھردوں گا۔ اور یہ قول بھی دراصل ابلیس کی اس بات کے جواب میں ہے۔ جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہی تھی کہ میں تیری ساری مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ کوئی چند تیرے مخلص بندے میرے داؤ سے بچ جائیں تو الگ بات ہے۔ یہ آخرت کا منکر بیٹا بھی انہی جہنم میں داخل ہونے والوں یا بالفاظ دیگر ابلیس کے ہتھے چڑھنے والوں میں سے ہے۔
29 آخرت کے منکر دنیا اور آخرت دونوں جگہ خسارے میں :۔ آخرت کے منکر کو دنیا میں تو یہ خسارہ ہوتا ہے کہ وہ گناہوں پر دلیر ہو کر ایمان وسعادت کا وہ بیج بھی ضائع کردیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہر آدمی کے دل میں فطری طور پر ڈال رکھا تھا۔ پھر جب وہ گناہوں پر ملامت کرنے والے ضمیر کا ہی گلا گھونٹ دیتا ہے تو اسے راہ راست پر لانے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور آخرت میں اس کا خسارہ یہ ہے کہ اگر اس نے زندگی میں کوئی اچھے کام کئے بھی تھے تو ان کا اسے کوئی صلہ نہ ملے گا۔ اس لیے کہ اس نے آخرت میں اجر ملنے کی نیت سے وہ کام کئے ہی نہ تھے۔ اس طرح اس کے گناہ ہی گناہ باقی رہ جائیں گے۔
Ayah 46:1930 نیک لوگوں پر ظلم کی صورتیں یہ ہیں کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ نہ دیا جائے یا کم دیا جائے۔ اور مجرموں پر ظلم کی صورتیں یہ ہیں کہ انہیں جرم سے زیادہ سزا دے ڈالی جائے یا مجرموں کو سزا دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے غرضیکہ ظلم کی کوئی بھی صورت وہاں ممکن نہ ہوگی۔
Ayah 46:2031 کافروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے :۔ کافروں اور آخرت کے منکروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص رفاہ عامہ کے لیے کوئی ہسپتال یا اس کا کوئی کمرہ بنواتا ہے۔ تو اس سے اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی سخاوت کی شہرت ہو اور لوگ اس کو اچھے لفظوں میں یاد کریں۔ تو یہ بدلہ اسے دنیا میں مل جاتا ہے۔ اس کے نام کا کتبہ ہسپتال کے کمرہ کے باہر لگا دیا جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ کسی دوسرے کی طرف سے اخبارات و رسائل میں اشتہار یا خبر بھی شائع کرا دی جاتی ہے اس طرح اسے وہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے جس کے لیے اس نے یہ اچھا کام کیا تھا۔ غرضیکہ ایسے کافروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مال و اولاد، حکومت، تندرستی، عزت و شہرت وغیرہ کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔ رہا آخرت میں اجر کا معاملہ تو یہ نہ ان کا مطلوب تھا اور نہ ہی اسے یہ مل سکے گا اور انہیں واضح طور یہ بتادیا جائے گا کہ تم اپنے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا میں لے چکے ہو اور ان سے فائدہ اٹھا چکے ہو۔ لہذا آج تمہارے لیے کچھ نہیں۔
دنیا میں مال و دولت کی فراوانی، اولاد، عزت اور تندرستی وغیرہ نعمتیں کافروں کو ہی نہیں ملتیں۔ اللہ کے نیک بندوں کو بھی ملتی ہیں اور مل سکتی ہیں۔ مگر ان کا انداز فکر اور ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا طریق کافروں اور آخرت کے منکروں سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
مومنوں کا انداز فکر :۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بیٹے ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک دن عبدالرحمن بن عوف (ان کے والد) نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ شام کے وقت روزہ افطار کرنے کے لیے جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو (کھانے کی نعمتیں دیکھ کر) کہنے لگے۔ مصعب بن عمیر (احد کے دن) شہید ہوئے۔ وہ مجھ سے اچھے تھے۔ ایک ایسی چادر میں ان کو کفن دیا گیا کہ اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے رہ جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا رہ جاتا تھا اور حمزہ بن عبدالمطلبص بھی اسی دن شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر اس کے بعد ہم لوگوں کو آسودگی اور فراوانی دی گئی اور ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب جلدی سے ہمیں دنیا میں نہ مل گیا ہو۔ پھر اس کے بعد رونے لگے اور اتنا روئے کہ کھانا بھی نہ کھایا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ احد)
32 یعنی بلاوجہ تم دنیا میں اکڑتے تھے۔ احکام الٰہی کو تسلیم کرنے میں اپنی توہین سمجھتے تھے اور ایماندار لوگوں کو ذلیل سمجھتے تھے۔ لہذا آج تمہاری اکڑ توڑ دی جائے گی اور نافرمانی کے بدلے تمہیں جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور دوسروں کو ذلیل سمجھنے کے بدلے تمہیں رسوا کن عذاب دیا جائے گا تاکہ جہنمی بھی تمہیں ذلیل مخلوق سمجھیں۔
Ayah 46:2133 یہاں قوم عاد کا ذکر اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ قریشی سرداروں سے بھی زیادہ مغرور، متکبر اور سرکش تھے۔ یہ قوم کفار مکہ کی نسبت قدوقامت، ڈیل ڈول اور جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی بہت بڑھ کر تھی۔
34 احقاف قوم عاد کا مسکن :۔ احقاف، حقف کی جمع ہے۔ بمعنی ریت کے بڑے بڑے میلوں میں پھیلے ہوئے ٹیلے۔ یہی علاقہ قوم عاد کا مسکن تھا۔ جو کسی زمانہ میں سرسبز اور شاداب علاقہ تھا۔ قوم عاد نے اسی جگہ زمین دوز مکان بنا رکھے تھے۔ یہ علاقہ جنوبی عرب میں حضرموت کے شمال میں واقع ہے۔ اور آج کل وہاں ریت ہی ریت کے ٹیلے ہیں جو سینکڑوں میل تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اس علاقہ کو آج کل ربع خالی بھی کہتے ہیں۔ کوئی شخص اس صحرا میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کرتا۔ اور جو چیز اس ریت میں گرپڑے وہ بھی ریت میں دھنس کر ریت ہی بن جاتی ہے۔ جیسے کوئی چیز نمک کی کان میں گرپڑے تو وہ بھی نمک ہی بن جاتی ہے۔
35 اس علاقہ میں ہود (علیہ السلام) سے پہلے بھی کئی نبی آئے تھے اور بعد میں آتے رہے۔ ان سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ ہی کائنات کا اور تمہارا خالق اور مالک ہے۔ لہذا وہی ہستی عبادت کے لائق ہے۔ صرف اسی کی عبادت کرو۔ کیونکہ اور کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اگر تم نے اللہ کا حکم نہ مانا، شرک اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو تم پر سخت عذاب نازل ہوگا۔
Ayahs 46:22–2336 کسی بات کا نتیجہ غلط نکالنا بھی جہالت ہے اور قوم ہود کی جہالت :۔ ان کی نادانی اور جہالت یہ تھی کہ جو بات انہیں ہود (علیہ السلام) سمجھانا چاہتے تھے انہوں نے اس کے برعکس نتیجہ نکالا۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے انہیں یہ سمجھایا تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کسی بھی طرح کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ خود مجھے بھی نہیں۔ میں بھی محض اللہ کا پیغام پہنچانے والا اور تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ لیکن انہوں نے جواب میں یہ کہہ دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ۔ حالانکہ ہود (علیہ السلام) کا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ اگر تم انکار کرو گے تو میں تم پر عذاب بھی لاسکتا ہوں اور مجھے ایسے تصرف کے اختیار حاصل ہیں۔ اور ان کی دوسری نادانی یہ تھی کہ اچھی بات کو تو قبول نہیں کرتے تھے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے تھے۔
Ayah 46:2437 قوم عاد پر عذاب بادل کی شکل میں نمودار ہوا تھا :۔ یہ لوگ بڑی مدت سے بارش کو ترس رہے تھے۔ قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ ایک کالی گھٹا اٹھتی اور اپنے علاقہ کی طرف آگے بڑھتی دیکھی تو خوشی سے جھوم اٹھے کئی طرح کی امنگیں انگڑائیاں لینے لگیں۔ بارش کے بعد سیرابی اور خوشحالی کی توقعات باندھنے لگے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ گھٹا باران رحمت کی گھٹا تھی یا ان کو نیست و نابود کرنے کے لیے اللہ کا عذاب کالی گھٹا اور آندھی کی صورت میں ان کے سروں پر پہنچنے والا تھا۔ یہ آندھی انتہائی تیز رفتار، سخت ٹھنڈی تھی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل ان پر چلتی رہی۔ اس واقعہ سے جو سبق ہمیں ملتا ہے کہ کسی چیز کی ظاہری شکل و صورت پر ہی تکیہ نہ کرلینا چاہئے۔ بلکہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب کبھی ابر یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر فکر معلوم ہوتی۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ لوگ تو جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب بادل آئے تو آپ کے چہرہ پر ناگواری معلوم ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ؓ ! مجھے یہ خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا۔ جب انہوں نے بادل دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 46:2538 عاد پر عذاب کی نوعیت :۔ اس عذاب کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اس آندھی کی تیزی کا یہ عالم تھا کہ وہ درختوں اور پودوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پرے پھینک دیتی تھی یہی آندھی ان کے زمین دوز مکانوں کے اندر گھس گئی۔ اس دوران وہ اپنے گھروں سے نکل بھی نہیں سکتے تھے۔ سردی کی شدت سے وہیں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مرگئے۔ لے دے کے اگر کوئی چیز وہاں نظر آتی تھی تو وہ ان کے مکان ہی تھے جن میں دراڑیں پڑگئیں تھیں۔
Ayah 46:2639 یعنی سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچ بچار کے لیے دل دیئے تھے۔ مگر وہ ان سے اتنا ہی کام لیتے تھے جو ایک جانور لیتا ہے۔ یعنی اتنا ہی جو دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے مفید ہو۔ دنیا کے کام میں عقلمند تھے لیکن وہ عقل نہ آئی جس سے آخرت درست ہو، آیات الٰہی سنتے وقت ان کے کان بہرے ہوجاتے تھے اور آیات الٰہی دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں بند ہی رہتی تھیں۔ پھر جب ان پر عذاب الٰہی آیا تو ان کی عقلمندی ان کے کسی کام نہ آسکی۔
Ayahs 46:27–2840 اہل مکہ کے ارد گرد کسی زمانہ میں ایسی بیشمار بستیاں آباد تھیں۔ جو اب تباہ و برباد ہوچکی تھیں۔ انہیں وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے تھے اور اگر چاہتے تو ان سے عبرت بھی حاصل کرسکتے تھے۔ ان قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ وہ مصیبت کے وقت ہمارے کام آتے ہیں۔ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں اور یہ اللہ کے ہاں ہماری فریادیں پہنچانے اور ہمیں اللہ کے قریب کردینے کا ذریعہ ہیں۔ پھر چاہئے تو یہ تھا کہ جب اسی جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا کہ اس مصیبت میں وہ ان کی مدد کو پہنچتے۔ مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آیا تو ان معبودوں کے شیدائی پرستاروں کو یہ یاد ہی نہ رہا کہ یہی تو اپنے معبودوں کو پکارنے کا وقت ہے۔ اس سے زیادہ مشکل اور کون سا وقت ہوگا۔ اس سے از خود یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جو افسانے ان لوگوں نے اپنے معبودوں کی دھاک بٹھانے کے لیے تراش رکھے تھے سب جھوٹ ہی جھوٹ تھے۔
Ayah 46:2941 انسان سے پہلے زمین پر جنوں کی آبادی :۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سے دو نوع ایسی ہیں جو شریعت الٰہی کی مکلف ہیں۔ ایک جن، دوسرے انسان۔ پھر انسانوں کی پیدائش سے پہلے جن ہی اس زمین پر آباد تھے۔ اور ان کی طرف بھی پیغمبر مبعوث ہوتے تھے۔ اور جس طرح انسانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی نافرمان ہی رہی ہے۔ اسی طرح جنوں کی اکثریت بھی نافرمان ہی تھی اور اب بھی ہے۔
خ بعد میں نبوت صرف انسانوں میں :۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اسے بھی اشرف المخلوقات بنایا اور جنوں کی حیثیت انسان کے بالتبع بن جانے کی ہوگئی۔ نبوت کا سلسلہ جنوں کی طرف سے بند ہو کر انسانوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اب جو پیغمبر انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ بھیجتے رہے وہی جنوں کے لیے بھی پیغمبر ہوتے تھے گویا ہمارے نبی آخرالزمان جس طرح ہمارے لیے اللہ کے پیغمبر تھے، جنوں کے لئے بھی تھے جنوں کے آپ سے قرآن سننے کا ذکر ایک تو اس مقام پر آیا ہے اور دوسرا سورة جن میں۔ لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی دور میں تقریباً چھ دفعہ ایسا موقع آیا تھا۔ جب آپ سے جنوں نے قرآن سنا تھا۔ ان میں سے ہم چند روایات درج کرتے ہیں۔ ان میں جو کچھ اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ وہ صرف الگ الگ موقع کی وجہ سے ہے۔:
1۔ جنوں کا آپ کی زبان سے قرآن سننا :۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، ایک دفعہ آپ اپنے چند صحابہ کے ہمراہ عکاظ کے بازار جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمانوں کی خبر ملنا بند ہوگئی اور ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔ وہ (زمین کی طرف) لوٹے اور (آپس میں) کہنے لگے۔ یہ کیا ہوگیا۔ ہمیں آسمان کی خبر ملنابند ہوگئی اور ہم پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ ضرور کوئی بات واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی ہے اب یوں کرو کہ ساری زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو کہ وہ کیا نئی بات واقع ہوئی ہے ان میں سے کچھ شیطان تہامہ (حجاز) کی طرف بھی آئے اور آپ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ نخلہ میں تھے اور عکاظ کے بازار جانے کا قصد رکھتے تھے۔ آپ اپنے صحابہ کو نماز فجر پڑھا رہے تھے جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ادھر کان لگا دیا۔ پھر کہنے لگے : یہ وہی چیز ہے جس کی وجہ سے ہم پر آسمان کی خبر بند کردی گئی۔ پھر اسی وقت وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہنے لگے ( قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا ۙ ) 72 ۔ الجن :1) تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورة جن نازل فرمائی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جنوں کی گفتگو آپ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة الجن)
2۔ جنو کی خوراک :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے کہ آپ یک دم ہم سے غائب ہوگئے۔ ہم نے آپ کو پہاڑ کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا، مگر آپ نہیں ملے۔ ہم سمجھے کہ آپ کو جن اڑا لے گئے یا کسی نے چپکے سے مار ڈالا اور رات ہم نے بڑی پریشانی میں بسر کی جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ حرا کی طرف سے آرہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ رات کو آپ ہم سے غائب ہوگئے ہم نے آپ کو تلاش کیا مگر آپ نہ ملے تو رات ہم نے بڑی پریشانی میں گزاری۔ آپ نے فرمایا : مجھے جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا، میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر وہ ہم کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کی نشانیاں اور ان کی آگ کے نشان ہمیں بتائے۔ پھر جنوں نے آپ سے توشہ کا مطالبہ کیا۔ آپ نے فرمایا : اس جانور کی ہر ہڈی جو اللہ کے نام پر کاٹا جائے، تمہاری خوراک ہے۔ تمہارے ہاتھ میں پڑتے ہی وہ گوشت سے پر ہوجائے گی اور ہر اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : ہڈی اور مینگنی سے استنجا مت کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں لیلۃ الجن کو رسول اللہ کے ساتھ نہ تھا لیکن مجھے آرزو رہی کاش میں آپ کے ساتھ ہوتا نیز ایک دوسری روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ کو جنوں کے آنے کی خبر ایک درخت نے دی تھی۔ (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الجھر بالقرآۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن)
42 جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مختلف کتب احادیث میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ واقعہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے وادی نخلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ایک دوسری روایت کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ اہل طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس آرہے تھے۔ راستہ میں آپ نے وادی نخلہ میں قیام فرمایا وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرائت سننے کے لیے وہاں ٹھہر گیا۔ اس موقعہ پر جن رسول اللہ کے سامنے نہیں آئے تھے۔ نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس کیا تھا بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی جیسا کہ سیدنا ابن عباس ؓ کی روایت یا مذکورہ حدیث نمبر 1 سے معلوم ہوتا ہے۔
43 سننے والے جنوں کی تبلیغ سے بہت سے جنوں کا ایمان لے آنا :۔ جنوں کے اس گروہ نے قرآن سنا تو اس سے بہت متاثر ہوئے اور فوراً رسول اللہ کی رسالت پر اور قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان لے آئے۔ (یہ واقعہ ان کفار مکہ کو سنایا جارہا ہے جو دل سے قرآن کی عظمت کو تسلیم کرنے کے باوجود اسے بہرحال نہ ماننے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے) یہ جن صرف خود ہی ایمان نہیں لائے بلکہ اپنی قوم میں جاکر انہیں قرآن کا پیغام سنایا۔ جنوں نے قرآن کی کون سی آیات سنی تھیں ؟ اس کی صراحت کہیں مذکور نہیں البتہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسی ہی آیات تھیں جن میں اللہ کے نافرمانوں اور مشرکوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا گیا ہو۔ چناچہ جنوں کی اپنی قوم کو تبلیغ کے نتیجہ میں ایک کثیر تعداد میں جن مسلمان ہوگئے۔ جو بعد میں کئی بار وفود کی شکل میں آپ کے پاس حاضر ہوتے رہے۔
Ayah 46:3044 یہ جن پہلے تورات پر ایمان لا چکے تھے :۔ جنوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ کتاب تورات کا نام لیا انجیل کا نام نہیں لیا۔ اس لیے سابقہ آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب احکام و شرائع کے لحاظ سے تورات جیسی جامع اور اس کے ہم پلہ نہیں تھی۔ اسی پر علمائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ خود سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا تھا کہ میں تورات کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کرنے آیا ہوں۔ اور سیدنا سلیمان کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ نیز خود تورات میں رسول اللہ کی آمد سے متعلق جو پیشین گوئی مذکور ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ ) میں تیری مانند ایک نبی بھیجوں گا
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن پہلے تورات اور کتب سماویہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ جب قرآن سنا تو انہیں فوراً معلوم ہوگیا کہ یہ وہی تعلیم ہے جو سابقہ انبیاء دیتے چلے آ رہے ہیں۔ لہذا وہ فوراً ایمان لے آئے۔
Ayahs 46:31–3245 کیونکہ جن اب اوپر آسمان کی طرف تو جا نہیں سکتے اور اگر جائیں تو فرشتے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ لہذا اب زمین ہی ان کی پناہ گاہ ہے۔ اب زمین سے بھاگ کر جائیں تو کہاں جائیں ؟
Ayah 46:3346 یہود کا اللہ پر تھک جانے کا الزام :۔ اللہ کی ذات کے متعلق تھکنے، آرام کرنے، سونے اور اونگھنے کا تصور ہی یکسر باطل ہے۔ اور ایسا خیال وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ کو بھی اپنے جیسی عاجز اور محتاج مخلوق سمجھتے ہیں حالانکہ کسی بھی چیز سے اللہ کی مثال نہیں دی جاسکتی۔ ان الفاظ سے یہود کے اس عقیدہ کا رد ہوا جو کہتے تھے کہ اللہ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا کئے پھر ساتویں دن آرام کیا۔
Ayah 46:3447 کافر اور آخرت کے منکر آخرت کا انکار اس لیے کرتے ہیں کہ اگر وہ اس کا اقرار کرلیں تو اس سے ان کی آزادی میں خلل آتا ہے۔ اور اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ حالانکہ کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے کے باوجود بھی بلی وہاں موجود ہی رہتی ہے اور حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح منکروں کے آخرت کے انکار کردینے سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑتا اور قیامت کے دن انہیں کہا جائے گا کہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا عذاب ایک ٹھوس حقیقت ہے یا نہیں جس سے تم آنکھیں بند کرکے اس کا انکار کردیا کرتے تھے ؟ اور اس دن انہیں اقرار کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔
Ayah 46:3548 اولوا العزم انبیاء کون کون سے ہیں :۔ ویسے تو سب انبیاء ہی اولوالعزم ہوتے ہیں تاہم عرف عام میں پانچ ہیں، سیدنا نوح سیدنا ابراہیم سیدنا موسیٰ سیدنا عیسیٰ اور محمد مصطفیٰ آپ یہ چاہتے تھے کہ یا تو کفار مکہ ایمان لے آئیں یا پھر اللہ ان پر عذاب نازل کر دے۔ جس کا یہ ہر وقت مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ دیکھ لو اولوالعزم انبیاء نے کتنی مدت اپنے مخالفوں کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا تھا۔ لہذا آپ کو بھی اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا چاہئے اور صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے۔
49 یعنی آج تو عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں کہ آتا کیوں نہیں، جب قیامت کو عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو کہیں گے اتنی جلدی عذاب کیوں آگیا۔ ہم تو دنیا میں بس ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے کہ عذاب آگیا ہے۔ ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ اسے مصیبت کی گھڑیاں تو بڑی طویل محسوس ہوتی ہیں لیکن عیش و آرام میں گزرے ہوئے سال ہاسال بھی چند گھڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ قیامت کا دن کس قدر سخت ہوگا۔ اس کا اندازہ کچھ ان کے جواب سے بھی ہوجاتا ہے۔
50 یعنی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کے عذاب سے تباہ صرف اس کے نافرمان ہی کئے جاتے ہیں۔ جو اللہ کے عذاب کی تنبیہ کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔