45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے 1 جو زبردست اور حکمت والا ہے۔

1 بطور تمہید سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی تالیف یا اختراع نہیں ہے بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کوئی اس کے فیصلوں میں نہ دخل دے سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ نیز وہ حکیم بھی ہے۔ اس کے فیصلوں اور احکام میں کسی جھول اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کے تمام فیصلے اور احکام بنی نوع انسان کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان 2 لانے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں

2 توحید کے دلائل :۔ تمہید کے بعد توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر دلائل کا آغاز ہوا ہے۔ خ توحید کی پہلی نشانی کائنات کا نظم ونسق :۔ پہلی دلیل یہ کائنات اور اس کا نظام ہے اسی کے ایک پہلو پر ہی اگر غور کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس میں الگ الگ خداؤں کی خدائی چلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ بادلوں کا دیوتا کوئی اور ہو، ہواؤں کا کوئی دوسرا ہو، بارشوں کا کوئی تیسرا ہو، سورج کا کوئی اور ہو۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اس کائنات کے نظام میں کبھی باقاعدگی اور ہم آہنگی برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کائنات میں ایسی نشانیاں تو اس شخص کے لیے ہی سود مند ہوسکتی ہیں جو خود ہدایت کا طالب ہو اور اللہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ لیکن جو اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت پر ایمان ہی نہ لانا چاہتا ہو۔ اس کے لیے اس میں کوئی نشانی نہیں۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور خود تمہاری 3 اور ان جانوروں کی 4 پیدائش میں بھی جو اس نے (زمین میں) پھیلا رکھے ہیں، یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

3 توحید کی دوسری نشانی انسان کی تخلیق اندرونی اور بیرونی ساخت :۔ یعنی اگر انسان خود اپنے جسم کی اندرونی ساخت پر غور کرے تو اسے بہت کچھ حاصل ہوسکتا ہے اس کے اعضاء کی بیرونی ساخت اور اس کا کثیر المقاصد فوائد کا حامل ہونا اس کے اندر بیشمار خود کار مشینوں کا کام کرنا، تکلیف کی صورت میں خود طبیعت کا مقابلہ کرنا۔ پھر انسان کے اندر جو جو قوتیں اور جو جو جذبات رکھ دیئے گئے ہیں ان میں کسی ایک بات پر بھی غور کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ 4 تیسری نشانی توالد وتناسل اور بعث بعد الموت :۔ یعنی تمہاری اور جانوروں کی پیدائش کا طبعی پہلو ایک جیسا ہے۔ دونوں ہی زمین سے پیدا شدہ پیداوار سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ غذائیں بالکل بےجان ہوتی ہیں جن میں زندگی کی رمق تک موجود نہیں ہوتی۔ انہیں غذاؤں سے جانداروں کی جسمانی ضروریات پوری ہوتی ہیں جسم بڑھتا ہے، خون بنتا ہے۔ پھر خون سے منی بنتی ہے پھر توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ہر وقت مردہ اور بےجان غذاؤں کو کئی مراحل سے گزار کر جاندار چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ خ چوتھی نشانی زمین کو انسانوں اور جانوروں سے آباد کرنا :۔ پھر زمین اور سمندروں میں راستے بنا کر اس نے ان جانداروں کو تمام روئے زمین پر پھیلا دیا ہے اس طرح زمین کا کثیر حصہ بھی آباد کردیا اور مخلوق کی روزی کا بھی مناسب انتظام کردیا۔ ان باتوں میں غور کرنے سے بھی اللہ کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے مگر صرف اسے جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرتوں پر یقین رکھتا ہو اور اسے یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ ان امور میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کچھ عمل دخل نہیں ہے۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

نیز رات اور دن کے ادل بدل کر آنے میں 5 ، اور جو اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا۔ پھر اس 6 زمین کو مرنے کے بعد زندہ کردیا، اور ہواؤں کی گردش 7 میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

5 پانچویں نشانی گردش لیل ونہار :۔ رات آتی ہے تو بتدریج آتی ہے یکدم گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں چھا جاتا، نہ ہی سورج یک دم پوری آب و تاب کے ساتھ نکل آتا ہے۔ بلکہ وہ بھی بتدریج آتا ہے۔ راتیں لمبی ہونا شروع ہوتی ہیں تو ان میں تدریج کا قانون کام کرتا ہے۔ پھر موسم بدلتے ہیں تو بھی ان میں تدریج پائی جاتی ہے۔ پھر اس تدریج کے لیے بھی ایک قانون ہے ایک ضابطہ ہے جس میں نہ کمی بیشی ہوتی ہے اور نہ بےضابطگی۔ نیز تبدیلیاں بھی اس انداز سے ہوتی ہیں جس سے بنی نوع کی کئی مصلحتیں متعلق ہوتی ہیں۔ جن عظیم الجثہ اور مہیب کروں کو کنٹرول میں رکھ کر اللہ نے یہ دن رات اور موسموں میں نظام بنایا ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کا پورا تصرف صرف ایک ہی ہستی کے اختیار میں ہے۔ 6 چھٹی نشانی بارش کا نزول اور مخلوق کے لئے پیدائش رزق :۔ یہاں رزق سے مراد بارش ہے جو تمام جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ بارش کے برسنے، پھر اس بارش کے پانی سے زمین کی پیداوار اگنے میں بہت سے عوامل کام کرتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے آگے بالکل بےبس ہیں۔ یہ سارے عوامل اپنی اپنی مقررہ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ تب جاکر انسانوں اور جانداروں کو رزق حاصل ہوتا ہے۔ خ عوامل سب ایک جیسے نباتات ہزاروں اقسام کی :۔ اس میں ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان عوامل پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا کچھ بھی اختیار نہیں تو پھر ان کی خدائی کہاں سے آگئی اور دوسری نشانی یہ ہے کہ زمین ایک، پانی ایک، آب و ہوا ایک اور موسم ایک لیکن نباتات مختلف انواع کی اور مختلف رنگوں کی اگ آتی ہے اور تیسری نشانی یہ ہے کہ آسمان سے رزق کا انتظام تو سب کے لیے مشترکہ ہوتا ہے اور ہر کوئی انتفاع کا برابر کا حق رکھتا ہے۔ مگر رزق ہر ایک کا جدا جدا ہے۔ کسی کو کم ملتا ہے کسی کو زیادہ۔ اور جتنا رزق کسی کے مقدر ہوچکا وہ کتنی ہی کوشش کر دیکھے اس کا رزق بڑھ نہیں سکتا۔ نہ ہی کوئی شخص دوسرے کے رزق میں کمی کرسکتا ہے جو اسے ملنا ہوتا ہے مل کے رہتا ہے۔ 7 ہواؤں کی گردش اوراقسام :۔ ہوائیں بارش سے بھرے ہوئے بوجھل بادلوں کو بلاتکلف اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہیں۔ کچھ لوگوں پر رحمت کا پیغام لاتی ہیں اور کچھ لوگوں پر عذاب الٰہی بن کر چلتی ہیں۔ پھر یہ موسم میں تبدیلی لانے میں بھی موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ہوائیں بھی اس فضا میں آزادانہ گردش نہیں کر رہیں۔ بلکہ جس طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے ادھر ہی چلتی ہیں۔ اگرچہ ہواؤں کی گردش کے لیے بھی اللہ نے قوانین مقرر کردیئے ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے ہوئے طبعی قوانین کے سامنے مجبور و بےبس نہیں ہے۔ بلکہ جب وہ چاہے اور جس طرح چاہے اپنی مخلوق کی ہر چیز سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکتا ہے۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد آخر وہ کون سی بات ہے جس پر 8 یہ لوگ ایمان لائیں گے

8 یعنی اللہ کی آیات تو وہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ یہ نظام کائنات، یہ بےجان چیزوں سے جانداروں کی تخلیق، یہ گردش لیل و نہار، یہ آسمان سے تمام مخلوق کی روزی کا نزول یہ ہواؤں کے رخ اور ان میں تبدیلی۔ یہ سب تو اللہ اکیلے ہی کی نشانیاں ہیں اب اگر تم ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان کے علاوہ کسی دوسری ہستی کی بھی کچھ نشانیاں ہیں جو ان سے بڑھ کر ہوں اور تم اللہ کو چھوڑ کو اس کی نشانیوں اور اس کی باتوں پر ایمان لانا چاہتے ہو ؟ اگر تمہارے خیال میں کوئی ایسی ہستی ہے تو اس کی نشاندہی کیوں نہیں کرتے ؟
Ayahs 45:7–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اس بہتان تراش اور گنہگار کے لئے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ انہیں سنتا ہے پھر از راہ تکبر اپنی بات پر یوں اڑ جاتا ہے جیسے 9 اس نے انہیں سنا ہی نہیں۔ ایسے شخص کو آپ دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔

9 ایسے لوگ جو زبانی طور پر تو اللہ کی مذکورہ بالا آیات کو تسلیم کرتے ہیں مگر عملاً ان چیزوں پر تصرف اور اختیار دوسروں کا تسلیم کرتے ہیں یہ درحقیقت اللہ پر بہتان لگانے والے ہوتے ہیں جو اللہ کے تصرفات میں دوسروں کو شریک کرلیتے یا پورے کا پورا اختیار انہیں کو سونپ دیتے ہیں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ مجرم ضمیر ہوتے ہیں انہیں ایسی کوئی تعلیم یا ہدایت راس نہیں آتی جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو اگر وہ کسی کی بات مان لیں تو ان کی انا مجروح ہوتی ہے۔ اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے اپنے آپ کو بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں اور اللہ کی آیات اس لیے سننا گوارا نہیں کرتے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ سب باتیں پہلے ہی معلوم ہیں۔ ہمیں کوئی کیا سکھائے گا۔ ؟
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیات میں سے کچھ اس کے پلے پڑ بھی 10 جاتا ہے تو وہ اسے مذاق بنالیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ذلت کا عذاب ہوگا

10 مشرکین کن آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں :۔ قریشی سردار نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو قرآن کی ایک بھی آیت سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ مگر ایسی آیات کی ٹوہ ضرور لگائے رکھتے تھے جن میں انہیں کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے کہ وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑا سکیں۔ ان کا نشانہ تضحیک پہلے نمبر پر تو وہ آیات تھیں جن میں دوبارہ جی اٹھنے اور روز آخرت اور حشر و نشر کا ذکر ہوتا۔ سیدنا خباب بن ارت نے عاص بن وائل سہمی سے اپنی کچھ مزدوری لینا تھی۔ انہوں نے مزدوری کا مطالبہ کیا تو کہنے لگا : محمد ﷺ کا دین چھوڑ دو تو مزدوری مل جائے گی۔ سیدنا خباب کہنے لگے : وہ تو میں تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک بھی نہیں چھوڑ سکتا عاص کہنے لگا : اچھا پھر جب میں دوبارہ جی اٹھوں گا تو تمہارا حساب بیباق کردوں گا پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی تو کفار نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہنے لگے بتاؤ اب اس کی دیوانگی میں کیا کسر رہ گئی۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اہل دوزخ کا کھانا زقوم کا درخت ہوگا تو بھی کفار نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جہنم پر انیس داروغے مقرر ہیں۔ تو ایک پہلوان صاحب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اٹھارہ کو تو میں اکیلا سنبھال لوں گا، تم سب مل کر ایک کو بھی نہ سنبھال سکو گے اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرک اور ان کے معبود سب دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عبداللہ بن الزبعریٰ کہنے لگا : پھر تو سیدنا عیسیٰ بھی جہنم میں جائیں گے۔ ان سے تو پھر ہمارے معبود ہی اچھے ہوئے اور ایسی آیات اور بھی بہت ہیں اور کفار مکہ ایسی ہی آیات معلوم کرنے کے درپے رہتے تھے جن کا مذاق اڑایا جاسکے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

پھر اس کے بعد 11 ان کے لئے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا نہ تو وہ ان کے کچھ کام 12 آئے گا اور نہ وہ جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا کارساز 13 بنا رکھا تھا، اور انہیں بڑا سخت عذاب ہوگا۔

11 وراء کا لغوی مفہوم :۔ ورآء کا معنی آگے بھی اور پیچھے بھی، ادھر بھی اور ادھر بھی۔ اس لحاظ سے اس کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں ذلت کا عذاب ہوگا پھر اس کے بعد ان کے لیے عذاب جہنم بھی تیار ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس ذلت کے عذاب کے بعد جہنم بھی ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ 12 یعنی مال و دولت کام آئے گی اور نہ آل اولاد اور نہ ان کے اچھے اعمال۔ کیونکہ دنیا میں اگر انہوں نے کچھ اچھے عمل کئے بھی ہوں گے وہ برباد ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ کام اس نیت سے کئے ہی نہ تھے کہ وہ آخرت میں ان کے کام آئیں گے بلکہ ان کا آخرت پر یقین ہی نہیں تھا۔ 13 کارسازوں کی اقسام :۔ یہ اولیاء بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہستیاں جن کی سفارش پر اعتماد کرکے لوگ بےدھڑک گناہ کے کام کرتے رہتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم فلاں حضرت کی بیعت ہیں وہ ہمیں سفارش کرکے اللہ کی گرفت اور عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسرے وہ چودھری قسم کے لوگ یا حکمران یا سیاسی لیڈر جن کی اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اس لیے اطاعت کی جاتی ہے کہ اطاعت کرنے والوں کے دنیوی مفادات ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کارساز وہاں کام نہ آئے گا۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن تو سراسر 14 ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیات کے منکر ہیں ان کے لئے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

14 جو بروقت تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ قیامت کے دن تمہارا کوئی کارساز تمہارے کام نہ آسکے گا۔ نیز یہ قرآن تمہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا بھی نہایت مناسب اور متوازن راستہ بتاتا ہے۔ نیز وہ راہ بھی جس سے تمہیں اخروی عذاب سے نجات حاصل ہو۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے سمندر 15 کو تمہارے تابع کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں۔ اور تم اس کا فضل 16 تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو

15 سمندر کو مسخر کرنا :۔ پانی کے لیے اللہ نے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ ہر چیز کو اوپر اپنی سطح کی طرف اچھالتا ہے۔ لہذا جو چیزیں اپنے مساوی الحجم پانی سے ہلکی ہوتی ہیں وہ پانی کی سطح پر آکر تیرنے لگتی ہیں۔ جیسے لکڑی، کاغذ، تنکے، گتا وغیرہ اور جو بھاری ہوتی ہیں وہ پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ جیسے پتھر اور دھاتیں، تاہم پانی میں اچھالنے کی قوت کی وجہ سے ان کا وزن کم ہوجاتا ہے اور اتنا ہی کم ہوتا ہے اس کے مساوی الحجم پانی کا وزن ہوتا ہے پھر اگر کسی چیز کی شکل ہی کشتی یا پیالہ یا گلاس کی بنادی جائے تو بھاری چیزیں مثلاً لو ہا وغیرہ کی طرح کی چیزیں پانی میں تیرنے اور بہت سا بوجھ اٹھا کر پانی میں تیرنے کے قابل بن جاتی ہیں۔ بس یہی وہ قانون ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان دریاؤں اور سمندروں میں کشتیوں اور لوہے کے دیو ہیکل جہازوں کے ذریعے سفر کرنے کے قابل ہوگیا ہے اور اسی بات کو اللہ نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے سمندر کو انسان کے تابع بنادیا۔ 16 سمندروں سے انسان کئی طرح کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان سے موتی اور جواہرات نکالتا ہے۔ آبی جانوروں کا شکار کرکے گوشت حاصل کرتا ہے۔ تجارتی سفر کرکے روزی کماتا ہے اور خشکی کے ایک حصہ سے منتقل ہو کر زمین کے کسی دوسرے حصہ میں میں جا آباد ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا کہ اللہ نے سمندروں جیسی خوفناک چیز کو بھی انسان کے بس میں کردیا ہے۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سب کچھ ہی اس نے تمہارے لئے کام 17 پر لگا رکھا ہے۔ غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

17 تمام اشیائے کائنات سے انسان کا استفادہ :۔ یعنی کائنات کی تمام چیزیں انسان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں اور ہر چیز کا انسان کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ مثلاً پانی، ہوا، زمین کی پیداوار اور اس میں مدفون خزانے، سمندر، پہاڑ، سورج، چاند، ستارے غرض ہر چیز انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ان کا اپنا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر چیزوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا یا اس کی زندگی مشکلات میں پڑجاتی ہے اور وہ کئی طرح کے فوائد سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر انسان میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی گئی ہے کہ وہ اشیائے کائنات کے خواص معلوم کرکے نئے سے نئے فوائد حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ انسان کو تو ان اشیاء کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور انسان انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور یہ سب اللہ کا انسان پر فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنی مہربانی سے تمام اشیائے کائنات کو انسان کے کام پر لگا دیا ہے تو کیا اللہ کے ان احسانات کا یہی بدلہ ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے محسن پروردگار کا شکر بھی ادا نہ کرے ؟ یا اس کی عبادت اور بندگی کرنے کی بجائے اس کے سامنے اکڑنا شروع کر دے ؟
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں آپ انہیں کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے 18 دن آنے کی توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر 19 کردیں تاکہ اللہ خود اس قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔

18 ایام اللہ کا مفہوم اور تذکیر بایام اللہ :۔ ایام اللہ کا لفظی اور لغوی معنی صرف اللہ کے دن ہے۔ مگر اس سے مراد عموماً وہ دن لیے جاتے ہیں جو کسی قوم کے تاریخی یادگار دن ہوں۔ اور یہ اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ بلکہ بسا اوقات وہی دن ایک کے لیے برے اور دوسرے کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ مثلاً جس دن فرعون اور آل فرعون غرق ہوئے تو یہ دن ان کے لیے سب سے برا دن تھا لیکن وہی دن بنی اسرائیل کے لیے سب سے اچھا دن تھا کہ انہیں فرعون جیسے ظالم اور جابر حکمران سے نجات نصیب ہوئی۔ اور عرفاً ایام اللہ سے مراد عموماً برے ہی دن لیے جاتے ہیں۔ تذکیر بایام اللہ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جن جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا تھا اس کی وجوہ تلاش کرکے انسان ان واقعات سے عبرت اور سبق حاصل کرے۔ اور یہ قرآن کا ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ اور بار بار اس کا ذکر ہوا ہے۔ 19 اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جو نہ اللہ کا عذاب آنے پر یقین رکھتے ہیں، نہ آخرت پر، بلکہ اللہ کے عذاب کے وعدوں کا مذاق اڑاتے اور پیغمبر کو کہتے کہ جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ؟ ایسے ہی لوگوں کے متعلق مومنوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ ان کی باتوں کا برا نہ منائیں۔ ان سے الجھیں نہیں۔ بلکہ درگزر سے کام لیں۔ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا اور ان کے اعمال کی انہیں پوری پوری سزا دے گا۔ اس آخری جملہ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر مومن صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے ان کافروں سے درگزر کریں گے تو اللہ انہیں اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے کوئی اچھا عمل کیا وہ اسی کے لئے 20 ہے اور اگر برا کرے گا تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

20 یعنی اگر کوئی شخص اچھا کام کرتا ہے تو اس سے اللہ کی نہ کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے اور نہ اسے کچھ فائدہ ہوتا ہے بلکہ اس کا فائدہ اچھا کام کرنے والے کی ذات ہی کو پہنچتا ہے اور وہ اس دنیا میں بھی پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی پہنچے گا۔ یہ خطاب ربط مضمون کے لحاظ سے ان مسلمانوں سے ہے جو کفار مکہ کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور انہیں درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور برے کام کرنے والے یعنی اسلام کی راہ روکنے، مسلمانوں پر سختیاں کرنے اور مذاق اڑانے والے اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس کا وبال انہیں پر پڑے گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور آخرت میں جب تم سب کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاں حاضر کرے گا تو تم سب لوگ ایک دوسرے کا انجام دیکھ لو گے۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت 21 اور نبوت دی، انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور دنیا بھر کے لوگوں پر فضیلت دی

21 حکم کے مختلف مفہوم :۔ حَکَم کا ایک معنی تو حکومت ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے، اس کا دوسرا معنی حکمت ہے۔ اور حکمت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ جس سے دینی معاملات اور احکام کی سمجھ اور فہم بھی شامل ہے۔ احکام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے علمی ذرائع بھی اور عملی تدابیر اور طریق کار کا علم بھی۔ اور حکم کا تیسرا معنی فیصلہ اور قوت فیصلہ ہے۔ یعنی فریقین مقدمہ کا بیان لینے کے بعد ان کے درمیان صحیح اور مبنی بر عدل فیصلہ کرنے کا ملکہ۔ خ بنی اسرائیل پر اللہ کے احسانات :۔ یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو تمام دینی اور دنیوی نعمتوں سے نوازا تھا۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں پیغمبر مبعوث کئے گئے۔ ان میں سے کئی بادشاہ بھی تھے۔ انہیں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے کتاب تورات بھی دی تھی۔ اور کھانے پینے کو بہت وافر اور پاکیزہ رزق عطا کیا تھا۔ گویا اپنے دور میں بنی اسرائیل کو بقایا تمام اقوام پر ترجیح دے کر انہیں ہم ہی نے اپنے خصوصی انعامات سے نوازا تھا۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

نیز انہیں دین کے واضح احکام 22 دیئے۔ پھر جو انہوں نے اختلاف کیا تو (لاعلمی کی بنا پر نہیں بلکہ) علم آجانے کے بعد کیا اور اس کی وجہ ایک دوسرے 23 پر زیادتی کرنا تھی۔ اور جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے، قیامت کے دن آپ کا پروردگار ان کے درمیان 24 فیصلہ کردے گا۔

22 یہاں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ کہ اللہ کے دین کو دنیا میں قائم اور نافذ کرنے کے لیے انہیں تمام ہدایات دے دی گئی تھیں اور یہ ہدایت بالکل واضح تھیں۔ 23 فرقہ بازی کی اصل وجوہ نفسانی خواہشات :۔ یعنی اختلافات یا تفرقہ بازی کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ کسی اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہدایات موجود نہیں ہوتیں اور معاملہ اختلافی بن جاتا ہے۔ بلکہ ان اختلافات اور تفرقہ بازی کی وجوہ کچھ اور ہی ہوتی ہیں۔ ان وجوہ کو پوری طرح سمجھنے کے لیے مسلمانوں کے موجودہ فرقوں پر ہی نظر ڈال لیجئے۔ کتاب و سنت ایک ہی ہے۔ اور وہ سب فرقوں کے پاس موجود ہے اور ہر فرقہ کتاب و سنت سے ہی استدلال کرکے اپنے فرقہ کے مخصوص عقائد و اعمال کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر کوئی تو کتاب اللہ کی غلط سلط تاویل کرکے اسے اپنے نظریہ کے مطابق بنا لیتا ہے۔ کوئی کتاب و سنت کو اپنے اماموں کے اقوال کے تحت رکھ کر ان سے وہی مفہوم اخذ کرتا ہے جو اس کے امام کے قول کے مطابق ہو۔ پھر اس میں اپنے اپنے ذاتی مفادات یعنی طلب مال اور جاہ کا حصول بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنا اپنا جھنڈا بلند رکھنے کی فکر ہوتی ہے۔ پھر فرقوں کی آپس میں باہمی کھینچا تانی اور ضدم ضدی سے ان میں اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوتی جاتی ہے۔ پھر کچھ اختلافات مذہبی قسم کے ہوتے ہیں اور کچھ سیاسی قسم کے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کتاب و سنت ایک ہونے کے باوجود امت مسلمہ بیسیوں فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ یہی حال بنی اسرائیل کا تھا۔ 24 کوئی بھی تعصب چھوڑنا گوارا نہیں کرتا :۔ یہ فرقے اپنے اپنے مخصوص نظریات و عقائد میں اس قدر متشدد ہوجاتے ہیں اور اس قدر تعصب ان میں پیدا ہوجاتا ہے کہ ان کے لیے اختلاف کو ختم کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس دنیا میں تو وہ کبھی ان اختلافات کو چھوڑنا تو درکنار، یہ سننے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے کہ ان کا فلاں عقیدہ یا فلاں مسئلہ کتاب وسنت کی رو سے غلط ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان پر خوب واضح کر دے گا کہ میں نے تو یہ حکم اس طرح دیا تھا اور تم نے اس حکم کے الفاظ کو غلط جامہ پہنچا کر اپنا الو سیدھا کرلیا تھا یا تمہارے اختلاف کی اصل وجہ دین کی اشاعت نہ تھی بلکہ اصل وجہ یہ تھی۔ پھر اس وقت وہ اللہ کے فیصلہ کے سامنے چوں و چرا تک نہ کرسکیں گے۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کے لئے دین 25 کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ آپ بس اس کی پیروی کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے

25 بنی اسرائیل سے امت محمدیہ کو اقامت دین کی پیشوائی :۔ اس آیت میں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ یعنی اے نبی ! ہم نے پہلے اہل عالم کی رہنمائی کے لیے بنی اسرائیل کو اقامت دین کا علمبردار بنایا تھا۔ وہ آپس میں ہی کئی فرقوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ اس حال میں وہ اقامت دین کا فریضہ کیا سرانجام دے سکتے تھے۔ بلکہ اس قابل ہی نہ رہ گئے تھے۔ اب ہم نے آپ کو اقامت دین کی پیشوائی کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ اور جو تمہیں شریعت دی جارہی ہے اس میں اقامت دین کے لیے مکمل اور واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ بس ان احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرتے جائیے۔ بنی اسرائیل کا ہر فرقہ آپ سے یہ توقع رکھے گا کہ آپ اس کے موقف کی حمایت کریں۔ آپ ان میں سے کسی کی بات نہ مانئے کیونکہ ان لوگوں نے یہ فرقے علم کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی وجہ سے بنائے تھے۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کے کچھ کام نہ آسکیں 26 گے۔ بلاشبہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی 27 ہیں اور پرہیزگاروں کا دوست اللہ ہے۔

26 اگر آپ ان میں سے کسی فرقہ کے موقف کی حمایت کردیں گے تو اس دنیا میں تو شاید وہ آپ کا حامی بن جائے گا لیکن قیامت کے دن وہ آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے وہ تو خود اپنی گمراہیوں کے عذاب میں ماخوذ ہوں گے، دوسروں کے کیا کام آئیں گے ؟۔ 27 یعنی حق کے مقابلہ میں سب بےانصاف اور ظالم لوگ مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں اتحاد کرلیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں خاصے باہمی اختلافات موجود ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اللہ کے فرمانبرداروں اور اس سے ڈرنے والوں کا حامی و ناصر صرف اللہ ہوتا ہے جو ان کے سب کام سیدھے کئے جاتا ہے اور اس کی یہ کارسازی دائمی اور پائیدار ہے جو اس دنیا سے آگے آخرت میں بھی برقرار رہے گی۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے دلائل بصیرت کا مجموعہ ہے اور یقین رکھنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت 28 ہے۔

28 قرآن سب لوگوں کے لئے رحمت کیسے ہے ؟ یعنی اس قرآن میں بصیرت افروز دلائل تو سب لوگوں کے لیے موجود ہیں۔ لیکن ان دلائل سے فائدہ صرف وہ لوگ اٹھا سکتے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر جو لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں یہ کتاب دنیا میں زندگی گزارنے کے طریقہ کی مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ اس طریقہ زندگی پر عمل کرنے سے انسان کی آخرت بھی سنور جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت کا ایک پہلو ہوا کہ اس نے اس دنیا میں ہی اخروی زندگی کی فلاح و نجات کا طریقہ بتادیا۔ اور اللہ کی رحمت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ قرآن زندگی گزارنے اور اس دنیا میں پرامن رہنے کے لیے سب انسانوں کے لیے ایسے متناسب اور متوازن اصول پیش کرتا ہے۔ جن سے سب لوگوں کے حقوق کی ٹھیک تعیین ہوجاتی ہے اور کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ انسان کی عقل اگر ہزاروں سال بھی تجربے کرتی اور ٹھوکریں کھاتی پھرتی تب بھی ایسے متوازن اور متناسب اصول دریافت نہ کرسکتی تھی۔ اللہ کی لوگوں پر خاص رحمت ہے کہ اس نے اس قرآن کے ذریعہ لوگوں کو ایسی ہدایات مفت میں دے دی ہیں۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ بداعمالیاں کر رہے ہیں کیا وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا 29 کردیں گے کہ ان کا جینا 30 اور مرنا 31 یکساں ہوگا یہ کیسا برا فیصلہ کر رہے ہیں

29 آخرت پر عدل کے تقاضا سے دلیل :۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ روز آخرت پر یقین نہ رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی اخلاقی پابندی کا پابند نہیں رہ سکتا۔ وہ بےلگام ہو کر اور بلاخوف و خطر دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگتا ہے اور صرف اپنے ہی مفادات سوچنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ بدکرداروں اور نیک عمل کرنے والوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے کہ سب مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں اور کسی سے اس کے اعمال کی بازپرس نہ ہو نہ ہی انہیں ان کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ دیا جائے ؟ کیا تم پروردگار عالم سے یہی توقع رکھتے ہو کہ وہ ایسی بےانصافی کو گوارا کرے گا ؟ اگر فی الواقع تمہارا یہی گمان ہے تو اللہ کے متعلق تمہارا یہ گمان بہت برا ہے۔ 30 بدکردار اور نیکوکار کی، دنیوی زندگی کا تقابل :۔ ان کا جینا کبھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کو حیات طیبہ نصیب ہوتی ہے۔ لوگ ان کی عزت کرتے اور ان کی راستبازی پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہیں دنیا کی زندگی میں سکھ اور چین نصیب ہوتا ہے۔ دل مطمئن رہتا ہے۔ اس کے برعکس فریب کاروں، چوروں، ڈاکوؤں، زانیوں اور شراب خوروں کو کبھی حقیقی مسرت حاصل نہیں ہوتی۔ لوگوں میں بدنام ہوتے ہیں، ضمیر ملامت کرتا ہے۔ کوئی شخص دل سے کبھی ان کی عزت نہیں کرتا۔ مقدمات اور حکومت کا ڈر الگ رہتا ہے۔ غرض کہ بدکاروں کی دنیوی زندگی بھی تلخیوں اور بےچینیوں میں گزرتی ہے۔ موت کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے کیسے مرجاتے ہیں۔ پھر ان دونوں کی زندگی ایک جیسی کیسے ہوئی ؟ 31 اگر ان کی زندگی ایک جیسی نہیں تو یقین جانو کہ مرنا بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ دنیوی مقدمات کا نتیجہ نکل کے رہے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ دونوں طرح کے انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں۔ کسی سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ نہ نیک لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دیا جائے نہ بدکاروں کو سزا دی جائے اور یہ معاد پر پہلی عقلی دلیل ہے جو اللہ کی صفت عدل کے تقاضا کے مطابق ہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حقیقی مصلحت کے تحت 32 پیدا کیا ہے اور اس لئے بھی کہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

32 آخرت پر دوسری عقلی دلیل اللہ کی حکمتیں اور ان کا تقاضا کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی :۔ یہ معاد یا عالم آخرت کے قیام پر دوسری دلیل ہے اور یہ اللہ کی صفت حکیم ہونے کے تقاضا کے مطابق ہے۔ یعنی اللہ کا کوئی کام بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ پھر کیا یہ سارا کارخانہ کائنات حکمت سے خالی ہوسکتا ہے۔ جس کی ایک ایک چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انسان ہر چیز سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔ اب اگر انسان اچھے یا برے اعمال، جیسے بھی اس سے بن پڑیں اس دنیا میں کرکے مرجاتا ہے اور اس سے کچھ بھی مؤاخذہ نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کو پیدا کرنا، پھر اس کائنات کی چیزوں سے انسان کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ دینا سب کچھ بےسود، عبث اور ایک بےنتیجہ کھیل تھا۔ اور ایسا کام کرنا اللہ کی حکمت کے سراسر منافی ہے۔ لہذا لازمی ہے کہ اس دنیا کا نتیجہ ایک دوسرے عالم کی صورت میں نکلے جس میں ہر طرح کے انسانوں کا پورا پورامحاسبہ کیا جائے۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو الٰہ 33 بنا رکھا ہے اور اللہ نے علم کے باوجود 34 اسے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب کون ہے جو اسے ہدایت دے سکے ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟

33 اپنی خواہشات کو معبود بنانا :۔ یہ بھی وہی شخص ہوسکتا ہے جسے اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا یقین نہ ہو۔ ایسے شخص کی زندگی کا مقصد بس یہی رہ جاتا ہے کہ اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرتا جائے۔ کوئی اخلاقی پابندی یا شریعت کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہ کرے۔ ایسا شخص نہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرنا گوارا کرسکتا ہے اور نہ نواہی سے اجتناب کرسکتا ہے وہ تو ظلم و عصیان میں شتر بےمہار کی طرح آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ 34 علم گمراہی کا سبب کیسے بنتا ہے :۔ (أضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ) کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ازلی علم میں یہ بات طے شدہ تھی کہ وہ گمراہ ہوگا۔ تو اللہ نے اسے اسی گمراہی کے راستہ پر چلا دیا جس پر وہ چل رہا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص خیروشر کی پوری تمیز اور اس کا علم رکھتا تھا۔ لیکن جب وہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑگیا تو اللہ نے اسے اس کے علم کے باوجود گمراہ کردیا۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے منکرین اور دہریوں کا بھی ایک فلسفہ ہوتا ہے جو انہیں گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اللہ بھی ایسے لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور چوتھا یہ کہ سب مذہبی فرقوں کے بانی عموماً عالم اور ذہین لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر کتاب و سنت میں تاویل کرکے اپنا نظریہ کشید کرلیتے ہیں۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں۔ یہ بس ہماری دنیا ہی زندگی ہے۔ یہاں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی 35 ہمیں ہلاک کرتا ہے حالانکہ ان باتوں کا انہیں کچھ علم نہیں وہ محض گمان 36 سے یہ باتیں کرتے ہیں۔

35 فلسفہ دہریت اور اس کا رد :۔ ان لوگوں کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ کائنات ایک اتھاہ سمندر ہے۔ جس میں ہر وقت لہریں اٹھتی ہیں پھر اسی سمندر میں مدغم ہوجاتی ہیں۔ حباب اٹھتے ہیں تو وہ پھر اسی میں جذب ہوجاتے ہیں۔ یہی صورت حال اس دنیا میں واقعات و حوادث کی ہے اور ہماری مثال بس ایک حباب یا بلبلہ کی ہے جو پیدا ہوتا پھر اسی سمندر میں گم ہوجاتا ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہیں پھر مر کر اسی میں مل جاتے ہیں۔ یہ زمانے کے حوادث ہیں کہ ہم پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ کائنات اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ جس میں کسی کے مر کر دوبارہ جینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 36 آخرت سے انکار کی بنیاد محض وہم و قیاس ہے جس پر کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی :۔ اس فلسفہ سے نتیجہ اخذ کرنے میں غلطی آپ سے آپ ظاہر ہے۔ سمندر میں ایک موج اٹھی پھر اسی میں گم ہوگئی پھر اسی سمندر سے موج اٹھی گویا اگر سمندر سے دوبارہ بھی موج اٹھ سکتی ہے تو مٹی سے پیدا ہو کر انسان مٹی میں مل جانے کے بعد دوبادہ اسی مٹی سے کیوں پیدا نہیں ہوسکتا ؟ نیز مرنے کے بعد کے حالات سے متعلق اگر کچھ انسانی علم کی بنا پر کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ہے یا نہیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی نہیں ہے انسان کے پاس تحقیق کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے وہ دعویٰ کے طور پر کہہ سکے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں پھر یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مرنے کے بعد روح کہاں جاتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ تو نہیں مرتی کیونکہ روح کے متعلق سب لوگوں کا ایسا ہی عقیدہ رہا ہے۔ انسان کی موت کوئی ایسا حادثہ تو نہیں جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ظن غالب بھی دوبارہ زندہ ہونے کی طرف ہی ہے۔ مر کر بالکل فنا ہوجانے کی طرف نہیں۔ اور یہ لوگ جو دوبارہ زندگی کا انکار کرتے ہیں تو یہ بات کسی علم کی بنا پر نہیں کہتے بلکہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو۔ جس میں ان سے ان کے برے اعمال کی باز پرس ہو لہذا وہ اس کا سرے سے انکار کردینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ اور یہ محض ان کا وہم و گمان ہی ہوتا ہے۔ کوئی علمی دلیل اس پر وہ کبھی پیش نہیں کرسکتے۔ دہریوں کی فریب خوردگی دہر تو اللہ ہے :۔ دہریہ لوگ دراصل فریب خوردگی میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ حالانکہ زمانہ تو گردش لیل و نہار کا ہی دوسرا نام ہے۔ جس میں نہ حس ہے نہ شعور، نہ تصرف نہ اختیار پھر وہ ہمیں ہلاک کیسے کرتا ہے ؟ لامحالہ ان کے ذہن میں کوئی اور چیز ہوتی ہے جو حس شعور، تصرف اور اختیار رکھتی ہو مگر وہ اس کا نام نہیں لینا چاہتے اور اس کے بجائے زمانہ کا نام لے لیتے ہیں اور جس چیز کا وہ نام نہیں لینا چاہتے وہ اللہ ہے۔ جس کا وجود اور علی الاطلاق تصرف واضح دلائل سے ثابت ہے اور زمانہ کا الٹ پھیر اور گردش لیل ونہار بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ : ابن آدم مجھے دکھ پہنچاتا ہے جب وہ دہر (زمانہ) کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ دہر میں خود ہوں۔ تمام معاملات میرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ میں ہی رات اور دن پھیر کر لاتا ہوں (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة الجاثیہ۔ زیر آیت مذکورہ)
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ یہ کہہ دیتے کہ : اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء و اجداد 37 کو اٹھا لاؤ

37 منکرین آخرت کا اعتراض کوئی مردہ زندہ کرکے دکھاؤ :۔ لے دے کے ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اچھا اگر مرنے کے بعد زندگی یقینی ہے تو ہمیں ہمارا کوئی بڑا بزرگ زندہ کرکے دکھا دو ۔ حالانکہ پیغمبروں کا دعویٰ یہ ہوتا ہی نہیں کہ جب کوئی انکار کرے تو قبر سے مردہ زندہ کرکے اسے دکھا سکتے ہیں تاکہ اسے پوری طرح یقین آجائے بلکہ ان کا دعویٰ صرف یہ ہوتا ہے کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا۔ یہ نہیں کہ قیامت سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً مردے زندہ کئے جاتے رہیں گے۔ پھر جب وہ تمہارے آباء و اجداد کو زندہ کرے گا اس وقت تمہیں بھی زندہ کرے گا اور ساری حقیقت تم سب کے سامنے آجائے گی۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

آپ انہیں کہئے : اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں موت 38 دے گا پھر قیامت کے دن تم کو جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ 39 جانتے نہیں

38 اعتراض کا جواب :۔ یعنی تم نہ اتفاقی طور پر پیدا ہوتے ہو اور نہ اپنے اختیار سے پیدا ہوتے ہو۔ اسی طرح تمہاری موت نہ اتفاقی طور پر آتی ہے۔ اور نہ تمہارے اپنے اختیار سے آتی ہے بلکہ تمہاری زندگی اور تمہاری موت کی باگ ڈور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی تمہیں زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اور جب چاہے گا تمہیں دوبارہ بھی زندہ اٹھا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس میں تمہارا اپنا عملی دخل یا اختیار کچھ بھی نہیں ہوگا۔ 39 یعنی تمہیں متفرق طور پر زندہ نہیں کرے گا کہ کچھ لوگوں کو ایک وقت زندہ کیا۔ دوسروں کو کسی اور وقت اور باقی کو کسی تیسرے وقت جیسا کہ اس دنیا میں ہوتا ہے بلکہ سب اگلوں پچھلوں کو ایک ہی وقت زندہ کرکے جمع کردے گا اور وہ وقوع قیامت کے بعد ہوگا۔ اس سے پہلے نہیں۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست خسارہ میں پڑ 40 جائیں گے

40 باطل پرستوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہوں۔ خواہ وہ دہریے ہوں، نیچری یا صرف آخرت کے منکر ہوں۔ ان لوگوں کو چونکہ اپنے اعمال کی بازپرس کا خیال تک نہ ہوگا۔ لہذا ایسے لوگوں نے اس خیال سے کوئی بھی نیک عمل نہ کیا ہوگا۔ اس دن انہیں پتا چلے گا کہ وہ کس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے تھے اور اپنا کس قدر نقصان کرچکے ہیں۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور آپ ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل پڑا 41 دیکھیں گے۔ ہر گروہ کو اس کے اعمال نامہ کی طرف بلایا جائے گا۔ آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے۔

41 یعنی پہلے ہر قسم کے مجرموں کے الگ الگ گروہ بنائے جائیں گے۔ اور قیامت کے مناظر کی دہشت اس قدر زیادہ ہوگی کہ وہ کھڑے نہ رہ سکیں گے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اور سہمے ہوئے اس انتظار میں ہوں گے کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے اس وقت متکبروں کی سب اکڑ ختم ہوجائے گی۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) اعمال نامہ ہے جو تمہارے متعلق ٹھیک ٹھیک بیان کردے گا جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ ہم (ساتھ ساتھ انہیں) لکھواتے 42 جاتے تھے۔

42 انفرادی اور اجتماعی اعمال نامے اعمال ناموں کی حقیقت :۔ لکھنے اور لکھوانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کسی کاغذ پر قلم اور روشنائی کے ساتھ کچھ تحریر کیا جائے۔ انسان خود ایسی ایجادات کرچکا ہے جس سے کسی کے اعمال، حرکات و سکنات، گفتگو اور لب و لہجہ سب کچھ دوسروں کے سامنے آجاتا ہے اور دوسرے اسے دیکھ اور سن سکتے ہیں اور ابھی جو کچھ مزید انسان ایجادات کرے گا وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ لکھوایا ہوا ریکارڈ صرف حرکات و سکنات اوراقوال ہی پیش نہیں کرے گا، بلکہ دلوں میں پیداشدہ خیالات اور وساوس تک کو سامنے لا رکھے گا۔ پھر یہ ریکارڈ ہر شخص کا انفرادی بھی موجود ہوگا اور ایک ہی قسم کے لوگوں کا اجتماعی بھی اور ان کی اجتماعی کوششوں کا بھی۔ اور یہ اعمال نامے انفرادی طور پر بھی ہر ایک کے حوالہ کئے جائیں اور اجتماعی بھی۔ ایسے ہی الگ الگ فرقوں کے گروہوں کو اپنے اپنے اعمال نامے دیکھنے کے لیے بلایا جائے گا۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اللہ انہیں اپنی رحمت 43 میں داخل کرے گا۔ یہی واضح کامیابی ہے

43 سب کامیابیوں کا اصل اللہ کی رحمت میں داخل ہونا ہے :۔ اللہ جسے اپنی رحمت میں داخل کرلے تو اس کی واضح کامیابی کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو عذاب سے نجات مل جائے گی اور دوسرے قیامت کی ہولناکیوں سے امن میں رہے گا۔ تیسرے حساب کتاب بالکل سرسری اور آسان سا ہوگا۔ چوتھے جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ پھر مزید انعامات بھی ہوتے رہیں گے۔ گویا اللہ کی رحمت میں داخل ہونا اتنی بڑی کامیابی ہے کہ باقی ہر طرح کی کامیابیاں از خود اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا (انہیں کہا جائے گا) کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ مگر تم اکڑ گئے 44 اور تم تھے ہی مجرم لوگ

44 یعنی کبرونخوت تم میں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اللہ کی آیات سننا بھی تم اپنی شان سے فروتر سمجھتے تھے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب تمہیں کہا جاتا کہ : اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم کہہ دیتے تھے : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے ؟ ہم تو اسے ایک ظنی چیز ہی خیال کرتے ہیں 45 اور ظنی چیز پر ہم یقین نہیں کرسکتے۔

45 ایمان کے کسی جزو میں بھی شک کرنے والے کافر ہیں :۔ اس آیت سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے منکر اور قیامت میں شک رکھنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں، دونوں ہی ایک جیسے مجرم اور کافر ہیں۔ اور اس سے آگے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر، اس کے فرشتوں پر اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، روز آخرت پر اور خیر و شر کے اللہ کی طرف سے مقدر ہونے پر۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کا انکار کردینا یا اسے مشکوک سمجھنا ایک ہی بات ہے اور ایسا شک کرنے والا مومن نہیں بلکہ کافر ہی ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ آخرت میں شک کرنے والے مجرم کیوں ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو احکام الٰہی کا پابند بنانے اور بنائے رکھنے والی چیز صرف اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کا تصور ہے۔ اب اگر کوئی شخص آخرت کا منکر ہو یا اس میں شک رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ یعنی انسان بلاخوف گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اس وقت ان پر ان کے اعمال کی برائیاں ظاہر 46 ہونے لگیں گی اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ انہیں آگھیرے گا۔

46 یعنی جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں اپنی کامیابی کا معیار سمجھ رکھا تھا اور اس کامیابی کے لیے دنیا میں وہ جو کچھ پاپڑ بیلتے رہے تھے۔ ایسے سب اعمال کے نتائج صرف ان کے سامنے ہی نہیں آئیں گے بلکہ ان کے گلے پڑجائیں گے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے غیرجواب وہ سمجھ رکھا تھا وہ ایک ایسی بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات غلط ہو کر رہ گیا۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور انہیں کہا جائے گا : آج ہم تمہیں ایسے ہی بھلا دیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات 47 کو بھلا دیا تھا اور اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار بھی نہیں

47 اس کا یہ مطلب نہیں کہ حساب کتاب کے وقت انہیں بھلا دیا جائے گا۔ بلکہ حساب کتاب یا سزا کے فیصلہ اور جہنم میں پھینک دیئے جانے کے بعد انہیں وہیں پڑا رہنے دیا جائے گا۔ وہ خواہ چیخیں پکاریں، فریاد کریں۔ ان کی کوئی بات سنی ہی نہ جائے گی۔ اور جو حال بھی ان پر گزرے ان کی خبر تک نہ لی جائے گی۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکا میں ڈال رکھا تھا لہذا آج نہ انہیں دوزخ سے نکالا جائے گا اور نہ یہ کہا جائے گا کہ معذرت کرکے اپنے پروردگار 48 کو راضی کرلو۔

48 استَعْتَبَ کا معنی :۔ عَتَبَ کے معنی سرزنش کرنا، خفگی کرنا اور عاتب کے معنی ملامت کرنا اور غصہ کرنا بھی ہے اور ناز سے خطاب کرنا بھی (گویا یہ لفظ لغت اضداد سے ہے) اور أعتب کے معنی ناراضگی کو دور کرنا اورإستعتب کے معنی کسی کو راضی کرلینا اور روٹھے ہوئے کو منا لینا ہے۔ گویا ان دوزخ میں پڑے ہوئے لوگوں کو کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے گا کہ معذرت اور منت سماجت کرکے یا توبہ کرکے اپنے پروردگار کو راضی کرلیں۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں کبریائی 49 اسی کے لئے ہے اور وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے

49 1۔ تکبر کی مذمت۔ 2۔ کبریائی صرف اللہ کو لائق ہے :۔ تکبر اور غرور ایسا جرم ہے جس کی سزا دنیا میں بھی مل کے رہتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کا ہر شخص دنیا میں ہی مشاہدہ کرلیتا ہے۔ اور آخرت میں تو متکبرین کا یہ انجام ہوگا کہ کوئی ایسا متکبر نہیں ہوگا جسے جہنم میں ذلیل و رسوا کرکے داخل نہ کیا جائے۔ بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جہنم میں زیادہ تر متکبر قسم کے لوگ ہی ہوں گے۔ نیز سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : عزت پروردگار کی ازار ہے اور بزرگی اس کی چادر ہے۔ (پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) جو کوئی اسے مجھ سے کھینچنے کی کوشش کرے گا میں اسے ضرور عذاب دوں گا (مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الکبر) نیز ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کبریائی میری چادر اور عظمت میرا ازار بند ہے۔ لہذا جو شخص ان دونوں میں سے کسی چیز کو مجھ سے کھینچنے کی کوشش کرے گا۔ میں اسے اٹھا کر آگ میں پھینک دوں گا (حوالہ ایضاً ) گویا کبریائی اور تکبر ایسی صفت ہے جو صرف اللہ اکیلے کو سزاوار ہے اور ایک مومن کبھی متکبر نہیں ہوسکتا۔ تکبر اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں جو کسی ایک انسان میں جمع نہیں ہوسکتے۔