Ayahs 44:1–31 لیلۃ القدر اور شب برات ایک ہی رات ہے :۔ یعنی جس رات قرآن نازل ہوا وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی۔ کیونکہ اس رات کو تمام دنیا کی ہدایت کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ اس مقام پر اس رات کو (لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ) کہا گیا اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) یعنی بڑی قدر و منزلت والی رات یا وہ رات جس میں بڑے اہم امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
مطلب دونوں کا ایک ہی ہے بالفاظ دیگر ایک ہی رات کو یہاں (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کہا گیا ہے اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) ۔ اور سورة بقرہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے ہے کہ یہ رات ماہ رمضان المبارک کی رات تھی۔ (2: 185) اور احادیث صحیحہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ یہ رات ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔ اور اکثر اقوال کے مطابق یہ رمضان کی ستائیسیویں رات ہوتی ہے۔ مگر بعض ناقابل احتجاج روایات کی بنا پر بعض لوگوں نے اس رات کو دو الگ الگ راتیں قرار دے لیا یعنی (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) کو تو رمضان کے آخری عشرہ میں ہی سمجھا اور (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کو ماہ شعبان کی پندرہ تاریخ قرار دے دیا۔ اور اس کا نام شب قدر یا شب برات رکھ لیا۔ حالانکہ شب کا لفظ لیلۃ کا فارسی ترجمہ ہے اور برات کا لفظ قدر کا۔ گویا (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) کا ہی فارسی زبان میں ترجمہ کرکے ایک دوسری رات بنا کر اس کا تہوار منانے لگے اور اس میں پٹاخے اور آتش بازی چلانے لگے۔ گویا جو کام ہندو اپنے دسہرہ کے موقع پر کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں نے شب برات سے متعلق کرکے اپنے تہوار منانے کے شوق کو پورا کرلیا۔
رہی یہ بات کہ کیا سارے کا سارا قرآن اسی رات اترا تھا جیسا کہ بظاہر اس سورت اور سورة القدر سے معلوم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سارے کا سارا قرآن ہی لوح محفوظ سے نقل کرکے فرشتوں اور بالخصوص جبرئیل کے حوالہ کردیا گیا تھا۔ یا یہ سارا قرآن آسمان دنیا پر اتار دیا گیا تھا۔ پھر یہ وہاں سے حسب موقع و ضرورت تئیس سال تک رسول اللہ پر نازل ہوتا رہا۔ البتہ سورة علق کی پہلی پانچ آیات اسی رات رسول اللہ پر غار حرا میں نازل ہوئی تھیں۔
2 یعنی قرآن کریم کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود یہ تھا کہ اس سے تمام اہل عالم کو ان کے انجام سے خبردار کیا جائے اور ان کی گمراہی اور برے اعمال کی سزا سے انہیں ڈرایا جائے۔
Ayah 44:43 لیلۃ القدر کو کس قسم کے فیصلے ہوتے ہیں ؟:۔ یعنی جس رات قرآن کا نزول ہوا اس رات آئندہ سال میں دنیا پر واقع ہونے والے اہم امور کے نہایت ٹھوس اور پائیدار فیصلے کرکے فرشتوں کے حوالہ کردیئے جاتے ہیں۔ اور یہ فیصلے سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اسی مضمون کو سورة القدر میں یوں بیان فرمایا کہ اس رات ملائکہ اور جبرئیل اپنے پروردگار کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں (97: 4) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائنات کے نظم و نسق کے بارے میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ افراد، اقوام اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کرکے اپنے فرشتوں کے حوالہ کردیتا ہے۔ پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عملدرآمد کرتے رہتے ہیں۔ یعنی افراد یا اقوام کی زندگی اور موت، فتح و شکست، عروج وزوال، قحط اور ارزانی اور رزق وغیرہ سے متعلق فیصلے اسی رات میں کردیئے جاتے ہیں۔
Ayahs 44:5–64 آپ رحمۃ للعالمین تھے :۔ یعنی تمام اہل عالم کے لئے ایک خبردار کرنے والا رسول بھیجنا صرف ہماری حکمت کا ہی تقاضا نہ تھا بلکہ یہ اہل عالم پر ہماری رحمت کا بھی تقاضا تھا۔ وہ لوگوں کی پکار اور فریاد بھی سنتا ہے اور ان کے حالات کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے اس نے عین ضرورت کے مطابق خاتم النبییّن کو قرآن دے کر اور تمام اہل عالم کے لیے رحمت کبریٰ بناکر مبعوث فرمایا۔ تاکہ کفر و شرک کی گمراہیوں میں پھنسی اور ظلم و جور میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھا دی جائے کہ کس طرح وہ اپنی باہمی نہ ختم ہونے والی لڑائیوں، لوٹ مار اور قتل و غارت سے نجات حاصل کرکے دنیا میں امن و چین کے ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
Ayah 44:75 یعنی اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت عامہ کی ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہئے کہ یہ رسول اللہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ہی تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ کیونکہ وہ صرف تمہاری جسمانی تربیت کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ تمہاری روحانی تربیت اور تمہیں ہدایت کی راہ بتانا بھی اس کے ذمہ ہے۔
Ayah 44:86 یعنی تم ہی نہیں بلکہ تمہارے آباء و اجداد بھی اس غلطی اور گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کا پروردگار بھی وہی معبود برحق ہے جو زندہ کرسکتا اور مار سکتا ہے۔ لہذا انہیں بھی اسی معبود کی عبادت کرنا چاہئے تھی۔ اب تم اپنے آباء کی اس غلطی اور گمراہی کو ہی سند بناکر اپنے لیے غیر اللہ کی عبادت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہو ؟۔
Ayah 44:97 اس شک کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس معاملہ کے مقدمہ میں بھی شک میں مبتلا ہیں۔ محض باپ دادا کی تقلید میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی پورا یقین نہیں ہے۔ لہذا اس مقدمہ کا نتیجہ بھی ان کے نزدیک مشکوک ہوگیا ہے اور وہ ان سب باتوں کو محض کھیل تماشا ہی سمجھتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ خواہ وہ بڑے زور شور سے اس بات کے مدعی ہیں کہ قیامت اور آخرت وغیرہ کوئی چیز نہیں اور نہ ہی ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ مگر ان کے دلوں کے اندر یہ شک موجود رہتا ہے کہ اگر قیامت کا عقیدہ درست ہوا تو ہماری شامت آجائے گی۔ لہذا وہ دونوں طرف سے شک و شبہ میں پڑے ہوتے ہیں۔ انہیں کسی چیز کا بھی یقین نہیں ہوتا۔ اور جو قیامت کے متعلق باتیں بناتے اور مذاق اڑاتے ہیں یہ سب کچھ شغل اور کھیل تماشے کے طور پر کرتے ہیں۔
Ayah 44:108 قریش پر قحط کا عذاب :۔ آیت نمبر 10 سے نمبر 16 تک تفسیر میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بڑے زور شور اور یقین کے ساتھ ان آیات کی تفسیر درج ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں :
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ کی بات نہ مانی اور شرارتوں پر کمر باندھی تو آپ نے یوں بددعا فرمائی اے اللہ ! ان پر سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح سات سال کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ آخر ان پر ایسا سخت قحط نازل ہوا کہ وہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور نوبت بانیجا رسید کہ ان میں سے اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف دیکھتا تو ایک دھواں سا دکھائی دیتا۔ اس وقت ابو سفیان آپ کے پاس آکر کہنے لگا : محمد ! تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے، دعا کرو اللہ یہ قحط ختم کر دے۔ چناچہ آپ نے دعا فرمائی۔ اور مشرک بھی کہنے لگے : پروردگار ! ہم پر یہ عذاب دور کردے۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا۔ دیکھو جب یہ عذاب موقوف ہوا تو یہ لوگ پھر شرک کرنے لگیں گے۔ خیر آپ کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب اٹھا لیا تو وہ پھر کفر شرک کرنے لگے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ 16) 44 ۔ الدخان :16) میں بطشۃ سے مراد بدر کی سزا ہے۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ ان سے کبھی موقوف نہ ہوگا۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں ہیں جو گزر چکیں۔ لزام (بدر میں قیدیوں کی گرفتاری) روم کا دوبارہ غلبہ بطشۃ (بدر کی ذلت آمیز شکست) چاند (کا پھٹنا) اور دخان (دھوئیں کا عذاب) (بخاری۔ کتاب التفسیر)
خ دخان مبین سے کون سا دھواں مراد ہے ؟:۔ اور سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ آیت نمبر 10 میں مذکور دھوئیں سے مراد وہ دھواں لیتے ہیں جو قیامت کے قریب چھا جائے گا اور وہ قیامت کی ایک علامت ہوگا روایات کے مطابق یہ دھواں چالیس دن زمین کو محیط رہے گا۔ نیک آدمی پر اس کا اثر خفیف ہوگا جس سے انہیں زکام سا ہوجائے گا اور کافر و منافق کے لیے یہ دھواں سخت تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ یہ دھواں شاید وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر (ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ 11) 41 ۔ فصلت :11) میں ہوا ہے اور وہ (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ 16) 44 ۔ الدخان :16) سے مراد قیامت کا عذاب لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب، تاہم ان آیات میں مذکور واقعات رسول اللہ کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ ہی کی تفسیر زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔
Ayahs 44:11–149 یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔
Ayah 44:1510 یعنی اگر ہم ان پر سے یہ قحط کا عذاب کچھ مدت کے لیے ہٹا بھی دیں تو پھر وہی حرکتیں کرنے لگیں گے جو پہلے کرتے رہے اور اس قحط کے طبعی اسباب تلاش کرنے لگیں گے۔ پھر بھی انہیں یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہمیں ہماری شرارتوں کی سزا اس صورت میں ملی تھی۔
Ayahs 44:16–1711 فرعونیوں کی باربار کی عہد شکنی :۔ یعنی وہ بھی انتہائی ہٹ دھرم اور عہد شکن لوگ تھے۔ جب ان پر کوئی عذاب آتا تو سیدنا موسیٰ سے التجا کرتے کہ اللہ سے دعا کرو ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدناموسیٰ کی دعا سے وہ عذاب دور ہوجاتا تو وہ پھر اکڑ جاتے۔ اور انہوں نے بار بار ایسی عہد شکنی کی تھی۔ یہ کفار مکہ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
12 یعنی ایسا رسول جو نہایت اعلیٰ اور بلند سیرت و کردار کا مالک تھا۔ مراد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 44:1813 سیدنا موسیٰ کا فرعون سے مطالبہ :۔ اس آیت کے دو مطلب یہ ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہذا مجھ پر ایمان لاؤ اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ کے بندو ! میرا حق مجھے ادا کرو یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ اور مابعد کا جملہ کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayah 44:1914 یعنی جب میں اللہ کی طرف سے تمہارے سامنے صریح سند یا ایسے معجزات پیش کر رہا ہوں جو اس کی طرف سے میرے رسول ہونے پر واضح ثبوت ہیں تو پھر جو کچھ دعوت میں پیش کر رہا ہوں وہ اللہ ہی کی دعوت ہے۔ اگر تم میری مخالفت کرو گے اور سرکشی پر اتر آؤ گے تو یہ دراصل اللہ ہی کی سرکشی اور بغاوت کے مترادف ہے۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ سے سرکشی کرنے کے بعد تم اس کی گرفت سے بچ سکتے ہو ؟
Ayah 44:2015 فرعون کا سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ :۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اندر ہی اندر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پھیل رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے علاوہ قوم فرعون کے بھی بہت سے آدمی درپردہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاچکے تھے اور فرعون کو اپنی سلطنت کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور اس نے اپنے درباریوں سے اور قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں ورنہ وہ تمہارا دین بھی تباہ کر دے گا اور ملک میں سخت بدامنی پھیلا دے گا اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ لہذا تم میرا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔ مجھے رجم کرنا تو دور کی بات ہے۔
Ayah 44:2116 یعنی اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور مجھے ایذا نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تم کبھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ۔ مگر میری راہ نہ روکو اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے دو ۔
Ayah 44:2217 سیدناموسیٰ کی اپنے اللہ سے فریاد :۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ فریاد ویسی ہی فریاد ہے جو انبیائے کرام اپنی قوم کو سمجھانے اور ان کی طرف سے پوری طرح مایوس ہوجانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ گویا اس فریاد کا زمانہ ٹھیک وہی زمانہ ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل اور ایمانداروں کے ہمراہ ہجرت کرنے کا حکم ملا تھا۔
Ayah 44:2318 سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم اور تعاقب کی خبر :۔ بنی اسرائیل تو سب کے سب ہی آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ گو ان میں سے اکثر اپنے ایمان کو فرعون کی ایذارسانی کے خوف سے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ لوگ قوم فرعون کے بھی آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ ان سب ایمانداروں کو ساتھ لے کر خفیہ طریقے سے مصر سے ہجرت کر جائیں۔ یہ لوگ ایک لاکھ سے زائد نفوس تھے۔ چناچہ آپ نے خفیہ طریقہ سے سب کو ہجرت کا پیغام پہنچایا اور وقت اور جگہ بھی مقرر کردی گئی جہاں وہ سب اکٹھے ہو کر ہجرت کے لیے روانہ ہوں گے۔ ساتھ ہی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دے دی گئی کہ فرعون اور آل فرعون تمہارا تعاقب کریں گے۔ لہذا یہ ہجرت کا سفر چاک و چوبند رہ کر اور ہر احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔
Ayah 44:2419 سمندرکو کھڑے کا کھڑا چھوڑنے کی ہدایت اور فرعون کی غرقابی :۔ اس مقام پر جستہ جستہ واقعات کی طرف اشارے ہی کئے گئے ہیں۔ جب سیدناموسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سمندر سے پار اتر چکے تو انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کا عظیم لشکر ان کے تعاقب میں سمندر کے دوسرے ساحل پر پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ سمندر کے پانی پر پھر اپنا عصا ماریں تاکہ سمندر کا پانی پھر سے رواں ہوجائے۔ اور فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے دوسرے ساحل پر ہی کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور سمندر میں بنے ہوئے خشک راستے سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا تعاقب نہ کرسکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی کہ ایسا مت کرو۔ قوم اور اس کے لشکر کو دریا میں داخل ہونے دو ۔ اسی سمندر میں ہی تو ہم نے ان لوگوں کو غرق کرنا ہے۔
Ayahs 44:25–2820 یہ دوسری قوم کون تھی جو فرعون اور اٰل فرعون کے محلات، باغات، چشموں اور کھیتوں کی وارث بنی تھی ؟ اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر میں باقی رہے گئے تھے۔ جو فرعون اور آل فرعون کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ان چیزوں کے وارث بن گئے تھے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کوئی اور لوگ تھے۔ قرآن کریم سے دو باتوں کی تائید ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ یہاں بھی (قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ) کے الفاظ دوسری صورت کی تائید کرتے ہیں۔ نیز تاریخ سے بھی فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حکومت ثابت نہیں ہوتی۔
Ayah 44:2921 زمین اور آسمان کے رونے کے مختلف مفہوم :۔ زمین اور آسمان کے نہ رونے سے مراد یہ ہے کہ ان پر نہ زمین کی مخلوق کو رونا آیا یا افسوس لگا اور نہ آسمان میں بسنے والی مخلوق کو۔ بلکہ زمین والے تو ایسے ظالموں کے مرنے پر خوشی مناتے ہیں کہ ان کے ظلم و تشدد سے جان چھوٹی اور خس کم جہاں پاک کے مصداق اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں وہ بھلا روئیں گے کیوں ؟ یہی حال آسمانوں کی مخلوق کا ہے۔ ایسے لوگوں کی روح کو جب مرنے کے بعد اوپر لے جایا جاتا ہے تو ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھلتاہی نہیں وہ ایسی ارواح پر پھٹکار بھیجتے ہیں وہ ان کی موت پر کیسے رو سکتے یا افسوس کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر ان الفاظ کو ان کے ظاہری مفہوم پر ہی محمول کیا جائے تو بھی اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال کے اثرات ہمارے اعضاء وجوارح پر اور خود زمین پر ثبت ہو رہے ہیں تو پھر ہمیں آسمان و زمین کے رونے یا افسوس کرنے پر بھی تعجب نہ کرنا چاہئے۔ اور بعض روایات سے ایسی باتیں ثابت بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ہر زبان میں ایسے الفاظ مح اور تاً بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جن پر نہ کسی نے کبھی تعجب کیا ہے اور نہ اعتراض۔
Ayahs 44:30–3122 یعنی فرعون کی ذات ہی بنی اسرائیل کے حق میں مجسم عذاب بنی ہوئی تھی جس کا ہر وقت کام یہ سوچنا ہوتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ رسوا کن سزائیں کیسے دے سکتا ہے ؟
23 یعنی حد سے بڑھنے والے تو اور بھی بہت سے لوگ تھے۔ ایسے لوگوں میں بھی فرعون کا سر سب سے اونچا تھا۔ جس کی حکومت اپنے دور میں سب سے بڑی اور مستحکم تھی۔ جس کا خاندان اپنے آپ کو سورج بنسی خاندان سے منسوب کرتا تھا اور جو اپنی رعایا کا قانونی اور سیاسی خدا بنا ہوا تھا اور ایسی خدائی کا دھڑلے سے دعویٰ بھی رکھتا تھا۔ اس نے جب اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور اس کی مخالفت پر اتر آیا تو اے کفار مکہ ! تم نے اس کا حشر دیکھ لیا اور تم تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں اپنی چھوٹی چھوٹی قبائلی سرداریوں پر اتراتے پھرتے ہو۔ تم اگر وہی فرعون والی سرکشی کی راہ اختیار کرو گے تو اپنا انجام خود سوچ لو۔
Ayah 44:3224 یعنی یہ بات عرب جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی قسم کی خامیاں موجود ہیں۔ تاہم دوسری قوموں کی نسبت پھر بھی بہتر ہیں۔ لہذا ہم نے اہل عالم کی دینی قیادت انہیں کے سپرد کردی۔
Ayah 44:3325 بلاء کا لغوی مفہوم قوم موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات :۔ بلاء کا بنیادی معنی ایسی آزمائش ہے جو ایسے حادثات اور واقعات سے تعلق رکھتی ہو جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکتے ہوں۔ اور یہ آزمائش خیر اور شر دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے۔ یعنی احسانات سے نواز کر بھی اور تنگی یا تکلیف پہنچا کر بھی اس مقام پر یہ آزمائش خیر کی صورت میں ہوئی۔ اسی لیے بعض مترجمین نے اس لفظ کا ترجمہ احسان سے کیا ہے بعض نے مدد سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر ایسے احسانات کیے جن میں ان کی مدد بھی تھی اور آزمائش بھی اور اس سے مراد اللہ کے وہ احسانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر کئے تھے جن کے بغیر ان کا زندہ رہنا بھی محال تھا اور یہ سب احسانات معجزات کی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے من وسلویٰ کا نزول۔ بارہ چشموں کا پھوٹنا اور بادل کا ان پر سایہ کئے رہنا وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 44:34–3626 کفارکایہ اعتراض کہ مارے آباء کو زندہ کرکے دکھاؤ :۔ کفار کا یہ مطالبہ تین وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ ایک یہ کہ رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ خدائی اختیارات کا نہ وہ کبھی دعویٰ کرتا ہے اور نہ اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں کہ جب کوئی کافر ایسا مطالبہ کرے تو اس کا کوئی بڑا بزرگ اسے دوبارہ زندہ کرکے دکھا دے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اسی دنیا میں بھیجا جائے گا بلکہ وہ جہاں ہی دوسرا ہوگا جس میں مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نبی یہ خبر دیتا ہے کہ تمہاری دوبارہ زندگی قیامت کے دن ہوگی تو کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے ہی ایک اور قیامت آجائے۔ حالانکہ قیامت کا وقت مقرر ہے اور وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر جب ان کے باپ دادا یا یہ خود زندہ ہوں گے تو انہیں اپنے اس مطالبہ کی ہوش بھی رہے گی بلکہ دوسرے کئی قسم کے فکر دامن گیر ہوجائیں گے۔
Ayah 44:3727 قوم تبع کا ذکر :۔ تُبع شاہان یمن کا لقب ہے۔ جو حمیری قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے ایران کے بادشاہوں کا لقب کسریٰ ، روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی تھا۔ تبع قوم تبع کے جدامجد کا نام تھا۔ یہ بذات خود ایک ایماندار آدمی تھا اور اپنے وقت میں اس کا ڈنکا بجتا تھا۔ اس نے بہت سے علاقے بھی فتح کرلیے تھے۔ مگر اس کے بعد میں آنے والے لوگ کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے اور اللہ سے سرکشی کی راہ اختیار کرلی تھی۔ ان بادشاہوں کا زمانہ 115 ق م سے 300 ء تک ہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے۔
28 کفار کے اعتراض کا پہلاجواب تاریخ سے متعلق :۔ پہلے کے لوگوں سے مراد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم نیز نمرود، شداد اور فراعنہ مصر وغیرہ ہیں۔ اپنے اپنے دور میں ان سب قوموں کی عظمت کا ڈنکا بجتا تھا۔ اور یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور آخرت کے منکر تھے اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ اخلاقی انحطاط فتنہ و فساد اور ظلم و جور میں مبتلا ہوگئی اور بالآخر اسے تباہ کردیا گیا۔ کفار مکہ سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ ان قوموں نے جب آخرت کا انکار کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان کو ہلاک کر ڈالا گیا تھا۔ حالانکہ وہ تم سے ہر لحاظ سے بہتر تھے تو پھر تم کس کھیت کی مولی ہو کہ تم اپنے انجام سے بچ جاؤ گے۔ یہ گویا کفار مکہ کی اس کٹ حجتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء واجداد کو لاکے دکھا دو کا پہلا جواب ہے جو تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔
Ayahs 44:38–3929 دوسرا عقلی جواب : یہ کائنات بیکار پیدا نہیں کی گئی :۔ یہ کفار مکہ کی اس کٹ حجتی کا عقلی جواب ہے۔ یعنی جو شخص روز آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل یہ سمجھتا ہے کہ یہ کارخانہ کائنات بس ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ اور اس دنیا میں کوئی شخص جو چاہتا ہے کرتا رہے۔ وہ مر کر مٹی ہوجائے گا اور اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ اور خالق کائنات نے بس یونہی ایک شغل اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا کردیا ہے۔ حالانکہ اس کائنات کی ایک ایک چیز میں باہمی ربط، نظم و نسق، انضباط باقاعدگی اور ہر چیز کا کثیر المقاصد اور اسی نسبت سے افادیت سے معمور ہونا اس بات پر کھلی شہادت ہے کہ اس کائنات کا خالق انتہا درجہ کی دانا اور مدبر ہستی ہی ہوسکتی ہے۔ اور کوئی دانا بےکار اور عبث کام نہیں کیا کرتا۔ لامحالہ یہ کائنات کسی نتیجہ پر منتج ہونی چاہئے۔ اور اسی نتیجہ کا نام دوسرا جہان یا روز آخرت ہے۔ قرآن میں بہت سے دوسرے مقامات پر روز آخرت پر ایک دوسری عقلی دلیل پیش کی گئی ہے جو یہ ہے کہ جو شخص روز آخرت کا منکر ہے وہ دراصل سمجھتا ہے کہ نیک اور بد ( یا نیکی یا بدی) سب برابر ہیں۔ دونوں کا انجام یہی ہے مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا کہ نیک اور بد ایک جیسے ہوتے ہیں یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے گویا روز آخرت سے انکار اللہ تعالیٰ کی صفات حکمت اور عدل دونوں کی نفی کردیتا ہے۔
Ayah 44:4030 تیسرا جواب : دوبارہ زندگی کا اصل وقت :۔ یہ بھی کافروں کے مطالبہ کا جواب ہے۔ یعنی اس دن صرف تمہارے باپ دادا ہی زندہ نہیں ہوں گے تمہیں بھی ان کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ اس وقت مقررہ پر تم سب کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ کوئی بھی باقی نہ رہے گا اور تم سب ایک دوسرے کو پہچانتے ہوگے۔ مگر سب اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہونگے۔ اس دن تمہیں ایسی سب کٹ حجتیاں بھول جائیں گی اور کوئی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔۔