Ayahs 44:41–4231 یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی کے حق میں جو فیصلہ کردے گا وہ نافذ ہو کے رہے گا اور اس کی کہیں اپیل بھی نہ ہوسکے گی کیونکہ وہی سب پر غالب ہے۔
32 یعنی وہ فیصلہ کرتے وقت کسی پر رحم تو کرسکتا ہے۔ مگر کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بات اس کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ وہ یہ تو کرسکتا کہ ایک قصوروار کو معاف کردے یا اس کے جرم سے کم سزا دے یا اس کے عمل سے بہت زیادہ بدلہ دے دے اور بیشتر مقدمات میں وہ اپنی اسی صفت رحیمیت کا ہی مظاہرہ کرے گا۔ سزا صرف ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے شرک کیا ہو۔ یا از راہ تکبر دعوت حق کو ٹھکرا دیا ہو اور پھر معاندانہ سرگرمیوں میں ہی لگے رہے ہوں۔
Ayahs 44:43–4433 اہل جہنم کی خوراک :۔ یعنی جب اہل دوزخ بھوک کی شدت سے بےتاب ہوجائیں گے اور کچھ کھانے کی چیز کا مطالبہ کریں گے تو انہیں ہانک کر جہنم کے اس خطہ کی طرف لے جایا جائے گا جہاں تھوہر کا درخت کثیر مقدار میں اگا ہوا ہوگا۔ یہی چیز انہیں کھانے کو ملے گی اور وہ مجبوراً اسے کھائیں گے۔ خار دار ہونے کی وجہ سے پہلے تو وہ حلق سے نیچے اترے گا ہی نہیں بمشکل پیٹ میں پہنچے گا تو اس کا کڑوا کسیلا اور زہریلا مادہ اپنی حدت کی وجہ سے یوں جوش مارے گا جیسے پانی کھول رہا ہو۔ جب وہ اس قسم کے کھانے سے فارغ ہوجائیں گے تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان بدبختوں کو پھر جہنم میں دھکیل دو تاآنکہ وہ جہنم کے عین وسط میں پہنچ جائیں۔
Ayahs 44:45–4934 جب اہل دوزخ کی یہ گت بنائی جارہی ہوگی تو اس وقت دوزخ کا فرشتہ ان سے مخاطب ہو کر کہے گا۔ ارے تم تو دنیا میں بڑے معزز اور شریف بنے پھرتے تھے۔ رسولوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ بیٹھے تھے اور سرکشی اور شرارتیں کیا کرتے تھے۔ اور جب تمہیں اس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو رسولوں کا اور اس دن کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کیا آج بھی تمہیں اس معاملہ میں کچھ شک باقی رہ گیا ہے ؟ اس آیت کا روئے سخن دراصل ان معزز سرداران قریش کی طرف ہے جنہیں نبی کے مقابلہ میں معزز سمجھا جاتا تھا جو مظلوم مسلمانوں کو ایک کمتر درجہ کی مخلوق سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔
Ayahs 44:50–5335 تکبر کرنے والوں کا انجام :۔ یعنی اہل دوزخ تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ندامت کی وجہ سے چھپتے پھریں گے۔ اس کے مقابلہ میں اہل جنت ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے آرام و اطمینان سے محو گفتگو ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پیار و محبت اور سلام و دعا کی باتیں کریں گے۔ دنیا میں گزشتہ ایام کی یادیں تازہ کریں گے اور اللہ کا شکر بجا لائیں گے۔
Ayah 44:5436 حور حوراء کی جمع ہے اور حوراء بمعنی گورے رنگ کی عورت اور عین عیناء کی جمع ہے۔ بمعنی عورت جس کی آنکھیں موٹی ہوں۔ آنکھ کی پتلی خوب سیاہ ہو اور سفیدی خوب سفید ہو۔ اور ایسی عورت انتہائی خوب صورت ہوتی ہے۔ اہل جنت کو ایک تو ایسی عورتیں ملیں گی دوسرے وہ جو دنیا میں ان کی بیویاں تھیں اور مومن تھیں۔
Ayahs 44:55–5637 اخروی زندگی میں موت نہیں :۔ سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : ایک پکارنے والا جنت کے لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا : آئندہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے، اور تم ہمیشہ امن اور چین میں رہو گے کبھی کوئی رنج نہ ہوگا (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھاو اھلھا)
Ayah 44:5738 جنت میں داخلہ صرف اللہ کے فضل سے ہوگا اور اس کی وجہ :۔ یعنی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور اگر اللہ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچا کر جنت میں بھی داخل کردے تو یہ اللہ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے : کسی شخص کو اس کے عمل بہشت میں نہیں لے جائیں گے لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ کیا آپ کے اعمال بھی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! میں بھی اپنے اعمال کے سبب بہشت میں نہیں جاؤں گا۔ اِلایہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لے (بخاری۔ کتاب المرضیٰ ۔ باب تمنی المریض الموت علماء کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی خواہ کتنی ہی عبادت اور فرمانبرداری کرے اس سے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسانات کا بھی بدلہ نہیں چکایا جاسکتا۔ چہ جائیکہ اسے بہشت بھی عطا کی جائے۔ اور اگر کسی کو جنت میں داخلہ ملتا ہے تو یہ محض اس کا فضل ہوا۔ نیز حدیث میں ہے کہ مومن کو قبر میں اس کا جنت میں ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور دوزخ میں بھی اور کہا جاتا ہے کہ اگر تم اللہ کی فرمانبرداری نہ کرتے تو تمہارا یہ ٹھکانا تھا اور دوزخ میں ٹھکانہ اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کی کسی نعمت کے مقابلہ میں اس کے برعکس کوئی تکلیف دیکھ نہ لے وہ اللہ کی نعمت کا صحیح اندازہ کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کو اپنی صحت کی قدر بھی اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ بیمار پڑتا ہے۔
Ayah 44:5839 کیا قرآن آسان ہے یا مشکل ترین ؟ اللہ نے تو واقعی قرآن کو آسان ہی بنایا تھا لیکن ہمارے فرقہ باز علماء نے اسے مشکل ترین کتاب بنادیا ہے اور یہی کچھ عوام کو ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اس کی دلیل درس نظامی کا وہ نصاب ہے جو دینی مدارس میں چھ، سات، آٹھ حتیٰ کہ نو سال میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس نصاب میں قرآن کے ترجمہ اور تفسیر کی باری عموماً آخری سال میں آتی ہے۔ پہلے چند سال تو صرف و نحو میں صرف کئے جاتے ہیں۔ ان علوم کو خادم قرآن علوم کہا جاتا ہے۔ ان علوم کی افادیت مسلم لیکن جس طالب علم کو فرصت ہی دو چار سال کے لیے ملے اسے کیا قرآن سے بےبہرہ ہی رکھنا چاہئے ؟ پھر اس کے بعد فقہ پڑھائی جاتی ہے۔ تاکہ قرآن اور حدیث کو بھی فقہ کی مخصوص عینک سے ہی دیکھا جاسکے۔ تقلید شخصی کے فوائد بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جس فرقہ کے مدرسہ میں طالب علم داخل ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی سانچہ میں ڈھل کر نکلتا ہے۔ اسی طرح فرقہ بازی کی گرفت کو تو واقعی مضبوط بنادیا جاتا ہے۔ مگر حقیقتاً ان طالب علموں کو قرآن کریم کی بنیادی تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ اور کہا یہ جاتا ہے کہ جب تک ان ابتدائی علوم کو پڑھا نہ جائے اس وقت تک قرآن کی سمجھ آہی نہیں سکتی۔ اور اس طرح عملاً اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تردید کی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان بنادیا ہے، تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کریم شرک کا سخت دشمن ہے۔ کوئی سورت اور کوئی صفحہ ایسا نہ ہوگا جس میں شرک کی تردید یا توحید کے اثبات میں کچھ نہ کچھ مذکور نہ ہو۔ مگر ہمارے طریقہ تعلیم کا یہ اثر ہے کہ شرک کی کئی اقسام مسلمانوں میں رواج پا گئی ہیں اور انہیں عین دین حق اور درست قرار دیا جاتا ہے۔ بلکہ شرک سے روکنے والوں کو کافر کہہ کر ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے۔ لہذا ہمارا مشورہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی اولین فرصت میں قرآن کریم کا ترجمہ خود مطالعہ کرنا چاہئے اور سیکھنا چاہئے اور اس کے لیے کسی ایسے عالم کے ترجمہ کا انتخاب کرنا چاہئے۔ جو متعصب نہ ہو اور کسی خاص فرقہ سے تعلق نہ رکھتا ہو۔ یا ایسے عالم کا جس کی دیانت پر سب کا اتفاق ہو اور یہ ترجمہ بالکل خالی الذھن ہو کر دیکھنا چاہئے۔ قرآن سے خود ہدایت لینا چاہئے۔ اپنے سابقہ یا کسی کے نظریات کو قرآن میں داخل نہ کرنا چاہئے۔ نہ اس سے اپنے نظریات کھینچ تان کر اور تاویلیں کرکے کشید کرنا چاہئیں۔ یہی طریقہ ہے جس سے قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
Ayah 44:5940 یعنی آپ تو اس بات کے منتظر ہیں کہ کب ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی شامت آتی ہے۔ اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ پر کب کوئی ناگہانی افتاد پڑتی ہے۔ جو آپ کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے اور کام تو وہی ہوگا جو اللہ کو منظور ہے اور اسی وقت ہوگا جب اللہ کو منظور ہوگا۔