Ayahs 43:1–21 واضح کتاب کا لفظ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کیونکہ یہ کتاب بہت سی باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔ مثلاً یہ کتاب شرک کی جملہ اقسام کی وضاحت کرتی ہے۔ دین حق اور شریعت کے امور کی وضاحت کرتی ہے۔ احوال آخرت اور جنت و دوزخ کی وضاحت کرتی ہے۔ الغرض حق اور باطل کی ایک ایک چیز کو پوری وضاحت سے پیش کر رہی ہے۔
Ayah 43:32 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہیں اس کے مضامین و مطالب سمجھنے میں آسانی ہو۔ تم عربی زبان بولتے ہو اور قرآن عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا کہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم تھوڑی سی بھی عقل و فکر سے کام لو اس کے شیریں انداز بیان اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی تاثیر، اس کے احکام کی حکمت میں غور کرو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔
Ayah 43:43 یعنی اس کے مضامین اور اصول دین چونکہ ایک ہی جیسے رہے ہیں۔ اور پہلی آسمانی کتابوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس لیے یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہمارے پاس اصل کتاب میں لکھا ہوا موجود ہے۔ جسے ہم مختلف ادوار میں، مختلف انبیاء پر انہی کی اپنی اپنی زبانوں میں نازل کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہم نے قرآن کو لوح محفوظ سے عربی زبان میں رسول اللہ پر نازل کیا ہے۔
4 قرآن کے مخلوق ہونے سے متعلق معتزلہ کا استدلال اور اس کا جواب :۔ اس سے مراد ام الکتاب بھی ہوسکتی ہے۔ اور قرآن کریم بھی۔ یعنی تم لوگ اگر اس کی قدرو منزلت نہیں کرتے تو اس سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑ سکتا۔ واضح رہے کہ عقل پرست فرقہ معتزلہ نے قرآن کے متعلق إنَّا جَعَلْنَاہ سے یہ استدلال کیا کہ قرآن مخلوق ہے۔ یہ استدلال غلط اور باطل ہے کیونکہ جَعَلَ کا لفظ صرف ایجاد اور تخلیق کے معنوں میں نہیں آتا بلکہ اور بھی کئی معنی دیتا ہے مثلاً درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیے :
(وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى 40) 9 ۔ التوبہ :40) اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات کو نیچا کردیا
(جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ 70) 12 ۔ یوسف :70) اور (یوسف نے) پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا
(وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ 99) 17 ۔ الإسراء :99) اور ان کے لیے ایک مدت مقرر کی جس میں کوئی شک نہیں
اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ قدیم ہے۔ اس کی صفات بھی قدیم ہیں۔ اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ اس کی صفت ہے۔ اس کے مقابلہ میں معتزلہ کا استدلال یہ ہے کہ اگر اللہ کے ساتھ اللہ کی صفات کو بھی قدیم مانا جائے تو تعدد قدماء لازم آتا ہے اور یہ شرک ہے اسی لیے وہ اپنے آپ کو اہل العدل و التوحید کہتے تھے اور دوسرے سب مسلمانوں کو مشرک سمجھتے تھے۔ مگر انہوں نے اس طرف غور نہ کیا کہ جو چیز مخلوق یا حادث ہو وہ کسی وقت فنا بھی ضرور ہوگی تو کیا نعوذ باللہ اللہ کی صفات یا مثلاً یہی قرآن کسی وقت فنا بھی ہوسکتا ہے ؟ چونکہ کچھ عباسی خلیفے بھی اس اعتزال سے متاثر تھے اور مامون الرشید پکا معتزلی تھا۔ لہذا قرآن کے مخلوق ہونے کی بحث یا مناسب الفاظ میں اس فتنہ نے پوری ایک صدی طوفان کھڑا کئے رکھا۔ بعد میں خلیفوں کو ہی اللہ نے سیدھی راہ دکھا دی تو یہ اپنی موت آپ مرگیا۔ سیدنا امام احمد بن حنبل نے اسی فتنہ کے خلاف بڑی مدت تک قید و بند اور مار پیٹ کی مصیبتیں جھیلی تھیں اور ایسی ہی باتیں اللہ کی صفات میں الحاد کے ضمن میں آتی ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف آئینہ پرویزیت۔ معتزلہ سے طلوع اسلام تک) اور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زبان میں کلام کرسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ام الکتاب یا لوح محفوظ کس زبان میں ہے تو یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جیسا کہ اس کی دوسری صفت کی کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 43:55 یعنی اے کفار مکہ ! اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو، کبھی اسے پہلوں کی کہانیاں قرار دیتے ہو، کبھی اسے بندوں کا کلام کہتے ہو۔ تو کیا ہم تمہاری ایسی شرارتوں کی وجہ سے خلقت کی رہنمائی کا کام چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا بند کردیں گے ؟ اس کے نزول کے دو فائدے تو بہرحال ہو ہی رہے ہیں ایک یہ کہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ تم لوگوں پر حجت پوری ہو رہی ہے۔
Ayahs 43:6–76 جس طرح تم اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دے رہے ہو اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے پہلی قوموں کے پاس اللہ کے نبی اللہ کی کتاب لے کر گئے تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا اور اپنے نبی کا مذاق اڑایا تھا۔ تم بھی انہی لوگوں کی ڈگر پر چل کر اس کتاب کا مذاق اڑانے لگے ہو اور اپنے نبی کو استہزاء اور دوسری شرارتوں سے تنگ کر رہے ہو۔
Ayah 43:87 پہلی قومیں قدو قامت، ڈیل ڈول، طاقت و قوت غرض ہر لحاظ سے تم سے آگے تھیں۔ جب انہوں نے ہماری آیات اور ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ کرکے رکھ دیا تھا اور اب تم بھی وہی کام کر رہے ہو لہذا سمجھ لو کہ اب تمہاری تباہی کی باری آچکی ہے۔
Ayahs 43:9–108 زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ گہوارہ میں بچہ بڑے آرام سے جھولے لیتا ہے، آرام کرتا اور سوتا ہے۔ اس لیے کہ جھولے کی رفتار میں یکسانیت ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت زمین کی ہے جو ایک بہت بڑا عظیم الجثہ کرہ ہے۔ اور فضائے بسیط میں معلق ہزارہا میل فی منٹ کی تیز رفتاری سے محو گردش ہے۔ مگر اس کی اس تیز رفتاری میں بھی یکسانیت ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں اس کی یہ حرکت محسوس تک نہیں ہوتی اگر اس کے اندر سے کوئی آتش فشاں پہاڑ یا آتش گیر مادہ پھٹ پڑے اور اس میں زلزلہ پیدا ہوجائے تو اسی وقت تمہاری جان پر بن جاتی ہے۔ اور پروردگار یاد آنے لگتا ہے اور اگر خدانخواستہ اس کی رفتار میں بےترتیبی واقع ہوجائے تو تمہاری تباہی یقینی ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے اس مہیب کرہ کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر اسے تمہارے حق میں گہوارے کی طرح آرام دہ بنادیا ہے۔ تم اس پر بڑے سکون و اطمینان سے چلتے پھرتے اور رہتے سہتے ہو۔
9 راستوں سے راہ پانے کے دو مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو ایک جیسی نہیں بنائی۔ کہیں نشیب ہیں کہیں فراز، کہیں پہاڑ ہیں اور کہیں ریت کے تودے، پھر ان پہاڑوں کی بلندی بھی یکساں نہیں بنائی۔ کہیں کٹاؤ ہیں کہیں درے ہیں۔ جنہیں پار کرکے انسان ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ یا دوسرے علاقہ کی طرف جاسکتا ہے۔ پھر ان پہاڑوں میں وادیاں بنائیں جو پانی کی گزر گاہیں ہیں۔ انہیں گزر گاہوں پر چلنے کے راستے بن گئے۔ پھر زمین پر بیشمار امتیازی نشانات بنا دیئے۔ ان سب باتوں کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان انہیں نشانات اور راہوں کی مدد سے دنیا کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک سفر کرسکتا ہے اور بھولتا نہیں۔ اگر ایسے نشانات نہ ہوتے اور ساری زمین ایک جیسی ہوتی تو انسان نہ سفر کرنے کے قابل ہوسکتا اور نہ ہی راستے بن سکتے تھے۔ راستے اگرچہ انسان ہی بناتا ہے لیکن چونکہ راستوں کے ذرائع اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے انہیں براہ راست اپنی طرف منسوب کیا۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور دوسرا یہ کہ ان امتیازی نشانات میں غور کرکے ہدایت کی راہ پاسکو اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکو۔
Ayah 43:1110 دنیا میں نازل ہونے والی بارش کی مجموعی مقدار یکساں رہتی ہے :۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ سمندر، جس سے آبی بخارات بن کر اوپر اٹھتے ہیں، کا رقبہ خشکی کے رقبہ سے تین گناہ زیادہ ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس کا ایک کثیر حصہ آبی بخارات میں تبدیل ہوجاتا، پھر بارش کی صورت اختیار کرلیتا جس سے زمین کا کثیر حصہ زیرآب آجاتا اور مخلوق تباہ ہوجاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہونے دیتا اور آبی بخارات اتنے ہی بنتے ہیں یا اتنی ہی بارش ہوتی ہے جو مخلوق کے لیے فائدہ بخش ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے زمین کے ہر علاقہ میں بارش کی سالانہ اوسط مقدار دوسرے علاقوں سے الگ ہوتی ہے۔ پھر اس اوسط مقدار میں کمی بیشی بھی ہوتی رہتی ہے۔ کہیں سیلاب آجاتا ہے اور کہیں خشک سالی ہوتی ہے۔ ان باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ پانی کی مجموعی مقدار اتنی ہی نازل فرماتا ہے جو ساری زمین کی مخلوق کی ضروریات کو پورا کرسکے۔
11 نباتات سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ اللہ تعالیٰ کے لیے نباتات کو زمین سے نکالنا یا اگانا اور تمہیں زمین سے نکالنا یا اگانا ایک ہی بات ہے اور اس میں کچھ فرق نہیں اور اس کی وضاحت سورة نوح میں یوں بیان فرمائی۔ ( وَاللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا 17ۙ ) 71 ۔ نوح :17) (اور اللہ نے تمہیں زمین سے نباتات کی طرح اگایا پھر اسی زمین میں تمہیں لوٹا دے گا۔ پھر تمہیں اسی زمین سے (قیامت کے دن) نکال بھی لے گا) یعنی زمین سے غلے پھل اور غذائیں اگتی ہیں۔ انہی سے انسان کا گوشت پوست خون اور نطفہ بنتا ہے۔ جو انسان کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کو براہ راست زمین سے اگانے سے منسوب کردیا ہے۔ گویا جس طرح آج نباتات کو اور پھر تمہیں زمین سے اگا رہا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی تمہیں زمین سے نکال کر اٹھا کھڑا کرے گا۔
Ayahs 43:12–1312 سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعا :۔ مثلاً ایک انسان اونٹ پر سواری کرتا ہے جو اس سے طاقت اور قد و قامت میں بیسیوں گناہ زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ بگڑ جائے تو آن کی آن میں کئی انسانوں کو ہلاک بھی کرسکتا ہے۔ اب یہ انسان پر اللہ کا خاص فضل ہے جس نے انسان کو اتنی عقل بخشی کہ وہ بڑے بڑے جانوروں سے سواری لیتا ہے اور وہ اس کی خادم بن جاتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسا بھی دیکھا کہ ایک بکری کسی اونٹ یا گائے پر سواری کر رہی ہو۔ اور اپنی مرضی سے اسے جہاں چاہے لے جاسکے ؟ جبکہ انسان کا ایک چھوٹا سا بچہ اونٹوں کی قطار کو جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ علاوہ ازیں پہلے انسان صرف جانوروں پر سوار ہوتا تھا مگر آج بھاپ اور پٹرول کی گاڑیوں پر سوار ہوتا اور اس سے ہزاروں کام لیتا ہے۔ اگر ان کی ایک کل بگڑ جائے تو سینکڑوں انسان موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ ان چیزوں کو کنٹرول میں رکھ سکتا اور ان پر سواری کرتا ہے۔ پھر بھی انسان اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ رسول اللہ جب کسی سواری پر سوار ہوتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف :13-14) اور ہمیں بھی ایسا ہی حکم ہے۔
Ayah 43:1413 یعنی اس دنیا میں ہماری ساری زندگی ہی مسافرانہ ہے اور ہماری منزل آخرت ہے۔ اب سوچئے اگر کوئی شخص سفر پر روانہ ہوتے وقت یا سواری پر بیٹھ کر سوچ سمجھ کر یہ دعا پڑھے تو کیا وہ کسی گناہ کے کام کے لیے سفر کرسکتا ہے ؟
Ayah 43:1514 یہ تو تھے اللہ کے بندوں پر احسانات چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ کے ان احسانات اور انعامات کے بدلے اس کا ممنون احسان ہوتا اور اس کا شکر ادا کرتا۔ مگر اس نے نہ صرف یہ کہ اللہ کی ناقدر شناسی کی، بلکہ مزید ستم یہ ڈھایا کہ اس کی ذات اور صفات کے حصے بخرے کر ڈالے اور کئی چیزوں کو اس کی ذات وصفات میں اس کا حصہ دار اور ہمسر بنا ڈالا۔ اس نے اللہ کی اولاد قرار دی۔ حالانکہ اللہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ جبکہ اولاد نہ مخلوق ہوتی ہے اور نہ مملوک۔ اولاد تو اسی کی جنس سے اور اس کا حصہ ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ سبحانہ کی ذات کو کئی حصوں میں بانٹ ڈالا۔
Ayahs 43:16–1715 بیٹی کی خبر پر اہل مکہ کے تیور بگڑنا :۔ یہ ستم ہی کیا کم تھا کہ اللہ کی اولاد قرار دی جائے۔ اس پر مزید پر ستم ڈھایا کہ اولاد میں سے بھی صرف لڑکیاں اللہ کے لیے تجویز کیں۔ جنہیں وہ اپنے لیے سخت ناپسند کرتا ہے۔ اور انگر اسے بتایا جائے کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔ شرم اور ندامت سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اندر ہی اندر اسے اس بات کا غم کھائے جاتا ہے۔ اور جب کوئی بس نہیں چلتا تو اسے زندہ درگور کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عورتوں کی شکل کے ان کے خیالی مجسمے بناتے اور پھر ان کی پوجا کرتے تھے۔ عزیٰ اور لات و منات ان کی ایسی ہی دیویاں تھیں۔
Ayah 43:1816 یعنی جس کا فطری لگاؤ ہی چوڑیوں، زیورات، آرائش و زیبائش اور نمائش سے ہوتا ہے۔ جسمانی قوت کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہے۔ ایسی کمزور جنس کو اللہ کی اولاد تجویز کرتے ہیں۔ اور لڑکے جو صاحب عزم و ہمت اور مرد میدان ہوتے ہیں۔ اپنے لیے وہ پسند کرتے ہیں۔
17 خصم ایسے فریقین مقدمہ کو کہتے ہیں جن کے درمیان اپنے اپنے حقوق کا جھگڑا ہو اور خصام ایسے ہی مقدمہ یا جھگڑا کو کہتے ہیں۔ یعنی عورتیں شوروغل سے ہنگامہ تو خوب پیدا کرسکتی ہیں۔ آپس میں لڑ بھی خوب سکتی ہیں۔ لیکن بحث وجدال کے وقت انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کون سی بات اس کے موقف کی حمایت میں جاتی ہے اور کون سی مخالفت میں۔ نیز وہ غیر متعلقہ باتوں سے تو طوفان اٹھا سکتی ہیں مگر کام کی بات To ThePoint کم ہی کہتی ہیں۔ نہ وہ یہ بات پوری طرح سمجھ سکتی ہیں۔
Ayah 43:1918 اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا انہوں نے فرشتوں کی جسمانی ساخت کو اچھی طرح دیکھا ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فرشتے مذکر نہیں بلکہ مونث ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں تذکیر و تانیث یا توالد و تناسل کا سلسلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہ خالصتاً اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے پابند۔ اپنے اختیار سے وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔
19 یعنی وہ پھر بھی اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے اور اپنی اس بیان بازی پر مصر ہیں۔ کہ فرشتے واقعی عورتیں ہیں۔ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور قابل پرستش دیویاں ہیں۔ تو ان کا یہ بیان ریکارڈ ہوجائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کس بنیاد پر تم خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سی خلقت کو گمراہ کیا تھا۔
Ayah 43:2020 گناہوں پر مشیئت کی دلیل باطل ہے :۔ جاہلوں کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مذموم عقائد اور معصیت کے کاموں کے لیے مشیئت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا کے فرق کو نہیں سمجھتے، تبھی ایسی دلیل دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو ایک ظالم اور ڈاکو انسان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس پر اللہ راضی ہے تبھی تو مجھے ایسے کام کرنے کے مواقع دیئے جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے دنیا میں کوئی کام شر رہتا ہی نہیں بلکہ سب کچھ خیر ہی خیر ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام ہے۔ حالانکہ اللہ ان باتوں کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ لہذا جو کچھ بھی دنیا کے اندر ہو رہا ہے یہ تو فی الواقع مشیئت الٰہی کے تحت ہورہا ہے۔ لیکن جو کچھ ہونا چاہئے یا جو کچھ اللہ کی رضا ہے وہ اللہ کی کتاب میں مذکور ہے۔
Ayahs 43:21–2221 محض تقلید آباء سب سے بڑی گمراہی ہے :۔ یعنی ملائکہ پرستی کے لیے ان کے پاس کوئی نقلی دلیل موجود نہیں۔ کسی آسمانی کتاب میں انہیں یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ فرشتے واقعی اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اللہ کی الوہیت میں حصہ دار ہیں۔ لہذا تمہیں ان کی بھی عبادت اور پوجاپاٹ کرنا چاہئے اور اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کے وقت انہیں پکارنا چاہئے۔ لے دے کے ان کے پاس یہی جواب ہوتا ہے۔ کہ یہ رسوم ہمارے اسلاف سے چلی آرہی ہیں جو ہم سے زیادہ نیک اور پارسا تھے۔ لہذا ہم ان کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ تقلید آباء یا اسلاف کا مرض صرف اس دور کے مشرکوں میں ہی نہیں پایا جاتا تھا۔ بلکہ آج کے مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے اور اس کی ایک شکل اپنے اپنے اماموں یا کسی مخصوص شخصیت کی تقلید بھی ہے۔ ایسے لوگوں کا بھی یہی جواب ہوتا ہے کہ فلاں حضرت ہم سے زیادہ نیک، پارسا اور دین کا علم رکھنے والے تھے۔ لہذا ہم ان کے قول کو چھوڑ نہیں سکتے۔ حالانکہ اللہ کا دین صرف وہ ہے جو کتاب و سنت میں مذکور ہے۔ کتاب و سنت کے مقابلہ میں کسی بھی بزرگ سے بزرگ ہستی کا قول تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 43:2322 تقلید آباء کے مؤید مترفین کا طبقہ ہوتا ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلید آباء کے سب سے زیادہ مؤید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں یعنی جو آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انہیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسب معاش کے طریقوں پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگاتا ہے۔ مال و دولت کے کمانے پر بھی اور اس کے خرچ کرنے پر بھی۔ اگر یہ پابندیاں گوارا کرلیں تو ان کی آسودہ حالی ہی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ لہٰذاوہ اپنی عاقبت اسی میں سمجھتے ہیں کہ تقلید آباء پر ڈٹ جائیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔
Ayah 43:2423 زیادہ صحیح اس لحاظ سے کہ اس کی نقلی دلیل موجود ہے سب آسمانی کتابوں میں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ اکیلا ہی معبود برحق ہے۔ کوئی دوسرا اس کی ذات اور صفات میں اس کا شریک یا اس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں عقل سلیم بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے۔
Ayahs 43:25–2624 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور تقلید آباء کے دو پہلو :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اسی نسبت سے آیا ہے۔ کہ کفار مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور نبی مانتے تھے۔ لہذا انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر اسلاف کی تقلید ہی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اس پیشوا کی کرو جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی بندگی سے سخت بیزار تھے۔ ان اسلاف کی کیوں پیروی کرتے ہو جنہوں نے خود سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ اور گمراہی کے راستوں پر چل کھڑے ہوئے تھے۔ بالفاظ نبی کی تقلید کرنا درست ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس کا نام تقلید نہیں بلکہ اتباع رسول ہے۔
Ayah 43:2725 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنا یہ حال تھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی قوم سب کے سب اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگ گئے ہیں تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑوں۔ بلکہ انہوں نے برملا کہہ دیا تھا کہ مجھے ان بتوں کی بندگی سے سخت نفرت ہے۔ اور ساتھ ہی یہ دلیل بھی پیش کردی کہ میں تو صرف اسی ذات کی بندگی کرسکتا ہوں جس نے مجھے پیدا بھی کیا ہے اور ہدایت کی راہ بھی دکھاتا ہے اور جن چیزوں کا نہ میری پیدائش میں دخل ہے اور نہ ہی ہدایت دے سکتے ہیں بلکہ خود بےجان مخلوق ہیں اور سنتے بولتے بھی نہیں ہیں آخر ایسی بےکار چیزوں کی بندگی میں کیوں کروں ؟
Ayah 43:2826 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو بھی یہی تعلیم دی تھی اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی تھی کہ اگر تم میں کوئی اختلاف واقع ہوجائے تو اسی کلمہ توحید کی طرف رجوع کرنا اور میری اس تعلیم کو کبھی نہ بھولنا۔ اور وہ تعلیم یہی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو پرستش کے قابل ہو۔
Ayah 43:2927 بات یہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو بلکہ اس کے برعکس معاملہ یہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیم کو بھلا رکھا ہے اور ان کی وصیت کی کوئی پروا نہیں کی۔ اللہ نے تمہیں اور تمہارے آباء واجداد کو جو سامان زیست اور نعمتیں عطا کی تھیں ان کے مزوں میں پڑ کر اللہ کی طرف سے بالکل غافل ہوگئے۔ یہ شرکیہ رسوم تمہارے سامان عیش و عشرت کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ جنہیں اب تم چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
28 (رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ رسول تمہیں شرک اور توحید کی راہیں صاف صاف اور کھول کھول کر سمجھانے والا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا رسول آیا جس کا رسول ہونا بالکل واضح تھا۔
Ayah 43:3029 وہ جادو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ قرآن کی تعلیم اور اس کی قرات دل میں اترنے اور تاثیر کے لحاظ سے جادو کا سا اثر رکھتی تھی۔ اور اس بات سے کفار سخت خطرہ محسوس کر رہے تھے اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جو شخص قرآن کی اس دعوت کو قبول کرلیتا تھا۔ وہ اپنے سب رشتہ کو چھوڑنا تو گوارا کرلیتا تھا مگر ایمان سے پیچھے ہٹنا کبھی گوارا نہ کرتا تھا اور کافر اسے اس لیے جادو کہتے تھے کہ یہ تعلیم ایسی ہے جو باپ بیٹے، بہن بھائی غرضیکہ ہر ایک کو دوسرے سے جدا کردیتی ہے۔
Ayah 43:3130 قریش کے آپ کی ذات پر اعتراضات :۔ قریش مکہ کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ ہم جیسا ایک بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے پھر جب انہیں دلائل کے ساتھ سمجھایا گیا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی رسول ہوسکتا ہے اور تم لوگوں کی ہدایت کے لیے تمہاری زبان جاننے والا ہی رسول ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ تو اب تیسرا اعتراض یہ جڑ دیا کہ مکہ اور طائف دو مرکزی شہر ہیں۔ مکہ کا رئیس ولید بن مغیرہ تھا اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ ان شہروں کا کوئی بڑا آدمی رسول بن جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ بھلا اللہ تعالیٰ کو رسول بنانے کے لیے ایسا ہی آدمی ملا تھا جو یتیم پیدا ہوا تھا اور جس کے پاس نہ دولت ہے اور نہ کسی قبیلے یا خاندان کی سربراہی۔ اگلی آیت میں ان کے اسی اعتراض کے دو جواب دیئے جارہے ہیں۔
Ayah 43:3231 یہ لوگ کس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ کو نبوت عطا کرنے سے پہلے اللہ میاں کو ان سے مشورہ کرلینا چاہئے تھا۔ کہ نبوت و رسالت کا مستحق کون ہوسکتا ہے ؟ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے۔ دوسرے انعامات بھی اللہ تعالیٰ نے جس جس کو دیئے ہیں ان میں بھی ان کا کچھ عمل دخل نہیں۔ اللہ نے کسی کو عقل زیادہ دی ہے کسی کو علم دیا ہے۔ کسی کو دولت زیادہ دی ہے اور کسی کو اولاد زیادہ اور کسی کو کم اور کسی کو بالکل نہیں دی۔ کسی کو قوت کار زیادہ دی ہے کسی کو جسمانی قوت زیادہ دی ہے، کسی کو حسن دیا ہے، کسی کو کوئی خوبی دی ہے، تو کسی کو کوئی دوسری خوبی دے دی ہے۔ اب یہ کیا چاہتے ہیں کہ ایک ہی شخص کو ساری خوبیاں دے دی جائیں یا کسی شخص کو کوئی بھی خوبی نہ دی جائے ؟ حالانکہ جو کچھ اللہ نے تقسیم کردی ہے۔ اسی سے دنیا کا نظام قائم ہے۔ امیر کو غریب کی ضرورت ہے کہ وہ اس کے کام کاج کرے اور غریب کو امیر کی ضرورت ہے کہ اس کا کام کاج کرکے اپنے لیے روزی کمائے۔ اسی طرح شاگرد کو استاد کی اور استاد کو شاگردوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ غرضیکہ اسی اختلاف صفات کی بنا پر ہر شخص دوسرے کا محتاج ہے اور ان صفات کی تقسیم میں وہ خود بھی بےبس ہیں چہ جائیکہ دوسروں کے متعلق اور بالخصوص نبوت جیسی اعلیٰ درجہ کی نعمت کے متعلق دخل در معقولات کرنے لگیں۔
32 نبوت اللہ کی خاص نعمت اور رحمت ہے :۔ یہاں رحمت سے مراد رحمت خاص یا نبوت ہے۔ یعنی نبوت و رسالت کا شرف اس مال و دولت، ساز و سامان اور چودھراہٹوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے جن کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو۔ جب اللہ نے دنیا کی روزی اور دوسرا ساز و سامان بھی ان کی تجویز پر تقسیم نہیں کیا تو کیا نبوت ان کی تجویز اور رائے کے مطابق کسی کو دے گا ؟ اللہ تعالیٰ ٹھیک جانتا ہے کہ اس رحمت خاص کا اصل مستحق کون ہے اور کسے اس رحمت سے نوازنا چاہئے ؟
33 کیونکہ دنیا کا مال فنا ہوجانے والا ہے اور اس کا کوئی بھروسا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت خاص یعنی نبوت تو دونوں جہانوں میں نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔
Ayahs 43:33–3534 یعنی دنیا کا مال و دولت، سازو سامان اور سیم و زر، جس کو یہ لوگ کسی انسان کی عظمت کا معیار قرار دے رہے ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کافروں کے گھر، ان کے دروازے، مکانوں کی چھتیں، ان کے تخت اور چارپائیاں، ان کی سیڑھیاں غرضیکہ ان کی ایک ایک چیز سونے، چاندی کا بنا دیتا۔ لیکن اس میں یہ خطرہ ضرور تھا کہ تمام انسان ہی کفر کا راستہ اختیار کرلیتے، کیونکہ انسان فطرتاً مال و دولت کے لیے بہت حریص واقع ہوا ہے۔ جبکہ اللہ کی مشیئت یہ ہے کہ کسی کو مال و دولت زیادہ دے کر اور کسی کو کم دے کر ہر طرح سے لوگوں کی آزمائش کرے۔ نیز دنیا میں رزق کی اس کمی بیشی سے ہی اس دنیا کا نظام چل رہا ہے ورنہ مال و دولت تو ایسی حقیر چیز ہے جو حرام خوروں اور خبیث ترین قسم کے انسانوں کے پاس عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس مال و دولت کو تم نے بڑائی کا معیار سمجھ رکھا ہے۔ اور کہتے ہو کہ نبوت بھی اس طرح کے کسی بڑے رئیس کے حصہ میں آنا چاہئے تھی ؟
35 یعنی آخرت کی تمام تر نعمتیں صرف متقی لوگوں کے لیے مخصوص ہیں اور دنیا میں بھی انہیں اتنا حصہ مل ہی جاتا ہے جتنا ان کے مقدر میں ہے اور یہ حصہ زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر کافروں کا آخرت میں تو کوئی حصہ نہیں اگر دنیا میں انہیں کچھ زیادہ مال و دولت مل بھی جائے تو پھر بھی بہرحال خسارے میں کافر ہی رہتے ہیں۔
Ayah 43:3636 یعش (مادہ عشو) عشا کے بنیادی معنی اندھیرے کی وجہ سے چیزوں کا واضح نظر نہ آنا اور کبھی یہ لفظ محض اندھیرے کے وقت کے لیے آجاتا ہے۔ اور بمعنی رات کو نظر نہ آنا، رتوندا ہونا، شب کو ری اور یہاں یعش سے مراد عمداً کسی چیز کو دیکھنے کی کوشش نہ کرنا اور آنکھیں بند کرلینا ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کی یاد سے یا اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت سے یا قرآن سے عمداً بےنیاز رہنا چاہتا ہے اس پر ایک شیطان خصوصی طور پر مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا، اس کے دل میں وسوسے ڈالتا اور اللہ کی یاد سے غافل کئے رکھتا ہے حتیٰ کہ اسے دوزخ تک پہنچا کے چھوڑتا ہے۔
Ayah 43:3737 یہ شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ لگا رہتا ہے کوئی جن بھی ہوسکتا ہے اور انسان بھی۔ اور یہ اسے کسی وقت نیکی کی طرف یا اللہ کے راستہ کی طرف نہیں آنے دیتا پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی ایسی مت ماری جاتی ہے کہ اس میں نیکی اور بدی کی تمیز ہی باقی نہیں رہتی۔ وہ اپنے برے کاموں کو ہی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ اور اسے اپنی یہ بدروی اور گمراہی ہی صحیح راہ معلوم ہونے لگتی ہے۔
Ayah 43:3838 یعنی آج تو اپنے اس برے ساتھی کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھ رہا ہے مگر قیامت کو جب ہمارے پاس حاضر ہوگا تب جاکر اسے معلوم ہوگا کہ وہ اس کا کیسا برا ساتھی تھا۔ پھر وہ حسرت اور غصہ سے اسے کہے گا : کاش ! میرے اور تیرے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہوتا اور میں ایک لمحہ بھی تیری صحبت میں نہ گزارتا۔ آج تو کم از کم میری آنکھوں سے دور ہوجا۔ تو تو بہت ہی برا ساتھی ہے۔
Ayah 43:3939 یعنی آج اس برے ساتھی سے بیزار ہونے کا کیا فائدہ ؟ اس نے جو کام کرنا تھا وہ کرچکا اور تمہیں جہنم تک پہنچا چکا۔ آج تو جیسے وہ مجرم ہے ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ نہ اس کے عذاب میں کچھ کمی کی جائے گی اور نہ تمہارے عذاب میں۔ اس عذاب میں دونوں برابر کے شریک ہو۔ دنیا میں تو قاعدہ ہے کہ جس مصیبت میں سب چھوٹے بڑے شریک ہوں وہ کچھ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے۔ مثل مشہور ہے۔ مرگ انبوہ جتنے دارو مگر دوزخ میں یہ صورت بھی نہ ہوگی اور سب کا عذاب میں شریک ہونا کسی کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔
Ayah 43:4040 یعنی آپ اپنی تمام تر توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کیجئے جو ہدایت کے خواہشمند ہیں یا جو اسلام لاچکے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کا کلام سننا ہی نہیں چاہتے اور اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ انہیں راہ راست پر لانا یا نہ لانا آپ کا کام نہیں۔ آپ ان کی فکر چھوڑ دیجئے جو اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔