Ayahs 43:41–4241 مشرکین مکہ کا یہ خیال تھا کہ ان کی ساری پریشانیوں اور مصیبتوں کا باعث رسول اللہ کی ذات ہے۔ یہ کانٹا اگر درمیان سے نکل جائے تو سارا معاملہ درست ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ آپ کی جان کے لاگو بنے ہوئے تھے۔ اس آیت میں اگرچہ روئے سخن رسول اللہ کی طرف ہے لیکن یہ وعید دراصل مشرکین مکہ کو سنائی جارہی ہے۔ کہ رسول زندہ رہے یا نہ رہے۔ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا بہرحال مل کے رہے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا عذاب رسول کی زندگی میں ہی تمہیں پہنچ جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی وفات کے بعدآئے۔ لہذا جو کچھ تم رسول کے متعلق سوچ رہے ہو اس سے تمہاری پریشانیوں اور مصیبتوں میں اضافہ تو ہوسکتا ہے، کمی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 43:4342 اور آپ بھی یہ فکر چھوڑ دیجئے کہ ان مشرکوں پر اللہ کا عذاب کب نازل ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری حکمت اور صوابدید پر منحصر ہے۔ نہ آپ یہ فکر کریں کہ اسلام کو کب غلبہ نصیب ہوگا۔ آپ کے اطمینان کے لیے یہی بات کافی ہے کہ آپ ٹھیک راہ پر جارہے ہیں۔ بس اتنا کیجئے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے ساتھ کے ساتھ جو ہدایات مل رہی ہیں ٹھیک اس کے مطابق عمل کرتے جائیے اور یہ بات اللہ پر چھوڑ دیجئے کہ وہ کب باطل کا سر کچلتا ہے اور حق کو غلبہ نصیب فرماتا ہے۔
Ayah 43:4443 یعنی یہ کتاب قرآن کریم ایک بہت بڑی نعمت ہے جو آپ کو اور آپ کی قوم کو دی جارہی ہے۔ تمہاری اور تمہاری قوم کی اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم آپ کی طرف وہ کتاب نازل کر رہے ہیں جو تاقیام قیامت ساری دنیا کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے گی اور دوسری قوموں کو چھوڑ کر آپ کی قوم اس پیغام الٰہی کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا ذریعہ بنے گی۔ لہذا اس وقت جو لوگ اس عظیم نعمت کا مذاق اڑاتے ہیں یا اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے ان سے یقیناً باز پرس ہونے والی ہے۔ اور اے مسلمانو ! تم سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اللہ کا یہ پیغام دنیا والوں کو پہنچا دیا تھا ؟
Ayah 43:4544 بعد از موت انبیاء کی زندگی کے قائلین اور ان کا رد :۔ اس آیت میں واسْئَلْ کا مطلب اکثر مفسرین نے دو طرح سے بیان کیا ہے ایک یہ کہ ان انبیاء کے وارث علماء یا علمائے بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ ان رسولوں کی کتابوں میں تلاش کرکے دیکھو کہ ان میں کہیں یہ لکھا ہے کہ ہم نے اپنے علاوہ کچھ اور بھی الٰہ بنا دیئے ہیں جن کی عبادت کی جایا کرے۔ لیکن کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو انبیاء و اولیائے کرام کی عرصہ برزخ میں مکمل زندگی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کی پکار سنتے بھی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے ان کے تصرف کا یہ حال ہے۔ وہ پکارنے والے کی مشکل کشائی اور حاجت روائی بھی کرتے ہیں۔ چناچہ ایسے ہی ایک صاحب اس آیت کا ترجمہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر انبیاء کرام میں حیات نہ ہوتی۔ وہ خطاب و ندا کو نہ سمجھتے ہوتے اور جواب دینے کی قدرت ان میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو انبیاء و رسل سے دریافت کرنے کا حکم نہ فرماتا ایسے حضرات چونکہ عموماً بریلوی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ہم یہاں ترجمہ احمد رضا خان بریلوی (کنزالایمان) پر حاشیہ نمبر 45 از نعیم الدین مراد آبادی درج کرتے ہیں :
رسولوں سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و ملل کی تلاش کرو۔ کہیں بھی کسی نبی کی امت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے ؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنین اہل کتاب سے دریافت کرو۔ کیا کسی نبی نے غیر اللہ کی عبادت کی اجازت دی ؟ تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی نہ کسی کتاب میں آئی۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ شب معراج سید عالم نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے جبرئیل نے عرض کیا کہ اے سرور اکرم ! اپنے سے پہلے انبیاء سے دریافت فرما لیجئے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی ؟ حضور نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاء توحید کی دعوت دیتے آئے۔ سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ( سورة زخرف کا حاشیہ نمبر 45 از نعیم الدین مراد آبادی)
اب دیکھئے اس حاشیہ میں جس روایت کا ذکر ہے وہ غلط معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورة زخرف کی یہ آیت واقعہ معراج سے کافی عرصہ بعد نازل ہوئی ہے۔ سورة بنی اسرائیل جس میں واقعہ اسراء کا ذکر ہے، کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 50 ہے۔ جبکہ سورة زخرف کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 63 ہے۔ معراج کا واقعہ ہجرت سے ڈیڑھ دو سال پہلے کا ہے۔ جبکہ سورة ہذا اس وقت نازل ہوئی جبکہ کفار آپ کی جان کے درپے تھے۔ جیسا کہ اس سورة کی آیت نمبر 79۔ 80 سے واضح ہے۔ لہذا قبل از نزول آیت مذکورہ جبرئیل کا حضور سے یہ کہنا کہ ان رسولوں سے پوچھ لیجئے اور پھر پوری آیت پڑھ جانا کیسے ممکن ہے ؟
Ayah 43:4645 یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ فرعون بھی اپنے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیر سمجھتا تھا۔ جس طرح کہ قریش مکہ اپنے سرداروں کے مقابلہ میں رسول اللہ کو حقیر سمجھ رہے تھے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ بالآخر فرعون اللہ کے عذاب سے تباہ ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نجات اور کامیابی عطا فرمائی۔ تم اگر سمجھو تو تمہارا بھی ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔
Ayah 43:4746 یعنی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کے سانپ بن جانے کو اور یدبیضاء کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ نشانیاں سمجھنے کی بجائے اسے جادو کے کرشمے قرار دینے اور باتیں بنانے لگے اور ہنسی مذاق اڑانے لگے۔
Ayah 43:4847 ان نشانیوں سے مراد وہ پے در پے عذاب ہیں جن کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر 133 میں گزر چکا ہے۔ وہی حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔ یہ ہلکے ہلکے عذاب دراصل تنبیہات تھیں جن سے غرض یہ تھی کہ شاید وہ ڈر کر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔
Ayah 43:4948 سیدنا موسیٰ کو قوم کی طرف سے ایذا دہی :۔ اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً (1) فرعون اور آل فرعون کو یہ پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ آپ جادوگر نہیں بلکہ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ ان کی دعا سنتا ہے اور اسے قبول بھی کرتا ہے۔ اسی لیے وہ عذاب اور مصیبت کے وقت آپ کی طرف رجوع کرتے اور دعا کی درخواست کرتے تھے۔
(2) ان کی اکڑ کا یہ عالم تھا کہ التجا کے وقت بھی وہ آپ کو ساحر ہی کہتے تھے۔ جیسا کہ تمام انبیاء کو اس لقب سے نوازا جاتا رہا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے اپنی قوم کو مطمئن رکھنے اور الو بنانے کے لیے ساحر کے طور پر ہی مشہور کر رکھا تھا۔ یہی وہ باتیں تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو موسیٰ کو دکھ پہنچاتے رہے (33: 69)
(3) جس طرح دوسرے انبیاء کو یہ حکم تھا کہ وہ کافروں کی باتوں کو صبر و تحمل سے برداشت کریں۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہی حکم تھا اور یہ پے در پے عذاب چونکہ اللہ کی طرف سے تنبیہات تھیں لہذا سیدنا موسیٰ اپنی اس توہین کو بھی برداشت کرتے۔ پھر اللہ کے حکم کے تحت ان کے لیے عذاب کے دور ہونے کی دعا بھی کرتے تھے۔
Ayah 43:5049 یعنی وہ ہر بار عہد شکنی کرکے اپنے سرکشی کے جرم کو سخت سے سخت تر بناتے چلے گئے۔ اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ انہیں اپنے جرائم کی مناسبت سے کس قدر سخت سزا ملنے والی تھی۔
Ayah 43:5150 یہاں اپنی قوم میں سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے پکار پکار کر یہ باتیں کی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنی ان باتوں کا اتنا پرزور پروپیگنڈا کیا ہو کہ اس کی قوم کے ہر فرد کے کانوں تک فرعون کی یہ آواز پہنچ گئی ہو۔
Ayah 43:5251 فرعون کا اپنی قوم میں پروپیگنڈہ :۔ فرعون کے اس اعلان سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی جڑیں اندر ہی اندر کافی مضبوط ہوچکی تھیں۔ اور وہ اس دعوت سے خائف تھا مگر اپنی رعایا میں اپنا بھرم قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اور اپنی قوم سے اسی طرح کا استصواب چاہتا تھا۔ جیسے الیکشن کے دنوں میں امیدوار اپنی خوبیاں اور اپنے حریف کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ اس نے اپنا اور سیدنا موسیٰ کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو ! یہ ملک مصر میں میری حکومت کس قدر مضبوط ہے۔ آبپاشی کا نظام بہت عمدہ ہے۔ جس پر تمہاری معیشت کا دارومدار ہے۔ ہم لوگوں نے دریائے نیل سے کئی نہریں ملک بھر میں جابجا بچھا دی ہیں۔ یہ سب کچھ تو میرے نظام کے تحت ہو رہا ہے۔ پھر تم ایک ایسے شخص کے پیچھے کیوں لگے جارہے ہو جو میرے مقابلہ میں نہایت کمتر درجہ کا آدمی ہے۔ نہ اس کے پاس مال و دولت ہے اور نہ حکومت اور وہ کھل کر صاف صاف باتیں بھی نہیں کرسکتا۔ تمہیں کچھ تو سوچ و بچار سے کام لینا چاہئے۔
Ayah 43:5352 فرعون کا قوم کے سامنے اپنا اور سیدنا موسیٰ کا تقابل پیش کرنا :۔ پرانے زمانے میں یہ رواج عام تھا کہ بادشاہ، نواب اور راجے مہاراجے سونے اور جواہرات کے کنگن پہنا کرتے اور اپنے جس درباری پر خوش ہوتے تو اسے بھی انعام و اکرام کے طور پر کنگن پہناتے اور جب کبھی سیر و سفر کو نکلتے تو ان کے آگے پیچھے فوجوں کے محافظ دستے ہوتے تھے اور یہ رواج آج کل بھی عام ہے۔ فرعون نے اپنے اور سیدنا موسیٰ کے تقابل میں ایک تو دولت اور حکومت کا ذکر کیا۔ دوسرے موسیٰ کی رسالت پر یہ اعتراض کیا کہ اگر وہ فی الواقع اللہ کا زمین پر نائب ہے۔ تو کم از کم نشانی کے طور پر اسے سونے کے کنگن تو پہنائے گئے ہوتے یا کم از کم اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے فرشتوں کے محافظ دستے ہی اس کی حفاظت پر مامور ہوتے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پھر وہ اللہ کا نائب کیسے ہوا ؟ تمہاری عقل پر کیا پتھر پڑگئے ہیں کہ تم میرے مقابلہ میں اس کی باتیں تسلیم کرنے لگے ہو ؟
Ayah 43:5453 ایسی ہی باتیں کہہ کر فرعون نے اپنی قوم کو الو بنایا اور وہ الو بن گئے۔ اس لیے کہ وہ فاسق لوگ تھے۔ جن کو اپنے دنیوی مفادات کے علاوہ اور کسی بات سے غرض ہی نہ تھی۔ اور وہ انہیں فرعون کا غلام بنا رہنے میں ہی نظر آرہے تھے۔ فرعون پر اگرچہ حقیقت واضح ہوچکی تھی مگر وہ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہا تھا کہ اس کی حکومت میں کمزوری اور تزلزل واقع نہ ہو۔ وہ عام لوگوں کی ذہنیت کو بھی خوب جانتا تھا کہ ایسے بےضمیر، بےاصول اور بےعقل لوگوں سے کیسے کام نکالا اور انہیں اپنی باتوں پر لگایا جاسکتا ہے ؟
Ayahs 43:55–5654 یعنی انہیں صفحہ ہستی سے ایسا مٹا دیا کہ کوئی ان کا ذکر خیر کرنے والا باقی نہ رہ گیا۔ البتہ وہ پچھلے لوگوں کے لیے ایک نمونہ عبرت ضرور بن گئے کہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کا کیا انجام ہوتا ہے کیونکہ فرعون اور آل فرعون دراصل اللہ کے باغیوں کے پیش رو تھے۔
Ayah 43:5755 معبودوں کا جہنم میں داخلہ اور سیدنا عیسیٰ کا معاملہ :۔ جب سورة انبیاء کی یہ آیت ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا تم جن چیزوں کو پوجتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ عبادت تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی کی جاتی ہے۔ تو کیا وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ؟ پھر اس اعتراض کا خوب پروپیگنڈا شروع کردیا۔ عبداللہ بن الزبعریٰ نے یہی سوال رسول اللہ سے کیا تو آپ خاموش رہے کیونکہ آپ خود کوئی جواب دینے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند فرماتے تھے کہ مشرکوں کے ایسے اعتراضات کے جو جواب بذریعہ وحی نازل ہوں وہی ان کو جواب دیا جائے۔ آپ کی خاموشی پر مشرکین قہق ہے لگانے اور کھل کھلا کر ہنسنے لگے جس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری اس دلیل نے محمد کو چپ کرا دیا۔ بالفاظ دیگر ایسی مسکت دلیل پیش کرکے میدان مار لیا ہے۔
Ayah 43:5856 مشرکین مکہ نے غل یہ مچایا تھا کہ اللہ کے سوا سارے ہی معبود جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے معبودوں سے اچھے کیسے ہوئے اور ہمارے معبود ان سے کمتر کیسے ہوئے ؟ پھر تو ہم اپنے ہی معبودوں کو اچھا کہیں گے۔
57 یعنی مشرکین ایسی بحث اس لیے نہیں چھیڑتے کہ اگر انہیں معقول جواب مل جائے تو اسے تسلیم کرلیں گے۔ بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ایسی کج بحثی ان کی فطرت میں داخل ہوچکی ہے۔ اور وہ حق بات کو کج بحثیوں میں الجھا کر لوگوں کو حق کے قریب آنے سے روکنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 43:5958 مشرکوں کو ان کی اس مسکت دلیل کا جواب :۔ اس آیت میں مشرکوں کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) معبود نہیں تھے نہ انہوں نے کبھی اپنے معبود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بلکہ وہ تو اللہ کے انتہائی مخلص بندے تھے۔ ہم نے ان پر کئی قسم کے انعامات بھی کئے تھے۔ ان کی بن باپ پیدائش اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک نمونہ تھی۔ پھر انہیں ایسے معجزات بھی دیئے تھے جو نہ پہلے کسی نبی کو دیئے گئے تھے اور نہ بعد میں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ مقام عبودیت سے بلند ہو کر معبود کے مقام پر جاپہنچے تھے۔ بلکہ وہ اللہ کے بندے ہی رہے اور تادم زیست وہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہی کہتے رہے۔ اور بنی اسرائیل کی اتباع کے لیے ایک نمونہ تھے۔
Ayah 43:6059 قریش مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کا رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف جواب مذکور ہیں۔ یہاں یہ جواب دیا جارہا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہمیں یہ قدرت حاصل ہے کہ تم میں سے ہی فرشتے بنا دیتے۔ پھر جو فرشتہ رسول بن کر آتا سب اس کو دیکھ سکتے۔ اسکی بات سن سکتے اور سمجھ سکتے۔ مگر فرشتوں کی فطرت میں اختیار نہیں رکھا گیا۔ وہ تو حکم کے بندے ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے اختیاری نہیں ہوتی۔ اور یہ بات ہماری مشیئت کے خلاف ہے۔
Ayah 43:6160 یعنی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیں گے کہ اب قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب لیا ہے۔ اور بیشمار احادیث صحیحہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے نزول کی تائید بھی کرتی ہیں جو بالکل قیامت کے قریب ہوگا۔ تاہم اس سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش اور آپ کو عطا کردہ معجزات بذات خود قیامت کی علامت بن سکتے ہیں۔ یعنی جو ہستی عام عادی طریقے سے ہٹ کر کسی کو بغیر باپ کے پیدا کرسکتی ہے اور اسے محیر العقول معجزات عطا کرسکتی ہے وہ قیامت کو قائم کرنے کی بھی یقیناً قدرت رکھتی ہے۔ یہ مطلب صرف اس لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو سیدنا عیسیٰ کی دوبارہ آمد یا نزول مسیح پر دلالت کرتا ہو۔
Ayah 43:6261 یعنی جو شخص بھی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ وہ شیطان کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ اور یہ بھی سمجھ لے کہ شیطان کی سب سے بڑی دشمنی اور سب سے بڑی گمراہی یہی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے بارے میں شک کرنے لگ جائے۔ اور شیطان سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی ہدایات پر ناک کی سیدھ چلتا جائے۔ ادھر ادھر بالکل نہ مڑے۔
Ayah 43:6362 بنی اسرائیل کی فرقہ بندی اور اختلافات کی وجوہ اور سیدنا عیسیٰ کی بعثت کا مقصد :۔ حکمت سے مراد شرعی احکام کی بصیرت اور ان کے مصالح کا علم بھی ہے، شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کا طریق کار بھی اور انہیں عملی طور پر معاشرہ میں نافذ کرنے کا طریقہ بھی۔
63 یعنی میری بعثت کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تمہیں شرعی احکام کے متعلق تمام حکمت کی باتیں بتاؤں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ جن جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ اس کی حقیقت تم پر واضح کر دوں۔ واضح رہے کہ یہود یا بنی اسرائیل بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ کچھ اختلاف تو ان کے قیامت سے تعلق رکھتے تھے۔ یعنی قیامت کے متعلق انہوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جو عنداللہ مسؤلیت کے مقصد کو ہی ختم کردیتے تھے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں۔ یا وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہذا جنت صرف انہی کا حق ہے۔ نیز یہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر صرف چند دن کے لیے اور کچھ اختلاف ان کے حلت و حرمت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بعض چیزوں کو حرام کرلیا تھا جنہیں اللہ نے حرام نہیں کیا تھا۔ پھر بعد میں اللہ نے سزا کے طور پر واقعی ان چیزوں کو ان پر حرام کردیا تھا۔ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : (وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ 50) 3 ۔ آل عمران :50) اور میں اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو (تمہاری سرکشی کی وجہ سے) تم پر حرام کردی گئی تھیں ان کو (اللہ کے حکم سے) تم پر حلال کردوں لہذا اللہ سے ڈر کر ایسے اختلاف چھوڑ دو اور کچھ اختلافات اس وجہ سے پیدا ہوگئے تھے کہ ان کی کتاب تورات اپنی اصلی زبان اور عبارت و الفاظ کے لحاظ سے محفوظ نہ رہی تھی۔ اس میں بزرگوں کے اقوال اور مضامین کچھ اس طرح گڈ مڈ ہوگئے تھے کہ انہیں خود بھی یہ معلوم نہ ہوسکتا تھا کہ اس میں الہامی الفاظ اور عبارت کون سی ہے اور الحاقی کون سی ؟
Ayahs 43:64–6564 سیدنا عیسیٰ سے متعلق بنی اسرائیل کے اختلافات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اپنے اختلاف اور فرقہ بازی سے باز نہ آئے۔ مزید ستم یہ ڈھایا کہ سیدنا عیسیٰ کی ذات میں بھی اختلاف پیدا کرکے ان اختلافات کو اور بھی زیادہ کردیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقہ نے سیدہ مریم پر تہمت لگائی اور سیدنا عیسیٰ کے ایسے دشمن بنے کہ حکومت وقت کے تعاون سے بزعم خویش انہیں سولی پر چڑھا کے دم لیا۔ اور جو لوگ سیدنا عیسیٰ پر ایمان لے آئے وہ دوسری انتہا کو جا پہنچے۔ کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک خدا اور کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا۔ پھر اپنے اپنے موقف کی حمایت میں ایسی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بیشمار فرقے وجود میں آکر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔
Ayahs 43:66–6765 قیامت کو دینی دوستی کے علاوہ سب قسم کے دوست باہم دشمن بن جائیں گے :۔ قیامت کے دن صرف وہ دوستی برقرار رہے گی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اور اللہ کے دین کی خاطر ایک دوسرے سے دنیا میں دوستی رکھی ہوگی باقی سب قسم کی دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اور ایسی دوستیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً مشرکوں کی اپنے بتوں سے محبت اور آپس میں دوستی۔ اسلام کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ہر قسم کے کافروں سے دوستی۔ مجرموں کی مجرموں سے جیسے ڈاکوؤں کی ڈاکوؤں سے دوستی، دنیوی مفادات کی خاطر دوستی۔ ایسی سب دوستیاں اور رشتے نہ صرف یہ کہ منقطع ہوجائیں گے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور سب ایک دوسرے پر یہ الزام دھریں گے کہ فلاں میری گمراہی کا باعث بنا اور فلاں اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبا۔
Ayah 43:6866 یعنی وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ کی بنا پر دوستی رکھی ہوگی۔ نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کیا ہوگا۔ اللہ کے دین کے قیام کی خاطر آپس میں مشترکہ کوششیں کی ہوں گی۔ دین کے رشتہ کو سب رشتوں اور محبتوں سے مقدم سمجھا ہوگا۔ ایسے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان عام ہوگا۔ کہ آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کا خوف نہیں رکھنا چاہئے اور انہیں اپنی سابقہ زندگی پر کچھ ملال بھی نہ ہوگا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی اللہ کی فرمانبرداری میں گزاری تھی۔
Ayahs 43:69–7067 ازواج کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا مطلب تمہاری ہی طرح کے تمہارے دوسرے ساتھی اور دوست، جن کی دنیا میں دوستی کی بنیاد محض تقویٰ پر تھی۔
Ayah 43:7168 اگرچہ جنت کی ساری نعمتیں ہی ایک دوسری سے بڑھ چڑھ کر ہوں گی مگر جو لذت و سرور اہل جنت کو دیدار الٰہی سے حاصل ہوگا۔ اتنا اور کسی نعمت سے نہ ہوگا اور یہ نعمت بھی اہل جنت کو وہاں حاصل ہوگی۔
Ayah 43:7269 یعنی اب تم اس جنت کے ہمیشہ کے لیے مالک بن چکے۔ دنیا کی طرح عارضی ملکیت نہ ہوگی جو مرنے کے بعد دوسرے ورثاء کو از خود منتقل ہوجاتی ہے۔ وہاں نہ موت ہے اور نہ اس قسم کا کوئی خطرہ ہے۔
Ayahs 43:73–7570 یُفَتَّرُ فتر بمعنی کسی چیز کی قوت یا رفتار میں بتدریج کمی واقع ہوتے جانا۔ قوت کے بعد کمزوری، تیز رفتاری کے بعد آہستہ آہستہ رفتار سست ہوتے جانا اور فتور کے معنی تیزی کے بعد سستی یا ٹھہراؤ۔ گویا اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا اس میں نہ تو کمی واقع ہوگی اور نہ ہی کبھی کوئی وقفہ پڑے گا۔ مدت ہائے مدید جب ان پر ایسا سخت عذاب ہی ہوتا رہے گا اور اس میں کوئی کمی یا وقفہ نہ آئے گا تو ایسی کمی یا وقفہ سے وہ بالآخر مایوس ہوجائیں گے۔
Ayah 43:7671 یعنی ہم نے انہیں ایسے عذاب سے بچاؤ کے لیے پوری طرح بروقت خبردار کردیا تھا۔ اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ سمجھنے کو انہیں عقل بھی دی تھی۔ رسول بھی بھیجے تھے اور کتاب ہدایت بھی۔ اس طرح ہم نے ہر طرح سے ان پر حجت تمام کردی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اگر عذاب سے بچنے کی کوشش نہیں کی تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟ قصور تو ان کا اپنا ہی ہے۔
Ayah 43:7772 اہل دوزخ عذاب کی شدت میں کمی یا وقفہ سے سخت مایوس ہو کر دوزخ کے فرشتہ کو، جس کا نام مالک ہوگا، پکار کر کہیں گے، مالک ! نہ ہمارے عذاب میں کمی واقعی ہوتی ہے نہ کبھی وقفہ پڑتا ہے تو اپنے پروردگار سے کہہ کہ ہمیں ایک ہی دفعہ مار ڈالے۔ اور یہ عذاب کا قصہ ختم ہو۔ مالک کہے گا۔ تمہارے جرائم کی سزا کے لیے بہت طویل مدت درکار ہے۔ لہذا مرجانے کا تصور ذہن سے نکال دو ۔ تمہیں زندہ رکھ کر ہی سزا دی جاسکتی ہے۔ لہذا تمہیں یہیں رہنا ہوگا اور زندہ ہی رکھا جائے گا۔
Ayah 43:7873 یہ کلام دوزخ کے فرشتہ مالک کا بھی ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا نائب ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہو۔ اور خود اللہ تعالیٰ کا بھی۔ یعنی ایسی سخت سزا تمہیں اس لیے دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی سچی باتیں تم سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے تمہاری اسی اکڑ کا یہ علاج کیا جارہا ہے۔
Ayah 43:7974 کفار مکہ کا اقدام یہ تھا کہ اسلام کی دعوت کو کبھی پروان نہ چڑھنے دیں گے۔ اس دعوت کو روکنے کے لیے کبھی وہ قرآن اونچی آواز سے پڑھنے پر مسلمانوں پر پابندی لگاتے اور کبھی اپنے آپ پر اور کہتے کہ یہ ہماری ہی غفلت اور سستی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کی دعوت پھیلتی جارہی ہے۔ کبھی باہر سے مکہ آنے والوں سے ملاقاتیں کرتے اور کہتے اس شخص کے قریب نہ جانا جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے کیونکہ یہ رشتہ داروں میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔ اور کبھی پیغمبر اسلام کو مار ڈالنے کی تدبیریں کرتے غرض اس جملہ میں کفار مکہ کی سب معاندانہ سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ اور جو بھی تدبیر وہ سوچتے تھے اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی تھی۔ تاآنکہ ان کی سب تدبیریں ناکام ہوگئیں۔ ان کے سینے جلتے رہے اور اسلام غالب ہوتا چلا گیا۔
Ayah 43:8075 ان کی خفیہ تدبیروں کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ جنہیں وہ اپنی خفیہ تدبیریں سمجھتے تھے وہ خفیہ نہیں ہوتی تھیں۔ ہم ان کے سب خفیہ مشورے، ان کی باہمی گفتگو ان کی سازشیں سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے فرشتے یہ سب کچھ ریکارڈ بھی کرتے جاتے ہیں۔ جو قیامت کے دن ہم ان کے سامنے لا رکھیں گے۔