Ayahs 42:1–31 نام لئے بغیر مابہ النزاع مسائل کے جوابات :۔ مکی دور میں حق و باطل کے درمیان اختلافی مسئلے بنیادی طور پر دو ہی تھے۔ ایک یہ کہ مشرکوں کے بتوں کا کائنات میں کچھ تصرف ہے یا نہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ کیا انسان کا مر کر جی اٹھنا پھر اپنے پروردگار کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا درست ہے یا نہیں ؟ یہی دو مسائل تھے جن کا اکثر مجلسوں اور نجی گفتگو میں ہر وقت چرچا رہتا تھا۔ پھر ان میں ایک تیسرا مسئلہ از خود شامل ہوجاتا تھا کہ آیا محمد فی الواقع اللہ کا رسول ہے یا نہیں ؟ جو کچھ وہ کلام پیش کرتا ہے۔ فی الواقع اللہ کا کلام ہے ؟ اور قرآن کا انداز خطاب یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں تمہید کے طور پر کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیے بغیر انہیں سوالوں میں سے کسی سوال کے جواب سے اس سورة کا افتتاح کرتا ہے۔ اس سورة کی تیسری آیت میں دراصل ان تینوں اعتراضات کا اجمالی جواب پیش کردیا گیا ہے۔ جو یہ ہے کہ جو کچھ توحید اور معاد کے متعلق اس قرآن میں مذکور ہے۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ پہلے تمام انبیاء کو بھی یہی باتیں وحی کی جاتی رہی ہیں۔ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن فی الواقع اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور اس کی آیات حکمت سے لبریز ہیں کیونکہ وہ خود حکیم ہے۔ علاوہ ازیں وہ سب پر غالب اور زبردست بھی ہے۔ وہ مخالفین کی مخالفت کے باوجود اپنے کلمہ کا بول بالا کرنے کی قوت اور قدرت بھی رکھتا ہے۔
Ayah 42:42 مملوک الٰہ نہیں ہوسکتا :۔ اس آیت میں بتوں یا ماسوا اللہ کی خدائی کا عقلی دلیل سے رد پیش کیا گیا ہے کہ خالق ارض و سماء تو اللہ کی ذات ہے۔ وہ ان سب چیزوں کا مالک اور وہ چیزیں اس کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس تمام کائنات سے بلند تر اور بزرگ تر ہے۔ پھر بھلا اس کی مخلوق کو، اس کی مملوکہ چیز کو اس کے مقابلہ میں حقیر ترین مخلوق کو اس کا شریک کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ اور اس کے اختیارات و تصرفات میں ان چیزوں کو کیسے حصہ دار سمجھا جاسکتا ہے ؟
Ayah 42:53 اگر کوئی اور الٰہ ہوتا تو آسمان پھٹ پڑتا اور نظام تباہ ہوجاتا : مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس طرح وہ اللہ کی دوہری توہین کے مرتکب ہوتے تھے ایک اولاد قرار دینا یا نسبی رشتہ قائم کرنا اور دوسرے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں تجویز کرنا۔ اور بیٹا مملوک نہیں بلکہ ہمسر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کائنات کا خالق اگر ایک کی بجائے دو بھی ہوتے تو یہ نظام کائنات درہم برہم ہوجاتا پھر ان لوگوں نے تو اللہ کے کئی نسبی رشتہ دار بنا ڈالے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق تو آسمانوں کو کب کا پھٹ پڑنا چاہئے تھا۔ لیکن تدبیر امور کائنات پر مامور فرشتے ایسی باتوں سے اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے اور اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں۔ پھر وہ اہل زمین کے ایسے گندے خیالات پر ان کے لیے بخشش کی دعا بھی کرتے رہتے ہیں۔ پھر اللہ ان کی دعا قبول کرتا اور ایسے مجرموں سے درگزر کئے جاتا ہے۔ ورنہ ان کے اعمال تو ایسے ہیں کہ ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا کر انہیں فوراً ہلاک کردیا جاتا۔
Ayah 42:64 ولی کے مختلف مفہوم :۔ ولی کا لفظ بہت جامع ہے اور بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً کارساز دوست، حمایتی، مددگار اور سرپرست سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اور اس کا عام مفہوم وہ شخص ہے جو کسی کی موت، مصیبت اور سخت پریشانی کے وقت اس کی مدد کو پہنچے یا اس کی وراثت کا اولین حقدار ہو۔ اور یہ باپ اور بیٹے کے علاوہ کوئی اور شخص بھی ہوسکتا ہے جب کہ مشرکین اپنے بتوں اور معبودوں کو ایسا سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہر مصیبت میں ان کے کام آتے اور ان کی حاجات کو پورا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نیز قیامت کے دن ہم ان کی سفارش سے اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ ایسے مشرکوں کو مہلت تو دیتا ہے مگر یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ بچے رہیں گے۔ یہ سب لوگ اللہ کی نظر میں ہیں۔ لہذا آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ مانتے کیوں نہیں یا نہ ماننے کی صورت میں تباہ کیوں نہیں کردیئے جاتے۔ یہ باتیں آپ کے ذمہ نہیں۔ وقت آنے پر اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔
Ayah 42:75 قرآن ساری دنیا کی ہدایت کے لئے :۔ اُمُّ الْقُرَیٰ سے مراد مرکزی بستی یا بڑا شہر اور اس سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ جہاں اللہ کا گھر موجود ہے۔ اور تمام دنیا کے لوگوں کے جمع ہونے کے لیے مرکز بنادیا گیا ہے۔ اور اس کے گرد سے مراد صرف آس پاس کے علاقے یا ملک نہیں بلکہ پوری روئے زمین ہی مراد ہے۔ کیونکہ یہ پوری روئے زمین کا مرکز بنایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں چند بنیادی باتوں کا نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ قرآن اہل عرب کی اپنی ہی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ تاکہ اس کے سمجھنے سمجھانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے اور لوگ مخصوص قسم کے علماء کے محتاج ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ تمام اہل عرب اس سے براہ راست استفادہ کرسکیں، دوسری یہ کہ آپ کی دعوت صرف اہل مکہ کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے ہے اور تیسری یہ کہ آپ کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آپ دنیا بھر کے لوگوں کو قیامت کے دن واقع ہونے والے واقعات اور ان کے اعمال کی جزا وسزا سے پوری طرح خبردار کردیں۔
6 یعنی جتنے بھی انسان اور جنّ پیدا ہوئے ہیں ان سب کو اس دن اکٹھا کرلیا جائے گا۔ دنیا میں تو کئی مذاہب ہیں پھر ہر مذہب کے بیسیوں فرقے ہیں۔ مگر اس دن ساری مخلوق صرف دو گروہوں میں تقسیم ہوگی۔ ایک اہل جنت، دوسرے اہل دوزخ۔ ایک تیسرے فریق اعراف والوں کا ذکر بھی سورة اعراف میں آیا ہے لیکن وہ فریق کوئی مستقل فریق نہ ہوگا بلکہ جلد یا بدیر اہل جنت سے مل جائے گا۔
Ayah 42:87 انسان کو اختیار دینے کا نتیجہ اختلاف اور گروہ بندی :۔ اس کی بڑی آسان صورت یہ تھی کہ اللہ انسانوں کو قوت ارادہ و اختیار نہ بخشتا۔ پھر جس طرح کائنات کی باقی سب چیزیں اللہ کی مطیع فرمان ہیں اور ان کی یہ اطاعت اضطراری ہے انسان بھی اسی طرح اللہ کا مطیع فرمان ہوتا۔ اور اختلاف یا فرقوں میں بٹنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مگر اللہ کی مشیئت تو یہ تھی کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جس کو اختیار دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کون اپنے اختیار سے اس کی اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ اور یہ اختیار ہی وہ چیز ہے جو اختلاف کا سبب بنتا ہے۔ پھر جو لوگ اپنے اختیار سے اللہ کے فرمانبردار بن جاتے ہیں۔ اللہ انہیں رحمت میں داخل کرلیتا ہے۔ دنیا میں بھی مہربان اور آخرت میں بھی۔ لیکن جو نافرمانی اختیار کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ دنیا کی زندگی میں ان کا محاسبہ کیا جائے۔ بلکہ آخرت میں ان کا ضرور محاسبہ کیا جائے گا۔ پھر اس دن ان کا کوئی ایسا سرپرست یا مددگار نہ ہوگا جو انہیں ان کے اعمال کی سزا سے بچا سکے۔
Ayah 42:98 آستانوں کے کارساز اصل میں مریدان باصفا ہی ہوتے ہیں :۔ آپ کسی کافر کے یا مشرک کے بت خانے یا آستانے پر تشریف لے جائیے اور دیکھئے کہ کارساز یا کام بنانے والے کون ہیں ؟ کارساز تو وہ ہیں جو نذرانے دیتے اور نیازیں چڑھاتے ہیں انہیں کارسازوں یا مریدوں کے ذریعہ تو آستانوں کا کاروبار چمکتا ہے۔ اور آستانوں کے مجاوروں اور خادموں کی چاندی بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں تو عبادت گزار مریدان باصفا ہی ان کے کارساز ہوتے ہیں۔ رہی آخرت کی بات جس کی وجہ سے یہ ان کے کارساز بنے ہوئے ہیں تو یہ بات آج نہیں آخرت کو انہیں ٹھیک طرح معلوم ہوجائے گی۔ کہ یہ اولیاء بھی انہی کی طرح عاجز مخلوق اور اللہ کے دربار میں بالکل بےبس ہیں۔ کارساز تو وہ ہوسکتا ہے جو تصرف کے وسیع اختیارات رکھتا ہو اور وہ اللہ کی ذات ہی ہوسکتی ہے جو مردوں تک کو زندہ کرسکتی ہے اور ہر آن کرتی رہتی ہے۔ لہذا اگر کارساز بنانا ہے تو ایسی ذات کو بناؤ جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ تمہارے کام بھی آسکے۔
Ayah 42:109 اختلافات کا فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے ؟:۔ اصل دین چونکہ اللہ نے ہی بذریعہ وحی اپنے رسول اور بندوں کی طرف بھیجا تھا لہذا اگر بندے اس دین میں اختلاف کریں تو ان میں فیصلہ کا حق بھی اللہ ہی کو ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میں نے جو دین بھیجا تھا وہ تو یہ تھا اور تم نے فلاں فلاں مقام پر غلط تاویلات کرکے باہم اختلاف کرلیا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت نبی ایمان لانے والوں کو ایک امت بناتا ہے۔ بعد میں لوگ اس میں اختلاف پیدا کرکے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ پھر جو بعد میں نبی آتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر وحی کرکے لوگوں کو اصل دین سے مطلع کردیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردیتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اختلافات کا جو فیصلہ فرمائے گا وہ کھلی عدالت میں فرمائے گا۔ اختلاف کرنے والے لوگوں کی باقاعدہ پیشی ہوگی۔ پھر ان پر شہادتیں قائم ہوں گی اور انہیں بتایا جائے گا کہ اصل دین کیا تھا اور تم نے کیا کچھ حیلے اور مکاریاں کرکے اصل دین کا حلیہ بگاڑا تھا۔ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا تھا۔
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام اختلافی مسائل میں اللہ کے کلام یعنی قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ پھر چونکہ قرآن رسول کی اطاعت کو واجب اور اپنی ہی اطاعت قرار دیتا ہے۔ لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ تفرقہ بازی اور اختلافات سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان کتاب و سنت کے سامنے کھلے دل سے سر تسلیم خم کردے اور اس مطلب کی تائید سورة نساء کی آیت نمبر 59 اور 64 سے بھی ہوجاتی ہے۔
10 یعنی میں ہمیشہ کے لیے اللہ پر توکل کرنے کا فیصلہ کرچکا ہوں۔ پھر جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 42:1111 میرے اللہ پر توکل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت بڑی قوت اور قدرت کا مالک ہے جس نے اس پوری کائنات کو وجود بخشا ہے اور اس زمین کو اس نے بڑے محیرالعقول طریقوں سے انسانوں اور دوسرے جانوروں کے جوڑے بنا کر اور ان سے نسلیں پھیلا کر اس زمین کو آباد کر رکھا ہے۔
12 اللہ پر توکل کیوں کرنا چاہئے ؟ اس کی مختلف وجوہ :۔ یہ اللہ پر توکل کرنے کی دوسری وجہ ہے۔ یعنی وہ ایسی ذات ہے جس کے مثل کائنات کی کوئی چیز نہیں۔ (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَئیٌ) کا لفظی معنی یہ بنتا ہے کہ کوئی چیز اس کے مثل کی مانند نہیں اور اس انداز بیان میں مزید مبالغہ پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مثلاً اس کے ہاتھ تو ہیں۔ مگر ایسے نہیں جیسے ہمارے ہیں یا کسی دوسرے جاندار کے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہیں جو مخلوق کو روزی پہنچانے کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ ہماری طرح نہیں اور نہ ہی ہماری طرح اس کا جسم ہے۔ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ جبکہ انسان بھی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ اس میں فرق یہ ہے کہ انسان ایک وقت میں صرف ایک کی بات سن سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں اپنی ساری مخلوق کی بھی پکار اور دعائیں سنتا ہے۔ یہی صورت اس کے دیکھنے کی ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے یہ سمجھنا ہماری بساط سے باہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی ذات ہی بھروسہ کے قابل ہوسکتی ہے جو ہر وقت ہر ایک کی پکار اور فریاد سن سکتی ہو اور وہ ہر چیز کو بچشم خود دیکھ بھی رہی ہو۔
Ayah 42:1213 یہ اللہ پر توکل کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ آسمان و زمین کے تمام تر خزانوں کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ ایسا داتا ہے جو ہر آن اپنی مخلوق پر بےانداز خرچ کرتا ہے اور رزق مہیا کر رہا ہے۔ البتہ بعض مصلحتوں کے پیش نظر اس نے رزق کی تقسیم تمام لوگوں میں یکساں نہیں رکھی۔ اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے اس تفاوت کی وجہ سے ہی دنیا کا یہ نظام چل رہا ہے۔ اور سب لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ اب اگر وہ کسی کو زیادہ رزق دیتا ہے یا کسی کو کم دیتا ہے تو یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ جسے وہ خود ہی سب سے زیادہ جانتا ہے۔
Ayah 42:1314 دین اور شریعت میں فرق اور متبدل احکام کی مثالیں :۔ اس آیت میں ایک شرع کا لفظ آیا ہے اور شریعت کا لفظ اسی سے مشتق ہے۔ اور دوسرا دین کا۔ اور ( مِنَ الدِّیْنِ ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بھی دین کا حصہ ہی ہوتی ہے۔ اس فرق کو ہم یہاں ذرا وضاحت سے پیش کرتے ہیں :
دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مختصراً یہ چار معانی میں استعمال ہوتا ہے (1) اللہ کی کامل اور مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت، (2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی، (3) قانون جزا و سزا یا تعزیرات ملکی، (4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت، پھر یہ لفظ کبھی ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ایک سے زیادہ معنوں میں۔ اب دین کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو کچھ باتوں کا حکم دے، کچھ کاموں سے منع کرے اور جو شخص ان احکام کے مطابق عمل کرے انہیں اچھا بدلہ دے اور جو حکم عدولی کرے اسے سزا بھی دے۔ چناچہ ایسے احکام جو سیدنا آدم سے لے کر سیدنا محمد پر غیر متبدل رہے ہیں یہی اصل دین ہے مثلاً شرک کی حرمت، آخرت اور اس کا محاسبہ، نماز اور زکٰوۃ کی ادائیگی کا حکم، قتل ناحق، چوری، زنا اور فواحش سے اجتناب وغیرہ۔
اور شرع کا لغوی معنی واضح راستہ متعین کرنا ہے۔ (مفردات القرآن) اور شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو زمانہ کی ضرورتوں اور احوال و ظروف کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً سیدنا آدم کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا اور یہ ایک اضطراری امر تھا۔ جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دیا گیا۔ سیدنا یعقوب کی زوجیت میں دو حقیقی بہنیں تھیں جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دی گئیں۔ اسی طرح اس دور میں سجدہ تعظیمی جائز تھا۔ جو بعد میں حرام کردیا گیا۔ سابقہ شریعتوں میں اموال غنیمت سے استفادہ ناجائز تھا جو امت مسلمہ کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ سابقہ شریعتوں میں نمازوں کی تعداد اور ان کی ادائیگی کا طریقہ، زکٰوۃ کی شرح اور روزوں کی تعداد ہماری موجودہ شریعت سے بالکل مختلف تھی۔ غرضیکہ ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں۔ دین اور شریعت کے اس فرق کو خود رسول اللہ نے ان الفاظ میں واضح فرمایا کہ : تمام انبیاء علاتی (سوتیلے) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں (شریعتیں) تو الگ الگ ہیں مگر ان کا باپ (دین) ایک ہی ہے (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب واذکر فی الکتاب مریم۔۔ ) گویا اصول اور بنیادی احکام کا نام دین ہے اور دین کا یہ حصہ غیر متبدل ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں ان اصول احکام کی جزئیات میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔ اسی متبدل حصہ کا نام شریعت ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے اور خوب ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ صاحب شریعت نبی کی شریعت اگرچہ مختلف رہی ہے مگر وہ اس مخصوص نبی کے دین کا حصہ ہی ہوتی ہے اور دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ چونکہ آخری نبی ہیں۔ لہذا آپ کو جو شریعت ملی ہے وہ بھی اب غیر متبدل ہے اور زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا حل اب پوری شریعت اسلامیہ سے بذریعہ اجتہاد معلوم کیا جائے گا۔
15 اس آیت میں پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر ہوا ہے۔ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی نوح علیہ اسلام تھے پہلے ان کا ذکر ہوا اور سب سے آخری محمد رسول اللہ تھے پھر ان کا ذکر ہوا پھر اس درمیانی عرصہ کے تین صاحب شریعت انبیاء سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا اور بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح ہم نے سابقہ انبیاء کے لیے دین کے ساتھ شریعت بھی وضاحت کے ساتھ وحی کردی تھی۔ اسی طرح آپ کے لیے ایسے ہی طریقہ پر وحی کی جارہی ہے۔ یعنی دین کا غیر متبدل حصہ بھی اور متبدل حصہ یا شریعت بھی۔ پھر بعض دفعہ دین کے صرف غیر متبدل حصہ پر بھی لفظ دین کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہے۔
16 یعنی سب انبیاء کو دین اور شریعت دے کر یہ تاکید کی گئی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو، قائم رکھنے سے مراد ہے کہ پہلے اس کے احکام خود بجا لاؤ۔ پھر ایمان لانے والوں میں ان احکام کو نافذ کرو۔ اور دین کے جو غیر متبدل اصول ہیں۔ یعنی توحید اور معاد وغیرہ جو اوپر مذکور ہوئے ان میں اختلاف نہ ڈالو۔ اس جملہ کے مخاطب اگرچہ بظاہر انبیاء معلوم ہوتے ہیں تاہم اس کے مخاطب ان انبیاء کے متبعین ہیں اور یہ انداز تاکید مزید کے لیے ہے کیونکہ انبیاء کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ سابقہ اختلاف کو ختم کریں چہ جائیکہ نئے اختلافات ڈالیں۔
17 یعنی وہی توحید اور روز آخرت کا محاسبہ جو تمام سابقہ انبیاء کے دین کا غیر متبدل حصہ رہا ہے اور جس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہوسکتی تھی۔ اسی بات کی جب ان مشرکین مکہ کو دعوت دی جاتی ہے تو ان پر گراں گزرتی ہے۔ سیدنا آدم اور سیدنا نوح سے لے کر آج تک جو چیز معقول اور سب انبیاء کی متفق علیہ تعلیم تھی وہی انہیں بھاری معلوم ہونے لگی۔ اور اسی بنیادی تعلیم سے ہی اختلاف کرکے یہ اس کے مخالف بن گئے ہیں گویا ان کی جہالت اور بدبختی کی حد ہوچکی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سادہ اور صاف ستھری تعلیم سے استفادہ وہی شخص کرسکتا ہے جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ جس قدر زیادہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہوگا اتنا ہی زیادہ اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہوگا۔
Ayah 42:1418 فرقہ بازی کے اسباب :۔ لوگوں میں اختلاف اور تفرقہ بازی اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ اللہ کی کتاب میں کوئی بات مبہم اور مختلف فیہ ہوتی ہے۔ جس کی لوگوں کو پوری طرح سمجھ نہیں آتی بلکہ اس کی اصل وجہ اپنا اپنا جھنڈا بلند کرنے کی خواہش، باہمی ضد، اپنی نرالی اپچ دکھانے کی خواہش، ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش یا مال و جاہ کی طلب ہوتی ہے۔ یہی وہ اسباب تھے جو نئے نئے عقائد اور فلسفے، نئے نئے طرز عبادت اور مذہبی مراسم اور نئے نئے نظام حیات ایجاد کرنے کا محرک بنے اور خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو دین کی سیدھی اور کشادہ راہ سے ہٹا کر مختلف راہوں میں پراگندہ کردیا اور امت کے ٹکڑے کر ڈالے۔
19 پہلے سے طے شدہ بات یہ ہے کہ انسان کو اختیار دے کر اس دنیا میں اس کا امتحان کیا جائے۔ اور اگر ایسی کرتوتوں کے بدلہ میں ان پر فوراً عذاب نازل کردیا جائے تو امتحان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ لہذا انہیں مہلت دی جاتی ہے۔ اور اس امتحان کا آخری وقت ان کی موت ہے۔
20 پہلی الہامی کتابیں مشکوک کیسے ہوئیں ؟ ان وارثوں کے اپنی الہامی کتابوں کے بارے میں شک میں پڑنے کی کئی وجوہ تھیں جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کی اصل زبان اور اصل عبارت کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں تک نہ پہنچایا گیا۔ اور صرف تراجم سے کام لیا جانے لگا۔ اور ان تراجم کو ہی الہامی کتاب سمجھا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بزرگوں کے اقوال اور الحاقی مضامین ان میں شامل کردیئے گئے۔ حتیٰ کہ ان دونوں قسم کی عبارتوں میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا اور تیسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تاریخی سند بھی ضائع کردی گئی۔ ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے علماء خود اس کتاب سے شک میں پڑگئے کہ اس کا کون سا حصہ درست اور الہامی ہے اور کون سی عبارت بزرگوں کے اقوال وغیرہ ہیں۔ اور کسی بات کا صحیح فیصلہ کرنے میں یہی شک و شبہ انہیں اضطراب میں ڈالے رکھتا تھا۔
Ayah 42:1521 یعنی آپ پر اب جو وحی کی جارہی ہے یہ بالکل پاک صاف اور ستھرا دین ہے جو ہر قسم کی آمیزشوں اور آلائشوں سے مبرا ہے۔ لہذا آپ اہل کتاب کی سب باتوں سے بےنیاز ہو کر اسی دین پر ڈٹ جائیے اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل اور کمی بیشی گوارا نہ کیجئے۔ نہ ان لوگوں سے کسی قسم کا کوئی مذاکرہ یا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ان کے عزائم خطرناک ہیں۔ ایسے لوگوں کو دو ٹوک فیصلہ سنا دیجئے کہ میں تو صرف وہی بات تسلیم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر نازل کی ہے۔
22 یعنی تمہارے فرقوں میں سے کسی کا جانبدار نہ بنوں بلکہ انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے صرف حق بات کہوں اور حق کا ہی ساتھ دوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں اس دنیا میں عدل قائم کرنے پر مامور ہوں اور اگر تمہارا کوئی جھگڑا میرے پاس آئے تو محھے یہی حکم ہے کہ میں انصاف کے ساتھ اس کا فیصلہ کروں۔
23 یعنی تمہارے اعمال کے نہ ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ہمیں ان کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر برے کام کرو گے تو اس کی سزا ہم نہیں بلکہ تم ہی بھگتو گے اور اگر اچھے کام کرو گے تو اس کا اجر بھی تمہیں ہی ملے گا۔ ہمیں نہیں مل جائے گا۔ یہی صورت حال ہمارے اعمال کی ہے۔ ہمارے برے اعمال کے جواب دہ تم نہیں ہوگے۔ نہ ہی ہمارے اچھے اعمال کے تم مستحق بن سکتے ہو۔
24 کج بحثی سے اجتناب کا حکم :۔ یعنی جہاں تک معقول دلائل پیش کرنے کا تعلق تھا وہ ہم کرچکے۔ اور اگر تم کج بحثی کرنا چاہو تو اس کے لیے ہم تیار نہیں۔ ہمارا تمہارا اختلاف اور جھگڑا اللہ کے سپرد۔ قیامت کے دن وہ ہمیں اور تمہیں سب کو جمع کرے گا۔ وہاں اللہ تعالیٰ خود ہی انصاف کے ساتھ سب جھگڑوں کا فیصلہ کر دے گا۔
Ayah 42:1625 دحض کا لغوی مفہوم :۔ اس آیت میں حُجَّۃٌ کے بجائے دَاحِضَۃٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دحض کے مفہوم میں تین باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) پھسلنا، (2) کمزور ہونا اور (3) زائل ہوجانا، اور یہ دحض الرجل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ پاؤں نے ٹھوکر کھائی اور اپنی جگہ سے پھسل گیا اور داحِضَۃٌ کے معنی میں ایسی دلیل ہے جو حق کے مقابلہ میں اپنے پاؤں پر قائم نہ رہ سکے، پھسل کر کمزور اور زائل ہوجائے، یعنی زائل ہوجانے والی اور بودی دلیل۔
مکہ میں اگر کوئی شخص مسلمان ہوجاتا تو اس کے مشرک دوست اور لواحقین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے اور اس سے بحثیں اور لڑائی جھگڑے کر کر کے اسے زچ کردیتے اور اس بات پر مجبور کردیتے کہ وہ پھر سے اسلام چھوڑ کر ان کے آبائی دین میں شامل ہوجائے۔ یہ تو انفرادی صورت تھی اور اجتماعی صورت یہ تھی کہ کفار کی مخالفت اور اذیت کے باوجود بھی اسلام پھیل رہا تھا اور مسلمانوں کی تعداد میں دم بدم اضافہ ہو رہا تھا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافر متحد ہو کر میدان میں اتر آئے تھے اور اس دعوت کو روکنے کے لیے کبھی دھمکی، کبھی لالچ، کبھی سمجھوتہ اور کبھی مکمل بائیکاٹ اور کبھی مذاق و استہزاء اور کبھی فضول قسم کے اعتراضات اور بحثوں کے راستے کھولے جارہے تھے۔ اس صورت حال کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب سنجیدہ اور عقل مند طبقہ اسلام کے دلائل سے متاثر ہو کر اس کی حقانیت پر ایمان لاچکا ہے اور اللہ کی توحید کو علی وجہ البصیرت تسلیم کیا جاچکا ہے تو اب کافروں کے یہ جھگڑے عبث اور بےکار ہیں۔ یہ جو کچھ بھی چاہیں کرلیں اللہ ان کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہ ہونے دے گا اور حق سربلند ہو کے رہے گا۔ البتہ حق کو دبانے کے لیے جتنا زور یہ صرف کر رہے ہیں اتنا ہی اللہ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے اور اتنی ہی شدید سزا انہیں دی جائے گی۔
Ayah 42:1726 اللہ کے میزان اتارنے کے مختلف مفہوم :۔ یعنی اللہ نے صرف حق ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ حق معلوم کرنے کا معیار بھی نازل فرمایا اور یہ معیار میزان ہے۔ اللہ نے مادی میزان یا ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں۔ عقل سلیم سرسری نظر میں ہی معلوم کرلیتی ہے کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف یا کسی چیز میں حق کا کتنا حصہ ہے اور باطل کا کتنا ؟ علاوہ ازیں اخلاقی ترازو بھی ہے یعنی عدل و انصاف کی ترازو۔ اور سب سے بڑی ترازو کتاب و سنت ہے۔ جو خالق و مخلوق کے حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتی ہے جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔
27 یعنی شریعت کے ترازو میں رکھ کر اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کرلو۔ کیا معلوم کہ قیامت کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ پھر کچھ نہ ہوسکے گا۔ لہذا اچھے اعمال بجا لانے میں جلدی کرلو۔
Ayah 42:1828 یعنی جو لوگ عذاب آخرت اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور بار بار پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ روز آخرت اور اعمال کی باز پرس پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے۔ اور جو لوگ روز آخرت پر اور اعمال کی جواب دہی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ تو اپنے محاسبہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور یقین نہ رکھنے والوں کو چونکہ اپنے اعمال کے محاسبہ کا کچھ خوف نہیں ہوتا اس لیے وہ گناہ کے کاموں پر دلیر ہوتے ہیں اور حق اور عدل و انصاف کی راہ سے ہٹ کر اپنی سرکشی اور گمراہی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
Ayah 42:1929 لطیف کا مفہوم :۔ لطیف کا معنی عموماً مہربان کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا معنی اردو میں کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس کے مادہ لطف کے بنیادی معنی میں دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) دقّت نظر، (2) نرمی، (مقاییس اللغہ) اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی دقت نظر یا باریک بینی یا راز یا چھوٹی چھوٹی جزئیات تک سے آگاہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے ( لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ 103۔ ) 6 ۔ الانعام :103) میں ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے اس مقام پر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی اور رتی رتی تکالیف کا علم اور اس کی خبر بھی رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی ان کا ازالہ بھی کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی حاجات اور ضروریات کا خیال رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی انہیں پورا بھی کرتا رہتا ہے۔
30 یعنی اللہ تعالیٰ کا لطف تو عام ہے جو بندوں کو یکساں پہنچ رہا ہے۔ لیکن رزق میں معاملہ اس سے الگ ہے۔ وہ ہر ایک کو یکساں نہیں ملتا۔ بلکہ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی کو زیادہ دے دیتا ہے اور کسی کو کم یہ اس کی مشیئت پر منحصر ہے۔ البتہ ہر ایک کو دیتا ضرور ہے۔ جتنا رزق اس نے کسی کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ کوئی طاقت یا کوئی ہستی اس کی مقدار کو نہ بڑھا سکتی ہے اور نہ اس کا رزق کم کرسکتی یا روک سکتی ہے۔ کیونکہ وہ خود سب سے بڑھ کر طاقتور اور زبردست ہے۔
Ayah 42:2031 ایک دنیا دار اور دیندار کے انجام کا موازنہ :۔ اس آیت میں دو آدمیوں کے طرز زندگی کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ جن میں سے ایک تو روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور دوسرا اس سے منکر ہے اور سب کچھ اسی دنیا کو ہی سمجھتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص جو کام بھی کرے گا آخرت کے لیے کرے گا اور آخرت کے مفاد کو دنیا کے مفاد پر ترجیح دے گا۔
ایسا شخص جو کچھ بھی اس دنیا کی کھیتی میں آخرت کے دن پھل کاٹنے کے لیے بوئے گا اللہ تعالیٰ اس میں بہت زیادہ اضافہ کر دے گا۔ جیسا کہ اس دنیا میں غلہ کا ایک دانہ بیجنے سے بعض دفعہ سات سو سے بھی زیادہ دانے حاصل ہوجاتے ہیں۔ یہ تو اس کی آخرت کا معاملہ تھا۔ اور دنیا میں جتنا رزق یا جتنی بھلائی اس کے مقدر میں ہے وہ بھی اسے مل کے رہے گی۔ اس کے مقابلہ میں جو شخص روزآخرت کا منکر ہے اور بس دنیا ہی دنیا کا مال اور بھلائی چاہتا ہے۔ وہ خواہ کتنی ہی کوشش کر دیکھے اسے اتنی ہی دنیا میں ملے گی جتنی اس کے مقدر میں ہے اس سے زیادہ نہیں۔ رہا اس کی آخرت کا معاملہ تو اگر اس نے دنیا میں کچھ نیک کام کئے بھی ہوں گے تو ان کا اسے کچھ بدلہ نہ ملے گا کیونکہ وہ کام اس نے اس نیت سے کیے ہی نہیں تھے کہ ان کا آخرت میں اسے کچھ بدلہ ملے، نہ ہی اس کا آخرت پر کچھ یقین تھا۔
Ayah 42:2132 اللہ کے مقابلہ میں کن کن لوگوں کا حکم چلتا ہے ؟:۔ ظاہر ہے کہ یہاں شریک سے مراد پتھر کے بت نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ نہ سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں وہ کسی کو کوئی قانون یا ضابطہ کیا دیں گے ؟ لامحالہ اس سے مراد، انسان یا انسانوں کی جماعت ہی ہوسکتی ہے۔ جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو۔ حرام و حلال کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں یا لوگوں کے لیے وہ ضابطہ حیات، فلسفے یا نظام پیش کرتے ہوں جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہوں اور پھر انہیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ اور ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوسکتے ہیں۔ خود سر حکمران بھی، آستانوں اور مزاروں کے متولی اور مجاور بھی اور گمراہ قسم کے فلاسفر اور مصنف بھی۔ انہیں ہی طاغوت کہا جاتا ہے۔
33 یعنی اللہ ایسے باغیوں کے بارے میں عفو و درگزر سے کام لیے جاتا ہے اور انہیں فوراً تباہ نہیں کردیتا۔ جس کی وجہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو دیئے ہوئے اختیار کو اضطرار میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ہر انسان کو اختیار دے کر ہی اس دنیا میں آزمانا چاہتا ہے۔ البتہ جب یہ اختیار کا عرصہ ختم ہوجائے گا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو پھر ایسے ظالموں کو ان کی ساری کرتوتوں کی دردناک سزا دی جائے گی۔
Ayahs 42:22–2334 الا المودّۃ فی القربیٰ کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے :
سیدنا ابن عباس ؓ سے کسی نے پوچھا کہ (اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى 23) 42 ۔ الشوری :23) کا کیا مطلب ہے ؟ سعید بن جبیر نے (جھٹ) کہہ دیا کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔ ابن عباس ؓ کہنے لگے : تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے) تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔ (اور مجھے ایذائیں دینا چھوڑ دو ) (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اس کی دوسری تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں قُرْبٰی سے مراد قرب یا تقرب ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس کام پر اس بات کے سوا کوئی اجر نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ کے قرب کی محبت پیدا ہوجائے۔ یعنی تم ٹھیک ہوجاؤ اور اللہ سے محبت کرنے لگو۔ بس یہی میرا اجر ہے۔
تیسرا گروہ اس آیت میں قُرْبٰی سے مراد اقارب لیتا ہے۔ پھر ایک فریق تو اس محبت کو بنی عبدالمطلب سے محبت مراد لیتا ہے۔ اور دوسرا سیدنا فاطمۃ الزھرا ؓ سیدنا علی اور ان کی اولاد سے۔ یہ تفسیر درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔
خ مودّۃ فی القربیٰ سے شیعہ حضرات کا استدلال اور اس کا جواب :۔ 1ـ۔ آپ کی والدہ اور آپ کی زوجہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی وجہ سے آپ کی رشتہ داری صرف بنو عبدالمطلب سے ہی نہیں تھی۔ بلکہ تقریباً قریش کے سب قبیلوں سے تھی اور بنی عبدالمطلب میں سے کچھ لوگ آپ کے حق میں تھے اور کچھ سخت دشمن بھی تھے۔ اور ابو لہب کی آپ سے دشمنی تو سب ہی جانتے ہیں۔ یہی حال قریش کے باقی قبیلوں کا تھا۔ لہذا اس تخصیص کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
2۔ قُرْبٰی سے مراد سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی ؓ اور ان کی اولاد لینا اس لحاظ سے غلط ہے کہ یہ سورة مکی ہے۔ اور سیدہ فاطمہ ؓ کا نکاح ہی مدینہ جانے کے بعد ہوا تھا۔
3۔ اور اس تفسیر کے غلط ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا مطالبہ کرنا کہ میں تم سے اس تبلیغ کے کام کا اس کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو، رسول اللہ کی شان رفیع کے مقابلہ میں یہ مطالبہ انتہائی گھٹیا اور فروتر ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ مطالبہ بھی کافروں سے ہو۔ کافروں سے بھلا اجرت کے مطالبہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اجرت تو اس سے طلب کی جاسکتی ہے جسے وہ کام پسند آئے اور کافر تو اس تبلیغ کے کام کی وجہ سے آپ کی جان کے لاگوبنے ہوئے تھے۔ ان سے بھلا کوئی ایسا مطالبہ کیا جاسکتا تھا ؟
البتہ یہ واضح رہے کہ آپ کے اہل بیت ازواج مطہرات ؓ آپ کی بیٹیوں اور دوسرے تمام اقارب سے محبت رکھنا جن میں سیدہ فاطمہ سیدنا علی اور ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ رسول اللہ کی محبت و تعظیم اور حقوق شناسی کے لحاظ سے اہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور ان سے درجہ بدرجہ محبت رکھنا حقیقت میں آپ سے محبت ہی کا تقاضا ہے۔ اور ایسی محبت کا تقاضا مسلمانوں سے تو کیا جاسکتا ہے، کافروں سے نہیں جبکہ اس آیت میں روئے سخن کافروں سے ہے۔
35 یعنی جو نیک بننا چاہتا ہے اللہ اسے اور زیادہ نیک بنا دیتا ہے۔ اس کے کام میں اگر کچھ کو تاہیاں رہ گئی ہوں تو انہیں معاف کردیتا ہے اور جو کچھ بھی وہ نیک اعمال بجا لاتے ہیں ان کی قدر شناسی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں زیادہ اجر فرماتا ہے۔
Ayah 42:2436 ایک عام آدمی پر بھی ایسا الزام لگانا شدید جرم ہے مگر یہ لوگ اس قدر بےباک ہوگئے ہیں کہ آپ پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ یہ بدبخت آپ کو بھی اپنے ہی جیسا سمجھتے ہیں اور اللہ ایسے ہی بدبختوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتا ہے۔ اور اگر ان کا الزام درست ہوتا تو اللہ آپ کے دل پر بھی مہر لگا دیتا۔ آپ کے دل پر مہر نہ لگنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہی بدبخت جھوٹے اور الزام تراش ہیں۔
37 یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو کبھی پائیداری نصیب نہیں کرتا اور وہ سرنگوں ہو کے رہتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق از خود ثابت اور برقرار ہوجاتا ہے۔ لہذا آپ ان کے اس الزام کی مطلق پروا نہ کریں عنقریب ان کا یہ الزام اور جھوٹ واضح ہوجائے گا اور حق نتھر کر سامنے آجائے گا۔ اللہ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے۔
38 یعنی آپ کو جھٹلانے اور آپ پر اس طرح کے گھناؤنے الزام لگانے کی تہ میں جو ان کے ذاتی مفادات مضمر ہیں اور جن کی وجہ سے یہ ایسے کام کرتے ہیں اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔
Ayah 42:2539 توبہ کی شرائط :۔ یہ خطاب صرف ایمانداروں سے نہیں بلکہ ان کافروں کو بھی شامل ہے جو آپ پر الزام تراشیاں کرتے تھے۔ اس آیت میں انہیں اپنے انہی بداعمالیوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کافروں کی توبہ اسلام لانا ہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقاً چھوڑ دینے کا عہد کرنا ہے۔ توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔ اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑ دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ شراب اس کی صحت تباہ کر رہی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم بھی ہوتا اور آئندہ کے لیے شراب نوشی ترک کر دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس طرح کوئی زانی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور یہ فعل آئندہ اس لیے ترک کردینے کا عہد کرے کہ اب وہ بوڑھا ہوچکا ہے اور زنا کے قابل ہی نہیں رہا۔ تو یہ اس کی توبہ نہ ہوگی۔ اور اللہ کو تو معلوم ہے کہ کوئی کس نیت سے توبہ کر رہا ہے۔
Ayah 42:2640 دعا کی قبولیت کے لئے نیک اعمال کی شرط :۔ دعا کی قبولیت کے لیے نیک اعمال کی شرط لگائی۔ ان نیک اعمال میں کسب حلال بہت بڑا نیک عمل ہے۔ کیونکہ اگر انسان کی کمائی حلال نہ ہوگی تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی جیسا کہ آپ نے فرمایا : ایک شخص دور سے آتا ہے پریشان حال اور پراگندہ بال ہے، اور اگر کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہتا ہے کہ یارب، یارب میری دعا قبول فرما۔ مگر اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے جبکہ اس کا کھانا حرام پیناد حرام اور گوشت پوست بھی حرام کمائی سے بنا ہو (مسلم۔ کتاب الزکٰوۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف)
Ayah 42:2741 رزق کی کمی بیشی میں اللہ کی حکمتیں :۔ پنجابی زبان کی ایک مختصر سی مثال اس آیت کے مفہوم کو پوری طرح واضح کردیتی ہے۔ مثال یہ ہے رج آؤن تے کد آؤن یعنی ایک عام دنیادار انسان کی عادت یہ ہے کہ اگر اللہ اسے خوشحالی سے ہمکنار کرے تو وہ کسی کو بھی حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور سرکشی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ صورت حال سرداران قریش کی تھی جو دیہاتی قبائل عرب کی نسبت خوشحال تھے اور اسی خوشحالی نے ان کے دماغوں کو خراب کر رکھا تھا اور اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ اگر اللہ سارے ہی لوگوں کو وافر رزق عطا کردے تو اس سے اس کے خزانوں میں تو کچھ کمی نہ آئے گی۔ لیکن لوگ دولت کی مستی میں ہر جگہ اودھم مچا دیں گے۔ اور ایک دوسرے کا جینا بھی حرام کردیں گے۔ لہذا اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اپنے اندازے اور اپنی حکمت کے مطابق رزق مہیا کرتا ہے۔ تاکہ لوگ اپنے آپے سے باہر نہ ہوں اور دنیا کا نظام بھی ٹھیک طور پر چلتا رہے۔ امیر کام لینے کے لیے غریبوں کے محتاج رہیں اور غریب امیروں کے۔
Ayah 42:2842 بارش اور مصنوعی آبپاشی کا تقابل :۔ زمین کو سیراب کرنے کا کام اگرچہ مصنوعی طریقوں سے یعنی کنوئیں، چشمے، نہر یا ٹیوب ویل کے پانی سے بھی چلا لیا جاتا ہے مگر ایک تو اس پر محنت اور خرچ بہت اٹھتا ہے دوسرے اس کے خوشگوار اثرات بارش کی نسبت بہت کمتر ہوتے ہیں۔ مصنوعی طریق آبپاشی کو اللہ کی رحمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اللہ کی رحمت بارش ہے اور یہ ایک نہیں بیشمار نعمتوں جیسی نعمت ہے۔ پہلے راحت بخش اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو انسان کو فطری سرور بخشتی ہیں اور اس کی مایوسی کو دور کرتی ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو اس سے موسم میں خوشگوار تغیر آجاتا ہے۔ درختوں پر سے گردوغبار دھل جاتا ہے۔ مصنوعی آبپاشی کی طرح بارش کسی مخصوص قطعہ زمین میں نہیں ہوتی بلکہ وسیع رقبہ میں ہوتی ہے۔ جس سے صرف انسان ہی نہیں اللہ کی ساری مخلوق فیض یاب ہوتی ہے۔ پھر اس پر نہ کچھ لاگت آتی ہے نہ محنت صرف ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں مصنوعی آبپاشی کی صورت میں بھی پانی کے سب ذخیرے بارش ہی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ لہذا دراصل بارش ہی وہ اصل نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی حاجات پوری کرتا ہے۔ اور ولی کا لفظ یہاں یہی معنی دے رہا ہے۔ اور حمید اس لحاظ سے کہ تمام مخلوق اس کی رحمت سے فیض یاب ہو کر اس کے گن گانے لگتی ہے۔
Ayah 42:2943 اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں میں اللہ کی بیشمار مخلوق موجود ہے۔ جن میں فرشتے سرفہرست ہیں اور درمیانی فضا میں بھی۔ اور اگر آسمانوں اور زمین سے مراد پوری کائنات لی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاندار مخلوق صرف زمین پر ہی موجود نہیں بلکہ اور بھی کئی اجرام میں موجود ہے۔ جس کا انسان کو تاحال علم نہیں ہوسکا۔
44 یعنی اگر وہ اپنی مخلوق مثلاً انسان کو تمام روئے زمین پر بکھیر سکتا ہے تو پھر انہیں اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور اکٹھا کرکے اپنے حضور حاضر بھی کرسکتا ہے۔
Ayah 42:3045 مصائب کی قسمیں اور مختلف اسباب :۔ یہاں ایک عام اصول بیان کردیا گیا ہے کہ اکثر عذاب مثلاً قحط، وبائیں، زلزلے اور سیلاب وغیرہ لوگوں کے اپنے ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قحط کا عذاب اہل مکہ پر بھی نازل ہوا تھا۔ جو سات سال تک مسلط رہا۔ بارشیں بھی بند ہوگئیں اور باہر سے غلہ آنا بھی بند ہوگیا تھا۔ اس عرصہ میں لوگوں کا یہ حال ہوگیا کہ جانوروں کے چمڑے اور ہڈیاں کھانے تک مجبور ہوگئے۔ شدت بھوک کی وجہ سے یہ حال ہو رہا تھا کہ آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ اور یہ قحط کفار مکہ پر رسول اللہ کی دعا کی وجہ سے نازل ہوا تھا۔ آخر ابو سفیان نے آپ کے پاس آکر قرابت کا واسطہ دیا اور بارش کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی تو آپ کی دعا سے یہ مصیبت دور ہوئی۔ گویا جب اکثر لوگوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے توہ سب مخلوق کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ انسان کو اکثر بیماریاں غذا میں بد پرہیزی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں اور دودھ پیتے بچوں کو ماں کی بدپرہیزی کی وجہ سے۔ تاہم اس اصول میں بھی چند مستثنیات موجود ہیں۔ مثلاً ایماندار بندوں پر جو تکلیفیں آتی ہیں وہ ان کی شامت اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر ایک کانٹا بھی چبھے تو وہ بھی کسی خطا کا کفارہ بن جاتا ہے۔ پھر مصیبتوں اور تکلیفوں کی ایک قسم وہ ہے جو اللہ کے پیغمبروں اور مخلص بندوں کو حق کے راستے میں پیش آتی ہیں۔ ان کے متعلق گناہوں کے کفارہ کا تصور ہی غلط ہے۔ ان کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ ان بزرگ ہستیوں کے درجات بلند کرتا ہے اور ایسے مصائب سب سے زیادہ اللہ کے نبیوں کو پھر درجہ بدرجہ دوسرے مخلص بندوں کو پیش آتے ہیں۔
46 یعنی اگر اللہ بندوں کے سب برے اعمال کے بدلے ان پر مصائب نازل کرتا تو وہ چند دن بھی جی نہ سکتے تھے۔ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اکثر گناہوں پر مؤاخذہ ہی نہیں کرتا ورنہ یہ زمین بھی انسانوں سے بےآباد ہوجاتی۔
Ayahs 42:31–3347 قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ تمہاری بےبسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کردے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کرسکتے ہو ؟
48 صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن پر جب بھی کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو وہ صبر اور برداشت سے کام لیتا ہے۔ اور جب بھی اللہ کی کوئی نعمت ملتی ہے یا اسے بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کا احسان مند ہوتا اور اس کا شکر ادا کرنے لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک کافر اور دنیادار انسان کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ مصیبت پڑنے پر جزع فزع کرتا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اسے کو سنے لگتا ہے۔ اور جب اسے کوئی بھلائی نصیب ہوتی یا خوشحالی کا دور آتا ہے تو پھر وہ اللہ کو بھول ہی جاتا ہے۔ گویا ایک مومن کو سمندر کے سفر میں صبر اور شکر کا اکثر موقع ملتا رہتا ہے۔ وہ سازگار حالات میں اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر ہوا بند ہوجائے تو اس کی نظر اللہ ہی پر رہتی ہے اور صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔
Ayah 42:3449 یعنی ہوا کو ایک دو دن کے لیے ساکن اور بند ہی رہنے دے یا باد مخالف چلا دے یا کشی کو بھنور میں پھنسا دے یا سمندر کی تلاطم خیز موجوں سے دو چار کر دے اور کشتی کو ڈبو کو تباہ کر دے تو اس کا سبب کشتی پر سوار لوگوں کی بداعمالیاں ہی ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی بہت بد اعمالیوں سے تو درگزر ہی کرجاتا ہے۔
Ayah 42:3550 یعنی اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے والے منکرین کو اس دنیا میں بھی ایسا حادثہ پیش آسکتا ہے کہ کوئی جائے پناہ کہیں نہ مل سکے جیسے مثلاً سمندری سفر میں۔ آخرت میں تو یہ لوگ اور بھی زیادہ بےبس اور لاچار ہوں گے۔
Ayah 42:3651 یعنی دنیا میں جتنا بھی مال و دولت اور سامان عیش و عشرت کسی کو مل جائے۔ اس سے وہ زیادہ سے زیادہ اپنی موت تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالآخر اسے بالکل خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہونا ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں ایمانداروں کو جو آخرت میں سامان عیش و عشرت ملے گا۔ وہ سامان بھی لافانی اور لازوال ہوگا اور ایماندار لوگ ان اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہذا عقلمند انسان وہ ہے جو ناپائیدار اور فنا ہونے والے سامان کے بجائے دائمی اور پائیدار زندگی اور اس کے سامان کی فکر کرے۔
52 توکل کا معنی اور یہ مومن کی اہم صفت ہے :۔ یعنی جب ظاہری اسباب مفقود نظر آرہے ہوں، حالات مایوس کن ہوں۔ اس حال میں بھی وہ مایوس اور شکستہ دل نہیں ہوجاتے بلکہ اس حال میں بھی ان کی آنکھ اللہ کی طرف لگی رہتی ہے اور وہ اللہ کے وعدہ پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور اس مشکل سے نکالنے کی کوئی راہ پیدا کردے گا اور اسی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ان کے پاس ظاہری سامان موجود بھی ہو تو وہ اس پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ ان کا بھروسا اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے۔ گویا ظاہری اسباب موجود ہوں یا مفقود، تھوڑے ہوں یا زیادہ، مومن آدمی ان اسباب کو فراہم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے مگر اس کا ان اسباب پر تکیہ نہیں ہوتا۔ تکیہ اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے گویا اللہ پر توکل ایک مومن کی نہایت اہم صفت ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے بیان فرمایا۔ اسی طرح اللہ پر عدم توکل ایک مسلمان کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ جنگ حنین کے موقعہ پر ہر مسلمان ظاہری اسباب اور اپنی کثرت تعداد پر نازاں ہوئے تو اللہ نے انہیں عارضی طور پر شکست سے دوچار کرکے فوراً انہیں اس کمزوری پر متنبہ کردیا۔ توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ بس انسان اللہ پر توکل کرکے بیٹھ جائے۔ اور ظاہری اسباب کی فکر ہی چھوڑ دے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ حتی الامکان ظاہری اسباب مہیا کرے اور اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے پھر اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کر دے۔ چناچہ آپ نے توکل کی تعریف یوں فرمائی کہ پہلے اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھ پھر توکل کر۔ (طبرانی۔ بروایت ابوہریرہ ؓ بحوالہ الموافقات للشاطبی، ج 1 ص 290) اور کسی شاعر نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے :
توکل کے یہ معنی ہیں کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر