Ayah 42:3753 بڑے بڑے گناہوں کی تفصیل کے لیے سورة نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے :
54 فحاشی اور اس کا دائرہ :۔ فحاشی سے مراد ہر وہ کام ہے جو انسان کی قوت شہوانیہ سے تعلق رکھتا ہو۔ اسلام نے جنسی چھیڑ چھاڑ اور حاجت پوری کرنے کے لیے شرعی نکاح کی راہ کھول دی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی طریقے ممکن ہیں ان سب پر پابندی لگا دی ہے۔ مثلاً زنا، اغلام، لواطت، مشت زنی، عورتوں کی عورتوں سے ہمبستری۔ جانوروں سے بدفعلی وغیرہ۔ سب حرام اور بدترین جرم ہیں۔ اور ان سب کو (فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 19) 4 ۔ النسآء :19) کہا جاتا ہے اور جو باتیں زنا سے قریب لے جانے والی ہیں وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ مثلاً بدنظری یا غیر محرم کی طرف دیکھنا، عورتوں کا اپنی زینت اور حسن کے مقامات کی کھلے بندوں نمائش کرنا۔ آزادانہ اختلاط مرد و زن، فحش گالی گلوچ، غیر مرد اور غیر عورت کی خلوت، یا عورتوں کا بغیر محرم کے سفر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ علاوہ ازیں فحش قسم کی خبروں کو پھیلانا بھی فحاشی میں داخل ہے آج کل فحاشی کی اشاعت کی اور بھی بہت سی صورتیں پیدا ہوچکی ہیں۔ مثلاً تھیٹر، سنیما گھر، کلب ہاؤس، ہوٹل، ریڈیو پر زہد شکن گانے، ٹیوی پر شہوت انگیز پروگرام، فحاشی پھیلانے والا لٹریچر، ناول، افسانے اور ڈرامے وغیرہ۔ اخبارات و اشتہارات وغیرہ میں عورتوں کی عریاں تصاویر۔ غرضیکہ فحاشی کی اشاعت کا دائرہ آج کل بہت وسیع ہوچکا ہے۔ ایمانداروں کا کام یہ ہے کہ ایسے فحاشی کے سب کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں۔
55 غصہ اور اس کا جائز استعمال :۔ اس جملہ میں قوت غضبیہ پر کنٹرول میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غصہ میں عموماً آدمی کی عقل پر جذبات غالب آجاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ ایسی غلط حرکتیں کر بیٹھتا ہے جن پر اسے بعد میں سخت ندامت ہوتی ہے۔ مومن کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی وہ اپنی ذات سے متعلق انتقام کے معاملہ میں اللہ سے ڈر کر درگزر اور چشم پوشی سے کام لیتے ہیں اور اگر کسی بات پر غصہ آجائے تو اسے پی جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ غصہ اتنی بری چیز نہیں کہ انسان کو کسی وقت بھی نہ آئے بلکہ جہاں دین کی تضحیک ہو رہی ہو اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جارہا یا خلاف شرع کام ہو رہا ہو وہاں انسان کو غصہ آنا ہی چاہئے۔ غصہ اگر کلیتاً بری ہی چیز ہوتی تو اللہ اسے پیدا ہی نہ کرتا۔ اسے ہم دوسرے الفاظ میں دینی حمیت یا غیرت بھی کہہ سکتے ہیں اور ایسے مقام پر غصہ بعض دفعہ بڑے بڑے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیتا ہے۔ اور رسول اللہ کا غصہ ایسا ہی تھا۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا جب وہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ البتہ اگر کسی نے اللہ کی قابل احترام باتوں کی توہین کی تو آپ نے اللہ کے لیے اس سے بدلہ لیا (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب اقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ) اور آپ کو جب غصہ آیا تو آپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا جیسے کسی نے چہرہ پر انار نچوڑ دیا جو مثلاً فاطمہ مخزومی قریشی کی چوری کا مقدمہ پیش ہوا تو قریشیوں نے سیدنا اسامہ بن زید کو سفارش کے لیے کہا۔ سیدنا اسامہ نے سفارش کی تو آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا : اسامہ ! تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو ؟ (بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحد۔۔ ) اسی طرح ایک دفعہ سیدنا معاذ بن جبلص نے عشا کی نماز میں سورة بقرہ شروع کردی ایک دیہاتی نے نماز توڑ کر اپنی الگ نماز پڑھ لی۔ پھر رسول اللہ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ سیدنا معاذ پر سخت ناراض ہوئے اور تین بار فرمایا : افتّان انت یا معاذ ؟ معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ؟ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب من لم یر اکفار من قال ذلک متاوّلا او جاھلا) اور ایسی اور بھی مثالیں بہت ہیں۔
خ غصہ کو ضبط کرنے کا حکم :۔ رہا ذاتی انتقام کا مسئلہ تو اس کے متعلق آپ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو کشتی میں پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ کو ضبط میں رکھے (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الحذر من الغضب) نیز سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ : مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا : غصہ مت کیا کر۔ اس نے دوبارہ، سہ بارہ یہی بات پوچھی تو آپ ہر بار یہی کہتے رہے کہ غصہ مت کیا کر (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الحذر من الغضب)
Ayah 42:3856 مشورہ اور اس کے متعلقات :۔ مشورہ سے متعلق قابل ذکر امور یہ ہیں :
(1) مشورہ انفرادی امور میں کیا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
(2) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔
(3) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جاسکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا جنگ احد کے متعلق یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یعنی صرف مدافعت کی جائے یا کھلے میدان میں لڑی جائے۔
(4) مشورہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ کے سب پہلو سامنے آجائیں۔ اور جو پہلو اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کیا جائے۔ مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دلیل کی تلاش ہوتا ہے۔
(5) اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہر صاحب مشورہ کو اپنی رائے کے اظہار کی پوری آزادی دی جائے۔
(6) یہ تشخیص کرنا کہ اقرب الی الحق کون سا پہلو ہے ؟ میر مجلس کا کام ہے۔ اس کا انحصار آراء کی کثرت اور قلت پر نہیں۔ بلکہ اگر ایک دو شخصوں کی رائے بھی اقرب الی الحق ہو تو اسے ہی اختیار کیا جائے گا۔ جیسا کہ آپ نے اساریٰ بدر کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر دونوں ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو میں اسی کے مطابق عمل کرتا۔ یا جنگ احد کے متعلق آپ کو یہ مشورہ دینے والے کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے چند جوشیلے نوجوان مسلمان تھے لیکن آپ نے ان کی قلت کے باوجود انہی کی رائے کو اختیار کیا۔
(7) آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا : (فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ 159۔ ) 3 ۔ آل عمران :159) جب کسی فریق کے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو یا دونوں طرف دلائل یکساں ہوں تو اس وقت کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسی صورت میں کثرت ہی بذات خود ایک دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح قطع نزاع تو ہوجاتا ہے مگر اس صورت میں وضوح حق ضروری نہیں۔ اور اس کی مثال بالکل قرعہ اندازی کی سی ہوتی ہے۔
خ اسلام میں خلیفہ کا انتخاب :۔ رہی یہ بات کہ آیا امیر کا انتخاب بھی مشورہ سے ہوگا یا یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ تو اکثر علماء کا خیال ہے یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ اس پر پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ سورة مکی ہے جبکہ مسلمانوں کی ریاست کا تصور تک نہ تھا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں کا اولین امیر خود نبی ہوتا ہے اور اس کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کسی ایک مخصوص طریق پر نہیں ہوا۔ پہلے خلیفہ کا انتخاب صرف مدینہ میں بعض صحابہ کے اجتماع میں ہوا۔ سیدنا عمر نے نام پیش کرکے بیعت کی۔ پھر سب نے بیعت کرلی۔ دوسرے خلیفہ سیدنا عمر کو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے نامزد کیا۔ تیسرے خلیفہ سیدنا عثمان ؓ کو ایک چھ رکنی کمیٹی نے منتخب کیا اور چوتھے خلیفہ کو سیدنا عثمان ؓ کے قاتلوں نے زبردستی نامزد کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ خلیفہ یا امیر المؤمنینکا سب مسلمانوں کے مشورہ کے تحت منتخب ہونا ضروری نہیں۔ مسلمانوں کا امیر جس راستے سے آئے اگر ان کو کتاب و سنت کے مطابق چلاتا ہے تو وہ ان کا فی الواقع امیر ہے، ورنہ نہیں۔ (مزید تفصیلات کے لیے میری تصنیف خلافت و جمہوریت ملاحظہ فرمائیے)
Ayah 42:3957 ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اور ظالم سے بدلہ لینا :۔ یعنی متکبر اور جابر قسم کے لوگ ان پر زیادتی کرتے ہیں تو وہ ان کے آگے دبتے نہیں بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ کمزوری نہیں دکھاتے جیسا کہ مکہ میں مسلمانوں نے کافروں کے مصائب برداشت کئے مگر ان کے آگے جھکے نہیں۔ اور اگر ان میں بدلہ لینے کی ہمت ہو تو بدلہ لے کے چھوڑتے ہیں۔ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب غالب ہوں تو اگر چاہیں تو مغلوب کو معاف بھی کردیں اور چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لے لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہو اور معاف کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں کسی ظالم یا متکبر کے سامنے جھکتے یا دبتے نہیں۔
Ayah 42:4058 یعنی اگر کوئی برائی اور زیادتی کا بدلہ لینا ہی چاہے تو اتنا ہی لے جتنی اس پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر اس کے معاف کردینے سے آپس میں صلح ہوسکتی ہو یا بگڑے ہوئے حالات سنور سکتے ہوں اور حالات کے بہتر ہوجانے کی بنا پر معاف کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا۔
59 یعنی اگر وہ بدلہ لینے میں زیادتی کرے گا تو وہ مظلوم ہونے کے بجائے خود ظالم بن جائے گا اور اللہ ظالموں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔
Ayahs 42:41–4260 زیادتی کا بدلہ لینے کے اصول :۔ یعنی جو لوگ بدلہ لینا ہی چاہیں مگر بدلہ لینے میں زیادتی نہ کریں وہ مورد الزام نہیں۔ مورد الزام وہ لوگ ہیں جو ظلم کی ابتدا کرتے ہیں اور بلاوجہ کرتے ہیں۔ پھر اگر بدلہ لیں تو بدلہ لینے میں بھی حد سے بڑھ جاتے اور مزید ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دراصل فسادی ہیں جن کا بدلہ دردناک عذاب ہے۔
Ayah 42:4361 یعنی زیادتی کو برداشت کر جانا بذات خود بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو کنٹرول اور ضبط میں رکھے۔ پھر اگر وہ صرف برداشت ہی نہ کرے بلکہ زیادتی کرنے والے کو معاف بھی کردے تو پھر اس کے کیا ہی کہنے ہیں ؟ مگر یہ بڑے ہی دل گردہ کا کام ہے اور صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جنہیں اللہ کی توفیق حاصل ہو۔
Ayah 42:4462 یعنی ان لوگوں کو کتاب وہ دی گئی جو ہدایت انسانی کے لیے بہترین کتاب ہے اور رسول وہ بھیجا گیا جس کی سیرت و کردار کی بلندی میں ان کو بھی کوئی شک نہیں۔ پھر بھی اگر یہ لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اللہ ایسے لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔
63 یعنی آج دنیا میں یہ اپنی سرکشی کی حالت کو چمٹ تو سکتے ہیں مگر پلٹتے نہیں اور اس دن اپنی حالت کو پلٹنے کی کوئی گنجائش نہ ہوگی تو اس دن پلٹنے کی راہ پوچھیں گے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ پوچھیں گے کیا ہمارے دوبارہ واپس دنیا میں جانے کی کوئی صورت ہے تاکہ ہم بھی نیک عمل کرسکیں۔
Ayah 42:4564 جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی موت کے ڈر سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ویسے ہی جب وہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو ڈر اور ذلت کی وجہ سے آنکھیں بند کریں گے۔ پھر جب مزید گھبراہٹ پیدا ہوگی تو کن اکھیوں سے جہنم کی طرف دیکھیں گے جس میں عنقریب وہ ڈالے جانے والے ہوں گے۔
65 یعنی یہ بدبخت صرف خود ہی گمراہ نہ ہوئے بلکہ اپنے ساتھ اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی لے ڈوبے سبھی کو تباہ و برباد کرکے چھوڑا۔
Ayahs 42:46–4766 یعنی دنیا میں ان سے عذاب ٹلتا رہا اور انہیں مہلت دی جاتی رہی۔ مگر اس دن ایسی کوئی صورت نہ ہوگی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب اللہ نے ان کے لیے مقرر کردیا ہے کسی میں ہمت نہ ہوگی کہ وہ اسے ان سے ٹال سکے۔
67 نکیر کے مختلف مفہوم :۔ نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) اجنبیت، (2) ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے) نکر بمعنی ناگوار۔ نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکر کے معنی کسی چیز کو بگاڑ دینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی معنی بن سکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اجنبی نہیں ہوگے سب تمہیں جانتے پہچانتے ہوں گے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ بھیس بدل کر چھپ نہ سکو گے۔ چوتھا مطلب یہ ہے کہ اس دن تم جیسی بھی حالت میں ہوگے اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکو گے۔
Ayah 42:4868 یعنی ہم نے آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ انہیں راہ راست پر لاکے چھوڑو۔ نہ ہی آپ سے ایسی باز پرس ہوگی۔
69 ایک دنیا دار انسان کسی حال میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتا :۔ دراصل ایسی آیات کے مخاطب قریش مکہ ہی تھے۔ لیکن قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ مخاطب کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست انہیں مخاطب نہیں کرتا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے اور نہ چڑ جائیں۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں ایک عام دنیادار انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ جب اس پر بھلے دن آتے ہیں تو اترانے لگتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اور جب برے دن آتے ہیں اور یہ برے دن بھی ان کی اپنی شامت اعمال سے آتے ہیں تو اس وقت وہ اپنے پروردگار کو کو سنے لگتا ہے اور اللہ کے ان سارے انعامات کو بھول جاتا ہے جو اس نے اسے خوشحالی کے دور میں عطا کئے ہوئے تھے اس طرح نہ خوشحالی اس کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی بدحالی اسے راہ راست پر لاسکتی ہے کسی حال میں بھی ان کی طبیعت اللہ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔
Ayahs 42:49–5070 اولاد کے بارے میں انسان کی بےبسی :۔ اس سے پہلی آیت کا آغاز یوں فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جملہ تصرفات صرف اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر ان تصرفات کے صرف ایک پہلو کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ دیکھ لو انسان اولاد کے بارے میں کس قدر بےبس ہے۔ انسان کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ مگر اللہ جسے بانجھ بنا دے یا اولاد نہ دینا چاہے وہ خواہ کتنے ہی جتن کر دیکھے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ اس کی دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹے ہوں بیٹیاں نہ ہوں۔ لیکن اللہ بعض لوگوں کو بیٹیاں ہی دیئے جاتا ہے اور اس طرح بعض دفعہ بڑے بڑے متکبروں کی اکڑ توڑ کے رکھ دیتا ہے اور وہ کچھ بھی مداوا نہیں کرسکتے۔ اور کسی کو ایک آدھ لڑکی کی خواہش کے باوجود صرف لڑکے ہی لڑکے دے دیتا ہے کبھی کسی کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوجاتے ہیں اور کسی کے ہاں بیک وقت تین، چار، پانچ بچے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ بالخصوص جب سے دنیا میں خاندانی منصوبہ بندی کا چرچا شروع ہوا ہے۔ ایسے واقعات بکثرت سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی طرف سے خلاف فطرت کام کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ الغرض انسان اولاد کی تمنا رکھنے کے باوجود اس مسئلہ میں اس قدر بےبس ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسری ہستی کوئی بت کوئی آستانہ اور کوئی پیر پیغمبر اس کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ بلکہ پیغمبر اس سلسلہ میں خود بھی ایسے ہی بےبس ہیں جیسے عام انسان مثلاً سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں۔ بیٹا کوئی نہ تھا۔
Ayah 42:5171 وحی کے مختلف طریقے :۔ اس آیت میں لفظ وحیا اپنے لغوی معنی (سریع اور تیز اشارہ۔ یعنی القاء والہام) کے معنوں میں آیا ہے اور لفظ یوحی اپنے اصطلاحی معنوں میں (یعنی اللہ کا اپنے نبی کو فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجنا) استعمال ہوا ہے۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے کسی انسان سے کلام کرنے کے تین طریقے مذکور ہیں :
(1) القاء یا الہام۔ اس قسم کی وحی غیر نبی کو بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے ام موسیٰ کو ہوئی تھی۔ (28: 7) بلکہ غیر انسان کی طرف بھی ہوسکتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی (16: 68) اور ایسی وحی انبیاء کو خواب میں بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے سیدنا ابراہیم کو یہ خواب آیا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ (37: 102)
(2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے بات کرے اور پردہ کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کا کلام سن تو سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے اس مادی جسم اور ان ظاہری حواس سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہے۔ ایسی بات چیت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور کے دامن میں کی تھی۔ مگر آپ دیدارِ الٰہی کی تمنا اور سوال کے باوجود اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکے تھے۔
(3) فرشتہ بھیجنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ جبرئیل نبی کے دل پر نازل ہو اور اسے اللہ کا پیغام پہنچائے۔ تمام کتب سماویہ کا نزول اسی طرح ہوا ہے۔ اور دوسری یہ کہ فرشتہ انسانی شکل میں سامنے آکر کلام کرے۔ جیسے فرشتے سیدنا ابراہیم اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تھے۔ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اسحاق کی خوشخبری دی تھی۔ اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم پر عذاب آنے کی خبر دی تھی اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہوسکتی ہے جیسے سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) نے سیدہ مریم کے سامنے آکر بیٹے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی تھی۔
Ayah 42:5272 آپ کو وحی کی تمام صورتوں میں وحی ہوئی :۔ اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان تمام قسموں کی وحی آپ کی طرف بھی کی ہے۔ القاء والہام سے متعلق سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی رسول اللہ پر ہوئی وہ سچا خواب تھا جو کچھ آپ نیند کی حالت میں دیکھتے وہ (بیداری میں) صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا۔ (بخاری۔ باب کیف کان بدء الوحی)
ایسا ہی خواب آپ کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورة فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔ وحی کی یہ صورت آپ کو واقعہ معراج کے دوران پیش آئی جبکہ نمازیں فرض ہوئی تھیں اور آپ اللہ تعالیٰ سے کئی بار ہم کلام ہوئے تھے اور اس کا ذکر سورة نجم کی آیات نمبر 9 اور 10 میں موجود ہے۔
تیسری صورت جبرئیل کے آپ کے دل پر نازل ہونے کی ہے۔ اور قرآن سارے کا سارا اسی صورت میں نازل ہوا ہے۔ یہ صورت آپ کے لیے سخت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ پہلے آپ گھنٹیاں بجنے جیسی آوازیں سنتے تھے۔ یہ گویا ایک قسم کا انتباہ ہوتا تھا۔ جس سے آپ کا رشتہ اس مادی دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔ اس وقت آپ کے حواس ظاہری کام نہیں کرتے تھے۔ اور تمام تر توجہ وحی کی طرف مبذول ہوجاتی تھی۔ اس شدت تکلیف سے آپ کو بعض دفعہ سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاتا تھا۔ نیز اس وقت آپ پر شدید بوجھ پڑتا تھا۔ چناچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مجھ سے وحی لکھوا رہے تھے۔ آپ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی آنے سے آپ کی ران اتنی بھاری ہوگئی کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ نہ جائے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة النساء۔ باب (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 95ۙ ) 4 ۔ النسآء :95) اور اگر آپ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی آنا شروع ہوتی تو اونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ جاتی تھی۔ اور چوتھی صورت سیدنا جبرئیل کے انسانی شکل میں آپ کے سامنے آکربات کرنے کی ہے۔ حدیث جبرئیل کے مطابق سیدنا جبرئیل اس وقت ایک اجنبی انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اور بسا اوقات جبرئیل دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے۔
73 روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔
74 یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو اس بات کا خواب و خیال تک نہ تھا کہ آپ کو نبوت یا کتاب الٰہی ملنے والی ہے یا ملنی چاہئے۔ اسی طرح آپ ایمان کی تفصیلات سے واقف نہ تھے۔ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف اللہ ہی اکیلا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں شریک اور اس کا ہمسر نہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں ! نیز یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اللہ کی کتابوں، نبیوں، فرشتوں اور روز آخرت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔
75 یعنی اس کتاب قرآن کو روشنی بنادیا ہے اور اس روشنی میں ہدایت کی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن کی اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم انہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
76 ہدایت کے سرچشمے کون کون سے ہیں ؟ ان دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے ذرائع تین ہیں اوراقسام دو ہیں۔ پہلی قسم کی ہدایت یہ ہے کہ کوئی شخص کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوجائے۔ اور ایسی ہدایت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ورنہ قرآن جیسی دل نشین اور پر تاثیر کتاب ہو اور اس کے مبلغ افضل الانبیاء ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ سب قریش مکہ ایمان لے آتے مگر آپ کی انتہائی تمنا اور سعی کے باوجود ایسا نہ ہوسکا۔ ہدایت کی دوسری قسم یہ ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے ہیں ان کی سیدھی راہ کے لیے رہنمائی کی جائے۔ اور یہ کام قرآن کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ کے ذریعہ سے بھی۔ اور آپ کے بعد صحابہ اور علماء کرام کے ذریعہ سے۔
Ayah 42:5377 یعنی جو رستہ یہ قرآن دکھاتا ہے اور رسول اللہ اس کی رہنمائی کرتے ہیں وہی اس اللہ کا راستہ ہے جو فرمانروائے کائنات ہے۔ اسی راہ پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور جو اس راہ سے بھٹکا تو وہ اللہ کی راہ نہیں، سب شیطان کی راہیں ہیں۔
78 یعنی صرف انسان ہی نہیں، ان کے اعمال و افعال اور دوسرے سب امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا انسان کو اس دنیا میں بقائمی ہوش و حواس وہ راہ اختیار کرنا چاہئے جو سیدھی اللہ کی بارگاہ تک پہنچتی ہو۔