Ayahs 41:1–31 سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی طرح رسول اللہ ور مشرکین مکہ میں بالفاظ دیگر حق و باطل میں سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول اللہ حرم کے ایک گوشہ میں اور چند سرداران قریش دوسرے گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد پر کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا اور اگر اس نے قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں گے۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ ضرور یہ کام کیجئے۔ چناچہ عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ کے پاس آ بیٹھا اور کہنے لگا : بھتیجے ! ہماری قوم میں جو تفرقہ پڑچکا ہے اسے آپ جانتے ہیں۔ اب میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو بھی چاہو پسند کرلو۔ مکہ کی ریاست چاہتے ہو یا کسی بڑے گھرانے میں شادی یا مال و دولت ؟ اور اگر آپ کے پاس کوئی جن بھوت آتا ہے تو اس کے علاج کی بھی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ مہیا کرسکتے ہیں اور اس پر بھی راضی ہیں کہ مکہ تمہارا زیر فرمان ہو مگر تم ان باتوں سے باز آجاؤ
خ عتبہ بن ربیعہ کی آپ کو پیش کش اور آپ کا جواب (حق وباطل میں سمجھوتہ کی کوشش) :۔ رسول اللہ عتبہ کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے۔ جب عتبہ خاموش ہوگیا۔ تو آپ نے عتبہ سے کہا کہ جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ اب میرا جواب سن لو۔ پھر آپ نے ان سب باتوں کے جواب میں اسی سورة کی چند ابتدائی آیات پڑھیں۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے (فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13ۭ ) 41 ۔ فصلت :13) تو عتبہ کے آنسو بہنے لگے اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں ایسا عذاب اسی وقت نہ آن پڑے۔ پھر وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ مگر اب وہ پہلا عتبہ نہ رہا تھا۔ جاکر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا : محمد ﷺ جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں کچھ اور ہی چیز ہے۔ تم اسے اسکے حال پر چھوڑ دو ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہوگیا تو یہی کچھ تم لوگ چاہتے ہو اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! معلوم ہوتا ہے کہ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج 6 ص 159 تا 161)
Ayah 41:42 قرآن کی چار صفات کا ذکر :۔ یہ تمہیدی آیات ہیں جن میں قرآن کی چند صفات بیان کرکے اسے متعارف کرایا جارہا ہے اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ نہ محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے نہ ہی کسی دوسرے آدمی کا ہے بلکہ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو رحمان و رحیم ہے۔ اپنی مخلوق پر بےانتہا مہربان ہے اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی فلاح وسعادت کے لیے قرآن جیسی عظیم نعمت نازل فرمائی ہے اور اگر کوئی شخص اس نعمت سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو وہ انتہائی ناشکرا اور ناقدر شناس ہے۔ اس کتاب کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کی آیات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نئے سے نئے پیرائے میں بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں کوئی ابہام، کوئی پیچیدگی اور گنجلک باقی نہ رہے۔ نیز اس میں سینکڑوں قسم کے مضامین ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ کرکے پیش کئے گئے ہیں۔ اس کی تیسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ تاکہ اس کے پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور قوم کے لیے نافہمی کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ تاہم اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اہل علم و دانش ہیں۔ جہالت کی بنا پر اڑ جانے والے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس کی چوتھی صفت یہ ہے کہ یہ کتاب نہ کوئی افسانوی تخیل ہے اور نہ ہی انشا پردازی کا نمونہ ہے بلکہ یہ تمام دنیا کو خبردار کر رہی ہے کہ اس کی تعلیم کو مان لینے کے نتائج شاندار اور نہ ماننے کے نتائج نہایت ہولناک ہیں۔
Ayah 41:53 قرآن کی ان گونا گوں خوبیوں کے باوجود زیادہ تر لوگ اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں وہ اس کی آیات کو تسلیم کرنا تو درکنار سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ پھر اپنی اس خصلت پر فخر بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم ہمارے دلوں پر مطلقاً اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے دل ایسے اثرات قبول کرنے سے کلیتاً محفوظ ہیں۔ بلکہ ہمیں تو ان آیات کا سننا بھی گوارا نہیں۔ ایسی باتیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔ لہذا وہ سننے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ( ! ) تمہاری اس دعوت سے ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت کی ایک دیوار حائل ہوچکی ہے اور اس دعوت نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ لہذا ہم تمہاری اس دعوت کو کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں۔
4 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہمیں تم سے اور تمہیں ہم سے اب کوئی سروکار نہیں اور ہم دونوں کبھی مل کر بیٹھ نہیں سکتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی دعوت سے باز نہیں آتے تو اپنا کام کئے جاؤ۔ ہم بھی تمہاری مخالفت سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفوں کی ایذا رسانیوں اور معاندانہ سرگرمیوں کے باوجود اسلام کی دعوت میں اتنی پیش رفت ہوچکی تھی کہ مخالفین مساویانہ سطح پر گفتگو کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
Ayah 41:65 اس لیے میں نہ تو تمہارے دلوں کے پردوں کو ہٹا سکتا ہوں، نہ تمہاری ثقل سماعت کو دور کرسکتا ہوں اور جو عداوت و مخالفت کی دیوار تم نے حائل کر رکھی ہے میں اسے بھی گرا دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور یہ کام ایک انسان کی بساط سے باہر ہیں۔ ہاں تمہارے جیسا انسان ہونے کے باوجود میں یہ ضرور دعویٰ رکھتا ہوں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے۔ جس کا بنیادی مضمون یہی ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بات میں کوئی وہم و گمان اور قیاس کی بنا پر نہیں کہتا بلکہ وحی جیسے یقینی علم کی بنا پر کہتا ہوں۔ اور وحی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں میں خدائی اختیارات و تصرفات کو تسلیم کرنا چھوڑ دو ۔ اور اپنے ذہن کو ایسے مشرکانہ عقائد سے پاک صاف کرکے اپنی سب امیدیں ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کردو۔ فریاد کے لیے پکارو تو اسی کو پکارو۔ اور پہلے جو غلط روش تم نے اختیار کر رکھی تھی اس کے لیے پروردگار سے معافی مانگو۔ ورنہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی پکارنے والوں کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 41:76 زکوٰۃ کے دو معنی :۔ اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک لغوی اعتبار سے زکٰی کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا اور عمدہ ہونا اور زکی اور زکیّٰ کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، عقائد کی خرابیوں، بیماریوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کرکے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنے مشرکانہ عقائد سے اپنے آپ کو پاک صاف نہیں بناتے اور دوسرا مطلب شرعی اصطلاح کے اعتبار سے یہ ایسے مشرک جو شرک کرکے اللہ کے حقوق تلف کرتے ہیں اور زکٰوۃ کی عدم ادائیگی سے لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جوابدہی کے منکر ہیں۔
Ayahs 41:8–97 مَنَّ کا لغوی مفہوم :۔ َغیْرَ مَمْنُوْنٍ کے بھی دو معنی ہیں۔ مَنَّ کا معنی کسی چیز کا آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہوجانا اور اس کا سلسلہ منقطع ہوجانا بھی ہے اور اس کا دوسرا معنی احسان کرنا اور احسان جتلانا بھی ہے۔ پہلے معنی تو ترجمہ سے واضح ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اہل جنت کو جو نعمتیں بھی میسر ہوں گی ان کا کبھی احسان نہیں جتلایا جائے گا۔
Ayah 41:108 زمین کی اشیاء سے انتفاع کا یکساں حق اور حق ملکیت :۔ بعض علماء نے (سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10) 41 ۔ فصلت :10) کا یہ ترجمہ کیا ہے برابر ہے واسطے پوچھنے والوں کے (شاہ رفیع الدین) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو (احمد رضا خان) انسانی تاریخ کا ایک بنیادی اور اہم سوال یہ بھی رہا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیونکر ہوئی ؟ ان آیات میں اسی بنیادی سوال کا جواب دے کر فرمایا کہ ایسا سوال کرنے والوں کے اطمینان کے لیے اتنا جواب کافی ہے۔ اور اس جملہ کا دوسرا ترجمہ جو اوپر درج کیا گیا ہے، بہت سے علماء اور مفسرین اس ترجمہ کے بھی موّید ہیں۔ اور اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی پیداوار سے انتفاع کا حق سب ضرورت مندوں کے لیے یکساں ہے۔ خواہ یہ ضرورت مند انسان ہوں یا حیوانات ہوں یا چرند پرند ہوں۔ اور انتفاع کے حق کی یکسانی کی مثال یوں سمجھئے۔ جیسے جنگل میں ایندھن پڑا ہو۔ اب جو شخص اسے اٹھا کر اپنے قبضہ میں کرلے گا۔ تو اب اس ایندھن پر اس کا حق ثابت ہوگیا۔ اور جب تک وہ جنگل میں پڑا تھا اسے وہاں سے اٹھانے کا ہر شخص یکساں حق رکھتا تھا۔ اس کی دوسری مثال چشمہ کا یا دریا کا پانی ہے۔ ہر شخص وہاں سے پانی لانے کا یکساں حق رکھتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص وہاں سے پانی لے کر اس پر اپنا قبضہ کرلے گا تو اب یہ پانی اسی کا ہوگیا۔ اس میں دوسروں کا حق نہ رہا۔ اسی طرح بنجر زمین آباد کرنے کا حق اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق سب کے لیے یکساں ہے مگر جب کوئی شخص محنت کرکے اس کو آباد کرلے تو اس کا حق ثابت اور دوسروں کا حق ختم ہوگیا یہ ہے حق ملکیت کا اسلامی اصول اور اسی لحاظ سے ہم نے یہ ترجمہ اختیار کیا ہے۔ مگر جب سے روس میں اشتراکی نظام قائم ہوا ہے (جو کہ اب ناکام بھی ہوچکا ہے) اور اس نے دوسرے ملکوں میں اس نظام کے بپا کرنے کے لیے فضا کو سازگار بنانے کے لیے اپنے ایجنٹ بھی چھوڑ رکھے ہیں اور چونکہ یہ نظام زمین اور اسی طرح دوسری اشیاء پر انفرادی حق ملکیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ لہذا ان لوگوں نے قرآن سے حق ملکیت زمین کے عدم جواز کا کھوج لگانا شروع کردیا۔ حالانکہ یہ مسئلہ انسان کی معاش سے تعلق رکھتا اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو زمین کی ذاتی ملکیت کو ناجائز یا حرام قرار دینا مقصود ہوتا تو قرآن میں ایسے واضح احکام نازل کیے جاتے جن سے سابقہ مروجہ حق ملکیت کی تردید کی جاتی۔ لیکن قرآن میں کوئی ایسا حکم موجود نہیں۔ چند دوسری متشابہ آیات کی طرح اس آیت سے بھی ان لوگوں نے اپنا یہ نظریہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اور ہم نے وہی ترجمہ درج کیا ہے جو ان حضرات کا پسندیدہ ہے۔ وہ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ زمین کی پیداوار پر سب انسانوں کا ایک جیسا اور برابر کا حق ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ حکومت زمین کو اپنی تحویل میں لے لے پھر اس کی پیداوار لوگوں میں تقسیم کرے۔
خ حق ملکیت کے متعلق اشتراکیوں کی دلیل اور اس کا جواب :۔ ان لوگوں کی اس تاویل پر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ ضرورتمند، طلبگار یا حاجتمند صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوانات، چرند پرند، کیڑے مکوڑے سب ہی خوراک کے محتاج ہیں اور سب کے لیے یہ خوراک زمین ہی سے حاصل ہوتی ہے تو کیا یہ ساری مخلوق زمین یا زمین کی پیداوار میں برابر کی حصہ دار ہوگی ؟ اگر زمین کو انفرادی ملکیت سے نکال کر اس کی پیداوار کو صرف انسانوں میں برابر تقسیم کیا جائے تو دوسری مخلوق کو (سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10) 41 ۔ فصلت :10) کے زمرہ سے نکالنے کی کیا دلیل ہے ؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین سب مخلوقات میں برابر برابر تقسیم ہوگی یا اس کی پیداوار ؟ اور تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا عملاً ایسا ممکن بھی ہے ؟ اگر حکومت زمین کو انفرادی ملکیت سے نکال کر اپنی تحویل میں لے لے تو یہ (سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10) 41 ۔ فصلت :10) کیسے ہوئی۔ اور اگر حکومت زمین کی پیداوار کو اپنی مرضی سے افراد کو دیتی یا ان میں تقسیم کرتی ہے تو بھی عملی طور پر (سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10) 41 ۔ فصلت :10) کے تقاضے پورا کرنا ناممکن ہے۔ لہذا ان حضرات کی یہ تاویل باطل ہی نہیں ناممکن العمل بھی ہے۔ اور اس کا اصل مطلب یہی ہے کہ زمین کی پیداوار سے اللہ کی ساری مخلوق کو انتفاع کا حق ایک جیسا ہے۔ جیسا کہ پہلے ایک دو مثالوں سے واضح کیا جاچکا ہے۔ اور انسانوں کے علاوہ دوسری جاندار مخلوق بھی زمین کی اشیاء سے فیض یاب ہو رہی ہے اور اس بات کا حق بھی رکھتی ہے۔
Ayah 41:119 زمین و آسمان کا ملا جلا ملغوبہ :۔ اس آیت میں ثم کا لفظ زمانی ترتیب کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے ایک پہلو سے ہے۔ بالفاظ دیگر یہ زمین کی تخلیق کے بعد کا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے کا ہے۔ جسے بعد میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی واضح دلیل یہ آیت ہے۔ ( اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا 30) 21 ۔ الأنبیاء :30) یعنی زمین و آسمان پہلے ملے جلے اور گڈ مڈ تھے ؟ تو ہم نے انہیں جدا جدا بنادیا۔ اور یہاں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اس وقت فضائے بسیط میں صرف دھواں ہی دھواں یا مرکب قسم کی گیسیں تھیں۔ یعنی کائنات کا ابتدائی ہیولیٰ بھی گیسوں کا مجموعہ تھا۔ اس گیس کے مجموعے سے ہی اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے سب کچھ بنا دیئے۔ کائنات کے جس نقشہ کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ زمین فلاں مقام پر اور اتنی جسامت کی ہونی چاہئے۔ آسمان ایسے ہونا چاہئیں سورج فلاں مقام پر اور زمین سے اتنے فاصلہ پر اور اتنی جسامت کا ہونا چاہئے۔ ستارے اور کہکشائیں چاند اور ستارے ایسے اور ایسے ہونے چاہئیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق گیسوں کے اس ہیولیٰ سے یہ سب چیزیں بنتی چلی گئیں اور اس طرح کائنات کی تخلیق پر چھ یوم (ادوار) صرف ہوئے۔
Ayah 41:1210 زمین و آسمان کی تخلیق ترتیب اور زمانہ تخلیق :۔ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان یعنی کائنات کو چھ ایام (یا ادوار) میں بنایا۔ پھر بعض روایات میں بھی یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ میں فلاں کام کیا تھا اور اتوار کو فلاں اور پیر کو فلاں اسی طرح چھ دنوں کے الگ الگ کام بھی مذکور ہیں۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ایسی سب روایات ناقابل احتجاج اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ لہذا ان کا کچھ اعتبار نہیں البتہ کسی مقام پر تو یہ مذکور ہے کہ زمین آسمانوں سے پہلے پیدا کی گئی اور کسی مقام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین بعد میں پیدا ہوئی اور کبھی یہ اشتباہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں چھ کے بجائے آٹھ دن لگے تھے۔ ایسے شبہات و اختلافات کا بہترین جواب وہ ہے جو سیدنا ابن عباس ؓ نے ایک سائل کو دیا تھا۔ اور یہ جواب سورة نساء کی آیت نمبر 82 کے حاشیہ میں ملاحظہ کرلیا جائے۔
11 آسمان زمین سے لاکھوں گنا زیادہ جسامت رکھتے ہیں۔ اور زمین میں جب ہزاروں قسم کی مخلوق آباد ہے اور لاکھوں قسم کے کارخانے ہیں تو آسمان کیسے خالی رہ سکتا ہیں۔ آسمانوں میں فرشتوں کی موجودگی کا ذکر تو قرآن میں صراحت سے موجود ہے اور واقعہ معراج سے پتہ چلتا ہے کہ ہر آسمان میں طرح طرح کی مخلوق آباد ہے۔ اگرچہ اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
12 تشریح کے لیے دیکھئے سورة والصافات کا حاشیہ نمبر 4
13 تشریح کے لیے دیکھئے سورة والصافات کا حاشیہ نمبر 5
14 اشیاء کائنات کا کثیر المقاصد ہونے کے ساتھ حسین اور مربوط ہونا :۔ اس کائنات کی ہر چیز جہاں کئی کئی مقاصد پورے کر رہی ہے وہاں ذوق جمال کے لحاظ سے بھی راحت بخش ہے۔ یہ ممکن تھا کہ ایک چیز سے فائدے تو کئی حاصل ہوں مگر وہ کریہہ المنظر ہو مگر کائنات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے پھر ان تمام اشیاء میں باہمی ربط بھی ہے اور تعاون بھی۔ جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا خالق صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور اتنا زورآور ہے کہ ہر چیز سے اپنی مرضی کے موافق کام لے رہا ہے اور لے سکتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ خالق کائنات کی ایک ایک چیز کی کیفیت اور ماہیت دونوں چیزوں کا مکمل علم رکھتا ہے۔
Ayah 41:1315 یعنی اس قرآن کی صفات اور اس قرآن کو نازل کرنے والی ہستی کی عظیم الشان آیات قدرت سننے کے بعد بھی اگر کفار مکہ نصیحت قبول کرنے اور توحید اور اسلام کی راہ اختیار کرنے سے اعراض کرتے ہیں تو پھر ان پر بھی ایسی بجلیاں گر سکتی ہیں جیسے عاد وثمود پر گری تھیں۔
Ayah 41:1416 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی اور تیسرا یہ کہ ان کے اپنے علاقہ میں بھی رسول آئے اور ان کے گردوپیش کے علاقہ میں بھی اور ان کی تعلیم بھی ان تک پہنچ چکی تھی۔
17 یعنی تم تو بشر ہو۔ تمہیں ہم کیسے اللہ کا رسول مان سکتے ہیں۔ کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بن کر آتا تب بھی کوئی بات تھی۔ ہر منکر حق قوم کو یہ اعتراض رہا ہے اور اس اعتراض کی حقیقت خوئے بدرا بہانہ بسیار سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس اعتراض کے جواب بھی قرآن میں جا بجا مذکور ہیں۔
Ayah 41:1518 حق کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہی ہوا کرتا ہے۔ رسولوں کی بات مان لینے سے ان کی اپنی اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں پر زد پڑتی ہے۔
لہذا یہ چودھری ٹائپ لوگ سینہ تان کر رسولوں کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے حلقہ اثر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں اور یہ قوم عاد تو تھے بھی بڑے قدوقامت والے اور بڑے زور آور گھمنڈ میں آگئے۔ اور رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں کیا سمجھتے ہیں ؟ اس وقت انہیں اتنا خیال نہ آیا کہ رسول تو ان سے طاقت میں کمزور ہوسکتا ہے لیکن جس ہستی نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے وہ تو ان سے کمزور نہیں۔
Ayah 41:1619 کوئی دن بذات خود نحس نہیں ہوتا (ذکر قوم عاد) :۔ یعنی وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے ورنہ کوئی دن بذات خود نہ سعد ہوتا ہے اور نہ نحس جیسا کہ جوتشیوں اور انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات تسلیم کرنے والوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ وہی دن جو قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ سیدنا صالح اور مومنوں کے لیے مبارک تھے۔ جس دن فرعون اور اس کے ساتھی بحیرہ قلزم میں غرق ہوئے۔ فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لیے مبارک تھا۔ علاوہ ازیں اگر یہ دن بذاتہ منحوس ہوتے تو عذاب صرف قوم عاد کے مجرموں پر ہی نہ آتا بلکہ ساری دنیا پر آتا۔
20 قوم عاد پر ٹھنڈی اور تیز ہوا کا عذاب :۔ ان لوگوں کو اپنی طاقت اور قدوقامت پر غرور تھا۔ اللہ نے ان کا غرور توڑنے کے لیے ایک کمزور سی مخلوق ہوا کو، جس کی روانی اور جھونکوں کے لیے سب لوگ ترستے ہیں۔ ان پر مسلط کردیا۔ ٹھنڈی ہوا انسان کو بہت خوشگوار لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کو لگاتار چلنے کا حکم دیا اور اس کی ٹھنڈک بڑھا دی۔ یہی ہوا سخت ٹھنڈی آندھی کی شکل اختیار کرگئی۔ جو ان کے پتھر کے بنے ہوئے مکانوں اور ایوانوں میں گھس گئی۔ اس کی تیزی کا یہ حال تھا کہ اس نے نہ کوئی درخت صحیح وسالم چھوڑا نہ مکان، نہ مواشی اور انسان۔ سب ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے۔ گر گر کر مرجاتے تھے اور مر مر کر گرتے جاتے تھے۔ آٹھ دن اور سات راتیں آندھی نے اسی طرح اپنا زور دکھایا۔ اور مغرور قوم کے صرف غرور کو ہی نہ توڑا بلکہ پوری قوم کے افراد کا ستیاناس کرکے رکھ دیا۔ یہ تو تھا ان کے لیے دنیا کا عذاب اور اخروی عذاب جو ان کی کرتوتوں کا اصل بدلہ ہوگا وہ تو اور بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہوگا۔ دنیا میں بھی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی چیز نہ بچا سکی تو آخرت میں تو ان کی کسی جانب سے مدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 41:1721 قوم ثمود پر زلزلہ اور چیخ کا عذاب :۔ جسے عاد ثانیہ کہا جاتا ہے اور جن کی طرف سیدنا صالح مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے سیدنا صالح سے اونٹنی کے پہاڑ سے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کردیا تھا۔ جس سے انہیں یقین بھی ہوچکا تھا کہ سیدنا صالح کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت ہستی موجود ہے۔ اور وہ فی الواقع اللہ کا رسول ہے۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انہوں نے سیدنا صالح کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور اپنے جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ لوگ بھی قدوقامت، ڈیل ڈول اور قوت میں اپنی پیشرو قوم عاد سے کسی طرح کم نہ تھے۔ فن تعمیر سنگ تراشی کے بہترین ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر پتھر تراش تراش کر صرف مکان ہی نہیں بناتے تھے بلکہ راستے بھی بنا کر پہاڑوں کے اندر ہی بستیاں آباد کر رکھی تھی۔ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے جب ان کے دن گنے جاچکے تو ان پر دوہرا عذاب نیچے سے زلزلہ جس سے ان کے پہاڑوں کے اندر واقع مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑگئے اور اوپر سے کڑک اتنی شدید تھی جس سے ان کے جگر پھٹ گئے۔
Ayah 41:1822 یعنی سیدنا صالح کو عذاب نازل ہونے سے پہلے ہجرت کا حکم دے دیا گیا تھا۔ چناچہ آپ ایمانداروں کے ہمراہ جن کی تعداد ایک سو بیس کے لگ بھگ تھی، بحکم الٰہی ہجرت کرکے فلسطین کی طرف چلے گئے اور رملہ کے قریب جاکر آباد ہوئے۔ اسی مقام پر سیدنا صالح نے وفات پائی۔
Ayah 41:1923 روکنے کی دو صورتیں یا وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ مجرموں کی الگ الگ جرائم کے مطابق گروہ بندی کی جائے۔ دوسری یہ کہ پہلی نسل کو بعد میں آنے والی نسلوں کے آنے تک روک دیا جائے۔ تاکہ پہلی نسلوں نے جو شرکیہ عقائد اور رسوم چھوڑے اور انہیں بعد والی نسلوں نے تقلید آباء کے طور پر قبول کیا۔ تو ان بعد والی نسلوں کے گناہوں کی سزا کا کچھ حصہ ان پہلی نسلوں پر بھی ڈالا جائے گا۔ جنہوں نے ان شرکیہ عقائد و رسوم کو رواج دیا تھا یا کسی دوسرے برے کام کی طرح ڈالی تھی۔
Ayah 41:2024 اعضاء اور جوارح پر اعمال کے اثرات اور ان کی گواہی :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی اچھے یا برے اعمال بجا لاتا ہے۔ یہی نہیں کہ کراماً کاتبین اس کے اعمال نامہ میں اس کے سب اعمال و اقوال درج کرتے جاتے ہیں بلکہ ان اعمال و افعال کے اثرات ان اعضاء پر بھی ثبت ہوتے جاتے ہیں جن کو اس کام کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔ جو مجرم اپنے گناہوں کا اور پھر خارجی گواہیوں کا بھی انکار کردیں گے ان پر انہیں کے اعضاء کو گواہ بنا کر لایا جائے گا۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن ذرات سے ہمارا جسم مرکب ہے۔ انہی ذرات سے ہمارا وہ جسم بھی مرکب ہوگا جو قیامت کے دن ہماری روح کو ملے گا۔
Ayah 41:2125 گویائی کے اعضاء اور ان کی ساخت :۔ زبان بھی ویسے ہی گوشت اور پٹھوں کا ایک ٹکڑا ہے جیسے دوسرے اعضاء ہیں۔ اور قوت گویائی میں صرف زبان ہی کام نہیں کرتی۔ بلکہ گلے کی رگیں، جن کی وجہ سے کسی کی آواز سریلی ہوتی ہے کسی کی کرخت، پھر ہونٹ اور تالو وغیرہ سب استعمال میں آتے ہیں۔ تب جاکر انسان بولتا ہے۔ جسم کے اعضاء کا مواد ایک جیسا ہے صرف ساخت کا فرق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان اعضاء کی ایسی ساخت بنائی ہے جس سے کوئی جاکر بولنے کے قابل ہوجاتا ہے تو جو ہستی ان اعضاء کی ساخت اور بالخصوص پہلی بار کی ساخت پر قادر ہے اس کے لیے بوقت ضرورت کسی دوسرے عضو کی ساخت میں ایسی تبدیلی کردینا کیا مشکل ہے جس سے وہ بولنے لگے۔ اس طرح جب مجرموں کے دوران جرم مستعمل اعضاء ہی ان کے خلاف گواہی دے دیں گے تو پھر ان کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے گی۔ اس طرح علی رؤس الاشہاد ان کا فیصلہ کرکے انہیں سزا دی جائے گی۔
Ayah 41:2226 یعنی یہ بات تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والے ہمارے اپنے اعضاء بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان سے بھی بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر تم یہ سوچ لیتے تو تم سے گناہ کا سرزد ہونا ہی ناممکن تھا۔ کیونکہ نہ تم خود اپنے اعضاء سے چھپ سکتے تھے اور نہ ان سے گناہ کو چھپا سکتے تھے۔ نہ ان کے بغیر گناہ کا کام کرسکتے تھے۔
27 اللہ کی صفات سمیع وبصیر ہونے میں شک کا نتیجہ۔ بداعمالیاں :۔ بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یہ علم نہ تھا کہ ہمارے اعضاء ہمارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔ بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے اگر تمہیں یہ یقین ہوتا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے یا ہماری باتیں سن رہا ہے یا ہمارے حالات سے پوری طرح باخبر رہتا ہے تو بھی تم سے گناہ سرزد ہونے کا امکان نہ تھا۔ تمہارا اللہ کے متعلق بھی ایسا یقین انتہائی کمزور تھا کہ وہ تمہارے تمام حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ چناچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حرم کعبہ میں تین آدمی بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان تینوں میں سے دو تو قریشی تھے اور ایک ان کا برادر نسبتی تھا۔ جو ثقفی تھا۔ یہ تینوں خوب موٹے تازے تھے توندیں نکلی ہوئی تھیں مگر عقل کے سب ہی پورے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ ہماری باتیں سن سکتا ہے ؟ دوسرا بولا : ہاں ! اونچی آواز سے بات کریں تب تو سن لیتا ہے۔ اور اگر آہستہ آہستہ آواز سے چپکے چپکے بات کریں تو پھر نہیں سنتا تیسرا کہنے لگا : اگر وہ اونچی آواز کو سن لیتا ہے تو آہستہ آواز والی بات بھی سن سکتا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة حٰم السجدۃ)
Ayah 41:2328 اللہ کے متعلق جیسا بندہ گمان رکھے گا ویسا ہی اللہ اس سے معاملہ کرے گا :۔ تمہارا اللہ کے متعلق علم اس قدر کمزور اور مشکوک قسم کا گمان رہا۔ اس لیے تم نے گناہوں سے بچنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ تم نہ روز آخرت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے خائف تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم گناہوں پر دلیر ہوتے گئے اور ساری زندگی ہی گناہوں میں گزار دی۔ اپنے پروردگار سے تمہاری یہی بےیقینی تمہاری ہلاکت کا باعث بن گئی۔ اس سے واضح طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان جس قسم کی معرفت اپنے پروردگار کی نسبت رکھتا ہے اس طرز اور اسی سانچے میں اس کی پوری زندگی ڈھل جاتی ہے۔ اگر اللہ کی معرفت درست ہوگی تو اس کا طرز عمل پورے کا پورا درست رہے گا اور اس کے نتائج بھی درست نکلیں گے اور اگر معرفت ہی مشکوک یا غلط ہوگی تو اس کے دنیوی یا اخروی نتائج بھی ویسے ہی نکلیں گے۔ چناچہ درج ذیل حدیث قدسی اسی حقیقت کی وضاحت کرتی ہے : سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ( أنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ ) (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ تعالیٰ (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ 15) 48 ۔ الفتح :15) یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے ویسا ہی اس کا میرے بارے میں معاملہ ہوگا اور اسی کے گمان کے مطابق میں اس سے سلوک کروں گا۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے :
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے زندگی میں کوئی نیکی کا کام نہ کیا تھا۔ اس نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر آدھی راکھ دریا میں پھینک دینا اور آدھی ہوا میں بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم ! اگر اس نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسی سزا دے گا جو سارے جہانوں میں کسی دوسرے کو نہ دی گئی ہو۔ اللہ نے دریا اور ہوا کو حکم دیا اور اس کے تمام اجزاء اکٹھے کرلیے۔ پھر اسے اپنے پاس حاضر کرکے پوچھا : تم نے ایسا کام کیوں کیا تھا ؟ اس نے جواب دیا : اے اللہ تو جانتا ہی ہے کہ میں نے یہ کام تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھا پھر اللہ نے اسے بخش دیا۔ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ تعالیٰ (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ 15) 48 ۔ الفتح :15)
Ayah 41:2429 یعنی دنیا میں صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ لیکن وہاں صبر کا بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ وہ صبر کریں یا نہ کریں عذاب سے نجات نہ مل سکے گی۔
30 استعتب کے مختلف مفہوم :۔ (یَسْتَعْتِبُوْا) کا مادہ عتب ہے اور عتب کے یا عتاب کے معنی ناراضگی دور کرنے کے لیے میٹھے انداز میں خفگی کا اظہار کرنا ہے یعنی ایسی میٹھی میٹھی سرزنش اور ملامت جس کا مقصد بالآخر رضامند ہونا اور مان جانا ہو اور إسْتَعْتَبَکے معنی کسی روٹھے ہوئے کو منا لینا اور اعتب کے معنی سبب ناراضگی کو دور کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ دوبارہ دنیا میں آنے کی خواہش کریں تو ان کی یہ خواہش تسلیم نہیں کی جائے گی اور تیسرا یہ کہ اگر وہ خوشامد یا منت سماجت کرکے منانا چاہیں جیسا کہ دنیا میں اس طرح بھی کام چل جاتا ہے تو ان کی اس خوشامد یا منت سماجت کا بھی کچھ اثر نہ ہوگا۔
Ayah 41:2531 قرین کا مفوم نیزآدمی کا کردار اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے :۔ قُرَنَاء قرین کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہم عمر ساتھی ہے جو بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو، ہمجولی اور اس لفظ کا استعمال برے معنوں میں ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کو بھول کر بداعمالیوں میں لگے رہتے ہیں تو ان کے ہمجولی بھی انہی کی قسم کے شیطان سیرت ہوتے ہیں۔ جو اس کے ہر برے عمل پر اسے شاباش اور داد تحسین ہی دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً چوروں یا ڈاکوؤں کے گروہ میں سے اگر ایک شخص اپنی چوری یا ڈاکہ کی داستان سنائے گا تو دوسرے ساتھی اس کے اس کارنامہ کو بہادری پر محمول کرکے فخریہ انداز میں اس کی داستان سنیں سنائیں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ خیال نہ آئے گا کہ وہ لوگوں کے اموال غصب کرکے کتنے بڑے کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ برے اور بدکردار آدمیوں کو ان جیسے ہی دوست اچھے لگتے ہیں اور کسی بدکردار آدمی کی کسی نیک فطرت آدمی سے دوستی ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گی۔ اسی طرح نیک لوگوں کے دوست بھی ہمیشہ نیک لوگ ہی ہوا کرتے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔ نیک سیرت انسان سے کسی بدکردار کی دوستی کبھی نبھ نہیں سکتی۔ لہذا بعض آدمیوں کا یہ کہنا کہ فلاں آدمی خود تو اچھا تھا مگر اسے ساتھی برے مل گئے یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر وہ فی الواقع اچھا تھا تو دو ہی صورتیں ممکن ہیں یا تو وہ دوسروں کو بھی اچھا بنا لیتا اور یا پھر ان سے الگ ہوجاتا۔ اور اگر اس نے یہ دونوں کام نہیں کیے تو پھر وہ اچھا کیسے ہوا ؟
32 یعنی جو لوگ اپنے برے ساتھیوں کی باتوں پر لگ جاتے ہیں۔ اور ان کے بھرے میں آجاتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ خود ہی اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔
Ayah 41:2633 ابن دغنہ کا ابوبکر ؓ کو پناہ دینا بشرطیکہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھیں :۔ جو شخص بھی قرآن سنتا تھا تو قرآن کی بات اس کے دل میں اتر جاتی تھی اور یہی بلا کی تاثیر قرآن کا اعجاز تھا جس سے قریش مکہ سخت خائف رہتے تھے۔ اور قرآن سے متعلق انہوں نے تین طرح کے اقدام کئے تھے تاکہ اس کی آواز کو دبایا جاسکے۔ ان میں سے پہلا اقدام تو مسلمانوں پر پابندی تھی کہ وہ قرآن کو اونچی آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں خود رسول اللہ پر کئی بار حملے ہوئے اور مسلمانوں کی بھی پٹائی ہوئی۔ اسی جرم کی پاداش میں سیدنا ابوبکر صدیق ؓ پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا اور آپ ہجرت کی غرض سے نکل کھڑے ہوئے۔ برک غماد کے مقام پر پہنچے تھے کہ قبیلہ قارہ کا سردار ابن دغنہ انہیں اپنی پناہ میں لے کر واپس مکہ لے آیا۔ سرداران قریش نے اس پناہ کو صرف اس شرط پر منظور کیا کہ آپ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں گے۔ مگر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ زیادہ دیر اس شرط پر قائم نہ رہ سکے تو قریشی سرداروں نے ابن دغنہ کے پاس جاکر شکایت کی۔ ابن دغنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آکر انہیں اپنا عہد یاد دلایا اور کہا کہ اگر تم برسرعام قرآن بلند آواز سے پڑھنا نہ چھوڑو گے تو میں تمہاری پناہ سے دستبردار ہوتا ہوں۔ اس کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : تم اپنی پناہ اپنے پاس رکھو اور میرا معاملہ اللہ کے سپرد ہے (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب ہجرۃ النبی )
خ ابو جہل کا قرآن سے متاثر ہونا :۔ ان کا دوسرا اقدام یہ تھا کہ ان سرداروں نے آپس میں بھی پابندی لگا رکھی تھی کہ وہ عمداً قرآن نہیں سنا کریں گے۔ اور یہ ایسی پابندی تھی جسے یہ پابندی لگانے والے سردار خود بھی نباہ نہ سکے۔ کیونکہ ان کے کان اور ان کے دل قرآن کی بلا کی تاثیر سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ آپ رات کو کعبہ میں کھڑے ہو کر بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے اور تین قریشی سردار ایک دوسرے سے چھپتے چھپاتے آپ کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہوگیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس سوال کا صحیح جواب دینے کی بجائے ابو جہل نے بات کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا کہ ہم (یعنی بنو مخزوم) اور بنو عبدمناف سب باتوں میں ہمسر تھے۔ اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کرکے ان کی برتری کیسے تسلیم کرسکتے ہیں ؟ گویا اس کا صحیح جواب کو گول کر جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کی تاثیر سے متاثر ہوچکا تھا اور آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں محض قبائلی رقابت اور تکبر اس کے آڑے آرہا تھا۔
خ قرآن کی آواز کو دبانے کا جدید طریقہ : لاؤڈ سپیکر :۔ اور ان کا تیسرا اقدام یہ تھا کہ جہاں قرآن پڑھا جارہا ہو وہاں خوب شور مچاؤ، تالیاں بجاء اور اتنا غل غپاڑہ کرو کہ قرآن کی آواز اس شور میں دب جائے اور کسی کے کان میں نہ پڑنے پائے۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں۔ اور مکہ کے کافروں کو تو شور مچانے کی زحمت برداشت کرنا پڑتی تھی آج یہ زحمت بھی گوارا نہیں کرنا پڑتی۔ بس لاؤد سپیکر کے طاقتور اور زیادہ ہارن لگا دینے سے ہی یہ مقصد حاصل کرلیا جاتا ہے۔
Ayah 41:2734 ان کے برے سے برے کام یہی تھے کہ ایک تو وہ خود اللہ کی آیات کا انکار کردیتے تھے۔ دوسرے ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا بھی اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرنے پائے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے مندرجہ بالا پابندیوں کے علاوہ اور بھی بہت سے مذموم طریقے اختیار کر رکھے تھے اور نئی سے نئی سازشیں تیار کرتے رہتے تھے۔
Ayah 41:2835 ایسے لوگ صرف منکر حق ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے، اللہ کے رسول کے، اللہ کے دین کے، سب کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ پھر اللہ انہیں سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا ؟
Ayah 41:2936 گمراہوں کی اپنے لیڈروں کو پاؤں تلے روندنے کی آرزو :۔ یہاں جنوں سے مراد شیطان ہیں یعنی بدکردار جن جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کافر جب اپنا انجام دیکھیں گے تو انہیں اپنے وہ قائد، وہ سیاسی لیڈر وہ مذہبی پیشوا یاد آئیں گے جن کے پیچھے لگ کر یہ گمراہ ہوئے تھے۔ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ آج وہ قائد ہمیں دکھادے تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل کر کچھ تو انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرلیں۔
Ayah 41:3037 دین کی تفہیم مختصر ترین الفاظ میں :۔ یہ ایک ایسا جامع جملہ ہے جس میں شریعت کی ساری تعلیم سمٹ کر آگئی ہے۔ چناچہ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ : مجھے اسلام کے متعلق ایک ہی ایسی بات بتا دیجئے جس کے بعد مجھے کسی دوسرے سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے آپ نے فرمایا : کہو ! میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب جامع اوصاف الاسلام) یعنی جن لوگوں نے دل و جان سے توحید باری تعالیٰ کا اقرار کیا۔ پھر تازیست اپنے اس قول وقرار کو پوری دیانتداری اور راست بازی سے نبھایا۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ نہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے جو کچھ زبان سے کہا تھا اس کے تقاضوں کو اعتقاداً اور عملاً پورا کیا۔ جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکرگزاری کے لیے کیا۔ اپنے رب کے مقرر کردہ حقوق و فرائض کو سمجھا اور ادا کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے جنت کی خوشخبری دینے والے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
38 فرشتوں کے نزدل کا مفہوم :۔ جس طرح ہر افاک اور اثیم پر شیطان نازل ہوتے ہیں جو ان کے دلوں میں القاء کرتے اور وسوسے ڈالتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے دین پر ڈٹ جانے والوں اور مشکلات کے دور میں صبرواستقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جس سے ان کے دلوں کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ فرشتوں کے نزول کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مرئی اور محسوس طور پر ہو۔ فرشتے میدان بدر میں نازل ہوئے تھے اور ان کے نزول کا مقصد بھی یہی مذکور ہے۔ کہ ان کے نزول سے مسلمانوں کے دلوں کو ڈھارس بندھائی جائے مگر وہ سوائے رسول اللہ کے کسی کو نظر نہیں آتے تھے اور جب تک یہ مادی زندگی ختم نہیں ہوجاتی اور مادیت کے پردے چاک نہیں ہوجاتے تب تک فرشتوں کا نزول اسی صورت میں ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ البتہ مرنے کے ساتھ ہی جب یہ پردے اور حجاب اٹھ جائیں گے تو موت کے وقت پھر قبر میں پھر قیامت میں ہر جگہ فرشتے انسانوں کو یقیناً نظر آئیں گے۔
39 فرشتوں کے نزول کا مقصد :۔ یعنی فرشتے جب ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں تو انہیں یہ تلقین کرتے ہیں یا ان کے دل میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ باطل کی طاقتیں خواہ کتنی ہی چیرہ دست ہوں ان سے خوف زدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور حق پرستی کی وجہ سے جو مظالم تم پر ڈھائے جارہے ہیں ان پر رنج نہ کرو کیونکہ اللہ نے تمہارے لیے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی سب نعمتیں ہیچ ہیں۔ اور موت کے وقت بھی فرشتے ہر مومن سے یہی کلمات کہتے ہیں۔ اس وقت وہ فرشتوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کی بات بھی سمجھتا ہے تو اس وقت ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آگے جس منزل کی طرف تم جارہے ہو اس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جنت تمہاری منتظر ہے اور دنیا میں جنہیں تم چھوڑ کر جارہے ہو ان کے لیے بھی رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم تمہارے ولی اور رفیق ہیں۔
Ayahs 41:31–3240 اس آیت میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی ان فرشتوں کا ہی کلام ہو جو ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ فرشتوں کی دنیا میں ولایت کا ذکر کرچکا، آخرت میں یوں ہوگی کہ وہ ہر ہر مقام پر ان کا استقبال کریں گے۔ انہیں سلامتی کی دعائیں اور جنت کی بشارت دیں گے۔
Ayah 41:3341 اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تبلیغ :۔ پچھلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ پر ایمان لانے کے بعد ساری زندگی اپنے اس قول وقرار پر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ اس آیت میں ان سے بھی اگلے درجہ کے ایمانداروں کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ جو صرف خود ہی احکام الٰہی کی بجاآوری پر جمے نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو اسی بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ سب سے پہلے خود عمل پیرا ہو کر اللہ کی فرمانبرداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دوسروں کو بلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا پہلے خود عمل پیرا ہونا پھر اس کے بعد اللہ کے دین کی طرف بلانا انتہائی بہترین عمل ہے۔
Ayah 41:3442 بدی کا جواب بدی سے دینے سے دعوت کو نقصان پہنچتا ہے اور بھلائی سے دینے سے دشمن بھی دوست بن جاتا ہے۔ اس آیت میں دعوت الیٰ اللہ کا ایک زریں اصول بیان کیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ نیکی اور بدی کبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ اور یہ اس لیے بتایا گیا ہے کہ کفار مکہ دعوت اسلام کو کچلنے کے لیے بدترین ہتھکنڈوں پر اتر آئے تھے۔ مسلمانوں کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ بدی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوسکتا۔ بدی بالآخر بدی کرنے والے کا ہی بھٹہ بٹھا دیتی ہے۔ لہذا داعی الیٰ اللہ کو بدی کا جواب کبھی بدی سے نہ دینا چاہئے۔ بلکہ اسے برداشت کرنا چاہئے اسے کوئی فوری جواب نہ دینا چاہئے اور اس سے اگلا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ اس کی بدی کا جواب بھلائی سے دیا جائے۔ اس طرح دشمن خود نگوسار اور شرمندہ ہوگا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ میں نے کیا سلوک کیا تھا۔ اور فریق مخالف کا میرے حق میں سلوک کیا ہے ؟ وہ آپ کے خلوص اور آپ کی خیرخواہی اور راست بازی کا معتقد ہوجائے گا حتیٰ کہ آپ کی مخالفت چھوڑ کر آپ کے ساتھ آملے گا اور آپ کا جگری دوست بن جائے گا۔ اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی دعوت الی اللہ کی منزل کھوٹی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس میں مزید پیش رفت ہوجائے گی۔ اور اگر آپ برائی کا جواب برائی سے دیں گے تو پھر ادھر سے مزید برائی اٹھے گی اس طرح ایک تو مخالفت پہلے سے بھی بڑھ جائے گی۔ دوسرے تمہارا اصل مقصد فوت ہوجائے گا اور دعوت الی اللہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے گا۔
Ayah 41:3543 بدلہ لینے کے لحاظ سے لوگوں کی تین قسمیں :۔ دنیا میں لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کا بدلہ نیکی سے دیتے ہیں۔ اور عام لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو نیکی کا بدلہ بھی برائی سے دیتے ہیں۔ یہ بدترین لوگ ہوتے ہیں جو بچھو کی سرشت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بالآخر آپ ہی اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ان کی اس بدفطری کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان سے پرے ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور تیسرے وہ جو برائی ہونے پر بھڑک نہیں اٹھتے بلکہ اسے برداشت کر جاتے ہیں۔ بعد میں برائی کرنے والے سے خیرخواہی اور بھلائی کا سلوک کرتے ہیں۔ اور یہ کام کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ بڑے حوصلہ اور دل گردہ کا کام ہے۔ اور ایسے کام کی اسی سے توقع کی جاسکتی ہے جو بڑا صاحب عزم اور عالی حوصلہ شخص ہو۔ ایسے لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔
Ayah 41:3644 برائی پر غصہ سے بھڑک اٹھنا شیطانی انگیخت ہے :۔ یعنی جب کوئی شخص برائی کرے اور انسان غصہ سے بھڑک اٹھے اور بدلہ لینے پر تیار ہوجائے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ یہ شیطانی انگیخت ہے۔ شیطان اسے یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ اس قسم کی بےعزتی کو ہرگز برداشت نہ کرنا چاہئے۔ پھر وہ اسے انتقام لینے پر آمادہ کردیتا ہے۔ ایسی صورت حال پیش آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیجئے اور شیطان مردود سے، جو اس بات کا محرک بنا تھا، اللہ کی پناہ میں آجائیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کی حرکات و سکنات کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے احوال سے بھی خوب واقف ہے لہذا وہ خود ہی تمہاری چارا جوئی فرمائے گا۔
45 غصہ کا علاج :۔ سیدنا سلیمان بن صُرَد کہتے ہیں کہ ایک دفعہ دو آدمیوں نے رسول اللہ کے سامنے گالی گلوچ کی اور ایک کو اتنا غصہ آیا کہ اس کا چہرہ پھول گیا۔ اور رنگ بدل گیا آپ نے فرمایا : مجھے ایک ایساکلمہ معلوم ہے۔ اگر غصہ کرنے والا شخص وہ کلمہ کہے تو اس کا غصہ جاتا رہتا ہے۔ ایک دوسرا شخص اس کے پاس گیا اور آپ نے جو فرمایا تھا اسے اس کی خبر دی اور کہا : شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم نے مجھے دیوانہ سمجھ لیا ہے یا مجھے کوئی روگ ہوگیا ہے ؟ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب ما ینہی من السباب واللعن) حالانکہ اس کا یہ جواب ہی دیوانگی کی علامت ہے۔ غصہ میں انسان کی عقل پر جذبات غالب آجاتے ہیں۔ اور عقل جاتی رہتی ہے اور دیوانہ بھی اسے کہتے ہیں جس میں عقل نہ ہو۔ رہا یہ سوال کہ وہ کلمہ کون سا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اللہ سے پناہ مانگے یا ( أعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیطْنِ الرَّجِیْمِ ) کہے۔
Ayah 41:3746 پیکر محسوس اور غیر اللہ کی پوجا :۔ مشرکین اور بعض صاحبان طریقت یا وحدت الوجود کے قائلین رہبان اور پیر و فقیر قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند وغیرہ اللہ تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ لہذا ہم جو سورج اور چاند کی پرستش کرتے ہیں تو فی الحقیقت انہیں اللہ کا پیکر محسوس سمجھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے مظاہر یا پیکر محسوس نہیں بلکہ اللہ کی یہ نشانیاں ہیں اور اس کے غلام ہیں۔ ان کا تعلق دن اور رات سے ہے۔ دن کو سورج نکلتا ہے تو چاند روپوش ہوتا ہے اور رات کو چاند ہوتا تو سورج روپوش ہوتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس قدر پابندی سے اپنا کام سرانجام دینے والی چیزیں الٰہ نہیں ہوسکتیں۔ اور دوسرا یہ کہ جو چیزیں عروج وزوال سے دوچار ہوں وہ الٰہ نہیں ہوسکتیں۔ لہذا اگر تم فی الواقع اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اللہ کی عبادت کرو جو ان چیزوں کا خالق اور مالک ہے اور ان درمیانی وسائط کو درمیان سے نکال دو ۔ کوئی چیز بھی اللہ کا مظہر نہیں یہ تو اس کی نشانیاں ہیں تاکہ ان سے تم اس کی معرفت حاصل کرو۔
Ayah 41:3847 اللہ کی تسبیح میں ہمہ وقت مشغول رہنے والے فرشتے :۔ اپنے شرک اور اپنی جہالت پر ڈٹے رہیں اور آپ کی بات تسلیم کرنے میں اپنی توہین سمجھیں تو اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں کیونکہ اللہ ان کی نافرمانی یا فرمانبرداری سے بےنیاز ہے اور اس کے پاس فرشتوں کی ایک عظیم جمعیت موجود ہے جو اس کے حکم سے تدبیر امور کائنات کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ انہیں اللہ کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں۔ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے علاوہ ازیں وہ اس کی تسبیح وتحمید میں بھی ہر وقت مشغول رہتے ہیں یہی ان کی غذا اور یہی ان کا وظیفہ حیات ہے۔ وہ اپنے قول اور فعل سے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق ومالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر اگر یہ لوگ ان حقائق کے علی الرغم اللہ کے شریک بنانے پر ہی تلے بیٹھے ہیں تو ان کی اس جہالت سے حقائق تو نہیں بدل سکتے۔
Ayah 41:3948 زمین کی روئیدگی سے معاد پر دلیل :۔ اس قدر خشک ہوچکی تھی کہ اس کی اوپر کی سطح خشکی کی وجہ سے پتھر کی طرح بن چکی تھی۔ اوپر سے پانی برسا تو وہ پھولنے لگی۔ بارش کے پانی کی اس مٹی میں آمیزش سے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ اور وہ بیج جو کبھی کے زیر زمین پڑے ہوئے تھے۔ ان میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے تو اس پھولی ہوئی زمین سے ان بیجوں کے پودوں کی کونپلیں زمین سے باہر نکل آئیں۔ حتیٰ کہ زمین نباتات سے لہلہا اٹھی اور اس پر جوبن آگیا پھر اس بارش سے کئی جانور مینڈک، پپی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہوگئے۔ بالکل ایسی ہی صورت قیامت کے قریب واقع ہوگی آسمان سے ایک خاص قسم کی بارش برسے گی جس سے تمام مردوں میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی۔ پھر نفخہ صور ثانی کے وقت تمام مرے ہوئے انسان اپنی قبروں سے اس طرح نکل آئیں گے جیسے کونپل زمین سے نکل آتی ہے پھر وہ میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔
Ayah 41:4049 الحاد کے معنی :۔ (یُلْحِدُوْنَ ) کا مادہ لحد ہے اور لحد بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ اور الحد بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہوجانا اور الحد السھم کے معنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا اور الحد عن الدین کے معنی دین میں طعن کرنا۔ (مفردات القرآن) اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے (فق۔ ل 189) جیسے اللہ کی ذات وصفات میں شک کرنا یا اس کے غلط معنی لینا یا معجزات سے انکار کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ 180۔ ) 7 ۔ الاعراف :180) یعنی جو لوگ اللہ کے ناموں (صفات) میں کجی اختیار کرتے ہیں۔
خ الحاد کا تعلق اللہ کی صفات سے۔ ملحدین کو کون کون سے فرقے ہیں ؟:۔ اس لحاظ سے اس مقام پر اللہ کی آیات سے مراد اللہ کی صفات بیان کرنے والی آیات ہوگا اس کی مثال جیسے اللہ کی تقدیر سے تعلق رکھنے والی آیات میں الحاد کی بنا پر قدریہ اور جبریہ دو فرقے وجود میں آگئے۔ خوارج نے بھی اللہ کے حکم ہونے سے مراد یہ لی کہ اللہ کے علاوہ نہ اللہ کا قرآن حکم بن سکتا ہے اور نہ ہی انسان حکم بن سکتا ہے۔ معتزلہ نے اللہ کی صفات کو اللہ کی ذات سے جدا کرکے اللہ کی صفات کو حادث قرار دیا اور مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ اٹھا کھڑا کیا۔ علاوہ ازیں جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں سب ہی اللہ کی صفات میں الحاد کرکے اس سے اپنا مفید مطلب مفہوم کشید کرلیتے ہیں۔ ایسے ملحدین جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں سب اللہ کی نظر میں ہیں۔ اور وہ اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔
50 انداز بیان میں سخت دھمکی پائی جاتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو کہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی آیات میں الحاد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔