Ayah 41:4151 یعنی قرآن کریم زبردست کتاب ہے۔ زیردست نہیں۔ اس کے بیان کردہ دلائل اور حقائق کو نہ جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ نیچا دکھایا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب نیچا رہنے کے لیے نازل نہیں کی گئی۔ بلکہ زبردست رہنے کے لیے نازل کی گئی ہے۔ لہذا جو لوگ اس کتاب کا انکار کرتے ہیں ان کا انجام زیردستی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 41:4252 قرآن میں باطل کی عدم مداخلت کے مختلف پہلو :۔ یہ آیت کتاب اللہ کے زبردست ہونے کی وجہ یہ بتارہی ہے کہ اس میں نہ آگے سے، نہ پیچھے سے، نہ اوپر سے، نہ نیچے سے غرض کسی طرف سے بھی باطل داخل نہیں ہوسکتا اور اس جملہ کے بھی کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا کلام ہے جسے اللہ نے جبرئیل کے ذریعہ رسول اللہ کے دل پر نازل کیا۔ جبرئیل فرشتہ ایسا ہے جو امین بھی ہے اور قوی بھی۔ یعنی نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں خود کوئی کمی بیشی کرتا ہے اور نہ کوئی جن یا شیطان یا کوئی دوسری طاقت اس سے کسی کلام کا کچھ حصہ چھین سکتی یا اس میں آمیزش کرسکتی ہے۔ پھر جب جبرئیل نے آپ کے دل پر اتار دیا اور آپ کی صداقت و دیانت پر آپ کے دشمن بھی شاہد تھے اور آپ نے وہ کلام جوں کا توں امت تک پہنچا دیا تو اب بتاؤ کہ اس کلام میں باطل کی آمیزش کے لیے کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن نازل ہوا ہے۔ اسی وقت سے مسلمانوں کے سینوں کے اندر محفوظ ہو کر نسلاً بعد نسل تواتر کے ساتھ منتقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ اور ہر زمانہ میں لاکھوں کی تعداد میں اس کے حافظ موجود رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں اور یہ شرف کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں۔ دوسری طرف اس کے نزول کے ساتھ ہی اس کی کتابت شروع ہوگئی تھی اس دور سے لے کر آج تک مسلسل اور متواتر اس کی اشاعت ہو رہی ہے اور کروڑوں اور اربوں تک اس کے نسخے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ شرف بھی اسی کتاب کو حاصل ہے کہ یہ دنیا بھر کی سب سے زیادہ کثیر الاشاعت کتاب ہے۔ اب ایک طرف یہ کتاب سامنے رکھئے دوسری طرف ایک چھوٹے سے حافظ بچے کو سنانے کے لیے کہہ دیجئے۔ آپ پر اس قرآن کا اعجاز ثابت ہوجائے گا۔ قرآن کے شائقین نے اس کی آیات، اس کے الفاظ، اس کے حروف، اس کے نقاط اور اس کے اعراب (زیر، زبر، پیش) غرضیکہ ایک ایک چیز کو گن کر ریکارڈ کر رکھا ہے۔ اب بتائیے کہ اس کتاب میں کسی ایک لفظ بلکہ حرف کی بھی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ ؟ اور باطل اس میں کسی طرح راہ پاسکتا ہے ؟ اور اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے جو حقائق بیان کئے ہیں، کوئی علم ایسا وجود میں نہیں آسکتا جو فی الواقع علم ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو، کوئی تجربہ کوئی مشاہدہ ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ ثابت کرے کہ قرآن نے عقائد، اخلاق، قانون، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست کے باب میں انسان کی جو رہنمائی دی ہے وہ غلط ہے۔ باطل خواہ سامنے سے آکر حملہ آور ہو یا ادھر ادھر کے راستوں سے ہو کر چھاپے مارے وہ کسی طرح بھی اس حقیقت کو شکست نہیں دے سکتا جو قرآن نے پیش کی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق انسان کا علم خواہ کتنا ہی ترقی کر جائے وہ محدود ہی ہوگا اور اس کے بعد بھی اس چیز کے متعلق مزید انکشافات ہوتے رہیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود ہے۔ علاوہ ازیں وہ ہر چیز کا خالق ہے اور خالق اپنی بنائی ہوئی چیز کے متعلق جتنی معلومات رکھتا ہے دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔
Ayah 41:4353 رسولوں کو قوم سے کیا کچھ سننا پڑا ؟ :۔ اس طرح کی آیات کا نزول وقتاً فوقتاً ہوا اور بارہا ہوا اور ہونا چاہئے بھی تھا۔ کیونکہ تیرہ سالہ دور نبوت سارے کا سارا ہی کفار کے ہاتھوں ایذا رسانیوں میں گزرا۔ جن کی ایک قسم استہزاء اور اعتراضات بھی تھے۔ استہزاء اللہ کی آیات سے ہوتا تھا۔ اللہ کے رسول سے بھی اور مسلمانوں سے بھی۔ مثلاً یہی کہ کیا یہی شخص اللہ کو رسالت کے لیے ملا تھا ؟ یہ تو جادوگر ہے، کاہن، شاعر ہے مجنون ہے۔ اسی طرح یہ کہ اگر تم اپنے اس کام سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا مار ہی ڈالیں گے۔ یا یہ کہ تمہارے پیروکار کچھ کمینے اور رذیل سے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ ہم تو ان کی موجودگی میں تمہارے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے چہ جائیکہ تمہاری باتیں سنیں۔ ایسی باتیں جو آپ کفار سے سنتے رہتے ہیں۔ پہلے رسولوں کو بھی یہ سب باتیں سننا پڑی تھیں۔
54 یہ اللہ تعالیٰ کی صفت حلم اور عفو ہی ہے کہ وہ اپنے دین کی اور اپنے فرمانبردار بندوں کی اس طرح توہین ہوتے دیکھ کر بھی ان سے درگزر کئے جاتا اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے۔ ورنہ اس کے صاحب انتقام ہونے کا تو یہی تقاضا تھا کہ انہیں فوراً کسی دردناک عذاب سے تباہ کر ڈالتا۔ مگر وہ اس عذاب کو مؤخر کئے جارہا ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیئت کے تحت ہو رہا ہے۔
Ayah 41:4455 اگر قرآن عجمی زبان میں نازل ہوتا تو کفار کے اعتراض کی صرف نوعیت ہی بدلتی :۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی کافروں کی خوئے بد کی ایک اور مثال ہے۔ اعتراض کرتے وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے اس اعتراض میں کچھ معقولیت ہے بھی یا نہیں ؟ ان کا اعتراض یہ تھا کہ یہ رسول عربی ہے اور عربی زبان میں ہی کلام سناتا ہے۔ تو اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام اس کا اپنا تصنیف کردہ ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ کلام کسی دوسری زبان مثلاً فارسی یا رومی زبان میں ہوتا اور یہ فرفر ہمیں سناتا۔ اور ہم سمجھتے کہ یہ زبان تو یہ جانتا ہی نہ تھا۔ لہذا ممکن ہے کہ اللہ کا رسول ہو اور فرشتہ ہی اس کو ایسا کلام پڑھاتا ہو۔ اسی اعتراض کا اس آیت میں جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر ہم قرآن غیر عربی زبان میں نازل کرتے تو ان کے اعتراض کی شکل یہ ہوتی کہ : واہ ! یہ بھی عجب معاملہ ہے۔ یہ نبی کلام ایسی زبان میں پیش کرتا ہے جسے ہم سمجھ بھی نہیں سکتے تو اس پر ایمان کیا لائیں ؟ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے بہرحال اعتراض ہی کرنا ہے جو بھی صورت ہو اور یہی کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔
56 آپ ایسے اعتراض کرنے والوں سے کہئے کہ جن لوگوں کی عقل سلیم ہے وہ اسی قرآن سے راہ ہدایت بھی حاصل کر رہے ہیں اور اپنی روحانی بیماریوں سے شفا بھی پا رہے ہیں۔ اگر تم خود سننا، دیکھنا اور ہدایت حاصل ہی نہ کرنا چاہو تو اس میں اللہ کی کتاب کا کیا قصور ہے جو اسے موردالزام ٹھہراتے ہو ؟
57 کافروں پر قرآن کے دلائل دھندلائے ہی رہتے ہیں :۔ ایک پرندہ ہے چمگاڈر جس کی آنکھیں سورج کی روشنی میں چندھیا جاتی ہیں اور وہ دن کی روشنی میں اپنی آنکھیں بند ہی رکھتا ہے۔ حالانکہ سورج سب کے لیے ایک عظیم نعمت ہے لیکن چمگاڈر کو بھلا نہیں لگتا۔ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ آفتاب ہدایت نکلا تو ان کو بھلا نہیں لگتا۔ اس میں چشمہ آفتاب یا آفتاب ہدایت کا کیا قصور ہے۔ یہ اگر کچھ کلام اللہ سنتے بھی ہیں تو کانوں کے اندر پہنچنے ہی نہیں دیتے اور قرآن کے مضامین ہدایت اور دلائل توحید و معاد ان پر واضح ہوتے ہی نہیں بلکہ دھند لائے ہی رہتے ہیں۔
58 دور سے پکارنے والے کی آواز کانوں میں پڑ تو جاتی ہے۔ مگر یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ کہنے والا کہہ کیا رہا ہے ؟ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ اگر قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو چونکہ ان کی خواہش ہی نہیں ہوتی کہ اس سے کچھ ہدایت حاصل کریں۔ لہذا قرآنی آیات کے مفاہیم و مطالب ان پر دھند لائے ہی رہتے ہیں۔
Ayah 41:4559 یعنی جو کتاب تورات موسیٰ کو دی گئی تھی اس میں بھی جامع ہدایات موجود تھیں۔ اور لوگوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ کچھ ایمان لائے تھے اور بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت شروع کردی تھی۔ بالکل ایسی ہی صورت حال اب قرآن کے معاملہ میں پیش آرہی ہے اور اگر اللہ کی مشیئت میں یہ بات نہ ہوتی کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے تو ابھی ان لوگوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا جو اپنے بعض مفادات اور سرداریوں کی بقا کی خاطر دعوت حق کو بہرحال جھٹلانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اور پوری سرگرمیاں اس دعوت کو مٹانے پر صرف کر رہے ہیں۔ جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دل دعوت کو درست تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اندر ہی اندر یہ خدشہ کھائے جارہا ہے کہ اگر اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا تو پھر ہماری خیر نہیں۔
Ayah 41:4660 یعنی آپ کے پروردگار کو اپنے بندوں کو خواہ مخواہ سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔ نہ وہ یہ ظلم کرسکتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو کچھ بدلہ نہ دے اور نہ یہ کہ بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کی کوئی سزا نہ دے۔
Ayah 41:4761 جواب کا رخ اس طرف موڑ دینا جس کا تعلق عملی زندگی سے ہو :۔ اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا یہ حال ہے کہ شگوفہ کے اندر اس کے پھل کے نکلنے تک جو کیفیات گزرتی ہیں اور رحم مادر میں جنین پر جو جو مرحلے پیش آتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ ایسی ہی علیم ہستی جب یہ خبر دے رہی ہے کہ قیامت یقینی طور پر آنے والی ہے تو تمہیں اس بات پر یقین کرلینا چاہئے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی تو اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور یہ بات بتانا مشیئت الٰہی کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس طرح تخلیق انسانی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ کافروں کا یہ مشغلہ سا بن گیا تھا کہ وہ بار بار رسول اللہ سے یہی سوال کرتے رہتے تھے تو اس کے جواب میں مختلف مقامات پر مختلف جوابات دیئے گئے ہیں اور ان میں وہ پہلو اختیار کیا گیا ہے جس کا تعلق عملی زندگی سے ہو، رسول اللہ کا بھی یہی دستور تھا۔ چناچہ ایک دفعہ آپ سفر میں کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ راستہ میں کسی شخص نے زور سے پکارا : یا محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا : تجھ پر افسوس ! کیا تو نے اس کے لیے کچھ تیاری کرلی ہے (مسلم۔ کتاب البرو الصلۃ والادب۔ باب المرء مع من احب)
62 ( اٰذنّٰکَ ) کے معنی ہیں ہم آپ کے گوش گزار کر تو چکے ہیں یعنی قیامت کے دن مشرک لوگ شرک کا انجام دیکھیں گے تو اپنے شرک کا اقرار کرنے کی بجائے صاف مکر جائیں گے۔ بعض علماء نے یہاں شہید سے شاہد مراد لیا ہے۔ یعنی آج ہمیں اپنے معبودوں میں سے کوئی بھی یہاں نظر نہیں آرہا۔
Ayah 41:4863 یعنی قیامت کی ہولناکیوں سے اس قدر گھبرائے ہوئے اور حواس باختہ ہوں گے کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں اور دنیا میں وہ اپنے معبودوں کے متعلق جو تصورات جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، سب کچھ بھول جائیں گے کیونکہ انہیں صاف نظر آرہا ہوگا کہ آج کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا، نہ ہی عذاب سے بچنے کی کوئی صورت یا کوئی جگہ نظر آتی ہے۔
Ayah 41:4964 انسان کی حرص کی انتہا :۔ یعنی ایک عام اور دنیا دار انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ مال و دولت سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ ہر طرح کی بھلائیاں میرے ہی لیے ہوں۔ رزق بھی کشادہ اور وافر ملے، خوشحالی اور عیش و عشرت نصیب ہو، تندرستی بھی ہو اور اولاد بھی اچھی ہو۔ غرض بھلائی کی جو قسم ہوسکتی ہے وہ چاہتا ہے کہ سب کچھ اسے مہیا ہو اور اگر یہ سب چیزیں مہیا ہو بھی جائیں تو پھر یہ چاہتا ہے کہ ان میں ہر آن اضافہ بھی ہوتا رہے اور اس کی یہ حرص کبھی ختم ہونے کو نہیں آتی۔ چناچہ سیدنا عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر آدمی کو ایک وادی بھر سونا مل جائے جب بھی (قناعت نہیں کرنے کا) دوسری وادی چاہے گا اور اگر دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا۔ بات یہ ہے کہ آدمی کا پیٹ مٹی ہی بھرتی ہے (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب ما یتقی من فتنۃ المال)
65 تکلیف میں مایوس اور شاکی :۔ اور اس کی طبیعت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب اسے کوئی تنگی، فاقہ یا بیماری یا اسی قسم کا کوئی دوسرا دکھ پہنچتا ہے اور اسے اس تکلیف کے دور ہونے کے ظاہری اسباب نظر نہیں آتے تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر ناشکری کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ان ظاہری اسباب کے علاوہ بیشمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں جو اسے نظر نہیں آسکتے اور اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں۔ اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھ جائے تو یقیناً اس کی یہ حالت نہ ہو۔
Ayah 41:5066 آسائش میں اپنی تدبیر پر ناز :۔ اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ہم اس کی تنگی، فاقہ یا بیماری کو دور کردیں اور اس پر بھلے دن آجائیں تو پھر بھی اللہ کی طرف نہیں ہوتا، نہ اس ذات کا شکر ادا کرتا ہے جس نے اس کی تکلیف کو دور کردیا جس سے وہ قطعاً مایوس ہوچکا تھا۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ بس اس کی حسن تدبیر اور محنت کا نتیجہ تھا اور اگر میرے دن پھرگئے ہیں تو میں فی الواقع اس بات کا مستحق تھا۔
67 مالدار اور دنیا دار لوگوں کا نظریہ کہ اگر اللہ آج مجھ پر خوش ہے تو قیامت کو کیوں نہ ہوگا :۔ ایسا شخص اگر اللہ کی ہستی کو مانتا بھی ہے تو اس کی معرفت انتہائی ناقص ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ بس میں ہی ہوں۔ میرے اوپر کوئی ایسی ہستی نہیں جو کلیتاً میرے نفع و نقصان کی مالک ہو اور میری زندگی کی باگ ڈور اسی کے ہاتھوں میں ہو۔ اسی طرح روز آخرت اور اعمال کی جزا و سزا پر بھی اس کا ایمان انتہائی ناقص ہوتا ہے اور لوگوں کے کہنے پر وہ یہ فرض کرلیتا ہے کہ اگر مجھے اپنے پروردگار کے سامنے جانا بھی پڑا تو کیا وجہ ہے کہ وہ مجھے عذاب دے۔ میری موجودہ خوشحالی ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ یقیناً مجھ سے خوش ہے۔ پھر اس دن آخر کیوں خوش نہ ہوگا۔ گویا ایسے لوگوں کے نزدیک دنیا کی خوشحالی ہی ان کے پروردگار کی خوشنودی کی دلیل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ جس شخص کا اپنے پروردگار اور آخرت کے بارے میں ایسا غلط اور کمزور قسم کا ایمان ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کافر بھی ہوتا ہے اور مشرک بھی۔ جیسا کہ سورة کہف کے پانچویں رکوع میں بالکل ایسے ہی شخص کا قصہ گزر چکا ہے۔ اور ایسے شخص کی صحیح ذہنیت درج ذیل حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے :
سیدنا خباب بن ارتص کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار کا پیشہ کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل سہمی کے لیے ایک تلوار بنائی۔ اس کی مزدوری کے تقاضا کے لیے میں عاص کے پاس گیا اس نے کہا : میں تجھے یہ مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تو محمد (کے دین) سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا۔ میں تو اس وقت تک بھی اس دین سے نہیں پھر سکتا جب کہ تو مر کر دوبارہ جی اٹھے گا۔ اس نے کہا : کیا میں مرنے کے بعد پھر جیوں گا ؟ میں نے کہا، بیشک وہ کہنے لگا : اچھا پھر جب میرے مرنے کے بعد اللہ مجھ کو زندہ کرے گا تو آخر مال اور اولاد بھی دے گا۔ اس وقت میں تیرا قرضہ ادا کردوں گا (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة مریم۔ باب قولہ اطلع الغیب)
68 غلیظ کے معنی موٹا۔ دبیز، گاڑھا، سخت اور گندہ سب کچھ آتا ہے۔ اور یہاں یہ لفظ سخت اور گندہ دونوں معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ غلاظت مشہور لفظ ہے۔ اور یہ عذاب گندہ اس لحاظ سے ہوگا کہ ایسے لوگوں کو پینے کے لیے پیپ، کچ لہو، زخموں کا دھو ون، انتہائی متعفن بدبودار اور شدید ٹھنڈا پانی، ایسی ہی چیزیں پینے کو ملیں گی جن سے انسان کو گھن آتی ہے۔ اور اس کے سخت ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔
Ayah 41:5169 خوشحالی میں اکثر انسانوں کا اللہ کو بھول جانا :۔ یعنی جب انسان پر خوشحالی اور آسودگی کا دور آتا ہے تو پھولا نہیں سماتا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اس وقت دراصل وہ خود خدا بنا بیٹھا ہوتا ہے۔ اور اگر اسے اللہ کی آیات سنائی جائیں اور یہ بتایا جائے کہ یہ سب انعام اللہ ہی نے کیا لہذا تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اس کے حقوق ادا کرنے چاہیں اور اپنے برے انجام سے ڈرنا چاہئے تو اسے ایسی باتیں ناگوار اور تلخ محسوس ہوتی ہیں جنہیں وہ سننا بھی گوارا نہیں کرتا اور اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ لیکن جب پھر کسی بلا میں پھنس جاتا ہے تو اس وقت اسے اپنا وہ پروردگار یاد آنے لگتا ہے جس کی آیات سننے سے بھی بدکتا تھا۔ دل میں تو مایوس ہوتا ہے کیونکہ اسے اس مصیبت سے نجات کے ظاہری اسباب نظر نہیں آتے۔ مگر جب تکلیف اسے پریشان کردیتی ہے تو بےاختیار اس کے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ اور پھر وہ اللہ سے لمبی چوڑی دعائیں بھی کرتا ہے اور وعدے وعید بھی کرنے لگتا ہے۔ اور یہ حالت چونکہ اس کی اضطراری کیفیت ہوتی ہے۔ لہذا اگر اللہ اسے اس مصیبت سے نجات دے بھی دے تو بعد میں پھر وہ وہی کچھ بن جاتا ہے جو پہلے تھا۔ اِلا ماشاء اللہ تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں جو بعد میں اللہ سے کئے ہوئے اس قول وقرار کو یاد رکھتے اور حقیقتاً اس کے فرمانبردار بن جاتے ہیں۔ اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے جو خوشحالی کے دور میں اپنے پروردگار کو یکسر بھول ہی جاتی ہے۔
Ayah 41:5270 آخرت کے منکر کیسے خسارہ میں رہتے ہیں ؟:۔ اس قرآن میں جو بعث بعدالموت اور اللہ کے حضور پیشی کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے وہ ایک ٹھوس حقیقت ہو تو بتاؤ تمہارا کیا حال ہوگا ؟ فرض کرو کہ تمہارے زعم کے مطابق سب انسان مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور یہی انسان کا انجام ہو تو جو شخص روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کا کیا بگڑے گا ؟ اور اگر قرآن کی بات سچی ہوئی اور تمہیں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا پڑا تو بتاؤ تمہاری گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے جس کے نتیجہ میں لازماً تمہیں جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا ؟
Ayah 41:5371 آفاق وانفس کے دو مفہوم :۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ آفاق سے مراد عرب کے قرب و جوار کے ممالک مراد لیے جائیں اور انفس سے عرب قوم اور بالخصوص قریش قوم مراد لی جائے جس سے رسول اللہ نسبی تعلق رکھتے تھے اس لحاظ سے اس آیت کا جو مطلب ہے وہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔ چند ہی سالوں میں قریشی سرداروں کو ذلت سے دوچار ہونا پڑا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کی زندگی ہی میں کفر و شرک کو عرب کی سرزمین سے دیس نکالا مل گیا اور سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر کے دور میں پے در پے فتوحات کے نتیجہ میں عرب کے ارد گرد کے ملکوں میں اسلام کا جو بول بالا ہوا وہ ہر ایک نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یہ اللہ کی نشانیاں صرف ان معنوں میں نہ تھیں کہ مسلمان ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے اور وہ مفتوح قوموں کے جان و مال کے مالک بن گئے جیسا کہ اس دنیا میں عموماً ہوتا ہے بلکہ یہ ان معنوں میں اللہ کی نشانیاں تھیں کہ یہ فتوحات اپنے جلو میں ایک عظیم الشان مذہبی، اخلاقی، ذہنی و فکری، تہذیبی و سیاسی اور تمدنی و معاشی انقلاب بھی لا رہی تھی اور ان فتوحات کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچے انسان کے بہترین جوہر کھلتے اور بدترین اوصاف مٹتے چلے گئے۔
اور دوسرا یہ کہ آفاقی آیات سے مراد کائنات میں ہر سو بکھرے ہوئے اللہ کے عجائبات مراد لیے جائیں اور آیات انفس سے مراد انسان کے اندر کی دنیا لی جائے۔ جنہیں بالترتیب عالم اکبر اور عالم اصغر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس کائنات میں اور انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نشانیاں موجود ہیں۔ اور ان سب کا نہ انسان آج تک احاطہ کرسکا ہے اور نہ آئندہ کبھی کرسکے گا۔ جبکہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی نئی سے نئی نشانی انسان کے علم میں آجاتی ہے اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ جو قرآن کے بیان کی صداقت پر گواہی دیتی رہے گی۔ نئے سے نئے عجائبات قدرت انسان کے علم میں آتے رہیں گے۔ خواہ ان کا تعلق انسان سے باہر کی دنیا سے ہو یا اس کے اندر کی دنیا سے۔
انسان کو کائنات اصغر کہنے کی بھی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ایک یہ ہے کہ کائنات میں موجود چیزوں کی خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ مثلاً زمین پر جو اشیاء پائی جاتی ہیں وہ یا جمادات سے تعلق رکھتی ہیں یا نباتات سے اور یا حیوانات سے۔ جسامت کے لحاظ سے انسان جمادی ہے۔ پھر یہ بڑھتا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا نفس نباتی ہوا۔ پھر یہ حرکت بھی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نفس حیوانی ہوا۔ پھر اس سے بھی زیادہ کامل ہوا تو اسے نفس انسانی ملا۔ جس طرح کسی عرق کو ایک آتشہ، پھر دو آتشہ، پھر سہ آتشہ کرکے اسے انتہائی لطیف اور سریع التاثیر بنایا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مشت خاک کو کمال دیتے دیتے انسان بنادیا۔ اور اسے ایسی قوائے انسانیہ عطا کی گئیں جن سے وہ امور کلی دریافت کرنے کے قابل بن گیا۔ اب انسان کے اندر جس جس قسم کی قوتیں اور قدرتیں رکھ دی گئی ہیں ان کا احاطہ کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ حالانکہ وہ اس کے اندر ہر وقت موجود ہیں اور موجود رہتی ہیں۔ پھر انسان کے اندر نصب شدہ مشینری کو دریافت کرکے انسان کئی طرح کی ایجادات معرض وجود میں لانے کے قابل ہوگیا۔ پھر اس کے نفس انسانی کا تعلق عالم ملکوت سے بھی ہے۔ اس طرح انسان کے اندر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لا انتہا قدرتیں اور عجائبات موجود ہیں جن کا اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
72 اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب ہوگا کہ اگر یہ لوگ قرآن کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ کریں۔ اس کی حقانیت پر کیا تمہارے پروردگار کی گواہی کافی نہیں جو ہر جگہ موجود اور ہر چیز کو بچشم خود دیکھ رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو اپنے کرتوتوں سے رک جانے کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا پروردگار ان کی ہر ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے ؟ اور تیسرا مطلب یہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کافر آپ کو کن کن طریقوں سے ستا رہے ہیں پھر کیا آپ کے اطمینان کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خود گواہ ہے اور وہ انہیں ان کی کرتوتوں کی سزا دیئے بغیر چھوڑے گا نہیں ؟
Ayah 41:5473 یعنی کافروں کی فتنہ انگیزیوں اور شرارتوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں نہ روزآخرت پر ایمان ہے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور پر۔ اگر انہیں یہ یقین ہوتا تو کبھی ایسی حرکتیں نہ کرتے۔ لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ اختیار میں کس طرح گھرے ہوئے اور مجبور محض ہیں اور اس کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔