Ayah 40:31 قرآن کو نازل کرنے والے کی چند جامع صفات :۔ آیت نمبر 2 اور 3 اس سورة کی تمہید ہیں۔ جن میں مکہ کے حالات حاضرہ اور حق و باطل کے جھگڑوں کا ذکر بھی آگیا ہے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چند متعلقہ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہاری اپنی اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم اپنے کلمہ کو سربلند اور نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا براہ راست اور پورا پورا علم رکھتا ہے۔ لہذا اس کتاب میں اے کفار مکہ ! جو خبریں بھی دی گئی ہیں سب درست اور یقینی ہیں تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے بہت سے گناہ از خود ہی بخشتا رہتا ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ کافر توبہ کرکے حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں ان کی توبہ قبول کرکے ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کردینے والا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف نو مسلموں سے نہیں بلکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کی طرف رجوع کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اس کے گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو سخت سزا دے کر ان کی اکڑی ہوئی گردنیں توڑ سکتا ہے۔ خواہ وہ یہ عذاب دنیا میں دے یا آخرت میں اور اس کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ کشادہ دست ہے۔ ہر وقت انعامات کی بارش کرتا رہتا ہے۔ اور اس سے اپنے نافرمانوں کو بھی محروم نہیں فرماتا اتنی صفات بیان کرنے کے بعد ان دو بنیادی جھگڑوں کی حقیقت بیان فرما دی۔ جو رسول اللہ اور کفار مکہ کے درمیان چل رہے تھے۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ باقی تمام معبود جھوٹے، باطل اور بےکار ہیں اور دوسرا یہ کہ روز آخرت کا قیام یقینی ہے اور تم سب کو یقیناً اللہ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔
Ayah 40:42 یہاں سے حالات حاضرہ پر تبصرہ شروع کیا جارہا ہے کہ کفار مکہ جو اللہ کی آیات کا کبھی مذاق اڑاتے ہیں کبھی ان میں اعتراضات کرکے شکوک پیدا کرتے ہیں کبھی اسلام کی راہ روکنے کے لئے مسلمانوں کو اذیتیں دیتے ہیں اور کبھی سازشیں تیار کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم اگر جھوٹے ہوتے تو اب تک ہم پر اللہ کا عذاب آجانا چاہئے تھا تو ان لوگوں کا تاحال صحیح و سلامت بچے رہنا اور زمین میں دندناتے پھرنا تم لوگوں کو اس وہم اور دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ شاید یہ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے۔
Ayah 40:53 حزب کا مفہوم : احزاب، حزب کی جمع ہے اور ان سے مرادایسی جماعتیں، گروہ یا پارٹیاں ہیں جن میں سختی اور شدت پائی جائے۔ وہ آپس میں ہم خیال ہوں اور ان کا مقصد اقتدار میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ یا اس سے چمٹے رہنا ہو اور اس سے مرادوہ اقوام سابقہ ہیں جن پر رسولوں کی دعوت کو جھٹلانے کی بنا پر اللہ کا عذاب آیا تھا۔
4 انبیاء کی مخالفت کرنے والی قوموں کا انجام تاریخی شواہد کی روشنی میں :۔ یہ کفار مکہ اس لئے اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے کہ ان سے پہلے کئی قومیں ان جیسی گزر چکی ہیں۔ مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، اور قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ۔ یہ سب لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور آخرت کے دن کے منکر تھے۔ پھر جب ہمارے رسول ان کے پاس آئے تو انہوں نے صرف انہیں جھٹلانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کے درپے آزار ہوگئے۔ انہیں قتل اور رجم کی دھمکیاں دینے لگے اور ان کے خلاف سازشیں تیار کرنے لگے۔ غرضیکہ انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس کے ذریعہ وہ اللہ کے دین کو سرنگوں کرسکیں اور انبیاء کی دعوت کو اور ان کے متبعین کو کچل دیں (اور یہی سب دھندے یہ کفار مکہ کر رہے تھے) پھر جب ان پر میرا عذاب آیا تو دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا۔ کیا ان قوموں کا کوئی نام و نشان نظر آتا ہے۔ آج وہ کہیں دندناتے دکھائی دے رہے ہیں ؟ اور ان مشرکین مکہ نے بھی اسی ڈگر پر چلنا شروع کردیا ہے تو پھر یہ میری گرفت سے کیونکر بچ سکتے ہیں۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو تاریخی شواہد کی روشنی میں ان کے انجام سے خبردار کیا ہے۔
Ayah 40:65 ایسے منکرین حق کے معاملہ میں ایک تو یہ بات حق ثابت ہو کے رہتی ہے کہ اللہ انہیں ایسا کچل کے رکھ دیتا ہے کہ ان کا زمین میں دندنانا یکسر موقوف ہوجاتا ہے۔ اور یہ سزا تو انہیں دنیا میں ملتی ہے اور دوسری یہ بات حق ثابت ہوتی ہے کہ آخرت میں انہیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 40:76 حاملین عرش فرشتوں کی مومنوں کے حق میں دعا :۔ ان دندنانے والے کفار مکہ کے مقابلہ میں دوسری طرف مسلمان تھے جن پر کافروں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اسی وجہ سے کچھ مسلمان مکہ کو خیر باد کہہ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے تھے۔ ان کی تسلی اور دلجوئی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پریشان کیوں ہوتے ہو۔ تمہارے حق میں تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور ان کے آس پاس رہنے والے سب کے سب دست بددعا رہتے ہیں۔ اور اللہ کی حمد و ثنا جو ان کا وظیفہ اور روحانی خوراک ہے کے ساتھ ہی تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں اور چونکہ فرشتے وہی کچھ کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ وہ مومنوں کے حق میں دعا و استغفار کرتے رہا کریں۔
7 ان کا اللہ پر ایمان اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب رہتے ہیں۔ ان عرشیوں کی سب ہمدردیاں زمین والے مومنوں کے ساتھ ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایمان کا رشتہ نہ صرف یہ کہ جغرافیائی حدود کا پابند نہیں بلکہ عرشیوں اور فرشیوں سب کو ایک رشتہ میں منسلک کردیتا ہے۔
8 یعنی تیرا علم اتنا وسیع ہے کہ تو اپنے بندوں کے سارے حالات ان کے گناہوں اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے واقف ہے تو تیری رحمت اس سے بڑھ کر وسیع ہے۔ لہذا جو لوگ توبہ کرچکے اور تیری راہ پر گامزن ہوچکے ہیں تو ان کے گناہ معاف کرکے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
Ayah 40:89 جہنم کے عذاب سے بچ جانا بھی بڑی کامیابی ہے :۔ اگرچہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا بھی بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ خالصتاً اللہ کی مہربانی اور اس کے فضل سے ہوگا۔ تاہم اگر اللہ تعالیٰ دوزخ سے بچا کر اپنی جنت میں بھی داخل کردے تو یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا بڑا انعام اور اس کی مہربانی ہوگی۔ واضح رہے کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانے کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ اسے جنت میں داخلہ بھی مل جائے۔ اصحاب اعراف دوزخ کے عذاب سے تو بچا لئے جائیں گے۔ لیکن وہ جنت اور دوزخ کے ایک درمیانی مقام اعراف میں ہوں گے اور وہ اس بات کے منتظر بیٹھے ہوں گے کہ کب ان پر اللہ کی مہربانی ہوتی ہے اور انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے۔
10 کم درجہ والی اولاد کو بھی اللہ والدین سے ملادے گا :۔ آخرت میں ہر شخص کو بس اپنی ہی فکر لاحق ہوگی نہ باپ بیٹے کی طرف توجہ دے سکے گا نہ بیٹا باپ کی طرف۔ کوئی رشتہ دار کسی دوسرے کے کام نہ آسکے گا۔ پھر جب فیصلہ کے بعد نیک لوگوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور ان کے بھی کئی درجات ہوں گے۔ تو اس وقت بعض لوگوں کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی یاد آنے لگے گی۔ ان کی بیویاں اور بیٹے بھی اگرچہ اہل جنت میں سے ہی ہوں گے لیکن ان کے درجات نچلے ہوں گے یعنی وہ اپنے والدین کے درجہ کے برابر صالح نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی خاص مہربانی سے یا ان فرشتوں کی دعا کی وجہ سے جو اس نے خود ہی فرشتوں کو سکھائی ہوگی، ان کم درجہ والی اولاد کو اونچا درجہ عطا کرکے ان کے والدین سے ملا دے گا۔ اسی طرح بیویوں کو بھی ان کے شوہروں سے ملا دے گا اور سارا کنبہ ایک جگہ اکٹھا ہوجائے گا۔
Ayah 40:911 سیأات کے تین معنی :۔ السَّیِّأات کے تین معنی ہیں۔ ایک غلط عقائد، بگڑے ہوئے اخلاق اور برے اعمال، دوسرے، گمراہی اور اعمال بد کا وبال، تیسرے آفات و مصائب اور تکلیفیں خواہ وہ دنیا کی ہوں، عالم برزخ کی ہوں یا عالم قیامت کی ہوں۔ یہاں تینوں قسم کی برائیاں مراد ہیں۔
12 روز محشر کی برائیوں سے مراداس دن کی ہولناکیاں، انتہائی تپش اور شدت پیاس، اپنا محاسبہ کا خوف، مجرمین کی برسرعام رسوائی وغیرہ ہیں۔
Ayah 40:1013 یعنی جب دیکھیں گے کہ جن چیزوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ تو ایک حقیقت بن کر سامنے آگئی ہے اور جس طرح بےراہ روی کی زندگی انہوں نے گزاری ہوگی اور مومنوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے انہوں نے جو جو ہتھکنڈے استعمال کئے تھے۔ ان سب چیزوں کا ایک ایک کرکے انہیں بدلہ دیا جانے والا ہے۔ تو وہ اپنے ہاتھ اپنے دانتوں میں چبائیں گے اور انہیں اپنے آپ پر غصہ آئے گا کہ ہم نے کیوں ایسی سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ اس وقت انہیں فرشتے پکار کر کہیں گے کہ آج جس قدر تمہیں اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے اللہ تعالیٰ کو تم پر اس وقت اس سے بھی زیادہ غصہ آتا تھا جب رسول تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی آیات پڑھ کر سناتے تھے لیکن تم پہلے تو سنتے ہی نہ تھے اور اگر سنتے تھے تو مانتے نہیں تھے اور ان کا مذاق اڑانے لگتے تھے۔
Ayah 40:1114 زندگی اور موت کے چار مراحل :۔ موت وحیات کے یہ وہی چار مراحل ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ کے آغاز میں آچکا ہے۔ یعنی وہ مردہ تھے اللہ نے انہیں زندگی بخشی اور وہ اپنے والدین کے گھر پیدا ہوئے پھر اس زندگی کے بعد موت کے بعد چوتھا مرحلہ دوبارہ قیامت کو جی اٹھنا۔ ان میں سے پہلے تین مراحل کو سب لوگ ہی جانتے ہیں کیونکہ وہ ہر ایک کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ انکار صرف بعث بعد الموت کا ہوتا ہے جو کسی کے مشاہدہ میں نہیں آیا۔ اور یہ بات ہمیں وحی کے ذریعہ معلوم ہوئی پھر بہت سے عقلی دلائل بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ یوم آخرت کو دیکھ کر کافر کہیں گے کہ آج ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ رسولوں کا کہنا برحق تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج ہمیں جو اپنا برا انجام نظر آرہا ہے اس سے بچنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟
Ayah 40:1215 مشرک کی پکی علامت توحید خالص سے بدکنا :۔ اللہ تعالیٰ کی ایک عاجز مخلوق ہونے کے باوجود تمہارا اپنے پروردگار سے یہ سلوک تھا کہ تمہیں جب کہا جاتا تھا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی ہے تو فوراً ناگواری کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوجاتے تھے۔ تمہاری سب نیاز مندیاں اور محبت غیروں کے ساتھ تھیں۔ جب اللہ کے شریکوں کا ذکر ہوتا تو تمہاری باچھیں کھل جاتی تھیں۔ اور آج جو تم التجا کر رہے ہو اس کا فیصلہ اس اللہ کے ہاتھ میں ہے جو تمہاری طرح عاجز مخلوق نہیں۔ بلکہ سب کا خالق اور بڑی بلند شان والا ہے۔ اب تم خود ہی سوچ سکتے ہو کہ اس کا رویہ تمہارے حق میں کیا ہونا چاہئے ؟
Ayah 40:1316 بارش کے نظام میں اللہ کی نشانیاں :۔ یعنی آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے جو زمینی پیداوار اور تمہارے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس پورے نظام پر اگر غور کیا جائے کہ اس کائنات میں کون سی قوتیں سرگرم عمل ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں بارش برستی ہے پھر اس بارش سے رزق حاصل ہونے تک کون کون سی کائناتی اور زمینی قوتیں کام میں لگی رہتی ہیں۔ کس طرح سورج کی حرارت سے سطح سمندر پر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں، پھر کس طرح ہوائیں انہیں اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں اور جس طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے، لے جاتی ہیں۔ پھر یہی آبی بخارات کیونکر پھر سے بارش کے قطروں میں منتقل ہوتے ہیں۔ پھر جب کسی خطہ زمین پر بارش برستی ہے تو زمین کی تاریکیوں میں بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور کس طرح پودے کی نہایت نرم و نازک کونپل سطح زمین کو چیرتی ہوئی باہر نکل آتی ہے۔ غرضیکہ اس نظام میں بیشمار عجائبات قدرت ہیں۔ پھر ان قوتوں کے باہمی تعاون سے جو مثبت قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اس سے از خود معلوم ہوجاتا ہے کہ ان تمام قوتوں پر کنٹرول کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے۔ اگر ہواؤں کا دیوتا الگ ہوتا، سورج کا الگ، بارش کا الگ اور زمین کا کوئی الگ ہوتا تو ان میں ایسا باہمی ارتباط ناممکن تھا کہ ان قوتوں سے ہمیشہ مثبت نتائج ہی حاصل ہوسکیں۔ لیکن یہ باتیں تو صرف وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو اللہ کی ان نشانیوں میں کچھ غور و فکر بھی کرتے ہوں۔
Ayah 40:1417 کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے حکم کے تحت سرگرم عمل ہیں :۔ ان آیات الٰہی میں غور کرنے سے یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے زبردست کنٹرول کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ لہذا تمہیں بھی خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرکے باقی ساری کائنات کے ہم آہنگ ہوجانا چاہئے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کی ان قدرتوں میں غور و فکر گوارا ہی نہیں کرتے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کی آنکھوں پر غفلت، تعصب اور تقلید آباء کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ اور انہی باتوں میں مگن رہنے میں ہی وہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور انگر انہیں حقائق کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کا تسلیم کرنا تو درکنار، انہیں اس طرف توجہ دلانا بھی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔
Ayah 40:1518 یعنی وہ اتنے بلند درجات کا مالک ہے کہ مخلوق کا اس کے قریب ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چہ جائیکہ اللہ کی صفات اور ان کے اختیارات میں کسی دوسری مخلوق کے شریک ہونے کا تصور کیا جاسکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مخلص اور فرمانبرداروں کے درجات کو بلند کرنے والا ہے جس حد تک کوئی شخص اللہ کا فرمانبردار بنتا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کرتا جاتا ہے اور قیامت کے دن انہیں درجات کے لحاظ سے اہل جنت کو جنت میں مقام عطا کیا جائے گا۔
19 (روح کے مختلف معانی کے لئے دیکھئے سورة النحل کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 3) مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اپنے کسی بندے پر وحی بھیجنے کے سلسلہ میں تمہارے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی تم وحی کے ٹھیکیدار ہو کہ تمہاری مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کسی کی طرف وحی نہ بھیج سکے۔ وہ خالصتاً اپنی مرضی اور اپنی صوابدید کے مطابق جس پر چاہتا ہے اپنی وحی نازل فرماتا ہے۔
20 ملاقات سے مراد بندے کی اپنے پروردگار سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔ اور جنوں، انسانوں اور شیطانوں کی ایک دوسرے سے بھی۔ قیامت کے دن سب کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوجائے گی۔
Ayah 40:1621 قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔ قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی۔ سب قیامت کی ہولناکیوں سے دہشت زدہ ہوں گے کسی کو کلام کرنے کی نہ فرصت ہوگی اور نہ جرأت۔ ہر طرف مکمل سکوت اور سناٹا چھایا ہوگا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سب کو مخاطب کرکے پوچھے گا۔ آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ جابر کہاں ہیں اور متکبرین کہاں ہیں ؟ بولو ! آج کے دن بادشاہی کس کی ہے ؟ اس سوال کا کوئی جواب نہ دے گا۔ حتیٰ کہ چالیس برس ایسے ہی سناٹے میں گزر جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی اس سوال کا جواب دیں گے کہ آج بادشاہی صرف اکیلے اللہ کی ہے۔ جو ہر چیز کو دبا کے رکھے ہوئے ہے۔
Ayah 40:1722 ظلم کی ممکنہ صورتیں :۔ ظلم کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً پہلی یہ کہ کسی نے ظلم نہ کیا ہو لیکن اسے خواہ مخواہ سزا دے دی جائے۔ دوسری یہ کہ جرم تو تھوڑا ہو مگر اسے سزا زیادہ دے دی جائے۔ تیسری یہ کہ آدمی مستحق تو اجر کا ہوگا مگر اسے سزا دے دی جائے۔ چوتھی یہ کہ جرم تو زید نے کیا ہو مگر اس کی سزا بکر کو دے دی جائے پانچویں یہ کہ آدمی جتنے اجر کا مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے۔ چھٹی یہ کہ آدمی سزا کا مستحق ہو مگر اسے سزا نہ دی جائے اور مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے۔ غرضیکہ ظلم کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں ان میں کسی بھی صورت کا ظلم اللہ کی عدالت میں ہونے نہ پائے گا۔
23 فیصلہ میں دیر لگنے کی وجہ :۔ اللہ تعالیٰ کو ساری مخلوق کا حساب چکانے اور فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس لئے کہ دیر لگنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہورہے ہوں جیسے یہاں دنیا کی عدالتوں میں ہوتا ہے کہ کبھی مدعی حاضر نہیں ہوتا اور کبھی مدعا علیہ، کبھی گواہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور بار بار کے نوٹسوں کے باوجود عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوتے اور اس طرح انصاف کے تقاضے پورے کرتے کرتے ہی سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی عدالت میں یہ بات نہ ہوگی۔ وہاں مدعی، مدعا علیہ اور گواہ سب موجود اور اللہ کے علم میں ہونگے اور جس کی ضرورت ہوگی وہ فوراً حاضر ہوجائے گا یا حاضر کرلیا جائے گا۔ دیر کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں قاضی ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ کی سماعت کرسکتا ہے لیکن اللہ کے ہاں یہ معاملہ نہیں۔ وہ جس طرح بیک وقت ہر ایک کو دیکھتا، ہر ایک کی سنتا، ہر ایک کی داد رسی کرتا اور ہر ایک کو رزق دے رہا ہے۔ اسی طرح وہ بیک وقت اپنی تمام مخلوق کے مقدمات کی سماعت بھی کرسکتا ہے اور ان کے فیصلے بھی کرسکتا ہے۔
Ayah 40:1824 اَزِفَ کا لغوی مفہوم : اٰزِفَہ۔ اَزِفَ میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے روانہ ہونے میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہذا جلدی کرو۔ اسی طرح قیامت کا دن جو یقینی طور پر آنے والا ہے اسے بس آیا ہی سمجھو اور اس کے لئے جو کچھ سامان کرنا ہے جلدی جلدی کرلو۔
25 کَظَم کا لغوی مفہوم :۔ کَاظِمِیْنَ ۔ کظم سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور کظم السقائ بمعنی مشک کو (پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردینا ہے اور کا ظم، کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم و غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہوا ہو مگر اسکا اظہار نہ کرے اور اسے دبا جائے۔ یعنی مجرموں کو اپنی دنیا کی زندگی کی کرتوتوں پر اس قدر غم ہوگا جس کی گھبراہٹ کی وجہ سے ان کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
26 سفارش کا عوامی عقیدہ :۔ شفاعت کے متعلق مشرکوں نے جو غلط سلط عقیدے گھڑ رکھے ہیں، بالکل بےکار ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً فلاں حضرت کا دامن پکڑ لیا جائے اور اس کی بیعت کرلی جائے تو بس بیڑا پارا ہے۔ وہ اللہ کے حضور سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ حالانکہ قرآن کی صراحت کے مطابق یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہے کہ جن حضرات کو وہ شفیع سمجھ رہے ہیں وہ خود کس حال میں ہوں گے۔ نیز انہیں شفاعت کی اجازت بھی ملے گی یا نہیں اور اگر بفرض محال یہ تسلیم کرلیا جائے کہ انہیں اجازت مل جائے گی تو پھر بھی یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کی بات مان بھی لی جائے گی۔ لہذا کسی کی شفاعت پر انحصار کرنا بالکل عبث ہے۔
Ayah 40:1927 آنکھوں کی حرکات کی اقسام :۔ آنکھوں کی بیشمار حرکات ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر مذموم اور خَائِنَۃَ الاَعْیُنِکے ضمن میں آتی ہیں۔ مثلاً بطور طعن وتشنیع آنکھیں مارنا پھر استہزاء کی نظر اور طرح ہوتی ہے پھر آنکھوں آنکھوں میں باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسروں سے آنکھیں بچا کر غیر محرم عورتوں کو بدنظری سے چوری چھپے دیکھا بھی جاتا ہے۔ اللہ آنکھوں کے ان سب قسم کے اشاروں کو بھی جانتا ہے اور دلوں میں پیدا ہونے والے جن خیالات کے نتیجہ میں آنکھیں ایسے اشارے اور حرکات کرتی ہیں وہ ان خیالات تک سے بھی واقف ہے۔
Ayah 40:2027 آنکھوں کی حرکات کی اقسام :۔ آنکھوں کی بیشمار حرکات ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر مذموم اور خَائِنَۃَ الاَعْیُنِکے ضمن میں آتی ہیں۔ مثلاً بطور طعن وتشنیع آنکھیں مارنا پھر استہزاء کی نظر اور طرح ہوتی ہے پھر آنکھوں آنکھوں میں باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسروں سے آنکھیں بچا کر غیر محرم عورتوں کو بدنظری سے چوری چھپے دیکھا بھی جاتا ہے۔ اللہ آنکھوں کے ان سب قسم کے اشاروں کو بھی جانتا ہے اور دلوں میں پیدا ہونے والے جن خیالات کے نتیجہ میں آنکھیں ایسے اشارے اور حرکات کرتی ہیں وہ ان خیالات تک سے بھی واقف ہے۔
Ayah 40:2129 اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق :۔ اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق اس آدمی کو ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اس معاملہ میں بھی ہر شخص کا ذوق الگ الگ ہے۔ ان لوگوں نے ایسی یادگاریں چھوڑیں جو ان کی شان وشوکت پر دلالت کرتی تھیں۔ پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو نہ شان و شوکت ان کے کسی کام آئی اور نہ چھوڑی ہوئی یادگاریں۔ پھر جب دنیا میں انہیں کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکی تو آخرت میں انہیں کون بچا سکے گا۔
Ayah 40:2230 بینات کے مختلف معانی :۔ بَیِّنَاتٌ (بینۃ) کی جمع دراصل ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے سامنے فریق ثانی لاجواب ہوجائے۔ پھر اس لفظ کا اطلاق معجزات انبیاء پر بھی ہوسکتا ہے اور قرآن کی آیات پر بھی کیونکہ بار بار کے چیلنج کے باوجود کافر قرآن کی مثل پیش نہ کرسکے تھے۔ اور ایسے عقلی دلائل پر بھی جو فریقین میں مسلم ہوں۔ اور ایسی واضح ہدایات پر بھی جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ سمجھ سکے کہ ایسی تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔
Ayah 40:2331 سلطان کا مطلب :۔ سلطان کا معنی ایسی دلیل ہے جو سند یا دستاویز کی حیثیت رکھتی ہو اور جس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف اپنی ہی نہیں کسی دوسری قوت کے بل بوتے پر کر رہا ہے۔ اور ایسے حالات و واقعات موسیٰ کی زندگی میں بارہا پیش آئے تھے۔ پہلی بات تو یہی تھی کہ موسیٰ فرعون کی حکومت کے مفرور مجرم تھے۔ اس کے باوجود آپ خود ہی سیدھے اس کے دربار میں پہنچ گئے اور اسے اللہ کا پیغام سنا کر اپنی اطاعت کی دعوت دی اور یہ بھی کہا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردے۔ اور یہ دونوں باتیں ایسی تھیں جن سے وہ جل بھن گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ پر ہاتھ اٹھانے یا آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کی جرأت نہ کرسکا اور کہا تو بس یہی کہا کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو کوئی معجزہ ہے تو وہ پیش کرو۔ پھر جب بھی مصر پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو فرعون سیدنا موسیٰ سے التجا کرتا ہے اگر یہ مصیبت دور ہوجائے تو میں ایمان لے آؤں گا۔ پھر جب سیدنا موسیٰ دعا کرتے تو وہ مصیبت ٹل بھی جاتی تھی۔ ایسی تمام باتوں سے صاف واضح ہوتا تھا کہ سیدنا موسیٰ کی پشت پر کوئی غیبی طاقت موجود ہے۔ جس سے فرعون اور اس کے سب درباری خائف تھے اور یہی سلطان مبین کا مطلب ہے۔
Ayah 40:2432 ان کے یہ الزام محض زبانی اور دوسرے لوگوں کو مطمئن رکھنے کی غرض سے تھے آپ نے جو لاٹھی کے سانپ بن جانے اور یدبیضاء کے معجزات پیش کئے تھے اس لحاظ سے وہ سیدنا موسیٰ کو جادوگر کہہ دیتے تھے۔ اور آپ کے دعوائے رسالت کے لحاظ سے آپ کو جھوٹا کہتے تھے۔ مگر خود وہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ سیدنا موسیٰ نہ جادوگر ہیں اور نہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ جادوگر تو فرعون کے ملک میں بیشمار تھے۔ مگر کسی جادوگر سے یہ تو نہ ہوسکا کہ وہ اپنے جادو کے زور سے ملک بھر میں قحط مسلط کردے اور جب اس سے اس قحط کو دور کرنے کی درخواست کی جائے تو وہ اپنے جادو کے زور سے بارشیں برسا کر قحط ختم کردے۔ بلکہ جادوگروں نے ہی تو بھرے میدان میں سیدنا موسیٰ پر ایمان لاکر فرعون کی مکارانہ سازشوں کی قلعی کھول دی تھی۔
Ayah 40:2533 بنی اسرائیل کے استیصال کے لئے فرعون کا اقدام :۔ سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ سزا فرعون نے اس لئے مقرر کی تھی کہ اس طرح وہ لوگوں کو دہشت زدہ کرکے سیدنا موسیٰ کا ساتھ دینے سے روک دے وہ چاہتا یہ تھا کہ اس طریقہ سے بنی اسرائیل کی قوم کا ہی استیصال کردیا جائے مگر اس کی ان دھمکیوں اور سزاؤں کے باوجود سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی۔
Ayah 40:2634 فرعون کی گیدڑ بھبکی :۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں کمی ہونے کے بجائے ان کی تعداد بڑھتی ہی گئی تو فرعون نے سوچا کہ اب اس مصیبت کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ ہی کو قتل کردیا جائے۔ لیکن اس کے درباریوں نے جو صحیح صورت حال سے واقف ہوچکے تھے اسے اس کام سے منع کردیا کہ کہیں ملک میں کوئی بڑی بغاوت نہ اٹھ کھڑی ہو، تو ان درباریوں کو فرعون نے یہ جواب دیا ہو کہ اب یہ کام کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ لہذا مجھے یہ کام کرنے سے مت روکو۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے کسی نے بھی روکا نہ ہو مگر وہ محض اپنی بہادری جتلانے کے لئے یہ بات کہہ رہا ہو۔ مگر چونکہ وہ خود بھی دل میں ڈرا اور سہما ہوا تھا اس لئے وہ اس طرح بات کر رہا تھا۔ ورنہ اگر وہ خود خائف نہ ہوتا اور اس کام کا ارادہ کرلیتا تو اسے کون روکنے والا تھا۔ ؟
35 دین سے مراد تمدن اور ملکی نظام ہے :۔ یہاں دین سے مرادصرف سورج دیوتا یا ہبل کی پوجا ہی نہیں بلکہ پورے کا پورا نظام سلطنت اور نظام تمدن ہے۔ یعنی فرعون کو اصل خطرہ تو یہ تھا کہ کہیں اس ملک کی فرمانروائی اس سے چھن نہ جائے۔ مگر اس نے اس بات کو مکار سیاسی لیڈروں کے انداز میں پیش کیا کہ تمہارا دین، جس سے تمہیں محبت ہے۔ وہی نہ بدل ڈالے، جیسے ہمارے ہاں سیاسی لیڈر ایسے بیان دیتے رہتے ہیں کہ عوام یہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد نئے انتخابات کرائے جائیں۔ حالانکہ عوام بیچارے آئے دن کے انتخابات سے پہلے ہی بیزار بیٹھے ہوتے ہیں۔
36 یعنی اگر وہ اس نظام کو بدل نہ سکے تب بھی یہ خطرہ ضرور ہے کہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ لہذا تحفظ امن عامہ کی خاطر ضروری ہے کہ جیسے بھی بن پڑے موسیٰ کو قتل کرکے ان آنے والی پریشانیوں کا خاتمہ کردیا جائے۔
Ayah 40:2737 متکبر اور ظالم وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہوں :۔ فرعون نے سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے کی بات خواہ سیدنا موسیٰ کی موجودگی میں کی ہو یا انہیں کسی واسطہ سے فرعون کی اس دھمکی کا علم ہوا ہو۔ بہرحال جب انہوں نے یہ بات سنی تو اپنی قوم سے کہنے لگے : مجھے فرعون کی ایسی دھمکیوں کی کچھ بھی پروا نہیں۔ فرعون اکیلا تو کیا دنیا بھر کے متکبر اور جبار جمع ہوجائیں تب بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں اپنے آپ کو اپنے پروردگار کی پناہ میں دے چکا ہوں اور وہ مجھے ان کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متکبر، جابر اور ظالم صرف وہ لوگ ہی ہوسکتے ہیں جو روز آخرت پر ایمان نہ رکھتے ہوں۔
Ayah 40:2838 اپنے ایمان کو چھپانے والا مرد مومن :۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص فرعون کا چچا زاد بھائی تھا۔ یا کوئی اور بھی ہو تو کم از کم فرعون کے درباریوں اور قریبی لوگوں میں سے تھا۔ اور وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکا تھا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ سے جب ایک قبطی مارا گیا تھا تو اسی شخص نے سیدنا موسیٰ کو اطلاع دی تھی کہ تمہارے قتل کے منصوبے ہو رہے ہیں لہذا جلد از جلد یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اس وقت اگرچہ موسیٰ نبی نہیں تھے اور اس وقت آپ پر ایمان کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تاہم وہ سیدنا موسیٰ کے اخلاق و عادات سے متاثر تھا اور اسی لئے آپ کا ہمدرد بھی تھا اس جملہ سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ فرعون کی سخیتوں کے باوجود سیدنا موسیٰ کی دعوت اندر ہی اندر پھیل گئی تھی۔ حتیٰ کہ فرعون کے ایوانوں تک پہنچ گئی تھی۔ اور دوسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایماندار شخص کافر معاشرہ کے دباؤ کی وجہ سے اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔
39 فرعون اور مرد مومن کا مکالمہ :۔ جب فرعون نے بھرے دربار میں یہ بات کہی تو اس مرد مومن سے ضبط نہ ہوسکا اور فوراً بول اٹھا کہ جس شخص کو تم قتل کرنے کے درپے ہو آخر اس کا جرم کیا ہے۔ جس کی بنا پر تم اسے قتل کرتے ہو ؟ کیا اس کا یہی جرم نہیں کہ وہ تمہیں پروردگار کی طرف بلاتا ہے۔ پھر اس کے پاس واضح دلائل موجود ہیں، جنہیں تم بھی جانتے ہو، کہ وہ اپنے قول میں سچا ہے۔ کیا یہ ایسا ہی جرم ہے کہ اسے مستوجب قتل قرار دیا جائے ؟
40 اس مرد مومن نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کی دعوت کے متعلق دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے قول میں جھوٹا ہو۔ اس صورت میں تم اتنی فکر کیوں کرتے ہو ؟ جھوٹ کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں وہ جلد یا بدیر اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اسے قتل کردیا تو پھر سمجھ لو کہ تمہاری خیر نہیں۔ پھر تو جس عذاب کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے وہ لازماً تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تمہاری بھلائی اسی میں ہے۔
41 یہ جملہ جو اس مرد مومن نے بولا یہ جیسے سیدنا موسیٰ پر فٹ آتا تھا ایسے ہی فرعون پر آتا تھا۔ یعنی اگر موسیٰ (علیہ السلام) نعوذ باللہ جھوٹ سے کام لے رہے ہیں کہ اس کام میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ تم سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہو تو یاد رکھو اللہ ایسے شخص کو کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا اور وہ سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جھوٹے تم ہو اور جھوٹا ہونے کے باوجود اس حد تک آگے بڑھے جارہے ہو کہ اسے قتل کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہارا بیڑا غرق ہو کے رہے گا۔
عقبہ بن ابی معیط کا آپ کا گلا گھونٹنا :۔ بالکل ایسا ہی ایک واقعہ دور نبوی میں پیش آیا۔ ایک بدبخت مشرک عقبہ بن ابی معیط نے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اتفاق سے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ موقعہ پر پہنچ گئے تو انہوں نے بھی اس موقعہ پر یہی آیت پڑھی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ صبن عمرو بن عاص سے پوچھا : مجھے بتاؤ کہ مشرکین مکہ نے نبی اکرم کو سب سے زیادہ جو تکلیف دی وہ کیا تھی ؟ وہ کہنے لگے کہ : ایک دفعہ رسول اللہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا، آپ کے مونڈھے کو پکڑا پھر آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر مروڑا دیا اور اتنی زور سے گلا گھونٹا (جیسے مار ہی ڈالے گا) اتنے میں ابوبکر صدیق ؓ آگئے، انہوں نے عقبہ کا مونڈھا تھاما اور آپ سے اس کو پرے دھکیل دیا اور فرمایا : کیا تم اس شخص کو صرف اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayahs 40:29–3042 کیا تم اس کے قتل کی بات محض اس لئے کرتے ہو کہ آج تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور اگر تم ایساکر بھی لو گے تو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ سچا ہوا اور تم پر اللہ کی طرف سے عذاب آگیا تو اس وقت تمہاری یہ حکومت کسی کام نہ آئے گی۔ اور سب تباہ ہوجائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی اس نے اپنا ایمان ظاہر نہ کیا تھا۔ اور فرعون اور اس کے درباریوں سے غیر جانبدار رہ کر ناصحانہ قسم کی باتیں کر رہا تھا۔
43 فرعون کے اس جملہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون اسے تاحال اپنا مخالف یا مومن نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے اپنا ناصح ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی لئے اس نے اس مرد مومن کو یہ جواب دیا کہ مجھے تو اسی بات میں بھلائی نظر آتی ہے کہ اس شخص کو قتل کردینا ہی بہتر ہے اور میں اپنی سمجھ اور بصیرت کے مطابق جو حالات سامنے دیکھ رہا ہوں وہی تمہیں بتارہا ہوں اور اسی میں تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔
Ayah 40:3144 فرعون کے جواب سے اس مرد مومن کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ فرعون نے اس کی نصیحت کا خاک بھی اثر قبول نہیں کیا۔ اور اس کے خیالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی تو اس نے مزید وضاحت سے سمجھانا شروع کیا اور کہا کہ تم سے پہلے بہت سی ایسی قومیں گزر چکی ہیں جو شان و شوکت میں تم سے بھی بڑھ کر تھیں۔ جیسے قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ، ان لوگوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور ان کے درپے آزار ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں ان پر عذاب آیا جس نے انہیں تباہ کرکے رکھ دیا تھا اور مجھے یہ خدشہ ہے کہ ہم پر بھی کہیں ایسا ہی عذاب نازل نہ ہوجائے۔
45 پیغمبر اللہ کے سفیر ہوتے ہیں :۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر ظلم کرنے یا ان پر عذاب نازل کرنے کا شوق ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ بندوں کے اپنے ہی اعمال ہوتے ہیں جو سزا کا موجب بن جاتے ہیں جیسے دنیا کی کوئی حکومت بھی یہ گوارا نہیں کرتی کہ اس کے سفیر کو رسوا کیا جائے یا اسے قتل ہی کردیا جائے۔ بلکہ فوراً انتقام لینے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ تو بھلا اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے اور انتقام لینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ وہ اپنے رسولوں کو رسوا ہوتا دیکھ کر ان کی مدد نہ کرے گا اور رسوا کرنے والوں سے انتقام نہ لے گا ؟
Ayah 40:3246 یوم التناد کے مختلف مفہوم :۔ اکثر مفسرین نے (یَوْمَ التَّنَادِ ) سے مراد قیامت کا دن لیا ہے جس دن تابعداری کرنے والے اپنے بڑوں (مطاع حضرات) کے متعلق فریاد کررہے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو پکڑے ہوئے فریاد کر رہا ہوگا۔ عابد اپنے معبودوں سے نالاں ہوں گے وغیرہ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل جنت اہل دوزخ سے، اہل اعراف اہل دوزخ سے، دوزخی آپس میں جنتی آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہوں گے لیکن جن مفسرین نے (یوم التناد) سے مراد عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا دن مرادلیا ہے ـ۔ـ وہ ربط مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یعنی عذاب الٰہی کے وقت وہ سب آہ وفغاں کرتے ہوں گے اور اسی حال میں ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔
Ayah 40:3347 اس سے مراد قیامت کا دن بھی ہوسکتا ہے اور کسی قوم پر عذاب کا دن بھی۔ لیکن اس وقت اگر کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگنا بھی چاہے تو وہ اللہ کی گرفت سے کبھی بچ نہیں سکتا۔
Ayah 40:3448 یوسف (علیہ السلام) کے متعلق افراط وتفریط کی انتہا :۔ یہ بھی اس مرد مومن کی تقریر کا حصہ ہے۔ اس نے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : کہ اس ملک مصر میں یوسف مبعوث ہوئے تھے۔ جن کی حسن تدبیر سے یہ ملک سات سالہ قحط کے دور میں امن کے ساتھ گزر بسر کرتا رہا اور آس پاس کے ملکوں کو بھی غلہ مہیا کرتا رہا جن کے پاکیزہ سیرت و اخلاق سے بادشاہ مصر اس قدر متاثر ہوا تھا کہ اس نے حکومت ہی سیدنا یوسف کے حوالہ کردی تھی اور جن کا دور حکومت عدل و انصاف کے لحاظ سے تم بہترین دور تسلیم کرتے ہو لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان کے جیتے جی تم شک و شبہ میں ہی پڑے رہے اور ان پر ایمان نہ لائے۔ یہ تمہاری ایک انتہا تھی۔ پھر جب وہ فوت ہوگئے تو تم نے ان کی شان یوں بڑھا چڑھا کر بیان کرنا شروع کی کہ یوں کہنے لگے کہ اب سیدنا یوسف جیسا رسول کہاں آئے گا ؟ اور یہ خیال کرکے باقی جو انبیاء آئے انہیں جھٹلانا شروع کردیا۔ یہ تمہاری دوسری انتہا تھی۔ اور آج تم سیدنا موسیٰ کی نبوت و رسالت کا بھی انکار کر رہے ہو۔ وہ بھی تمہاری غلط روش تھی اور یہ موجودہ روش بھی غلط ہے۔ وہ بھی حق کا انکار تھا یہ بھی حق کا انکار ہے۔ اس وقت بھی تم شک میں پڑے رہے اور انب بھی شک میں پڑے ہوئے ہو۔ ایسے ہی لوگوں کے حق میں گمراہی لکھی ہوتی ہے۔
Ayahs 40:35–3649 گمراہ ہونے والوں کی صفات :۔ گمراہ ہونے والوں کی دو صفات تو اوپر مذکور ہوچکیں۔ ایک یہ کہ حق سے انکار کرتے اور اپنی بداخلاقی اور فسق و فجور میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم جس کا اکثر حصہ توحید اور آخرت کے متعلق ہوتا ہے سے ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور ان میں اس طرح کج بحثی کرتے ہیں جس کی بنیاد نہ کسی عقلی دلیل پر ہوتی ہے اور نہ نقلی دلیل پر۔ اور اس کی وجہ محض ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور تکبر یا پندار نفس ہوتا ہے۔ ان کی یہ صورت حال اللہ اور مومنوں کے نزدیک انتہائی نفرت انگیز ہوتی ہے اور جو انسان اس حالت کو پہنچ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے جس کے بعد ان کے دلوں میں ہدایت اور بھلائی کی بات داخل ہو ہی نہیں سکتی۔
Ayahs 40:37–3850 ہامان کو بلند عمارت بنانے کے لئے کہنا :۔ فرعون نے اس مرد مومن کی باتوں کا کچھ اثر نہ لیا اور نہایت متکبرانہ شان سے اپنے وزیر ہامان سے کہنے لگا : ہامان ! ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ۔ تاکہ میں یہ تو دیکھوں کہ جس الٰہ کی موسیٰ بات کرتا ہے وہ ہے کہاں اور کتنی بلندی پر رہتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے سورة قصص کی آیت نمبر 38 کا حاشیہ نمبر 50 دیکھئے)
51 یعنی فرعون جو بھی بنی اسرائیل پر ظلم ڈھا رہا تھا اور سیدنا موسیٰ کی مخالفت میں جو بھی ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا وہ سب اسے اچھے ہی لگتے تھے اور وہ انہیں اپنی حسن تدبیر پر محمول کرتا تھا۔ برے کام کرتے کرتے اس کی کچھ ایسی مت ماری گئی تھی اور ایسی مضحکہ خیز حرکتیں کرنے لگا تھا جس کے بعد اس کے راہ راست پر آنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہ گئی تھی۔
52 فرعون کی وہ مکارانہ چالیں جن میں وہ خود گھر گیا :۔ فرعون دل سے یہ سمجھ چکا تھا کہ موسیٰ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں اور یہ اسے پہلے دن ہی یقین ہوگیا تھا۔ مگر وہ اپنے اقتدار اور اپنی سلطنت کو بچانے کے لئے ہمیشہ مکارانہ چالیں ہی چلتا رہا اس کی پہلی چالاکی یہ تھی کہ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دینا چاہا کہ موسیٰ کے معجزات بس جادو کے کرشمے ہی ہیں۔ اور اپنی اس چال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جادوگروں سے مقابلہ کا ڈھونگ رچایا۔ پھر جب جادوگروں نے یہ تسلیم کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ لائے ہیں وہ جادو نہیں بلکہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ معجزات ہیں اور انہوں نے بھرے مجمع میں اپنے ایمان کا اعلان بھی کردیا تو لوگوں کو ان اثرات سے بچانے کے لئے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم تو خود اندر سے موسیٰ سے ملے ہوئے ہو وہ تمہارا گرو ہے اور تم اس کے چیلے ہو اور میں تمہیں ایسی اور ایسی سزائیں دوں گا۔ لیکن فرعون کی اس دھمکی کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ اور لوگ چوری چھپے سیدنا موسیٰ پر ایمان لاتے رہے پھر اس نے اعلان کروایا کہ جو لوگ موسیٰ پر ایمان لائیں گے میں ان کے بچوں کو قتل کردوں گا۔ پھر اس قضیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے سیدنا موسیٰ کے قتل کے منصوبے بنانے لگا۔ انہی ایام میں سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم ہوگیا۔ اب اگر وہ سیدنا موسیٰ کا تعاقب نہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ بنی اسرائیل اس کے ہاتھ سے نکل جاتے۔ وہ خود تو نہ غرق ہوتا اور نہ اس کی سلطنت ہاتھ سے جاتی مگر اس کی تدبیر اسے اس کی تباہی کی طرف ہی دھکیلتی رہی۔
Ayahs 40:39–4053 اب وہ مرد مومن کھل کر سامنے آتا ہے۔ فرعون نے کہا تھا کہ میں اپنی بصیرت کے مطابق جو راہ بھلائی کی دیکھتا ہوں وہی تمہیں بتارہا ہوں۔ اس مرد مومن نے فرعون کی اس بات کے جواب میں کہا کہ بھلائی کی راہ وہ نہیں جو تم کہتے ہو کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے بلکہ بھلائی کی راہ چاہتے ہو تو میری بات مانو۔ میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاتا ہوں اور وہ راہ یہ ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے عیش و آرام سے گزر جائے تو بھی کوئی بات نہیں اور تنگی ترشی میں گزرے تو بھی گزر ہی جائے گی فکر تو اخروی زندگی کی کرنی چاہئے جو دائمی اور لازوال ہے۔ یہ دنیا تو صرف دارالامتحان ہے۔ پھر اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداروں کے لئے بہت مراعات ملحوظ رکھی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی برا کام کرے گا تو اسے اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا اور کوئی اچھے کام کرے گا تو اس کا بہت ہی زیادہ اجر دیا جائے گا لہذا دنیا کی اس چند روزہ زندگی کو غنیمت سمجھو اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرکے اجر عظیم کے مستحق بن جاؤ۔