Ayah 40:81101 مویشیوں میں انسان کے لئے خوئے غلامی کس نے پیدا کی مویشیوں سے انسان کو حاصل ہونے والے فوائد :۔ کفار مکہ رسول اللہ سے طرح طرح کے حسی معجزات کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ جس کا ایک جواب تو سابقہ آیت میں دیا گیا ہے کہ ایسا معجزہ پیش کرنا کسی رسول کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان آیات میں کفار کے اسی مطالبہ کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تو تمہیں اپنے دائیں بائیں، اوپر نیچے اندر باہر ہر طرف ہی مل سکتی ہیں۔ اگر تم سوچو تو تمہارے راہ راست کو قبول کرنے کے لئے رہنمائی ان میں بھی موجود ہے۔ مثلاً جو مویشی تم پالتے ہو ان پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو۔ ان کی ساخت اور ان کی فطرت ہی ہم نے ایسی بنادی ہے کہ وہ فوراً تمہارے تابع بن جاتے ہیں۔ پھر ان سے تم ہزاروں قسم کے فوائد حاصل کرتے ہو۔ ان کے دودھ سے بالائی، مکھن، پنیر، گھی اور لسی بناتے ہو۔ اور یہ چیزیں تمہارے جسم کا انتہائی اہم جزو ہیں۔ پھر ان پر سواری کرتے ہو۔ تمہارے بوجھل سامان کو یہ اٹھاتے ہیں۔ تمہاری کھیتی میں ہل یہ چلاتے ہیں۔ کنوئیں سے پانی یہ کھینچتے ہیں۔ مشقت کے سب کام تم ان سے لیتے ہو۔ پھر انہیں ذبح کرکے ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔ ان کے بالوں سے اپنی پوشاک تیار کرتے ہو۔ اور مرنے کے بعد ان کی ہڈیوں، دانتوں اور کھالوں تک کو اپنے کام میں لاتے ہو۔ ان مویشیوں میں انسان کے لئے یہ خوئے غلامی کس نے پیدا کی ؟ تمہاری پیدائش سے بھی بہت پہلے تمہاری ضروریات کا اس قدر خیال رکھنے والا کون ہے ؟
خ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا کیوں محاسبہ نہ کیا جائے :۔ اب دوسری طرف نظر ڈالو۔ زمین کے تین چوتھائی حصہ پر پانی یا سمندر پھیلے ہوئے ہیں۔ خشکی صرف چوتھا حصہ ہے جس پر تم اور تمہارے مویشی سب رہتے ہیں۔ اتنے سے خشکی کے حصہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا پانی کا ذخیرہ کیوں پیدا کردیا ؟ کیا کبھی تم نے اللہ کی اس نشانی پر غور کیا ؟ پھر پانی اور ہواؤں کو ایسے طبعی قوانین کا پابند بنادیا کہ تم دریاؤں اور سمندروں میں کشتی بانی اور جہاز رانی کے قابل بن گئے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے لئے طبعی قوانین ہی بدل ڈالے اور وہ ہر چیز کا خالق ہے اور اس میں جیسے چاہے تصرف کرسکتا ہے تو کیا تم جہاز رانی کرسکتے تھے ؟ یا اس زمین پر زندہ رہ سکتے تھے ؟ پھر یہ بھی سوچو کہ جس حکمتوں والے پروردگار نے اپنی اتنی بیشمار چیزیں تمہارے تصرف میں دے رکھی ہیں کیا وہ انسان کو اتنے اختیارات دے کر اس کو یونہی چھوڑ دے گا اور اس سے اپنی ان نعمتوں کا کبھی حساب نہ لے گا ؟ اور یہ نہ پوچھے گا کہ جس رحیم پروردگار نے تمہاری جملہ ضروریات کا اس قدر خیال رکھا۔ پھر ساتھ کے ساتھ اپنی رحمتیں بھی نازل فرماتا رہا تو کیا انسان نے اللہ کی ان نعمتوں کی قدر کی ؟ اس کا شکریہ ادا کیا ؟ یا وہ نمک حرام اور ناشکرا ثابت ہوا اور اپنی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسرے کے سامنے نچھاور کرنے لگا ؟
Ayah 40:82102 اقوام سابقہ کی شان وشوکت :۔ سابقہ اقوام اپنے قد و قامت، جسمانی قوت، فن تعمیر اور فن زراعت پر کام میں ان کفار مکہ سے بہت آگے تھے۔ اور یہ لوگ تو ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں مگر جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کا احسان ماننے کی بجائے بغاوت پر اتر آئے۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی یہ ساری خوبیاں اور شان و شوکت دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پھر آخر تم ان سے کمزور اور کمتر ہو کر کیوں ایسی اکڑ دکھا رہے ہو ؟ اور تم اپنی کرتوتوں کے انجام سے کیونکر بچ سکو گے ؟
Ayah 40:83103 وحی کے علاوہ لوگوں کے پاس اپنے علوم کون سے تھے ؟ وہ علم ان کے پاس کیا تھا ؟ یہی دیومالائی علم (Mythology) جس کی رو سے انہوں نے ہزاروں دیوتاؤں اور دیویوں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنا رکھا تھا۔ پھر ان کا آپس میں بھی اور اللہ سے نسبی رشتہ قائم کر رکھا تھا۔ علاوہ ازیں علم سے مرادہر قوم کے اختراعی مذہبی فلسفے اور سائنس اور اپنے ضابطہ حیات سے متعلق قوانین وغیرہ ہیں۔ جب انبیاء ان کے پاس آئے اور انہیں وحی الٰہی کے علم کی دعوت دی تو انہوں نے اپنے ہاں مروجہ علوم کے مقابلہ میں وحی الٰہی کے علم کو ہی ہیچ سمجھا اور اس طرف توجہ ہی نہ دی۔ کہتے ہیں کہ ارسطو حکیم کو، جو خود اپنے فلسفہ الہیات کا موجد تھا جب سیدنا موسیٰ کے دین کی طرف دعوت دی گئی تو وہ کہنے لگا کہ میں سوچ کر بتاؤں گا۔ بعد میں اس نے یہ جواب دیا کہ ہم خود ہی راہ پائے ہوئے ہیں۔ دوسروں کو ہمیں راہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 40:84–85104 ایمان کی شرط اول ایمان بالغیب ہے اور عذاب دیکھ لینے یا موت کے وقت تو سب حقیقت مشاہدہ میں آجاتی ہے، غیب رہتی ہی نہیں اور مشاہدہ پر تو سب ہی لوگ یقین رکھتے ہیں خواہ کافر ہوں یا دہریے ہوں یا مشرک ہوں۔ لہذا عذاب دیکھنے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا بےسود ہے۔ بلکہ اس طرح مشاہدے پر لفظ ایمان کا اطلاق بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔