Ayah 40:4154 مرد مومن کی تقریر :۔ یہ ہے تمہاری بھلائی، خیر خواہی اور نجات کا راستہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لے آؤ اور نیک اعمال بجا لاؤ وہ بھلائی کی راہ نہیں کہ رسول کی دعوت کا نہ صرف یہ کہ انکار ہی کردیا جائے بلکہ اسے قتل کرنے کے ارادے کئے جانے لگیں۔ یہ بھلائی کی راہ نہیں یہ تو جہنم کی راہ ہے۔
Ayah 40:4255 تم یہ چاہتے ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح سورج دیوتا کے آگے سر جھکاؤں اور گؤ ماتا کی پوجا کروں میری معلومات کی حد تک ایسی چیزوں کی پرستش کے لئے تم کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب سے یہ ثابت کرسکتے ہو یہ چیزیں بھی عبادت کے لائق ہیں۔ یہ تو بس باپ دادا کی تقلید کی اندھی روش ہے پھر تم یہ بھی چاہتے ہو کہ میں ایسے نظام حکومت کا کل پرزہ بن کر رہوں جو رسولوں کی مخالفت پر اتر آئی ہے۔ اور طبقاتی تقسیم کو ہوا دے کر بنی اسرائیل پر بےپناہ مظالم ڈھا رہی ہے۔ میں ان باتوں سے سخت بیزار ہوں۔ اس کے بجائے میں تمہیں اس پروردگار کی عبادت اور اطاعت کی طرف دعوت دیتا ہوں جس نے کائنات کی ہر چیز کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ان پر پوری طرح کنٹرول بھی رکھے ہوئے ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اس کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے۔
Ayah 40:4356 اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ پہلا تو وہی مطلب ہے جو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کو نہ دنیا میں یہ حق پہنچتا ہے نہ آخرت میں کہ ان کی خدائی تسلیم کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دی جائے۔ تیسرا یہ کہ انہیں تو لوگوں نے زبردستی خدا بنا رکھا ہے ورنہ وہ خود نہ اس دنیا میں خدائی کے مدعی ہیں، نہ آخرت میں یہ دعویٰ لے کر اٹھیں گے کہ ہم بھی تو خدا تھے ہمیں کیوں نہ مانا گیا۔
57 اگرچہ ہر کام میں حد اعتدال سے آگے نکل جانے کو اسراف کہہ سکتے ہیں مگر یہاں مُسْرِفِیْنَ سے مرادوہ لوگ ہیں جو عاجز مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات و تصرفات میں شریک بنا لیتے ہیں۔ ایسے مسرفین ہی وہ دوزخی ہیں جنہیں کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 40:4458 مرد مومن کی تقریر کا فرعون پر رد عمل :۔ اس مرد مومن کی تقریر کا یہ آخری حصہ ہے اور اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اس نے یہ تقریر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی تھی۔ اور یہ کہ اب فرعون اسے کسی قیمت پر زندہ نہیں رہنے دے گا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مرد مومن کسی معمولی عہدے پر فائز نہ تھا بلکہ کسی انتہائی نازک اور ذمہ دارانہ منصب اس کے سپرد تھا۔ جسے فرعون فوری طور پر گرفتار کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ فرعون کو یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ سیدنا موسیٰ کی دعوت اس کی انتہائی پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایوان بالا تک سرایت کرچکی ہے۔ لہذا اب یہ معاملہ صرف اکیلے اس مرد مومن کا یا موسیٰ ہی کے قتل کا نہ رہا تھا بلکہ اب وہ یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ دعوت اسلامی کے اثرات اس کے اپنے دربار اور اس کی اپنی آل میں کہاں تک نفوذ کرچکے ہیں اس لئے سردست اس نے ان دونوں کو التواء میں ڈال دیا کہ مبادا ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کو قتل کرنے سے کوئی ایسا ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہو جس پر بعد میں قابو نہ پایا جاسکے۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ اس مرد مومن کے دل میں تھا وہ اس نے پوری جرأت کے ساتھ برملا کہہ ڈالا۔ اور اپنی سچائی کی مزید توثیق کے لئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ عنقریب تم لوگ میری باتوں کو یاد کرو گے کہ جو کچھ اس آدمی نے باتیں کہی تھیں وہ فی الواقع درست تھیں۔ عنقریب سے مرادروز آخرت بھی ہوسکتا ہے اور وہ دن بھی جبکہ آل فرعون پر عذاب آیا تھا اور وہ بحیرہ قلزم میں غرق کردیئے گئے تھے۔
Ayah 40:4559 معلوم ایسا ہوتا ہے کہ فرعون اس مرد مومن کو فوری طور پر قتل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو گرفتار کرکے اسے جسمانی تعذیب دینا چاہتا تھا تاکہ اس سے وہ سب باتیں اگلوا لے جن باتوں کی اسے ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے اس مرد مومن کے خلاف کیا چالیں چلی تھیں۔ ان کی وضاحت معلوم نہیں ہوسکی۔ بہرحال اس واقعہ کے بعد جلد ہی سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم مل گیا اور یہ مرد مومن بھی مہاجرین میں شامل تھا۔ اس طرح اسے فرعون کی چالوں سے نجات مل گئی۔ اور جب فرعون اور آل فرعون نے ان مہاجرین کا تعاقب کیا تو خود ہی اپنی اس چال میں پھنس گئے۔
Ayah 40:4660 فرعون اور آل فرعون کا انجام اور عذاب قبر کا ثبوت :۔ ان غرق ہو کر مرنے والوں میں سے صرف فرعون کی لاش کو اللہ نے بچا لیا۔ باقی سب لوگوں کی لاشیں سمندر میں آبی جانوروں کی خوراک بن گئیں یا سمندر کی تہہ میں چلی گئیں۔ فرعون کی لاش کو سمندر کی موجوں نے اللہ کے حکم سے کنارے پر پھینک دیا۔ تاکہ عامۃ الناس اس خدائی کا دعویٰ کرنے والے شہنشاہ کا حشر دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ اور یہ مدتوں ساحل سمندر پر پڑی رہی۔ اور گلی سڑی نہیں بلکہ جوں کی توں قائم رہی۔ کہتے ہیں کہ اس کے مردہ جسم پر سمندر کے نمک کی دبیز تہہ چڑھ گئی تھی جس کی وجہ سے اس کا جسم گلنے سڑنے سے محفوظ رہا۔ اب ان غرق ہونے والوں کی لاشیں خواہ سمندر کی تہہ میں ہوں یا آبی جانوروں کے پیٹ میں یا فرعون کی لاش قاہرہ کے عجائب گھر میں پڑی ہو ان سب کی ارواح غرق ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں چلی گئی تھیں۔ غرق ہونے کے دن سے لے کر قیامت تک ان ارواح کو ہر روز صبح و شام اس دوزخ پر لاکھڑا کیا جاتا ہے جس میں وہ قیامت کے دن اپنے جسموں سمیت داخل ہونے والے ہیں۔ ان کی موت سے لے کر قیامت تک کے عرصہ میں، جسے اصطلاحی زبان میں عالم برزخ کہا جاتا ہے، صرف آگ پر پیشی ہوتی ہے اور صرف ارواح کی ہوتی ہے لیکن قیامت کے دن وہ آگ میں داخل ہوں گے اور جسموں سمیت داخل ہوں گے۔ اس لحاظ سے عالم برزخ کا عذاب قیامت کے عذاب کی نسبت بہت ہلکا اور قیامت کا عذاب عالم برزخ کے مقابلہ میں شدید تر عذاب ہے۔
اس آیت میں عالم برزخ کے عذاب یا عذاب قبر کی ٹھیک ٹھیک صراحت موجود ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کے ایک فرقہ نے عذاب قبر سے انکار کردیا ہے اور ان حضرات کا تعاقب میں نے اپنی تصنیف آئینہ پرویزیت میں پیش کردیا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں۔ یہاں سردست صرف بخاری سے چند احادیث درج کر رہا ہوں جن سے واضح طور پر عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے :
1۔ سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کرنے والے واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اسے بٹھا دیتے ہیں پھر اس سے پوچھتے ہیں کہ تو ان صاحب محمد کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟ اس سوال کے جواب میں مومن یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لے۔ اللہ نے اس کے بدلہ تجھ کو جنت میں ٹھکانا دیا۔ پھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ لیکن کافر یا منافق سے جب بھی سوال کیا جاتا ہے کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ؟ تو وہ کہے گا۔ میں کچھ نہیں جانتا، جو کچھ لوگ کہتے تھے میں بھی وہی کچھ کہہ دیتا تھا پھر اس سے کہا جائے گا کہ نہ تو تو خود سمجھا اور نہ سمجھانے والے کی رائے پر چلا۔ پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے اتنی مار پڑتی ہے کہ وہ چلا اٹھتا اور جن اور انسان کے سوا سب اس کے آس پاس والے اس کی چیخ و پکار کو سنتے ہیں (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب ماجاء فی عذاب القبر)
2۔ سیدنا ایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سورج غروب ہونے کے بعد رسول اللہ مدینہ سے باہر گئے وہاں ایک آواز سنی تو فرمایا : یہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب التعوذ من عذاب القبر)
3۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ دو قبروں پر سے گزرے۔ آپ نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات میں عذاب نہیں ہورہا۔ ان میں سے ایک تو چغلی کھاتا پھرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک ہری ٹہنی لی۔ اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ پھر فرمایا : امید ہے کہ جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان پر عذاب ہلکا رہے (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب عذاب القبر من الغیبۃ والبول)
4۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ یوں دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے، دوزخ کے عذاب سے، زندگی اور موت کی بلاؤں سے اور کانے دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب التعوذ من عذاب القبر)
Ayah 40:4761 مطیع اور مطاع کا مکالمہ :۔ بڑا بننے والوں سے مرادہر وہ شخص ہے جس کا اپنا حلقہ اثر ہو اور اس حلقہ میں اس کی بات تسلیم کی جاتی ہو۔ یہ گاؤں کے چودھری بھی ہوسکتے ہیں۔ حکمران بھی اور سرکاری درباری حضرات اور حکومت کے افسر بھی، سیاسی لیڈر بھی اور علمائے کرام اور مشائخ عظام بھی۔ جب ایسے بڑے حضرات بھی جہنم پر جا پہنچیں گے تو ان کے تابعدار ان سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہاری اطاعت کرتے رہے۔ آج جو ہمیں عذاب ہو رہا ہے اس کا کچھ حصہ تو اپنے ذمہ لو اور ہمارا بوجھ بٹاؤ اور وہ یہ بات انہیں اس لئے نہیں کہیں گے کہ وہ فی الواقع کچھ بوجھ بٹا سکتے ہیں۔ اس بات کی انہیں خوب سمجھ آچکی ہوگی کہ آج بےبسی میں دونوں فریق ایک جیسے ہیں بلکہ وہ یہ بات انہیں ذلیل کرنے کی خاطر کہیں گے اور اس لئے بھی کہ وہ اپنے اندر کی جلن کو کچھ ہلکا کرسکیں اور دل کے پھپھولے پھوڑ سکیں۔
Ayah 40:4862 بڑے حضرات جواب دیں گے کہ اب تو جو کچھ ہونا تھا ہوچکا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے حق میں جتنی سزا کا فیصلہ کرچکا ہے اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 40:4963 یعنی جب کمزور اور تابعداری کرنے والوں اور بڑا بننے والوں میں یہ مکالمہ ہوچکے گا تو سب مل کر دوزخ کے فرشتوں سے التجا کریں گے کہ اب تم اپنے پروردگار سے ہمارے حق میں سفارش کرو کہ وہ کسی ایک دن تو ہمارے عذاب میں کچھ تخفیف کردے۔ اسے ہی ہم اپنے لئے تعطیل یا چھٹی کا دن سمجھ لیں گے۔
Ayah 40:5064 وہ کہیں گے کہ سفارش بھی آخر کسی عذر کی بنا پر ہی ہوسکتی ہے۔ لیکن تم نے معذرت کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تو سفارش میں ہم کیا کہیں۔ یا تو تم یہ کہو کہ ہمارے پاس نہ رسول آئے تھے نہ ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا تھا۔ اور جب تمہارے پاس اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر گئے تھے اور تمہیں ہر طرح کے انجام سے مطلع کردیا تھا تو پھر سفارش کس بنیاد پر کی جاسکتی ہے ؟
65 یہ فرشتوں کا دوسرا جواب ہے۔ کہ ہمارا کام سفارش کرنا نہیں اور جو ہمارا کام ہے وہ ہم کر ہی رہے ہیں سفارش کرنا رسولوں کا کام ہے اور ان کی مخالفت کرکے تم نے انہیں پہلے ہی ناراض کر رکھا ہے۔ لہذا اب خود ہی دعا کرکے دیکھ لو۔
66 یعنی بےاثر، بےنتیجہ اور بےکار ثابت ہوتی ہے۔ کافروں کی پکار اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہی نہیں۔ راستے میں ہی گم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 40:51–5267 اللہ کی امداد کی صورتیں :۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے دشمنوں کو تباہ کردیا جائے اور انہیں ظالموں کے پنجہ استبداد سے نجات دلا دی جائے۔ دوسری یہ کہ انہیں سیاسی تفوق بھی حاصل ہوجائے۔ اور تیسری یہ کہ دنیا میں انہیں کا بول بولا ہو یعنی جس مقصد کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہتی ہے۔ اور حق پرستوں کی قربانیاں کسی بھی حال میں ضائع نہیں جاتیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو تینوں قسم کی۔ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کرام اللہ کی طرف سے تینوں طرح کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
68 یعنی قیامت کے دن جب ہر نبی سے اس کی امت کے متعلق گواہی لی جائے گی۔ علاوہ ازیں ان نیک بندوں کی بھی جن کی معرفت لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا۔ اس دن میدان محشر میں جمع شدہ تمام لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ انبیاء اور صلحاء کا مقام عام لوگوں سے کس قدر بلند ہے۔ نیز وہ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ اس دن جب کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا۔ اللہ اپنے نبیوں اور ایمانداروں کی کس طرح مدد اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
Ayahs 40:53–5469 یعنی سیدنا موسیٰ کو فرعون جیسے جابر اور ظالم حکمران کے پاس بھیجا۔ تو ساتھ ہی ساتھ ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے کہ اب آگے انہیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے تاآنکہ انہیں اور ان کی مظلوم قوم کو فرعون کی چیرہ دستیوں سے نجات دلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کریں۔
70 کتاب کے وارثوں کی ذمہ داریاں :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد موسیٰ کو جو کتاب تورات عطا فرمائی اس میں اہل عقل و خرد کے لئے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی بہت کچھ سامان موجود تھا اور دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بھی وہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی مہیا کرتی تھی۔ ہم نے اس عظیم الشان کتاب کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا تاکہ وہ دنیا میں ہدایت کے علمبردار بن کر اٹھیں۔ ان آیات میں دراصل مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے اور خوشخبری بھی۔ مسلمان اس وقت ایسے ہی حالات سے دوچار تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ وہ اپنے نبی اور مسلمانوں کو اسی حال میں نہیں چھوڑے گا بلکہ قدم قدم پر ان کی رہنمائی بھی فرمائے گا۔ تاآنکہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں پھر انہیں جو کتاب (قرآن) دی جارہی ہے مسلمانوں کو ہی اس کا وارث بنایا جائے گا تاکہ وہ اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں اور تمام لوگوں کی ہدایت کا فریضہ سرانجام دیں۔
Ayah 40:5571 انبیاء کے گناہوں سے مراد معمو لی قسم کی اجتہادی لغزشیں ہیں :۔ انبیاء سے عمداً کسی گناہ کا سرزد ہو ناممکنات سے ہے۔ ان کے گناہ سے مراد ان کی چھوٹی چھوٹی اجتہادی لغزشیں ہی ہوسکتی ہیں جو بھول چوک کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں اور یہ بشریت کا خاصہ ہے۔ یہاں ان لغزشوں کا تعلق یقیناً صبر سے ہے۔ جیسے آپ کو کبھی کبھی یہ خیال آجاتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کفار مکہ کے مطالبہ کے مطابق کوئی معجزہ عطا فرما دے تو اس سے اسلام کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یا جب کفار آپ سے سمجھوتہ کی راہیں ہموار کرنا چاہتے تھے تو آپ کو ایسا خیال آنے لگا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی سختی سے روک دیا تھا۔ اس بنا پر یہاں آپ کو پہلے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
72 آیت کے اس ٹکڑا میں اجمالاً پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ ایک پہلے حصہ دن کی اور چار پچھلے حصہ دن کی۔ یہ دراصل ان پانچ نمازوں اور ان کے اوقات کا تمہیدی حکم تھا جو بعد میں فرض کی گئیں۔
قرآن کریم میں کئی مقامات پر مشکل پڑنے پر صبر اور نماز کا اکٹھا ذکر آیا ہے۔ کیونکہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اس قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔
Ayah 40:5673 اللہ کی آیات سے مراد :۔ آیات الٰہی سے مرادیہاں دلائل توحید اور دلائل بعث بعد الموت ہیں۔ کیونکہ انہی دو باتوں میں کفار مکہ زیادہ تر تکرار کرتے تھے اور فضول قسم کی بحث اور استہزاء کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں جس کی بنیاد پر وہ مدلل بحث کرسکیں بلکہ ان کے جھگڑا کی اصل وجہ ان کا تکبر ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے رسول کی بات مان لی تو پھر ہمیں اس کا مطیع بن کر رہنا پڑے گا۔ اور یہی پندار نفس ان کے ایمان لانے میں آڑے آرہا ہے۔ مگر جس بڑا بنے رہنے کی انہیں فکر دامنگیر ہے وہ بڑائی ان کے پاس رہ نہیں سکتی۔ کیونکہ عزت اور ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا کبھی عزت نہیں پاسکتا۔ جس بلند مقام پر وہ آپنے آپ کو کھڑا سمجھ رہے ہیں لازماً انہیں اس مقام سے نیچے اترنا اور ذلیل ہونا پڑے گا۔
74 یعنی ان جھگڑا کرنے والے متکبرین کے شر سے بچنے کے لئے اللہ سے پناہ مانگتے رہیے۔ جو ان کی ہر ایک سازش اور ہر ایک شرارت کو دیکھ بھی رہا ہے اور ان کی باتوں کو سن بھی رہا ہے۔ پھر انہیں سزا دینے اور ان کے شر سے آپ کو بچانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے۔
Ayah 40:5775 یہاں سے ان آیات کا آغاز ہوتا ہے جن میں یہ لوگ جھگڑا کیا کرتے تھے ان میں پہلے بعث بعد الموت کو لیا گیا ہے۔ اور سوال اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ کفار مکہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اور سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس قدر عظیم الجثہ مخلوق کو پیدا کرسکتا ہے تو کیا انسان کو ہی دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا ؟ یہ گویا عقلی دلیل ہوئی کہ ایسا ہونا یقیناً ممکن ہے۔
Ayah 40:5876 ایک دنیا دار اور متقی کے کردار کا موازنہ :۔ یہ بعث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ یعنی ایک شخص اپنا تمام طرز زندگی وحی الٰہی کی روشنی میں استوار کرتا ہے۔ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے ہر طرح کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ پھر اپنی زندگی اور اپنی خواہشات پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے جو حکم الٰہی کے مطابق ضروری تھیں۔ ہمیشہ راست بازی اور دیانتداری سے کام لیتا ہے۔ کسی کو نہ فریب دیتا ہے نہ کسی پر زیادتی کرتا ہے اور ایک شریف انسان کی طرح اللہ سے ڈرتے ہوئے محتاط زندگی گزار رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس تقلید آباء اور جہالت کی تاریکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ لوگوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالتا ہے۔ اس کی زندگی کا اصول مفاد پرستی ہوتا ہے۔ جس کی خاطر وہ ہر طرح کی زیادتی کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتا ہے۔ پھر اس کے سامنے اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور ہوتا ہی نہیں۔ اس کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ جس طرح سے بھی اور جتنی بھی دنیا اکٹھی کرلی جائے اور عیش و عشرت کرلی جائے بس وہی غنیمت ہے۔ تو بتاؤ کہ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہی ہونا چاہئے۔ کہ دونوں مر کر مٹی ہوجائیں۔ نہ نیک انسانوں کو ان کے اچھے اعمال کا صلہ ملے اور نہ بدکردار لوگوں کو ان کی کرتوتوں کی سزا ملے ؟ اور اگر تمہارے خیال میں یہ دونوں شخص ایک جیسے نہیں اور دونوں کا انجام ایک جیسا نہ ہونا چاہئے تو پھر ضروری ہے کہ انسان کو دوسری زندگی دی جائے جس میں اسے اس کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ دیا جاسکے۔ گویا اصل دلیل کا ماحصل یہ تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور دوسری دلیل کا ماحصل یہ ہے کہ ایسا ہونا چاہئے۔
Ayah 40:5977 جہاں عقل کی حد ختم ہوجائے وہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے اور وحی کی بنیاد یقینی علم پر ہے :۔ اس آیت میں بڑے زور دار الفاظ میں انسان کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرما رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ آکے رہے گی کسی کے روکنے یا نہ چاہنے سے رک نہیں سکتی۔ عقلی دلائل کا ماحصل تو یہی ہوسکتا تھا کہ فلاں چیز کا ہونا ممکن ہے یا ہونا چاہئے لیکن عقل یہ حکم نہیں لگا سکتی کہ فلاں چیز یقیناً واقع ہو کے رہے گی۔ یہ بس وحی الٰہی کا کام ہے جو کائنات کے خالق اور اس کے آغاز اور انجام سے پوری طرح واقف ہے۔ ضمناً اس سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ دین کی بنیاد محض قیاس و استدلال پر نہیں رکھی گئی بلکہ اس کی بنیاد وحی الٰہی یا یقینی علم پر رکھی گئی ہے۔
Ayah 40:6078 دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے بلکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دعا یا کسی کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا اور عبادت ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے پکارا کرو میں تمہاری پکار کو قبول کرتا ہوں اور دوسرے جملہ میں فرمایا کہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں۔ جو اس آیت پر واضح دلیل ہے کہ دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے پھر اس مفہوم کی تائید احادیث صحیحہ سے بھی ہوجاتی ہے۔ آپ نے فرمایا : (الدُّعَاءُ ھُوَالْعِبَادَۃُ ) (یعنی پکارنا ہی اصل عبادت ہے) اور ایک مرتبہ یوں فرمایا : (الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃ) (یعنی دعا ہی عبادت کا مغز یا اصل عبادت ہے) (ترمذی، ابو اب التفسیر زیر آیت ہذا)
خ دعا عبادت کیسے ہے ؟ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ دعا عبادت کیسے ہے ؟ دعا کرنے والا دعا اس وقت کرتا ہے جب کسی چیز کے حصول یا کسی مصیبت کے دفعیہ کے ظاہری اسباب مفقود ہوں۔ اور جس کو پکارتا ہے وہ یہ سمجھ کر پکارتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے میری پکار کو سن رہا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ اس کا باطنی اسباب پر اتنا تصرف ضرور ہے کہ وہ میری تکلیف کو رفع کرسکتا ہے یا میری حاجت پوری کرسکتا ہے۔ گویا پکاری جانے والی ہستی کا ایک تو عالم الغیب نیز سمیع وبصیر ہونا ضروری ہوا۔ اور یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے جب تک اسباب کائنات میں اس کا تصرف تسلیم نہ کیا جائے اس سے دعا کرنا ایک فعل عبث قرار پاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات کو کسی دوسری ہستی میں تسلیم کرنا اسے اللہ کا ہمسر یا شریک سمجھنا ہے اور یہی چیز عین شرک ہے۔ اور جس شخص نے اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کو الوہیت کا یہ مقام دے دیا تو وہ اس کے مقابلہ میں از خود بندگی کے مقام پر اتر آیا گویا پکاری جانے والی ہستی اس کی معبود بن گئی اور یہ پکارنے والا عبادت گزار اور اس کی پکار عین عبادت ہوئی۔
خ اللہ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے اور یہی عبادت کا خاصہ ہے : واضح رہے کہ انسان اللہ سے دعا کرتا ہے اور وہ کبھی قبول ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی، کبھی بہت مدت بعد جا کر ہوتی ہے تو اس کے کچھ آداب ہیں اور کچھ اسباب ہیں اور کچھ موانع ہیں۔ جن کی تفصیل احادیث میں مذکور ہے۔ یہاں صرف یہ بات ذہن نشین کرانا مطلوب ہے کہ دعا قبول نہ بھی ہو تو بھی اس کا بہت فائدہ ہے۔ کیونکہ دعا بذات خود عبادت ہے۔ اور جتنی دیر اس نے دعا مانگنے میں لگائی وہ مدت گویا اس نے عبادت ہی میں گزار دی۔ لہذا ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم اللہ سے دعا مانگتے رہیں۔ مانگتے رہیں۔ اس کا قبول کرنا نہ کرنا، یا بدیر قبول کرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سے مانگنا اور مانگتے رہنا عین تقاضائے بندگی ہے۔ اور جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا تو یہ بات عبادت سے انکار یا تکبر کی علامت ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے اور یہ سب مفہوم عبادت کے لفظ میں شامل ہیں۔
79 یہ ان کے تکبر کی سزا ہوگی۔ قیامت کے دن خوب جوتے کھائیں گے اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔
Ayah 40:6180 ہر جاندار میں کام اور آرام کا خود کار نظام :۔ رات کو نہ سورج کی گرمی ستاتی ہے اور نہ ہی سورج جیسی تیز روشنی ہوتی ہے۔ تاریکی اور مناسب حد تک ٹھنڈک یہ دونوں باتیں نیند اور آرام کرنے کے لئے ساز گار ہیں۔ اور دن کو کام کاج کے لئے روشن بنایا کہ اس میں کسی مصنوعی روشنی کے بغیر ہی کام چل سکتا ہے۔ رات اور دن کو اللہ تعالیٰ نے دلیل توحید کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دن اور رات سورج کے اور زمین کے درمیان ایک انتہائی باقاعدہ نظام کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سورج اور اس زمین کا خالق، مالک اور ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی ایک ہی ہوسکتی ہے۔ اگر ان سیاروں کے مالک الگ الگ دیوتا ہوتے جیسا کہ مشرکوں کا خیال ہے تو یہ دن رات کا نظام کبھی باقاعدگی کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔ پھر اسی رات اور دن کے نظام میں اور رات کو آرام کرنے اور دن کو کام کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حیران کن عجائبات ہیں۔ دن کو کام کرتے وقت انسان کے بیشمار خلیے ضائع اور تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ رات کو جب انسان آرام کرتا ہے تو نیند کی حالت میں ان ضائع شدہ خلیوں کی جگہ دوسرے نئے خلیے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور جب یہ کام ٹھیک طور پر مکمل ہوچکتا ہے تو انسان جاگ اٹھتا ہے۔ گویا اس کا آرام کا وقت پورا ہوگیا۔ پھر وہ نئے سرے سے تازہ دم ہو کر صبح کو پھر سے کام کاج کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا یہ نظام خود کار ہے۔ اگر انسان کام کرنے کے بعد آرام نہ کرے تو نیند اسے جہاں بھی ہو دبا لیتی ہے اور اسے اضطراراً آرام کرنا پڑتا ہے۔ اگر پھر بھی انسان اپنے اس فطری تقاضے کو پورا نہ کرے یا پورا کرنے میں کوتاہی کرے تو انسان کی صحت تباہ ہوجاتی ہے۔
81 یعنی اللہ تعالیٰ کی تو انسان پر اس قدر عنایات ہیں۔ مگر انسان ایسا ناشکرا اور نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
Ayahs 40:62–6382 یعنی ایک عام اور معمولی عقل رکھنے والے انسان کو بھی ایسے سادہ اور عام فہم دلائل کی سمجھ آسکتی ہے مگر اسے بہکانے والے کوئی اور حضرات ہیں جن کے شرکیہ رسوم کے ساتھ اپنے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے عام الناس کو اپنے جال میں اس طرح پھنسا رکھا ہے کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آنے دیتے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہیں اصل راہ سے پھیر دیا گیا ہے۔
Ayah 40:6483 زمین کے جائے قرار ہونے کے مختلف پہلو :۔ زمین کے جائے قرار ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے توازن و تناسب سے اس میں پہاڑ رکھ دیئے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی زمین پر پیدا ہوتا ہے اسی پر زندگی گزارتا ہے اسی میں مرنے کے بعد دفن ہوتا ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے کھانے، پینے، لباس اور دوسری تمام ضروریات اسی زمین سے وابستہ ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ زمین میں ایسی خصوصیات نہ رکھ دیتا تو نہ یہاں کوئی جاندار زندہ رہ سکتا اور نہ ہی زمین جائے قرار بن سکتی تھی۔
84 آسمان ایک محفوظ چھت کیسے ؟ اس مقام پر آسمان کو چھت قرار دیا گیا ہے جبکہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 32 میں اسے (سَقْفًا مَّحْفُوْظًا 32) 21 ۔ الأنبیاء :32) یعنی محفوظ چھت قرار دیا گیا ہے۔ اور چھت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آفات سماوی سے محفوظ رکھتا ہے یہی فائدہ آسمان دنیا کا ہے۔ اس وسیع کائنات میں لاتعداد سیارے، دمدار ستارے اور ٹوٹنے والے ستارے انتہائی تیز رفتاری سے تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ آپس میں بعض دفعہ ٹکرا کر پاش پاش بھی ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ نے ہمارے اوپر یہ محفوظ چھت بنادی ہے۔ ورنہ عالم بالا کی آفات زمین پر بارش کی طرح برس کر زمین والوں کو تہس نہس کر دیتیں۔ اس آسمان سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز ہم تک نہیں پہنچ سکتی۔ حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اسی وجہ سے ہم اس زمین پر امن و چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
85 جسمانی اعتبار سے انسان دوسرے جانوروں سے کن باتوں میں ممتاز ہے ؟:۔ تمہاری شکل و صورت تمام جانداروں سے اعلیٰ قسم کی بنائی۔ دوسرے جانداروں سے انسان کی نمایاں جسمانی خصوصیات یہ ہیں کہ تمام جاندار اپنے منہ سے غذا کھاتے ہیں جبکہ انسان اپنے ہاتھ سے خوراک منہ تک لے جاتا ہے اکثر جاندار زمین پر ہی رینگتے یا چار پیروں پر چلتے ہیں۔ جبکہ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے اور اپنا جسم سیدھا رکھ کر چلتا ہے۔ انسان کے ہاتھ اور پاؤں کثیرالمقاصد ہیں جتنا کام انسان اپنے ہاتھ پاؤں سے لے سکتا ہے۔ دوسرا کوئی جاندار نہیں لے سکتا اس کے بےنظیر جسم اور جسمانی صلاحیتوں کے علاوہ جتنی ذہنی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشی ہیں وہ کسی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئیں۔ اور یہ صلاحیتیں عطا کرنا محض اللہ کا فضل و کرم ہے جس میں کسی دیوتا، کسی نبی اور ولی اور بزرگ کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔
86 زمین کی پیداوارکا بہترین حصہ انسان کے لئے ہے زمینی پیداوار سے انسان کا بیشمار اشیاء بناکر کا لطف اٹھانا :۔ جتنی بھی پیداوار زمین سے اگتی ہے اس کا بہترین حصہ انسان کی خوراک کے کام آتا ہے کسی جاندار کو اتنی عمدہ اور لذیذ چیزیں کھانے کو میسر نہیں آسکتیں۔ جتنی انسان کو یہ میسر آتی ہیں۔ یہ ٹھنڈا میٹھا اور نتھرا ہوا صاف شفاف پانی، یہ غلے، یہ پھل، یہ ترکاریاں، یہ دودھ، یہ شہد، یہ گوشت، یہ نمک مرچ اور مسالے انسان کی صرف غذا کا ہی کام نہیں دیتے بلکہ انسان ان سے اور پھر ان سے دوسری بہت چیزیں تیار کرکے زندگی کا لطف اٹھاتا ہے۔ پھر انسان خوشبودار پھولوں اور ان سے عطریات تیار کرکے جو لطف اٹھاتا ہے وہ دوسرے کسی جاندار کے حصہ میں نہیں آتے۔ یہ سب چیزیں آخر کس نے اتنی فراوانی کے ساتھ زمین پر پیدا کی ہیں اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بےحساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آتے ہیں اور ان میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہوتا اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاکیزہ رزق کا یہ انتظام نہ فرماتا تو تم خود سوچ لو کہ تمہاری زندگی کیسی بےکیف ہوتی۔ کیا یہ بات اس امرکا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق ہی نہیں بلکہ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔
Ayah 40:6587 اللہ کی صفات ازلی اور انبدی ہیں :۔ وہی ایک ذات ایسی ہے کہ ازل سے زندہ ہے اور ابدا لآباد تک زندہ رہے گی۔ باقی سب چیزیں حادث ہیں اور وہ کسی نہ کسی وقت فنا سے دوچار ہوجائیں گی خواہ وہ جاندار ہیں یا بےجان۔ باقی تمام جانداروں کی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی زندگی ذاتی ہے۔ لہذا اصل میں زندہ کہلانے کا وہی مستحق ہے پھر جس طرح اس کی زندگی ازلی اور انبدی ہے اسی طرح اس کی دوسری تمام صفات بھی ازلی ابدی ہیں۔ اور معبود برحق صرف وہی ذات ہوسکتی ہے جس کی حیات اور دوسری صفات مستقل اور دائمی ہوں۔ دوسرے کسی الٰہ میں یہ صفات موجود نہیں ہیں۔
88 اس کی تشریح کے لئے سورة زمر کی آیت نمبر 2 اور 3 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 40:6689 دعا اور عبادت ہم معنی ہیں :۔ اس آیت میں بھی دعا اور عبادت کو ایک دوسرے کا ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں ان کافروں کو دو ٹوک اور کھرا کھرا جواب دے دیا گیا ہے جو کچھ لینے اور کچھ دینے یعنی مدا ہنت کے اصول پر سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔
Ayah 40:6790 انسان کی تخلیق اور زندگی کے مختلف مراحل سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کے بےجان ذروں سے تمہارے لئے خوراک پیدا کی۔ اسی بےجان خوراک سے کئی مراحل طے کرنے کے بعد تمہارے اندر منی پیدا ہوئی اور اطباء کے قول کے مطابق منی چوتھے ہضم کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ پھر اسی منی کا قطرہ جب ماں کے رحم میں داخل ہوتا ہے اور اسے رحم مادر قبول کرلیتا ہے تو اس پر کئی ادوار آتے ہیں بعد میں اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اور ایک مقررہ مدت کے بعد خوبصورت شکل اور محیرالعقول صلاحیتیں لے کر رحم مادر سے باہر آجاتا ہے۔ اس وقت وہ نہ چل سکتا ہے نہ بول سکتا ہے نہ کچھ سمجھ سکتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس میں وہ قوتیں نشوونما پانے لگتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں رکھ دی ہیں۔ انسان کے بڑھنے کے ساتھ اس کی عقل، اس کا فہم، اس کی جسمانی قوت، اس کا قد وقامت غرض ہر چیز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس پر بڑھاپے کا وقت آتا ہے تو پہلے جیسی غذائیں کھانے کے باوجود قد بڑھنا رک جاتا ہے اور دوسری قوتوں میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اور آخری مرحلہ موت ہے۔ جو کبھی تو بچپن میں ہی آجاتی ہے، کبھی اسقاط ہوجاتا ہے کبھی جوانی میں انسان مرتا ہے اور کبھی بوڑھا کھوسٹ ہونے کے باوجود بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتا رہتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ ذرا سوچو ! ان مراحل میں سے کوئی مرحلہ بھی تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔ پھر اگر بعث بعد الموت کا ایک اور مرحلہ تم پر گزر جائے تو تم اسے کیسے محال سمجھتے ہو ؟
خ موت سے متعلق چند اٹل حقائق :۔ پھر موت ایک ایسا اضطراری امر اور اٹل حقیقت ہے جو اپنے اندر کئی تلخ حقائق سمیٹے ہوئے ہے۔ کوئی فقیر، کوئی امیر، کوئی بادشاہ اس کی گرفت سے نہ آج تک بچ سکا ہے نہ آئندہ بچ سکے گا۔ پھر اس کا جو وقت مقرر ہے وہ بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ بعض دفعہ انسان بیشمار حوادث سے بچ نکلتا ہے اور موت کے منہ سے بچا رہتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایک معمولی سا حادثہ اس کا جان لیوا ثابت ہوجاتا ہے۔ کوئی بادشاہ کسی اعلیٰ سے اعلیٰ ہسپتال سے داخل ہو کر اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود موت کے وقت کو آگے پیچھے نہیں کرسکتا۔ اور اس میں جو ایک مرد مومن اور صاحب عقل کے لئے سبق ہے وہ یہ ہے کہ دشمن اسلام طاقتیں جتنا بھی زور لگا لیں، جتنی بھی سازشیں تیار کرلیں کسی کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتیں جب تک کہ اس کی موت کا وقت نہ آئے۔ سیدنا خالد بن ولید تقریباً ایک سو جہاد کے معرکوں میں شریک ہوئے لیکن موت آئی تو بستر مرگ پر گھر میں ہی آئی۔ یہ عقیدہ ایک مجاہد میں بےپناہ جرأت پیدا کردیتا ہے۔
پھر اس کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے ایک خطہ زمین جس میں ایک ہی قسم کا بیج ڈالا جائے۔ سیراب ایک ہی طرح کے پانی سے ہو، موسم اور آب و ہوا ایک جیسی ہو۔ نگہداشت ایک جیسی ہو اس خطہ زمین کے سارے پودے تقریباً ایک ہی جیسی پرورش اور زندگی پاتے ہیں۔ مگر ایک ہی والدین کے چھ بچے جن کی خوراک ایک، آب و ہوا ایک، گھر ایک ماں باپ ایک، لیکن عمریں سب کی جدا جدا ہوتی ہیں کوئی بچپن میں مرتا ہے، کوئی جوانی میں اور کوئی اتنا بوڑھا اور ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ خود چاہتا ہے کہ اللہ اسے دنیا سے اٹھا لے مگر اسے موت نہیں آتی۔ کیا یہ سب باتیں اس حقیقت کی نشاندہی نہیں کرتیں کہ کوئی قادر مطلق ہستی ہماری موت وحیات پر حکمران ہے۔ کسی دیوتا، کسی پیر، پیغمبر، کسی ستارے اور آستانے والے کا اس میں کچھ دخل نہیں یا کم از کم حکیم اور ڈاکٹر خود تو نہ مرتے۔ ہر کسی کی بےبسی ایک جیسی ہے تو ایسے بےبسوں کو عبادت کا مستحق کیسے قرار دیا جاسکتا ہے اور کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کی خدائی تسلیم کرلیتے ہیں۔
Ayah 40:6891 (کُنْ فَیَکُوْنُ ) کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة یٰسین کی آیت نمبر 84 کا حاشیہ نمبر 74
Ayah 40:6992 قرآن کی آیات سے اپنے نظریات کشید کرنا اور ان میں جھگڑا اور فرقہ بازی :۔ اللہ کی آیات سے مراد آیات آفاق وانفس بھی ہوسکتی ہے جن کا قرآن نے بیشمار مقامات پر اور یہاں بھی توحید کے دلائل کے طور پر ذکر کیا ہے۔ پھر بھی مشرک لوگ ان میں جھگڑا کرتے اور اللہ کے پیاروں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنا لیتے ہیں اور اگر ان آیات سے مراد اللہ کے احکام وارشادات لئے جائیں تو اس سے مرادوہ لوگ ہیں جو کسی ایک پہلو کی انتہا کو پہنچ کر ایک نظریہ قائم کرلیتے ہیں پھر جو آیات اپنے اس قائم کردہ نظریہ کے خلاف نظر آئیں ان کی تاویل کرلیتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں نے جب موت وحیات اور رزق وغیرہ کے معاملہ میں انسان کی بےبسی دیکھی تو یہ نظریہ قائم کرلیا کہ انسان مجبور محض اور قدرت کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونے کی حیثیت رکھتا ہے پھر جن آیات سے انسان کا اختیار ثابت ہوتا تھا ان کی تاویل کر ڈالی۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں کچھ دوسرے لوگ اٹھے جنہوں نے قرآن ہی کی آیات سے یہ نظریہ قائم کرلیا کہ انسان مختار مطلق ہے اور جو کام بھی وہ کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ اور ایسی آیات جن سے انسان کی بےبسی ثابت ہوتی تھی ان کی تاویل کر ڈالی۔ اس طرح اللہ کی آیات میں بحث وجدال اور ایک ہی طرف انتہا کو پہنچنے اور دوسرے پہلو سے صرف نظر کرنے کی بنا پر آغاز اسلام میں دو فرقے جبریہ اور قدریہ ایک دوسرے کے مدمقابل کے طور پر سامنے آگئے۔ وہی مسئلہ تقدیر جس پر بحث کرنے سے رسول اللہ نے سختی سے روک دیا تھا۔ اسی مسئلہ پر بحث وجدال کے نتیجہ میں یہ دو فرقے پیدا ہوئے اور اپنے اپنے نظریہ کی حمایت میں قرآن کی آیات میں بحث وجدال اور انہی سے استدلال کرنے لگے۔۔ حالانکہ اس مسئلہ میں راہ صواب اور راہ اعتدال یہ ہے کہ انسان بعض معاملات میں مجبور ہے اور بعض میں مختار۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت ہے اب اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ جس کام میں انسان مجبور ہے وہاں اس پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا۔ مؤاخذہ یا باز پرس صرف اس کام کے متعلق ہوگی جس میں وہ مختار ہے۔ یا جس حد تک مختار ہے۔۔ بعد ازاں جتنے بھی بدعی فرقے پیدا ہوئے ہر ایک نے اپنی بنائے استدلال قرآن ہی پر رکھی اور من مانی تاویل حتیٰ کہ اپنی بات کی اپچ میں آکر معنوی اور لفظی تحریف تک سے باز نہ آئے اور ایسی چند تاویلات ہم اپنے حواشی میں پیش کرچکے ہیں۔
Ayah 40:7093 کیونکہ سابقہ کتب سماوی کی بنیادی تعلیم وہی کچھ ہے جو قرآن کریم کی ہے اور ان لوگوں کا قرآن یا پہلی کتابوں کو جھٹلانا یہ ہے کہ وہ قرآن سے ہدایت لینے کے خواہشمند نہیں ہوتے بلکہ قرآن میں اپنے قائم کردہ نظریات کو داخل کرنا چاہتے ہیں۔
Ayahs 40:71–7394 یعنی ایسے اہل دوزخ مشرکوں کو جب پیاس لگے گی تو فرشتے ان کو گھسیٹتے ہوئے ایسے مقام پر لے جائیں گے جہاں گرم پانی کے چشمے ابل رہے ہوں گے۔ انہیں وہاں سے گرم پانی پلانے کے بعد پھر اپنے اصل مقام پر لاکر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔
Ayahs 40:74–7595 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک جو ترجمہ سے واضح ہے کہ مشرک لوگ سب کچھ بھول بھلا کر اپنے شرک سے ہی یکسر انکار کردیں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں پکارتے رہے فی الواقع ان کے اختیار میں کچھ بھی نہ تھا اور وہ لاشی محض تھے۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں کوئی چیز سمجھتے رہے۔
96 مشرکین کی بدحواسی۔ ایک ہی سوال کے متضاد جوابات :۔ اس جملہ میں مشرکوں کی بدحواسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جواب دیتے جائیں گے۔ سوال یہ تھا کہ آج وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے شریک بنایا کرتے تھے اس کا ایک جواب وہ تو یہ دیں گے کہ ہمیں تو کچھ یاد نہیں پڑتا کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو پکارا کرتے تھے اور اگر کوئی ایسی بات تھی بھی تو وہ ہمیں آج دکھائی نہیں دے رہے۔ یا ہماری یاد سے محو ہوچکے ہیں۔ دوسرا جواب یہ کہ وہ صاف مکر جائیں گے کہ ہم کب اللہ کے سوا کسی کو پکارا کرتے تھے۔ اور تیسرا جواب وہ ہے جو الگ کئی مقامات پر مذکور ہے کہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں پر الزام لگائیں گے کہ یا اللہ ! ان بڑے بزرگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا لہذا انہیں دگنا عذاب دے۔ اس جواب میں وہ اپنے جرم کا پورا اعتراف کر رہے ہوں گے۔ یعنی سوال ایک ہے مگر جواب میں کیسی گومگو کی حالت ہے کبھی انکار ہے اور کبھی اعتراف۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی ہوگی کہ ہم کون سا جواب دے کر اس پر ڈٹ جائیں جس کی وجہ یہ ہے کہ باطل کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔
Ayah 40:7697 تکبر کی تعریف اور متکبرین کا انجام :۔ ان دو آیات سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ قبول حق سے انکار کی سب سے بڑی وجہ تکبر ہوتی ہے۔ اور دوسری یہ کہ دوزخ میں سب سے زیادہ بھرتی متکبرین کی ہوگی۔ اور انہی باتوں کی مزید تفاصیل احادیث میں بھی ملتی ہے :
1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی بھر بھی تکبر ہو ایک شخص کہنے لگا : ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کی جوتی اچھی ہو۔ (کیا یہ تکبر ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر وبیانہ)
2۔ حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں ؟ وہ ایسے کمزور اور گمنام لوگ ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردے۔ اور کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے متعلق نہ بتاؤں۔ ہر اکھڑ مزاج، بدخلق اور متکبر دوزخی ہوتا ہے (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الکبر)
3۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر و بیانہ)
Ayah 40:7798 کفار مکہ پر عذاب کی تین صورتیں :۔ یعنی یہ کفار مکہ جو آپ کو ستا رہے ہیں اور اسلام کی راہ روکنا چاہتے ہیں ان کے متعلق اللہ کے عذاب کا وعدہ پورا ہونا ہی ہے۔ اور اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے جیتے جی ان پر عذاب آئے۔ جیسا کہ جنگ بدر، جنگ احزاب اور فتح مکہ کے وقت کافروں کی رسوائی ہوئی۔ دوسری صورت یہ کہ اس عذاب کا کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان پر آئے۔۔ اور اس سے مرادوہ جنگیں ہیں جو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر نے مرتدین، ملحدین اور کافروں سے لڑیں اور اسلام کا پوری طرح بول بالا ہوا اور کافروں اور کفر کو رسوائی نصیب ہوئی۔ اور تیسری اور حتمی صورت یہ ہے کہ آخر مرنے کے بعد انہوں نے ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کے سب کس بل نکال دیں گے اور انہیں ان کے جرائم کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔
Ayahs 40:78–8099 حِسی معجزہ اور اس کے تقاضے :۔ کیونکہ معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے البتہ اس کا صدور نبی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ معجزہ محض کھیل تماشا کے طور پر عطا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود کسی اہم دینی یا دنیوی غرض کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ بعض انبیاء کو کچھ معجزات ان کے طلب کرنے کے بغیر کافروں پر دلیل نبوت اور اتمام حجت کے طور پر عطا کئے گئے اور اگر کوئی پیغمبر کوئی حسی معجزہ پیش نہ کرے اور قوم اس سے حسی معجزہ کا مطالبہ کرے پھر اللہ تعالیٰ قوم کے مطالبہ پر ایسا معجزہ نبی کو دے دے لیکن کافر قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو اس پر یقیناً عذاب الیم نازل ہوتا ہے۔ جیسے قوم ثمود نے صالح سے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا تھا۔ لیکن ان کے اس معجزہ ملنے کے بعد بھی جب وہ ایمان نہ لائے تو انہیں تباہ کردیا گیا۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے سیدنا عیسیٰ سے آسمان سے پکا پکایا اور تیار دستر خوان اترنے کا مطالبہ کیا۔ تو بعض روایات کے مطابق ان کا یہ مطالبہ تو پورا کردیا گیا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو انہیں بندر و سور بنادیا گیا تھا۔ کفار مکہ بھی آپ سے کئی طرح کے حسی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے جن کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے یہ منہ مانگے معجزات رسول اللہ کو اسی وجہ سے عطا نہیں فرمائے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ قوم قریش کو کچل کے رکھ دیا جائے کیونکہ بعد میں انہیں لوگوں میں سے بہت لوگوں نے اسلام لا کر بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔
100 اللہ کے حکم سے یہاں مراد اللہ کے عذاب کا حکم ہے اور اس کا اطلاق کسی قوم پر دنیا میں عذاب کے دن پر بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کے دن پر بھی۔ جو بھی صورت ہو اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان کے مخالفوں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کردیتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہوتے ہیں اور باطل پرستوں کے حصہ میں ذلت و خسران کے سوا کچھ نہیں آتا۔